جاری سلسلے کی اس آخری کڑی میں ڈینیل ڈینٹ کی فکر کا تجزیہ مقصود ہے۔ ڈینیل ڈینٹ اپنے دوسرے ہم فکر مبلغین سے قدرے مختلف اپروچ رکھتے ہیں۔ ان کی اپروچ بنیادی طور پر کئی حیثیتوں سے منفرد ہے۔ پہلی بات یہ کہ ڈینیل ڈینٹ براہ راست اسلام پر تنقید نہیں کرتے، یا اگر کہیں ہلکی پھلکی تنقید ملتی بھی ہے تو وہ پروٹسٹنٹ عیسائیت کے حوالے سے ہوتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ وہ الحاد جدید کے دیگر گھڑ سواروں کی طرح مذہب کو انسانیت کے لیے خطرہ وغیرہ نہیں بتاتے۔ تیسری بات یہ کہ مذہب کے خلاف ان کا فلسفہ دوسرے گھڑ سواروں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔ چوتھی بات یہ کہ وہ مذہب کو کہیں کہیں مفید بھی بتاتے ہیں۔ اسی طرح وہ تصورِ خدا کو بھی انسانی زندگی کے لیے ٹھیک سمجھتے ہیں۔ پانچویں بات یہ کہ ڈینیل ڈینٹ فلسفے کے تعلق سے مذہب کی بنیاد پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔
اوپر دیے گئے پانچوں فرق کے باوجود ڈینیل ڈینٹ باقی تینوں کی طرح اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مذہب کوئی آفاقی شے نہیں ہے، بلکہ ارتقا کے دوران وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ انٹرپرائز ضرور ہے لیکن اس کی کوئی الٰہیاتی حیثیت نہیں ہے۔ اسی طرح وہ خدا کی ضرورت کے ہونے پر اسی انداز میں بحث کرتے ہیں جس طرح کہ باقی تینوں کرتے ہیں۔ آزاد ارادے اور اختیار کے موضوع پر بھی وہ سیم ہیرس کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح وہ انسان کے پیچیدہ شعور کو محض مادیاتی نیورون اور کیمیکل کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اس کے کسی الوہیاتی یا ما بعد الطبیعاتی مظہر ہونے کے مکمل خلاف نظر آتے ہیں۔ بہرحال یہاں ان چاروں کا باہمی تقابل پیشِ نظر نہیں ہے۔ اس مضمون میں علیٰحدہ طور پر ڈینیل ڈینٹ کی فکر کا تجزیہ کیا جائے گا۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ڈینیل ڈینٹ اپنے افکار کا ایک بڑا ذخیرہ چھوڑ کر پچھلے سال اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ وہ تقریباً دو درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان میں سے کچھ کتابیں بہت مشہور ہوئیں۔ فلسفے کی دنیا میں انھوں نے بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ اس سلسلے سے ہم اس مضمون میں ان کی بنیادی اساس کا ہی تجزیہ پیش کر سکیں گے، اور واقعہ یہ ہے کہ دوسرے ملحدوں کی طرح ڈینیل ڈینٹ نے اسلام کے خلاف براہ راست اپنے کسی ٹویٹ میں یا اپنے کسی ویڈیو میں کوئی سطحی قسم کی بات نہیں کی ہے، بلکہ وہ مذہب کو ایک مختلف زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ عمومی طور پر یہی تاثر ان کے بارے میں قارئین کے یہاں ملتا ہے۔ لیکن گہرائی سے تجزیہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اصل میں وہ جدید الحاد کا نرم چہرہ کہے جاسکتے ہیں۔
ڈینیل ڈینیٹ کے یہاں مذہب پر تنقید جذباتی یا خطیبانہ انداز میں نہیں پائی جاتی بلکہ وہ فلسفہ، ارتقائی حیاتیات اور ادراکی سائنس کے پہلوؤں سے مذہب پر تنقید لے کر آتے ہیں۔
اگر سیم ہیریس جذباتیت اور رچرڈ ڈاکنز سائنسی جارحیت کے ساتھ مذہب پر حملہ آور ہوتے ہیں، تو ڈینیٹ الحاد کو ایک علمی اور ناگزیر فکری نتیجہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہی پہلو ان کی فکر کو زیادہ پیچیدہ اور اثر انگیز بناتا ہے۔ ذیل میں ہم ترتیب کے ساتھ ان کی مختلف دلیلوں کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔
تخفیفیت (Reductionism): مذہب بطور طبعی اور ارتقائی مظہر
اپنی کتاب میں انھوں نے مذہب کو ایک ارتقائی پہلو سے دیکھا ہے۔ یعنی مذہب بجائے خود کوئی الٰہیاتی یا ماورائی حقیقت نہیں ہے بلکہ انسانوں نے اپنے اعتبار سے بنائے ہیں اور دھیرے دھیرے ان کا ارتقا ہوا ہے۔ (اس پر تفصیلی بحث ہم نے اپنی کتاب ’’سائنس، سائنس پرستی اور اسلام‘‘ اور ’’نظریہ ارتقا و نظریہ تخلیق: عصری مباحث کا جائزہ‘‘ میں کی ہے۔ تفصیل کے لیے ان کو دیکھا جا سکتا ہے۔)
وہ مذہب کو براہِ راست رد کرنے کے بجائے اسے ایک قدرتی، قابلِ مطالعہ اور سائنسی مظہر کے طور پر فریم کرتے ہیں۔ ان کی کتاب Breaking the Spell: Religion as a Natural Phenomenon اسی بنیادی مقدمے پر قائم ہے کہ مذہب کو وحی، تقدس یا مابعد الطبیعاتی حقیقت کے بجائے حیاتیاتی، نفسیاتی اور ارتقائی عوامل کے تحت سمجھنا چاہیے۔ ڈینیٹ کے مباحث کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے:
“Religion is a natural phenomenon, one whose origins, development, and effects can be studied like those of any other natural phenomenon.”[1]
(مذہب ایک فطری مظہر ہے جس کی ابتدا، ارتقا اور اثرات کا مطالعہ دیگر فطری مظاہر کی طرح کیا جاسکتا ہے۔)
یہ جملہ بظاہر غیر جانب دارانہ اور علمی معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے فکری تخفیفیت کا مسئلہ جنم لیتا ہے۔
تخفیفیت کیا ہے؟
تخفیفیت سے مراد یہ ہے کہ کسی پیچیدہ اور کثیر سطحی حقیقت کو صرف ایک سطح مثلاً حیاتیاتی یا نفسیاتی سطح تک محدود کر دیا جائے اور اس کی باقی جہات کو غیر معتبر قرار دے دیا جائے۔ ڈینیٹ مذہب کے معاملے میں یہی کرتے ہیں۔
وہ مذہب کو اس کے دعوائے صداقت پر پرکھنے کے بجائے اس کے اسباب پیدائش کے تعلق سے سمجھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کیا مذہب سچا ہے؟ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ لوگ مذہب پر ایمان کیوں لاتے ہیں؟ یہ زاویۂ نظر ایک گہرے فکری مسئلے کو جنم دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طرح سبب اور صداقت کا خلط مبحث ہو جاتا ہے۔ مذہب کی تشریح کرتے ہوئے بار بار وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مذہبی عقائد ارتقائی فوائد فراہم کرتے ہیں، سماجی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں اور نفسیاتی سکون کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس لیے وہ ٹھیک ہو سکتے ہیں یا ہوئے ہیں ان کی بجائے خود کوئی افادیت نہیں ہے۔ وہ اپنی کتاب میں یہی کہتے ہیں کہ مذہب کو اس کے تقدس سے آزاد کر کے دیکھنا چاہیے۔
وہ لکھتے ہیں۔
“We must stop treating religion as a taboo subject and examine it with the same tools we use to study other human phenomena.”[2]
(ہمیں مذہب کو ایک ممنوع موضوع کی طرح برتنا بند کرنا ہوگا اور اسے مطالعے کی انھی آلات کی مدد سے پرکھنا ہوگا جن سے دیگر انسانی مظاہر کو پرکھتے ہیں۔)
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا کسی عقیدے کے نفسیاتی یا سماجی فوائد اس کی وجودی حیثیت کو باطل کر دیتے ہیں۔ جواب ہے بالکل نہیں۔ کسی عقیدے کے نفسیاتی یا سماجی فوائد کو اس کی اصل حیثیت میں رکھ کر دیکھنا ضروری ہوگا۔ ورنہ اگر اسے صرف افادیت کے فریم ورک میں رکھ کر دیکھا جائے گا تو یہ اپنے آپ میں ایک علمی بددیانتی ہوگی۔ اسلامی اور فلسفیانہ تناظر میں بھی اس کا جواب نفی ہے۔ کسی عقیدے کے اسباب قبولیت اور اس کی حقیقت وجودی آیا وہ حقیقت ہے یا نہیں ہے، دو بالکل مختلف سوالات ہیں۔ ڈینٹ ان دونوں کو خلط ملط کر دیتے ہیں اور یہی تخفیفیت کی اصل صورت ہے۔ اسلامی علمیات (ایپسٹیمولوجی) کے مطابق علم کے تین بنیادی مصادر ہیں۔ وحی، عقل، حس و تجربہ۔ صرف ڈینٹ ہی نہیں بلکہ تمام تر جدید الحاد کی بنیاد یہ ہے کہ علم وہی ہے جو تیسرے ذریعے یعنی حس اور تجربے سے حاصل کیا جائے۔ یعنی تجربی اور فطری علوم تک ہی علم محدود ہے۔ علم کے دوسرے مصادر کو جدید الحاد خاطر میں نہیں لاتا وہ انھیں یا تو سماجی ارتقا کی پیداوار بتاتا ہے یا ایک نفسیاتی فریب یا ارتقائی حیاتیات کی روشنی میں ان کے لیے عجیب و غریب اور دور دراز کی توجیہات گھڑتا ہے۔
اسی طرح سے ڈینیل ڈینٹ مذہب کو بطور ایک ایسے شے کے طور پر دیکھتے ہیں، جس کی تشریح کی جانی چاہیے نہ کہ وہ جس کے اندر حقیقت یا صداقت موجود ہے۔ ڈینٹ مذہب کو سمجھنے اور اس کے ساتھ انگیجمنٹ کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن وہ اسے ایک علم کے مصدر کے طور پر نہیں دیکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈینیل ڈینٹ کی تنقید میں خدا کا تصور ایک وقوفی تشکیل (cognitive construct) بن جاتا ہے وحی ایک حکائی میکانیہ (narrative mechanism) کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور عبادت ایک اضطراری رویہ (conditioned behaviour)ہے۔
ڈینیل ڈینٹ کے میمیاتی نظریے کا تنقیدی محاسبہ
ڈینٹ ایک سطح پر جا کر مذہبی عقائد کو میم (meme) کی طرح دیکھنے لگتے ہیں۔ ہم نے میم تھیوری پر رچرڈ ڈاکنز کے حوالے سے پچھلے مضامین میں بات کی ہے۔ آسان الفاظ میں میم یہ ہے کہ جس طرح آج کل سوشل میڈیا میں کسی چیز کا چلن ہوجاتا ہے اور وہ انسانی ذہن میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے، بالکل اسی طرح ابتدائی ارتقائی دور میں انسانوں میں مذاہب کا چلن ہوا، ہزاروں قسم کے مذاہب بنے اور فنا ہوئے۔ مذاہب کی انحراف شدہ شکلیں موجود رہیں۔ مذاہب کی ابتدائی شکلیں بھی موجود رہیں۔ ڈاکنز نے اپنی اوریجنل میم تھیوری میں اس بات کا تذکرہ کیا کہ جو مذاہب دوسرے مذاہب کے مقابلے نسبتاً بہتر تھے، وہ باقی رہے۔ جس طرح کچھ میم دوسرے میم کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور باقی رہتے ہیں۔ اس تناظر میں ڈینیٹ مذہب کے سچ نہیں بلکہ کام یاب ہونے کی بات کرتے ہیں۔ یہ استدلال بظاہر سائنسی نظر آتا ہے مگر درحقیقت خود یہ اپنے خلاف ہے۔ کیوں کہ اگر بقا ہی معیار ہے تو الحاد، نیچرلزم اور خود ڈینٹ کا فلسفہ سبھی میم ہیں، جن کی کوئی صداقت نہیں ہے۔
ڈینیل ڈینیٹ، رچرڈ ڈاکنز کے متعارف کردہ میم کے تصور کو محض ایک استعاراتی خیال کے طور پر نہیں لیتے بلکہ اسے مذہب کی تشریح اور تنقید کا مرکزی فریم بنا دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہبی عقائد، روایات اور عبادات ایسی ثقافتی اکائیاں (units) ہیں جو انسانی ذہنوں میں اپنی بقا اور نقل پذیری (replication) کے لیے سرگرم رہتی ہیں، خواہ وہ “سچی” ہوں یا نہ ہوں۔ ڈینیٹ اس زاویے کو سب سے واضح طور پر اپنی کتاب Breaking the Spell میں پیش کرتے ہیں:
“Some religious ideas are better than others at surviving and getting copied.” [3]
(بعض مذہبی تصورات دیگر سے بقا اور نقل کیے جانے میں بہتر ہیں۔)
یہاں مذہب کی قدر و قیمت صدقِ دعویٰ کے بجائے ارتقائی کام یابی سے ناپی جا رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تخفیفی میمیات (reductionist memetics) ایک سنجیدہ فکری مسئلہ بن جاتی ہے۔
میم: وضاحتی آلہ یا وجودی دعویٰ؟
ڈینیٹ کے یہاں میم محض ایک تجزیاتی آلہ نہیں رہتا بلکہ وجودی معیار (ontological criterion) بن جاتا ہے۔ مذہبی خیال ”سچ“ اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ حقیقت سے مطابقت رکھتا ہو، بلکہ اس لیے کہ وہ ذہنی و سماجی ماحول میں پھیلنے کے قابل ہے۔ ڈینیٹ مزید لکھتے ہے:
“Memes, like genes, are information packets that compete for survival” [4]
(جینز کی طرح میم بھی معلومات کے پیکٹ ہیں جو بقا کے لیے جد جہد کرتے ہیں۔)
یہ منطق علت (cause)کو صداقت (truth) کا قائم مقام بنا دیتی ہے۔ اگر کسی خیال کا پھیل جانا ہی اس کی قدر ہے، تو پھر سائنس، الحاد، نیچرلزم اور خود میم تھیوری بھی اسی اصول کے تحت محض کام یاب میم ٹھہرتے ہیں۔ یہ سچ نہیں ہے۔ اس طرح میمیاتی معیار خود اپنی تردید (self-refutation) کا شکار ہو جاتا ہے۔
مذہب بطور ”ذہنی وائرس“ فکری تعصب
ڈینیٹ کئی مقامات پر مذہبی عقائد کو ایسے میم سے تشبیہ دیتے ہیں جو میزبان (human mind) میں اپنی بقا کے لیے جگہ بناتے ہیں خواہ وہ میزبان کے لیے مفید ہوں یا نقصان دہ۔ وہ اس رجحان کو ” خطرناک تصورات“(dangerous ideas)کے ذیل میں رکھتے ہیں۔ایک جگہ رقم طراز ہیں.
“Some memes are like viruses; they propagate themselves whether or not they benefit their hosts.”[5]
(کچھ میم وائرس کی طرح ہوتے ہیں، وطع نظر اس کے کہ وہ اپنے میزبان کو فائدہ پہنچائیں نہ پہنچائیں، وہ پھیلتے ہیں۔)
یہ تشبیہ مذہب کو علی القیاس مشتبہ بنا دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ مذہب درست ہے یا نہیں، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ یہ میم انسانی ذہن میں کیوں اور کیسے پھیل گیا۔ یہ طریقۂ کار منہجی الحاد (methodological atheism)کی ایک نرم مگر گہری صورت ہے۔
معنی (meaning) اور نیت (intentionality) کا زوال
میمیاتی فریم میں معنی اور نیت ثانوی ہو جاتے ہیں۔ مذہبی عمل عبادت نہیں بلکہ تناقل کی تدبیر (replication strategy)بن جاتا ہے۔ ایمان ایمان نہیں رہتا بلکہ ایک وقوفی عادت (cognitivehabit)میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور اخلاقی قدریں التزام نہیں بلکہ سماجی اضطرار (social conditioning)کہلائی جانے لگتی ہیں۔
ڈینیٹ اپنی مشہور زمانہ کتاب Consciousness Explained میں ذہنی مواد کو تحسیبی پراسیس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ شعور کی پیچیدگی، اعلی ادراکی شعوری صلاحیتیں، ان تمام کو یکسر سرد خانے میں ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔ شعور کی پیچیدہ اور تہہ دار حالتوں کے سلسلے میں ڈینیل ڈینٹ کے افکار کو درج ذیل جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے۔
“There is no central meaning-giver; meaning emerges from blind processes.”[6]
(مرکزی معنی کوئی ودیعت نہیں کرتا۔ معنی اندھے پراسیسز سے ابھرتے ہیں۔)
یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اتنے اعلی پائے کا محقق کہا جانے والا شخص اس بات کی تہ تک نہیں پہنچ پاتا ہے کہ اگر معنی ”blind processes“ کا ضمنی نتیجہ ہے تو پھر سچ اور جھوٹ میں امتیاز کی بنیاد کہاں سے آئے گی؟ اسلام اور کلاسیکی فلسفہ دونوں کے نزدیک معنی اور نیت اخلاقی ذمہ داری کی اساس ہیں، جنھیں میمیات محض اثر میں بدل دیتی ہے۔
مذہب کی کارکردگی بمقابلہ مذہب کی صداقت
ڈینیٹ مذہب کے سماجی فوائد (cohesion, discipline, hope)کو تسلیم کرتے ہیں جیسے کہ ہم نے اس سے قبل بھی تذکرہ کیا ہے لیکن وہ انھیں سچائی کا متبادل بنا دیتے ہیں۔ Breaking the Spell میں وہ مذہب کے فوائد پر گفتگو کرتے ہوئے بھی صداقت کے سوال کو معلق رکھتے ہیں۔ اس کا فیصلہ قدرے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ مثلاً اپنی کتاب کے ساتویں باب میں جو بحث انھوں نے کی ہے اس کا خلاصہ ایک جملے میں یوں ہو سکتا ہے۔
“Even if religion has benefits, that doesn’t make it true” [7]
(اگر مذہب کے کچھ فوائد ہوں بھی تب وہ ان کی بنا پر مفید نہیں بن جاتا۔)
یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ڈینیٹ سچائی کے سوال کو کبھی سنجیدگی سے کھولتے ہی نہیں۔ وہ اسے ابتدا ہی میں غیر ضروری قرار دے دیتے ہیں۔ قارئین ایک دل چسپ بات نوٹ کر سکتے ہیں کہ یہ پہلو جدید الحاد کے تمام ہی مفکرین کے یہاں نظر آتا ہے کہ یا تو صداقت یا سچائی کے سوال کو وہ اضافی قرار دیتے ہیں یا اسے غیر ضروری بتاتے ہیں یا کسی عالمی صداقت اور سچائی کا یکسر انکار کر دیتے ہیں۔ بطور خاص وہ عالمی سچائی یا صداقت جس کی سائنس کے طریقہ کار کے ذریعے سے آزمائش نہ کی جا سکتی ہو۔
اسلامی علمیات میں اس کے برعکس، فوائد صداقت کے بعد آتے ہیں، صداقت کی جگہ نہیں لیتے۔
اسلامی علمیات کے تناظر میں میمیاتی تخفیفیت
اسلامی نقطہ نظر سے میمیاتی تخفیفیت کا کئی حوالوں سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور اس پر تنقید کی جا سکتی ہے یہاں مختصراً یہ بیان کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی علمیات میں دین محض معلومات کا پیکٹ نہیں بلکہ وحی پر مبنی ہدایت ہے جس کا مخاطب انسان کی عقل، ضمیر اور ارادہ ہے۔
میمیاتی فریم اس پورے ڈھانچے کو causal chain میں تحلیل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً:
وحی ← ثقافتی ترسیل
ایمان ← وقوفی تعصب
عبادت ← رویہ جاتی معمول
میں بدل جاتی ہے۔
یہ تخفیفیت نہ صرف مذہب کی خود فہمی (self-understanding) کے خلاف ہے بلکہ انسانی اخلاقی قوتِ عاملیت (agency) کو بھی کم زور کرتی ہے۔ چناں چہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذاہب کو میم کی حیثیت میں دیکھنے والا تھیوری اور اس پر مبنی فریم ورک مذہب کو سچائی کے دعوے سے محروم کر دیتا ہے۔ معنی، نیت اور اخلاقی ذمہ داری کو ثانوی بنا دیتا ہے۔ اور خود اپنے معیارِ صداقت کے تحت خود کو بھی میم ثابت کر دیتا ہے۔
اسلامی تناظر میں یہ نقطۂ نظر مذہب کی تشریح نہیں بلکہ تخفیفی تجزیہ ہے۔ جو سبب کو صداقت پر ترجیح دیتا ہے اور یہی اس کی بنیادی فکری کم زوری ہے۔ اس تعلق سے ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ ڈینٹ مذہب کا مطالعہ کرنے سے پہلے یہ بات طے کر لیتے ہیں کہ وحی علم کا معتبر ذریعہ نہیں ہے۔ ماورائیت محض انسانی تخیل ہے اور مذہب کو صرف فطری علوم کے دائرے میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ رویہ خالص سائنسی غیر جانب داری کے خلاف ہے۔ لیکن اسے فلسفے کی زبان میں چھپا دیا گیا ہے۔ چناں چہ ہوتا یہ ہے کہ مذہب کو اس کے دعوائے صداقت سے عاری کرکے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایپسٹیمک اتھارٹی کے طور پر وحی کا انکار کر دیا جاتا ہے اور انسان کو محض حیاتی و نفسیاتی وجود تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح سے ایک طے شدہ علمی فریم ورک میں مذہب کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
جدید الحاد کے حوالے سے ڈینیل ڈیننٹ کے دیگر فکری مباحث کا تنقیدی تجزیہ ان شاءاللہ اگلے مضمون میں کیا جائے گا۔
حوالہ جات
- Dennett, D. C. (2006). Breaking the spell: Religion as a natural phenomenon. Viking. p. 18
- Ibid
- Daniel C. Dennett, Breaking the Spell: Religion as a Natural Phenomenon, Chapter 5: “Religion as an Evolving Set of Memes”
- Ibid
- Dennett, D. C. (1995). Darwin’s dangerous idea: Evolution and the meanings of life. Simon & Schuster.
- Dennett, D. C. (1991). Consciousness explained. Little, Brown and Company. Chap.6
- Dennett, D. C. (2006). Breaking the spell: Religion as a natural phenomenon. Viking. Chap. 7







