ڈاکٹر عبد الحق انصاری کا سانحۂ ارتحال

ادارہ

۳/اکتوبر ۲۰۱۲کو ڈاکٹر محمد عبدالحق انصاری اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ یہ خبر تحریکی حلقے میں بڑے رنج وغم کے ساتھ سنی بھی گئی اور سنائی بھی گئی۔ یہ خبر کوئی غیرمتوقع نہ تھی۔ وہ کافی عرصے سے مختلف النوع بیماریوں کا مقابلہ کررہے تھے۔ اِسی سلسلے میں وہ امریکا بھی تشریف لے گئے تھے۔ آخرکار اللہ کی طرف سے بلاوا آگیا۔اِناللّٰہِ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُوْنَ۔

ڈاکٹر عبدالحق انصاری جماعت اسلامی ہند کے صف اوّل کے رہنما ؤں میں تھے۔ متعدد بار اس کی علاقائی وغیرعلاقائی سطح پر مجلس نمایندگان اور ریاستی و مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے اور اپریل ۲۰۰۳سے مارچ ۲۰۰۷تک اس کے امیر بھی رہے۔ انھوں نے جماعت کو علمی و فکری سطح پربلند کرنے کی اپنی سی کافی کوشش کی۔ اسلامی اکادمی کاقیام بھی ان کی اسی فکرمندی کا مظہر کہاجاسکتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحق انصاری ۱۹۳۱ میں اپنے آبائی وطن تمکوہی ضلع دیوریا ﴿مشرقی اترپردیش﴾ میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے ۱۹۴۳میں جونیئر ہائی اسکول پاس کیا۔ جارج اسلامیہ انٹرکالج گورکھ پور سے ۱۹۴۷ میں ہائی اسکول اور ۱۹۴۹میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات پاس کیے۔ ایک سال دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ میں عربی کی تعلیم حاصل کی، لیکن رام پورمیں جماعت کی ثانوی درس گاہ قائم ہوئی، تو اس میں داخلہ لے لیا۔ وہاں سے ۱۹۵۳میں عالمیت کی سند حاصل کی ۔ پھر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہاں سے ۱۹۵۷میں عربی آنر سے بی اے،۱۹۵۹ میں فلسفے میں ایم اے اور ۱۹۶۲میں فلسفے ہی میں ڈاکٹریٹ کیا اور ۱۹۷۲میں ہارورڈ یونی ورسٹی امریکا سے ایم ٹی ایس کی بھی ڈگری حاصل کی۔ وہ ۱۹۶۵ سے ۱۹۷۸ تک وشوبھارتی یونی ورسٹی شانتی نکیتن مغربی بنگال کے عربی، فارسی اور اسلامک اسٹڈیز کے شعبے سے بہ حیثیت استاذ وصدر شعبہ وابستہ رہے۔ انھوں نے۱۹۷۸سے ۱۹۸۱ تک سوڈان یونی ورسٹی کے شعبۂ اسلامیات، ۱۹۸۲ سے ۱۹۸۵تک ظہران یونی ورسٹی ﴿سعودی عربیہ﴾ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز اور ۱۹۸۵ سے ۱۹۹۵ تک امام محمد بن سعود یونی ورسٹی کے شعبۂ اسلامی تحقیقات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے طورپر تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر محمد عبدالحق انصاری جماعت اسلامی ہند کے معتبر اسکالروں اور دانش وروں میں شمار ہوتے تھے۔ فکرو خیال کی گہرائی، گفتگو کی تہ داری اور لہجے کی سنجیدگی ان کی پہچان بن گئی تھی۔ وہ ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ ان میں قرآنی عربی سیکھیے، تصوف اور شریعت، مجدّدین امت اور تصوف، علم کلام میں مولانا مودودیؒ  کے افادات، تحریکی خواتین سے نئی صدی کی پکار، انصاف کے علم بردار بنو، مقصدِ زندگی کا اسلامی تصور، قومی یک جہتی اور اسلام، سیکولرزم، جمہوریت اور انتخابات، جماعت اسلامی ہند کی ترجیحات اور شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ  اور تجدید فکر اسلامی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔﴿ادارہ﴾

نومبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau