نظم جماعت اور اس کے تقاضے

صلاح الدین شبیر

خواب ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہر شخص خواب دیکھتا ہے، نیند میں بھی اور بیداری میں بھی۔ کچھ خواب حقیقت بن جاتے ہیں اور بیشتر خواب کی کوئی تعبیر ہی نہیں نکلتی۔ لیکن چند ایک خواب ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ جب خواب مربوط ہو تو نظریہ سازی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اور جب خواب پراگندہ ہو تو پریشاں خیالی جنم لیتی ہے۔

نظریہ سازی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہے، فکر و عمل کے ہر گوشے میں جلوہ گر ہوتی ہے اور زندگی کو معنویت سے ہم کنار کرتی ہے۔ جب کسی فرد کا وجود اس خواب، نظریہ اور معنویت کا ترجمان بن جائے اور وہ دوسروں کو بھی اسی خواب، نظریہ اور معنویت کی بنیاد پر متحرک کرنے لگے تو ایسی تحریکیں جنم لیتی ہیں جو خواب کو سچ کر دکھاتی ہیں یا کم از کم ہزاروں لاکھوں لوگوں کو تبدیلی کی جدو جہد میں امنگوں اور حوصلوں سے ہم کنار کرتی ہیں۔

تحریک اور اجتماعیت

ایک ہی خواب کی تعبیر کے لیے سرگرداں ہم خیال افراد کی یکجائی سے تحریک ایک اجتماعی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کی اجتماعیت پسند فطرت نظم کی تشکیل کی طرف اپنا قدم بڑھاتی ہے۔ نظم کا تقاضا تحریک سے وابستہ افراد کے درمیان باہمی ربط و تعلق کی صورت گری کرتا ہے۔ اس تنظیمی صورت گری میں امر و اطاعت، فرائض و حقوق، اور تربیت و کردار سازی کے مخصوص سانچے وجود میں آتے ہیں۔

آئیے، اب یہ دیکھیں کہ ہمارا خواب کیا ہے؟ ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی زندگی مسرت اور طمانیت سے معمور ہو۔ اس کی سوچ، اس کے جذبات اور اس کی روح اضطراب سے دوچار نہ ہو۔ اس کی سماجی زندگی خوف و خطر سے محفوظ ہو۔ اس کی معاشی سرگرمیاں ضرورتوں کی تکمیل کر سکیں۔ دکھ، رنج اور خوف کا اندھیرا اس پر مسلط نہ ہو۔ سماج میں امن اور انصاف ہو۔ اس کا مستقبل روشن ہو اور ترقی کی راہیں ہم وار ہوں۔ یہ سادہ اور فطری خواہش ہر شخص کے اندر پائی جاتی ہے۔ یہی فطری خواہش جب خواب کی طرح کسی کے وجود پر چھا جائے تو اس کا دماغ اس خواب کی تعبیر کے لیے نظریہ سازی کے عمل میں مصروف ہو جاتا ہے تاکہ افراد کی شخصی اور اجتماعی زندگی کو ایک ایسے نظام سے مربوط کر سکے جس میں زندگی کے تمام پہلو ایک ہم آہنگ وحدت کا حصہ بن سکیں۔

ہمارا نظریہ

ہم جس خواب سے وابستہ ہوئے اس کی عملی تعبیر کا سرچشمہ اللہ کی ہدایت سے پھوٹتا ہے۔ ہدایت الہی کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اس طرح سنوار سکیں جس کی فطری طلب خواب کی صورت میں ہر شخص کے وجود میں پیوست ہے انسان کے ذاتی مفادات اور اس کی جبلی خواہشات اس کے فکر و عمل پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ زندگی کے انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے اس کا جھکاؤ کسی ایک طرف ہو جاتا ہے اور دوسرے بہت سے پہلو نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ بہت سے اسباب و عوامل جو زندگی کو متاثر کرنے والے ہیں اس سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ ہمارے وجود اور اس کائنات کے بے شمار حقائق جو زندگی کا رخ متعین کرنے والے ہیں ہماری عقل کے لحاظ سے پردۂ غیب میں ہیں۔ اس طرح کے بنیادی امور و معاملات پر رہ نمائی کے بغیر ہم محض عقل کے سہارے پورے نظام زندگی کو عدل اور توازن سے ہم کنار نہیں کر سکتے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اسی عدل و توازن کو برتنے، قائم کرنے اور برقرار رکھنے کا نام اقامت دین ہے۔ گویا ہدایت الہی کی روشنی میں زندگی سنوارنے کا نام ہی اقامت دین ہے۔ اقامت دین زندگی کا عظیم ترین مقصد ہے۔ اقامت دین اس مقصد کا نام ہے جس کے حصول کی کامل ترین کوششوں کا نمونہ صرف انبیائے کرام کی زندگی میں پایا جاتا ہے۔ ہم تو بس اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کے ساتھ ذمہ داری کی ادایگی کے لیے سرگرداں ہیں جو منشائے الہی سے دنیا میں بار آور ہوگی اور آخرت میں اس کی رحمت و مغفرت کی بنا پر فلاح سے ہم کنار کرے گی۔

نظریہ اور تنظیم

نظریہ کسی بھی تنظیم کی روح ہوتا ہے۔ نظریہ کے فروغ کے لیے ہی تنظیم وجود میں آتی ہے۔ اور نظریہ ہی کسی تنظیم کے خد و خال کی صورت گری کرتا ہے۔ ہمارا نظریہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اخلاقی اقدار اور الہی ہدایت کے مطابق سنوارنے اور مطلوبہ تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ اگر افراد اور جماعت کے اندر یہ آمادگی کم زور ہونے لگے تو تنظیم اور اس کے تقاضے بوجھ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے نظریہ کو دل و دماغ میں تازہ رکھنے اور بدلتے ہوئے احوال میں نظریاتی اساس کی معنویت پر افراد جماعت کو مطمئن رکھنے کی طرف سے غفلت نہیں برتی جا سکتی۔ خواہ نظریاتی منزل کتنی ہی دور، کٹھن اور صبر آزما ہو افراد جماعت کے اندر اس کی معنویت کو تازہ رکھنا ضروری ہے۔

تنظیمی قوت کے بنیادی عناصر

تنظیمی قوت کسی بھی تحریک کو آگے لے جانے کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے نظم جماعت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ ان چار بنیادی پہلوؤں کو ہمیشہ پوری اہمیت کے ساتھ پیش نظر رکھا جائے:

  • امر و اطاعت کا واضح نظام
  • نظم کے تقاضوں کا شعور
  • نظم کے تقاضوں کی خوش دلانہ ادایگی
  • تنوع میں یکجہتی کا مزاج

امر و اطاعت کا نظام: اگر امر و اطاعت کا نظام واضح نہ ہو تو جماعت اور بھیڑ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر صاحب امر اور مامورین کے درمیان تعلق، فیصلہ سازی اور فیصلوں کے نفاذ کا نظام، مختلف تنظیمی اکائیوں اور ان کی رہ نمائی کا طریق کار اور اجتماعی معاملات میں رونما ہونے والے فکری یا عملی اختلافات کے ازالہ کی راہ متعین نہ ہو تو تحریک کی وسعت پذیری بالآخر ایک ہجوم بے لگام کی شکل اختیار کر لے گی۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہماری تحریک کی منظم شکل جس جماعتی نظام پر استوار ہے اس میں ان تمام پہلوؤں کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور انھیں دستوری دفعات میں واضح اور متعین الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جو لوگ بھی اس تحریک سے وابستہ ہوئے ہیں انھوں نے اسی دستور کی پابندی کا عہد کیا ہے۔ لہذا! تحریک کے نظم کا بنیادی حوالہ ہمارا دستور ہے۔ اس کی پابندی یا اس سے انحراف ہی یہ طے کرتا ہے کہ ہم اس تنظیم کا حصہ ہیں یا نہیں ہیں۔

نظم کے تقاضوں کا شعور: اسی طرح نظم کے تقاضوں کا شعور جماعتی زندگی کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اگر امر و اطاعت کا نظام تو واضح ہو لیکن اس کی پابندی کا شعوری التزام نہ ہو تو جماعت سر پھروں کا نمونہ پیش کرنے لگتی ہے، کہ جب جی چاہا قافلہ کے ساتھ ہو لیے اور جب کوئی ترنگ اٹھی تو کسی بے نام رستے کی طرف بڑھ گئے۔ کبھی کبھی اسی پہلو سے غفلت کے نتیجے میں جانے انجانے جماعتی زندگی میں اختلال و انتشار کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جب لوگ دیکھا دیکھی اور عادتاَ نظم کی پابندی کرنے لگیں تو پورا امکان ہے کہ وہ بے شعوری میں اس نظم کے برخلاف طرز عمل کا بھی شکار ہو جائیں۔ اور اگر یہ غیر شعوری تلون مزاجی عادت کا جز بننے لگے تو نظم کی گرفت ڈھیلی پڑتے پڑتے انتشار کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ افراد جماعت نظم کے تقاضوں کو سمجھنے اور سمجھانے کا عمل جاری رکھیں۔

خوش دلانہ اطاعت

خوش دلانہ اطاعت جماعتی زندگی کو صرف مضبوط ہی نہیں کرتی بلکہ اسے حسین بناتی ہے۔ بظاہر اطاعت اور خوش دلی دو متضاد رویے ہیں۔ لیکن ان متضاد رویوں کو جو بات باہم دگر پیوست کرتی ہے وہ محبوبیت اور انشراحیت کا عنصر ہے۔ صاحب امر سے محبت یا حکم پر انشراح صدر خوش دلانہ اطاعت کی بنیاد ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اپنے ہی جیسے کسی فرد کی اطاعت ہمیشہ خوش دلانہ ہو ضروری نہیں جب تک صاحب امر کی اطاعت کو رضائے الہی سے وابستہ نہ رکھا جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مامورین اطاعت امیر کو رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ سمجھیں اور یہ سمجھنا ہماری شعوری مشق کا تقاضا کرتا ہے۔ کبھی بھول چوک بھی ہوگی لیکن ہوش آتے ہی دل ہی دل میں اطاعت امیر کے جذبے کو رضائے الہی کی طلب سے سیراب کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ دوسری طرف صاحب امر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مامورین میں اطاعت کے لیے انشراح صدر کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اس کوشش کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر بڑے چھوٹے امر کی معقولیت واضح کرتا رہے۔ ظاہر ہے ہر حکم کی معقولیت کے لیے دلیل دینے کا عمل طویل ہوگا۔ اس لیے جن احکام میں کسی الجھن کا امکان ہے اسے دیتے ہوئے متوقع الجھنوں کا ازالہ کرنا چاہیے اور حکم میں اپیل کی چاشنی ہونی چاہیے تاکہ وہ مامورین کی قلبی کیفیات پر اثر انداز ہو۔

تنوع میں ہم آہنگی

آخری چیز جو نظم جماعت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے وہ ہے تنوع میں ہم آہنگی۔ انسان کی اجتماعی زندگی کا یہ بڑا ہی کٹھن مرحلہ ہے، ایک بڑا چیلنج۔ یکساں طبیعت و مزاج، یکساں عادات و اطوار اور یکساں فکری اور اخلاقی سطح کے حامل شاید دو چار افراد کی اجتماعیت کا تصور تو کیا جا سکتا ہو لیکن کسی عوامی تحریک میں تو یہ محال ہے۔ انسانی خصوصیات کے اس تنوع پر مشتمل کسی منظم تحریک کا منظم رہنا صرف فکر و عقیدہ اور نصب العین و طریق کار کی یکتائی سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جماعت سے وابستہ افراد میں تہذیب نفس کی مسلسل کوشش کی جائے۔ انھیں باہم دگر ایک دوسرے کی سمجھ بھی ہونی چاہیے اور انھیں ایک دوسرے کے ساتھ نباہ اور ایڈجسٹ منٹ کا ہنر بھی آنا چاہیے۔ انسانی رویوں کا فہم (understanding human behaviour) مشکل ضرور ہے لیکن اس کے بغیر اجتماعی زندگی گزارنا بھی ممکن نہیں۔ جماعت اور تنظیم تو چھوڑئیے خاندانی نباہ بھی مشکل ہے۔ اس مشکل کا حل شعوری طور پر دو عملی رویوں کو اپنی زندگی میں شامل رکھنے کی کام یابی پر منحصر ہے: اوّل کسر و انکسار اور دوم عفو و درگذر۔

دستور جماعت اور تنظیمی ڈھانچہ

جماعت کا دستور ہماری تنظیمی ہیئت کا واضح خاکہ پیش کرتا ہے۔ اس نظام میں مقصد، طریق کار، نظام امر و اطاعت، اس نظام سے انحراف کی صورتیں اور انحرافی طرز عمل کی درستی کے لیے بنیادی طریق کار متعین ہے۔ ہم شعور کے ساتھ اس نظام سے وابستگی کا عہد کرتے ہیں جس کی پاسداری لازم ہے۔ اگر بعد میں شعوری طور پر ہمیں اس نظم جماعت سے اس درجہ کا اختلاف ہوجائے کہ اس کے ساتھ چلنا ممکن نہ رہے تو علحدگی کی باوقار گنجائش اور طریق کار بھی موجود ہے۔ لیکن اس نظام میں رہتے ہوئے اپنے اختلافی فکر و رجحان کی بنا پر اس نظام کو کم زور کرنا کسی معقولیت پسند شخص کے لیے زیبا نہں۔ ہمارے نظام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اختلاف کے اظہار اور اجتماعی رائے کے بالمقابل انفرادی رائے رکھنے، اسے پیش کرنے اور اس رائے کو اجتماعی قبولیت کے مقام تک پہنچانے کا ایک معقول طریق کار موجود ہے۔ اختلاف اور ذاتی رائے کو وہاں پیش کرنا جو اجتماعی فیصلہ کا مقام نہ ہو ایک لاحاصل شغل ہے۔ علمی اختلاف رائے کو علمی مجلس میں پیش کرنا اور عملی سرگرمیوں سے متعلق اجتماعی فیصلوں کو فیصلہ سازی کی مجلس میں چیلنج کرنا ہی معقول رویہ ہو سکتا ہے جس کی پابندی کرنی چاہیے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ اختلافی رائے رکھتے ہوئے اجتماعی فیصلوں کی پابندی کرنا نظم جماعت کا بنیادی تقاضا ہے۔

تنظیمی تقاضے اور انفرادیت پسندی

تنظیمی تقاضوں کی ادایگی میں سب سے بڑی رکاوٹ انفرادیت پسندی کے فطری رجحان کا خود داری کے بجائے خود پسندی کے رخ پر مڑ جانا ہے۔ خود داری اور خود پسندی کے درمیان فرق پر نگاہ رکھنا ضروری ہے۔ انسان کی انفرادیت پسندی کو کچلنا اجتماعیت پسندی کا مقصد نہیں ہو سکتا۔ یہ تو انسان کا اصل جوہر ہے۔ اس کی حفاظت اور صحیح رخ پر نشو و نما ہر شخص کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اجتماعیت میں احتساب کا نظام انفرادیت پسندی کے فطری داعیہ کو کج روی سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن خود احتساب کا عمل خیر خواہانہ جذبہ اور نرم اسلوب کا تقاضا کرتا ہے۔ اعتدال کا رویہ ہی اجتماعی زندگی کو متوازن رکھتا ہے۔

مارچ 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau