تحریک اسلامی کے لیے نکات غور وفکر

خرم مرادؒ

(تحریک اسلامی کے بزرگ رہنما خرم جاہ مرادؒ کی خود نوشت لمحات دور حاضر میں تحریک اسلامی کے سفر کی ایک اہم روداد بھی ہے، اس میں جا بجا کاروان دعوت وعزیمت کے لیے روشن نقوش ہیں، ہم نے اس کتاب کے ایسے کچھ اقتباسات کا انتخاب کیا ہے، جو تحریک کے افراد کو دعوت غور وفکر دیتے ہیں۔ ہمیں امید ہے یہ تحریر تحریک اسلامی میں غور وفکر کے عمل کو مہمیز لگائے گی۔ادارہ)

جماعت کا احترام

جماعت اسلامی میرے نزدیک ایک مسجد کی طرح محترم ہے۔ اس کی کسی اینٹ کا بھی سرکانا یا اس میں دراڑ ڈالنا ایسا کام ہے، جس کی ذمہ داری نہ میں نے پہلے کبھی لی ہے اور نہ اب لینا چاہوں گا۔ عمر بھر یہی کوشش کرتا رہا ہوں کہ جماعت کو اگر کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں تو کم از کم میری ذات سے، میرے کسی قول اور فعل سے اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ (ص ۲۹،۳۰)

اہل اسلام میں پھوٹ کیوں؟

یہاں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ’’جو لوگ کفر کے لیے کام کر رہے ہیں وہ کتنےبڑے بڑے اختلافات کو بھلا کر عظیم تر قومی اور دنیاوی مقاصد کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور حصول مقصد تک اکٹھے رہتے ہیں۔ روس، امریکا، برطانیہ جیسے متحارب ممالک بھی جرمن حکمران ہٹلر (م:۱۹۵۴ء) کے خلاف اکٹھے رہے، حالاں کہ یہ بڑے بڑے ممالک تھے اور ان کی اپنی اپنی پالیسیاں تھیں۔ یہ معاشی اور سیاسی مفادات کی جنگ میں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ لیکن پھر بھی یہ اکٹھے ہوئے۔ یہاں آج بھی سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ قومی مقاصد کے لیے سب پارٹیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ حالاں کہ وہ محض اقتدار کے لیے جنگ ہوتی ہے۔ ان کی آرا میں اور پالیسی میں بھی بنیادی قسم کا اختلاف ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ وہ تو کفر کے لیے اکٹھے رہتے ہیں مگر اخروی زندگی میں نجات پانے کے امیدوار اور اللہ کی رضا حاصل کرنے والے آخر کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں پھٹ پڑتے ہیں؟‘‘ (ص ۲۳۵)

خوب اختلاف ، مگر اجتماعی فیصلے پر عمل پیرا

مولانا مسعود عالم ندوی صاحب کہنے لگے کہ ’’ہر شوریٰ میں میں لیڈر آف دی اپوزیشن ہوتا ہوں، اور عموماً میری رائے مولانا مودودی کی رائے کے خلاف ہوتی ہے۔ ’قرردادِ مقاصد‘ کے بارے میں مجھےشدید ذہنی تحفظات تھے، مگر اس بارے میں مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اپنی رائے منوا رہے ہیں‘‘۔ پھر فرمایا کہ ’’بحث میں ہمیشہ میں ہی ہارتا ہوں اور مولانا مودودی ہمیشہ جیتتے ہیں اور انھیں جیتنا ہی چاہیے۔ اس لیے کہ لوگ ان کی دعوت پر جمع ہوئے ہیں اور میں ان کے اس داعیانہ مقام کو بھی پہچانتا ہوں، لیکن یہ کہ جس دن میں اس بات پر اصرار کروں گا کہ نہیں میری ہی رائے چلنا چاہیے، باوجود اس کے کہ جماعت میں میری رائے نہ مانی جائے یا میں ہار جاؤں، مگر میں اپنی بات پر اڑ جاؤں، اس دن جماعت میں انتشار پیدا ہو جائے گا، ہو سکتا ہے کہ اس کے دو ٹکڑے ہو جائیں، اس لیے تم یاد رکھنا کہ بہر حال بات پوری دلیل سے کرنا، مگر جماعت جو فیصلہ کر لے اس سے خواہ مخواہ ٹکرانے کی کوشش نہ کرنا۔‘‘ ان کے کہنے کا مطلب یہی تھا کہ ’’رائے کچھ بھی رکھو، اس کو مناسب پیرائے میں بلا کم و کاست پیش کرو، خواہ لیڈر آف دی اپوزیشن رہو، لیکن یہ کہ ہار جاؤ تو پھر بھی جماعت کو اس رائے پر چلنے دو، جس رائے کو جماعت قبول کر لے۔‘‘ (ص ۲۱۱)

رابطہ مخالفوں سے بھی برقرار

میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں سے انسانی اور سماجی بنیادوں پر اچھے تعلقات رہ سکتے ہیں اور رکھنے بھی چاہیں ۔ یہ چیز دعوتِ دین کے نقطۂ نظر سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی گروہ سے مکمل مقاطعہ کرنا، یا اس کا ہمیشہ کے لیے سوشل بائیکاٹ کر دینا، کوئی کارنامہ نہیں، بلکہ ایک نوعیت کی پسپائی ہے۔ اس لیے بعد میں جب میں ڈھاکے میں تھا، تو عوامی لیگ کی جانب سے شدید دشمنی کے باوجود، شیخ مجیب الرحمٰن اور ان کی پارٹی کے چار پانچ افراد سے میرے اچھے تعلقات تھے اور یہ تعلقات میں نے خود شعوری طور پر بڑھائے تھے۔ (ص ۲۵۴)

کارکنوں کو پوری طرح شریک کریں

جب ذمہ داری میرے کندھوں پر آگئی تو میں نے اپنے مزاج اور عادت کے مطابق یہ سوچا کہ اس کام کو بڑھانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ سب سے پہلا طریقہ یہ اختیار کیا کہ سوچنے ، کام پھیلانے، بیت المال کے معاملات کو مستحکم کرنے، گویا کہ ہرہر چیز میں سارے کارکنان کو شریک کیا جائے۔ یہ ایک بنیادی نوعیت کا فیصلہ تھا۔ اس سے قبل مقام کی سطح پر جماعت میں اس طرح کام کرنے کا تجربہ مجھے نہیں ہوا تھا۔ ویسے بھی مجھے اندازہ ہوا، کہ مشرقی پاکستان کے لوگ عام طور پر فراخ دل ہیں۔ مغربی پاکستان میں مجھے محسوس ہوا، کہ یہاں پر رکن اور غیر رکن کے درمیان تو بڑی سخت تقسیم ہے۔

جب میں ۱۹۸۷ء میں لاہور آیا تو یہ دیکھ کر سخت پریشانی ہوئی کہ لوگ فورا ایک دوسرے یہ پوچھتے ہیں کہ آپ رکن ہیں یا نہیں؟ گویا کہ رکن کے علاوہ کسی پر اعتماد کرنا، بھروسا کرنا، ذمہ داری دینا، بڑا مشکل سمجھا جاتا ہے۔ اکثر معاملات مقامی شوری کے سامنے ہی رہتے ہیں، جو بلاشبہ ارکان ہی کے منتخب کردہ ہوتے ہیں۔ ۷۵ فی صد ارکان کو براہ راست پتہ نہیں چلتا کہ بیت المال میں کیا ہے، وہ کتنی مشقت سے جمع ہوا اور کس طرح خرچ کیا گیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ بہر حال میں نےیہ فیصلہ کیا کہ کارکن کو کام کی بنیاد بنایا جائے۔(ص ۲۸۳)

کاموں کی تفویض کے اصول

اجتماعی زندگی کے لیے میں نے کچھ اصول بنائے تھے۔ ایک یہ کہ سارے کام میں خود نہیں کر سکتا۔ اس لیے جس ساتھی کو میں نے قیم بنا لیا تھا، کام اس کے سپرد کر کے بے فکر ہو جاتا تھا۔ بے فکر ان معنوں میں کہ خبر تو لیتا رہتا تھا۔ تا کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے سر پر سوار رہنے والی بات نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ جس فردکو جتنا کام دیا جائے اس کو اتنا اختیار بھی دیا جائے۔ تیسرا یہ امکان کہ وہ کام خراب بھی کرے گا یا پھر اتنا اچھا نہیں کرے گا، جتنا میں اپنے اس زعم میں رہوں کہ اگر خود کر لیتا تو ہو جاتا۔ مگر اس میں حقیقت پسندی کا یہ تقاضا بھی پیشِ نظر رہتا کہ ٹھیک ہے، دوسرا فرد کرے گا تو شاید کچھ کم درجے کا کرے گا، لیکن اس سے میرا وقت بھی تو بچے گا۔ اس لیے میں فرد کو کام، اختیار کے ساتھ دیتا یعنی delegate ]تفویض[ کرتا۔

اگر کسی فرد کو محض اپنی بتائی ہوئی لائن سے سرِ مو ہٹنے کا اختیار نہیں دیا جائے گا، تو ممکن ہے وہ آپ کی مرضی کو پورا کرے۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوگا کہ اس فرد میں اعتماد، حریتِ فکر اور ندرتِ خیال کبھی پیدا نہ ہو سکے گی۔ کسی فرد کی خود اعتمادی کا ختم ہونا، یا خود اعتمادی کو ختم کرنا میرے نزدیک تحریک میں کسی کام کے کم تر ہونے یا نہ ہونے سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ یہاں مغربی پاکستان آ کر دیکھا کہ لوگ کام سپرد کر کے اپنا دخل بھی رکھتے ہیں، اختیار نہیں دیتے، پھر جواب طلب کرتے ہیں۔ بہت بعد میں یہ چیزیں میں نے انتظامیات اور نفسیات کی کتب میں پڑھیں، لیکن اس سے قبل ان کو اختیار کر کے فائدہ مند پایا۔

ساتھیوں پر تنقید کا سلیقہ

اسی طرح اپنے ساتھ کام کرنے والے قیم کو اجتماعِ عام میں، دوسروں کے سامنے کبھی تنقید کا نشانہ نہیں بناتا تھا۔ بلکہ ان کی کسی کوتاہی یا سستی کے باوجود جواز تلاش کرتا تھا۔ اس کے برعکس تنہائی میں سمجھاتا ضرور تھا کہ یہ غلط ہے۔ اس چیز سے براہِ راست معاونت کرنے والے لوگوں کی ہمتیں بندھی رہتی ہیں اور دوسرے لوگ اچھی طرح کام کرتے ہیں۔ جو کام جن افراد کے سپرد کرتا، وہ خوشی سے کر دکھاتے تھے۔ میرے نزدیک یہ بات شخصی مروت اور احترام کے سراسر منافی ہے کہ کسی کو میں نے کام کے لیے اپنا نمائندہ بنایا اور اگر کوئی دوسرا بے وجہ اس کے پیچھےپڑ جائے، تو میں بھی دوسروں کے سامنے اس کے پیچھے پڑ جاؤں۔ لوگوں کی عزتِ نفس کا لحاظ رکھنا، ان کو مناسب مقام دینا اجتماعیت اور شرفِ انسانی کی بڑی ضرورت ہے۔ (۲۹۷)

مختصر تقریروں کا فن

پلٹن میدان کے مذکورہ جلسے کا ایک دلچسپ واقعہ مجھے اب تک یاد ہے، جس سے ہماری جماعت کے طرزِ خطابت یا عام جلسوں میں اظہار و بیان پر روشنی پڑتی ہے۔ جب یہ جلسہ ہوا تو پورا پلٹن میدان کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، واقعی بڑا شان دار جلسہ تھا۔ باقی لوگوں کے ہمراہ میں بھی اسٹیج پر موجود تھا۔ طے شدہ قاعدے کے مطابق سب کو پانچ پانچ منٹ بولنا تھا۔ جب غلام اعظم صاحب بولنے کے لیے آئے تو انھوں نے جماعت کے روایتی انداز میں تقریر کی۔ جس میں سب سے پہلے ایک تمہید ہوتی ہے، پھر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے، اس کے بعد دلائل اٹھائے جاتے ہیں اور پھر جا کر کہیں اپنے بات کہنے کا موقع آتا ہے۔ جلسۂ عام میں آدھا گھنٹہ، پون گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ، دو گھنٹے کی تقریریں مولانا مودودی کیا کرتے تھے۔ ان کے لیے جواز فراہم کیا جا سکتا تھا، لیکن یہی اسٹائل جماعت کے باقی مقررین نے بھی اپنایا، جس کا کوئی جواز نہ تھا۔ یہاں پر متعین طور پر صرف پانچ منٹ ملے تھے۔ غلام اعظم صاحب پانچ منٹ میں ابھی تمہید بھی نہیں ختم کر سکے تھے کہ ان کا وقت ختم ہو گیا۔ کیوں کہ وقت کی سخت پابندی تھی اور چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں برابری کی سطح پر تھیں، اس لیے غلام اعظم صاحب کو اپنی پوری بات کہے بغیر ڈائس چھوڑنا پڑا۔

لیکن ان کے برعکس شیخ مجیب الرحمٰن نے پانچ منٹ کے اندر پورے مجمع میں گویا برقی رو دوڑا دی۔ ان کی آواز بھی تقریر کے لیے بڑی موزوں تھی۔ انھوں نے آتے ہی پہلی بات یہی کہی کہ ’’ایوب خان سن لو کہ اب تمھاری پتنگ کٹ چکی ہے۔‘‘ مجیب نے جس جوش و جذبے سے یہ بات کہی، اس سے مجمع کھڑا ہو گیا۔ پھر پانچ منٹ میں مزید چار پانچ باتیں کہیں اور پورے مجمع پر گہرا نقش چھوڑتے ہوئے شیخ صاحب ڈائس چھوڑ کر چلے گئے۔ مولوی فرید احمد صاحب نے بھی پانچ منٹ میں اچھی مؤثر تقریر کر لی۔ اسی طرح باقی مقررین نے اپنا وقت خوب نبھایا۔ اس جلسے سے قبل میں نے کبھی اس پہلو پر نہیں سوچا تھا، لیکن اس واقعے کے بعد سے یہ بات میرے دل میں رہی ہے کہ ہم لوگ مختصر اور مؤثر تقریر کرنے میں دوسروں کی نسبت اب بھی بہت پیچھے ہیں۔ (ص ۳۴۴)

جماعت سے اخراج کا مسئلہ

جماعت میں لوگوں کو یہ مسئلہ بار بار پیش آتا ہے کہ جس فرد کے خلاف نظم تادیبی کارروائی کر چکا ہو، مستقبل میں اس فرد کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ اس کو کونے میں لگا دیا جائے، یا کوئی مقام دیا جائے، یا نہ دیا جائے؟ دستور اور روایت میں تادیبی کارروائی کی گنجائش کے باوجود میں بنیادی طور پرکسی ساتھی کے خلاف انتہائی کارروائی کرنے کے خلاف ہوں، اِلّا یہ کہ بالکل ہی ناگزیر ہو جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ رکنیت کا جو تصور ہمارے یہاں ہے، وہ ہمیں ایسی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ رسول اللہ ﷺکے دورِ پُر سعادت میں جائیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ کسی کا اخراج نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ ان کی جانب سے اخراج کا مطلب اسے کافر قرار دینا تھا۔

ہم یہ بات اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں کہ جماعت کے اندر آنا ہی کسی فرد کے مسلمان ہونے کی بنیاد نہیں ہے اور نہ کسی فرد کا جماعت سے جانا کفر کے مترادف ہے، اسی لیے ہم لوگوں کا جماعت سے اخراج کر سکتے ہیں، لیکن بہر حال یہ ایک دینی اور جماعتی تنظیم ہے۔ جب ہم ایک فرد کو نکالتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ہم اسے جماعتی زندگی سے بری کر رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب تک آدمی فتنے پر تلا ہوا نہ ہو، اس وقت تک ہمیشہ اس کی اصلاح کا موقع موجود ہوتا ہے۔ احسن طریقہ یہ ہے کہ اس فرد کی کم زوریوں، خامیوں، خرابیوں بلکہ فتنوں کو بھی برداشت کر لیا جائے۔ (ص ۳۹۹)

پردے کے پیچھے سے خواتین سے خطاب

اب بھی پردے کے پیچھے سےخواتین کے سامنے خطاب ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر لڑکیاں حجاب میں ہوں، تو اس طرح سے پردے کے پیچھے بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر مسجد نبوی میں خطاب ہوتا ہی ہوگا، جس میں عورتیں حجاب میں ملبوس ہو کر مجلس میں بیٹھتی ہوں گی۔ عید کی نماز کا بھی ذکر ہے کہ آنحضور ﷺمردوں سے خطاب کر کے پھر عورتوں کی طرف گئے، ان سے بھی خطاب کیا اور ان کے بیچ میں پردہ نہیں حائل ہوگا۔ ان چیزوں میں اپنے معیار اور دینی عمل کا لحاظ رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔

ہمارے یہاں پردے کے پیچھے سے خطاب معروف ہے۔ اس میں فائدہ رہتا ہے اور نقصان بھی ہوتا ہے۔ فائدہ تو یہ رہتا ہے کہ آدمی کے اوپر کسی قسم کا بھی موڈ ہو، کوئی پروا نہیں۔ جب تک آواز اپنے قابو میں ہے، بات ٹھیک جاری رہتی ہے، البتہ جب سامعین سامنے بیٹھے ہوں تو پھر ہر حرکت پر قابو رکھنا پڑتا ہے۔ چہرے کے تاثرات اور ہاتھ کے اشاروں تک کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر مقرر کا سامعین سے براہِ راست ربط نہ ہو تو اس میں ایک مشکل پیش آتی ہے۔ میں ان مقررین میں سے ہوں کہ جو سامعین سے ربط رکھتے ہیں اور سامعین کے رد عمل سے اپنی تقریر میں برموقع تبدیلی کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ اگر سامعین بور ہو رہے ہیں تو بات مختصر کر دیں۔ اگر یہ محسوس ہوا کہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تو اس کو آسان کر دیا۔ یہ نہیں کہ جو طے کر کے آئے ہیں کہ بولنا ہے، وہی بول کے رہیں گے۔ میرا تقریر کا یہ انداز نہیں رہا۔ سامعین کا رد عمل مقرر کی تقریر میں تفہیم، تسہیل، روانی اور زورِ خطابت پید کرنے کا باعث بنتا ہے۔ (ص ۱۱۱)

فیشن ایبل سماج میں تحریکی نفوذ

کالونی کی ایک گلی سے گزرتے ہوئے مجھے ایک مکان نظر آیا، جہاں بکرا لٹکا ہوا تھا اور کھال اتر چکی تھی۔ ایک بے پردہ اور بنی ٹھنی خاتون وہاں کھڑی تھیں۔ انھیں دیکھتے ہی میں نے یہ سمجھ لیا کہ یہاں سے تو کھال نہیں ملے گی۔ جوں ہی میں آگے بڑھنے لگا تو انھوں نے مجھے آواز دی اور پوچھا: ’’آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’جماعت اسلامی کی طرف سے۔‘‘ کہنے لگیں: ’’یہ کھال آپ کی جماعت ہی کے لیے رکھی ہوئی ہے، اسے لے جائیں‘‘۔

اگر چہ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا، لیکن میں اس واقعے پر اسی دن سے مسلسل سوچ بچار کرتا رہا ہوں۔ وہ لوگ اور خاص طور پر وہ خواتین جو بظاہر مغرب زدہ دکھائی دیتی ہیں، یا جو فیشن ایبل ہیں، بہر حال ان میں سے بھی ایک قابلِ ذکر تعداد ایسی ہے، جن کے اندر نیکی اور ہم دردی کے احساسات موجود ہیں، جن کو اگر ہم اللہ کے دین کے لیے اپیل کریں تو ان سے کام لے سکتے ہیں۔ اس طرح یہ خواتین بھی دین کے لیے کچھ نہ کچھ اور تھوڑا بہت کام کر سکتی ہیں۔

فروری 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau