طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان تعمیری مساعی

مولانا سید جلال الدین عمری

ماہ فروری ۲۰۱۸ء میں  دہلی میںمسلم طلبہ اورنوجوانوں کی کل ہند تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (S.I.O.) کی کل ہندکانفرنس منعقد ہوئی ۔ اس کے ایک اجلاس میں مولانا سید جلال الد ین عمری امیر جماعت اسلامی ہند نے طلبہ سے مختصر خطاب کیا ۔ انہوںنے طلبہ اورنوجوانوں کو ان کی ذمے داریاں یاد دلائیں اورطلبہ تنظیم کے مقاصد اورطریقۂ کار کی یاد دہانی کرائی ۔ افادیت کے پیش نظر مولانا کا خطاب آئندہ سطور میں پیش کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)

بعد حمد وصلوٰۃ ۔

مسلم طلبہ اورنوجوانوںکے اس عظیم اجتماع کے انعقاد پر   ہم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرتے ہیں۔ باحوصلہ نوجوانوں کودیکھ کر دل میں خوشی اورمسرت کے بے پایاں جذبات موج زن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ نوجوان اسلامی فکر کے حامل ہیں ۔ ایک صالح اجتماعیت کے تحت جمع ہیں اور اپنی سیرت کی تعمیر کرنا چاہتےہیں اس کے ساتھ ملک وملت کی فلاح وترقی ان کے پیش نظر ہے۔ وہ دنیا اور آخرت میں بہتر مستقبل کے لئے کوشاں ہیں ۔  یہ نوجوان سوسائٹی کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کی صلاحیتوںسے ملک وملت کوفائدہ اُٹھانا چاہئے۔

اس کانفرنس میں ملت کے قائدین اوربرادران وطن کے معروف مفکرین واسکالرس بھی شریک ہورہے ہیں ۔ امید ہے پروگرام کی کارروائی سے ملک کی صورت حال واضح ہوگی مستقبل کا نقشہ بھی سامنے آئے گا اور عمل کی راہوں کی نشان دہی ہوسکے گی۔

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (S.I.O.) ہمارے اس وسیع ملک میں مسلم طلبہ کی سب سے بڑی تنظیم ہے ۔ یہ تنظیم پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہےاور بیش تر ریاستوں میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔ اس وقت شمال کی ریاستوں کے تمام ارکان اورہمدرد اورجنوب کی ریاستوں کے نمائندے ہزاروں کی تعداد میں مرکز جماعت اسلامی ہند کے کیمپس میں جمع ہیں۔ میں اپنی طرف سےاورجماعت اسلامی ہند کی طرف سے ان سب نوجوانوں کا دل سے خیر مقدم کرتا ہوںجو دور دراز کا فاصلہ طے کرکے ملک کے سارے علاقو ں سے اس کانفرنس میں شریک ہورہے ہیں۔

اس وقت ملک کو ایک بڑے مسئلے کا سامنا ہےیعنی نوجوان نسلکی بے سمتی یہ توجہ طلب مسئلہ ہے۔ آج جوطلباء کالجوں اوریونیورسٹیوں میں زیر ِ تعلیم ہیں، ان کے ہاتھوں میں آئندہ ملک کی زمام کا ر ہوگی اوروہ مختلف عہدوں اورمناصب پر فائز ہوں گے لیکن افسوس ہے کہ ان کے سامنے زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد نہیں ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ تعلیم کا مقصد بہتر شہری بنانا ہے ، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم دینے والے اورتعلیم پانے والے ، دونوں ہی اس مقصد سے غافل اور بے خبر ہیں ۔ نتیجۃً پورا تعلیمی نظام بے سمتی کا شکار ہے ۔ بہت سے طلبہ سوچے سمجھے بغیر بڑی آسانی سے تخریبی سرگرمیوں میں ملوّث جاتے ہیں ۔ توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی ان کا مزاج بنتا جارہا ہے ۔ اس ملک کی سوسائٹی متنوع Plural ہے ۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے بستے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان کے درمیان دوری ، نفرت اوربیجا عداوت پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ اس فضا سے تعلیمی ادارے بھی متاثر ہیں۔ نوجوانوں میں جنسی آوارگی عام ہے۔ خواتین اورطالبات کی ناموس اور عصمت غیر محفوظ ہے ۔ ان کے ساتھ دست درازی اور بدکاری Rape کے واقعات روزبروز بڑھتے جارہے ہیں ۔ اس اخلاقی زوال کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں ۔ لیکن  ان اسباب کا ازالہ ہونا چاہیے۔ افسوس ہے کہ سماج کے کسی ادارے کو اصلاحِ حال کی فکر نہیں ہے ۔ سیاسی پارٹیاں طلبہ کواپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کی فکری اور اخلاقی اصلاح کی کوئی فکر نہیں کرتیں۔

ہمیں خوشی ہے کہ ان حالات میں S.I.O. نوجوانوں اورطلبہ میں اخلاقی زوال کودور کرنے کے لیے کوشاں ہے اور ان میں دینی اوراخلاقی روح بیدار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ اس نے دعوت دی ہے کہ پیغامِ حق پر طلبہ اور نوجوان سنجیدگی سے غور کریں ۔ طلبہ کوافہام وتفہیم کے عمل کو جاری رکھنا چاہیے او ر باہمی اختلافات کوسنجیدہ غور وفکر کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ تنظیم تعلیمی اداروں کے کیمپس میں طلبہ کے جائز مسائل کوبھی پیش کرتی ہے اورانہیں حل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوتو اس کے خلاف آواز اُٹھاتی اوراحتجاج کرتی ہے۔ وہ جبرو ظلم اورنا انصافی کے خلاف صف آرا نظر آتی ہے ۔ نوجوانوں کے درمیان اس طرح کی اخلاقی تحریک کا وجود در حقیقت اسلام کی دَین ہے ، جو انسانوں کوظلم وستم سے باز آنے کی تلقین کرتا ہے ۔ بے ضابطگی اورہنگامہ آرائی کی جگہ مثبت اور تعمیری رجحان کوفروغ دیتا ہے اورامن انصاف کی فضا قائم کرنے کی ہدایت کرتا ہے ۔اس تنظیم S.I.O. کا قیام پاکیزہ اوربلند مقاصد کے لیے ہوا ہے ، جن کا ذکر اس کے دستورمیں موجود ہے۔ بنیادی مقاصد یہ ہیں:

۱۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق صالح سماج کی تشکیل۔

۲۔ طلبہ اورنوجوانوں کومعروف کے فروغ اورمنکر کے ازالہ کے لیے تیار کرنا۔

۳۔  نظام تعلیم میں اخلاقی اقدار کی شمولیت کی سعی اور تعلیمی اداروں میں بہتر اخلاقی ماحول کوفروغ دینا ۔

یہ تنظیم اسلامی تحریک کی علمبردار ہے ۔ چنانچہ اس کا طریقۂ کار اسلامی اصولوں کے مطابق ہے ۔ طریق کاریوں بیان کیا جاسکتا ہے :

(الف) تنظیم کی اصل رہ نما اور اساسِ کار قرآن وسنت ہوگی۔

(ب) تنظیم اپنے کاموںمیں اخلاقی حدود کی پابند ہوگی۔

(ج) تنظیم اپنے اغراض ومقاصد کے حصول کے لیے پُرامن اورتعمیری طریقے اپنائے گی ۔ تعلیم و تلقین اورنشرو اشاعت کے معروف ذرائع اختیار کرے گی اور ان تمام امورسے اجتناب کرے گی جو صداقت و دیانت کے خلاف ہوں، یا جن سے فرقہ وارانہ منافرت ، طبقاتی کش مکش اورفساد فی الارض روٗ نما ہوسکتا ہو ۔

طلبہ تنظیم S.I.O. کو جماعت اسلامی ہند کی سرپرستی حاصل ہے ۔ وہ اس کی نگرانی میں اپنی مساعی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ جماعت کی کوشش ہے کہ وہ اپنے مقصد اور طریقۂ کار کی پابند رہے اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ S.I.O. ملک کو اور یہاں کے طلبہ کوصحیح رخ دینے میں کام یاب ہو۔ اوراس کے ذریعے نئی نسل، پیغام ِ حق سے روشناس ہوسکے۔

اکتوبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau