انحرافی جنسی رویوں کا نفسی معاشرتی ڈسکورس – 11

شناختی مظاہر اور صنفی اضطراب

ڈاکٹر محمد رضوان

پچھلے مضمون میں صنفی اضطراب کے حوالے سے کچھ باتیں عرض کی گئی تھیں۔ اس مضمون میں شناختی مظاہر اور صنفی اضطراب سے جڑے اہم پہلوؤں پر گفتگو کی جائے گی۔

شناخت کا ڈسکورس ایک پیچیدہ ڈسکورس ہے۔ مثلًا درج ذیل سوالوں کے جواب سوچنے کی کوشش کریں۔ ان سوالوں کے جوابات صنفی شناخت اور جنسی سیالیت وغیرہ کے حوالے سے ہوں گے شناخت کی عمرانیات سے یہاں بحث نہیں ہے۔

  • شناخت کیا ہے؟
  • شناخت کی تعمیر و تشکیل کیسے ہوتی ہے؟
  • شناخت کی تعمیر و تشکیل میں کون کون سے عوامل کا کردار ہوتا ہے؟
  • کیا شناخت کے احساس کو (manipulate) کیا جا سکتا ہے؟

یہ تمام سوالات انتہائی اہم ہیں، کیوں کہ ان کے صحیح جوابات انسانیت کو شناخت کے ان مسائل سے نکلنے، نمٹنے اور ان کا درست اور پائیدار حل ڈھونڈنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں شناخت کے حوالے سے ایک عجیب طرح کی ہڑبونگ مچی ہے۔ بطور خاص جب سے جنسی دوئی کے باہر کے انحرافی، جنسی رویے جیسے LGBTQ+ وغیرہ کے بیانیے قبول عام حاصل کر رہے ہیں۔ مثلًا Trans woman اور Trans man کے تصورات (جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ٹرانس وومن وہ مرد ہوتا ہے جو اپنے آپ کو ایک مرد کے جسم میں قید محسوس کرتا ہے اور ٹرانس مین وہ عورت ہوتی ہے جو اپنے آپ کو ایک عورت کے جسم میں قید محسوس کرتا ہے)۔ صنفی شناخت کے حوالے سے جیسے ہی ان دو تصورات کو عام مان لیا گیا انھیں بیماری کے درجے سے نکال کر حالت (condition) کی اصطلاح سے موسوم کیا جانے لگا اور ان نفسیاتی حالتوں نے بتدریج (sexual disorder)سے gid تک اور اس سے ہوتے ہوئے (gender incongruence)کے راستے (gender dysphoria)تک کا سفر طے کر لیا۔ عوام میں انھیں قبول عام دلوانے کے لیے غیر معمولی کوششیں ہوئیں۔ قوانین بنائے گئے، حکومتی سرپرستی حاصل کی گئی۔ ان تمام کے دوران اس نکتے پر کسی نے غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ایک بار صنفی شناخت کے حوالے سے ہی اگر شناختی مظاہر کا پنڈورا بکس کھل گیا تو کیا ہوگا۔

جیسے ہی آپ یہ مان لیتے ہیں کہ ٹرانس جینڈر ایک عموم ہے اور اس کے لیے کسی علاج کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ایک علاج ہے اور وہ یہ کہ اپنے خارج کو اپنے داخل کے مطابق بنا لیا جائے، اس ضمن میں ساری تحقیقات تقریبًا بند ہو جاتی ہیں۔ خارج کو داخل کے مطابق بنانے کے لیے غیر معمولی پُر خطر طریقے عام ہو جاتے ہیں۔ فرد کی جسمانی صحت کی حیثیت ثانوی مان لی جاتی ہے، انجام کار ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ جسے (Downward Spiral)کہا جاسکتا ہے۔

اب حالت یہ ہے کہ شناختی مظاہر کے حوالے سے عجیب و غریب دعوے کیے جانے لگے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں ایک ٹین ایجر لڑکی اپنے آپ کو ‘بلّی’ سمجھتی ہے، انسان نہیں۔ وہ کلاس میں خاموش رہتی ہے اور بلیوں کی طرح میاؤں میاؤں کرتی ہے۔ اسکول کی انتظامیہ نے اسے ایسا کرنے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ کلاس کو ڈسٹرب نہ کرے۔

امریکہ کی ایک محترمہ اپنے آپ کو ایلف (elf) قرار دیتی ہیں انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ لارڈ آف دی رنگ فلم دیکھنے کے بعد انھیں فوراً احساس ہوا کہ وہ ایلف ہیں۔ ایلف ایک چھوٹی سی مخلوق ہے جو تصوراتی ہے اور جادوئی قوتیں رکھتی ہے۔

امریکہ میں ایک محترمہ ہیں جو اپنے آپ کو جل پری (mermaid) بتاتی ہیں۔ اور اس بات پر مصر ہیں کہ انھیں پانی میں رہنے دیا جائے۔

ایک شادی شدہ جوڑا ہے جس میں بیگم صاحبہ اپنے آپ کو کُتیا باور کراتی ہیں ان کے شوہر نامدار ان سے نہ صرف متفق ہیں بلکہ ان کی اسی شناخت کی عزت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کا مربّی بتاتے ہیں۔

یہ سرسری سی چار مثالیں ہیں۔ قارئین کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو اکّا دکّا مثالیں ہیں۔ یہ میڈیا میں جگہ پانے اور سستی شہرت کے ذریعے آسانی سے پیسہ بنانے کا حربہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ transpeciesکا پورا ڈسکورس دھیرے دھیرے تشکیل پا رہا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر اس کا بروقت جواب نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں یہ تصورِ آدم، تصورِ خلافتِ آدم، تصورِ آدم بحیثیت ایک جداگانہ مخلوق کے لیے بڑا چیلنج بن جائے گا۔

Trans species یا Tran specieism کا آسان مطلب یہ ہوتا ہے کہ انسان ہوتے ہوئے اپنے آپ کو کسی اور جانور یا دیگر مخلوق سے منسوب کرلیا جائے یا اپنے آپ کو وہ مخلوق سمجھ لیا جائے اور اس مخلوق کی طرح پیش آیا جائے جیسے کتّا، بلّی، جل پری، بھیڑیا وغیرہ۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو جانور اور انسان کے درمیان موجود حدِ فاصل پر کھڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

انھیں other… بھی کہا جاتا ہے۔ یا ایسے افراد اپنے آپ کو other… بھی بلاتے ہیں[1]

بہت دل چسپ بات یہ ہے کہ تھیرین تھراپی (Therian therapy) انیسویں صدی تک نفسیات کی دنیا میں بیماری کی حیثیت میں موجود تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ “کوئی انسان جو ایسی۔۔ ۔۔۔ حالت میں ہو جس کے تحت وہ اپنے آپ کو جانور سمجھتا ہو۔ [2] مزیدار بات یہ ہے کہ اگر آپ اسے صنفی اضطراب سے ملا دیں تو ایک دل چسپ تصویر بنتی ہے۔

اگر کسی فرد کا اپنے آپ کو ‘مرد’ یا ‘عورت’ کے جسم میں قید محسوس کرنا ایک عام بات ہے اور یہ بیماری نہیں ہے بلکہ صرف ایک ‘حالت’ ہے۔ اور اس کا علاج اپنے داخل کے احساسات کے مطابق اپنے خارج کو بنا لینا ہے تو کیا یہ بات other… پر بھی صادق نہیں آتی۔

کیا جو افراد Therianthropy سے گزر رہے ہیں انھیں اس جانور جیسا بنا دیا جانا چاہیے۔ اگر نہیں تو پھر صنفی اضطراب سے گزر رہے افراد پر ہی کیوں زور دیا جاتا ہے اور کیوں صنفی اضطراب میں خارج کے مطابق داخل کو بنانے کا راستہ نہیں ہے۔

اگر TS یا Therianthropy کو حالت نہیں کہا جاتا بلکہ نفسیاتی بیماری کے طور پر اس کا علاج کیا جاتا ہے تو GD کے لیے کیوں نہیں ایسا ہو سکتا؟

جہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس سے انکار نہیں کیا جا رہا ہے کہ GD کے علاج کے تجربات ناکام ہوئے ہیں۔ تاہم چند یا بہت سے تجربات کی ناکامی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اصول مکمل طور پر غلط ہے۔ کیوں کہ بڑی تعداد میں صنفی اضطراب سے گزر رہے افراد مختلف تھراپی اختیار کر کے ولادت کے وقت دی گئی صنفی شناخت، یا اپنے ثانوی اعضا والی شناخت پر واپس لوٹ گئے۔ دونوں قسم کے نتائج کی موجودگی میں صرف ایک قسم پر غیر ضروری زور کیوں دیا جاتا ہے۔

اس کی حالیہ مثال آسٹریلیا کے شہر برسبین میں موجود ایک ہائی اسکول کے طالب علم کی ہے۔ ڈاکٹر کارگریگ کے ایک طالب علم کو ان کے پاس لایا گیا جو اپنے آپ کو کتّا سمجھنے لگا تھا۔ جب اس کی زندگی کا بطور مطالعہ کرکے اس میں موجود Stressor ہٹا دیے گئے تو وہ دوبارہ اپنی انسانی شناخت پر لوٹ گیا۔[3]

سچ بات یہ ہے کہ شناخت کی پوری بحث میں مرکزی نکتہ یا اس محور کا نہ ہونا سب سے اہم مسئلہ ہے جسے آپ کسوٹی کہتے ہیں۔ جیسے ہی آپ یہ مان لیتے ہیں کہ آپ بھی دوسرے جانداروں کی طرح، دوسرے جانوروں کی طرح، دوسری انواع کی طرح بس ایک جاندار، ایک جانور، ایک نوع ہیں۔ اس وقت شناخت کا ناگ پھن اٹھائے آپ کو ڈسنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ ایک بار جیسے ہی آپ نے اپنے آپ کو خلافت کی مسند سے نیچے اتار دیا اسی وقت آپ شناخت کے ایک ایسے دلدل میں قدم رکھ دیتے ہیں جس سے نکلنا ممکن نہیں ہوتا۔ نیچری اخلاقیات، اور سیکولر ہیومینزم کے ادھورے اور بڑی حد تک کھوکھلے فلسفے شناخت کے پیچیدہ مسائل کی کسوٹی بننے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

صنفی شناخت اور اس سے جڑے مسائل جیسے صنفی اضطراب وغیرہ ہوں یا Transpecies یا تھیرین تھراپی وغیرہ کے مسائل ہوں انھیں تخفیفی فریم کے تحت دیکھنا اور خاص ایجنڈے کے تحت، خاص ورلڈویو کے تحت اس پر تحقیق کو آگے بڑھانا کسی فائدہ مند نتیجہ تک نہیں پہنچا سکتا۔ مثلًا مضمون کی ابتدا میں دیے گئے سوالات کے تحت اگر دیکھیں تو شناخت کی تشکیل و تعمیر میں درج ذیل عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

حیاتیاتی عوامل: صنفی شناخت ہو یا کوئی اور شناخت حیاتیاتی عوامل جیسے وہ جینس جو انسان نے اپنے ماں باپ سے پائے، دوران حمل خاص قسم کے ہارمون کا خارج ہونا۔ ماں اور باپ کی صنفی شناخت، دوران حمل ماں کی اخلاقی، تغذیاتی اور ہارمونل کیفیات سب کی سب صنفی شناخت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ لیکن LGBTQAI+ کے پروپیگنڈے کے تحت ایسا باور کرایا جاتا ہے کہ صنفی شناخت ہو یا صنفی اضطراب ہو یا جنسی دوئی کے باہر تمام رویے جیسے + LGBTQAIسب کے سب صرف اور صرف حیاتیاتی عوامل سے فیصل ہوتے ہیں نیز صنفی اضطراب یا جنسی رخ تمام کے تمام جینیاتی طور پر فیصلہ کن ہیں اور کسی فرد کے ان احساسات پر رویوں پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ حالاں کہ خالص سائنسی بنیادوں پر ایسا کہنا علمی بددیانتی ہے۔ مثلًا اگر ہم نیچر جرنل کے اس اہم ترین تحقیقی مقالہ کا مطالعہ کریں جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ عام افراد اور ٹرانس سیکسوئل افراد کے دماغ میں فرق ہوتا ہے، تو حیرت انگیز باتیں سامنے آئیں گی۔ ملاحظہ کیجیے:

اس تحقیق میں نمونہ (sample) کا حجم ‘۶’ تھا۔ بعض محققین کے نزدیک شماریاتی اعتبار سے یہ یکسر قابلِ قبول نہیں ہے۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے نمونے ملنا مشکل ہیں اور یہ کہ یہ تحقیق بہت واضح انداز میں ٹرانس سیکسوئل حالت کی توجیہ کرتی ہے۔ لیکن بہرحال شماریاتی سقم کا انکار ممکن نہیں۔

ٹرانس سیکسوئل کا خاصہ (trait) کیا صرف دماغ کے مخصوص حصے سے ہی عبارت ہے؟ جب کہ پیچیدہ خاصے جیسے جنسیت ماحول اور مختلف داعیوں کے تحت آتے ہیں۔ انھیں صرف دماغ کی خاص بناوٹ اور اس کے فرق سے فیصل نہیں کیا جا سکتا۔

خالص تکنیکی بنیادوں پر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ دماغ کی خاص بناوٹ کی وجہ سے یہ حالت پیدا ہوئی یا ایسی حالت کی وجہ سے دماغ کی خاص انداز میں بناوٹ وجود میں آئی۔

بعض محققین اس تحقیق کو اس ورلڈ ویو کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں جس میں تمام نفسیاتی عوارض اور نفسیاتی حالتوں کی توجیہ ‘مادہ’ یا کیمیائی مادوں کی بنیاد پر کی جا سکتی ہے یا جاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ورلڈ ویو کا یہ بنیادی مقدمہ ہی غلط ہے، کیوں کہ انسانی دماغ کو ابھی ابتدائی سطح پر بھی نہیں سمجھا جاسکا ہے، اس لیے اتنے حتمی دعوے نہیں کیے جا سکتے۔

بہرحال اس تحقیق کے بعد اس طرح کی کوئی مزید تحقیق نہیں آئی۔ ہو سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ انسانوں پر تحقیق کی اپنی تکنیکی دشواریاں ہیں۔ اور نمونوں کے درکار معیاری حجم تک پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

لیکن ۱۹۹۵ میں اس تحقیق کے آتے ہی ساری دنیا میں زور و شور سے یہ کہا جانے لگا کہ LGBTQAI+ اور ٹرانس سیکسوئلٹی فطری ہے اور دماغ کی خاص بناوٹ کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ اس کا علاج بھی نہیں کیا جا سکتا۔ (کیوں کہ صنفی اضطراب کے علاج کے بعض طریقے ناکام ہوچکے تھے) اس طرح اس تحقیق اور صنفی اضطراب کے ناکام علاج کے ملغوبے سے یہ بیانیہ تشکیل دے دیا گیا کہ شناخت اور بطور خاص جنسی شناخت کامل طور پر فطری ہے اور جینیاتی اور فطری بناوٹ کی وجہ سے تشکیل پاتی ہے۔ جب کہ یہ ادھوری حقیقت ہے۔ کیوں کہ ۲۰۱۰ اور اس کے بعد کی دہائی میں صنفی اضطراب سے گزر رہے بہت سارے افراد جو Transitioned ہوئے وہ دوبارہ Retransitioned ہو کر اپنی پیدائشی شناخت پر واپس چلے گئے۔ اور اس ضمن میں CBT وغیرہ کا استعمال مفید بتایا جانے لگا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد پر مبنی تھراپی کے بھی تجربات سامنے آنے لگے ہیں، جس کے تحت مریضوں کے عقائد اور نظام عقائد کو تھراپی کا حصہ بناتے ہوئے ان میں مثبت نفسیاتی تبدیلی پیدا کی جاتی ہے۔

گو اس طرح کی تحقیقات ابھی نام نہاد مرکزی دھارے میں داخل نہیں ہوئی ہیں لیکن کم از کم وہ ایک اقلیتی نقطہ نظر کی حیثیت بہرحال اختیار کر چکی ہیں۔ اور اس ضمن میں ٹھوس، پائیدار اور اعلی درجہ کا انٹلکچول اکٹیوزم اس میدان میں انقلاب لاسکتا اور فرسودہ اور غیر فطری مفروضات کی عمارت کو زمین بوس کر سکتا ہے۔

۲۔صنفی شناخت اور صنفی اضطراب کی تشکیل و تعمیر میں دوسرا سب سے اہم کردار سماجیانے کے عمل (socialization) کا ادا کرتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے فرد اقدار، رسوم و رواج اور رویے کو اختیار کرتا ہے۔ اس کی ابتدا گھر سے ہوتی ہے اور جدید تحقیقات کے مطابق تو یہ کہا جا رہا ہے کہ بطور خاص صنفی شناخت ۳ سال کی عمر تک آتے آتے فیصل ہو جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک صنفی شناخت جیسا پیچیدہ خاصہ غالبًا اتنی جلدی فیصل نہیں ہوتا۔ کم از کم کامل طور پر تو نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں جتنی تحقیقات ہوئی ہیں سب پر کلام کی گنجائش ہے۔ اگر یہ خاصہ کامل طور پر فیصل ہوتا تو صنفی اضطراب کی ابتدا ۹ سے ۱۲ سال تک نہیں ہوتی بلکہ اس سے پہلے ہی ہو جاتی۔ اب تک صنفی اضطراب کی واضح اور غیر مختلف فیہ عمر طے نہیں ہو پائی ہے لیکن ۹ سے ۶۰ سال تک کے افراد نے اس کی شکایت درج کرائی ہے۔ اس لیے عام طور پر اس کے ۹ سال کی عمر سے شروع ہونے کو قبول عام حاصل ہے۔

اب یہاں رک کر سوچنے کا مقام ہے۔ ایک یوروپی یا مغربی گھر میں یا خاندان میں سماجیانے کے حوالے سے ایک بچہ کس طرح کا ماحول پاتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جس میں صنف کی تعریف ہی متعین نہیں۔ بلکہ اب تو صنف غیرجانب دار (gender neutral) گھر کی بات ہونے لگی ہے۔ ہی (he) اور شی (she)کے ضمائر کو ہٹانے کی بات ہونے لگی ہے تاکہ بچے کو صرف جنسی دوئی ہی کا اختیار نہ ملے بلکہ ہر قسم کی جنسیت کا تجربہ کرنے کی آزادی رہے! گھر میں، اسکول میں، بچوں کی برتھ ڈے پارٹی میں ہر جگہ وہ LGBTQAI+ کے ڈسکشن سنتا ہے۔ ڈپارٹمنٹل اسٹور میں ان کا ایک سیکشن دیکھتا ہے۔روز صبح سے شام تک کے اس پروپیگنڈے سے جو اس کے معصوم ذہن کو مستقل متاثر کرتا ہے۔ ایک ایسے سماجیانے کے ماحول میں کیا واقعی بچہ معتدل اور فطری انداز میں اپنی صنف کے تعلق سے باشعور کیا جا سکتا ہے! ہرگز نہیں! بلکہ غیر ثابت شدہ مفروضات پر مبنی شناخت کے اس ڈسکورس میں وہ مزید الجھتا جاتا ہے۔ یہ اتنا پیچیدہ معاملہ ہو جاتا ہے کہ بچے گھر کے ماحول میں، اسکول کے ماحول میں عمومی طور پر گارڈن میں کھیلتے ہوئے ایسے مظاہر (symbols) اور بیانیوں سے آگاہ ہوتے ہیں جنھیں سر انجام دینے کی صلاحیت ان کے معصوم ذہن میں نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ ہر قسم کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کی ذہنی صحت پر اس کا خاصا دباؤ پڑتا ہے۔

اس کے جواب میں عجیب منطق یہ دی جاتی ہے کہ جب سارے اختیارات کھلے رہیں گے تو اس سے آزاد انتخاب کی ایک شرط مکمل ہوگی جو کہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ کی پہچان ہے۔ لیکن کیا واقعی فرد آزاد انتخاب کے لیے آزاد ہے؟ ہزاروں راہیں ایسی ہوتی ہیں جو کھلی نہیں ہیں۔ اور اجتماعی ادارے یعنی سماج کی وجہ سے فرد اس میں قید ہوتا ہے۔

بہرحال شناخت کی تشکیل میں سماجیانہ ایک انتہائی اہم رول ادا کرتا ہے لیکن موجودہ دور میں کیا یہ مثبت رول ادا کرپا رہا ہے۔ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس جگہ سے اسے دیکھتے ہیں۔

۳۔ ثقافتی اور جغرافیائی عوامل: ہر بچہ ایک خاص کلچر اور جغرافیے کے بیانیوں میں گھرا ہوتا ہے۔ مثلًا ہر کلچر میں مرد و عورت اور لڑکا اور لڑکی سے جڑے تصورات چاہے وہ ان کی زبان کے اعتبار سے ہوں یا کپڑے پہننے اوڑھنے کے اعتبار سے یا ان کی پسند ناپسند کے اعتبار سے، بچے کو گھر میں بہت ابتدائی عمر سے ہی اس کا احساس دلایا جاتا ہے۔ مثلًا لڑکیوں اور لڑکوں کے نام الگ الگ ہوتے ہیں۔ ان کے ضمائر الگ الگ ہوتے ہیں۔ ان کے کپڑے الگ الگ ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے نر اور مادہ کے فرق کو راسخ کیا جاتا ہے جو بالکل فطری ہے اور سماج کے بڑے مفاد عام کے لیے درست ہے۔ LGBTQAI+ بیانیہ اسے غلط مانتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ جنسی دوئی اور اس کی ذہن سازی ہے، اور یہی دراصل اس ہزیمت بھرے رویے کو پیدا کرتی ہے جو اس دوئی کے باہر کے افراد آئے دن جھیلتے ہیں (حالاں کہ یہ صرف جزوی طور پر صحیح ہے!) اور بالآخر یہ ماحول ان کی صنفی شناخت کے تصور پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ یہاں اس بات کو ںوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ نہیں کہا جا رہا کہ بس اس ماحول کے چلتے ہی یا ‘صرف’ اسی ماحول کی وجہ سے صنفی شناخت/صنفی اضطراب پیدا ہو جاتا ہے۔ نہیں! بلکہ یہ ماحول ایک بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے کہ بچہ اپنے آپ کو کس صنفی شناخت کے ساتھ وابستہ کرے۔

۴۔ نفسیاتی عوامل: چوتھا اور سب سے غیر معمولی اثر نفسیاتی عوامل کے حوالے سے ہے۔ شناخت، صنفی شناخت اور جنسی رخ طے کرنے میں نفسیاتی عوامل، ماضی کے نفسیاتی تجربات، ماں باپ کی نفسیات، خاندان کی عمومی نفسیات وغیرہ پر لٹریچر کا ایک کثیر ذخیرہ ہے۔ اس پہلو سے لٹریچر کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

  • الف: وہ لٹریچر جو یہ بتاتا ہے کہ بچپن کے نفسیاتی تجربات شناخت اور جنسی رخ کو طے کرتے ہیں۔ جس قسم کے نفسیاتی ماحول میں بچہ پلتا اور بڑھتا ہے، جس طرح کے تجربات سے گزرتا ہے بس وہی اس کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس میں شناخت، صنفی شناخت، جنسی رخ وغیرہ سب شامل ہیں۔ 18 ویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل کی نفسیاتی تحقیقات میں بڑی تعداد میں اس پہلو سے تحقیقی مقالات موجود ہیں۔
  • ب: وہ لٹریچر جو انسانی رویہ، خاصّے، نفسیات اور افعال کی خالص مادّی توجیہ پر مبنی ہے۔ جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کے ہر فعل کی توجیہ ہارمون، کیمیائی شبکے، جینس اور جینس کے تفرقی کنٹرول (differential regulation) کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ اس لٹریچر میں کثرت سے ایسے مقالات ملیں گے جن میں دماغی بناوٹ حمل کے دوران خاص ہارمون کی افزودگی، یا افراز، رحم مادر کا مخصوص ماحول وغیرہ یہ سب مل کر شناخت، صنفی شناخت اور جنسی رخ وغیرہ کو طے کرتے ہیں۔ اس طرح کا لٹریچر ۷۰ کی دہائی کے بعد سے۲۱ ویں صدی کے ابتدائی دس برسوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
  • ج: وہ لٹریچر جس میں مذکورہ بالا دونوں پہلوؤں کے ساتھ ایسے بہت سے عوامل کو اہم مانا جاتا ہے جن کی نفسیاتی اور مادی دونوں قسم کی توجیہ مشکل ہے۔ بلکہ صنفی رخ، شناخت اور جنسی رخ وغیرہ کو انتہائی پیچیدہ خاصوں کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور اس ضمن میں تحقیق کو اپنے ابتدائی درجے میں بتایا جاتا ہے اور اس طرح کے خاصوں کی وجوہات کو حتمی طور پر بیان کرنے میں تحقیقی طریقہ کار اور ٹکنالوجی دونوں کو مکمل طور پر کام یاب نہیں مانا جاتا۔

یہ لٹریچر بہت کم ہے۔ لیکن ۲۰۱۰ سے اس طرح کے تحقیقی مقالات میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے نزدیک حقیقت سے قریب تر وہی لٹریچر ہے جو تیسری قسم سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے کہ جدید نفسیاتی تحقیقات جس جانب اشارہ کر رہی ہیں وہ ایک پیچیدہ، لیکن تغیر پذیری (amenable to change) والا تصور ہے۔ جس میں شناخت، صنفی شناخت، اور جنسی رخ میں بڑی حد تک تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اس نوٹ کے ساتھ کہ یہ تبدیلی انحرافی جسنی رویوں سے نبرد آزما ہر فرد کے لیے اگر ممکن نہ ہو تو بھی ایک بڑی تعداد تغیر پذیر ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں ہو رہے تجربات کے نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں۔ نفسیاتی عوامل میں سب سے اہم کردار معنویت سازی (meaning making) کا ہے۔ شناخت اور صنفی شناخت کا ڈسکورس اس اہم کردار کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ ایک انتہائی وقیع اور تفصیلی بحث ہے۔ اور قارئین کے لیے بہت بوجھل بھی ہو سکتی ہے۔ اسے آسان لفظوں میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ MM کیا ہے؟ نفسیات کی زبان میں MM وہ عمل ہے جس کے ذریعے افراد اپنی زندگی میں کسی بھی شے کی معنویت کو تشکیل دیتے ہیں یا اس کا معنی تشکیل دیتے ہیں یا اپنے آس پاس کی دنیا میں (بشمول خود) مقصد اور توافق (coherency) ڈھونڈتے ہیں۔ مثلًا بچے کو ہم سکھاتے ہیں۔ یہ مرد ہے یہ عورت ہے، جب بچہ اپنے اطراف دوسرے لوگوں کو دیکھتا ہے۔ ماحول اور سماج میں ہونے والے تمام واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے تو MM کا عمل جاری و ساری رہتا ہے۔ شناخت اور بطور خاص صنفی شناخت کی MM میں ماحول کا غیر معمولی رول ہو جاتا ہے۔ ایک بچہ اگر اپنے آس پاس صرف دو جنسوں کا تصور پاتا ہے تو زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ ان دو جنسوں کے حوالے سے اپنی MM کرے گا۔ اگر اس تصور کے علاوہ کئی جنسوں کا مشاہدہ اپنے آس پاس کرے تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ اس کی MM اسی انداز کی ہوگی۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا کی تابڑ توڑ یلغار نے معلومات کا ایسا سمندر کھول دیا ہے جس سے بچے ہر قسم کے تصورات سے دو چار ہو رہے ہیں۔ ٹک ٹاک، ریلز اور دیگر پلیٹ فارموں سے وہ تصورات پھیل رہے ہیں یا پھیلائے جار ہے ہیں جو بچوں کی MM کو غیر معمولی طور پر متاثر کر رہے ہیں۔

اس ضمن میں کئی تحقیقات ہیں کہ بچوں نے ٹرانس جینڈر اور ٹرانسیشن وغیرہ کے تصورات سب سے پہلے سوشل میڈیا پر دیکھے یا پڑھے۔ [4]

ڈیجیٹل میڈیا کس طرح بچوں کے MM پر اثر انداز ہوتا ہے اس پر بہت سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مثلّا راقم ایک ایسے ٹرانس ورجن (مرد) سے ملا ہے جس نے کہا کہ اسے سب سے پہلے اس وقت یہ احساس ہوا کہ وہ عورت ہے جب اس نے ایک مشہور ہیروئن کو ایک فلم میں گلابی رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا، اس کے بعد سے اسے یکا یک لگنے لگا کہ وہ اصلًا عورت ہے لیکن ایک مرد کے جسم میں قید ہے!

اسی طرح بہت سارے کم سن بچے صنفی اضطراب کے بارے میں دیکھ کر یا جنسی انحرافی رویوں کے پروپیگنڈے کے چلتے اپنے صنفی اور جنسی شناخت کے تئیں کنفیوز ہو جاتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

لیکن ہندوستان ہی میں ہوئی ایک تحقیق کے مطابق صنفی اضطراب کو دور کرنے کے لیے ہارمون اور سرجری کے خصوصی مراکز کے بارے میں معلومات اور صنفی اضطراب اور دیگر شناخت کے تصورات بہت سارے کم سن بچوں نے سوشل میڈیا ہی سے حاصل کیے۔ [5]

کئی نفسیاتی ماہرین اب اس بات پر متفق ہو رہے ہیں کہ سوشل میڈیا، انیمی اور ڈیجیٹل مواد بچوں کے MM میں غیر معمولی اور غیر ضروری حد تک اثر انداز ہو رہا ہے۔ کارٹون کردار جیسے ڈورے مون جو نوبیتا کو ہوم ورک کر کے دیتا ہے اور ہر مشکل میں اس کے ساتھ رہتا ہے اور چٹکی بجا کر ساری مشکلات حل کر دیتا ہے، اس طرح کے کردار بچوں میں فعالیت، سنجیدگی اور دل لگا کر اور جٹ کر کام کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کے کھانے کے رویوں اور عادتوں سے لے کر بچوں کی نشوو نما پر کس طرح کارٹون اثر انداز ہو سکتے ہیں ان تمام پر تحقیقات موجود ہیں۔ البتہ بطور خاص انیمی اور اس قبیل کے کارٹون بچوں کے MM پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں اس پر تحقیقات ابتدائی درجے میں ہیں۔ لیکن نفسیاتی ماہرین مانتے ہیں کہ انیمی میں موجود بہت سارے کرداروں کو بچے اپنے MM کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مثلًا ایک انیمی میں ایک خاص کردار اپنی توانائی بچانے کے لیے کوئی کام نہیں کرتا بجز انتہائی ضروری کام کے۔ اب بچہ اگر اس سے یہ MM کر لے کہ کھیلنا اور دوڑ بھاگ کرنا، یا مسجد جانا توانائی کو ضائع کرنا ہے تو وہ ساری بیرونی سرگرمیوں سے دست بردار ہو سکتا ہے۔

نفسیاتی معالجین نے ذاتی گفتگو میں اس طرح کے کیسوں کا تذکرہ کیا ہے۔ چناں چہ کہا جا سکتا ہے کہ MM وہ غیر معمولی پہلو ہے جو شناخت اور صنفی شناخت اور جنسی رخ وغیرہ کے لیے انتہائی اہم رول ادا کرتا ہے۔

حرف آخر: اب تک کی بحث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ شناخت اور بطور خاص صنفی شناخت ایک پیچیدہ اور تہدار خاصّہ ہے۔ یہ محض مادی توجیہات سے سمجھا نہیں جا سکتا بلکہ اس کے پیچھے انتہائی پیچیدہ، حیاتیاتی، سماجی، ثقافتی، نفسیاتی اور تجرباتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ ایک کثیر الجہت معاملہ ہے۔ اس لیے اسے صرف حیاتیاتی یا صرف ماحول کی دوئی میں دیکھنا بھی درست نہیں ہے۔ اسی طرح یہ مان لینا بھی درست نہیں ہے کہ صنفی شناخت اور اس سے جڑے مسائل میں نفسیاتی تحقیقات حرف آخر ہیں بلکہ اس ضمن میں تحقیقات اور ان صنفی شناخت کی ان حالتوں پر نئے زاویے سے نئے نقطہ نظر سے تحقیق اور طریقہ علاج کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔

اگست 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau