رنج و غم اسباب اور علاج

(1)

عتیق احمد شفیق

دکھ ، جس کو رنج ، وغم ، قلق، اضطراب ، پریشانی اور تکلیف وغیرہ ۔ ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے ۔ انسانی زندگی کا خاصہ ہے ۔ یہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک فطری اورحقیقی جس کی تکلیف محسو س کرنا فطری ہے جب کہ دوسرا غیر فطری ہوتا ہے ۔ حقیقی کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی چھت سے گر پڑے چوٹ آئے تودکھ ہوگا۔ یا کسی عزیز کا انتقال ہوجائے تواس کی جدائی پر دکھ ہونا فطری ہے ۔

غیر حقیقی دکھ یہ ہے کہ آدمی موہوم خیالات اوروسوسوںمیں مبتلا ہوجائے۔ ہم اس مضمون میں ان چیزوں کا جائزہ لیں گے جوانسان کے لیے دکھ کا سبب بنتی ہیں۔

اسباب

بے خبری اور جہالت

انسان کے لیے اضطراب ، پریشانی اوردکھ کا ایک سبب عدم واقفیت ، جہالت اور بے خبری بھی ہے ۔ مثلاً ایک شخص ایک اجنبی اورنئے مقام تک پہنچا ہے اورراستے سے  ، وہاں کے حالات سے وہ اچھی طرح واقف نہیں ہے تواس کویہ خوف لگا رہے گا کہ کہیں اس کا مال کوئی چھین نہ لے ۔ کہیں چورا چکے اسے گھیر نہ لیں۔اس کو قتل نہ کردیا جائے ۔ اس احساس سے اس پر خوف اورڈر طاری رہےگا ۔ یہ وسوسے اس کے لیے مسلسل دکھ کا سبب بنیں گے ۔ ایک دوسری مثال لیں ایک دیہات کا رہنے والا جس نے کبھی ریل سے سفر نہ کیا ہواس کو ٹرین پکڑنی ہوتوگھبرائے گا کہ ٹکٹ کیسے ملےگا، کس پلیٹ فارم سے جانا ہے ۔کون سی ٹرین پکڑنی ہے۔ یہ اوراسی طرح کے دوسرے سوالات اس کوپریشانی میں مبتلا کریں گے۔

اسی طرح کوئی عام آدمی کسی بڑے آدمی کے یہاں دعوت کے موقع پر جاتا ہے تو وہاں کے آداب محفل سے ناواقفیت کی وجہ سے اسے یہ خیال ہوگا کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ وہ کوئی ایسا کام کربیٹھے جووہاں کی مجلس کے آداب کے خلاف ہو ۔ یہ احساس اس کے لیے دکھ کا سبب بنے گا۔

ایسے ہی ایک ٹریفک قوانین سے ناواقف شخص جب ڈرائیو کرتا ہے اوروہ ٹریفک قانون کی قانون شکنی کے نتیجے میں کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے یا ٹریفک پولیس کی گرفت میں آجاتا ہے ۔ دونوں ہی صورتوں میں اس کوتکلیف پہنچتی ہے ۔ ان مثالوں سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ عدم واقفیت ، لا علمی جہالت، انسان کے دکھ کا ایک بڑا سبب ہے ۔

اسی طرح انسان جواس دنیا میں آیا ہے وہ کیوں پیدا کیا گیا ہے ؟ اس کوکیا کرنا چاہیے؟ کیا نہیں کرنا چاہئے! مرنے کے بعد کہاں جانا ہے اوروہاں کیا ہوتا ہے ؟ اس کا پیدا کرنےوالا کون ہے ؟ جیسے سوالات بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ اگرا نسان ان سوالوں کے جوابات سے ناواقف ہےتووہ ایک قسم کے اضطراب ، پریشانی اوردکھ کی  زندگی گزارے گا ۔ زندگی کے مقصد سے عدم واقفیت بھی بے چینی ودکھ کا سبب بنتی ہے ۔

حسد

انسان کودکھ، رنج والم میں مبتلا کرنے والی چیزوں میں سے ایک حسد بھی ہے۔ حسد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کوکسی نعمت مثلاً عزت، شہرت، دولت، علم، فضل وکمال ، حکمت اوردانائی سے نوازے تودوسرا شخص جواس نعمت سے محروم ہے اس کودیکھ کرخوش نہ ہو بلکہ اس کی یہ خواہش ہوکہ کسی طرح اس سے یہ نعمت چھِن جائے اوروہ اس نعمت سے محروم ہوجائے۔

حسد کی تین قسمیں ہوتی ہیں:

۱۔   بدترین حسد یہ ہے کہ کوئی یہ خواہش کرے کہ دوسرے شخص کوجونعمت ملی ہے اس سے وہ محروم ہوجائے  خواہ وہ نعمت خود اُس کوبھی حاصل نہ ہوسکے۔

۲۔   دوسرے قسم کا حسد یہ ہے کہ کسی کی یہ خواہش ہوکہ دوسرے شخص کو جونعمت حاصل ہوئی ہے ، اُسے بھی حاصل ہوجائے ۔ خواہ اس سے پہلے شخص سے وہ نعمت چھن ہی کیوں نہ جائے۔

۳ ۔  حسد کی تیسری شکل یہ ہے کہ فرد اپنے مدمقابل والے کو ملنے والی نعمت کا خواہاں ہو۔ لیکن اس کی یہ خواہش نہ ہوکہ دوسرا اس نعمت سے محروم ہوجائے۔

حسد کے محرکات اوراسباب کئی ہوسکتے ہیں مثلاً بغض وکینہ ، بدطینی ، اپنی بڑائی کا زعم وخمار اورجاہ پرستی ، کسی مقصد کے حصول میں ایک کا کامیاب ہوجانا اوردوسرے کا نام ہونا وغیرہ ۔

حسد کا بنیادی سبب بدطینی اورخبث باطن ہے ۔ بدطینت شخص ہرکسی سے حسد کرتا ہے ۔ جب کسی پر مصیبت آتی ہے تواُسے خوشی ہوتی ہے اورجب کسی پر اللہ کا اکرام ہوتا ہے ، اس کے یہاں خوش حالی وفارغ البالی آتی ہے ، تواُسے غم ہوتا ہے اوراس کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے ۔ یہ ایسی بیماری ہے جس سے محبت والفت کا ماحول باقی نہیں رہتا۔ جولوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں وہ کسی کا توکچھ بگاڑنہیں سکتے۔ خود ایک اضطراب ، بے چینی کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں ۔ نبیﷺ کا فرمان ہے :

اَلْحَسَدُ وْ ا اَلْبَغْضَآءُ ہِیَ الْحَالِقَۃُ لاَ اَقُوْلُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰکِنْ تَحْلِقُ الدِّیْنَ  ( ترمذی)

’’ حسد وبغض ایسی بیماری ہے جومونڈدینے والی ہے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بال کومونڈنے والی ہے ۔ بلکہ یہ دین کومونڈ کر رکھ دیتی ہے ۔‘‘

حرص وطمع

لالچ، حرص وطمع کی وجہ سے بھی آدمی رنج میںمبتلا ہوتا ہے ۔ تعلقات میں خوشگواری باقی نہیں رہتی۔ معاملات خراب ہوجاتے ہیں ۔ لوگوں کے درمیان کشمکش پیدا ہوتی ہے ۔ لوگ دوسرے کے حقوق کوپامال کرنے لگتے ہیں ۔ بیوی کا شوہر سے زیادہ سے زیادہ کا مطالبہ ہوتا ہے ۔ والدین اپنی اولاد سے کچھ زیادہ ہی توقعات رکھتے ہیں ۔ اولاد ہویا شوہر مال سے محبت رکھنے کی وجہ سے دوسروں کے جائز حقوق کونظر انداز کردیتا ہے ؟ جس کے نتیجہ میں گھروں میں ، معاشرے میں بے اطمینانی اورشکایات پیدا ہوتی ہیں۔

پھر مال ودولت کی بھوک کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ آدمی کو خواہ کتنی ہی دولت حاصل ہوجائے مگر اس کی طلب ختم نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ آدمی موت کا منہ دیکھ لیتا ہے ، نبیؐ نے فرمایا :

لَوْاَنَّ ابْنَ اٰدَمَ اُعْطِیَ وَادِیًّا مَّلاَّ مِّنْ ذَہَبٍ اَحَبَّ اِلَیْہِ ثَانِیًا، وَلَوْاُعْطِیَ ثَانِیًا اَحَبَّ اِلَیْہِ ثَالِثًا ، وَلاَ یَسُدُّ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ اِلاَّ التُّرَابَ(بخاری)

’’ اگرابن آدم کوسونے سے بھری ہوئی ایک وادی دے دی جائے تو دوسری کی خواہش کرے گا اور اگراسے دوسری بھی مل جائے تووہ تیسری کا خواہاں ہوگا اورابن آدم کے پیٹ کوتومٹی ہی بھرسکتی ہے ۔‘‘

مال ودولت کی ہوس کی وجہ سے انسان صرف اتنے پرہی اکتفا نہیں کرتا کہ وہ لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتا بلکہ وہ دوسروں کے حقوق اورمال وجائیداد کوہڑپ کرنے کی فکر میں لگ جاتا ہے اوراس کے لیے وہ ہر حربہ استعمال کرتا ہے جواس کے بس میں ہوتا ہے ۔

جاہ ومرتبہ کا حریص انسان بھی معاشرے کی تباہی کا باعث ہوتا ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَاذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِیْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَلَہَامِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِیْنِہٖ  (ترمذی)

’’ دو بھوکے بھیڑئیے جنہیں بکریوں کوپھاڑ کھانے کے لیے چھوڑدیا گیا ہواس شخص سے بڑھ کر تباہی نہیں مچاتے جو ما ل جمع کرنے اور جاہ ومرتبہ حاصل کرنے کی حرص میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اپنے دین کوتباہ برباد کرکےرکھ دیتا ہے ۔‘‘

حضور ﷺ فرماتے ہیں:

فَوَاللہِ مَاالْفَقْرَ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ وَلٰکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ اَنْ تُبْسَطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَآ بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلُکُمْ فَتَنَافَسُوْہَا کَمَآتَنَا فَسُوْہَا وَتُہْلِکَکُمْ کَمَآ اَہْلَکْتُمْ  (بخاری مسلم)

حضور ﷺ فرماتے ہیں۔’’مجھے تم پر فقر وناداری کا زیادہ اندیشہ نہیں ہے ، بلکہ مجھے اندیشہ اس بات کا ہے کہ تم پر دنیوی مال ومتاع کے دروازے کھول دیئے جائیں جس طرح کہ تم سے پہلے کے لوگوں پر کھول دیئے گئے تھے ۔ پھر تمہیں دنیا کی اس طرح چاٹ لگے گی جس طرح کہ تم سے پہلے کے لوگوں کو لگی تھی کہ وہ تمہیں اسی طرح ہلاک کردے گی جس طرح اس نے تم سے اگلوں کوہلاک کیا ہے ۔‘‘

خواہشات نفس

انسان کے رنج اوردکھ کا ایک اہم سبب خواہشات نفس کی پیروی ہے ۔ جب انسان کی خواہشات نفس بے لگام ہوجاتی ہیں اوروہ ان کوپوری کرنے میں منہمک ہوجاتا ہے تواسے ہر وقت یہی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ اس کی خواہشات کس طرح پوری ہوں۔ وہ چاہے گا کہ دولت آئے ، خواہ کہیں سے آئے ۔ شہرت ملے، کسی بھی طرح سے ملے ۔ آرام اور عیش وعشرت کے اسباب حاصل ہوں ، چاہے کہیں سے حاصل ہوں ، پھر حرام وحلال کی تمیز اُٹھ جاتی ہے ۔ لوگوں کی تکلیف اوردل آزاری کا خیال نہیں رہتا۔ حدیہ ہے کہ اس کے دل میں خدا کا خوف بھی باقی نہیں رہتا ۔ حدود الٰہی کا اسے مطلق پاس ولحاظ نہیں رہتا ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَيْرِ ہُدًى مِّنَ اللہِ۝۰(قصص:۵۰)

’’ اور اس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا کون ہوگا جواللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشِ نفس کی پیروی کرے ۔‘‘

جوشخص بھی خواہشات نفس کا بندہ بن جاتا ہے، اس کی ہلاکت وبربادی لازمی ہے ۔ خواہش نفس کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔ خواہش نفس کا بندہ تمام حدود سے تجاوز کرجاتا ہے ۔ انجام کا رتباہی اورہلاکت اس کی تقدیر بن جاتی ہے ۔

نبی ؐ نے فرمایا:

ثلَاَثٌ مُّہْلِکَاتٌ فَہَوَیٌ مُّتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُّطَاعٌ وَّاِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِہٖ (بیہقی)

تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں۔

’’خواہشِ نفس جس کا اتباع کیا جائے ، حرص وبخل جس کا کوئی غلام بن جائے اور عجب وخود بینی جس میں کوئی مبتلا ہو۔‘‘

قرآن نے خواہش نفس میں گرفتارلوگوں کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا :

اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ۝۰ۭ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْہِ وَكِيْلًا۝۴۳ۙ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَہُمْ يَسْمَعُوْنَ اَوْ يَعْقِلُوْنَ۝۰ۭ اِنْ ہُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا۝۴۴ۧ   (فرقان:۴۳۔۴۴)

’’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! تم نے اس شخص کے حال پر غور بھی کیا جس نے اپنے نفس کی خواہش کو اپنا خدا بنالیا ہے، کیا تم ایسے شخص کی نگرانی کرسکتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے بہت سے لوگ سنتے اورسمجھتے ہیں؟ ہر گز نہیں یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ‘‘

احسا س محرومی

انسان کے دُکھ کا ایک اہم سبب احسا س محرومی بھی ہے ۔ جب انسان اسے نہیں دیکھتا جواسے حاصل ہے ، بلکہ وہ چیزیں جواس کومیسر نہیں ہیں اوردوسرے لوگوں کومیسر ہیں، ان پر اس کی نگاہ ٹکی رہتی ہے توایسا انسان احساس محرومی کا شکار ہوجاتا ہے ۔ جس سے بڑھ کر رنج وغم کی دوسری چیز نہیں ہوتی۔

آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ طلبہ فرسٹ کلا س یا اچھی رینک نہ آنے کی وجہ سے خود کشی کرلیتے ہیں ۔ عورتیں اپنے شوہروں سے کچھ بے جامطالبات کرتی ہیں ۔ مثلاً وہ چاہتی ہیں کہ شوہر اپنے والدین سے قطع تعلق کرلے جب شوہر یہ مطالبہ پورا نہیں کرتا تووہ آگ میںجلنے کا ڈرامہ رچاتی ہیں ۔ (بعض جل بھی جاتی ہیں اوربعض کوبچالیا جاتا ہے) سماج میں انتشار ، قتل ، غارت گری ، جھگڑے کا ایک اہم سبب احساس محرومی بھی ہے ۔

حساس طبیعت

بعض لوگ بہت حساس طبیعت کے ہوتے ہیں ۔ یہ حساسیت وجذباتیت ان کے لیے غم وآلام کا سبب بنتی ہے ۔ ایسے لوگ دوسروں کی طرف سے معمولی معمولی باتوں کو بہت بڑا سمجھنے لگتے ہیں اوران کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں ۔ اگر اس پر کنٹرول نہ کیا جائے تو اس کا اعصاب پر غیر معمولی اثر پڑتا ہے ۔ ایک دوسرے کے مطابق طلاق کے زیادہ تر حادثات چھوٹی چھوٹی اور معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔

وقت کا ضیاع

انسان کے دکھ کا ایک خاص سبب یہ ہے کہ بعض لوگوں کے پاس ان کے فارغ اوقات کا کوئی استعمال نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری بہنیں ، مائیں اورہمارے  نوجوان ٹی وی پرکئی کئی گھنٹے فلمیں دیکھنے میں گنواتےہیں۔ یا پھر کسی کلب کوجوائن کرتے ہیں اور کچھ نہیں توسڑکوں پر سیر سپاٹے کر تے پھرتے ہیں ۔ ہمارے بڑے بوڑھے بیٹھ کر مجلس جماتے ہیں اور تاش یا شطرنج کھیلتے ہیں یا پھر ایک دو سر ے کی غیبت کرنے میں اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں۔ یہ وقت کا ضیاع ہے ۔ ان کے پاس اعلیٰ مقصد اور اس کے حصول کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا۔ وہ لایعنی کاموں میں وقت گزارتے ہیں مگر دلی سکون اس سے کیونکر میسر آسکتا ہے ۔ اس سے دیگر نقصانات جوہوتے ہیں ان کا کوئی حساب نہیں ۔ گھر کے لوگوں کو وہ وقت نہیں دے پاتے ۔ رات میں دیر تک جاگنے کی وجہ سے صحت الگ خراب ہوتی ہے  اور سحر خیزی کی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔

موت کا ڈر

موت کا ڈر اورزیادہ سےزیادہ زندہ رہنے کی آرزو بھی آدمی کوپریشان رکھتی ہے ۔ بہادری وشجاعت کے کاموں سے راہ فرار اختیار کرتا ہے ۔ ذلت، پستی، مسکنت اوردکھ یہی اس کی قسمت بن جاتی ہے۔

حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ’’ عنقریب ایسا ہوگا کہ قومیں تم پر ٹو ٹ پڑیں گی جس طرح کھانے والے ایک دوسرے کوکھانے کے پیالے کی طرف بلاتے ہیں ۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا ایسا اس زمانے میں ہوگا جب ہماری تعداد کم ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم تو اس زمانے میں کثیر تعداد میں ہوگے لیکن تمہاری حقیقت کوڑے کرکٹ کی سی ہوگی ، جیسے وہ خاشاک جو دریا اورسیلاب کے جھاگ کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے ۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اورتمہارے دلوں میں ’’وہن‘‘ ڈال دے گا ۔ ایک شخص نے پوچھا کہ اے رسول اللہ ﷺ وہن کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت‘‘ (ابوداؤد)

ایک خاص کمزوری کی نشاندہی بھی نبی ﷺ نے فرمائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

یَہْرُمُ ابْنُ اٰدَمَ وَیَشِبُّ فِیْہِ اِثْنَانِ: اَلْحِرْصُ عَلَی الْمَالِ وَالْحِرْصُ علی الْعُمْرِ (بخاری مسلم)

’’ ابنِ آدم بوڑھا ہوجاتا ہے مگر اس کے اندر دوچیزیں زیادہ جوان ہوتی جاتی ہیں ۔مال ودولت کی حرص اورجینے کی حرص۔‘‘   (جاری )

مارچ 2016

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau