ابراہیم علیہ السلام کی دعوت

دل کا سوز اور دلیل کی طاقت

محی الدین غازی

قرآن مجید میں ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ دین کی دعوت دینے والوں کے لیے بہترین نمونہ بن جاتی ہے۔دین کی دعوت کے لیے ابراہیم علیہ السلام کا بے پناہ جذبہ، ہمت وجرأت، اخلاص وبے نفسی، صبر استقامت، دلائل کی قوت، حکیمانہ اسلوب، سوز ودرد، قربانی وجاں نثاری، غرض بے شمار پہلوؤں سے ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم ہر زمانے اور ہر علاقے کے داعیوں کی رہ نمائی کرتے ہیں۔

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

آگ کے الاؤ میں تو ابراہیم علیہ السلام کو ڈالا گیا تھا، لیکن وہاں تک لے جانے والے اس راستے کو آپ نے اپنی مرضی سے بے خوف وخطر اختیار کیا تھا۔ اس مصرع کو آگ والے واقعہ کے محدود پس منظر میں دیکھنے کے بجائے ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی کے وسیع پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ نمرود کے زمانے میں اللہ کے دین کی دعوت پیش کرنا نمرود کی آگ میں قدم رکھنے کی طرح ہی تھا۔ ایک طرف تنہا ابراہیم تھے اور دوسری طرف نمرود اور اس کی پوری سلطنت تھی۔ توحید کی دعوت صرف بتوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ نمرود کی جھوٹی خدائی اور آزر کی مذہبی پیشوائی کے خلاف بھی اعلان جنگ تھی۔دعوتِ دین کی ابراہیمی راہ کس قدر کٹھن تھی، موجودہ دور میں اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا ہے، اس دور کے مقابلے میں اب تو دعوت کی راہ بہت آسان اور اس کے لیے فضا بہت سازگار ہے۔

ابراہیم علیہ السلام نے دعوتی میدان میں جرأت وہمت کی زبردست مثال قائم کی۔ باپ نے دھمکی دی: لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ (اگر باز نہ آئے تو تمھیں پتھر مار مار کر قتل کردوں گا) قوم نے کہا: اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ (اسے قتل کردو یا جلاڈالو) لیکن ابراہیم علیہ السلام کے قدم بالکل نہیں ڈگمگائے اور نہ ہی ان کا آہنگ کم زور پڑا۔بادشاہ کے دربار میں جم کر کھڑے ہوئے اور اس کو ایسی دلیل سے مات دی کہ وہ مبہوت رہ گیا۔قوم پر حجت تمام کرنے کے لیے بتوں کو توڑنے کی عملی دلیل قائم کرنا اور قوم کے شدید ردعمل کا بے خوفی کے ساتھ سامنا کرنا جرأت وہمت کا نایاب نمونہ ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے جن حالات میں دعوت دی اور جس اعتماد اور بہادری کے ساتھ دی، اس میں دورِ حاضر کے داعیوں کے لیے حوصلے بڑھانے کا بڑا سامان ہے۔

دلائل سے آراستہ دعوت

ابراہیم علیہ السلام دعوت کے ہر محاذ پر دلائل پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کے پیش کیے ہوئے دلائل پورے طور پر آفاقی اور ابدی نوعیت کے ہیں۔ زمان ومکان کی تبدیلی ان پر ذرا بھی اثر انداز نہیں ہوتی ہے۔

ابراہیم علیہ السلام کے دعوتی تذکروں میں حسّی معجزات کا ذکر نہیں ملتا ہے۔ جب کہ عقل وفطرت کو مخاطب کرنے والے دلائل کا تذکرہ خوب ملتا ہے۔ابراہیم علیہ السلام کے دلائل کا relevance دورِ حاضر میں بھی ذرا کم نہیں ہوا ۔ سائنس وٹکنالوجی کی حیرت انگیز ترقیوں کے باوجود ان کی آب وتاب میں کچھ فرق نہیں آیا ۔

ذہنی سطح بلند کرنے کا کام

ایسا نہیں ہے کہ اُس زمانے کے لوگ سائنٹفک اپروچ رکھتے تھے، عقلی دلائل سے آشنا تھے، اس لیے ان کے سامنے عقل کو ایڈریس کرنے والے سائنٹفک دلائل رکھے گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ وقت کے مذہبی اور سیاسی اقتدار نے ان سے دلائل پسندی کو سلب کرلیا تھااور وقت کے ساتھ ان کے اندر آبا پرستی اور توہّم پرستی گھر کر گئی تھی۔ اس کے باوجود ابراہیم علیہ السلام نے انھیں دلائل کے حوالے سے دعوت دی۔

ذہنی پستی کی شکار اور گمان ووہم کی وادیوں میں بھٹکتی قوم کو اعلی اور کامل عقلی وعلمی دلائل سے خطاب کرنا بظاہر بہت عجیب لیکن حقیقت میں بے حد مفید عمل ہے۔ یقینًا ایک داعی کے لیے یہ نہایت پرمشقت اور صبر آزما کام ہے۔ تاہم یہ کام انسانی سماج کو ذہنی پستی سے نکال کر ذہنی بلندی پر لے جانے والا ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ دلائل سادہ اور قابل فہم ہوں۔ ابراہیم علیہ السلام کے دلائل بہت اعلی تھے اور ان کی پیش کش نہایت سادہ تھی۔

دراصل ہر انسان کے اندر،خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اوہام پرستی میں گرفتار ہو، وہ اندھا مقلد ہو یا انکار ِکل کی روش میں مبتلا تجدد پسند ہو،دلیل کو تسلیم کرنے کا داعیہ شعلہ نہ سہی چنگاری کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ اس چنگاری کو بھڑکانا بھی ایک داعی کی ذمے داری ہوتی ہے۔

مزعومہ غلط مسلّمات پر ضرب ِکاری

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے مباحثہ کیا، اپنی قوم سے مباحثہ کیا اور وقت کے بادشاہ سے مباحثہ کیا، ان تینوں کے موقف کو غلط قرار دیا اور ان کے خلاف دلائل پیش کیے۔ انسانی سماج جب ذہنی پس ماندگی کا شکار ہوجاتا ہے تو ان تینوں جہتوں کوتقدس حاصل ہوجاتا ہےاور پھر ان کے ساتھ مباحثہ نہیں کیا جاتا ہے۔ بلکہ ان تینوں جہتوں کو بذات خود دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آباء واجداد کا موقف، قوم کا موقف اور قوت واقتدارکا موقف یہ تینوں اپنے آپ میں درست مان لیے جاتے ہیں اور ان تینوں سے اختلاف کرنے کو غلطی بلکہ قابل سزا جرم سمجھا جاتا ہے۔

درج ذیل آیتوں میں دیکھیں کہ جاہلیت میں پڑے لوگوں کی طرف سے دلیل کے طور پر کیا باتیں کہی گئی ہیں۔

وَنَادَىٰ فِرْعَوْنُ فِی قَوْمِهِ قَالَ یا قَوْمِ أَلَیسَ لِی مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِی مِن تَحْتِی أَفَلَا تُبْصِرُونَ [سورۃ الزخرف: ٥١]

( فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا، “لوگو، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا؟)

وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیهِ آبَاءَنَا [سورۃ المائدة: ١٠٤]

(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔)

فَقَالُوا أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِی ضَلَالٍ وَسُعُرٍ [سورۃ القمر: ٢٤]

(اور کہنے لگے “ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے)

غرض جن چیزوں کو لوگ مسلّم حقیقت مان کر ان پر اپنے عقائد کی عمارت کھڑی کرتے تھے، ابراہیم علیہ السلام نے راست انھی کو نشانہ بنایا اور ان کا بے بنیاد ہونا واضح کیا۔

دور ِجدید کے انسان نے بھی مذہب کے معاملے میں بعض ایسی چیزوں کو مسلمہ بنیادوں کی حیثیت دے دی ہے جو حقیقت سے دور محض گمان ہیں۔ دور ِ جدید کا انسان بھی ابراہیمی طریقہ دعوت کا محتاج ہے۔

نظر کو وسیع کرنے والی دلیل

ابراہیم علیہ السلام نے کائنات کی ایک دلیل اپنی خدائی کا دعوی کرنے والے بادشاہ کے سامنے رکھی جسے سن کر وہ ششدر ہوگیا۔ (دیکھیں: سورۃ البقرة ٢٥٨)

بادشاہ کو اقتدار کی قوت حاصل تھی، وہ انسانوں کے سلسلے میں قتل ومعافی کے فیصلے کرتے اس زعم میں مبتلا ہوگیا تھا کہ ساری خدائی اسی کی ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اسے احساس دلایا کہ اس وسیع وعریض کائنات میں وہ کتنا بے بس ہے۔

یہ عظیم کائناتی دلیل آج بھی اپنا وزن رکھتی ہے۔ انسان سائنس وٹکنالوجی کے ذریعے ایک بہت محدود دائرے میں کچھ ترقی وطاقت حاصل کرکے اس زعم میں مبتلا ہوگیا کہ وہ کائنات کو مسخر کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ آنکھ کھول کر دیکھے تو کائنات پکار پکار کر انسان کی بے بسی اور اللہ کی قدرت کا اعلان کررہی ہے۔

بسا اوقات انسان اپنی نگاہ کو بہت محدود اور تنگ دائرے میں رکھتے ہوئے اتنی بڑی کائنات کے رب کے بارے میں عقیدہ قائم کرلیتا ہے اور اسی لیے غلط فیصلے کرتا ہے۔ یہ دلیل انسان کو وسعت نظر عطا کرتی ہے۔ انسان وسعت نظر سے کام لے تو وہ نہ خدا کا انکار کرے، نہ ہی خدائی کا دعوی کرے اور نہ ہی کسی کو اس کی خدائی میں شریک کرے۔

ذوق کو بلند کرنے والی دلیل

ابراہیم علیہ السلام نے تارے کو دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، وہ ڈوب گیا تو کہا میں ڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا ہوں۔ پھر چاند کو دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، وہ ڈوب گیا تو کہا میرا رب مجھے ہدایت نہیں دے گا تو میں گم راہ ہوجاؤں گا۔ پھر سورج کو دیکھا تو کہا یہ بہت بڑا ہے یہ میرا رب ہے، وہ ڈوب گیا تو کہا اے میری قوم میں تمھارے شرک سے بری ہوں، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔(دیکھیں: سورۃ الأنعام: ۷۶ تا ۷۹)

تارے، چاند اور سورج کے حوالے سے ابراہیم علیہ السلام کی گفتگو شرک کے خلاف بہت زبردست دلیل ہے۔ یہ بحث زیادہ اہم نہیں ہے کہ انھوں نے یہ باتیں نبوت سے قبل کہی تھیں یا بعد میں، اور یہ استفہامیہ سوالات تھے یا علانیہ بیانات تھے۔ اہم اور اصل بات یہ ہے کہ یہ پوری گفتگو شرک کے خلاف بہت مضبوط دلیل بن کر قرآن میں محفوظ ہے۔

یہ دلیل بتاتی ہے کہ کسی کے اندر عظمت کے کسی ایک پہلو سے متاثر ہوکر اسے خدا نہیں مانا جاسکتا ہے۔ خواہ وہ پہلو کتنا ہی روشن اور متاثر کن ہو۔تارے چاند اور سورج کا عروج اور ان کی آب وتاب متاثر کن ہوسکتی ہے، لیکن ان کے غروب ہوجانے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

یہ دلیل یہ بھی بتاتی ہے کہ خدا کے لیے مطلق بلندی زیبا ہے۔ جو ڈوب جائے وہ خدا نہیں ہوسکتا ہے۔

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان کا ذوق دنیا کے معاملات میں تو بلند ہوتا ہے لیکن مذہب کے معاملے میں پست ہوتا ہے۔ یہ دلیل مذہب کے سلسلے میں انسان کے ذوق کو بلند کرتی ہے۔ اگر مذہب وعقیدے کے سلسلے میں انسان کا ذوق بلند ہوجائے تو وہ کبھی شرک کی پستی کو قبول نہیں کرے۔

توہّم پرستی سے باہر لانے والی دلیل

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دی تو ان کی قوم نے انھیں اپنے معبودوں کے خلاف بولنے سے ڈرایا کہ اگر یہ بت ناراض ہوگئے تو تمھاری خیر نہیں ۔

یہ ڈراوا توہّم پرستی پر مبنی تھا۔ اس بات کا ان کے پاس کچھ ثبوت نہیں تھا کہ وہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں، لیکن توہمّات نے انھیں گھیرے میں لے رکھا تھا۔ وہ خود بھی ڈرتے اور دوسروں کو بھی ڈراتے۔

ابراہیم علیہ السلام نے انھیں اس توہّم پرستی سے نکال کر حقیقی خطرے سے ڈرایا ۔ انھیں بتایاکہ ڈرنے کے لایق تو بس ایک اللہ کی ذات ہے۔ اور امان بھی اسی کو راضی کرنے سے ملے گی۔ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے اسے ڈرنا چاہیے کہ وہ اللہ کی شان میں اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کررہا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ پر ایمان لا کر اس کی طرف یکسو ہوجائے اور شرک سے خود کو پاک کرلے اسے یقین ہونا چاہیے کہ اس نے امن وسلامتی کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ (دیکھیں: سورۃ الأنعام: ۸۰ تا ۸۳)

یہ نفسِ انسانی کی گہرائی میں اترنے اور اس کے اندر بہت بڑا انقلاب لانے والی دلیل ہے۔

وہم وگمان کی دنیا میں خوف ہی خوف ہے، اطمینان نہیں ہوتا۔ توحید کے سائے میں بندہ مومن کو حقیقی اطمینان نصیب ہوتا ہے اور امن وسلامتی کا گہرا احساس ہوتا ہے۔ جس کائنات میں سورج چاند اور تارے سب اللہ کے حکم سے طلوع وغروب ہوتے ہوں، وہاں شرک سے زیادہ کس برائی سے ڈرا جائے، اور توحید سے زیادہ کس عقیدے میں اطمینان پایا جائے۔

شرک کی ہر صورت کا گھیراؤ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے شرک کی تین قسمیں تھیں، یہی تینوں قسمیں عام طور سے دنیا بھر میں پائی گئی ہیں:

بتوں کی پوجا،   کائنات کی چیزوں کی پوجا  اور اپنی خدائی کا دعوی کرنے والے بادشاہ کی پوجا۔

ابراہیم علیہ السلام نے تینوں طرح کے شرک کی نفی کی اور ان میں سے ہر ایک کا مقابلہ دلائل سے کیا۔

بتوں کی پوجا کے خلاف دلیل دی:

‎قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا ینفَعُكُمْ شَیئًا وَلَا یضُرُّكُمْ‏ أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ الأنبیاء: ۶۶، ۶۷)

ابراہیمؑ نے کہا “پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان۔افسوس ہے تم پر اور تمہارے اِن معبُودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کر رہے ہو کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟”

کائنات کی چیزوں کی پوجا کے خلاف دلیل دی:

قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِینَ (سورۃ الأنعام: ۷۶)

(بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں)

بادشاہ کے خدائی کے دعوے کے خلاف دلیل دی:

قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ یأْتِی بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ (سورۃ البقرة ٢٥٨)

(کہا: “اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اُسے مغرب سے نکال لا”)

ان تینوں دلائل میں باہمی ربط ہے۔ بتوں کے سلسلے میں کہا کہ وہ نفع نقصان نہیں پہنچاسکتے۔ سورج چاند ستارے نفع بخش ضرور ہیں، ان کے اندر عظمت وبلندی بھی ہے، لیکن وہ ڈوب جاتے ہیں۔اور خدائی کا دعوی کرنے والا بادشاہ تو اتنا بے بس انسان ہے کہ وہ ڈوبنے والے سورج پر بھی ذرا قدرت نہیں رکھتا ۔ یہ تینوں دلائل جمع ہوکر شرک کا بالکل قلع قمع کردیتے ہیں۔ خدائی کے لایق تو بس وہی ذات ہے جو نفع نقصان کی مالک ہے، جو بلند وبرتر ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں پوری کائنات ہے۔

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے زمانے میں موجود شرک کی ہر صورت کے خلاف دعوت کا محاذ کھولا۔ دورِ حاضر کے داعیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے دور میں رائج شرک کی صورتوں کا جائزہ لیں، اور ان سب کے خلاف اپنی دعوتی مہم چھیڑ دیں۔

دلائل کا مضبوط شبکہ

ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ کس طرح دعوتی مکالمے کرتے، اس کی ایک مثال درج ذیل آیتیں ہیں۔

وَاتْلُ عَلَیهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِیم إِذْ قَالَ لِأَبِیهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِینَ قَالَ هَلْ یسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ أَوْ ینفَعُونَكُمْ أَوْ یضُرُّونَ قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ یفْعَلُونَ قَالَ أَفَرَأَیتُم مَّا كُنتُمْ تَعْبُدُونَ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّی إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِینَ الَّذِی خَلَقَنِی فَهُوَ یهْدِینِ وَالَّذِی هُوَ یطْعِمُنِی وَیسْقِینِ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یشْفِینِ ‎ وَالَّذِی یمِیتُنِی ثُمَّ یحْیینِ وَالَّذِی أَطْمَعُ أَن یغْفِرَ لِی خَطِیئَتِی یوْمَ الدِّینِ ( سورۃ الشعراء: ۶۹ تا ۸۲)

(اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ “یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟”انھوں نے جواب دیا “کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انھی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں”۔ اس نے پوچھا “کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انھیں پکارتے ہو؟یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟”انھوں نے جواب دیا “نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے”اس پر ابراہیمؑ نے کہا “کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے۔جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہ نمائی فرماتا ہے۔ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا۔ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا”)

اس مکالمے میں دیکھیں کہ ابراہیم علیہ السلام اپنی بت پرست قوم سے سوال کرتے ہیں،”کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انھیں پکارتے ہو؟یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟” ان سوالوں کے ذریعے آپ نے بت پرستی کا بے بنیاد اور خلاِف عقل ہونا واضح کردیا۔

ابراہیم علیہ السلام کے سوالوں کا ان لوگوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا سوائے اس کے کہ انھوں نے اپنے آبا واجداد کو ایسے ہی کرتے پایا۔ آپ نے ان کے زاویہِ نظر کو درست کرنے کی کوشش کی کہ اللہ نے تمھیں عقل ونظر دی ہے۔ اتنے اہم سوال کو آبا واجداد پر ڈالنے کے بجائے خود دیکھو اور سوچو۔

ابراہیم علیہ السلام نے ان کے سامنے توحید کے دلائل رکھے، کہ اللہ خالق ہے، رازق ہے، شفا کار اور مشکل کشا ہے۔ موت اور زندگی کا مالک ہے۔ وہ خالق ہے تو اس نے جینے کا سلیقہ بتانے کے لیے ہدایت کا انتظام بھی کیا ہے۔ اور حساب کے دن اسی کے رحم وکرم سے نجات کی امید باندھی جاسکتی ہے۔

یہ صرف دعوے نہیں ہیں، یہ ایک دوسرے سے مربوط مضبوط دلائل ہیں۔ اور یہ بہت موثر دلائل ہیں۔ یہ عقل کو بھی مخاطب کرتے ہیں اور دل کو بھی۔ یہ شکر کے جذبات بھی جگاتے ہیں اور انجام کے سلسلے میں فکر مند بھی کرتے ہیں۔

ان دلائل کی آب وتاب آج بھی قائم ودائم ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے خلق کا مسلسل عمل، رزق کا لا متناہی انتظام، بیماری سے شفا کا انوکھا نظام، موت وحیات کا ہر آن گھومتا ہوا پہیہ، یہ سب بہت بڑی اور نہایت روشن دلیلیں ہیں۔توحید، رسالت اور آخرت تینوں کے حق میں۔

سوچنے پر مجبور کرنے والی دلیل

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بت پرست قوم کو مختلف عقلی دلائل سے سمجھایا۔ پوری کائنات کو ان کے سامنے بطور گواہ پیش کردیا۔ آخر میں ان کے سامنے ایک ایسی دلیل پیش کی جس نے انھیں سوچنے پر مجبور کردیا۔ یہ دلیل خطرات سے بھرپور تھی۔ قوم کے سب لوگ کہیں باہر میلے میں چلے گئے۔ آپ بیمار تھے اس لیے جانے سے معذرت کرلی۔ آپ معبد میں گئے۔ معبد کا متولی آپ کا باپ آزر تھا۔آپ نے تمام بت توڑ ڈالے صرف بڑے والے کو چھوڑ دیا۔ وہ لوگ واپس آئے، بتوں کا حال دیکھا، غصے میں آپے سے باہر ہوگئے، ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا یہ کس نے کیا، آپ نے جواب دیا ہو نہ ہو یہ تو اس بڑے والے نے کیا ہے، اگر یہ بولتے ہوں تو ان سے پوچھ لو۔ دلیل اتنی زبردست تھی کہ وہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر ان کی جاہلیت وبت پرستی نے جوش مارا اور انھوں نے روشن دلیل کو تسلیم کرنے کے بجائے الٹا ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں ڈال دیا۔اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو ٹھنڈا کردیا اور آپ کی دلیل کو قیام تک کے لیے محفوظ کردیا۔ (دیکھیں: سورۃ الأنبیاء: ۵۱ تا ۷۰)

شرک وبت پرستی کے خلاف یہ عظیم الشان دلیل قیامت تک کے لیے قائم ہوگئی ہے۔ اب دوبارہ بتوں کو توڑ کر بت پرستی کے خلاف دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا حوالہ دے دینا کافی ہے۔

داعی کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ دعوت کی راہ میں دلائل کی پوری طاقت جھونک دے۔

دلائل کا اثاثہ بڑھاتے رہیں

ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالی سے درخواست کی : میرے رب مجھے دکھا تو مردوں کو زندہ کیسے کرتا ہے۔اللہ نے کہا: کیا تو ایمان نہیں رکھتا۔ انھوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن اس لیے کہ میرے دل کو اطمینان حاصل ہوجائے۔اللہ نے پھر اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا۔ (دیکھیں: سورۃ البقرۃ: ۲۶۰)

اس واقعہ کی تفصیلات سے قطع نظر، اس سے یہ بات تو معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو دلائل جمع کرنے کا شوق تھا اور اللہ نے اس شوق کی تکمیل بھی فرمائی تھی۔

اس واقعہ سے پہلے دو واقعات اور بیان ہوئے ہیں، تینوں واقعات کا تقابل کریں تو تین طرح کے نمونے سامنے آتے ہیں:

بادشاہ نے کہا: أنا أحیی وأمیت ۔(میں زندہ کرتا ہوں اور موت دیتا ہوں) یہ موت اور زندگی دینے کے تعلق سے بے دلیل دعوی ہے ۔

ایک شخص نے کہا: أنی یحیی ھذہ اللہ بعد موتھا۔ (اس بستی کو مردہ ہونے کے بعد اللہ کیسے زندہ کرسکتا ہے، یہ بعید بات ہے) یہ مرنے کے بعد زندہ کرنے کی اللہ کی قدرت کا انکار ہے۔(اسلوب کلام کی روشنی میں ہماری رائے یہ ہے کہ یہ کسی منکرِ خدا کا قول ہے۔)

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے کہا: رب أرنی کیف تحیی الموتی ۔ ( میرے رب مجھے دکھا کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرتا ہے) یہ ایمان رکھتے ہوئے بھی مزید دلیل پالینے کی سچی طلب ہے۔اس سے شوق کی تکمیل ہوتی ہے اور دل کو فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ جسے یہاں اطمینان قلب کہا گیا ہے۔ یہ ایمان سے بالکل الگ ایک کیفیت کا نام ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ایک مومن صادق کے ذہن کی اچانک کسی عقلی دلیل تک رسائی ہوجائے یا کائنات کی کسی نئی نشانی کا مشاہدہ ہوجائے اور اس کا دل خوشی اور اطمینان سے سرشار ہوجائے۔ حالاں کہ وہ پہلے بھی روشن دلائل کی بنیاد پر ہی ایمان رکھتا تھا۔

ایک داعی کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اندر دلائل کا سفر جاری رکھے۔ ابراہیم علیہ السلام ایک طرف تو بادشاہ سے کہتے ہیں : ربی الذی یحیی ویمیت، اپنی قوم سے کہتے ہیں: وَالَّذِی یمِیتُنِی ثُمَّ یحْیین،اور دوسری طرف وہی ابراہیم علیہ السلام اللہ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں :رب أرنی کیف تحیی الموتی۔ یہ ایک پُرشوق داعی کی سچی کیفیت ہے۔وہ جس دعوت کولے کر لوگوں کے پاس جاتا ہے، وہ دعوت خود اس کے عقل ودل پر ایک شوق اور ایک فکر بن کر چھائی رہتی ہے۔

ابراہیم علیہ السلام اللہ کے مقرّب تھے، انھیں اللہ سے گفتگو کا موقع حاصل تھا، انھوں نے رب أرنی کیف تحیی الموتی کہہ کراطمینان کی راہ تلاش کی۔ داعی دین کو چاہیے کہ وہ اللہ کے کلام میں تدبر کرکے اور آفاق و انفس پر غور کرکے اپنے دلائل کو بڑھاتا رہے اور اطمینان قلب کا لطف اٹھاتا رہے۔

یاد رہے آپ کا اندرون جس قدر دلائل سے مالا مال ہوگا آپ دوسروں سے بھی اسی قدر مدلل گفتگو کرسکیں گے۔ آپ کے دل میں جس قدر اطمینان کی کیفیت ہوگی، آپ کی داعیانہ گفتگو بھی اسی قدر پُر اعتماد ہوگی۔

دلائل کی قدر کرنے والے بنیں

ابراہیم علیہ السلام کے دعوتی تذکرے ہمیں دلائل کی قدر و منزلت اور اہمیت وضرورت سے واقف کراتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ ہم سے خود اپنا مزاج درست کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اتفاق وتائید اور اختلاف و تنقید دلیل پر مبنی ہوں۔ دلائل پسندی ہمارے مزاج کا حصہ بن جائے۔ نہ ہم قدامت پسند بنیں نہ تجدد پسند۔ نہ جمہور پرستی قبول کریں نہ تفرد پسندی کا شوق پالیں۔ ہر موقف کا دلائل کی روشنی میں جائزہ لیں، اور تمام دلائل کا معروضی تجزیہ کریں۔ دلائل کا وزن جس کے حق میں ہو اس کی تائید کریں اور جس سے اختلاف کریں دلائل کی بنیاد پر کریں۔

دلائل کی قدرت جمع کرتے رہیں

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعوت زندگی میں قسم قسم کے دلائل پیش کیے۔ وہ دلائل نہایت طاقت ور اور مخاطب کے لیے بالکل انوکھے اور چونکادینے والے ہوتے۔ ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دلیل کے ہتھیاروں سے ہمیشہ لیس رہیں۔ اس کے لیے علمی اور فکری پہلو سے خود کو تیار کرتے رہیں۔ ان کی ہر گفتگو استدلال کے زیور سے آراستہ ہو۔ کم زور دلائل کا کبھی سہارا نہ لیں۔ ہمیشہ قوی سے قوی تر دلیل رکھنے کی کوشش کریں۔

دلیل کے زور کے ساتھ دل کا سوز بھی

انسانوں کی ہدایت کے لیے ابراہیم علیہ السلام کس قدر بے چین رہتے تھے، وہ آپ کے تذکروں میں بہت نمایاں ہے۔ آپ کے سوزِ دل کی بہترین تعبیر قرآن مجید میں ملتی ہے، فرمایا: إِنَّ إِبْرَاهِیمَ لَحَلِیمٌ أَوَّاهٌ مُّنِیبٌ (سورۃ هود: ۷۵) (بے شک ابراہیم نہایت ہی بردبار، درد مند اور اپنے رب سے لو لگانے والا تھا)

حقیقت یہ ہے کہ دلیل کے زور کے ساتھ جب تک دل کا درد و سوز شامل نہ ہو، دلائل سے آراستہ گفتگو بھی دل میں اترنے اور زندگی کو بدلنے والی دعوت نہیں ہوتی ہے، وہ محض مناظرہ اور ڈبیٹ ہوتا ہے، جس میں ہار جیت سے آگے بات نہیں بڑھ پاتی ہے۔دلیل کی روشنی صحیح اور غلط کا فرق واضح کرتی ہے، جب کہ دل کا سوز قبول حق کے جذبے کو بیدار کرتا اور متاعِ گم شدہ پالینے کا احساس عطا کرتا ہے اور یہی دعوت کی کام یابی ہے۔

اگست 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau