اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ اس نے انسانوں کے درمیان تعلق کی ہرنوعیت کو خوش گوار ،مضبوط اور مستحکم کرنے کی تعلیم دی ہے۔اس ضمن میں بالخصوص بیوی ،شوہر ،اولاد ، والدین ،رشتہ دار ،پڑوسی ،دوست اوررفیق سفر سے تعلق نبھانے کی تلقین کی گئی ہے۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں مثالی معاشرت کی خصوصیات اور تعلق خراب کرنے والے عوامل کی نشان دہی کے ساتھ ان سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔اس کی غرض یہی ہے کہ انسانی معاشرت اچھی ہو ، باہمی الفت ومحبت ،ہمدردی اور غم خواری کی فضا پروان چڑھے ،لوگ ایک دوسرے کے لیے ایثار کا جذبہ رکھیں ، کسی کی حق تلفی نہ ہو اور لوگ اپنے فرائض سے غفلت نہ برتیں ۔اس مزاج کی پرورش ،ماحول کی آبیاری اور رشتے اور حقوق کی پاس داری کا ذکر سورۂ نساء آیت 36میں کیا گیا ہے ۔اس میں جہاں انسانوں کے ساتھ حسن سلوک میں والدین ،رشتہ دار ، یتیموں ، مسکینوں،پڑوسیوں اورمسافروں کا ذکر ہوا ہے ،وہیں الصاحب بالجنب کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـیـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَینِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰى وَالْیتٰمٰی وَالْمَسٰكِینِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِیلِ۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَیمَانُكُمْ ۭ اِنَّ اللہَ لَا یحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا۳۶ۙ
(اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤاور پڑوسی رشتہ دارسے ، اجنبی ہم سایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافرسے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمھارے قبضے میں ہوں ، احسان کا معاملہ رکھو ۔ یقین جانو! اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔)
مفسرین نے الصاحب بالجنب کے متعدد معنیٰ اور اطلاقات بیان کیے ہیں ۔ محمد علی طہ الدرہ نے اپنی تفسیر ’تفسیر القرآن الكریم وإعرابه وبیانه‘ میں حضرت علی ؓ اورعبد اللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اس سے مراد ’بیوی‘ہے۔ ابن عباسؓ اور مجاہدؒ کہتے ہیں کہ اس سےمراد’صالح دوست ‘ہے ۔زید بن اسلمؒ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ’ہم نشین‘ اور ’رفیق سفر‘ ہے ۔ [1]
اس لفظ کی وضاحت میں قرطبی ؒ نے ایک حدیث ذکر کی ہے :
رسول اللہ ﷺ ایک ساتھی کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپؐ جھاڑیوں میں گئے اور وہاں سے دو لکڑیاں کاٹیں، ایک ٹیڑھی تھی اور دوسری سیدھی۔ باہر آ کر سیدھی لکڑی اپنے ساتھی کو دے دی۔ ساتھی نے کہا: یا رسول اللہﷺ! سیدھی لکڑی تو آپؐ کے لائق تھی۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ جو بھی کسی کے ساتھ ہوتا ہے، وہ اپنے ساتھی کے بارے میں ذمے دار ہوتا ہے، چاہے تھوڑے ہی وقت کے لیے کیوں نہ ہو۔ [2]
تفسیر ابن كمال باشامیں لکھا ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہے، جو تمھارے ساتھ ہو ،چاہے حالت سفر میں یا درس گاہ میں ،یا پھر پیشے میں ہو۔[3] ڈاکٹر وھبہ الزحیلی نے اس سے کچھ وقت کے لیے بننے والےدوست ،جیسے درس گاہ کے ساتھی،سفر اور کاروبار کے ساتھی اور مسجد اور مجلس میں ملنے والے شخص کو مراد لیا ہے ۔ [4]
تفسیر بغوی میں ابن عباسؓ ،عکرمہؒ ،مجاہدؒاور قتادةؒ کے حوالے سےمنقول ہے کہ اس سے مراد’ سفر کا ساتھی‘ ہے ۔ ابن جریج ؒاور ابن زیدؒ نے کہا ہے جو نفع کی غرض سے تیرے ساتھ ہو ۔ حضرت علیؓ ، عبد اللہؒ اور ابراہیم نخعیؒ نے کہا ہے اس سے مراد بیوی ہے ،جو مرد کے پہلو کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اکثرمفسرین نے مہمان بھی مراد لیا ہے ۔ [5]
مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی ؒنے اس لفظ کا ترجمہ’ پہلو کے ساتھی‘ کیا ہے ،لکھتے ہیں:
متن میں’ الصاحب بالجنب‘ فرمایا گیا ہے ،جس سے مرادہم نشین دوست بھی ہے اور ایسا شخص بھی ہے جس سے کہیں کسی وقت آدمی کا ساتھ ہوجائے ،مثلاً آپ بازار جارہے ہوں اور کوئی شخص آپ کے ساتھ راستہ چل رہا ہو یا کسی دکان پر آپ سودا خرید رہے ہوں اور کوئی دوسرا خرید ار بھی آپ کے پاس بیٹھا ہو ،یا سفر کے دوران میں کوئی شخص آپ کا ہم سفر ہو۔۔۔عارضی ہمسائیگی بھی ہر مہذّب اور شریف انسان پر ایک حق عائد کرتی ہے ،جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حتی الامکان اس کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اور اسے تکلیف دینے سے مجتنب رہے۔ [6]
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اس کا ترجمہ ’ہم نشین‘کیا ہے۔اس کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
الصاحب بالجنب جنب کے معنی ٰ پہلو کے ہیں ، جو شخص وقتی اور عارضی طور پر کسی مجلس،کسی حلقے ،کسی سواری ،کسی دکان ،کسی ہوٹل میں آپ کا ہم نشین و ہم رکاب ہو جائے وہ الصاحب بالجنب ہے ۔ [7]
مفتی شفیع عثمانی[8] اور مولانا عبد الماجد دریاآیادی[9]نے بھی اسی مفہوم کو نقل کیا ہے ۔
مفسرین کی آرا کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ الصاحب بالجنب میں رفیق سفر ، شریک حیات ،ہم پیشہ فرد ، ہم نشین،ہم سبق ،ہم رکاب ، دوست ، جس سے راہ چلتے ملاقات ہوجائے یا کسی دکان یا کسی بھی مقام پر کچھ دیر کےلیے بھی ملاقات ہوجائے ۔یعنی کسی کے ساتھ چند لمحات گزارنے کا موقع ہو یا دائمی رفاقت ہو ،وہ سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔
اسلام نے تمام افراد کو اپنا مخاطب بنایا ہے ۔ ہر ایک کےحقوق اور کچھ ذمہ داریاں متعین کی ہیں ۔آیت کے زیر بحث لفظ الصاحب بالجنب کے اطلاقات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہر وہ شخص جو ہمارے ساتھ چند لمحہ بھی گزارے ، حسن ِسلوک کا مستحق ہے ۔اسے سہولت پہنچانا ، اس کا خیال رکھنا ، اس کی ممکنہ مدد کرنا ،مصیبت وپریشانی کے وقت اس کے لیے کھڑا ہونا،قرآنی مطالبہ ،ایمانی تقاضا اور مومنانہ عمل ہے ۔
قرآن مجید کی اس آیت میں الصاحب بالجنب کے استعمال پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام فرد کو کس قدر اعلیٰ اخلاقی معیار پر لانا چاہتا ہے ۔ وہ صرف پڑوسیوں ،رشتہ داروں اور مسافروں کےتعلق سے ہی ہدایات نہیں دیتا ،بلکہ انسان کے تعلق میں آنے والے ہر فرد کوحسن سلوک کا مستحق قرار دیتا ہے ، گرچہ اس سے مستقل کوئی واسطہ نہ رہا ہو ، اس سے کوئی شناسائی ہو یا نہ ہو،اگر وہ کسی وقت ساتھ ہوا ہے تو مومن کو چاہیے کہ اس کے ساتھ بہترین معاملہ کرے ،اس کی ضرورتوں کا خیال کرے، اسے آسانی فراہم کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دے ۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی ہدایت یہ ہےکہ جب بھی کسی سے سامنا ہو یا ملاقات ہوتو مومن کو چاہیے کہ اس کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئے ، اس سے مسکراکر ملے۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَیئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ [10]
”نیکی میں کسی چیز کو حقیر نہ سمجھو، چاہے یہی ہو کہ تم اپنے (مسلمان) بھائی کو کھلتے ہوئے چہرے سے ملو۔“
سطور ذیل میں زیر بحث لفظ کے تین اہم اطلاقات :رفیق سفر، دوست اور ہم پیشہ افراد کے ساتھ حسن سلوک کے تقاضے اور افادیت کے پہلوؤں پر گفتگو کی جائے گی ۔
رفیق سفربھی حسن سلوک کامستحق ہے
آیت بالا کے اطلاقات میں مفسرین نے رفیق سفر کو بھی مراد لیا ہے ۔سفر میں انسان کو متعدد صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اکثر اوقات انسان کو اکیلے سفر کرنا پڑتا ہے،سامان اٹھانےکی صعوبت ،منزل تک پہنچنے کی فکر ،راستے کے خطرات کا خوف اور سفر کی مسافت بھی اسے تشویش میں مبتلا کردیتی ہے ۔ ایسے میں ساتھ میں سفر کرنے والا شریک سفر اس کا رفیق سفر بن جائے تو تمام مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں ۔رفیق سفر کو اپنے شریک سفر کےسلسلے میں درج ذیل امور کی جانب توجہ دینی چاہیے:
- اگر سفر ٹرین ،بس یا گاڑی سے ہو تو اسے پہلے چڑھنے اور اترنے کے لیے جگہ دینی چاہیے ۔
- اگر اس کا سامان زیادہ ہو تو اٹھانے اور رکھنے میں مدد کرنی چاہیے۔
- کھانے کا وقت ہو تو اس میں شریک کرنا چاہیے ۔
- اگر اسے سونے یا آرام کرنے کی ضرورت ہوتو اسے موقع دینا چاہیے ۔
- اس کی عدم موجود گی میں اس کے سامان کی حفاظت کرنی چاہیے ۔
- اگر اسے کوئی پریشانی لاحق ہوجائے تو ممکنہ حدتک اس کے ازالے کی کوشش کرنا چاہیے ۔
- کوئی ایسا کام یا حرکت نہیں کرنا چاہیے جس سے اسے پریشانی محسوس ہو ۔
- سفر کو خوش گوار رکھنے کے لیے اس کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے ۔
- اس کے ساتھ ایسی خوش گفتاری ،ملنساری اور ہم دردی کا معاملہ کرنا چاہیے کہ وہ صرف رفیق سفر نہ رہے ،بلکہ یہ رفاقت ہمیشگی میں بدل جائے ۔
دوستی کے تقاضے
انسان کی زندگی میں دوست ایسی ہستی کا نام ہے، جس کے بغیر زندگی بے رونق ، بے کیف اور بد مزہ معلوم ہوتی ہے۔ انسان اپنے ہم مزاج فرد کی جانب مائل ہوتا ہے ،یہی میلا ن اٹوٹ محبت اور گہری دوستی کا سبب بنتا ہے ۔ انسانی تعلقات کے بیش تر حصوں میں حجاب ، لحاظ اور ادب کا دائرہ ہوتا ہے ،لیکن دوستی ایسا رشتہ ہے ، جس میں کوئی حجاب نہیں ہوتا ۔ انسان اپنے دوست سے ہر طرح کی باتیں شیئر کرتا ہے ، ہر موقع پر اسے یاد کرتا ہے ، اکثر ضرورتوں میں اسے ہی یاد کرتا ہے ۔ہر مشکل مرحلے میں دوست کو سب سے پہلے پکارتا ہے ۔دوستی کا یہ رشتہ بھی حسن سلوک کا مستحق ہے ۔
دوست کے انتخاب میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان اچھے دوست کا انتخاب کرے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے :
الرَّجُلُ عَلَى دِینِ خَلِیلِهِ، فَلْینْظُر أَحَدُكُم مَنْ یخَالِل [11]
”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہو تا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔“
انسان والدین اور گھریلو ماحول کے بعد جس سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ، وہ اس کا دوست ہی ہے ۔ دوست کی فکر ، رجحان ،معاملات اور معاشرت کا اس پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔اس لیے دوستی قائم کرتےوقت یہ ضروری ہے کہ انسان اچھے لوگوں سے دوستی کرے ۔دوست کے ساتھ حسن سلوک دوستی میں گہرائی ،محبت ،ایثار ،اپنائیت اور ہم دردی کے جذبات کو جلا بخشتی ہے ۔
انسانی فطرت ایسی ہے کہ اس میں محبت ضرور دو طرفہ ہوتی ہے ، اگر ایک دوست محبت کا مظاہرہ کررہا ہے اور دوسرا دوست سرد مہری کا شکار ہے،یعنی وہ اس سے تعلق میں محبت واپنائیت کے اظہار میں بے زاری اور بے توجہی برت رہا ہے تو یہ دوستی زیادہ دن نہیں چل پاتی ۔
دوستی کا تقاضا یہ ہےکہ
- انسان اپنے دوست کے معاملات میں دل چسپی لے ۔
- اس کی علمی ترقی اور معاشی خوش حالی کے لیے ممکنہ کوشش کرے ۔
- اس کے اہل خانہ کے ساتھ ہم دردانہ تعلق رکھے ۔
- مصیبت و پریشانی میں اسے اکیلا نہ چھوڑے ۔
- ہر معاملے میں اسے اچھا مشورہ دے ۔
- اگر اس کے مالی حالات کم زور ہوں تو اس کی مالی مدد سے گریز نہ کرے ۔
- بیماری کے وقت خصوصاً اس کا ساتھ دے ۔
- دوست کواس پر ایسا اعتماد ہو کہ وہ ہر معاملے میں اس سے بلا تکلف اور بغیر کسی جھجھک کے رجوع کر سکے ۔
ہم پیشہ افراد سےگہرا رشتہ بنائیں:
انسان دن کااکثر وقت ہم پیشہ افراد کے ساتھ گزارتا ہے ۔ ہم پیشہ افراد مسلم اور غیر مسلم دونوں ہوتے ہیں ۔ ان کےساتھ تعلقات میں خوش گواری جہاں ملازمت اورکاروبار میں ترقی کا باعث ہوتی ہے، وہیں ان کے ساتھ معاملات کی بہتری زندگی کو پرکیف بنا دیتی ہے۔ اگر معاملہ اس کے بر عکس ہو تو زندگی اجیرن بن جاتی ہے ، ہر وقت دل میں ایک کسک سی محسوس ہوتی ہے، رقابت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں ۔ترقی کی راہ مسدود ہونے لگتی ہے ، انسان کے ذہن و دماغ پراس کے بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ہرروز ملازمت یا کاروبار کے لیے جاتے ہیں ،اپنے ہم پیشہ افراد کے تعلق سے موہوم خطرات ذہن میں دوڑنے لگتے ہیں،کام میں جی نہیں لگتا ۔ کام کی رفتار اور معیار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے لازمی ہے کہ اپنے ہم پیشہ افراد سے اچھے تعلقات رکھے جائیں۔
یہ اسلام کا ہی امتیاز ہے کہ اس نے انسانی تعلق میں آنے والے رشتے یا نسبت کو خوش گوار بنانے کی تعلیم دی ہے۔آیت بالا کےاطلاقات میں ہم پیشہ افراد بھی ہیں ، ان کے ساتھ حسن سلوک کی نوعیتیں درج ذیل ہوں گی ۔
- اپنے ہم پیشہ افراد کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ رکھیں ۔
- مشترکہ یا متعلقہ امور میں ان کی معاونت سے دریغ نہ کریں ۔
- دفتری امور یا کاروباری معاملات میں انھیں اچھے مشورے دیں ۔
- ان کے ساتھ برادرانہ تعلقات بنائیں ۔
- ان کے گھریلو معاملات میں دل چسپی لیں ۔
- ان کے اہل خانہ کے ساتھ محبت آمیز تعلقات نبھائیں ۔
- ا ن کی عدم موجود گی میں ان سے متعلق امور کی انجام دہی ممکن ہو، تو اسے خوش دلی سے انجام دیں ۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ہم پیشہ افراد کے ساتھ تعلقات جتنے اچھے ہوتے ہیں ، انسان اتنی ہی دل چسپی ، لگن اور محنت سے اپنے کام کو انجام دیتا ہے ۔ آفس ،دکان یا انسان جہاں بھی کام کرتا ہے ،اگر وہاں کا ماحول خوش گوار ہو ،تو اسے اپنا کام کوئی بوجھ نہیں لگتا ، اس کی اپنے کام میں دل چسپی مزید بڑھ جاتی ہے ۔وہ اپنے ذہن و دماغ میں غیر معمولی توانائی محسوس کرتا ہے ۔کیوں کہ اس کی ذہنی اور جسمانی توانائی منفی جذبات اورخیالات سے ضائع نہیں ہوتی ۔
آیت بالا کے زیر بحث لفظ الصاحب بالجنب کے تمام اطلاقات :بیوی ، رفیق ، شریک سفر ، ہم پیشہ افراد اورہم سبق ، یہ سب ہمارے حسن سلوک کے مستحق ہیں ۔ ان کے ساتھ تعلق مضبوط اور خوش گوار ہوگا تو انسان کی زندگی خوشی اور سکون سے گزرےگی ۔اگر ان سے تعلق میں گرم جوشی نہیں،بلکہ سرد مہری ہے تو انسان ہشاش بشاش نظر نہیں آئے گا ،وہ ادھورے پن کا شکار رہے گا ۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان تعلق کے رشتے کو اہمیت دے ، چاہے عارضی ہو یا ہمیشگی کا ہو ،اسے حسن و خوبی سے نبھائے ۔اپنے اوپر عائد کردہ ذمہ داریوں سے غفلت نہ برتے ، دوسرے کے ساتھ احسان کا معاملہ کرے۔البتہ ان سے بھی احسان کا معاملہ نہ چاہے ،بلکہ جو بھی کرے حسن نیت اور رب کی رضاجوئی کے لیے کرے ۔انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کا کوئی بھی معاملہ ایثارکے جذبہ کے بغیر پورا نہیں ہوتا ، اس لیے انسان اپنے اندر ایثار وقربانی کا جذبہ رکھے ۔یہی جذبہ کام یاب تعلقات ،خوش گوار تعلقات اور حسن معاملات کی ضمانت ہے ۔
حواشی ومراجع
- محمد علی طہ الدرة ،تفسیر القرآن الكریم واعرابہ وبیانہ،دار ابن كثیر، دمشق 2009ء،جلددوم ،ص:450
- ابو عبد الله، محمد بن احمد الأنصاری القرطبی،الجامع لاحكام القرآن،دار الكتب المصریۃ – القاهرة،جلد پنجم ،ص:189
- تفسیر ابن كمال باشا، شمس الدین احمد بن سلیمان بن كمال باشا ، مكتبۃ الارشاد، اسطنبول – تركیا، 2018، جلدسوم،ص: 77
- ڈاکٹر وھبہ الزحیلی ،تفسیر المنیر فی العقیدۃ و الشریعۃ و المنھج ،دار الفکر ،دمشق،جلد سوم ،ص:71
- ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی ،تفسیر البغوی ،احیاء التراث،1420ھ،جلداول،ص: 617
- سید ابو الاعلیٰ مودودی ،تفہیم القرآن ،مکتبہ جماعت اسلامی رام پور،1958ء جلد دوم ،ص:352
- امین احسن اصلاحی ،تدبر قرآن ،فاران فاؤنڈیشن ،لاہور ،پاکستان ،جلد دوم ،ص:298
- مفتی محمدشفیع عثمانی ،معارف القرآن ،جلد دوم ،ص:63
- عبدالماجد دریاآبادی ،تفسیر ماجدی،مجلس تحقیقات ونشریات اسلام ،لکھنؤ،2016ء جلد اول ،ص:753
- صحیح مسلم، كتاب البر والصلۃ والآداب،باب استحباب طلاقۃ الوجہ عند اللقاء،2626
- سنن ابو داؤد، كتاب الأدب، باب من یؤمر أن یجالس،4833






