مسلم امت کی ترقی

سید سعادت اللہ حسینی

جس وقت یہ سطور لکھی جارہی ہیں، امریکی شہر سانتا کلارا میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم کی نماز جنازہ اور تدفین کا عمل مکمل ہورہا ہے۔ ان کے آخری سفر کا آ ن لائن مشاہدہ کرکے، ان کی یادوں کے سائے میں یہ مضمون لکھنے بیٹھا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب تحریک اسلامی کے قدآور دانش ور، مفکر، قائد اور نظریہ ساز تھے۔ مسلسل سات دہوں تک انھوں نے ہندوستان کی اسلامی تحریک اور یہاں کے مسلمانوں کی فکری رہ نمائی کا کام انجام دیا اور اپنے وسیع علم اور متنوع قابلیتوں نیز مجتہدانہ بصیرت اور عبقری صلاحیتوں سے فکر وعمل کے بہت سے گوشوں کو روشنی بخشی۔ تاریخ میں وہ جہاں اسلامی معاشیات کے اہم ترین اور بنیاد ساز حوالے کی حیثیت سے معروف رہیں گے وہیں تاریخ کے فیصلہ کن مراحل میں، ہندوستانی مسلمانوں کے ایک عظیم محسن کی حیثیت سے بھی ضرور یاد رکھے جائیں گے۔ اللہ تعالی مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے۔ آمین۔

ہم آج اشارات کے اس کالم میں ایک نئے سلسلہ مباحث کی شروعات ڈاکٹر ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب مرحوم کے ایک اقتباس سے کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’اگرچہ بالآخر اس ملت کا مستقبل تحریک اسلامی سے وابستہ ہے مگر سر دست اس ملت کے داعی گروہ کی سماجی اور سیاسی قوت کا انحصار بڑی حد تک خود اس ملت کی سماجی اور سیاسی قوت پر منحصر ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ملت کی تعلیمی اور اقتصادی حالت گرتی چلی جائے اور وہ انتشار و افتراق کے سبب سیاسی طور پر بے اثر ہوجائے مگر اس ملت سے ابھرنے والے داعی گروہ کی سماجی اور سیاسی قوت بڑھتی چلی جائے۔ اگر ملت کی تعلیمی اور اقتصادی حالت بہتر ہو اور اس میں اتحاد پایا جائے جس کے نتیجے میں ملکی سیاست میں اس کا پورا وزن محسوس کیا جائے تو اس ملت کے داعی گروہ کو مزید قوت حاصل ہوگی۔‘‘[1]

ہندوستان کی امت مسلمہ کی ترقی اور اس کی سماجی، سیاسی، معاشی و اخلاقی قوتوں میں اضافہ، دوسرے لفظوں میں اس کی امپاورمنٹ، تحریک اسلامی کے مقاصد کے حصول لیے از حد ضروری ہے اور یہ ملک میں امت کی بقا و تحفظ کا بھی ایک اہم طویل المیعاد تقاضا ہے۔ ملت کی تعلیمی ترقی کے لیے کئی گروہ سرگرم ہیں۔ پندرہ سال پہلے سچر کمیٹی کی رپورٹ نے پورے ملک میں مسلمانوں کی پس ماندگی کو ایک اہم ایشو بنادیا تھا اور اس کے نتیجے میں بے شمار سماجی تنظیموں نے مسلمانوں کے امپاورمنٹ کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس مقصد کے تقاضے کیا ہیں؟ جو کچھ کوششیں اس وقت جاری ہیں ان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ترقی کے طاقت ور محرکات کو کارفرما بنانے کا کام ابھی بھی باقی ہے۔ وقتی مادی مفادات افراد کے لیے تو محرک بن سکتے ہیں لیکن پوری امت کی ترقی کے لیے وہ محرک نہیں بن سکتے۔ سہولتوں اور اداروں سے بھرپور استفادہ بھی محرکات کی تقویت پر منحصر ہے اور بے داری کا انحصار بھی اسی پر ہے۔ بدقسمتی سے مسلم امپاورمنٹ کی مہم میں اصل محرکات پر بہت کم توجہ ہوسکی ہے۔ یہ سمجھا گیا کہ مسلمان بھی اسی طرح ترقی کریں گے جس طرح ملک کے دیگر پس ماندہ طبقات نے ترقی کی ہے یا دنیا میں اور جگہوں پر پس ماندہ گروہوں نے امپاورمنٹ کی منزلیں طے کی ہیں۔

ظاہری اور سطحی عوامل کی اہمیت سے انکار نہیں ہے۔ یعنی یہ کوششیں بھی بلاشبہ مطلوب ہیں کہ مسلمانوں میں تعلیم عام ہو، تعلیمی ادارے قائم ہوں، ان کو معاشی ترقی کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں، حکومتوں سے اسکیمیں منظور کرائی جائیں اور ان اسکیموں کی ضرورت مندوں تک رسائی کےلیے انتظامات کیے جائیں۔ یہ سب کوششیں اہم بھی ہیں اور ضروری بھی، لیکن کافی نہیں ہیں۔ مسلم امپاورمنٹ کا اہم تقاضا پس ماندگی کے گہرے نفسیاتی، سماجی اور اخلاقی اسباب کو سمجھنا اور ان کو دور کرنے کی تدابیر کرنا ہے۔

آئندہ کچھ مہینوں تک اس سلسلہ مضامین میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی کہ مسلمانوں کی سماجی کم زوری کے اصل اسباب کیا ہیں؟ ان اسباب کو دور کرنے کے لیے مزید کن پہلوؤں پر توجہ ضروری ہے؟ مسلم امپاورمنٹ کا منفرد ماڈل کیا ہوسکتا ہے؟ اس وقت ترقی اور امپاورمنٹ کی بحث ہر جگہ بہت گرم ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس کا مکمل اسلامی تناظر سامنے رہے۔

اس جائزے میں ہم کلاسیکی مسلم افکار سے بھی استفادہ کریں گے اور ان شاء اللہ سماجیات و سماجی نفسیات کے معاصر ماڈلوں کو بھی حسب ضرورت زیر بحث لائیں گے۔ واضح رہے کہ یہاں عروج و زوال کی مکمل بحث چھیڑنا مقصود نہیں ہے بلکہ اس موضوع سے متعلق مختلف علمی بحثوں سے اُن کلیات کا انتخاب پیش نظر ہے جو ہمارے خیال میں ملت اسلامیہ ہند کے مخصوص احوال سے مطابقت رکھتی ہیں۔

امت کا حقیقی کردار

اس جائزے میں یہ اہم حقیقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ امت مسلمہ خود اپنے ایمان و عقیدے کے مطابق ایک خاص حیثیت و کردار کی مالک ہے۔ قرآن مجید میں اسے خیر امت (بہترین امت) کہا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ وہ اخرجت للناس (دیگر انسانوں کے لیے نکالی گئی) ہے (آل عمران:110)۔ خیر امت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے احادیث میں کہا گیا ہے کہ یہ امت خیر الناس للناس ہے[2]یعنی دوسرے انسانوں کے حق میں سب سے بہتر۔ ابن عباسؓ، مجاہدؒ، عطاءؒ، عکرمہؒ وغیرہ کے حوالے سے ابن کثیرؒ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ والمعنى أنهم خیر الأمم وأنفع الناس للناس[3]   (’’اس کے معنی یہ ہیں کہ امت مسلمہ تمام امتوں میں سب سے بہتر اور انسانوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچانے والی امت ہے‘‘)۔ امت مسلمہ کی نافعیت کا اصل سبب کیا ہے؟ اس کا جواب اسی آیت میں ہے۔ وہ یہ کہ پہلا سبب، جو اصل بنیادی سبب ہے، ایمان ہے جو اُن بہت سی مثبت، تعمیری اور نفع بخش خصوصیات کو پیدا کرتا ہے جن سے کوئی گروہ انسانوں کے لیے فائدہ مند بن جاتا ہے۔ ایمان کے ان ثمرات میں ایک بہت ہی اہم خصوصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی خصوصیت ہے، جو امت مسلمہ کا اصل وصف ہے، یعنی وہ ساری دنیا کے انسانوں کے لیے معروفات یعنی تمام اچھی اور نفع بخش قدروں کا منبع و سرچشمہ ہوتی ہے اور منکرات یعنی تمام ناپسندیدہ اور ضرررساں رویوں اور عادتوں کی مزاحم اور ان کا قلع قمع کرنے والی ہوتی ہے۔

خیر امت کے لقب سے پہلے قرآن مجید نے اس امت کو ایک اور لقب امت وسط کا دیا ہے۔(البقرہ: 143) مفسرین نے اوسط کو بھی بہترین اور خیر کے معنوں میں لیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں وسط سے مراد عدل ہے۔[4] امام قرطبیؒ نے زہیر ؒکے حوالے سے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ أَی أَعْدَلُهُمْ وَخَیرُهُمْ (یعنی مسلمان انسانوں میں سب سے بہتر اور سب سے زیادہ عدل کرنے والے ہوتے ہیں)۔[5]

ان آیتوں سے امت مسلمہ کی جو حیثیت متعین ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لیے نافع ہے۔ دنیا کے لیےعدل کا پیغام اور انسانوں کے لیے عدل و انصاف کی امید ہے اور معروف کا سرچشمہ اور منکرات کے لیے رکاوٹ ہے۔

ہندوستان میں امت مسلمہ کی ایک مخصوص حیثیت ہے۔ وہ یہاں نہ ایک مستقل اور مکمل سولائزیشن ہے اور نہ ایک بااختیار اور صاحب اقتدار قوم ہے۔ وہ ایک بڑے ملک میں ایک مذہبی و تہذیبی اقلیت کے طور پر موجود ہے۔ اس کی یہ منفرد حیثیت اگرچہ قوموں کے عروج و زوال کی عام سماجیاتی و نفسیاتی بحثوں سے راست متعلق نہیں ہے لیکن ان بحثوں کی مدد سے اس مخصوص حیثیت کے لیے بھی رہ نما اصول ضرور وضع کیے جاسکتے ہیں۔

اس ملک میں امت مسلمہ ہند سے مطلوب یہی ہے کہ وہ یہاں رہنے والے تمام طبقات میں اخلاقی لحاظ سے ممتاز بن جائے۔ سب کے لیے نافع بن جائے۔ عدل کی علم بردار بن جائے۔ تمام صالح اور اچھی قدریں اس امت سے نکلیں اور ملک میں عام ہوتی رہیں۔

امت کے اس مطلوب کردار میں اور اس کی ہمہ جہت (مادی و روحانی) ترقی میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔مشترک مادی مفاد، اس امت کے لیے کبھی وہ قوت محرکہ فراہم نہیں کرسکتا جو ترقی کے لیے درکار ہے۔ امت کی ترقی ہوگی تو اسی مخصوص کردار کی ادائیگی کے لیے ہوگی جو اس کے دین و ایمان کا جزو ہے۔ یہ کردار جہاں روحانی و اخلاقی بلندی چاہتا ہے وہیں علم، صلاحیت اور دیگر مادی خصوصیات کے اعتبار سے بھی تفوق کا تقاضا کرتا ہے اور دوسری طرف اس کردار ہی کے نتیجے میں امت کی ترقی بھی ممکن ہے۔

امت کی اسی منفرد حیثیت و کردار کو علامہ اقبالؒ خودی کہتے تھے:

یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہی

کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی

تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے

جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو رُوسیاہی

یہ امت کی ترقی کے موضوع سے متعلق سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس عظیم ترین حقیقت کو نظر انداز کرکے امت کی ترقی کا جو بھی پروگرام بنے گا وہ انتہائی ناقص پروگرام ہوگا اور اس کی ناکامی طے شدہ بات ہوگی۔ اگلے مباحث میں ہم اس بات کو اور وضاحت و دلائل کے ساتھ سامنے لائیں گے۔ ان شاء اللہ۔

معاشرہ اور اس کے عناصر ترکیبی

کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ دوسرےانسانوں کے ساتھ مل کر رہتا ہے۔ ان کے ساتھ مل کر مشترک جماعت بناتا ہے۔ ہر دور میں انسانی جماعتوں کی مختلف قسمیں اور مختلف سطحیں رہی ہیں۔ خاندان، قبیلہ، قوم یہ سب انسانی جماعتوں ہی کی شکلیں ہیں (ہم انسانی جماعتوں کی مختلف شکلوں کے لیے قرآن مجید میں استعمال ہوئی اصطلاحات پر اس سے قبل اس کالم میں گفتگو کرچکے ہیں)[6] ۔ اب تمدن یا تہذیب (civilisation)کی اصطلاح، ایک ایسی بڑی جماعت کے لیے بھی استعمال ہونے لگی ہے جس کے اعلیٰ تہذیبی و تمدنی مقاصد اور قدریں مشترک ہوں۔ چناں چہ پوری مغربی دنیا کو ایک سولائزیشن قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح نسلی بنیاد پر وجود میں آنے والے ایک خاندان سے لے کر مدنیت کے اعلیٰ مرحلے تک پہنچنے والے معاشرے یعنی سولائزیشن تک انسانی جماعتوں کی مختلف سطحیں ہیں۔ انھی میں ایک درمیانی سطح وہ ہے جسے ہم ملک کہتے ہیں یعنی وہ معاشرہ جو ایک مشترک حکومت، اس کے قوانین، اور اس کے نظام اجتماعی کے ذریعے وجود میں آتا ہے۔

ہندوستانی مسلمان ایک بڑی سولائزیشن یعنی اسلامی سولائزیشن کا بھی حصہ ہیں۔ وہ اس ملک بھارت کے مشترک سماج کا بھی جزو ہیں اور اُس جماعت کا بھی حصہ ہیں جسے ہم ملت اسلامیہ ہند کہتے ہیں۔ کلاسیکی مفکرین زیادہ تر اُن معاشروں کو زیر بحث لائے ہیں جو ایک حکومت کے ذریعے وجود میں آتے ہیں یا ایک بادشاہ کی رعایا ہونے کی وجہ سے تشکیل پاتے ہیں۔ ٹائن بی جیسے مفکرین نے تہذیبوں (civilisations) کے عروج و زوال کی بحث کی ہے۔ جدید اور مابعد جدید مفکرین کی ایک بڑی جماعت کسی بھی بنیاد پر وجود میں آنے والی انسانی جماعتوں کے ڈائنامکس کو زیر بحث لاتی ہے۔ ہم اپنے مباحث میں ان سب افکار سے استفادہ کریں گے۔ انسانی جماعتوں کی خصوصیات اور ان کی نفسیات کے بنیادی عناصر ان سب مفکرین کے یہاں دستیاب ہوتے ہیں۔ ان عناصر کو لے کرہم اپنے احوال پر ان کے اطلاق کی کوشش کریں گے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، بڑے معاشرے (سولائزیشن) تہذیبی و تمدنی اشتراک سے وجود میں آتے ہیں۔ ممالک اشتراکِ حکومت سے وجود میں آتے ہیں۔ خاندان، قبیلے اور ذاتیں نسلی اشتراک رکھتی ہیں۔ ان کے سوا جو معاشرے ہوتے ہیں وہ یا تومفادات کے اشتراک (common interest) سے وجود میں آتے ہیں یا عقائد وافکار اور مقاصد و اہداف کے اشتراک سے(common belief or common vision)۔ ملت اسلامیہ ہند دوسری قسم کا معاشرہ ہے۔ وہ مفادات کی وجہ سے نہیں بلکہ عقائد وافکار اور مقاصد و اہداف کے اشتراک سے وجود میں آیا ہے۔اس کی اس حیثیت کے تقاضے اوپر کے پیراگراف میں واضح کیے جاچکے ہیں۔امت مسلمہ کی ترقی کے ڈائنامکس کو سمجھنے کے لیے اس کے اس مخصوص مزاج اور مذکورہ تقاضوں کو سمجھنا اور انھیں ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔

موجودہ حالات ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں

مشہور برطانوی فلسفی مورخ پروفیسر آرنلڈ ٹائن بی(1889-1975) نے قوموں، انسانی گروہوں اور تہذیبوں کے عروج و زوال پر بہت تفصیلی اور گہرا کام کیا ہے۔ فلسفہ، اخلاقیات، اجتماعی نفسیات اور علم تاریخ وغیرہ مختلف علوم سے استفادہ کرتے ہوئے انھوں نے پوری انسانی تاریخ میں متعدد تہذیبوں کے عروج و زوال کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ ان کے اصول و کلیات میں بہت سی باتیں مشہور اسلامی مورخ و ماہر عمرانیات ابن خلدونؒ(1332-1406)سے بھی لی گئی ہیں۔[7]

پروفیسر ٹائن بی نے اس بات کو بطور ایک اصول کے بیان کیا ہے کہ قومیں یا تہذیبی گروہ، اسی وقت تیزی سے ترقی کرتے ہیں جب ان کے سامنے کوئی چیلنج ہو۔ معمول کے حالات میں یا امن و سکون کی حالت میں ترقی کی رفتار میں کوئی بریک تھرو ممکن نہیں ہوتا۔ چیلنج ہلکا پھلکا اور معمولی ہو تب بھی ترقی کے لیے مہمیز نہیں کرتا۔ لیکن اگر شدید اور بڑا چیلنج درپیش ہو (مثلاً نفرت یا جبر کا سامنا ہو) اور اس کا مناسب رسپانس ہو تو اس کے نتیجے میں تیزرفتار ترقی شروع ہوجاتی ہے۔[8]عام طور پر ٹائن بی کے اس اصول کا صرف بڑے سولائزیشنوں پر اطلاق کیا جاتا ہے لیکن فاضل مورخ نے جو بحثیں کی ہیں اور جو مثالیں دی ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا یہ کلیہ جہاں سولائزیشنوں پر لاگو ہوتا ہے وہیں ہندوستانی مسلمانوں جیسے تہذیبی گروہوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔[9]

سیکڑوں صفحات میں تاریخ کے مختلف ادوار سے قوموں اور تہذیبوں کی تفصیلی تاریخ لکھ کر انھوں نے یہی کلیہ ثابت کیا ہے کہ ایک شان دار تمدن ہمیشہ چیلنجوں ہی کے بطن سے پیدا ہوتاہے۔ مشکلات اور چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک ’تخلیقی اقلیت‘(creative minority) جب تخلیقی حل سامنے لاتی ہے تو اسی سے ایک ترقی یافتہ تمدن کی صورت گری شروع ہوتی ہے۔ [10] واضح رہے کہ ٹائن بی کے تجزیے میں اقلیت سے مراد وہ مذہبی یا تہذیبی اقلیت نہیں ہے جو ہندوستان میں پورے مسلم گروہ کی حیثیت ہے بلکہ ایک چھوٹا سا بااثر طبقہ ہے جو اپنے منفرد طرز فکر، اپنی مستقل مزاجی، جدوجہد اور قربانیوں سے پورے معاشرے کو ایک انوکھے حل کی طرف متوجہ کرے۔ یعنی گویا ہندوستانی مسلمانوں یا ان کے کسی بااثر گروہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ باقی ملک کے لیے ایک بہتر نظریے کے علم بردار بن کر اٹھیں اور خود بھی ترقی کریں اور ملک و باقی ملت کی ترقی کا بھی سامان کریں۔

ٹائن بی نے تفصیل سے لکھا ہے کہ محض ادارے کسی قوم کو ترقی نہیں دلاسکتے۔ تمام زوال پذیر اور زوال یافتہ قومیں شاندار اداروں کی مالک تھیں۔ ترقی کا بریک تھرو وسائل کی فراہمی سے نہیں آتا، قوت و طاقت سے بھی نہیں آتا، بلکہ ابن خلدونؒ کی طرح[11]ٹائن بی کا نظریہ بھی یہی ہے کہ وسائل کی کثرت اور سکون و اطمینان کا انتہائی مقام اصلاً زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ [12] ترقی کا سفر تو چیلنجوں اور مشکلات سے شروع ہوتا ہے۔ تخلیقی اقلیت(یعنی امت کا ایک مختصر بااثر گروہ) پوری امت کی بقا کی کوشش میں جب انوکھے حل لے کر آتی ہے تو ترقی کا آغاز ہوتا ہے۔ ہر چیلنج کا مقابلہ دوسرا چیلنج پیدا کرتا ہے۔ اور چیلنج در چیلنج سلسلہ جب تک جاری رہتا ہے، ترقی کا سفر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ گروہ اتنا طاقت ور ہوجاتا ہے کہ تخلیقی اقلیت سے بااثر اقلیت (dominant minority) میں بدل جاتا ہے۔ اس مقام پر کوئی چیلنج باقی نہیں رہتا اور جلد ہی زوال کا آغاز ہوجاتا ہے۔[13]

ابن خلدونؒ نے بھی اسی سے ملتی جلتی بات کہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسانی جماعتیں تین ادوار سے بار بار گزرتی رہتی ہیں۔ اسے انھوں نے ’بدوی ‘(گنوار)، ’غزوی ‘(کشمکش والا) اور ’حضری ‘(ترقی یافتہ) دور کہا ہے۔ بدوی دور پس ماندگی، جہالت اور کم تر معیار زندگی کا دور ہے۔غزوی دور چیلنجوں اور کشمکش کا دور ہے، جس سے گزر کر پھر قومیں حضری یعنی حضارت و تمدن کے اعلیٰ ترقی یافتہ مرحلے میں داخل ہوتی ہیں۔ تمدن ترقی کرتا ہے تو ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ غزویت یعنی کشمکش کم زور ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں پھر بدویت کی طرف سفر ِمعکوس شروع ہوجا تا ہے۔[14]

اجتماعی نفسیات میں اب یہ بڑی حد تک مسلمہ نظریہ ہے۔ اس کی رو سے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے موجودہ دور ایک زریں موقع ہے کہ وہ اپنی ترقی اور امپاورمنٹ کے سفر کو ایک نئی حوصلہ مند جست اور طاقت ور مہمیز فراہم کریں۔ لیکن اس کے لیے ان کے رسپانس کا درست ہونا ضروری ہے۔ ورنہ ٹائن بی نے ایسی مثالیں بھی کثرت سے دی ہیں کہ مشکلات اور چیلنجوں کو مناسب طریقے سے رسپانس نہ کرنے کے نتیجے میں قومیں شکست و ریخت کی شکار ہوگئیں۔[15]اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہمارے رسپانس کی خصوصیات کیا ہونی چاہئیں ؟ اور کیا نہیں ہونی چاہئیں؟

ترقی یا تنزل کا سفر ایک گروہ کے لیے اجتماعی طور پر ہی ممکن ہے

اجتماعی قوتیں اور اجتماعی کم زوریاں جماعتوں یا افراد کے گروہوں کو متاثر کرتی ہیں۔ جب تک سماجی گروہوں کے اجتماعی احوال کو درست نہ کیا جائے، اس وقت تک پوری قوم یا پورے گروہ کی ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ یعنی اگر مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اسکولوں اور کالجوں میں داخل کرانے کی کوشش کی جائے تو افراد اور خاندانوں کے احوال پر اس کا کچھ نہ کچھ مثبت اثر ضرور ہوگا لیکن جب تک کمیونٹی کے اجتماعی احوال درست نہ ہوں، اس وقت تک حقیقی معنوں میں تعلیمی ترقی نہیں ہوسکتی۔

فرانسیسی ماہر سماجی نفسیات گسٹیو لی بون [16](Gustave Le Bon، 1841-1931) نے قوموں کو انسانی جسم سے تشبیہ دی ہے۔وہ لکھتا ہے:

’’ایک قوم کی مثال اس متحدہ جسم سے دی جاسکتی ہے جو خلیات (cells)سے بنتا ہے۔خلیات کی عمر مختصر ہوتی ہے لیکن وہ جس جسم کا حصہ ہوتے ہیں، اس کی عمر نسبتاً بہت زیادہ ہوتی ہے۔ خلیات کی اپنی انفرادی زندگی بھی ہوتی ہے اور وہ اُس اجتماعی زندگی کا بھی حصہ ہوتے ہیں جو پورے جسم کی ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی قوم کے فرد کی انفرادی زندگی مختصر ہوتی ہے لیکن اجتماعی زندگی طویل ہوتی ہے۔ اجتماعی زندگی اُس قوم کی ہوتی ہے جس کا وہ حصہ ہوتا ہے۔وہ قوم کی زندگی کو تقویت بھی دیتا ہے اور اس کے ذاتی احوال ہمیشہ قوم کے اجتماعی احوال پر (جس طرح خلیےکی صحت جسم کی صحت پر بھی منحصر ہوتی ہے) منحصر ہوتے ہیں۔‘‘ [17]

قرآن مجید کے مطابق آخرت میں تو انسان فرداً فرداً اللہ کے سامنے پیش ہوں گے اور اصلاً افراد کا حسا ب لیا جائے گا اور اُن کو ان کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ لیکن اس دنیا میں ترقی و تنزل اور دنیوی جزا و سزا کے معاملے میں اجتماعی رویہ اور اجتماعی عمل بھی ایک اہم عامل ہے۔ یہ نکتہ قرآن مجید میں کثرت سے آیا ہے۔ مثلاً  وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا یسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً  وَلَا یسْتَقْدِمُونَ(ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی) ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ  وَكَثِیرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا یعْمَلُونَ(کاش انھوں نے تورات اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں، ایسا کرتے تو اِن کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا اگرچہ اِن میں کچھ لوگ راست رو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے۔المائدہ 66) وَتِلْكَ الْقُرَىٰ أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِم مَّوْعِدًا (یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمھارے سامنے موجود ہیں انھوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا۔الکہف: 59)

فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف[18]

ترقی کے لیے ملت کے اندر مقصدی و فکری وحدت ضروری ہے

قوم یا ملت اگر ایک جسم ہے تو اس جسم کی جان کیا ہے؟ اس کی قوت و توانائی کیا ہے؟ مختلف مفکرین نے اس کو مختلف نام دیے ہیں۔ گیسٹیو لی بون، اسے ذہنی ساخت (mental constitution)کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تاریخ میں جب بھی کسی انسانی گروہ کے زوال کا واقعہ پیش آیا وہ ہمیشہ ذہنی ساخت میں تبدیلی کے نتیجے میں ہی پیش آیا ہے۔محض بیرونی حالات، محض مادی شکست، یا محض مادی وسائل کے بحران نے کبھی کسی قوم کو زوال کا شکار نہیں بنایا۔زوال اسی وقت آتا ہے جب حالات و واقعات کے نتیجے میں ذہنی ساخت بدلتی ہے جس سے کیرکٹر میں تنزل واقع ہوتا ہے۔ اس نے یہاں تک لکھا ہے کہ تمام تہذیبوں کے زوال کے اسباب اس قدر مشابہ ہیں (بلکہ ایک ہی سبب ہے) کہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ کی کتابیں تو بے شمار ہیں لیکن ان میں صفحہ ایک ہی (مشترک صفحہ) ہے۔[19]

ابن خلدونؒ کے یہاں ’عصبیۃ ‘کا وہ مشہور تصور پایا جاتا ہے جسے اس عہد ساز فلسفی کی عمرانیات کا سب سے اہم اور معروف ترین اصول سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے مقدمے میں چار فصلیں عصبیۃ ہی کی بحث کے لیے مختص کی ہیں (کتاب اول، باب دوم کی فصل 11-14 ) اور پھر پورے مقدمے میں اور تاریخ میں بھی جگہ جگہ اس اصول کو اپنے تجزیے کی بنیاد بنایا ہے۔[20] عصبیۃ کو وہ کسی انسانی گروہ کی ترقی اور تمکین کا سب سے اہم سبب سمجھتے ہیں۔ [21]

ابن خلدونؒ کی عصبیۃ کو اس کے اردو معنوں کے پیش نظر بعض لوگوں نے فرقہ وارانہ یا نسلی عصبیت کے معنوں میں لیا ہے ،لیکن یہ انطباق غلط ہے۔ابن خلدونؒ نے جن معنوں میں اِس اصطلاح کا استعمال کیا ہے اس کے لیے ماہرین سماجیات نے عام طور پر سماجی اتفاق (social solidarity) یا سماجی ہم آہنگی (social cohesion) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یعنی وہ گہری باہمی رفاقت جو کسی مشترک مقصد، کسی مشترک ذمے داری کے احساس، کسی مشترک وژن یا مشترک مفاد کے نتیجے میں انسانوں کے کسی گروہ میں پیدا ہوجاتی ہے۔ گیسٹو لے بان کی ذہنی ساخت ہو یا پروفیسر ٹائن بی کا تخلیقی اقلیت کا رسپانس یاسماجی سرمایہ (social capital) کا معاصر تصور ہو، ان سب میں مشترک ذمے داری کے اس تصور کی کلیدی اہمیت ہے۔

قوموں اور قبیلوں کے لیے تو قومی برتری یا قبائلی فتح کا جذبہ مشترک ذمے داری کی تشکیل کرسکتا ہے لیکن ملت اسلامیہ جیسی ملت کے لیے اسلام کا نظریہ اور اس کے آئیڈیل ہی اس عصبیۃ کی تشکیل کرسکتے ہیں چناں چہ ابن خلدون کے یہاں بھی یہ بات بہت صاف اور واضح ہے کہ اہل اسلام کی ترقی صرف اسی وقت ممکن ہے جب اسلام کے آئیڈیل ان کی مشترک دل چسپی اور مقصد و نصب العین بن جائیں۔ چناں چہ ایک فصل (کتاب اول، باب دوم کی ستائیسویں فصل) کا انھوں نے عنوان ہی رکھا ہے۔ ’’عربوں کو غلبہ و حکومت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ دینی رنگ میں نہ رنگ جائیں، نبوت کی وجہ سے، ولایت کی وجہ سے یا کسی دینی تحریک کے اثر کی وجہ سے۔‘‘[22] وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مشترک ذمہ داری کا جو احساس ایک دینی فریضہ پیدا کرتا ہے وہ کہیں اور سے پیدا نہیں ہوتا اس لیے اگر یہ صحیح معنوں میں بے دار ہوجائے تو ترقی کا سب سے طاقت ور محرک بنتا ہے۔ مقدمے کی بعض فصلوں کے عنوانات ملاحظہ ہوں۔ باب سوم فصل چار:  ہمہ گیر اور وسیع حکومتوں کی ابتدا دین سے ہوتی ہے، خواہ نبوت سے ہو یا کسی دینی دعوت سے[23]، فصل پانچ:  دینی دعوت عصبیۃ کی قوت کو بے پناہ بڑھادیتی ہے۔ [24]

حالیہ دنوں میں سماجیات اور سماجی نفسیات میں ایک اصطلاح، سماجی سرمایہ (social capital) کا بڑا چرچا ہے۔[25] اس تصور کو سماجیات، سیاسیات، سماجی نفسیات، علم انتظام، پبلک ایڈمنسٹریشن، تاریخ، فلسفہ اور اجتماعی نفسیات ان تمام علوم میں کثرت سے استعمال کیا جارہا ہے۔[26] سوشل کیپٹل سے مراد وہ قوت ہے جوکسی اجتماعی گروہ کے افراد کو باہم جوڑ کر رکھتی ہے۔ فوکویاما کے مطابق یہ اصلاً ان متفق علیہ قدروں کا نام ہے جو ایک گروہ کے افراد کو جوڑتی ہیں اور ایک مشترک مقصد کے لیے انھیں متحرک کرتی ہیں۔ [27]ان مشترک قدروں اور ان سے مشترک گہری وابستگی ملت کے افراد اور طبقات میں وہ باہم اعتماد، وہ اچھے معمولات (norms) اور وہ طاقت ور نیٹ ورک پیدا کرتی ہے جو ترقی کے لیے ضروری ہے۔[28] یہ بات اب مسلمہ ہے کہ ہر محاذ پر کسی قوم کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ سماجی سرمایہ (social capital) کی ضرورت ہوتی ہے۔[29]

گویا ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ قوم یا قبیلے یا ملت یا انسانی گروہ کے پاس مشترک مقصد و نصب العین ہو، مشترک ذمے داری کا تصور ہو اور مشترک وژن ہو۔ مشترک ذمے داری کا یہی تصور اس کے کیرکٹر کی تشکیل کرے۔ اسی سے مشترک ملی جذبہ پروان چڑھے۔

یہ جذبہ ہی ملی جسم کی جان اور اس کی قوت ہوتا ہے۔ جس طرح جسم میں قوت باقی نہ رہے تو جسم بے جان ہونے لگتا ہے اور جسم کے اکثر خلیات بھی تیزی سے کم زور ہونے لگتے ہیں اسی طرح ’عصبیۃ ‘یا ’اجتماعی کیرکٹر‘کے بغیر، دوسرے لفظوں میں، مشترک ذمہ داری کے تصور اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مشترک ملی جذبے کے بغیر، ملت کا اجتماعی وجود بے جان ہونے لگتا ہے۔ تعلیم و معیشت سمیت زندگی کے ہر میدان میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا محرک کم زور پڑنے لگتا ہے۔

شریعت کی پابندی، معاشی ترقی اور عدل و انصاف، ترقی کی لازمی شرطیں ہیں

مقصدی و فکری وحدت کے ساتھ ترقی کی لازمی شرطوں میں وہ باتیں بھی شامل ہیں جنھیں ابن خلدونؒ نے ’سیاسی حکمت کے اصول‘[ کلمات حکمیۃ سیاسیۃ ]کہا ہے۔ یہ بحث اصلاً حکومتوں کے تناظر میں ہے لیکن ہمارے احوال میں جو اصول خاص طور پر متعلق ہیں وہ شریعت، عوام، مال و دولت، ڈیولپمنٹ اور عدل و انصاف کے اصول ہیں[30]۔ یعنی کسی قوم کی اصل طاقت اس کا قانونِ زندگی یا شریعت ہوتی ہے جو لوگوں کے اندر ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ قوم کی طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔ اس طاقت کو بروئے کار لانے کے لیے افراد کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل ضروری ہے جس کے لیے مال یا معاشی قوت کا حصول اہم ہے۔ معاشی قوت کے حصول کے لیے ڈیولپمنٹ پر توجہ مطلوب ہے اور ان سب مقاصد کے حصول کے لیے عدل لازمی شرط ہے۔ [31]

ان اصولوں کا ہمارے احوال پر اطلاق اس طرح ہوتا ہے کہ مسلمانانِ ہند کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کے پاس اپنی ذمے داریوں، اپنے فرض منصبی اور اپنے وژن و مقصد کے سلسلے میں ایک مشترک تصور موجود ہو۔ یہ مشترک تصور پوری ملت کو باندھ کر رکھے۔ اس تصور کی اساس اسلام کے اصول ہوں ۔ اس لیے کہ ملت انھی کی بنیادپر تشکیل پائی ہے۔اسلام کی تعلیم کے مطابق، وہ یعنی مسلمان، عدل و قسط کے داعی اور اس کے علم بردار بن کر اٹھ کھڑے ہوں۔ملک کی تعمیر و ترقی (عمارۃ) كاان کا اپنا تصور ہو جس کے مطابق اس کام میں وہ اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اس کے لیے مسلم عوام کی تربیت ہو، ان کی معاشی ترقی ہو اور وہ خود کفیل ہوں۔ بے شک عدل کا تعلق حکومت اور اس کے نظام سے ہے لیکن ملت کے اندرونی معاملات میں ملت کے تمام افراد کو یہ احساس ہو کہ ملت اپنے دائرہ اختیار میں ہر ایک کے ساتھ عدل کررہی ہے۔ سب کو برابری کے مواقع حاصل ہیں۔ خاندان، موروثیت، نسل، ذات یا علاقہ، طبقہ وغیرہ کی بنیاد پر کسی کو اضافی حقوق اور کسی کو کمتر حقوق حاصل نہیں ہیں۔ آپسی معاملات میں ملت اور اس کے مقتدر افراد کا رویہ عدل و قسط کی بنیاد پر ہے۔ یہ احساس مطلوب عصبیۃ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ عصبیۃ ملت کو جسد واحد بنائے گی اور پھر آگے بڑھنے کے لیے درکار ضروری وسائل معاشی ترقی اور ڈیولپمنٹ وغیرہ کے ذریعے حاصل ہوں گے۔

شاہ ولی اللہؒ اور ارتفاقات

عروج و ترقی کے اسباب کو سمجھنے میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا ’ارتفاقات ‘کا تصور بھی بہت مددگار ہے۔ یہ بحث شاہ صاحبؒ نے ’حجة اللہ البالغہ ‘ میں بھی کی ہے[32]لیکن ’البدورالبازغہ ‘ میں زیادہ گہرائی، تفصیل اور علمی اسلوب سے بحث لائی گئی ہے۔[33]ارتفاق کی اصطلاح کو شاہ صاحبؒ نے جن معنوں میں استعمال کیا ہے اسےہم سماجی تعاون کے مراحل (stages of socialness) یا سماجی تدابیر کے درجے کہہ سکتے ہیں۔ مل جل کر رہنے کی صلاحیت انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک انسان کی افضلیت کے تین اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ انسان رائے کلی کے تحت کام کرتا ہے اور چیزوں اور واقعات کے فوری نتائج پر ہی نہیں بلکہ عواقب پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔ دوسرے ظرافت یعنی تمام امور میں سلیقہ مندی، لطافت، زیبائش اور ذوق جمالیات سے کام لیتا ہے۔ اور تیسرے یہ کہ وہ اپنی ذات کی تکمیل کے لیے اور ایجاد و اکتساب کے لیے مختلف علوم حاصل کرتا ہے۔شاہ ولی اللہ نے ایک اور جگہ انسان کی برتری کا اصل سبب ’قوت عقلیہ کی زیادتی‘ اور ’قوت عملیہ‘کی برتری کو قرار دیا ہے۔ [34]

انسانی سماجوں کی ترقی دراصل انھی تین خصوصیات کی ترقی ہے۔ جیسے جیسے ان میں ترقی ہوتی جاتی ہے انسانی سماج ’ارتفاق ‘کے ایک مرحلے سے اگلے مرحلے میں داخل ہوتا ہے۔پہلا مرحلہ ( ارتفاق اول) انسان کی بالکل ابتدائی (primitive) زندگی ہے جس میں وہ زراعت کرتا ہے اور دوسرے انسانوں سے مل کر اپنے بعض کام انجام دیتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں (ارتفاق ثانی) ایک منظم سماج وجود میں آتا ہے اور روایات، طور طریقوں، آداب وغیرہ کے ذریعے سماجی زندگی متعین ہوتی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے اس مرحلے کی پانچ خصوصیات پر بہت خوب صورت روشنی ڈالی ہے۔معاشی خصوصیات( حکمت معاشیہ) یعنی معاشی زندگی کے ترقی یافتہ طور طریقے اس مرحلے میں رواج پاتے ہیں۔ صنعتی خصوصیات (حکمت اکتسابیہ) یعنی صنعتیں ترقی کرتی ہیں اور ایجاد و اکتساب سے زندگی کو آسان بنانے کی جستجو ہوتی ہے۔خاندانی خصوصیات( حکمت منزلیہ) یعنی ازدواجی زندگی، ولادت، گھر، ملکیت، اور حقوق وغیرہ کے سلسلے میں مہذب اور شائستہ طریقوں کا رواج ہوتا ہے۔آپسی لین دین اور باہمی تعاون کی خصوصیات ( حکمتِ تعاملیہ اور حکمت تعاونیہ) یعنی مل جل کر ایک دوسرے کو فائدہ اٹھانے اور ایک دوسرے کے مسائل کو حل کرنے کے زیادہ ترقی یافتہ اور متمدن طریقے ایجاد ہوتے ہیں اور معاشرے میں عام ہوتے ہیں۔ شاہ صاحب کے نزدیک یہ وہ قوتیں ہیں جو انسان کو آگے بڑھاتی ہیں۔[35]

ارتفاق ثالث سیاست و حکومت سے متعلق ہے اور ارتفاق رابع کا مطلب ایک عالمی حکومت کا یا کنفیڈریشن کا تصور ہے۔شاہ صاحب کے نزدیک ایک ارتفاق کی تکمیل کے بعد ہی دوسرے ارتفاق کی طرف پیش قدمی ہونی چاہیے۔ مثلاً معاشی خود کفالت کے بغیر(جو ارتفاق ثانی سے متعلق ہے) اگر سیاست و انتظام کے عزائم پیدا ہوجائیں (جو ارتفاق ثالث سے متعلق ہے) تو ایسے لوگ کرپٹ ہوجاتے ہیں اور سیاست کو اپنی معیشت کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں جس سے فتنے پیدا ہوتے ہیں۔

زوال کے اسباب

اوپر کی بحثوں سے خود بخود واضح ہوجاتا ہے کہ ملت اسلامیہ ہند جیسے گروہ زوال کے شکار کیوں ہوجاتے اور پیچھے کیوں رہ جاتے ہیں۔ ہم نیچے کچھ باتیں قرآن و سنت اور عمرانیاتی تحقیقات کی روشنی میں بطور خلاصہ جدول کی شکل میں پیش کررہے ہیں:

عمرانیات اور اجتماعی نفسیات کی تحقیقاتقرآن کا نقطہ نظراسباب
ابن خلدون کا نظریہ عصبیہ جس کی رو سے سماجی ہم آہنگی اور فکری و نظری وحدت ختم ہوجائے تو زوال کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔[36]

گوسٹیو لے بون کا نظریہ کہ اجتماعی ذہنی ساخت اور اس پر مبنی اجتماعی کیرکٹر ترقی کی لازمی ضرورت ہے۔[37]

سماجی سرمایہ (social capital) کے نظریات کہ سماجی سرمایہ کی تشکیل میں فکر و نظر کی ہم آہنگی کا بھی اہم کردار ہے جس سے محرومی زوال کا سبب بنتی ہے۔[38]

بنی اسرائیل کے زوال کا اصل سبب کتاب الہی کے احکام کے اور علم کے باوجود ان کا باہم اختلاف تھا۔ (الجاثیہ 16-17)

اسی طرح ملاحظہ ہو۔مثلاً الانفال 46، الروم 32، الانعام 159، الانفال 63 وغیرہ

سماجی ہم آہنگی اور فکری و نظری وحدت کا فقدان

امت کا طبقات میں تقسیم ہوجانا

ابن خلدون کے نزدیک ظلم و ناانصافی زوال کا اہم ترین سبب ہے۔[39]

ٹائن بی کے مطابق باہمی ظلم و ناانصافیاں، زوال کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔[40]

مثلاً ملاحظہ ہو الکہف 59

ہود 102

القصص 40

آپسی مظالم اور زیادتیوں کا ظہور اور عدل و انصاف کا خاتمہ
ابن خلدون[41]، گوسٹیو لی بون[42]، پروفیسر ٹائن بی[43] سب اس بات پر متفق ہیں کہ جب عیش و عشرت اور اسراف کی بہتات ہوتی ہے اور اجتماعی مقاصد کے مقابلے میں وقتی انفرادی عیاشیوں کو ترجیح دینے کا مزاج پیدا ہوجاتاہے تو یہ خصوصیت زوال کی تحریک پیدا کرتی ہے۔ہود 116

بنی اسرائیل 16

مترفین(خوشحال طبقات) اور ملأ (اشراف) کا خود غرض اور مفاد پرست ہوجانا، قرآن کے نزدیک زوال کے اہم اسباب میں سے ایک ہے۔

الاسراء 17، الاعراف 103،

مادی آسودگی ہی کو اصل ہدف بنالینا، عیش و اسراف اور زندگی کے اعلی مقاصد سے غفلت
ٹائن بی کا نظریہ ‘تخلیقی اقلیت کا غالب اقلیت میں بدل جانا‘[44]

سوشل کیپٹل کا اہم عنصر ‘مشترک اقدار اور مشترک خواب[45]

سورہ ہود آیت 116

المائدہ 79

اصلاح احوال کے لیے منفرد حل فراہم کرنے والے گروہ (creative minority) کا موجود نہ ہونا یا کم زور ہوجانا۔
سماجی تبادلہ کا نظریہ (social exchange theory) سماجیات کا اہم نظریہ ہے جس کو اب کمیونٹیوں کے درمیان تعلقات کے سلسلے میں بھی اہم نظریہ سمجھا جارہا ہے۔[46]الرعد 17

خیرامت اور امت وسط کی مذکورہ تشریحات

نفع رسانی کی صلاحیت کا ختم ہوجانا

 

پروفیسر ٹائن بی کی ایک دل چسپ بحث وہ ہے جو انھوں نے بت پرستی (idolatry) کے عنوان سے کی ہے۔ قوموں کے زوال میں اس بت پرستی کا اہم رول ہوتا ہے۔ ان میں سب سے پہلا بت کام یابی کا بت ہے۔ سابقہ کام یابیوں کو وہ بت بنالیتی ہے۔ شاندار ماضی کی یاد میں جینے لگتی ہے۔ بہتر مستقبل کی تعمیر سے زیادہ ’پدرم سلطان بود‘ کی پر لطف داستانیں اس کے حواس پر چھاجاتی ہیں۔[47]

دوسرا بت قدیم روایتی اداروں کا بت ہے۔ قومیں اپنے عروج کے زمانے میں کچھ ادارے بناتی ہیں اور ان اداروں کے ساتھ ایسا تقدس وابستہ کرلیتی ہیں کہ ان کے بارے میں سوال کرنا بھی بے حرمتی سمجھا جاتا ہے۔ یہ ادارے پیروں کی بیڑیاں بن جاتے ہیں اور ترقی کو روک کر زوال کی راہ ہم وار کرنے لگتے ہیں۔[48]

تیسرا بت قدیم فنون اور طریقوں (techniques) کا بت ہے۔ عروج کے زمانے میں جو طریقے مفید ثابت ہوئے، ان سے ایسی مانوسیت ہوجاتی ہے کہ نئی ایجادات اور نئے طریقوں کو اختیار کرنے کے لیے آمادگی نہیں ہوتی۔ [49]

یہ بت قوموں کو مجہول اور غیر فعال کیفیت میں لے آتے ہیں۔ ان کی حرکت و پیش قدمی کو روک دیتے ہیں اور اس طرح زوال کا سبب بنتے ہیں۔

قوموں اور ملتوں کی ترقی و تنزل کی طویل اور پیچیدہ بحثوں سے یہاں ہم نے ان چند اصولوں کو منتخب کرکے پیش کیا ہے جو ہمارے خیال میں ہندوستانی مسلمانوں کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ ان اصولوں کی روشنی میں مختلف ذیلی موضوعات کے تحت ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کا تجزیہ ہونا چاہیے اور ان کی ہمہ جہت (تعلیمی، معاشی، سیاسی، سماجی، تہذیبی) ترقی کا ایک قابل عمل لیکن زیادہ گہرا ماڈل تشکیل پانا چاہیے۔ آنے والے مہینوں میں ہم یہی کوشش کریں گے اور اپنے مطالعے اور غور و فکر کا حاصل اہل علم کی خدمت میں سنجیدہ غور اور نقد و بحث کے لیے پیش کریں گے۔ واللہ المستعان۔

[1] شعبہ تنظیم ،جماعت اسلامی ہند (1978)، مقالات و مختصر روداد اجتماع بھوپال، ص 122۔

 

[2] صحیح البخاری، كتاب تفسیر القران، باب كنتم خیر امة اخرجت للناس، حدیث 4281، رواہ ابو هریرۃ۔

[3] ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، المکتبة الشاملة ، سورة آل عمران، الآیات ۱۱۰-۱۱۲۔

[4] صحیح البخاری، كتاب تفسیر القران، باب قوله وكذلك جعلناكم امة وسطا…رواه ابو سعید الخدری۔ سنن ابن ماجہ، حدیث 4284 صححه الالبانی، السلسلة الصحیحة 2448۔

 

[5] القرطبی، تفسیر الجامع لاحکام القرآن، المکتبة الشاملة ، سورة البقرة، الآیات ۱۴۷۔

[6] ملاحظہ ہو اشارات، زندگی نو، نومبر 2021 نیز

سید سعادت اللہ حسینی (2022) ہندتو انتہاپسندی: نظریاتی کشمکش اور مسلمان، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی۔

[7] مثلاً ملاحظہ ہو:

Arnold J Toynbee (1948), A Study of History, Oxford University Press London, Vol 1, p.416, 488 and Vol 3, pp. 322-328.

[8] Ibid, Vol 1, pp. 271-298.

[9] ملاحظہ ہو درج ذیل کتاب، پروفیسر ٹائن بی کی کتاب کی پوری دوسری جلد چیلنج اور ریسپانس کی متنوع مثالوں ہی پر مشتمل ہے:

Toynbee, op cit., Vol 2.

[10] Ibid, pp. 299-477.

[11] عبد الرحمن بن محمد ابن خلدون (2006)مقدمة ابن خلدون (المحقق: عبد اللہ محمد الدرویش)، الجزء الاول، داریعرب، دمشق، ص 332-334۔

[12] Toynbee, op cit., Vol 4, pp.133-244.

[13] Toynbee, op cit., Vol 5, pp.35-57.

[14] ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 338-341۔

[15] Toynbee, op cit., Vol 2.

[16] یہ بات قارئین کےلیے دل چسپی کی ہوگی کہ گسٹیو لی بان کی ہجومی نفسیات پر کتاب دی کراوڈ (The Crowd) بہت مشہور ہوئی۔ اس کتاب کے مشمولات سے ہجوم کی نفسیات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور ان شاطر چالوں کو سمجھا جاسکتا ہے جو ہمارے ملک کے فرقہ پرست عناصر لوگوں کو ہجوم کا حصہ بناکر، ان کی عقلوں پر پردہ ڈال کر، اور ذہنوں کو مفلوج کرکے اپنے مذموم مقاصد کے لیے ان کا استعمال کرنے کی غرض سے اختیار کررہے ہیں۔

[17] Gustave Le Bon (1898), The Psychology of Peoples, The Macmillan, New York USA, p.10.

[18] علامہ اقبال، دین و تعلیم، حوالہ مذکوربالا۔

[19] Le Bon, op cit., p.213.

[20] ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 260-267۔

[21] ایضاً ص 261۔

[22] ایضاً ص 289۔

اصل عربی فقرہ اس طرح ہے:  أن العرب لا یحصل لهم الملك إلا بصبغة دینیة من نبوة أو ولایة أو أثر عظیم من الدین على الجملة ۔

[23] اصل عبارت:  ان الدول العامة الاستیلاء، العظیمة الملک، اصلھا الدین، اما من نبوۃ او دعوۃ حق۔

ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 313۔

[24] اصل عبارت: ان الدعوۃ الدینیة، تزید الدولة فی اصلها قوۃ علی قوۃ العصبیة التی کانت لها من عددها…۔

ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 314۔

[25] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:

Robert D. Punam (Ed) (2002) Democracies in Flux, The Evolution of Social Capital in Contemporary Society, Oxford UK, pp.3-20.

[26] Perkins, Douglas D., Hughey, Joseph, Speer, Paul W.(2002) Journal of the Community Development Society, Vol 33 No.1, pp.33-52.

[27] Francis Fukuyama (1995) “Social Capital and the Global Economy.” Foreign Affairs Vol. 74, No. 5 pp.89–103.

[28] D. Punam, op cit., pp.5-10.

[29] Fukuyama op cit., vol. 74, no. 5 pp.89–103.

[30] اصل اصطلاحات یہ ہیں: الشریعة، الرجال، المال، العمارة اور العدل۔

[31] ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 128-132۔

[32] شاہ ولی اللہ المحدث الدھلوی (2012) حجۃ اللہ البالغۃ، المجلد الاول، دار ابن کثیر، بیروت ص144-179۔

[33] ارتفاقات کی بحث کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے البدور البازغہ کے درج ذیل حصوں کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔

شاہ ولی اللہ المحدث (ترجمہ: ڈاکٹر قاضی مجیب الرحمن تحقیق: مولانا عطاء الرحمن) البدور البازغہ (مجموعہ رسائل شاہ ولی اللہ: جلد ہشتم حصہ دوم) ص 271-384۔

[34] شاہ ولی اللہ المحدث ،حجۃ اللہ البالغۃ، حوالہ مذکور بالا، ص99۔

[35] شاہ ولی اللہ المحدث ،البدور البازغة ، حوالہ مذکور بالا، ص 271-384۔

[36] ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 281-282۔

[37] Le Bon, op cit., pp.153-164.

[38] C. Serino, D.Morciano and AF Scardigno (2012,) How communities can react to crisis: Social capital as a source of empowerment and well-being, in Global Journal of Community Psychology Practice, Chicago USA, Vol 3 Issue 3.

[39] ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 332-333۔

[40] Toynbee, op cit., Vol 5, pp.459-479.

[41] ابن خلدون، حوالہ مذکور بالا، ص 284۔

[42] Le Bon, op cit., pp.13-214.

[43] Toynbee, op cit., Vol 5, pp.376-439.

[44] Ibid, pp.35-38.

[45] Lesser, E., ’ Prusak, L. (1999). Communities of Practice, Social Capital and Organizational Knowledge. Information Systems Review, 1(1), 3–10.

[46] مثلاً دیکھیں:

https://theoryandscience.icaap.org/content/vol004.002/01_zafirovski.html

[47] Toynbee, op cit., Vol. 4 p.261.

[48] Ibid, p.303

[49] Ibid, p.423.

دسمبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau