نظم و ڈسپلن اور تحریکی اقدار

محمد جعفر

مستحکم معاشرے کے لیے نہ صرف اجتماعیت بلکہ منظم اور منضبط اجتماعیت فطرۃً مطلوب ہے، اس کے بغیر انسانی معاشرے کا متمدن اور ترقی یافتہ ہونا ممکن نہیں ہے،جب کہ اسلام بجائے خوددین فطرت ہے۔ یہ دین ایک طر ف تو ہر صاحب ایمان کو فرداً فرداً اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ قرار دیتا ہے اور زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے ہر فرد مومن کو شخصی طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور دوسری طرف دنیوی و اخروی زندگی کی کامیابی کا راستہ اجتماعیت کی ٹھوس بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔

’’اللہ کی رسی کو تم سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘ ۔(آل عمران)۔ تفرقہ، اختلافات کی بدترین حالت ہے، جس سے بچنے کی صریح ہدایت بلکہ تاکید اس آیت میں کی گئی ہے۔ کیوں کہ یہ اجتماعیت سے محرومی کی بہت ہی واضح علامت ہے۔ گویا مضبوط اجتماعیت کے بغیر اُمت مسلمہ ، اُمت مسلمہ بن کر ہی نہیں رہ سکتی۔ اس امت کے نظم و انضباط کا معیار کیا ہو اس کی صراحت بھی اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک انداز میں فرمائی ہے: ’’جیسے کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہو۔‘‘(سورۃ الصف) جس کی ہر اینٹ ایک دوسرے سے ایسی وابستہ اور پیوستہ ہو کہ کسی کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ الگ الگ ان اینٹوں کو توڑا تو جاسکتا ہے لیکن انھیں باہم جڑے رہنے سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔

دین اسلام کے بیش بہا ثمرات سے اسلامی معاشرہ کو فیض یاب ہونے یا کرنے کے لیے اس دین کی اقامت ضروری ہے، اور یہ دین جو حیات انسانی کے تمام شعبوں کو محیط ہے اس کا قیام بھی ایک مضبوط اور معیاری اجتماعیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ایک مضبوط اور خوشگوار اجتماعیت کے لیے معیاری نظم و ڈسپلن کا ہونا لازم ہے۔اسلامی اجتماعیت میں سمع و طاعت کا نظام بہتر اور مستحکم ہونا چاہیے تاکہ اقامت دین کی راہ تیزی کے ساتھ ہموار ہوتی چلی جائے۔ یہ نظام جتنا کمزور ہوگا منزل اتنی ہی دور ہوگی، اس لیے نظام کی برقراری اور بہتری کے لیے خصوصی توجہ درکار ہے۔ یہ بات بطور خاص پیش نظر رہنی چاہیے کہ اسلامی نظم و ڈسپلن فوجی اور پروفیشنل نظم و ڈسپلن سے قطعاً مختلف بلکہ منفرد اور ممتاز ہے،ا گرچہ بظاہر بہت سارے اقدامات میں مماثلت نظر آسکتی ہے، لیکن انھیں دیکھ کر یہ مغالطہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگر حرکت و عمل میں مماثلت پائی جاتی ہے تو قدریں بھی مشترک ہوں گی اور معیار بھی ۔ کیوں کہ اس صورت میںہماری قدروں اور معیارات میں بھی فرق آنے لگتا ہے۔ نتیجتاً ہماری منزل دنیا میں بھی ہم سے دور ہوگی اور آخرت کی راہ بھی کھوٹی ہوتی چلی جائے گی۔

اقامت دین انفرادی و اجتماعی زندگی میں اور اس کے نتائج بھی دنیا و آخرت دونوں ہی میں مطلوب ہیں۔ افراد کی نظروں سے اگر آخرت کی کامیابی اوجھل ہوجائے تو بالآخر نامرادی و ناکامی اُن کا مقدر ٹھہرے گا، خواہ دنیا میں اقامت دین کی کوششوں میں وہ کتنا ہی سرگرم اور کامیاب ہوں اور اگر اجتماعیت کی نگاہ میں دنیا کی کامیابی بے وقعت یا غیر اہم ہونے لگے تو ایسی اجتماعیت اقامت دین میں ناکام تسلیم کی جائے گی، جبکہ اس سے وابستہ افراد آخرت میں سرخروئی حاصل کرلیں گے، بشرطیکہ اُن کی نظروں سے آخرت کی منزل کسی مرحلہ میں بھی اوجھل نہ ہوئی ہو۔ اس لیے اسلامی اجتماعیت او ر اُس کا نظم و ڈسپلن اُسی وقت معیاری قرار پائے گا جب کہ اجتماعیت اور اُس سے وابستہ افراد دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کے لیے مخلصانہ جدوجہد کے لیے کمربستہ ہوں۔

امیر و مامور

ایک دینی جماعت کا نظم امیر و مامور کے رشتوں پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ رشتے جتنے مضبوط اور خوشگوار ہوں گے نظم و ڈسپلن اُسی معیار کا ہوگا۔ امیر کا اپنے مامورین سے تعلق، مامورین کی اپنے امیر سے وابستگی اور مامورین کا آپسی ربط و ارتباط یہ تین سطحی اجتماعی رشتے، باہمی اخوت وخیرخواہی ، سمع وطاعت ، شورائیت و احتساب اور نظم و ضبط کے ستونوں پر کھڑے اور مستحکم ہوتے ہیں اور خالصتاً للہیت اور اخلاقی اصولوں پر استوار ہوتے ہیں۔نظم و ڈسپلن کی بات جب سامنے آتی ہے تو عموماً یہ تصور سامنے آتا ہے کہ مامورین کو اپنے امیر اور ذمہ داران کے احکام کی بے چوں و چرا تعمیل کرنی چاہیے۔ امراء و ذمہ داران بھی اپنے رفقا سے اسی کی توقع رکھتے ہیں اور اُنھیں اس کی فہمائش بھی کرتے رہتے ہیں، اُن کا یہ طرزِ عمل ایک حد تک بجا ہے لیکن مطلوب کے حصول کے لیے یہ کافی نہیں ۔ اس معاملہ میں اسلامی قائد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف زبانی ہدایات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے عمل سے بھی رہنمائی فرمائی۔ ہر کام میں پیش پیش رہے اور ہر چھوٹے بڑے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ گویا Directive Styleکے بجائے Participative Styleاختیار کیا۔ اس طرز عمل نے رفقاء کار کو غیر معمولی متاثر کیا۔ اُن کے اندر عقیدت مندانہ جذبۂ اطاعت، محبت و فدائیت پروان چڑھا اور اُنھوں نے مثالی مامورین ہونے کا ثبوت دیا۔ نظم و ڈسپلن کی بہتری و ترقی کا راز ذمہ داران کے رویے میں مضمر ہے۔ امراء و ذمہ داران کا اپنے رفقا سے بہت گہرا ربط و تعلق ہونا چاہیے۔ اُن کے حالات و مسائل ، اُن کی ذہنی الجھنیں اوراشکالات، ذمہ داریوں اور احکام کی بجاآوری میں ساتھیوں کو پیش آنے والی دقتوں اور دشواریوں سے اُنھیں اچھی طرح واقف ہوتے رہنا چاہیے اور اُن کے حل کے لیے فکر مند اور کوشاں ہونا چاہیے اور یہ سب کچھ رفقاء کے درمیان مقبولیت کے لیے نہیں بلکہ تقویٰ اور خدا ترسی کے جذبے سے ہونا چاہیے۔ ذمہ داران کا اپنے رفقا کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم ہونا چاہیے اور یہ رشتہ صرف جماعت کے اصول و ضوابط تک محدودنہ ہو بلکہ اُن کے ذاتی معاملات و مسائل کی حد تک وسیع اورمضبو ط ہو ۔ اگر خاطر خواہ شفقت و محبت نہ ملے، مسائل کے حل کے سلسلے میں فکر مندی محسوس نہ ہو ، مدد و تعاون کے لیے ہاتھ دراز ہوتے نظر نہ آئیں تو رفقا کے حوصلے پست ہونے لگتے ہیں۔ فی الواقع اُس نظم میں جان پڑ جاتی ہے جس میں ایسے امراء و ذمہ داران ہوں جو اپنے ساتھیوں کے لیے مہربان اور اُن کے کام آنے والے ہوں۔ ہمارے یہاں اس کی مثالیں ملتی ہیں اور بعض ذمہ داران اس معاملہ میں بہت نمایاں رہے ہیں۔

امراء و ذمہ داران کو باعزم اور با حوصلہ ہونا چاہیے ۔ اُنھیں اپنے حوصلوں کے ساتھ ساتھ رفقا کے حوصلوں کو بھی بلند رکھنا چاہیے۔    با حوصلہ ٹیم حوصلہ مند لیڈر شپ کے زیر سایہ پروان چڑھتی ہے اور مطلوبہ کارہائے نمایاں انجام دیتی ہے۔اسی ذیل میں یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ اسلامی اجتماعیت میں کوئی منصب اعزاز و تکریم کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ بڑی ذمہ داری اور ایک بارِ گراں ہے، اور جس کی وجہ سے صاحب منصب عند اللہ اور عند الناس دونوںکے سامنے جواب دہ قرار پاتا ہے۔ چنانچہ اس اجتماعیت میں منصب کی طلب تو دور کی بات ہے اس کا خواہش مند ہونا بھی خسارے کا سودا ہے۔ یہ خود کشی کے مترادف ہے۔ اگر رفقائے کار کو یہ احساس ہوجائے کہ اُن کے اندرکوئی اس ہلاکت خیز مرض کا شکار ہے تو اس سے تنفر پیدا ہوتا ہے،جس کے نتیجہ میں نظم و ڈسپلن کامتاثر ہونا لازم ہے، اس لیے اس مرض سے اس طرح بچنے کی کوشش ہونی چاہیے جس طرح ایڈز اور کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جہاں تک مامورین کا تعلق ہے اُن کی پہلی اور نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ معروف میں امیر کے اطاعت گزار ہوتے ہیں۔ ہر وہ حکم جو قرآن و سنت کے مطابق ہو یا جو قرآن وسنت کے خلاف نہ ہو معروف کے دائرہ میں آتا ہے ایسے تمام احکام و ہدایات جب امیر کی طرف سے آئیں تو مامورین کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اُس کی خوش دلی کے ساتھ اطاعت کریں۔ اجتماعی زندگی میں اس کا امکان رہتا ہے کہ امیر کا کوئی حکم مامورین یا کسی مامور کو پسند نہ ہو ،اس کے باوجود اطاعت کرنا نظم و ڈسپلن کا تقاضا ہوتا ہے۔ امیر کی اطاعت طوعاً و کرہاً ہر حال میں کرنی ہوتی ہے ۔ اسلامی اجتماعیت اور نظم اسلامی میں اس کی غیر معمولی اہمیت رہی ہے اور اس کی بہت سی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جماعت کے اندر سب سے مشکل کام یہی ہے کہ ایسا حکم جو پسند نہ ہو ، جو طبیعت پر گراں گزرے یا جن اصولوں اور ضوابط کی بنیاد پر کوئی فیصلہ ہوا ہو اس سے اختلاف ہو اس کے باوجود اجتماعی فیصلوں کا احترام اور اطاعت فی المعروف کی جائے اور نظم و ڈسپلن کا اچھا مظاہرہ کیا جائے۔ ایسا اس وقت ممکن ہے جب داخلی ماحول میں کھلا پن ہو، گھٹن کی فضا پیدا نہ ہونے پائے ، نظم جماعت میں اظہاررائے کی آزادی اور اختلاف کے مواقعے موجود ہوں اور اُن کے بھی ایسے حدود متعین ہوں جن پر یک گونہ بیشتر اتفاق پایا جاتا ہو۔ ماضی میں ہمارے یہاں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ غالباً Communication (ترسیل) کے بڑھتے ہوئے مواقعے اور مطالعے کی گیرائی و گہرائی کی کمی کی وجہ سے معروفات و منکرات کے مفاہیم میں نقاط نظر کے اختلافات بڑھتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں اطاعت فی المعروف میں کمزوریاں اور کوتاہیاں زیادہ سرزد ہونے لگی ہیں۔ ان کے تدارک کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اختلافی امور میں علمی مباحث میں اضافے ہوں اور اصول و ضوابط جن کی پابندی ضروری قرار پائے اُن کے وجوہ و دلائل بھی سامنے لائے جاتے رہیں ۔ ان سے اختلاف کا اظہار اگر دلائل کے ساتھ ہو تو اُن پر غور و مبا حث کے مواقعے باقی رہیں تاکہ اختلاف کے باوجود نظم و ڈسپلن کی پابندی کا سلسلہ کمزور نہ پڑنے پائے۔

بنیادی فکر اور سمت کا تعین

بنیادی فکر اور سمت سفر کے تعین میں اختلاف بھی نظم و ڈسپلن کو متاثر کرسکتا ہے ، اس کے تدارک کے لیے بھی یہی طریقہ کار مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان پر تبادلہ خیال اور مباحث کا کوئی فورم تشکیل دیا جائے، جس میں اس تعلق سے اطمینان حاصل کرنے اور یکسوئی کی کوشش ہوتی رہے ورنہ اگر کسی مسئلہ میں بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا ہونے لگے اور اُن کے تدارک کی معقول صورت اختیار نہ کی جائے تو نظم و ڈسپلن میں طرح طرح کی کمزوریوں کے صدور ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً انتخابات کے مواقعے پر مطلوبہ صفات و معیار کو پیش نظر رکھنے کے بجائے فکری رجحانات اور بعض دیگر خصوصیات و صفات کو ترجیح دنیا اور پھر ایسے فردیا افراد کے لیے Canvassing کوجائز تصور کرتے ہوئے اقدام کر ڈالنا وغیرہ۔

تقسیم کار

کام میں توسیع اور تیزی کے لیے تقسیم کار کا اصول مفید بلکہ ضروری ہوتا ہے۔ نظم کی خوبی یہی ہے کہ اس سے وابستہ ہر فرد سے اُس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے۔اس صورت میں کام بہتر طور سے اور تیز رفتاری سے انجام پاتا ہے، لیکن اگر کام زیادہ ہو اور افراد کم ہوں تو ایک شخص پر ایک سے زیادہ ذمہ داری بھی آسکتی ہے اور اس صورت میں ضروری نہیں کہ متعلقہ فرد کو دی ہوئی تمام ذمہ داری پسند ہو یا اُس کی صلاحیت کے عین مطابق ہو، پھر بھی اگر اجتماعیت، امیر و ذمہ دار کے نزدیک اُس کام کو بہتر طور سے انجام دینے کے لیے کسی شخص کی صلاحیت یا رجحان کے خلاف اُسے ذمہ داری دینا مناسب سمجھا جائے تو نظم و ڈسپلن کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ مفوضہ ذمہ داری کو خوش دلی سے انجام دینے کی کوشش کی جائے۔ بسا اوقات اس صورت میں افراد کی چھپی ہوئی صلاحیتیں جن کا خود انھیں بھی اندازہ نہیں ہوتا اُبھر آتی ہیں۔ کچھ لوگ ایسی صورت میں نظم و ڈسپلن کا خیال نہیں کرتے، نتیجتاً اُن کی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں ہوپاتا، نظم کی خلاف ورزی کرکے آخرت کا خسران کا خطرہ بھی مول لیتے ہیں اور اجتماعیت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے ایسے تمام کام جن میں عقیدہ و فکر کے اختلاف کا مسئلہ نہ ہو اُن کو اختیار کرنے میں تکلف سے کام نہیں لینا چاہیے۔ہمارے یہاں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ اس طرزعمل کے نتیجے میں معمولی صلاحیتوں کے افراد نے بڑے بڑے کام انجام دیے۔ اس طرح کی اطاعت گزاری کے لیے ضروری ہے کہ قیاد ت پر پورا بھروسہ اور اعتماد ہو۔ اُس سے محبت و خیرہواہی کا جذبہ ہو ،معروف میں اس کی اطاعت کی جائے خواہ قائد ہماری نگاہ میں قیادت کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔ قائد کو بھی اپنے رفقا سے کام لیتے وقت اپنے ذاتی رجحان وتعلقات کا لحاظ نہیں رکھنا چاہیے اور کسی رفیق سے اختلاف کی وجہ سے اُسے نظر انداز نہیں کرناچاہیے ۔ ذمہ داریاں تفویض کرتے وقت اگر صلاحیتوں (Talents)کو نظر انداز کیا جائے یا کم اہمیت دی جائے تو اس سے بھی ڈسپلن میں رخنہ پیدا ہونے کاامکان رہتا ہے اور خیر کے کاموں میں مسابقت کا مطلوب جذبہ سرد پڑنے لگتا ہے۔

نظام شورائیت

نظم جماعت کاتقاضا یہ بھی ہے کہ اجتماعی امور آپسی مشورے سے انجام دیے جائیں۔ شورائیت کی اسلام میں غیر معمولی اہمیت ہے۔ اس سے ذمہ دار اور نظم کو بڑی تقویت ملتی ہے۔ ٹیم کے اندر بھی شرکت کااحساس بڑھتاہے جو ایک بڑی چیز ہے۔ احساس ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ غوروفکر، تبادلہ خیال او ر بحث ومباحثہ کا سلیقہ آتا ہے، دلائل اور رایوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، اختلاف رائے کی اہمیت وافادیت کے پہلو بھی سامنے آتے ہیں، فیصلوں پر پہنچنے کے لیے کسر و انکسار کی صفت پروان چڑھتی ہے، معاملات و مسائل کو مل جل کر حل کرنے کا سلیقہ آتا ہے، تنقید کے حدود سے آشنائی اور رایوں کے احترام کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، فکری ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، شورائیت سے طے کردہ امور کی انجام دہی میں نظم و ڈسپلن کارفرما ہوتا ہے۔ جو امور کسی کی رائے کے خلاف طے پاجائیں اُن پر بھی دلجمعی سے عمل کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، بشرطیکہ مشورے برائے نام نہ ہوں، خانہ پری کا انداز نہ ہو بلکہ ٹیم کے ہر فرد کو اپنی بات دلائل سے پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کسی فیصلہ پر پہنچنے کے لیے عجلت سے کام نہ لیا جائے بلکہ شرکاء کو اعتماد میں لے کر ہی کسی رائے یا فیصلہ پر پہنچنے کی بھرپور کوشش کی جائے اور شرکاء کو بھی چاہیے کہ وہ دوسروں کے دلائل پر پوری سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ غور کریں اور اس بات کو سامنے رکھیں کہ دوسرے نقطہ نظر میں بھی اتنا ہی وزن ہوسکتا ہے جتنا اُن کے نقطہ نظر میں ہے اور اجتماعیت کے لیے جس نقطہ نظر پر زیادہ لوگوں کا اتفاق ہورہا ہے اُس سے بھی اجتماعیت کو اتنا ہی فائدہ پہنچ سکتا ہے جتنا وہ اپنے نقطہ نظر سے اجتماعیت کے فائدے کی توقع رکھتے ہیں۔

شورائیت کی یہ اسپرٹ اگربرقرار رہے تو اختلاف کے باوجود فیصلوں پر عمل در آمد کرنے اور کرانے میں نظم اور ڈسپلن کا بہترین مظاہرہ ہوسکتا ہے ۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں اپنی رائے کے خلاف اجتماعی فیصلہ کا نفاذ ذمہ دار نے اس طرح کیا اور کرایا کہ بہت سے لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہ ہوسکا کہ ذمہ دارکی خود اپنی رائے اس فیصلہ کے خلاف رہی ہے اور اس طرح ٹیم میں شریک افراد نے بھی نظم و ڈسپلن کا ایسا ہی نمونہ پیش کیا ہے۔ ضروری ہے کہ یہ اسپرٹ برقرار رہے اور فیصلوں میں شریک افراد و ذمہ داران ہوں یا اُس کے نفاذ میں شریک رفقا کار کسی میں خود رائی کا رجحان پرورش نہ پائے اور نہ ہی گروپ بندی کی کیفیت سامنے آنے پائے، کیوں کہ یہ اجتماعیت کے لیے سم قاتل ہے۔

باہمی اخوت و خیر خواہی

نظم جماعت کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ باہمی اخوت و خیرخواہی کی بنیاد پر رشتے قائم ہوں، امیر کی خیرخواہی مامورین کریں، مامورین کی خیرخواہی امیر کی ذمہ داری ہو اور مامورین آپس میں بھی ایک دوسرے کے خیرخواہ ہوں، تبھی ان اجتماعی رشتوں میں استحکام پیدا ہوگا۔ مزاجوں کے اختلاف اور صلاحیتوں میں فرق کے باوجود قدر مشترک وہ نصب العین اور اصول ہیں جن کی خاطر اجتماعیت وجود میں آئی ہے اور وہ جذبہ ہے جس نے باہم سب کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔ اس جذبہ کی پرورش کرنا، اسے پروان چڑھانا، ٹیم اسپرٹ کو برقرار رکھنا اور آپس میں متحد رہنا ضروری ہے۔ امیر ہو یا مامور کسی کی شخصیت پر کوئی حملہ کرے، کسی کا مذاق اُڑایا جائے ، کسی کی غیبت ہو ، کسی پر بہتان تراشی ہو اور خاموش رہاجائے یا اس میں دلچسپی لی جانے لگے یہ ایک دوسرے کی ساتھ بدخواہی ہے۔ خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ جس پر زیادتی کی جارہی ہو اُس کا دفاع کیا جائے، جس اجتماعیت سے وابستہ افراد کو یہ اطمینان ہو کہ اُن کے ذمہ دار یا اُن کے رفقا اُن کی غیر موجودگی میں اُن کا دفاع کرلیں گے،نہ اُن پر کوئی بہتان لگاسکتا ہے، نہ اُن سے کوئی غلط بات منسوب کی جاسکتی ہے۔ اگر اُن کے سلسلے میں کوئی غلط رائے قائم ہورہی ہو تو اُن کے ذمہ دار یا اُن کے ساتھی آگے بڑھ کر صفائی پیش کریں گے تو غور فرمائیے کہ باہمی تعلق و محبت میں کتنا اضافہ ہوگا، لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو ، ایسے موقع پر ذمہ دار یا ساتھیوں کی جانب سے خاموشی ہو یا غفلت ہو یا منفی رجحانات پرورش پانے لگیں تو ان رشتوں کا کیا حال ہوگا ۔ پھر ٹیم اسپرٹ اور نظم و ڈسپلن کی صورت حال کیا ہوگی،اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ٹیم اسپرٹ کی برقرار ی اور نظم و ڈسپلن کے استحکام کا بڑی حد تک انحصار باہمی اخوت و خیرخواہی پر ہی ہوتا ہے۔ محض ضابطہ کا تعلق کافی نہیں ہوتا،اس لیے اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

تنقید و احتساب

تنظیمی اقدار میں تنقید بغرض اصلاح اور مخلصانہ احتساب کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ اجتماعی کام میں کمزوریوں کاصدور اور نقص کا پیدا ہوجانا یا باقی رہنا کوئی غیر متوقع بات نہیں ۔ غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ان کی صحیح نشاندہی ہو۔ اجتماعی احتساب کا نظام اگر چست ہو تو بہتر انداز میں نشاندہی کا طریقہ رائج ہوسکتا ہے۔ تعمیری تنقیدوں کے ذریعہ نقائص کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اگر تنقید واحتساب سلیقہ مندی سے ہوتو نتیجہ خیز ہوتے ہیں ورنہ رشتہ اخوت کو مجروح کرنے کا بھی سبب بن جاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تنقید و احتساب کے دائرہ سے کسی کو باہر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اجتماعی ماحول میں ایسا ہونا چاہیے کہ جس میں جو جتنے اہم منصب یا ذمہ داری پر مامور ہو وہ اتنا ہی زیادہ تنقید واحتساب کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہے۔ گرچہ تنقید واحتساب کا عمل پوری سلیقہ مندی اور احتیاط کے ساتھ ہونا چاہیے، کیوں کہ زبان کازخم مشکل سے مندمل ہوپاتا ہے، تاہم اگر ایسا کرنے پر کوئی قادر نہ ہو تب بھی جس پر تنقید کی جارہی ہے اُسے دیکھنا چاہیے کہ وہ کتنی بجا ہے۔ اگر بجا ہے تو اُس کا شکر گزار ہوناچاہیے، اُسے دعائیں دینی چاہئیں اور اصلاح حال کی طرف متوجہ ہوجانا چاہیے۔ اگر تنقید بے جا ہو تو خوش اخلاقی کے ساتھ صحیح صورت حال کی وضاحت کی جانی چاہیے۔ ایسی خوش اخلاقی اور قوت برداشت تو کچھ لوگوں میں ضرور ہی ہونی چاہیے جن کو دیکھ کر ہر شخص کو تحریک ملے اور اجتماعیت کو تقویت حاصل ہو۔ذمہ داران کو اس معاملہ میں بطور خاص قابل تقلید رول ادا کرنا چاہیے۔

بد سلیقگی سے کی جانے والی تنقیدوں کی اصلاح بھی ضروری ہے ورنہ اس کا حد سے آگے بڑھنا اجتماعی ماحول کی ناخوشگواری کا سبب بننے لگتا ہے، جس سے رشتوں میں دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اکثر اس خوف سے تنقید واحتساب کے عمل میں سستی آنے لگتی ہے بلکہ حوصلہ شکنی ہونے لگتی ہے۔ رفقا و ذمہ داران کے رویوں میں تبدیلیاں ہونے لگتی ہیں۔ تعریف و تحسین کرنے والے قدر و منزلت پانے لگتے ہیں۔ یہ صورت حال صحت مند اجتماعیت کے لیے بدسلیقہ تنقید و احتساب کے عمل کے مقابلہ میں زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے بدسلیقہ تنقید و احتساب کی اصلاح کی کوشش ضرور ہو لیکن اس کا دروازہ بالکل بند نہیں ہوناچاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ ہر شخص اپنا احتساب سختی بلکہ بے دردی سے کرے اور دوسروں کے معاملہ میں نرمی اور شفقت کے ساتھ اس ناخوشگوار فریضہ کو انجام دینے کی کوشش کرے۔اصلاح کا فطری اصول بھی یہی ہے کہ انسان اپنے معاملہ میں سخت گیر اور دوسروں کے معاملہ میں نرمی اور عفو و درگزر سے کام لے۔

ترسیل اور رپورٹنگ

اصول و ضوابط ، منصوبوں اور فیصلوں و ہدایات کی عدم ترسیل یا Communication کی کمی اور gap سے بھی نظم و ڈسپلن پر اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ترسیل کے نظام کو بھی درست و چست رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے لئے سرکلر کا اجراء کافی نہیں بلکہ مختلف ذرائع اور ممکنہ طریقوں سے کوشش کر کے اس بات کا اطمینان ہونا چاہئے کہ نیچے تک تمام متعلقہ ذمہ دار اور افراد تک تمام امور کی منتقلی اور اُن کی تفہیم کا حق ادا کیا جا چکا ہے۔ اس نظام کے درست رہنے کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ عمل درآمد کا  feedback لیا جاتا رہے اور رپورٹنگ کا نظام بھی چست بنایا جائے۔

وقت کی قدر و قیمت

تنظیمی اقدار میں وقت کی قربانی اور پابندی کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ زندگی میں وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ مال و اسباب، صحت و تندرستی،عزت و وقار اور کھویا ہوا اقتدار سب کچھ دوبارہ حاصل ہو سکتا ہے لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ زندگی فی الواقع وقت سے ہی تعبیر ہوتی ہے۔ جس نے وقت کی قدر و قیمت کو پہچانا وہ کامیاب ہوا۔ اور جس نے اس کی ناقدری کی وہ مایوس و نامراد ہوا۔ کاموں کا جیسے تیسے انجام پانا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان کا احسن اور معیاری ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر مطلوب سے کم یا زیادہ وقت لگایا جائے یا وقت پر کام انجام نہ دیا جاسکے تو اس کی اہمیت و افادیت باقی نہیں رہ پاتی۔ تحریکوں میں کاموں کا بہتر انداز میں بر وقت اور تیزی کے ساتھ انجام پانا کامیابی کا پیش خیمہ ہوتا ہے، اس لیے نظم جماعت میں شروع ہی سے اس کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ لیکن اب وقت کی قربانی اور پابندی کے ساتھ کاموں کو انجام دینے کا مزاج متاثر ہوتا نظر آتا ہے۔ اجتماعات میں شرکت بھی وقت پر جیسی ہونی چاہیے اس میں کمی معلوم ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ ذمہ داران بھی اس معاملے میں کمزوریاں دکھانے لگے ہیں۔ ڈسپلن کی اس کمزوری کے اسباب پر غور کرنا چاہیے اور ان کے  تدارک پر خصوصی توجہ کرنی چاہیے۔آخرت کی جوابدہی کے احساس میں کمی بھی بنیادی اسباب میں سے ایک سبب ہو سکتا ہے۔ اس کا جائزہ بطور خاص لیا جانا چاہیے۔

انفاق مال اور امانت داری

وقت کے بعد جس طرح انسان کی شخصی زندگی میں مال کی اہمیت ہوتی ہے، اسی طرح اجتماعی زندگی میں اس کا بڑا رول ہوتا ہے ۔ کاموں کو بہتر طور پر انجام دینے کے لیے قدم قدم پر مال کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے اسلامی تعلیمات میں انفاق فی سبیل اللہ پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔ انفاق کو نفس کے تزکیہ کا ذریعہ بھی بتایا گیا ہےاور معرکۂ اسلامی کو سر کرنے کے لیے مال سے جہاد کرنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔ وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ (سورہ توبہ : ۴۱)۔ یہا ںجان کی قربانی سے پہلے مال کی قربانی کا تذکرہ کرنے میں جہاں فطری ترتیب ہے وہیں غالباً مال سے محبت کو قربان کرنے کا جذبہ بھی بیدار کرنا پیش نظر ہے اور اس تعلق سے دوسری جگہ انسان کی بڑی کمزوریوں ، بخالت اور فضول خرچی ، کو شیطانی عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اپنی جائز ضرورتوں پر اعتدال سے خرچ کرنےکے بعداپنے مال کا بہترین مصرف بندگان خدا کی مدد اور اللہ کے دین کی نصرت بتائی گئی ہے۔ تحریک کی سربلندی کے لیے جائز اور حلال ذرائع سے مال کا حاصل کرنا اور اس کا اعتدال اور احتیاط سے خرچ کرنا بھی ایک نمایاں قدر رہی ہے، اس لیے اندرون و بیرون تحریکی لوگوں کا اعتماد اسے حاصل رہا ہے۔ اللہ کی راہ میں مال و اسباب کی قربانی اور امانت داری کا حق ادا کرنے میں تحریکی رفقاءو ذمہ داران نے عہد صحابہ ؓ کی یاد تازہ کرنے کی کوششیں کی ہیں ، اس کی روشن مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ دیکھنا چاہیے کہ جذبۂ انفاق کو ابھارنے ،جائز مال و اسباب کو حاصل کرنے، مقصد تحریک پر انہیں بہتر انداز میں خرچ کرنے اور اپنی ذات پر اجتماعی امانتوں کے استعمال میں غایت درجہ احتیاط، اسی طرح اجتماعی کاموں میں فضول خرچی سے بچتے ہوئے سادگی اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے  کا لحاظ کس حد تک رکھا جارہا ہے، رفقا و ذمہ داران سبھی کو اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

مطلوبہ صفات و معیار کی برقراری

نظم و ڈسپلن کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ اجتماعیت سے وابستہ افراد کے عقائد راسخ ہوں، اُن کے اخلاق بلند ہوں، کردار میں پختگی ہو، ان کے معاملات درست ہوں، ان کے اندر نصب العین سے وابستگی کا شعور پختہ ہو اور اس کے حصول کے لیے اُن کے اندر جذبہ جنوں اور ایثار و قربانی بیدار رہے اور یہ اُس وقت ممکن ہے جب بہ اہتمام اس بات کی کوشش جاری رہے کہ ایسے افراد کا داخلہ مسلسل ہوتا رہے اور وہ اپنے مطلوبہ معیار پربرقرار رہیں۔ کمیت و کیفیت دونوں پہلوؤں سے اضافہ ہوتا رہے اور اگر کوئی معیار سے گرتا ہوا نظر آئے تو اُس کو سنبھالنے کے لیے آگے بڑھنے والے ہاتھوں کی کمی نہ ہو۔ کمزوریوں پر قابو پانے کی بروقت کوشش ہونی چاہیے اور مسائل کو پال کر نہیں رکھنا چاہیے۔ کوشش کے باوجود اگر کوئی اصلاح کی طرف راغب یا متوجہ نہ رہے تو تادیب و تطہیر کا عمل بھی چست و درست رہے۔ ایسا نہ ہو کہ ایک اچھا عنصر ہمارے اندر آئے اور ہماری غفلت سے وہ دوسری طرف چلا جائے۔ دونوں پہلوؤں پر ہماری نگاہ رہنی چاہیے۔آنے والا صحیح و بہتر ہو، نیا خون آتا رہے اور فاسد خون نکلتا رہے۔ اس معاملہ میں رشتہ دار یاں،تعلقات اوربے جا مروت، نرمی اور ڈھیل کا سبب نہ بنیں۔ ذاتی رجحانات اور مزاج کی سختی بھی کسی پر زیادتی کا سبب نہ بنے۔ عدل کے تقاضے ہر حال میں ملحوظ رہیں۔کوئی بھی کارروائی ٹھوس بنیادوں اور متعین ثبوت و شواہد پر ہونی چاہیے۔ رفقائے کار کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ نظم کی جانب سے نہ تو بے جا رعایت ہوسکتی ہے اور نہ ہی عدل کے خلاف کوئی اقدام یا کارروائی ممکن ہے۔ اجتماعیت میں نظم پر یہ یقین و اعتماد ایک بڑا سرمایہ ہوتا ہے، جس کے ہوتے ہوئے نظم و ڈسپلن کی پابندی آسان اور خلاف ورزی مشکل ہوتی ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔

مئی 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau