عصر حاضر کا چیلنج

عبد الرشید اگوان

تغیر زمانہ فکری و اصلاحی تحریکات کے لئے نت نئے چیلینج لیکر آتا ہے۔ بدلتے ہوئے ہر دور میں یا تو تحریکات خود کو اس دور کے تقاضوں کے مطابق تیار کر لیتی ہیں یا پھر وہ اپنے زوال کی جانب مائل ہو جاتی ہیں۔ تحریکات اسلامی کے لئے بھی فطرت کا یہی قانون ہے۔ یقینا اسلام اپنے آپ میں ایک دائمی ہدایت کا سامان لئے ہوئے ہے، مگر تحریکات اسلامی کے دوام کے لئے لازم ہے کہ اس سے وابستہ افراد نئے چیلینج کا فہم و ادراک حاصل کرکے اس دائمی ہدایت کے مطابق اپنے لئے راہ ہموار کرتے رہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس دور کی تحریکات اسلامی نہ صرف یہ کہ اپنی معنویت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں بلکہ وہ خود تغیر زمانہ کا ایک بڑا محرک بنتی جاتی ہیں۔یہاں عصر حاضر کی تحریکات اسلامی کے سلسلے میں یہ اہم سوال اٹھنا لازم ہے کہ کیا وہ تغیر زمانہ کے ساتھ بہ رہی ہیں یا وہ خود کسی تغیر کا باعث بن رہی ہیں؟ دور حاضر کے پانچ بڑے چیلینجز ہیں جن کے بارے میں تحریکات اسلامی کے رویے کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ چیلینجز ہیں : نسلی تصادم ، تخلیق علم کی فراوانی، زندگی پرمادیت کاغلبہ، حکومت کی مرکزیت اور انقلابی جذبے کا فقدان۔

عصر حاضر میں نسلی تصادم ایک بڑا فتنہ ہے۔ اس میں فرقہ پرستی کو بھی شامل سمجھا جائے کیونکہ وقت کے ساتھ فرقہ پرستی کی فکری بنیادیں تحلیل ہو جاتی ہیں اور وہ بھی ایک قسم کا نسلی جنون بنکر انسانیت کو متاثر کرنے لگتی ہے۔ صیہونیت اور مسلم ٹکرائو، مسلم ممالک میں شیعہ-سنی کی لڑائی، افریقی ملکوں میں قبائلی جنگ، ہمارے ملک میں ہندو-مسلم منافرت، میانمار میں روہنگا مسلمانوں پر ظلم، امریکہ میں کالوں کے خلاف گوروں کا تعصب، وغیرہ اسی تصادم کے مظاہر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ، ہر کہیں انسان انسان کے خون کا پیاسا ہے ۔ ہر کہیں آگ تیار ہے، بس ایک چنگاری کی ضرورت ہے انسانی معاشرے کو خاک و خون میں آلودہ کرنے کے لئے۔ ایسے حالات میں تحریک اسلامی ایک انتہائی سخت امتحان سے دوچار نظر آتی ہے۔ ان مخدوش حالات میں تحریک سے وابستہ افراد کیا سوچتے ہیں؟ انکا موقف کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ انسان بہتے خون پر اشکبار ہوتے ہیں یا محض ’اپنے‘کے نقصان پر انکا خون کھولنے لگتا ہے؟ کیا سنگین حالات انہیں سرگرم کرتے ہیں یا وہ کسی عافیت کے متلاشی ہوتے ہیں؟ کیا وہ ہر قسم کے نسلی تصادم کے خاتمے کے لئے ایک نئے ارادے کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں؟ تمام بنی نوعِ انسان کو بھلائی کا حکم دینے اور انہیں برائی سے روکنے کے لئے الٰہی نظام کے تحت جو امت برپا کی گئی تھی تحریک اسلامی اسکی نمائندگی کرتی ہے۔ وہ اس تمام خلفشار میں حالات کو بدلنے کے لئے سرگرم نظر نہیں آتی۔ اس سے وابستہ افراد ایک خاموش تماشائی کی طرح گردش ایام کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔

تخلیق علم کی فراوانی دور حاضر کا ایک اہم وصف ہے۔ آج ہر کہیں علم اور معلومات کا سیلاب نظر آتا ہے۔ ہر سال 22 لاکھ کتابوں کی اشاعت، 24 گھنٹے چلنے والے ٹی وی چینل، اربوں لوگوں کو جوڑنے والا سوشل میڈیا، یونیورسٹیوں کی بڑھتی تعداد اور دیگر عوامل اس سیلاب کو ہر آن طاقتور بنا رہے ہیں۔ کثرت علم اور معلومات کے طوفان نے انسانی معاشرے کو اس قدر بوجھل کر دیا ہے کہ روایتی علم کی آواز اس میں کہیں دب کر رہ گئی ہے۔ علم اور معلومات کے اجزا، اسلوب اورذرائع مسلسل بدل رہے ہیں اور اس نقارخانے میں تحریک اسلامی کا پیغام طوطی کی آواز بن کر رہ گیا ہے۔ افکار و نظریات کی جنگ میں تحریک اسلامی کہیںنظر نہیں آتی۔ یقینا اسلام دنیا کے سامنے ایک بڑا موضوع ہے مگر اس کے لئے بڑی حد تک دوسرے عوامل ذمہ دار ہیں اور عام مسلمان اسلام کی ایک مسخ شدہ تصویر کے ساتھ کھڑا کف افسوس مل رہا ہے۔ دوسری جانب سارے مسلم ملکوں میں ایک سال میں شائع ہونے والی کتابوں کی کل تعداد 70ہزار سے زائد نہیں ہے۔ دنیا کی کل 17000 یونیورسٹیوں میں سے صرف 2000 کے آس پاس مسلم ملکوں میں قائم ہیں۔ سوشل میڈیا میں جہاں امریکہ، چین اور بھارت پیشرفت کررہے ہیں وہیں مسلم دنیا اس میدان میں پیچھے نظر آتی ہے۔ دنیا کی اوسط شرح خواندی جہاں 84 فیصد ہے وہیں مسلم ممالک میں یہ 72 فیصد ہے۔ آج قوموں کے غلبے کی سب سے اہم وجہ علم کے میدان میں انکی سبقت ہے، لیکن علم کے فروغ کے میدان میں امت کی رہنما تحریکات کا کردار قابل تشویش ہے۔ تخلیق علم کی فضااور معلومات کے طوفان نے مسلم نوجوانوں کو اپنے آغوش میں لے لیا ہے اور اسلام کے بارے میں انکی معلومات اور اسلامی نظریات کا فہم محض سطحی ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان حالات کا ادراک تحریک سے وابستہ افراد کو ہے؟اس صورت حال کو بدلنے کے لئے کیا انکے پاس کوئی عزم اور منصوبہ ہے؟ کیا موجودہ علمی انقلاب کے تناظر میںانکے پاس اسلامی افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت اور تخلیق علم کے میدان میں امت کی پیش قدمی کے لئے کوئی لائحہ عمل پایا جاتا ہے؟ کیا ایسے تجزیے ہمارے سامنے آ رہے ہیں جو ہمیں دور حاضر میں اسلامی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے میں مدد کرتے ہوں؟ کیا غورو فکر کی انجمنوں اور اداروں کو ہمارے یہاں اہمیت حاصل ہے؟ کیا تحقیق و جستجو میں مصروف افراد کی ہمارے یہاں خاطر خواہ تعداد موجود ہے؟ شاید ان سوالوں کا تشفی بخش جواب دینا آسان نہیں۔

جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں روحانی اور اخلاقی قدروں پر مادہ پرستی حاوی ہے۔ یہاں تک کہ مذہبی حلقوں پر بھی اسکا زبردست اثر پایا جاتا ہے۔ معاشی زندگی کے اہداف اور کیریر کے چکر نے تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا ہے جہاں زندگی گزارنےکے لئے کوئی اعلیٰ مقصد شاید ہی انہیں متوجہ کرتا ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام اور ترقی کا ناقص نظریہ لوگوں کو پیسہ کمانے کی مشین بنا رہا ہے یا پھر انہیں خریداروں کے ہجوم میں تبدیل کر رہا ہے۔ اس صورت حال کا ایک منفی اثر یہ ہوا ہے کہ معاشرے میں انقلاب کے لئے خواب دیکھنے والے افراد کا فقدان نظر آتا ہے۔ اِن حالات میں روحانی اور اخلاقی قدروں کی بحالی کے لئے کیا تحریک اسلامی کے پاس ایسا کوئی پرکشش پیغام ہے جونوجوانوںکو ایک متوازن زندگی کی جانب راغب کر سکے اورا پنے خوابوں کی دنیا تعمیر کرنے کے لئے آمادہ کر سکے؟

حکومت کی مرکزیت آج کی دنیا کی ایک بڑی حقیقت ہے۔ انسانی سماج کا ہر پہلو آج حکومت کی مرضی کے تابع ہے۔ میڈیا چونکہ حکمراں طبقے کے ساتھ ہی کھڑا دکھائی دیتا ہے اسلئے اسکی آزادی کے ثمرات کسی فکری- اصلاحی تحریک کے لئے شاذو نادر ہی سازگارہوتے ہیں۔ نام نہا د ’آزاد‘ ملکوں میں بھی عام شہری کو اپنی ذاتی آزادی کے سلسلے میں مداہنت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ کئی ملکوں میں جمہوری نظام کے باوجود وہاں حکومت کی اصل زمامِ کار نسل پرست جماعتوں اور سرمایہ دارانہ طبقات کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ سرمایہ دارطبقے کے بغیر انتخاب میں حصہ لینا تقریبا بے معنیٰ ہو گیا ہے۔

یقینا حالات تشویشناک ہیں۔ مگر تحریک نام ہے تشویشناک حالات کو یکسر بدلنے کا اور رکاوٹوںکے باوجود جدوجہد کو جاری رکھنے کا۔ اور تحریک اسلامی کے پیچھے تو اللہ کی بے پناہ نصرت پوشیدہ ہوتی ہے۔ حالات کا محض اتنا ہی تقاضا ہے کہ فسادِ زمانہ کے تدارک کے لیے راہ متعین کی جائے۔ بدلتے ہوئے حالات میں تحریک اسلامی کے اسلوب، اسکی حکمت عملی اور اسکے تریق کار میںتغیر لازم ہے۔ اس لحاظ سے چند اہم امور پر غور کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ اصولی موقف پر استقامت اور افراد تحریک کی زندگی کو اس موقف کے ڈھالنا۔ مثلا نسلی تصادم کے خاتمے کے لئے اخوت انسانی کے نظریے کو اپنانا اور افراد تحریک کی سوچ اور انکے عمل کو ذات پات، شیعہ سنی تفریق، نسلی منافرت، علاقائی کش مکش وغیرہ کی خباثتوں سے عملاً پاک کرنا اور انہیں انسانوں میں باہم خیرخواہی کا علم بردار بنانا۔

۲۔ حصول علم اور فروغ علم پر زور۔ فساد زمانہ کا مسلسل جائزہ اور اس کے خلاف مؤثر لٹریچر کی اشاعت۔ اسلام کے پر کشش تعارف کا اہتمام اور ایسے افراد کی تربیت کرنا جو نئے حالات پر نظر رکھیں اور حالات کے تقاضوں کے مطابق تحریری اور تقریری کام انجام دے سکیں۔ نیز دعوت اسلامی کے لئے سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال۔

۳۔ فروغ اسلام کے لئے عملی دعوت کا طریقہ اختیار کرنا۔ مثلا نسلی تصادم، ماحولیاتی بحران، اخلاقی بحران، حریت انسانی کی پامالی، توہم پرستی، وغیرہ کے مقابلے کے لیے تمام مذاہب کےپیرووں پر مشتمل نظام قائم کرنا اور مہمات چلانا اور حسب موقع اسلامی تعلیمات کو پیش کرنا۔

۴۔ تحریکی زندگی کی اعلیٰ صفات اللہ سے محبت، اخروی فلاح کی طلب اور عام انسانوں کی خیرخواہی پر زور۔

۵۔ مسلمانوں میں معیاری تعلیم کے نظام کی تشکیل،تخلیقی رجحانات کی حوصلہ افزائی اور انسانوں کے لئے مفید ایجادات کا فروغ۔

اگست 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau