اختلاف— حقیقت واقسام

ضمیر الحسن خان فلاحی

امور ومعاملات میں رائے ونقطۂ نظر کا اختلاف ایک فطری أمر ہے، اجتماعی زندگی میں یہ ناممکن ہے کہ پورا معاشرہ ایک جیسی صلاحیت و اہمیت اور یکساں اندازِ غوروفکر رکھنے والے افراد و اشخاص پر مشتمل ہو، انسانی ذہن، مہارت اور صلاحیتوں میں فرق وتفاوت اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے مگر حکمت خداوندی یہ ہے کہ تخلیق واکتسابی خصوصیات میں انفرادیت کے باوجود ایک حد تک ہم آہنگی ویکسانیت ہو، اختلاف کی حقیقت یہی ہے۔

اختلاف دو چیزوں کے الگ الگ اور مختلف ہونے کا نام ہے ’’اختلف البیان‘‘ کا مطلب ہے کہ دونوں چیزیں یکساں وبرابر نہیں ہیں، کسی کے احوال واقوال سے الگ راستہ اختیار کرنے کو اختلاف کہتے ہیں لیکن خلاف، ضد سے عام ہے، اس لئے کہ دو متضاد چیزیں لازماً ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں مگر دو مختلف چیزوں کا ایک دوسرے کی ضد ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ دراصل اتفاق کی ضد ہے ۔ (القاموس المحیط صفحہ ۷۲۸، المفردات  ص۱۶۲، القاموس الوحیدص۴۶۷)

فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِن بَینِہِمْ ۔         (مریم:۳۷)

’’جماعتیں آپس میں مختلف ہوگئیں‘‘

وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ۝       (ہود:۱۱۸)

’’وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے‘‘۔

اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ۝   (الزاریات:۸)

’’تم مختلف بات میں ہو‘‘۔

اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۔ (یونس:۹۳)

’’یقیناً تمھارا رب ان کی اس بات کا قیامت کے دن فیصلہ فرما دے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں‘‘۔

ان قرآنی نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ بات (قول) رائے، حالت، ہیئت اور نقطۂ نظر و موقف میں مغایرت کو اختلاف وخلاف کہتے ہیں۔

علماء اصول کی اصطلاح میں کسی امام کی رائے کو بلادلیل حق ٹھہرانے اور دوسرے کے نقطۂ نظر کو غلط و باطل قرار دینے کو ’’علم خلاف و اختلاف‘‘ کہتے ہیں۔(معجم مصطلحات اصول الفقہ ص۴۳۸ و الفقہ الاسلامی وتحدیات الواقع السیاسیۃ ص ۶۶)

دو مختلف نقطۂ نظررکھنے والوں کے درمیان اختلاف کی شدت اتنی بڑھ جائے کہ اثبات حق وصواب کی بجائے ہر فریق کی خواہش غلبہ حاصل کرناہوجائے اور افہام وتفہیم کی گنجائش و امان معدوم ہوجائے، ایسی حالت کو فقہاء شقاق کا نام دیتے ہیں۔ شقاق کی اصل یہ ہے کہ ایک حالت،ایک رائے اور ایک موقف کے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہے، قرآن مجید میں ہے:

وَاِنْ خِفْتُمْ شقاق بینھما۔  (النساء:۳)

’’اور اگر تمہیں ان دونوں (زوجین) کے شقاق کا خوف ہو، یعنی ایسا سخت و شدید اختلاف کہ اب ایک گھر میں دونوں کا رہنا محال وناممکن ہے‘‘۔

ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

فانما ہم فی شقاق۔(بقرہ:۱۶)

’’وہ توضد پر اڑے ہوئے ہیں‘‘۔

اختلاف کی قسمیں

(۱) اختلاف مقبول  (۲) اختلاف مذموم

زبان، رنگ اور افکار و تصورات کے اختلاف کےساتھ متنوع انسانی عقل بھی مشیت خداوندی ہے اس لئے ایک مسئلے میں متعدد اقوال و آراء لازماً سامنے آئیں گی۔ رنگ وزبان اور فطرت کے دوسرے بے شمار مظاہر اگر قدرت کی نشانیاں (آیات) ہیں تو عقل وحواس اور ان سے حاصل ہونے والے نتائج وثمرات بھی خدا کی نشانیاں اور اس کی قدرت کاملہ کے دلائل ہیں۔ کیونکہ اگر سارے انسان ہرچیز میں برابرویکساں ہوتے تو دنیا کی شادابی و آبادی اور اس کی بقاء ممکن نہیں تھی۔

وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ۝اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ۝۰ۭ وَلِذٰلِكَ خَلَقَہُمْ۔(ہود:۱۱۸)

’’اگر تمہارا رب چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا، وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، مگر جن پر تمہارا رب رحم فرمائے ، اسی لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے‘‘۔

اس آیت کی تفسیر میں مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ رقمطراز ہیں :

’’اللہ  کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں کہ حیوانات و نباتات اور ایسی ہی دوسری مخلوقات کی طرح اس کو بھی جبلی طور پر ایک لگے بندھے قاعدہ؍ راستہ کا پابند بنا دیا جائے جس سے ہٹ کر وہ چل ہی نہ سکے بلکہ انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ اسے انتخاب واختیار کی آزادی بخشی جائے، اسے اپنی پسند کے مطابق مختلف راہوں پر چلنے کی قدرت دی جائے،اس کے سامنے جنت ودوزخ کی راہیں کھول دی جائیں اور پھر ہر انسان اور ہر انسانی گروہ کو موقع  دیا جائے کہ وہ ان میں سے جس راہ کو بھی اپنے لئے پسند کرے اس پرچل سکے اور اپنی سعی وکسب کا نتیجہ پائے، اس اسکیم کے تحت انسان پیداکیاگیا ہے ‘‘۔(تفہیم القرآن ۲؍۳۷۳)

چنانچہ  اس امت کے اسلاف کے درمیان جو اختلاف رائے وفکر نظرآتا ہے وہ اسی خدائی مشیت کا مظہر ہے اور چونکہ یہ قدرت کی نشانیوں میں سے ہے اس لئے امت کے حق میں مفید و نفع بخش بھی ثابت ہوا۔

یہ اختلاف اگراپنے حدود سے متجاوز نہ ہو اور اصول وآدابِ اختلاف کا التزام و اہتمام کیا جائے تو اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں مثلاً:

(۱) کسی مسئلہ کے ان سارے احتمالات پر غوروفکر اور بحث وگفتگو کا موقع ملے گا جن میںکسی پہلو سے دلیل کی گنجائش ہو۔

(۲) ایسے مہذب اختلاف سے ذہنی ریاضت اور تبادلۂ خیالات کا صحتمند ماحول پیدا ہوتا ہے اور مختلف عقلوں کے نتائج پر غوروفکر کے دروازے کھلتے ہیں۔

(۳)ایک سے زائد حل سامنے آتے ہیں جس سے پیش آمدہ مسائل میں اس میں فطرت کے صحیح ومتوازن حل کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔

(۴) ایک دوسرے سے روابط بڑھتے ہیں اور فاصلے کم ہوتے ہیں۔

یہ وہ اختلاف ہے جس کو ہم مقبول اور مظہر فطرت اختلاف کہہ سکتے ہیں اس کے برخلاف  ایک اختلاف وہ ہے جس سے منفی وبرے نتائج برآمد ہوتے ہیں اور امت کے اندر انتشار پیدا ہوتا ہے اور تعمیر کی بجائے تخریب کا سبب بنتا ہے۔ ایسے اختلاف کے پیچھے کبھی تو نفسانیت، خود غرضی اور ذاتی مقاصد کا حصول ہوتا ہے اور کبھی اپنے علم وفقہ کا اظہار کارفرما ہوتا ہے۔ نفس پرستی کا غلبہ ہونے کی وجہ سے اس اختلاف سے کبھی بھی وہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے بلکہ نفس پرستی شیطانی عمل ہے جو ہمیشہ شروفساد کا باعث ہوتی ہے۔

نفسانیت، علم کی ضد، حق کی مخالف، شروفساد کا ذریعہ اور ضلالت وگمراہی کا راستہ ہے۔

وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝        (ص:۲۶)

’’اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمھیں اللہ کی راہ سے بھٹکادے‘‘۔

وَلَوِ اتَّبَـعَ الْحَقُّ اَہْوَاۗءَہُمْ لَــفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْہِنَّ۔                                                 (مؤمنون:۷۱)

’’اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوتا توزمین وآسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب تباہ ہوجاتے‘‘۔

وَاِنَّ كَثِيْرًا لَّيُضِلُّوْنَ بِاَہْوَاۗىِٕہِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ۝۰ۭ اِنَّ رَبَّكَ ہُوَاَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِيْنَ۔                      (الانعام:۱۱۹)

’’اور بہت سے لوگ بے علم و سند محض اپنی خواہشات سے دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں‘‘۔

نفسانیت کی بہت سی قسمیں ہوسکتی ہیں لیکن سب کی اصل خود پسندی و ہوائے نفس ہے۔ یہ اختلاف ہر حال میں قابل مذمت، غلط اور ناجائز ہے۔

اختلاف اہل علم کی نظر میں

امت کے اہل علم نے ہر طرح کے اختلاف سے روکا ہے اور حتی المقدور اس سے بچتے رہنے کی تاکید کی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقہاء صحابہ کرامؓ میں سے ہیں ، انھوں نے اختلاف کی مذمت کی اور کہا ’’الخلاف شر‘‘ یعنی اختلاف بری چیز ہے۔ علامہ تقی الدین سبکی متوفی ۷۷۱ھ کا قول مشہور ہے کہ انھوں نے  فرمایا : ’’ان الرحمۃ تقتضی عدم الاختلاف‘‘ یعنی تقاضائے رحمت یہ ہے کہ اختلاف نہ کیاجائے۔ (ادب الاختلاف فی الاسلام، ص:۳۲)اور امر واقعہ بھی یہی ہے، قرآن مجید میں ہے:

وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْھُمْ مَّنْ كَفَرَ۔ (بقرہ:۲۵۳)

’’لیکن ان کے درمیان اختلاف ہو، سو کوئی ایمان لایا اور کوئی کافر ہوگیا‘‘۔

حدیث میں ہے :

’’بنی اسرائیل اپنے انبیاء سے اختلاف اور کثرت سوال کی وجہ سے ہلاک ہوئے‘‘۔

(مسند احمد، مسلم،نسائی)

علامہ تقی الدین سبکی نے اختلاف کی تین قسمیں کی ہیں:

(۱) اصولوں میں اختلاف :۔قرآن جس اختلاف کی مذمت کرتا ہے وہ یہی ہے اور بلاشبہ یہ بدعت وضلالت ہے۔

(۲) آراء میں اختلاف :۔ یہ بھی حرام ہے کہ اس میں مصالح امت کا ضیاع ہے۔

(۳)  فرو ع میں اختلاف (ادب الاختلاف فی الاسلام ،ص: ۳۲) حلت وحرمت کے باب میں پایا جانے والا اختلاف۔

اس تیسری قسم میں بھی یہ بات طے ہے کہ اتفاق بہرحال اختلاف سے بہتر ہے، اختلاف کے مذموم ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے بتوں کی پرستش کو تو گوارا کرلیا مگر تفرقہ پیدا نہ ہونے دیا۔ ان کی قوم کے ایک شخص ’’سامری‘‘ نے جب بچھڑے کی شکل کا ایک بت بناکر قوم کودعوت دی کہ  ’’ھٰذا الٰہَکُمْ والٰہ موسیٰ‘‘ تو حضرت ہارون ؑ خاموش رہے اور موسیؑ ٰ کی واپسی کا انتظار کیا ، چنانچہ واپسی کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب انہیں ملامت کی تو اس کے جواب میں کہا:

يَبْنَـؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْيَتِيْ وَلَا بِرَاْسِيْ۝۰ۚ اِنِّىْ خَشِيْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِيْ۔          (طٰہٰ:۹۴)

’’ میرے بھائی میری داڑھی اور بال نہ پکڑو، مجھے ڈر تھا کہ تم کہوگے کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا‘‘۔

امام ابن حزم ظاہری متوفی ۱۰۶۳ھ کے مطابق کوئی اختلاف باعث رحمت نہیں ہے۔ (فیض القدیر،ص:۲۰۹)

وہ روایت جس کے راوی ابن عباسؓ ہیں اور جس میں اختلاف کو رحمت کہا گیا ہے ۔ (اختلاف امتی رحمۃ) محل نظر ہے۔ امام مناوی متوفی ۱۰۳ءھ نے علامہ تقی الدین سبکی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ، ص ۷۹، جلد ۱) اسی طرح سے وہ روایات بھی محدثین کے یہاں صحیح کا درجہ نہیں رکھتیں جن میں وارد ہے: ’’اختلاف اصحابی لکم رحمۃ یا ’’اصحابی کالنجوم نبأیہم اقتدیتم اھتدیتم‘‘ یہ دونوں روایتیں صحیح نہیں ہیں۔ علامہ ناصرالدین البانی نے انہیں موضوع قرار دیا ہے اور امام ابن حزم بھی انہیں موضوع روایات میں شمار کرتے ہیں نیز اس طرح کی تمام روایات حکم قرآن سے متعارض ہیں اس لئے کہ قرآن پاک نے مطلق اختلاف سے روکا ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ شارح قرآن ، قرآن سے ہٹ کر، کوئی بات ارشاد فرمائیں۔امام ابن عبدالبر فرماتے ہیںکہ: صحابہ کرامؓ کے اختلاف واجتہاد میں توسیع ہوتا تھا اور توسع کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی رائے پر مصر نہ ہو اور صرف  اس کو حق نہ سمجھے‘‘۔(جامع بیان القلم وفضلہ، صفحہ۳۹۰)

اس سلسلہ میں امام مالک کی رائے بھی انتہائی چشم کشا ہے، وہ کہتے ہیں: ’’صحابہ کرامؓ کا اختلاف وسعت ورحمت نہیں بلکہ صحیح و غلط کا اختلاف ہے۔ (فیض الدنیا؍۲۲) اس کی دلیل یہ ہے کہ بہت سے مواقع پر انھوں نے اپنی رائے سے رجوع کیا اور دوسرے کی رائے مان لی، مثلاً اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے جب یہ حدیث سنی کہ (تقضع المرأۃ الصلوٰۃ) عورت کے سامنے آجانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، توفوراً بلاکسی ادنیٰ تامل کے یہ کہہ کر رد کردیاکہ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ آپؐ نے قیام لیل کیا اور میں سامنے سوتی رہی۔ (بخاری کتاب الصلوٰۃ، حدیث:۵۱۵)

اس طرح ام المؤمنین نے اس روایت کو بھی ماننے سے انکار کردیا کہ ’’میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے‘‘۔ اور فرمایا ابوعبدالرحمٰن الراوی) کو وہم ہوگیا یا سننے میں غلطی ہوئی ہے یا وہ بھول رہے ہیں۔ (بخاری ، کتاب الجنائز۱۲۸۷)

پوری بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ اختلاف دو طرح کا ہوتا ہے:

(۱) اختلاف ممدوح و مقبول

(۲) اختلاف مذموم۔

اختلاف ممدوح کو اسلام پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس اختلاف کے تحت سنجیدہ عقلی کاوشوں کے ذریعے مسائل کے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا جاتا ہے، مختلف زاویوں سے نظر ڈالی جاتی ہے، مختلف دلائل کا موازنہ ہوتا ہے تاکہ کوئی ایسی شکل دریافت ہوجائے جو مسئلہ کی اصل حقیقت دوسروں کے سامنے واضح کرسکے اور زیر بحث مسئلہ کے تمام گوشے وپہلو دوسروں کے سامنے آجائیں اس میں اس بات کا خاص اہتمام ہوتا ہے کہ کوئی نقطۂ نظر آخری و قطعی حل کے طور پرلوگوں پر تھوپا نہ جائے بلکہ بحث وگفتگو، غوروفکر اور تبادلہ خیال کے بعد بھی دوسری رائے رکھنے کی پوری اجازت ہوتی ہے۔

اس کے برخلاف ، اختلاف مذموم وہ ہے جو امت میں تفرقہ پیدا کرتا ہے، اس میں اجتہاد کو فکری ونظری حد سے آگے بڑھ کر عملی شکل دے دی جاتی ہے اور دوسروں پراسی مسلک و رائے کو لازم وضروری قرار دے دیا جاتا ہے، اس طرح سے اختلاف رائے ،اختلاف عمل کی صورت اختیار کرکے امت کے اتحادکے لئے ایک بڑا خطرہ و چیلنج بن جاتا ہے۔

قرآن پاک اور سنت مطہرہ میں جہاں بھی اختلافات سے روکا گیا ہے اور اس کی مذمت کی گئی ہے اس سے مراد یہی مذمو م وناپسندیدہ اختلاف ہے جو امت کی صفوں میں رخنے ڈالتا ہے اور اس کے شیرازے کو منتشر کردیتا ہے، اس اختلاف کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے:

لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ۝   (سورہ أنفال:۴۶)

’’آپس میں جھگڑو نہیں کہ تم کمزور ہوجائو اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے۔ صبر سے کام لو، یقیناًاللہ صبر کرنے والوں کےساتھ ہے‘‘۔

فقہی مسالک کا اختلاف جس سے امت، عظیم الشان فقہی ذخیرہ کی وارث ہوئی اور کسی بھی مسئلے سے متعلق اس کے تمام ممکنہ گوشے واشگاف ہوکر سامنے آئے، پسندیدہ اور ممدوح اختلاف کی شاندار مثال ہے، اس کے علی الرغم امت کے اندر موجود بے شمار اختلافات، تفرقے، لڑائیاں اور گروہ بندیاں جس نے امت کی شان وشوکت کو زبردست نقصان پہنچایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ امت کے بہت سے افراد کے مطابق، امت کے افراد ان سے الگ نقطۂ نظر نہیں رکھ سکتے بلکہ ان کا اختیار کردہ نظریہ ہی سکہ رائج الوقت ہوگا یہ تصور بہت سے تعلیمی نظاموں میں داخل ہوا اور تعلیمی نظام چلانے والوں نے کسی ایک مسلک کو شامل نصاب کرکے دوسرے مسالک کا مطالعہ بھی طلبہ کے لئے حرام و ناجائز ٹھہرا دیا، معاملہ اس پر نہیں رکا بلکہ اسلام کے نام پر کام کرنے والی بہت سی اسلامی/ مسلم تحریکوں کے خرمن پر بھی یہ تصور بجلی بن کر گرااور انہیں خاکستر کرگیا۔ چنانچہ دوسری تحریکات کے لٹریچر کا مطالعہ ان کے لئے جرم عظیم اور خرق عادت تصور کیا جانے لگا۔

حد تو یہ ہے کہ متعدد اسلامی تحریکات میں یہ تصور اتنا عام ہوگیا ہے کہ قائد تحریک یا امیر کی سب سے بڑی ذمےداری تنظیمی اتحاد اور فکری وحدت کی حفاظت ہے۔ قائد وامیر کی رائے سے اختلاف کو برداشت نہیں کیا جائے گایہ تصور ایک غلط اور باطل تصور ہے جس کی کوکھ سے متعدد مفاسد جنم لیتےہیں اور داخلی انتشار کے چشمے پھوٹتے ہیں جبکہ صورت واقعہ یہ ہے کہ اسلام نے اپنی عمر کے تقریباً پندرہ سو سال کے دوران بڑے وسیع پیمانے پر اختلافات دیکھے ہیں، لیکن مسلم خلافت نے تمام مکاتیب فکر اور فقہی مدارس کی سرپرستی کی ہے اور ان کےمصارف برداشت کئے ہیں۔

موجودہ اسلامی تحریکات کو سنجیدگی سے اس پہلو سے متعلق اپنے تصورات پر نظرثانی کی ضرورت ہے، قیادت و امارت کا فرض دوسری آراء کی تردید، ان پر بندش اور دوسرے مسالک کا خاتمہ ہرگز نہیں ہے بلکہ قیادت کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے کارکنان کی عملی کاوشوں کو مؤثر و فعال  بنائے، انہیں منظم و متحد کرے، مختلف علمی وفکری کاوشوں سے استفادہ کرے اور عملی سطح پر صرف ایک مسلک، مسلک نظم جماعت کو نافذ کرے اور لوگوں کو مخالف رائے رکھتے ہوئے اس مسلک کا پابند بنانے کی سعی کرے، کہ اس تحریک کے بانی وقائد اول محمد مصطفیٰ کا منہاج امارت وقیادت یہی تھا، آپؐ کی حیات مبارکہ میں اس کے بہترین نمونے موجود ہیں، ایک حدیث میں ہے: ’’جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو قبیلہ جہینہ کے لوگ آپؐ کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے ہیں، ہمارے لئے ایک معاہدہ لکھ دیجئے تاکہ ہمیں امان حاصل رہے، آپؐ نے ان کے لئے معاہدہ لکھ دیا اور وہ مشرف بہ اسلام ہوگئے، راوی (سعد بن ابی وقاصؓ) کا بیان ہے کہ رجب کے مہینے میں آپؐ نے ہمیں بنوکنانہ کے ایک محلے پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا، ان کی تعداد بہت زیادہ تھی جبکہ ہم صرف سو تھے، ہم نے قبیلہ جہینہ کے یہاں پناہ لی، جہینہ والوں نے ہمیں جنگ سے روکا اور کہاکہ تم مقدس ماہ میں جنگ کر رہے ہو؟ ہم نے کہا کہ ہماری جنگ ان لوگوں سے ہے جنھوںنے ہمیں مقدس ماہ میں ،مقدس شہر سے نکالا ہے۔ ہمارے لوگ آپس میں چہ می گوئیاں کرنے لگے،بالآخر کچھ لوگ تومہم پر روانہ ہوگئے اور کچھ نبی کریم ﷺ کے پاس واپس آگئے اور سارے حالات سے آپؐ کو واقف کرایا، آپؐ سخت غضبناک ہوئے ، چہرہ اطہر غصےسے سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس سے متحد ہوکر گئے تھے اور اب جدا جدا آرہے ہو؟ تم سے پہلے کے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے تھےاب میں تمھارے ساتھ ایک ایسے شخص کو بھیجوں گا جو بڑا سخت ہے، تمھیں بھوک و پیاس کے مزہ چکھائے گا، پھرآپؐ نے حضرت عبداللہ بن حجش اسدی کو بھیجا اور اسلام میں سب سے پہلا امیر ہونے کا انہیں شرف بخشا‘‘۔ (مسند احمد ،ص ۱۷۸،حدیث ۱۵۳۹)

اس واقعے میں آپؐ کا غصہ اختلاف آراء پرنہیں تھا اس لئے آپؐ نے کسی رائے کی تصویب فرمائی نہ کسی کو غلط قرار دیا بلکہ ایک ایسے باعزم شخص کو امیر بنایا جو تحریک کے فیصلے کو عملاً نافذ کرنے کا ہنر رکھتا ہے، آپؐ کا یہ تاریخی فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ امیر کا کام سب لوگوں کو ایک فیصلہ اور ایک اقدام کا پابند بنانا ہے، نظریات اور آراء کےاختلاف کو ختم کرکے، پوری تحریک کو ایک ہی نظریے پر متفق کرنا قیادت کی ذمے داری نہیں ہے۔

خلافت راشدہ جس سے زیادہ زریں عہد کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، جس میں اجلہ صحابہ کرامؓ موجود تھے، اصحاب بدر بھی تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے دست رسولؐ پر بیعت کرنے والے بھی تھے اور وہ بھی تھے جنہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت سنا دی گئی تھی، اس دور میں بھی فکری ونظری اختلافات ہوئے لیکن کسی خلیفہ راشد یا کسی قائد و امیر نے ان علمی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی اور ان ہی اختلافات کے تلے وہ ایک صف ہوکر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے، صحابہ کرامؓ میں سے کسی نے اپنے مکتب فکر کی بنیاد مدینہ میں ڈالی، کسی نے مکہ میں اپنا فقہی اسکول قائم کیا، کسی نے کوفہ اور کسی نے شام میں اپنے مدرسے کی تاسیس کی۔

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدَى اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ۔(انعام:۹۰)

’’وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے تو تم ان ہی کے نقش قدم پر چلو‘‘۔

اس روشنی میں اسلامی تحریکات کو اپنے تصورات کی تصحیح کرنی چاہئے تاکہ تحریکیں اور پھر پوری امت انتشار سے محفوظ رہ سکے۔ رسول کریم ؐ کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرامؓ کے زریں و تابناک عہد میں ہمارے لئے بہترین نمونے موجود ہیں‘‘۔

جنوری 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau