تعمیرِ امت اور اتحاد

ضمیر الحسن خان فلاحی

اتحاد ایک اسلامی فریضہ

وحدت و اتحاد ایک ایسی ضرورت ہے جس کی طرف اسلام باربار دعوت دیتا ہے اور تاکید کرتاہے کہ جس امت کادین ایک، دینی شعائر ایک، شریعت و قانون ایک، منزل ایک اور خدا و رسول ایک ہو، اسے بہرحال خود بھی ایک ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک نے جہاں امت کو ایک ہوکر اللہ کی رسی کو پکڑنے کی تاکید کی ہے اور افتراق و انتشار سے روکا ہے، وہاں خطاب واحد کے بجائے جمع کے صیغہ سے کیاہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر فرد جز و امت ہے وہ کسی صورت میں امت سے جدا نہیں ہوسکتا، چنانچہ جب بندہ خدا کے حضور کھڑا ہوتاہے اور گریہ و زاری کرتا ہے اس وقت اس کی زبان سے جو کلمات ادا ہوتے ہیں وہ یہ ہوتے ہیں  (ایاک نعبدو ایاک نستعین) یہ کہہ کر وہ ثابت کرتاہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے پھر جب دعا کرتاہے تو اپنی ذات کو مخصوص نہیں کرتا بلکہ پوری امت اور تمام افراد امت کو اپنی دعا میں شامل کرتاہے اور ’’اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم غیرالمغضوب علیہم و الاالضالین‘‘ (پروردگار ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام نازل ہوا، ان کا نہیں جو تیرے غضب کے مستحق ٹھہرے اور نہ ضالین کا۔)

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اس لئے نہیں پیدا کیاکہ وہ گروہوں میں تقسیم ہوجائیں اور مختلف بنیادوں پر الگ الگ ہوکر رہ جائیں بلکہ پیدا کرتے ہی ان کے لئے ایک طریقۂ زندگی و بندگی شروع کیا، پیہم انبیاء و رسل بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو اس طریقۂ زندگی کی دعوت دیں اور بٹنے سے روکیں مگر بدقسمتی سے امت نے اپنے خالق کادیا ہوا یہ درس بھلادیا اور گروہوں میں بٹ گئی، قرآن مجید صراحت کرتاہے کہ اس اختلاف وافتراق کا سبب وحید اتباع ہوئی اور بیرونی عدوان ہے۔ سچ ہے کہ علم اگر اخلاص اور اخلاقی اقدار سے عاری ہوتو وہ نہ صرف دوسروں کے لئے بلکہ خود صاحب علم کے لئے وبال جان اور گمراہی کا سبب بن جاتی ہے اسی وجہ سے اللہ کے رسولؐ علم غیرنافع سے پناہ مانگا کرتے تھے۔  (ترمذی کتاب الدعوات ۳۴۸۲)

حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: میری امت کا سب سے بڑا خطرہ علیم اللسان منافق ہے۔ (مسند احمد بن حنبل ۳۲۱۴۳) امر واقعہ ہے کہ دل اگر خوف خدا سے خالی ہوتو واقعی علم، فساد و بگاڑ کا سب سے بڑا وسیلہ و ذریعہ ہوجاتاہے۔ قرآن پاک کی شہادت یہ ہے کہ علماء ہی نے امت کے شیرازہ کو منتشر کیاہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ا

وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ إِلاَّ الَّذِیْنَ أُوتُوہُ مِن بَعْدِ مَا جَاء تْہُمُ الْبَیِّنَاتُ بَغْیْاً بَیْنَہُمْ   (لبقرہ:۲۱۳)

’’اور اختلاف ان لوگوں نے کیا جنہیں علم ہوچکاتھا، انہوںنے روشن ہدایات کے باوجود محض باہمی ضد و منافرت کی وجہ سے اختلاف کیا۔‘‘

سورۂ شعراء میں جہاںامت کا فرض منصبی یہ قرار دیا ہے کہ وہ دین کی اقامت کاکام انجام دے اور تفرقہ سے بچے۔ (شوریٰ:۱۳) اس کے فورا ًبعد فرمایا:

وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاء ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیْاً بَیْنَہُمْ (الشوریٰ:۱۴)

’’لوگوں میں تفرقہ علم کے بعد ہوا اور اس وجہ سے ہواکہ وہ ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتےتھے۔‘‘

فہم کا اختلاف اور رأیوں میں فرق، معیوب و قابل مذمت نہیں ہے لیکن یہ بہرحال ضروری ہے کہ یہ فرق و اختلاف، شقاق و نزاع اور نفرت و عداوت کی شکل نہ اختیار کرے، وہ اختلاف جو دین و دنیا میں تفریق و افتراق کا باعث ہو ، ایسے اختلاف کا نہ دین اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ انسانی فطرت سے ہی اس کا کوئی علاقہ ہے ایسے اختلاف کو قرآن مجید، کفر سے تعبیر کرتا ہے:

إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ   (انعام:۱۰۹)

’’جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور گروہوں میں بٹ گئے ان سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔‘‘

اور امت کو تاکید کرتاہے :

وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَاء ہُمُ الْبَیِّنَاتُ وَأُوْلَـئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ oیَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ فَأَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ أَکْفَرْتُم بَعْدَ إِیْمَانِکُمْ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُونَ oوَأَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوہُہُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّہِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَo     (آل عمران:َ۵۱۰۔ ۱۰۷)

’’اور ان لوگوںکی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی ہدایات آجانے کے بعد اختلاف میں مبتلا ہوئے، وہ اس روز سخت سزا پائیں گے جب کہ کچھ لوگ سرخ رو ہوںگے اور کچھ لوگوں کے منھ کالے ہوںگے جن کا منھ کالا ہوگا (ان سے کہاجائے گا) نعمت ایمان کے بعد بھی تم نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اب اس کفران نعمت کامزہ چکھو۔‘‘

معلوم ہواکہ دلوں اورجذبات کا اتصال اور مقاصد و مناہج میں ہمہ رنگی و یکسانیت اسلام کی واضح ترین تعلیمات کا بنیادی عنصر ہے اور یہی چیز امت کی بقا و سلامتی کی ضامن و محافظ ہے۔

یہاں اس روایت کاذکر بھی مناسب معلوم ہوتاہے جو حضرت ابوہریرہؓ کے حوالہ سے روایت کی جاتی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ ’’یہود۷۱فرقوں میں اور نصاریٰ ۷۲فرقوں میں بٹے اور یہ امت ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ (ترمذی کتاب الایمان:۲۶۴۰)

مذکورہ روایت کے سلسلہ میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ صحیحین میں نہیں ہے دوسری اہم بات یہ ہے کہ جن کتب احادیث میں وارد ہے، کہیں صرف فرقوں کی تعداد کا ذکر ہے اور کہیں ان کا انجام بھی مذکور ہے۔ امام ابن حزم (متوفی ۱۰۶۳ھ؁) نے اسے موضوع روایات میں شمار کیا ہے۔ (الفصل فی الملل والاہواء والنحل ۳؍۲۹۲۔ طبع ۱۹۸۲ء؁ ریاض) اور محدث جلیل و مفسر کبیر امام شوکانی (متوفی ۱۲۵۰؁ھ) لکھا ہے کہ ’’کلہا فی النار إلا واحدۃ‘‘ یہ اضافہ بہت سے محدثین کے نزدیک ضعیف اور ابن حزم کے نزدیک موضوع ہے۔ (فتح القدیر ۱؍۶۰۷، بیروت)

اس کے علاوہ روایت خود بتاتی ہے کہ یہ تمام فرقے امت کا حصہ ہیں اور کسی کی بدعت، اسے خارج از اسلام سمجھنے کے لئے سند جواز فراہم نہیں کرتی، کوئی فرد امت اس وقت تک امت سے الگ تصور نہیں کیاجاسکتا جب تک کہ وہ دین کے کسی صریح و مسلمّہ حکم کا انکار نہ کرے۔

وحدت امت کی فرضیت، اہمیت اور ضرورت کی اس سے بڑی دلیل اور کیاہوسکتی ہے کہ شریعت اسلام نے امت کو دن میں پانچ بار جمع ہوکر نماز قائم کرنے کاحکم دیا، پھر ہفتہ میں ایک بار اس سے بڑے اجتماع کے لئے جمعہ کو فرض قرار دیا اور پھر نماز عید کی شکل میں سالانہ اجتماع کا اہتمام کیا اور تاکید کی کہ یہ اجتماع آبادی سے نکل کر کھلے میدان میں منعقد ہو اور مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی اس میں شرکت کی ترغیب دی پھر اس سے بڑا اہتمام یہ کیاکہ فرضیت حج کے ذریعہ مشرق و مغرب، جنوب شمال اور دنیا کے اطراف و اکناف میں بسنے والی امت کو ایک مرکز پر جمع ہونے، ایک ہی جیسے لباس میں جمع ہونے، ایک ہی کلمہ ادا کرنے اور ایک ہی جیسے افعال ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ انفرادی عبادت کے مقابلہ میں اجتماعی عبادت کی جو اہمیت ہے اس میں من جملہ دوسری باتوں کے امت کے اتحاد کا نکتہ بھی شامل ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’شیطان، ایک اور دو کے ساتھ بدخواہی کرسکتا ہے مگر تین کے ساتھ نہیں کرسکتا۔‘‘ (موطاامام مالک باب ماجاء فی لاستیذان ۳۶)

اوپر کی پوری بحث کاخلاصہ و لب لباب یہ ہے کہ وحدت ہی امت کی عظمت و سطوت اور فلاح وکامرانی کی ضامن ہے اور وحدت واتحاد کا زوال گویا امت کازوال ہے۔

اسلام کی قوتِ تاثیر

اسلامی رابطہ جس کی اساس و بنیاد ایمان و تقویٰ اور اسلامی اقدار ہیں، اس نے امت کو متحد کرنے اور تسبیح کے دانوں کی طرح ایک لڑی میں پرونے میں اہم کردار ادا کیاہے، یہی اسلامی رابطہ تھا، جس نے اوس خزرج اور عبس و ذبیان جیسے قبائل عرب کو ایک لڑی میں پرودیا، جو صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن اور خون کے پیاسے تھے، آج بھی یہ تعلق اپنے اندر یہ تاثیر رکھتاہے کہ امت کو ایک جسم و جاں بنادے۔

اوس و خزرج کے درمیان برسہا برس کی جنگی آگ اس وقت ٹھنڈی ہوئی جب پیغمبر اسلامؐ نے ہجرت کے بعد ان دونوں کو نصرت اسلام کی دعوت دی اور اسلام کی برکت سے وہ ایسے بھائی بھائی ہوئے کہ انہیں یہ بھی گوارہ نہ رہاکہ انہیں ان کے قدیم و جاہلی ناموں سے موسوم کیاجائے بلکہ انہیں اپنی پرانی شناخت سے نفرت ہوگئی، ایک موقع پر ان کے کچھ لوگ امیر معاویہ کے گھر گئے اور ملنے کی اجازت چاہی، امیر معاویہ نے اپنے دربان کو ہدایت کی کہ انہیں اوس و خزرج کے نام سےہی بلائے اس پر وہ اتنے خفا ہوئے کہ معاویہ ان کو منانے پر مجبور ہوگئے۔ (الاغانی ۱۶؍۵۹)

مگر جب یہ اخوت واتحاد ختم ہوگیا اور امت اس سے غافل ہوگئی تو صورتِ حال بدگئی اور وہ امت جو ’’انصار‘‘ تھی وہ اپنے تک سمٹ کررہ گئی، جب کہ نبی رحمتؐ کی تعلیم یہ تھی کہ ہر حال میں اپنے بھائی کی نصرت و مدد فرض ہے۔ یعنی اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، صحابہؓ نے پوچھاکہ مظلوم کی مدد تو ہم کرسکتے ہیں مگر ظالم کی مدد کیسے کریں؟ فرمایا: اسے ظلم سے روک دو۔

کسی فرد امت کی رسوائی فرد واحد کی رسوائی نہیں ہے بلکہ پوری امت اور تمام افراد امت کی رسوائی کے قائم مقام ہے کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ امت کا جذبہ خود اری ختم ہوجاتا ہے اور ایمانی رشتہ اخوت ماند و کمزور پڑجاتا ہے، سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس جگہ سے بھاگ جائے یا کھڑا تماشا دیکھتا رہے جب کہ اس کا مسلمان بھائی ظلم کا شکار ہے۔ البتہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ظالم کاہاتھ پکڑنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے مسلح جنگ کی جائے بلکہ اس کا سادہ مطلب ہے کہ اسے ظلم سے باز رکھاجائے جس کے لئے کبھی ایک لفظ بھی کافی ہوجاتاہے۔ اصلاح حال کی کوشش یہ سمجھ کر کی جائے کہ بنائے اسلام جسد واحد ہے اس لئے اس کے ایک عضو کی تکلیف کا طبعی و فطری اثر بقیہ اعضائے جسم پر پڑے گا اور پڑنا چاہئے۔ یہ ایک ثابت شدہ، آنکھوں دیکھی حقیقت ہے، اس کے ثبوت کے لئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔

وحدت و اتحاد ایک ناقابل تسخیر قوت اور ایسا الٰہی قانون ہے جو صرف انسانوں اورمسلمانوں ہی کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر چیز میں یہ اصول نافذ ہے، کمزور دھاگہ جب اپنے ہی جیسے دوسرے دھاگوں سے ملتاہے تو ایک مضبوط رسی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور یہ وسیع و عریض کائنات بھی آخر کیا ہے؟ یہ بھی تو متحد ذرّات کا مجموعہ ہی تو ہے۔ جس طرح اتحاد قوت و طاقت کا نام ہے ٹھیک اسی طرح اختلاف و افتراق بڑی بڑی طاقتوں کو ضعیف اور ضعیف کو ہلاک کردیتا ہے، اسی لئے کفرو اسلام کے پہلے ہی معرکہ میں (بدر) رب کائنات نے اپنے مومن بندوں کو نصیحت و تاکید فرمائی کہ اپنی صفوں کو متحد رکھنا اور اپنی جمعیت کو بکھرنے نہ دینا، مگر امت اس ابدی و سرمدی حقیقت کو بھول گئی، وہ بھول گئی کہ دشمن کا سب سے کارگر ہتھیار امت کو مختلف خانوں میں تقسیم کرنا ہے،  وہ اس اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے کہ ’’فرّق تَسُدۃ‘‘ (Divide and rule) لڑائواورحکومت کرو۔

اکتوبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau