ہندوستان میں دین کی دعوت

مشکلیں، رکاوٹیں، راہیں

محمد اقبال ملا

یہ مضمون صاحب تحریر کی کتاب فریضہ اقامت دین کا ایک باب ہے۔

 

دنیا کا کوئی کام رکاوٹوں اورمشکلات کے بغیر ہی پورا ہوجائے، یہ ممکن نہیں ہے۔ انسان جب کوئی کام کرنے کے لیے آگے بڑھتا ہے تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کام بڑا ہو، دور رس نتائج کا حامل ہو، اثرات بڑے رکھتا ہوتو پھر مشکلات بھی زیادہ پیش آسکتی ہیں، مثلاً ایک جھونپڑی تیارکرنا ہے، اس کےلیے کچھ مشکلات ہوسکتی ہیں، لیکن اگر ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کرنا ہے تو اس کے لیے غور کیجیے، کتنے صبر آزما مراحل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟

دعوت کا کام انسانوں تک اللہ کا پیغام، اس کی رہ نمائی اوراس کی تعلیمات کو پہنچانے کا کام ہے۔ جن انسانوں میں یہ کام کرنا ہوتا ہے وہ ایک طرح کے لوگ نہیں ہوتے۔ مختلف خاندانی پس منظر، سماجی حیثیت اور صلاحیتوں کے ہوتے ہیں۔ لیکن دعوت ان سب کی فطرت  کی آواز ہے۔ دعوت ان کی ضرورت ہے۔یقیناً راہ دعوت کا رکاوٹوں اور مشکلات کے بغیر تصور کرنا محال ہے لیکن رکاوٹوں اور مشکلات کی وجہ سے اس راہ کا سفر ترک کرنا یا سفر کرتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچنے سے بہت پہلے ہی واپسی بلکہ پسپائی اختیار کرنا درست نہیں ہے۔

دعوت کے اس خاص پہلو کو ذہن میں رکھ کر جب ہم انبیاءکی دعوتی تاریخ کے مستند اوراصل ماخذ قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو دنگ رہ جاتے ہیں۔جن مشکلات اور رکاوٹوں کا انبیاء نے سامنا کیا ان کا تصور بھی ہمارے لیے بہت مشکل ہے۔ اس کے باوجود انبیاء مستقل مزاجی، ثابت قدمی اورمشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل دعوت کا کام انجام دیتے رہے۔

دعوت کا کام کو کرتے ہوئے رکاوٹوں اور مشکلات کی اصل حیثیت کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کہ

  1. وہ داعیوں کی تربیت کے لیے پیش آرہی ہوں۔
  2. ابتدائی مشکلات کے بعد دعوت کے فروغ کے لیے معاون ثابت ہوں۔
  3. اللہ تعالیٰ داعیان کا امتحان لے رہا ہو،مخلص اوروفادار لوگ کتنے ہیں؟وہ ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں یا نہیں؟

راہ دعوت کبھی پھولوں کی سیج نہیں رہی۔ وہ کانٹوں سے بھری ہوئی راہ ہے۔لیکن یہی وہ راہ ہے جس کے مسافر کے لیے اللہ کی بے پایاں نصرت اورتائید شامل حال ہوکر اسے کام یاب بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ داعیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ کبھی بےیار ومددگار نہیں ہوتے۔

رکاوٹیں اور مشکلات داخلی اور خارجی دونوں طرح کی ہوتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض کا تعلق مسلمانوں سے ہے اور بعض کا تعلق برادران وطن سے ہے۔ بعض رکاوٹوں کا تعلق ماضی سے رہا ہے، لیکن ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوا، ابھی تک جاری ہے، بعض حال سے متعلق ہیں، لیکن مستقبل پر اثر انداز ہونے والی ہیں۔

بعض رکاوٹیں جو مسلمانوں سے متعلق ہیں ان کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

مسلمانوں کا آزادی کے بعد ایک عرصہ تک مزاج یہ بنارہا کہ وہ اس ملک کے حاکم رہے ہیں۔ان کے آبا نےآٹھ سو( ۸۰۰) برس تک اس ملک پر حکومت کی ہے۔جس کے تاریخی آثار اس ملک کے مختلف حصوں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔

  1. مسلمان اس ملک میں صدیوں تک حکم راں رہے۔ اس کے بعد وہ ہندوؤں کے ساتھ انگریزوں کے غلام رہے۔آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پہلی جنگ آزادی ۱۸۵۷کی دردناک داستان کے اصل ہیرو تو دراصل مسلمان ہی ہیں۔انگریزوں نے اپنا سب سے بڑا دشمن مسلمان ہی کو سمجھا۔

لیکن آزاد ہندوستان میں مسلمانوں نے سکون واطمینان سے دوسروں کے ساتھ مل جل کر اپنے ملک کی تعمیر وترقی کاجو خواب دیکھا وہ شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکا۔ یک طرفہ فسادات، جو ہزاروں کی تعداد میں مسلسل ہوتےر ہے، جن کے نتیجے میں مسلمانوں کی معاشی خستہ حالی میں اضافہ ہوا اور پس ماندگی بڑھی ۔ تقسیم ملک کا غلط الزام بھی مسلمانوں پرلگایا گیا۔ تعلیمی اور سماجی اعتبار سےان کی پس ماندگی بڑھتی گئی۔ مسلمان سمجھتے رہے کہ اس کے لیے حکم راں طبقہ اور اکثریت ذمہ دار ہے۔ان کی اپنی داخلی کم زوریاں بھی تھیں۔ ان سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اکثریت سے ذہنی، فکری اور عملی طور پر نہ صرف دوری کا شکار ہوئے، بلکہ دونوں کے درمیان اجنبیت، بیگانگی،بے اعتمادی، دوری اور تلخی بڑھتی گئی۔ فرقہ پرست اور فسطائی عناصر کی کوششیں مزید صورت حال کو خراب کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں کی آپس میں ایک دوسرے سے سیاسی اور فرقہ وارانہ کش مکش نے صورت حال کو مزید خراب کردیا۔ دعوت تو تمام انسانوں کو مدعو بناتی ہے۔ نفرت، دوری اور بے اعتمادی کی فضا دعوت کے لیے زہر ہے۔ ادھر کچھ عرصے سے ہندوتوا تحریک نے پوری ملکی فضا کو شدید نفرت، تعصب اور فرقہ وارانہ منافرت سے بھردیا ہے۔ملک کا سماجی تانا بانا بکھرگیا ہے۔اکثریت اور اقلیت دونوں کو باہم ایک دوسرے کے حریف اور متصادم گروہوں کے طور پر ابھارا جارہاہے۔ میڈیا پوری قوت سے مسلمانوں کو ملک اور اکثریت کا دشمن ثابت کرنے پرتُلا ہواہے۔

ایسی صورت حال میں دعوت کے مفاد کے لیے مسلمانوں کو داعیانہ ذہن و فکر اور سیرت و کردار کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔دعوت کے بغیر ان حالات کو بدلنے کی کوئی دوسری صورت ممکن نہیں ہے۔ مسلمان کوئی قوم اور محض ایک اقلیت نہیں ہیں، وہ اللہ کے دین کے داعی اور سارے انسانوں کے خیر خواہ ہیں۔ وہ تمام انسانوں سے محبت کریں اور کسی سے نفرت نہ کریں۔ سب کو مدعو سمجھیں۔ داعی اور مدعو کا رشتہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے۔ اس رشتے کو نبھانے اوراس کے تقاضے پورے کرنے کا اب وقت آگیا ہے۔اس سلسلے میں مسلمان غلطی نہ کریں۔حقائق کو سامنے رکھیں۔اس اہم حقیقت کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ برادران وطن ( مدعوین) کی بہت بڑی اکثریت آج بھی مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔ان کی اکثریت مسلمانوں سے محبت کرتی ہے۔ ان کے مسائل کے سلسلے میں ہم دردانہ ذہن وفکر کی حامل ہے۔مسلمانوں کے لیے مختلف پلیٹ فارم سے آوا ز بلند کرتی ہے۔ اس ملک کی اکثریت کی ایک قلیل اقلیت اسلاموفوبیا کے زہریلے پروپیگنڈہ سے متاثرہے لیکن یہ ان کا مستقل ذہن نہیں ہے۔ان کے سامنے جب صحیح باتیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ تسلیم کرتے ہیں۔اب مسلمانوں کے پاس دعوت کاکام کرنے اور اس راہ میں اپنی صلاحیتوں اور اپنے وسائل کو جھونک دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں ہے۔ حالات تو بتارہے ہیں کہ دعوت دیں ورنہ ہلاکت کا سامنا کریں (خدانہ کرے ایساہو)۔ آج بھی دعوت اس ملک کی اکثریت کے ذہن وقلب کو بدل کر رکھ دے گی۔دعوت انسان کے قلب کو مسخر کرتی ہے۔یہ طاقت مسلمانوں کوسیاسی، معاشی اور تعلیمی کوششوں کے ذریعہ حاصل نہیں ہوسکتی۔ان کوششوں کی اہمیت اورقدرکو کم نہیں کیا جارہا ہے لیکن اصل تدبیر دعوت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۰ۭ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ۰ وَاللہُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۰ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۔

(اے رسول ﷺ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیاگیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبر ی کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلے میں) کام یابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔) (المائدۃ:۶۷)

اس آیت کا ایک ایک لفظ ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے دعوت غوروفکر اور پیام عمل دے رہاہے۔ آیت کے آخری حصےمیں مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دواہم باتیں بتائی گئی ہیں:

۱- اللہ تعالیٰ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔

۲- یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلے میں ) کام یابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمدﷺ سے کیا تھا۔ مسلمانوں پر اس کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ بڑی غلط فہمی ہے۔ اسی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی لکھتے ہیں :

‘‘ایسی حفاظت اگرچہ رسولوں کے ساتھ خاص ہے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کی رسالت کے صدقے مسلمانوں کو بھی اس سے محروم نہیں رکھا گیا اور ان کے لیے ایک مستقل قانون بنادیا گیا،جس کی طرف اشارہ اس آیت کے آخری حصے میں ہے۔ فرمایا:اِنَّ اللہَ لَایَھْدِیْ الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ‘‘بے شک اللہ کافروں کی قوم کو کام یابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔’’

یعنی اس کا قانون یہ ہے کہ اگر ایک طرف مسلمانوں کا ایک ایسا گروہ ہو جو تدبیر میں بھی اور اطاعت وعمل میں بھی اسلام کی پوری تصویر ہواور پھر وہ اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر اور شہادت حق (علی الناس) کا فر یضہ انجام دیتے ہوئے اپنے ملی دفاع کے لیے اٹھتاہے اوراس کے مقابلے میں ایک ایسا کافر گروہ ہو جو ان مسلمانوں کو صرف اس لیے مٹادینا چاہتا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی بات کیوں کرتے ہیں؟ اور ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے جینا اور مرنا چاہتے ہیں اور اسی کے نام کی عظمت اور اسی کے بندوں کی حفاظت کے لیے سرہتھیلی پررکھ آئے ہیں ،ایسی صورت میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ ۳۱۳ بھی ہوں تو ایک ہزار کے سامنے بھی سرنگوں نہیں ہوتے اور اللہ انھیں ہمیشہ فتح اور کام رانی سے نوازتا ہے۔’’ (تفسیر روح القرآن جلد سوم ،صفحہ ۲۴۲،۲۴۳)

اس آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان اگردعوت کے فریضہ کو ادا کرنے لگیں گے اور اس راہ میں وہ مخالفین کی شدید مخالفت اور مزاحمت کا شکار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک طرف تو ان کی نصرت فرمائے گا، دوسری طرف مخالفین کی تدبیروں اوران کے منصوبوں کو ناکام کردے گا۔

سب سے پہلے برادران وطن کے تعلق سے مسلمانوں کی عمومی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔الحمد للہ مسلمانوں میں صحیح شعور رکھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے لیکن پوری ملت کی سوچ قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہونی چاہیے۔ برادران وطن کو دعوت کے تعارف، ان پر اس کی حجّت تمام کرنے اوراس کے تعلق سے ان کے رویے اورفیصلوں کے مرحلے سے بہت پہلے کافر اور مشرک قراردینا صحیح نہیں ہے۔مسلمان اپنی طرف سے انھیں جہنم میں بھیج کراطمینان کا سانس نہیں لے سکتے۔ کیوں کہ ان کے سامنے تو مسلمانوں نے اسلام کا سیدھاسادہ تعارف تک نہیں کرایا ہے۔باقی رہی ان کی عملی زندگیاں تو وہ اسلام کی ترجمان نہیں ہیں، بلکہ مسلمانوں کی غلط ترجمانی اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔اس لیے مسلمان برادران وطن کو اپنا بھائی سمجھیں۔ یہ بات زبانی جمع خرچ کی حد تک نہ ہو،مسلمان واقعی ان کو بھائی سمجھیں۔ پھران کا اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان سے ملاقاتیں، تعارف، دوستی اور مسلسل تعلقات بڑھائیں۔ دوسرا اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ خاندانی سطح پران سے ملاقاتوں کا سلسلہ رکھیں۔ ان دو ابتدائی کاموں کے بے شمار فائدے ہوں گے۔دعوت کے تعارف کے لیے یہ ابتدائی اقدامات ناگزیر ہیں۔اس کے آگے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان کے ساتھ خوشی، غم، بیماری، تقریبات اور پروگراموں میں ملنے جلنے اور آنے جانے، تحفے تحائف کے تبادلےاور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ اس دوران قرآن کی کوئی آیت، کوئی حدیث اوراسلام کے بارے میں کوئی بات ان سے کہہ دیں۔ وہ ناراض نہیں ہوتےبلکہ خوش ہوتے اور پسند کرتے ہیں۔کیوں کہ یہ باتیں ان کو بتانے والا کوئی دوسرا آپ کے علاوہ نہیں ہے۔ اخلاق اور روحانیت کی یہ باتیں سن کر برادران وطن محسوس کریں کہ مسلمان ان کے حقیقی خیر خواہ اور ہم درد ہیں۔ مسلمان ان کی فلاح وبہبود کے لیے فکرمند ہیں۔ خداپرست ہیں اور اسی کی دعوت اپنے ہم وطنوں کو دے رہے ہیں۔غرض یہ کہ مسلمانوں کی ایک نئی تصویربنانے کی ضرورت ہے۔

اسی سے جڑا ہوا ایک اورمسئلہ ہے جو فوری توجہ چاہتا ہے۔ الحمدللہ مسلمان اس ملک کے ہمیشہ وفادار رہے ہیں، انھوں نے کبھی اس ملک کو پرایا نہیں سمجھا، بلکہ اپنا ملک سمجھا اور اپنی استطاعت بھر اس کی خدمت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک تکثیری سماج (plural society) میں وہ دوسرے مذاہب اور دوسرے کلچر سے دور ہیں۔ برادران وطن کو باور کرایا جاتا ہے کہ اسلام ہی اس کے لیے اصل ذمہ دار ہے۔

ملک اور سماج کے مسائل سے مسلمانوں کوکوئی دل چسپی نہیں ہے۔ (یہ بات جزوی حد تک درست ہوسکتی ہے لیکن کلی حد تک درست نہیں ہے) ان کے مسائل عیدگاہ، قبرستان، مساجد، وقف اور پرسنل لا کے علاوہ کچھ نہیں۔ ملک کے سنگین مسائل سے ان کو کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ مختلف پلیٹ فارموں پر سنجیدہ مباحث ہوتے رہتے ہیں۔ کانفرنس، جلسے جلوس اورر یلیاں نکلتی ہیں، لیکن ان سب میں مسلمانوں کی شرکت بہت کم ہوتی ہے۔یہ مسلمانوں کی امیج بنائی گئی ہے۔اس میں تھوڑا بہت دخل مسلمانوں کی کوتاہی کا بھی ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کے بہت سے قائدین ملکی مسائل میں دل چسپی لیتے ہیں ناور اظہارخیال بھی کرتے ہیں۔سوال کروڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کے مجموعی رویے اور طرز عمل کا ہے۔اگر دعوت کے مفاد کو سامنے رکھیں تو ملکی سماج اور برادران وطن کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونا اور اپنی آواز بلند کرنا ضروری ہے۔

ایک دوسرا مسئلہ مسلمانوں کے اندر برادران وطن کے متعلق غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا ہے۔برادران وطن خود حق کی تلاش میں حیران وپریشان بھٹک رہے ہیں۔وہ سنگین مسائل سے دوچارہیں۔لیکن ان کے سامنےان کا کوئی حل نہیں ہے۔ عام برادران وطن، ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات، دانش وران اور بااثر لوگ سب حل کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔یہ دعوت ان کے درد کا درماں ہے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے پوری جرأت اورحکمت کے ساتھ ان کے سامنے مسائل کے حل کے لیے دعوت پیش کریں۔اب تک مسلمانوں نے اس خدائی نسخہ ( دعوت) سے فائدہ نہیں اٹھایاہے۔ایک بار وہ دعوت کو لے کرکھڑے ہوں۔ان شاء اللہ بتدریج حالات کی تبدیلی کے وہ چشم دیدگواہ ہوں گے۔

برادران وطن کی اکثریت نہ اسلام دشمن ہے نہ مسلم دشمن۔جو مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں ان کو کیوں دشمن سمجھ کر معاملہ کیاجائے۔ کیا اس طرح کے غلط تصور کے تحت برادران وطن سے معاملات کیے جائیں گےتو اس سے کوئی مسئلہ حل ہوگا یا مسائل میں مزید اضافہ ہی ہوگا؟

ایک رکاوٹ راہ دعوت میں مسلمانوں کا بگڑا ہوا معاشرہ بھی ہے۔مختلف مواقع پردعوت کا تعارف کرانے، حضرت محمدﷺ کی مبارک سیرت کے واقعات پیش کرنے کے بعد برادران وطن بے حد متاثر ہوتے ہیں۔وہ پوچھتے ہیں کہ ان تعلیمات پرعمل کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟کبھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں اتنا بگاڑ ہے۔ پہلے آپ ان کو ٹھیک کیوں نہیں کرتے؟ مسلمانوں کے اخلاقی اور سماجی بگاڑ کے ساتھ ان کی تعلیمی اور معاشی پس ماندگی بھی ایک رکاوٹ ہے۔لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے پُرآشوب حالات میں بھی برادران وطن کی سعید روحیں برابر دعوتِ حق قبول کررہی ہیں۔مسلمانوں کی مذکورہ کم زوریاں دعوت حق قبول کرنے میں ان کے لیے رکاوٹ نہیں بن رہی ہیں۔ عام طور پر برادران وطن یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کی کم زوریوں کے لیے کہیں نہ کہیں اسلام کی تعلیمات (نعوذ باللہ ) ذمہ دار ہیں۔ ان کے نزدیک تقریباً ڈیڑھ ہزار سال قبل محمدﷺ نے اسلام کی بنیاد رکھی اور اس وقت کے حالات میں قرآن مجید لکھا (نعوذ باللہ) آج حالات بہت بدل گئے ہیں، اس لیے اس وقت کی تعلیمات کو جوں کا توں لے کر چلنا پس ماندگی کو دعوت دینا ہے۔ اس لیے اسلام کی تعلیمات کو اس دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ دیکھیے کہ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی؟اس ضمن میں بعض حقائق پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی مسلمان مجموعی حیثیت میں سماجی اور اخلاقی اعتبار سے بہتر مقام پر ہیں۔ خاص طور پر جب ان کا موازنہ دوسروں سےکیاجاتاہے۔ لیکن ان کی معاشی اور تعلیمی پس ماندگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے اسباب اور عوامل پرگفتگو کایہاں موقع نہیں ہے۔ لیکن ایک بات بالکل واضح رہنی چاہیے کہ آج مسلمانوں کی اس پس ماندگی اور سماجی واخلاقی خرابیوں کے لیے اسلام ذمہ دار نہیں ہے۔

اس ملک میں میڈیا مسلمانوں پر ہمیشہ بہت مہربان رہا ہے۔ مسلمانوں کی کوئی خوبی تو اسے کبھی نظر نہیں آتی، البتہ جو کم زوری یا کم زوریاں نظر آتی ہیں تو اسے اس طرح پیش کرتا ہے گویا مسلمانوں کے علاوہ سب اچھے ہی اچھے ہیں۔ ملک میں یہی ایک فرقہ خراب ہے ،وہ کوئی خیر،کوئی خوبی اور کوئی اچھائی نہیں رکھتا۔اس کی کم زوریوں اور خرابیوں کے لیے ان کا مذہب ذمہ دارہے۔

ظاہر ہے ان مسائل کا حل تلاش کرنا اور ان کی پس ماندگی کو دور کرنا آسان نہیں ہے۔ سچر کمیٹی نےاس سلسلے میں اپنی اہم رپورٹ اورسفارشات پیش کی تھیں۔ کوئی حکومت مسلمانوں کے تئیں پوری طرح مخلص نہیں ہے۔ مسلمان خود اپنے بل بوتے پرطے کرلیں کہ معاشی اور تعلیمی پس ماندگی کو دور کرناہے۔ حکومتوں کے تعاون، اسکیموں اور منصوبوں سے استفادہ ٹھیک ہے، لیکن کسی بھی حکومت (مرکزی ہوکہ ریاستی) پر انحصار نہ کریں۔ ان کوششوں کےساتھ وہ دعوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے تو ان شاء اللہ ان کے حالات میں تبدیلی آنے لگے گی۔ انھیں خوداپنی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے سرگرم عمل ہونا پڑے گا۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ عرب میں اسلام سے پہلے عربوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی و اخلاقی حالت کیا تھی؟اسلام کے  آنے کے بعد عرب میں انقلاب برپا ہوگیا، یہ دعوت جہاں جہاں پہنچی وہاں بھی ان قوموں کے حالات بدل گئے۔

دعوت کی کوششوں کی راہ میں ایک رکاوٹ مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی اونچ نیچ یعنی برادری اور ذات پات کے غیراسلامی تصورات ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ داعی کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے مسلمانوں میں اس کی اصلاح بھی کریں۔ برادران وطن کو بھی بتانا چاہیے کہ برادری واد سے اسلام کاکچھ لینا دینا نہیں ہے۔اس ملک میں مسلمانوں کے اندر یہ غیراسلامی طرز عمل دوسرے سماجوں سے آیا ہے۔ مسلمانوں کی جماعتیں، تنظیمیں اورعلمانہ صرف اس کے خلاف ہیں، بلکہ مسلسل اصلاح کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

مسلمانوں کے مختلف مسالک، جماعتوں اور تنظیموں کے مابین تنگ نظری اور شدت پسندی بھی ایک رکاوٹ ہے۔ بعض موقعوں پر برادران وطن اسلام کی بات سنتے ہی پوچھتے ہیں کہ کون سا اسلام؟ شیعہ اسلام، سنی اسلام، دیوبندی، بریلوی یا سلفی اسلام؟

اس سلسلے میں برادران وطن کے سامنے حقائق کو پیش کرنا چاہیے کہ اسلام قرآن و سنت اور اسوہ رسول پرقائم ہے۔ جزوی اور فروعی باتوں میں معمولی درجے کے اختلافات ہیں، جو حدود کے اندر ہوتے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن ہر گروہ میں کچھ شدت پسند ہوتے ہیں جو معمولی اختلافات کو سنگین بناکر کفر و اسلام کا مسئلہ بنادیتے ہیں۔انھیں بتانا چاہیے کہ مسلمانوں کے مسالک، تنظیموں اورجماعتوں میں پچانوے( ۹۵)فی صد سے زیادہ باتوں میں اتفاق ہے۔ہر دن ان سب کے درمیان اشتراک عمل بڑھتا جارہاہے۔ مسلمانوں کو خود بھی اس بات کا بہت خیال رکھنا چاہیے کہ نوہدایت یافتگان کو کبھی اس آزمائش میں نہ ڈالیں کہ وہ کس مسلک ،کس تنظیم اور مکتب فکرسے وابستہ ہوں؟ دین مسلک، جماعت یا تنظیم کا نام نہیں ہے۔اخروی باز پرس مسلکوں اورجماعتوں کی بنیاد پر نہیں، فرد کی انفرادی وابستگی اورعمل صالح کی بنیاد پر ہوگی۔دین میں جماعتی زندگی (یعنی اجتماعیت ) کی جو اہمیت اورضرورت بتائی گئی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ جماعتی تنگ نظری اورتعصب سے بچنا ضروری ہے۔

برادران وطن کے اندرعام طور سے درج ذیل امور کی وجہ سے دعوت کے لیے رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔یہ رکاوٹیں یا مشکلیں کوئی مستقل چیز نہیں ہیں، انھیں دور کیاجاسکتا ہے، بلکہ ان کو دور کرنے کے لیے منصوبہ بند اور منظم انداز میں کوشش کرنی چاہیے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ دعوت دیں یا نہ دیں، یہ باتیں ملک سے ختم نہیں ہوں گی تو مسلمانوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتارہے گا۔یہ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں، خود اس ملک کے اتحاداور تعمیر وترقی کے لیے ناگزیر ہے کہ ان کا خاتمہ ہو۔

  1. برادران وطن کے اندر اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے غلط فہمیاں اور بدگمانیاں منصوبہ بند اور منظم انداز میں پھیلادی گئی ہیں۔
  2. فرقہ پرستی، فسطائیت اور تہذیبی جارحیت کے نتیجے میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے جان ومال پرحملے کیے جاتے ہیں۔
  3. ہندو توا تحریک، راشٹرواد، اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے (آئی ٹی سیل) اسلاموفوبیا کی ناروا مہم۔
  4. وحدت ادیان، شرک اور مادہ پرستی۔
  5. ملک کا عمومی سماجی اور اخلاقی بگاڑ،جو بڑھتا جارہاہے،اسےمذاہب اورمذہبی رہ نما روکنے میں ناکام ہیں۔

مذکورہ رکاوٹیں دور ہونی چاہییں۔ یہ صرف مسلمانوں ہی کے مفاد میں نہیں، بلکہ اس ملک کا عمومی مفادبھی اس کا تقاضا کرتا ہے۔ضروری ہے کہ محبت، امن، انسانیت اور بھائی چارہ کی فضا پورے ملک پرچھا جائے۔

جہاں تک برادران وطن کے اندر پائی جانے والی غلط فہمیوں کا معاملہ ہے یہ لگاتار ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے۔لیکن ملک میں برادران وطن کے سامنے صحیح معلومات پیش کی جائیں تو وہ اپنی غلط معلومات اور غلط فہمیوں پر اصرار نہیں کرتے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی ان کو غلط بتایا گیا تھا۔

فرقہ پرستی، فسطائیت، ہندوتوا تحریک اور اسلاموفوبیا کے سلسلےمیں تفصیل سے روشنی ڈالی جاچکی ہے۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کے اندر منفی ردعمل پیدانہ ہونےپائے۔ ان کو یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بظاہر اس شر کے اندر سے خیر نکالے گا۔ان رکاوٹوں اور مشکلات کو مسلمان اپنے لیے کام کے بہترین مواقع سمجھیں۔ ان کے اندر جذبے اور حوصلے میں اضافہ ہو۔ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ انتہائی مشکل اور صبر آزما حالات میں استقامت کے ساتھ مسلسل کام کیا گیاہے تو نہ صر ف یہ کہ رکاوٹوں اور مشکلات پر قابو پالیا گیا، بلکہ حالات میں تبدیلی بھی واقع ہوئی۔

ملک کے اندر سماجی اور اخلاقی بگاڑ مسلسل بڑھتا جارہاہے۔ اس کے نتیجے میں مذہب سے بیزاری، دوری اور عدم دل چسپی میں اضافہ ہورہاہے۔ دعوت اس بگاڑ اور خرابی کا واحد علاج ہے۔

دعوت کی راہ میں بعض اور مشکلات حائل ہیں۔ ذیل میں ان کا تذکرہ کیا جارہاہے:

  1. برادران وطن میں مختلف مذاہب کے پیرو شامل ہیں۔ان مذاہب کا دعوتی نقطۂ نظر سے اب تک جوکچھ مطالعہ کیاگیا ہے وہ ناکافی ہے۔
  2. ملکی سماج اور عام برادران وطن اور ان کے مختلف محروم وپس ماندہ طبقات (مثلاً دلت،او بی سی اورقبائل) سے دوری اور ان سے الگ تھلگ رہ کر زندگی بسر کرنا۔
  3. مدعوین کی زبانوں سے ناواقفیت۔صرف زبان ہی نہیں بلکہ ان کے رجحانات، نفسیات اورمذہبی تصورات کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔
  4. عام مسلمانوں کے مروجہ تصور دین میں دعوت دین کو بطور فریضہ کو ئی مقام حاصل نہیں ہے۔وہ دعوت کے متعلق غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
  5. برادران وطن کے متعلق مسلمانوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ دعوت اور مدعوین کے متعلق ان کا پہلے سے بناہواذہنی سانچہ دعوت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
  6. مسلمان اس ملک اور اس کے عام باشندگان کی ضرورت نہیں بن سکے۔ عیسائی بھی اقلیت ہیں، ان کی تعداد محض 2.5 فیصدہے، لیکن تعلیمی اداروں، اسپتال اورخدمت خلق کی تنظیموں کی وجہ سے وہ ملک کی ضرورت بن گئے ہیں۔
  7. ملک میں دعوت کی تاریخ پر کام ہواہے، لیکن ابھی تک صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی دعوتی سرگرمیوں کی تفصیلات پرکسی طرح کا کوئی کام نہیں ہوا ہے۔

برادران وطن کے مذہبی تصورات، ان کی مذہبی کتب اور رسوم و رواج کا اب تک جتنا بھی مطالعہ ہواہے وہ ضرورت کے لحاظ سے کم ہے۔اس کی ضرورت اپنی جگہ برقرار ہے۔ صدیوں سے ساتھ رہ کر بھی مسلمان برادران وطن کے مذہب اور کلچر سے واقف نہیں ہیں۔

مدعوقوم کی اپنی زبان میں دعوت پہنچانا ضروری ہے۔ دوسری زبان میں دعوت کی ترسیل ان کو متاثر نہیں کرتی۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاؑ کو جن قوموں میں بھیجا وہ اس قوم کی زبان سے اچھی طرح واقف تھے۔ یہ واقفیت صرف زبان کی نہیں بلکہ پوری تہذیب اور ان کےپورے تمدن کی ہونی چاہیے۔اس سلسلے میں عیسائی بھائیوں نے اپنی کوششوں کے ذریعے اس مشکل مسئلے کو حل کرلیاہے۔ انھوں نے کافی ریسرچ کی،ادارے قائم کیے، لٹریچر تیارکیا، رسالے شائع کیےاور بولیوں کو زبانوں کا درجہ دے کر بائبل کاترجمہ شائع کیا۔

راہِ دعوت میں ایک بڑی مشکل، جس کاراست تعلق مسلمانوں سے ہے۔ وہ یہ کہ ان کے تصور دین اور اتباع رسول ﷺ میں دعوت اور اس سے متعلق امور کہیں بھی فٹ نہیں ہوتے۔ ان کا تو خیال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی اصلاح کرلی جائے گی تو دعوت و تبلیغ کی ضرورت کم ہی پیش آئے گی۔ اصلاح یافتہ اور تربیت یافتہ مسلمانوں کو دیکھ کر غیرمسلم آبادی بڑی تعداد میں اسلام میں خود بخود داخل ہوجائے گی۔

اوپر جن مشکلات کا تذکرہ کیاگیا ہے ان مشکلات کا حل ایک طویل محنت اور لگاتار جدوجہد چاہتا ہے۔ قرآن و سنت سے مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش بڑے پیمانے پرہونی چاہیے۔ دعوت کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے بھی اسی انداز پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔ان سب اہم کاموں کو کرنے کے لیے مسلمانوں کے اندر علماءکرام اور ان کے قائدین کو میدان میں ضرور اترنا ہوگا۔دینی مدارس میں طلبہ اور طالبات کے لیے دعوتی نصاب تیار کرکےان کو علمی ونظریاتی تعلیم دی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ان کو عملی میدانِ دعوت میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے چاہیے۔ نیز ان کاموں کے لیے خطباتِ جمعہ اور ائمہ کا نظام بہت مفید ثابت ہوگا۔ ائمہ حضرات خطبات جمعہ کے ذریعہ مسلمانوں میں دعوت کا شعور پیدا کرسکتے ہیں۔

برادران وطن کی علاقائی زبانوں کے سلسلے میں مسلمانوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ یہ غیروں کی زبانیں ہیں،یہ سوچ غلط ہے۔ زبان تو خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ زبان کا کوئی مذہب اور مسلک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے پیغمبر مختلف قوموں میں آئے وہ ان کی زبانیں جانتےتھے۔مسلمانوں کے لیے سب سے اہم مسئلہ دعوت کو مدعو قوم کی زبان میں پہنچانے کے لیے زبان کو سیکھنے کا ہے۔ فریضۂ دعوت کی ادائیگی کے لیے علاقائی زبان سیکھنے میں مسلمان پیچھے نہ رہیں بلکہ ان زبانوں اور ان سے متعلقہ امور میں اچھی صلاحیت پیداکریں اور ان میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کوشش کے برادران وطن پر مثبت اثرات پڑیں گے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان ان کی زبان کے ماہر ہیں تو بے حد خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کو تعجب بھی ہوتا ہے۔

برادران وطن کے مذاہب جاننے اور سمجھنے سے بھی دعوت کے فریضے کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔ یہ اب کوئی مشکل مسئلہ نہیں رہ گیاہے۔

مذاہب کے تعارف کے سلسلے میں اردو اور بعض ریاستی زبانوں میں اچھا خاصا لٹریچر تیار ہوگیا ہے۔ برابر کتابیں شائع ہورہی ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی خاصا مواد مل سکتا ہے، جس کی مدد سے مذاہب کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے دعوتی کام میں فائدہ ہوگا۔ اس زمانے میں مذاہب کا تقابلی مطالعہ باقاعدہ ایک فن بن چکا ہے۔یونی ورسٹیوں اورکالجوں میں اس کے شعبے قائم ہیں۔مسلم طلبہ کی اس شعبہ میں تعلیم اورریسرچ کے لیے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ ملک بھر میں جگہ جگہ مذاہب کے مسلم ماہرین بن جائیں تو دعوتی کام میں مزیداضافہ ہوگا۔

ہمارے ملک میں آدی باسی،دلت اور دیگر پس ماندہ طبقات کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ ان سے مسلمانوں کے اچھے تعلقات ہونے چاہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کی دوستی کو اپنے لیے فخر سمجھتے ہیں اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مسائل کے حل میں مسلمان گہری دل چسپی لیں۔ ان کی مختلف تقریبات میں شرکت کریں۔البتہ اس چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے کہیں بھی شرک اور غیراخلاقی کام نہ کریں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ فرقہ پرست اورفسطائی عناصر انھی طبقات کے افراد کو فسادات میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان طبقات کی بااثر شخصیات اور لیڈروں سے ملاقاتیں کی جائیں۔ ظلم و ستم کی شناعت، خدا کی ناراضگی اور آخرت کی بازپرس کے بارے میں بتایا جائے تو وہ بے حد متاثر ہوتے ہیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ راہِ دعوت میں مشکلات اور رکاوٹیں حائل ہیں لیکن ان سے نکلنے اور آگے بڑھنے کے راستے بھی ہیں۔ ان کی وجہ سے دعوت کا کام روکنا نہیں چاہیے، بلکہ ان رکاوٹوں کو مواقع سمجھ کر کام کی راہیں نکالنی چاہئیں۔

جنوری 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau