اخلاقی قوت اور ملت اسلامیہ ہند

سید سعادت اللہ حسینی

نومبر 2023 کے شمارے میں تمکین و ترقی اور اخلاقی قوت کے درمیان تعلق کوقرآن، حدیث ، کلاسیکی و معاصر اسلامی مباحث اور سماجیاتی نظریات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی اور کچھ اہم نتائج مستنبط کیے گئے تھے۔جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:

ترقی و تمکین (empowerment)کا اہم ترین عامل اخلاقی قوت ہے۔قرآن کے مطابق(الرعد11، الانفال53)کسی قوم کی حالت میں تبدیلی دراصل اس کے ’انفس‘  میں تبدیلی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ انفس اصلاً اخلاقی قوت ہی کا نام ہے۔

اخلاقی قوت کا تعلق اجتماعی اخلاق سے ہے۔ ہر قوم کی کچھ مرکزی قدریں (core values)ہوتی ہیں جن پر رواج و عمل کا ہمہ گیر اتفاق پایا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ قدریں اس کی شناخت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ انہی مرکزی اخلاقی قدروں سے اس کے اہم سماجی معمولات(social norms)تشکیل پاتے ہیں اور ان ہی سے اس کی اخلاقی قوت کا تعین ہوتا ہے۔

قوت بننے کے لیے ضروری ہے کہ یہ مرکزی اخلاقی قدریں، قوم کے نظام عقائد (belief system)اورتصور حیات (worldview)سے ہم آہنگ ہوں اور انسانیت کے لیے مفید ونافع ہوں۔

اسلام کی تعلیمات کے مطابق مسلمان معاشرے کی مرکزی اخلاقی قدریں کیا ہونی چاہئیں؟ ہم نے قرآن اور بعض ائمہ سلف کے اقوال کے حوالے سےکچھ ایسی جامع قدروں کی نشان دہی کی کوشش کی تھی جو مسلمان معاشرے کی مرکزی قدریں کہلائی جاسکتی ہیں۔

وعدے کے مطابق آج کے مضمون میں اخلاقی قدروں اور تمکین و ترقی کے رشتے کا عملی جائزہ پیش نظر ہے۔ یہ جائزہ ہم ترقی یافتہ قوموں کے احوال کے حوالے سےبھی پیش کریں گے اور امت مسلمہ ہند کے عملی احوال کا بھی اس پہلو سے تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

اخلاقی قوت: بعض ترقی یافتہ اقوام کے نمونے

سب سے پہلے کچھ ترقی یافتہ سماجوں کا جائزہ لیا جائے گا کہ ان کی کیا اخلاقی خصوصیات ہیں جو ان کی ترقی کا سبب بن رہی ہیں۔ اس جائزے میں ہم ان سماجوں کے کم زور پہلوؤں کو بھی زیر بحث لائیں گے اور ان کی مرکزی قدروں سے، اس کم زوری کے تعلق کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

جدید مغربی اقوام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے معاشروں میں مرکزی قدروں کا تصور گہرائی کے ساتھ راسخ ہے۔یورپ کی نشاة ثانیہ کے افکار نے کچھ قدروں کو وہاں کے اجتماعی شعور میں گہرائی کے ساتھ راسخ کردیا۔ انفرادیت پسندی (individualism)اور فرد کی آزادی، جمہوریت اور جمہوری اقدار، قانون کا احترام اور اس کی حکم رانی، عقل پرستی اور سیکولرزم، آزاد معیشت اور ایجاد و اختراع، وغیرہ جیسی قدروں کو وہاں مرکزی قدریں (core values)سمجھا جاتا ہے۔[1] ان قدروں نے مغربی معاشروں میں سماجی معمول (social norm)کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اکثر مغربی سماجوں میں ان قدروں سے تینوں سطحوں پر گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ فکر و نظریے کی سطح پر، یعنی ان قدروں کا درست اور معقول ہونا پوری قوم کے نزدیک ایک متفقہ بات ہے۔ جذبے کی سطح پر ،یعنی ان قدروں کو قومی تہذیب کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے اورپوری قوم ان کے تحفظ و دفاع سے گہرا جذباتی تعلق رکھتی ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو ہے عمل کی سطح پر، یعنی لوگوں کے عملی رویوں، رواجوں اور سماجی معمولات (social norms)کی تشکیل میں ان قدروں کا مرکزی کردار ہے ۔ قدروں کا ایسا واضح نظام ایک قوت تشکیل دیتا ہے۔ اسی قوت کا نام ‘اخلاقی قوت ’ ہے۔ جدید مغربی معاشروں کی مذکورہ بالا مرکزی قدروں نے متعدد پہلوؤں سے ان کی مادی ترقی میں مدد کی ہے۔ انفرادیت پسندی نے ذاتی منفعت و خوش حالی اور معیار زندگی کی بلندی کو ہر فرد کی جستجو و کاوش کا محور و مرکز بنایا جس کے نتیجے میں علم و تعلیم ،پروفیشن و کیریر اورتجارت و انٹرپرنرشپ وغیرہ مختلف میدانوں میں آگے بڑھنے اور مسابقت کرنے کا جذبہ عام ہوا۔ اسی انفرادیت پسندی اور انفرادی آزادی نے افکار وخیالات کی آزادی کو جنم دیا اور خیالات کے تنوع نے ترقی کو مہمیز دی۔[2] جمہوریت اور جمہوری قدروں نے عوام کو ملک کی تعمیر و ترقی کا شریک کار(پارٹنر) بنادیا اورملکی امور میں ان کی دلچسپی بڑھائی، نیز اقتدار کی منتقلی کو بہت ہی آسان اور پر امن بنایا۔قانون کے احترام اور قانون کی حکم رانی نے امن و امان کے قیام اور عدل و تحفظ اور سلامتی کے احساس کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا جو کسی بھی ملک کی ترقی کےلیے ناگزیرہے۔ [3] ایجاد و اختراع کی قدر نے سائنس ، ٹکنالوجی اور دیگر علوم و فنون کی بے نظیر ترقی کی راہیں ہم وار کیں ۔ انٹرپرنرشپ کو نئی بلندیاں عطا کیں اور ملکوں کو ہر محاذ پر آگے بڑھایا۔[4]

ان مرکزی قدروں کے یقینا ًمنفی اور نقصان دہ اثرات بھی رہے ہیں۔ انفرادیت پسندی نے جدید مغربی سماجوں میں افراد کو سماجی ذمہ داریوں سے غافل کردیا، معاشی و سماجی نابرابری کو عام کیا اور دوسرے انسانوں کے تئیں انھیں بے حس بنادیا۔ آفاقی قدروں اور الوہی تعلیمات سے بے نیاز بے لگام جمہوریت نے اجتماعی نفسانیت (collective carnality)کی افزائش کی جس نے بالآخر پاپولزم (populism)کی شکل اختیار کرکے اکثر جمہوری معاشروں میں ایک بحرانی کیفیت پیدا کردی۔ آزاد معیشت کے انتہاپسند سرمایہ دارانہ تصور نے دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز کردیا اور اسراف و تعیش پسندی ، وسائل کی لوٹ اورماحولیاتی بحران جیسی لعنتوں کو جنم دیا۔ عقل پرستی اور سیکولر طرز فکر نے روحانی اور اخلاقی بحران پیدا کیا اور جنسی زندگی کو بے لگام کرکے خاندان کے ادارے کی چولیں ہلادیں۔[5] مرکزی قدروں کے اس نظام میں انسانوں کے باہمی تعلقات نظر انداز رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان تعلقات میں انسانی جذبات کی گرمی اور جوش و خروش ٹھنڈا ہوگیا اور تعلقات محض افادیت پسندی (utilitarianism)کا بے جان مشینی عمل بن کر رہ گئے۔

ایشیائی ملکوں میں دوسری عالمی جنگ کے بعد تیزی سے ترقی کرنے والا ملک جاپان ہے۔جاپان کی پانچ مرکزی قدریں بہت مشہور ہیں اور عام طور پر اجتماعی اخلاقیات کی بحث میں ان کا ضرور تذکرہ ہوتا ہے۔ ایک ، وا(和) یعنی ہم آہنگی و اجتماعیت، اس کا مطلب یہ ہے کہ جاپانی انفرادی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ اتفاق رائے، تعاون باہمی، تنازعات سے گریز اور فرد پرسماج کو ترجیح دینے کا عام مزاج اسی قدر کی دین ہے۔دوسری کائزن (改善)یعنی مسلسل بہتری، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر محاذ پر اعلیٰ سے اعلیٰ معیار کی جستجو اور مسلسل بہتری کی کوشش یہ بھی جاپانی اخلاقیات کا اہم حصہ رہا ہے اور جاپانی ذاتی و خاندانی زندگی سے لے کر انڈسٹری و معیشت تک، ہر جگہ اس کے لیے مسلسل کوشاں نظر آتے ہیں۔تیسری مرکزی قدر گری (義理) ہے یعنی فرض شناسی اور درجہ بندی اور پاور کا احترام و اطاعت، چوتھی قدر بوشیدو (武士道) یعنی وفاداری اور ڈسپلن، جب کہ پانچویں قدر ناکما (仲間) یعنی قریبی دوستوں یا قرابت داروں کا حلقہ اور اس میں باہم گہری رفاقت ،وفاداری،تعاون اور کامریڈری۔ کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ قدریں جاپانی سماج کی مرکزی قدریں ہیں۔ اور ان قدروں نے جاپان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔[6]

جاپان کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ان قدروں کا بڑا اہم کردار ہے۔ ان قدروں نے افراد کے اندر زبردست تال میل اور ٹیم اسپرٹ پیدا کی۔ ملکی اور قومی کاموں اور مفاد کے لیے رات دن کام کرنے اور محنت کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ اعلیٰ کوالٹی کا ایسا شوق بلکہ جنون پیدا کیا کہ یہ جاپان کی پہچان بن گئی۔[7] لیکن دوسری طرف ان قدروں نے فرد کی اہمیت کم کردی۔ کوالٹی اور پرفارمنس کی اندھی دوڑ نے تناؤ اور نفسیاتی عوارض کو جنم دیا۔[8] (اس وقت جاپان خودکشی اور نفسیاتی عوارض کے معاملے میں سرفہرست ملکوں میں سے ایک ہے)[9] اسی نے مادہ پرستی کو فروغ دیا اور وہ کیفیت عام کی جسے جاپان میں ہیکیکوموری(hikkikomori) (ひきこもり) کہا جاتا ہے[10]۔ یہ نفسیاتی عارضہ جاپان ہی تک مخصوص ہے جس کا شکار سماج اور ہر طرح کے سماجی تعلق سے کٹ کر خود پر مکمل قید تنہائی مسلط کرلیتا ہے۔ ہیکیکو موری برسوں اس طرح زندگی گزارتے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کو ایک نظر دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہوتے۔ اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں تقریباً ساڑھےپانچ لاکھ نوجوان[11]اور چھ لاکھ درمیانی عمر کے لوگ ہیکیکو موری ہیں۔[12]

ان دنوں چین تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی مرکزی قدروں پر بھی جاپان کی طرح کنفیوشس فلسفے کا گہرا اثر ہے ۔ چنانچہ چین میں ‘جیتی زھوئی ’ (集体主义) یعنی اجتماعیت (collectivism)کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے[13]۔ اور انفرادی مفاد پر اجتماعی سماجی مفاد کو ترجیح دینے کا مزاج، جاپان کی طرح وہاں بھی عام ہے۔ اسے چینی سماج کا اساسی اصول کہا جاتا ہے۔ گوانژی (关系) ان کی دوسری مرکزی قدر ہے جس کا مطلب قرابت داروں سے خاص تعلق اور ان کے درمیان باہمی اعتماد، ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانے اور ایک دوسرے کے تئیں ذمہ داری کو محسوس کرنے کا گہرا تعلق ہے۔ میانژی (面子) کا مطلب ذاتی عزت و توقیر، سماجی مرتبہ اور تکریم ہے جس کی حفاظت کی ہر شخص خاص فکر کرتا ہے اور اس کو بھی چینی سماج میں ایک مرکزی قدر تسلیم کیا گیا ہے۔ ژیاو (孝)کا مطلب بزرگوں اور عمر میں بڑے لوگوں کی عزت و تکریم ہے جس کی تمام مشرقی معاشروں میں اہمیت ہے لیکن چینی سماج میں اسے ‘مرکزی قدر ’ مانا جاتا ہے۔[14]

چین کی حالیہ ترقیوں کا مطالعہ کرنے والوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان میں ان کی مرکزی قدروں کا بڑا ا ہم رول ہے۔ اجتماعیت کی قدر نے جاپان کی طرح عام چینی آبادی کو بھی کام کا دیوانہ (workaholic)بنادیا ہے۔ وہ رات دن محنت کرتے ہیں اور ملک کی ترقی اور معاشی خوش حالی کو یقینی بناتے ہیں۔ کام کی جگہوں پر غیر معمولی ٹیم اسپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تعاون باہمی اور وسائل کی مناسب شراکت داری ان کی اجتماعی کارکردگی کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ ذاتی عزت و توقیر کا حد سے زیادہ خیال ہر فرد کو سماجی معمولات کا سختی سے پابند بناتا ہے اور سماج کے طئے شدہ معیارات اور معمولات سے انحراف کے رجحانات بہت کم زور ہوتے ہیں۔ اس سے بھی اجتماعی ترقی میں مدد ملتی ہے۔ بزرگوں کے ادب و احترام کی قدر خاندان کو تحفظ بخشتی ہے۔[15]

دوسری طرف جاپان کی طرح چین کی مرکزی قدریں بھی محض مادی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور تہذیبی تسلسل میں تو معاون ہوسکتی ہیں لیکن حیات انسانی کے زیادہ گہرے اور بنیادی سوالات اور انسان کی روحانی ضرورتوں کی تسکین کا ان میں کوئی سامان نہیں ہے جس کے نتیجے میں جدید چینی معاشروں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ زیادہ مادہ پرست معاشرے بنتے جارہے ہیں اور روحانی و نفسیاتی خلا پیدا کررہے ہیں۔[16] اجتماعیت پر حد سے زیادہ اصرار نے ان کی پیداواری صلاحیت تو بڑھائی لیکن ایجاد و اختراع کے عمل کو سست کردیا جس کے نتیجے میں ایک عرصے تک چین کی معیشت محض نقال معیشت (copycat economy)بنی رہی[17] (اب یہ صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے)

یہاں یورپ، جاپان اور چین وغیرہ کی اخلاقیات پر کوئی تفصیلی بحث مقصود نہیں ہے۔ ہم نے اس سلسلے کے سابقہ مضمون (اشارات:نومبر 2023) میں یہ بات واضح کی تھی کہ قوموں کی حالت کی تبدیلی کے دو مراحل ہوتے ہیں۔ ایک وہ تبدیلی جو خدا لاتا ہے (تغییر اللہ) اور ایک وہ تبدیلی جو قوم خود اپنے اندر لاتی ہے (تغییر القوم)۔ تغییر اللہ کا دائرہ قوم کے مجموعی حالات ہیں۔ جن میں قوت و کم زوری، تمکین و تنزل، دولت و افلاس،علم و جہالت، عزت وسربلندی اور ذلت و پستی وغیرہ شامل ہیں۔یہ تبدیلی قوم خود نہیں لاتی بلکہ اللہ تعالیٰ لاتا ہے۔ تغییر القوم کا دائرہ  ’انفس‘  ہے۔ یعنی انفس میں تبدیلی قوم کو خود لانی پڑتی ہے ۔تغییر اللہ ہمیشہ تغییر القوم کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے۔[18] تین ترقی یافتہ معاشروں کے مذکورہ بالا جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح مخصوص انفس یعنی اخلاقی اوصاف کا مخصوص مجموعہ قوم کی مخصوص حالت کو تشکیل دیتا ہے۔ اوپر کے جائزے میں تین باتیں خاص طور پر نوٹ کرنے کی ہیں۔

جن معاشروں کا جائزہ لیا گیا وہاں ‘مرکزی قدروں ’ کا ایک نظام پایا جاتا ہے۔ کچھ قدریں ہیں جن پر پوری قوم میں وسیع تر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ صرف فکری و نظریاتی سطح پر اتفاق نہیں بلکہ عمل کی سطح پر یہ قدریں طاقتور سماجی معمولات کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں جن کی پابندی کو عام طور پر سماج کے تمام ارکان ضروری سمجھتے ہیں اور اس کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی قومی شناخت کو ان قدروں سے وابستہ کرتے ہیں۔

ان مرکزی قدروں اور ان سے گہری اجتماعی وابستگی نے ان معاشروں کو ایک قوت فراہم کی ہے۔ اس قوت نے ان کو بعض پہلوؤں سے آگے بڑھنے، ترقی کرنے اور قوت حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔

انھی مرکزی قدروں سے گہری اجتماعی وابستگی نے یک رخا پن بھی پیدا کیا ہے اور بعض اور زیادہ اہم قدروں سے بے توجہی پیدا کی ہے جس نے ان کی اجتماعی زندگی میں مسائل بھی پیدا کیے ہیں اور بعض پہلوؤں سے ان کی کم زوری اور پستی و تنزل کا سبب بن رہی ہیں۔

اخلاقی قوت اور ملت اسلامیہ ہند

اس بحث کے منطقی تسلسل میں اگلا موضوع یہ ہونا چاہیے کہ وہ کون سی مرکزی قدریں تھیں یا  ’مسلم انفس‘  کی وہ کیا خصوصیات تھیں جنھوں نے عہد وسطی کے مسلمانوں کو ایک ناقابل تسخیر عالمی قوت بنا دیا تھا ۔ لیکن اس بحث کو ہم یہاں نہیں چھیڑیں گے۔ اس لیے کہ اس موضوع پر خاصا لٹریچر موجود ہے۔ مولانا مودودیؒ کے تمام تاریخی مباحث میں یہ موضوع ایک مرکزی موضوع ہے بلکہ دور جدید کے اکثر مسلمان مفکرین و مورخین نے اس کو زیر بحث لایا ہے۔ خاص طور پر مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی گراں قدر کتاب ‘انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر ’[19] ہمارے خیال میں ،اس موضوع کا بڑی جامعیت کے ساتھ احاطہ کرتی ہے۔ ہم سر دست عالمی امت کے احوال کو بھی زیر بحث نہیں لانا چاہتے اور راست امت مسلمہ ہند کے احوال پر آنا چاہتے ہیں۔ امت مسلمہ ہند کی اخلاقی حالت کے تجزیے کے لیے یہ ضروری ہے کہ درج ذیل سوالات کے جواب تلاش کیے جائیں۔

کیا ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان  ‘مرکزی قدروں ’ کا کوئی نظام موجود ہے؟ یعنی کیا ایسی کچھ قدروں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جن پر امت میں ہمہ گیر نظریاتی اور عملی اتفاق پایا جاتا ہو اور جن سے امت کی شناخت وابستہ ہو؟

اسلام کے مطابق اہم ترین قدریں یا ‘مرکزی قدریں ’ (core values)کیا ہیں؟ ان میں وہ کون سی قدریں ہیں جو امت میں عام طور پر رائج ہیں اور وہ کون سی قدریں ہیں جن کا امت میں عملی رواج بہت کم ہے؟

جن قدروں کا رواج ہے یا جن کا رواج نہیں ہے ان کا امت کی تعمیر و ترقی یا زوال و پس ماندگی سے کیا تعلق ہے؟

امت کے اخلاقی احیا کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟ ان ترجیحات کے مطابق عملی پروگرام کیا ہونا چاہیے؟

ان سوالات کے ٹھوس اور مدلل جوابات حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ اوپر یورپ، جاپان اور چین کے معاشروں کے حوالوں سے جو کچھ کہا گیا ہے، اسے کہنا اس لیے ممکن ہو سکا کہ ان کے سلسلے میں ٹھوس مطالعات، تحقیقات، سروے رپورٹیں اور اعداد و شمار موجود ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق دیگر بہت سے امور کی طرح ان معاملات پر بھی زمینی حقائق کی ٹھوس معلومات، ریسرچ اور اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے کوئی معروضی بات قطعیت کے ساتھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ جو کچھ بھی نیچے درج کیا جارہا ہے اس کی حیثیت موضوعی مشاہدے (subjective observation)کی ہے۔ اس میں مشاہدے کی غلطی کا خاصا امکان یقیناً موجود ہے اور بعض قارئین کے مشاہدات ہم سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود فی الحال ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ انھی ناقص مشاہدات کی بنیاد پر کچھ معروضات پیش کریں۔

ملت اسلامیہ ہند اور مرکزی قدریں

کیا ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان  ‘مرکزی قدروں ’ کا کوئی نظام موجود ہے؟ یعنی کیا ایسی کچھ قدریں ہیں جن پر وسیع نظریاتی اور عملی اتفاق پایا جاتا ہو اور جن سے امت کی شناخت وابستہ ہو؟

ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ ‘مرکزی قدروں ’ کا نظام ہندوستان کی ملت اسلامیہ میں بہت کم زور ہے اور یہ ان کی کم زوری، ضعف اور پس ماندگی کا ایک اہم سبب ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں تو اخلاق کا بڑا واضح، جامع اور مکمل و مبسوط تصور موجود ہے۔ اس لیے دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں میں مرکزی قدروں کے مستحکم نظام کا وجود زیادہ آسان ہونا چاہیے۔ لیکن دین کے صحیح شعور کے فقدان نے دیگر مسائل کے ساتھ یہ بڑا مسئلہ بھی پیدا کردیا ہے۔ اعلیٰ قدریں کتابوں میں تو موجود ہیں لیکن عملی زندگی میں ان میں سے بہت کم ہمہ گیر طور پر رائج و نافذ ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے عملی رویوں اور معمولات میں وہ کو نسی قدریں ہیں جو ان کی اجتماعی زندگی کا جزو لاینفک ہیں اور جن سے ان کی ملی شناخت وابستہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہم زیادہ سے زیادہ درج ذیل چیزیں گنا سکتے ہیں۔

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور ان سے محبت، رسول اللہ ﷺ سے محبت و عقیدت اور وارفتگی کا جذباتی تعلق: یقیناً یہ قدر ہندوستانی مسلمانوں کی ایک ‘مرکزی قدر ’ ہے۔یہ قدر مسلمانوں کو جوڑتی بھی ہے، ان کی ملی شناخت کا حصہ بھی ہے، یعنی عام لوگ اس قدر کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں کو جانتے ہیں اور ایک عام مسلمان کی بھی اس سے جذباتی وابستگی ہے، یعنی وہ اس پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے ہردم تیار رہتا ہے۔ یہ قدر تمام اعلیٰ ترین اخلاقی قدروں کا سرچشمہ اور ایک بہت بڑی قوت بن سکتی تھی اگر اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جذباتی تعلق و محبت کا صحیح شعور عام ہوتا اور ان کی اطاعت کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ عام طور پر یہ تعلق محض عقیدت و محبت کی ایسی کیفیت تک محدود ہے جس کا عمل اور رویوں پر اثر بہت کم ہے۔ اس بڑی کمی کی وجہ سے اس قدر کے فائدے بہت محدود ہوجاتے ہیں۔

قوم پرستی کے رنگ میں رنگی ہوئی ملی حمیت: ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ملی حمیت بھی ان کی ایک اہم مرکزی قدر ہے۔ ملت، امت اور حزب جیسے الفاظ جو قرآن مجید نے مسلمانوں کے گروہ کے لیے استعمال کیے ہیں، ان کا کیا مطلب ہے؟ اور اس کے کیا تقاضے ہیں؟ ان پر اشارات کے صفحات میں ہم اس سے قبل تفصیل سے لکھ چکے ہیں[20] امت کی تشکیل کی اصل بنیاد اسلامی عقیدہ، اسلامی فکر، اسلامی اخلاق اور اسلامی نصب العین ہے۔ اگر اس شعور کے ساتھ ملی حمیت ہوتی تو بلاشبہ یہ مرکزی قدر بھی بہت بڑی قوت ہوتی اور تمام اسلامی اخلاق کی جامع ہوتی۔ لیکن بد قسمتی سے یہ ملی حمیت قوم پرستی کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے۔ ایک عام مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمانوں کے تئیں ہم دردی کے جذبات میں کم و بیش وہی محرک کارفرما ہوتا ہے جو مثلا ً کسی مراٹھا کے لیے دوسرے مراٹھا کے دل میں اور کسی راجپوت کے دل میں دوسرے راجپوت کے لیے پائے جانے والے جذبات میں ہوتا ہے۔ اس نقص کی وجہ سے اکثر صورتوں میں اس حمیت کے مکمل فائدے ظاہر نہیں ہوپاتے اور بعض صورتوں میں تو یہ حمیت الٹا نقصان دہ بن جاتی ہے۔[21]

غذا اور لائف اسٹائل سے متعلق بعض قدریں: اس میں سب سے اہم اور نمایاں قدر جو مسلم معاشرے میں عام طور پر رائج ہے وہ منشیات سے پرہیز کی قدر ہے۔ بے شک بعض مسلمان شراب نوشی بھی کرتے ہیں اور دیگر منشیات کے بھی شکار ہیں لیکن عام طور پر مسلم معاشرے میں یہ عمل نفرت و ناپسندیدگی کی نگاہ ہی سے دیکھا جاتا ہے اور الکوحل سے گریز ہندوستانی مسلم معاشرے کا ایک نمایاں سماجی معمول social norm ہے، جو ان کی شناخت کا بھی حصہ ہے۔ اسی طرح ذبیحہ گوشت کا اہتمام ، حجاب کا اہتمام اور مردو زن کے آزادانہ اختلاط سے گریز وغیرہ جیسی قدریں وہ قدریں ہیں جن سے مسلم معاشرے کی شناخت وابستہ ہے۔

جنسی زندگی سے متعلق قدریں: ساری مسلم دنیا میں آج بھی مسلم امت کی ایک اہم پہچان اور امتیاز جنسی زندگی سے متعلق اخلاقی قدروں کا عام چلن اور ان کا اہم سماجی معمول (social norm) کی حیثیت اختیار کرلینا ہے۔ بعض افراد سے غلطیوں کا صدور ممکن ہے لیکن بحیثیت مجموعی معاشرہ جنسی اخلاق کے متعلق حساس ہے۔ ہم جنسی کی حمایت، ساری دنیا میں قبول عام اور زبردست تحریک و ترغیب کے باوجود مسلم معاشرے میں بالکل ممکن نہیں ہے۔ لیوان ریلیشن شپ، بوائے فرینڈ و گرل فرینڈ، ہم جنس شادی وغیرہ جیسی لعنتوں سے آج بھی مکمل طور پر صرف مسلم معاشرہ ہی بچا ہوا ہے۔ جنسی جرائم تو دور کی بات ہے، فحش نگاری اور نیم عریانی وغیرہ جیسی برائیوں کا بھی کم سے کم دین دار مسلم معاشرہ کبھی روادار نہیں ہوسکتا۔ یہ قدر یقینا ً مسلم معاشرے کا ایک اہم امتیاز ہے اور یہ خصوصیت ہندوستانی ملت اسلامیہ کے لیے بلاشبہ ایک قابل فخر اثاثے اور اہم قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ چار قدریں ملت اسلامیہ ہند میں عملاً  ‘مرکزی قدروں ’ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارا مشاہدہ یہ بھی ہے کہ معاشرے میں نفوذ ، حساسیت اور اجتماعی چلن کے اعتبار سے ان میں وہی ترتیب ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے۔ ان میں چوتھی قدر یقیناً اہم اور قابل قدر ہے اور اسلام کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ پہلی قدر بہت زیادہ اہم ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا گیا ناقص شعور کی وجہ سے ، عملاً اس کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ یہی معاملہ دوسری قدر کا بھی ہے۔ جبکہ تیسری قدر سے گہری وابستگی اور عملی اہتمام قابل تعریف ہے لیکن بہر حال وہ کوئی بنیادی اور اساسی قدر نہیں ہوسکتی۔ (مطلب یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی مکمل اطاعت، ان کے احکام کی مکمل پابندی یا حلال و حرام کی مکمل پابندی تو مرکزی اسلامی قدر ہے اور نہایت اہم قدر ہے، لیکن ان میں سے چند باتوں تک اطاعت کو محدود کرلینے اور باقی کو نظر انداز کردینے کو اساسی قدر قرار نہیں دیا جاسکتا)

کیا ان کے علاوہ بھی کوئی اخلاقی قدر ایسی ہے جس کے سلسلے میں امت میں ہمہ گیر اتفاق رائے اور اتفاقِ رواج و اتفاقِ عمل پایا جاتا ہے؟ اس حد تک کہ وہ قدر امت کی پہچان بن جائے۔ پوری امت خود بھی اس قدر سے خود کو وابستہ کرے اور دوسروں کے نزدیک بھی وہ ان کی پہچان اور شناخت کا ذریعہ بن جائے۔ ہمارے مشاہدے کے مطابق ایسی مزید کوئی اور قدر نہیں ہے۔جو چار قدریں ہیں ان کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور ان کے کمزور پہلو بھی واضح کیے ہیں۔ اسی لیے ہم نے اس بحث کی ابتدا اپنے اس مشاہدے اور احساس سے کی ہے کہ  ‘‘مرکزی قدروں کا نظام ہندوستان کی ملت اسلامیہ میں بہت کم زور ہے اور یہ ان کی کم زوری، ضعف اور پس ماندگی کا ایک اہم سبب ہے ’ ’۔

مذکورہ بالا مشاہدات اور ان سے مستنبط مذکورہ بیان کس حد تک صحیح ہے؟ ہماری خواہش ہے کہ ٹھوس زمینی مطالعات کی مدد سے اس کا پتہ لگانے کی کوشش کی جائے۔

مرکزی قدریں کیا ہوں؟

نومبر 2023کے کالم میں ہم نے اس سوال پر بھی بحث کی تھی کہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق مسلم معاشرے کی مرکزی قدریں کیا ہوسکتی ہیں۔ سورہ نحل کی آیت  إِنَّ اللَّهَ یأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَاءِ ذِی الْقُرْبَىٰ وَینْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْی ۚ یعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (اللہ عدل، احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی ،بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔النحل 90)کے مطابق عدل و احسان اور صلہ رحمی پر عمل، نیز برائی، بے حیائی اور ظلم وزیادتی سے گریز مرکزی قدریں ہیں۔مرکزی قدروں کے فہم کے لیے اس آیت کی طرف رجوع کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ اس آیت کریمہ کو متعدد اہل علم نے قرآن کے فلسفہ اخلاق کا خلاصہ قرار دیا ہے۔ [22] عمر بن عبد العزیز ؒ کے حکم سے یہ آیت خطبہ جمعہ کا حصہ بنادی گئی[23] اور یہ سلسلہ تب سے جاری ہے۔ ایمان، عمل صالح، صبر، شکر، توکل ، جہاد اور توبہ کو بھی قرآن کی روشنی میں ‘مرکزی اخلاقی قدریں ’ (core values) قرار دیا جاسکتا ہے۔امام غزالی ؒ کا حوالہ بھی سابق مضمون میں آچکا ہے کہ ان کے نزدیک اخلاق اصلاً تین قوتوں کے اعتدال کا نام ہے۔[24] قوت غضب، قوت شہوت اور قوت علم۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے اخلاق اربعہ کا بھی ذکر کیا گیا تھا جس سے اسلامی اخلاق کا جامع تصور ابھر کر سامنے آتا ہے۔ شاہ صاحبؒ کے مطابق طہارت (اندرونی و بیرونی پاکیزگی اور نفاست)، اخبات (خدا کے سامنے نیاز مندی اور عجز و انکسار) ،سماحت (بردباری، ضبط نفس اور اعتدال) اور عدالت (ہر معاملے میں عدل و انصاف) یہ چار نفسیاتی خصوصیات ہیں جو تمام اخلاقی محاسن اور اچھی رسوم کا منبع و سرچشمہ ہیں[25] شاہ صاحب کا بیان ہمارے خیال میں بہت جامع بیان ہے اوراس سے اسلام کی مرکزی قدروں کا بہت واضح تصور سامنے آتا ہے۔ بعض جزوی ترمیمات کے ساتھ ہم اسے اس طرح بیان کرنا چاہیں گے۔

اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ایمان ، محبت ، نیاز مندی اور مکمل اطاعت کا تعلق: اسے شاہ صاحبؒ نے اخبات کانام دیا ہے۔

صبر و شکر، توکل، بردباری اور ضبط نفس: شاہ صاحبؒ نے ان سب کا سماحت کے جامع عنوان کے تحت احاطہ کیا ہے۔ صبر اور شکر قرآن کے نہایت اہم عناوین ہیں اور وسیع معنی رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کا وضاحت سے ذکر ہم ضروری سمجھتے ہیں۔

اندرونی و بیرونی طہارت: شاہ صاحب کی تشریح کے مطابق اس میں عقیدے کی پاکیزگی، جذبات و خیالات کی طہارت، روح کی طہارت، جسم کی طہارت، نظافت کا اعلیٰ ذوق اور ماحول اور اطراف و اکناف کی طہارت سب کچھ شامل ہے۔

اعتدال و توازن: اسے شاہ صاحبؒ نے سماحت کے تحت بھی بیان کیا ہے اور عدالت کی تشریح میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اسلامی اخلاق میں اعتدال اور توسط کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ شہوت، غضب اور علم کا اعتدال امام غزالی ؒکے نزدیک مکمل اخلاق ہے۔اس لیے ہمارے نزدیک یہ بھی اساسی قدر ہے۔

اعتدال و توازن کی خصوصی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ہمارے دور کے تمام فتنے بے اعتدالی اور یک رخے پن ہی کا نتیجہ ہیں۔ہیگل نے اپنے مشہور جدلیاتی فلسفے (Hegelian dialectic) کے ذریعے ان بے اعتدالیوں کو نظریاتی جواز بھی فراہم کردیا ہے۔ مولانا مودودیؒ نے ہیگل کی جدلیات کو  ‘بدنصیبی کے دھکے ’ قرار دیا تھا جو  ‘انسانی زندگی کے صحیح ارتقا میں بار بار مانع ہورہے ہیں’[26]۔ اوپر یورپ، چین اور جاپان کی مرکزی قدروں کا جو جائزہ لیا گیا ہے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام معاشروں میں اصل بحران توازن و اعتدال کا بحران ہے۔ مادی ترقی پر توجہ ہے تو روحانی ضرورتیں نظر انداز ہیں۔ کہیں ایسی انفرادیت پسندی ہے کہ سماجی ذمہ داریاں پس پشت چلی گئی ہیں تو کہیں اجتماعیت اور سماج کے اجتماعی مفاد پر ایسا غیر معتدل زور ہے کہ فرد کی ضرورتیں اور اس کے تقاضے فراموش ہیں۔ کہیں ایجاد و اختراع پر توجہ نہیں ہے تو کہیں نظم و ڈسپلن کا فقدان ہے۔ اسلامی اخلاقیات تمام امور و معاملات اور انسان اور انسانی سماج کے متنوع تقاضوں کا متوازن احاطہ کرتی ہیں۔ اس لیے اعتدال بھی ایک اہم اور مرکزی قدر ہے۔

جہاد، محنت و مشقت اور جہد مسلسل: شاہ صاحب نے سماحت کی تشریح میں سخت کوشی اور محنت و مشقت کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔قرآن کے بیانیے میں اہل ایمان کی کوئی تصویر جہاد، امر بالعروف و نہی عن المنکر، قیام بالقسط وغیرہ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اس لیے ہم نے اس کو بھی شامل کیا ہے۔

عدل و قسط(عدالت): یہ شاہ صاحب کے اخلاق اربعہ کا بھی اہم عنوان ہے اور امام غزالی کے فلسفہ اخلاق میں بھی (قوت عدل) کو چار بنیادی اخلاقیات میں شامل کیا گیا ہے۔ عدل کی جو تشریح شاہ صاحب نے فرمائی ہے وہ ہمارے نزدیک اس اسلامی قدر کی بڑی خوبصورت اور جامع وضاحت ہے۔فرماتے ہیں: (ہم یہاں ‘رحمۃ اللہ الواسعہ’ کا ترجمہ نقل کررہے ہیں)

“ عدالت ایک ملکہ یعنی نفس میں راسخ کیفیت ہے جس سے منصفانہ نظام وجود میں آتا ہے۔  اس سے گھریلو زندگی، ملکی معاملات اور اس قسم کے دوسرے امور سنورتے اور سدھرتے ہیں۔ عدالت دراصل فطرت اور افتاد طبع ہے جس سے مفاد عامہ کے خیالات پیدا ہوتے ہیں اور وہ سیاسیات اور نظم و انتظامات ابھرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کے پسندیدہ نظام سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ یعنی عدالت محض اکتسابی صفت نہیں ہے۔ بلکہ وہ حقیقت میں جبلّت و فطرت انسانی ہے۔ عادلانہ اعمال سے اس کو تقویت ملتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ ملکہ بن جاتی ہے۔[27]

عدل کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:

متعلقات کے اختلاف سے عدالت کے بھی مختلف نام ہیں ۔

سلیقہ مندی اور شائستگی: انسان کے احوال، نشست و برخاست، سونا جاگنا، چال ڈھال، بول چال، لباس،پوشاک، وضع قطع یعنی بالوں کی تراش خراش میں عدالت ملحوظ رکھنے یعنی یہ سب کام شریعت کی ہدایت کے مطابق انجام دینے کا نام ادب یعنی سلیقہ مندی اور شائستگی ہے۔

کفایت شعاری: مال اور اس کے جمع و خرچ میں عدالت کے لحاظ کا نام کفایت شعاری ہے۔ عدل وانصاف یہی ہے کہ جائز طریقوں سے مال حاصل کیا جائے اور شریعت کے حکم کے مطابق خرچ کیا جائے ۔

حریت (آزادی) :گھریلو معاملات میں عدالت کے لحاظ کا نام حریت ہے ۔ فیملی لائف میں حدودشرعیہ کا خیال رکھا جائے تو کسی ممبر کو غلامی کا احساس نہیں ہوگا ۔ ہر شخص آزاد ماحول میں سانس لے گا۔

اسلامی سیاست: ملکی معاملات میں عدالت کے لحاظ کا نام اسلامی سیاست ہے۔ عدل و انصاف ہی سے ملک سنورتا ہے اور یہی اسلامی سیاست ہے۔

حسن معاشرت: قوم اور برادری کے ساتھ میل جول میں عدالت کے لحاظ کا نام حسن معاشرت ہے[28]۔

ان  ’مرکزی قدروں‘  کے حوالے سے ہندوستانی مسلمانوں کی کیا صورت حال ہے؟ آئیے اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں:

اس خاکے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت کی اخلاقی اصلاح کی کوششوں میں بعض بنیادی تبدیلیاں مطلوب ہیں۔ سب سے پہلی مطلوب تبدیلی ترجیحات کی تبدیلی ہے۔ بعض بڑی خرابیاں وہ ہیں جن کا تعلق امت کی مرکزی قدروں سے ہے اس کے باوجود ان پر اصلاحی جدوجہد کی بہت کم توجہ ہے۔ دوسری تبدیلی ٹارگیٹ گروپ کی تبدیلی ہے۔ بعض بڑی خرابیاں وہ ہیں جن کا تعلق امت کے خواص سے ہے۔ جب تک خواص میں اصلاح نہیں ہوگی ، اصلاح کا عمل عوام تک نہیں پہنچ سکے گا۔ تیسری تبدیلی اپروچ اور طریق کار کی تبدیلی ہے۔ اخلاقی احیا اور اخلاقی قدروں کے فروغ کا عمل جرأت و ہمت چاہتا ہے اور عوام  کی ناراضگی مول لینے کا حوصلہ چاہتا ہے۔ جس کی کمی اب ہمارے مصلحین میں عام ہے۔ تقریروں اور مواعظ میں اصلاح کا محرک کم اور عوام کی جانب سے تعریف و ستائش اور ان کے جذبات کی تسکین کا محرک زیادہ کارفرما ہوتا ہے جس کی وجہ سے مقرر بیماری بتانے اور اس کی اصلاح کرنے والے ڈاکٹر کا رول کم ادا کرتا ہے اور ان کی دل چسپی و تفریح اور جذباتی تسکین کا سامان کرنے والے انٹرٹینر کا رول زیادہ ادا کرنے لگتا ہے۔ اصلا ح معاشرہ کے منصوبہ بند طریقوں کو ہم اس سے قبل تفصیل سے زیر بحث لا چکے ہیں۔[32]

اگلی قسط امت کی تمکین وترقی کے اس سلسلے کی آخری قسط ہوگی جس میں ہم اب تک کی بحث کو سمیٹتے ہوئے امت کی تمکین و ترقی کا ایک عملی پروگرام اور ایک مربوط لائحہ عمل تجویز کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔

حواشی و حوالہ جات

[1] مغربی قدروں کے نظام کو خود مغربی مصنفین کے زبانی درج ذیل کتابوں کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے۔

Francis Fukuyama (2006) End of History and the Last Man. United Kingdom: Free Press,

Joseph Henrich (2020) The Weirdest People in the World: How the West Became Psychologically Peculiar and Particularly Prosperous. United Kingdom: Penguin Books Limited

[2] حوالہ سابق

[3] Daron Acemoglu,James Robinson; Why Nations Fail: The Origins of Power, Prosperity and Poverty. Germany: Profile Books

[4] Matt Ridley (2010) The Rational Optimist: How Prosperity Evolves. United States: HarperCollins.

[5] R.D.Putnam (2001) Bowling Alone: The Collapse and Revival of American Community. United Kingdom: Simon & Schuster.

[6] اس موضوع پر تفصیلی مطالعے کے لیے درج ذیل کتابوں سے رجوع کیا جاسکتا ہے

Tu, W. (Ed.). (1996). Confucian traditions in East Asian modernity:Moral education and economic culture in Japan and the four minidragons. Harvard University Press.

[7] Peter F. Druckerº Behind Japan ’s Success; in Harvard Business review (January 1981)

[8] David Pilla & Judith Kuriansky (2018). Mental Health in Japan: Intersecting Risks in the Workplace. Journal of Student Research. 7.10.47611/jsr.v7i2.509

[9] جاپان میں خودکشی کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو

Francesca Di Marco)2016),Suicide in Twentieth-Century Japan. United Kingdom: Taylor & Francis.

[10] Tamaki Saito (2013) Hikikomori: Adolescence Without End. United Kingdom: University of Minnesota Press.

[11] https://edition.cnn.com/2016/09/11/asia/japanese-millennials-hikikomori-social-recluse/index.html

[12] https://www.japantimes.co.jp/news/2019/03/29/national/613000-japan-aged-40-64-recluses-says-first-government-survey-hikikomori/

[13] Lai Chen (2016). The Core Values of Chinese Civilization. Switzerland: Springer Nature Singapore

[14] Ibid.

[15] De Mente, Boye(2011) Chinese Mind: Understanding Traditional Chinese Beliefs and Their Influence on Contemporary Culture. Japan: Tuttle Publishing.

[16] alery Kiselev and Varvara Chernykh (2017)The Spiritual Crisis of Modernity and Tu Wei-Ming ’S Concept of Self-Cultivation; in Advances in Social Science, Education and Humanities Research, volume 142; Atlantis Press

[17] Yan, Yunxiang (2020). The Individualization of Chinese Society. United Kingdom: Taylor & Francis.

[18] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات نومبر 2023 بحوالہ جودت سعید (1998) حتی یغیروا ما بانفسھم؛ موسسۃ الاھراء للنشر والتوزیع، قاھرہ؛

 

[19] مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (1979) انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر؛ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام؛ لکھنو

[20] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات؛ زندگی نو؛ نومبر 2021

[21] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات؛ زندگی نو؛ اکتوبر 2021

[22] ابی عبد الله القرطبی؛ الجامع لاحکام القرآن ۰تحقیق عبد اللہ بن محسن الترکی؛ الجزء ثانی عشر؛ موسسۃ الرسالۃ؛ بیروت؛ ص 411-416

[23]  محمد بن علی ابن الطقطقا ؛ الفخری فی آداب السلطانیہ والدول الاسلامیہ؛ دار صادر؛ بیروت؛ جلد اول؛ ص 129

[24] أبو حامد محمد بن محمد الغزالی، ربع المہلکات؛ دار المعرفة؛ بیروت؛ ص 53

[25] شاہ ولی اللہ الدھلوی (2005)حجۃ اللہ البالغۃ، دارالجیل، الجزءالثانی، ص :105

[26] مولانا سید ابوالاعلی مودودی (1975)تفہیم القرآن، جلد اوّل، مرکزی مکتبہ اسلامی؛ دہلی، ص 454

[27] شاہ ولی اللہ الدھلوی؛ رحمة اللہ الواسعہ شرح حجة اللہ البالغہ (شارح: مولانا سعید احمد پالن پوری)؛ جلد چہارم؛ زمزم پبلشرز؛ کراچی؛ ص 278-279

[28] حوالہ سابق ص 281-282

[29] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات؛ زندگی نو؛ستمبر2020

[30] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات؛ زندگی نو؛نومبر 2020

[31] سید سعادت اللہ حسینی (2018) اقامت دین کی شاہراہ؛ ہدایت پبلشرز نئی دہلی: ص98-107

[32] سید سعادت اللہ حسینی (2021) اصلاح معاشرہ، منصوبہ بند عصری طریقے؛ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز؛ نئی دہلی

مارچ 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau