ڈاکٹر سیدضیاء الہدیٰؒ کی قرآن فہمی

رضوان احمد اصلاحی

قرآن بنی نوع انسان کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے بالخصوص پرہیزگار لوگوں کے لیے سراپاسامان ہدایت ورحمت ہے جس نے اس سے رہنمائی حاصل کی اس کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئی۔جس کو قرآن سے جتنا گہرا تعلق قائم ہوا اتنا ہی گہرا تعلق اللہ سے قائم ہوگیا ۔ ایسے ہی چند نفوس قدسیہ میں سے ایک ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰؒ کی شخصیت بھی تھی۔ڈاکٹرصاحب کی سوانح حیات پڑھنے ،دیکھنے اورجاننے کے بعد یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کی شحصیت تمسلک بالکتاب اور تعلق مع اللہ کی تصویرتھی ، قرآن سے مرحوم کوبے پناہ شغف تھا،پوری زندگی اپنے آپ کو قرآنی رنگ میں رنگنے کی انتھک کوشش کی اوردن ورات قرآنی معاشرہ کی تشکیل وتعمیر کے لیے جدوجہد بھی کرتے رہے، اس کے لیے آپ نے قرآن میں غوروفکر،درس وتدریس،تذکیروتشریح کا تاحیات سلسلہ جاری رکھا۔گویا دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ ڈاکٹرصاحب’’خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ‘‘ کا عملی نمونہ تھے۔

جماعت اسلامی کے معمولات میں دروس قرآن وحدیث بہت معروف ہیں۔ڈاکٹر صاحب عوام وخواص میں بھی درس دیا کرتے تھے اور تحریکی رفقاء کی تربیت وتزکیہ کے لیے بھی درس اور تذکیر بالقرآن فرمایا کرتے تھے۔پٹنہ شہرکی بہت سی مساجد میں آج جو درس قرآن کاسلسلہ جاری ہے اس میں ڈاکٹر صاحب کی کاوشوں کا بڑا دخل ہے۔ ان دروس میں سے تیسویں پارہ کے دروس کو کیسٹ کی مددسے اکٹھا کرکے ’’تفہیم الہدیٰ‘‘ کے نام سے شائع کردیا گیا ہے۔ اس وقت دروس کا یہی مجموعہ میرے سامنے ہے ،جس کی روشنی میں ڈاکٹر صاحب کی قرآن فہمی سے متعلق بعض اہم نکات یہاں ہیں۔افسوس ہے کہ مجھے ڈاکٹرصاحب مرحوم کی صحبت نصیب نہیں ہوسکی ،نہ ہی حلقہ درس وتذکیر سے استفادہ کا موقع ملا ،اس لیے جائزے کا محور ومرکزصرف یہی تفسیری نوٹ ’’تفہیم الہدیٰ‘‘ ہے ،اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کی وہ تحریریں اور مضامین بھی پیش نظر ہیں جو بعض رسائل وجرائد میں شائع ہوئے یا مرحوم کی سوانح حیات پر شاگردوں اور بزرگوں نے کچھ لکھا ۔

سوانح حیات:

سوانح سے متعلق جومعلومات فراہم ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی ولادت ریاست بہارکی راجدھانی پٹنہ میں  ۱۹۱۸ء ہوئی،ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی،۱۹۳۷ء میں میٹرک پاس کیا،قرآن وحدیث کی اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم ،دیوبندگئے،لیکن بوجوہ کچھ عرصہ ہی وہاں رہ سکے اوروطن واپس آگئے لیکن اس کمی کی تلافی کےلیے پٹنہ سیٹی کے مولانا لاڈلے قریشی ؒسے قرآن وحدیث اور عربی زبان وادب کی تعلیم حاصل کی،  ۱۹۴۱ء میں ٹیلیگرافسٹ کی حیثیت سے سرکاری ملازم ہوئے ، ۱۹۴۶ء میں بانیٔ جماعت مولانا سید ابوالاعلی ؒمودودی نے الہ آباد کے اجتماع میں ان کی جماعت اسلامی کی رکنیت منظور کی ،پھرجماعت کے مختلف مناصب پر فائز رہے،مجلس نمائندگان،مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ قیم حلقہ مدراس و کرناٹک،امیرحلقہ بہار،امیرمقامی پٹنہ رہے،ایمرجنسی میںقیدوبندکی صعوبتوں سے بھی دوچار ہوئے، ۱۹۹۱ء میں بعض فیصلوں سے عدم اطمینان کی بنا پر مستعفی ہوگئے اور تنظیم اسلامی معاشرہ کے نام سے علیحدہ تنظیم قائم کی، اس بینر تلے اسلامی معاشرہ کی تعمیر وتشکیل کی کوشش کرتے ہوئے ۱۲جون۱۹۹۸ء کومالک حقیقی سے جاملے۔(۱)

ڈاکٹر صاحب کی سیرت کا بہت ہی نمایاں پہلوتقویٰ وللہیت ہے،جس پر روشنی ڈالے بغیر آپ پر کوئی گفتگو ناقص اور نامکمل سمجھی جائے گی ۔لیکن دقت یہ ہے کہ تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کی پیمائش نہیں کی جاسکتی ہے،کیوں کہ اس کی کوئی محدود شکل نہیں ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ’’مسلمان نام کی جو امت ہے اس میں تین طبقے ہیں۔ ایک وہ ہے جو بالکل اللہ اور آخرت کے لیے اپنے آپ کو وقف کئے ہوئے ہے اور دنیا میں اگر اللہ ان کو دولت دیتا بھی ہے تو اپنی ذات پر نہیں خرچ کرتے بلکہ اللہ کے بندوں پر خرچ کردیتے ہیں، اس کے دین پر خرچ کردیتے ہیں اور خود اپنی زندگی سادہ بسرکرتے ہیں ۔ کھانا،پینا،رہنا،سہنا جو کچھ بھی ہے بالکل سادہ اور اللہ کی نافرمانی کرناتو وہ جانتے ہی نہیں ۔ اللہ کے جو بھی احکام ہیں پہلی فرصت میںانہیں پورا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ایسی ہی صفت والوں کو متقی کہتے ہیں،انہیںکو قرآن میں کہا گیا ہے السابقون الاولون۔ سب سے پہلے آگے بڑھنے والے اسلام میں،اسلام پر عمل کرنے میں،اللہ اوررسول کی فرماں برداری میں اور اسی لیے جنت میں بھی آگے جائیں گے اور حشر کے میدان میں بھی آگے رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ قرآ ن میں لفظ متقی استعمال کرتا ہے تو اس سے مراد یہی لوگ ہوتے ہیں ‘‘۔(۲)

ڈاکٹر صاحب کے ہم عصر اہل علم، رفقاء کار ،اعزہ واقربا اس بات کی تصدیق کریں گے کہ ان کی شخصیت متقی کے اسی معنی ومفہوم کی آئینہ دار تھی۔

ڈاکٹر ضیاء الہدی ٰ صاحب بظاہر مفسر قرآن نہیں تھے ، نہ تو انہوں نے کوئی تفسیر لکھی اور نہ کسی دارالعلوم میں شیخ التفسیر رہے ۔ لیکن راقم کا تجزیہ ہے کہ ایک مفسر قرآن میں جو خوبیاں اور صلاحیتں درکار ہیں وہ سب ڈاکٹر صاحب میں پائی جاتی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کہاکرتے تھے کہ ’’آیتوں کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان ہر طرح خالی الذہن ہوجائے ۔ غیر جانب دار ہوکر تلاوت کرے۔پیش ازتلاوت جو اس کا ذاتی نظریہ یا رجحان ہے وہ بھی نہ رہے ،جب ہی قرآن کے حقیقی معانی اس پر منکشف ہوں گے۔یہی تلاوت اس کے خلوص، صدق دل اور ضمیر کی ہے۔ اس کے بعد جو سمجھ میں آئے ،وہ مان لے ۔یہی قرآن کی فہم ہے،اسی فہم کو بتانا تفسیر ہے اور اس تفسیر کو بتانے والا مفسر‘‘۔(۳)

ڈاکٹر صاحب تلاوت قرآن ، مطالعہ قرآن کے سلسلے میں اسی بنیادی اصول پر کاربند تھے، جب قرآن میں غوطہ زن ہوتے تو ایک سے ایک نادر اورنایاب موتی چن لاتے۔ علامہ حمید الدین فراہی ؒ کو ایک دنیا مفسرہی نہیں تفسیر کا امام مانتی ہے ،وہ اپنے بارے میں لکھتے ہیں’’میں نے آیات کے معانی کی تفسیر کتابوں سے نہیں کی ہے ،بلکہ خود آیات پر ان کے سیاق وسباق اور مماثل آیات کی روشنی میں غور کیا ہے، اس طرح جب چند آیتوں کے معنی روشن ہوگئے ہیںتب میں نے تفسیر رازی یا تفسیر طبری اٹھائی ہے۔ ان میں کبھی توا یسا ہوا ہے کہ کوئی قول سلف کا میرے موافق مل گیا ،اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ جو معنی میری سمجھ میں آتے تھے ،ان سے مجھے رجوع کرنا پڑا، اور ایسا بھی بارہا ہوا کہ کوئی مشکل ایسی پیش آگئی جس کے لیے مجھے عرصہ تک توقف کرنا پڑا‘‘۔(۴)  چنانچہ ہر باذوق مفسر قرآن نے قرآن کو اسی طرح طالب حق اور غیر جانب دار ہوکرپڑھا ہے۔

فہم قرآن کی شرائط:

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک فہم قرآن کے لیے قرآنی عربی کا علم ہونا ضروری ہے چنانچہ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں’’اس قرآن کی زبان وہی ہوگی جو آپ ﷺ کی قوم کی زبان تھی جن میں آپ رہتے تھے ۔ اب اس سے پہلے کی عربی یا اسکے بعد کی جدید عربی میں آپ قرآن کامطالعہ کریں گے تو آپ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچیں گے۔ آپ کو مطالعہ کرنے کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ رسول ﷺ کے زمانے میں مکہ میں یا پھر وہاںسے منتقل ہوکر جب آپ مدینہ منورہ میں آئے تو وہاں جو عربی بولی جاتی تھی وہ کیاتھی، اس لیے اس وقت کا جوادب (Literature) تھا قرآن کے علاوہ اس کا علم ہونا چاہیے،اس سے آپ کو معلوم ہوگا کہ زبان جس میں قرآن نازل ہوا وہ کیا ہے اور اگر آپ نہ جانیں گے تو الٹاپلٹا مفہوم لے لیں گے‘‘۔(۵)

ڈاکٹر صاحب کے افادات میںیہ بات ملتی ہے کہ ’’انداز بیان‘‘ دو طرح کا ہوتا ہے،ایک بالکل صریح(Plain)دوسرا’’اشارہ‘‘۔ قرآن کا جو انداز بیان ہے وہ ’’وحی‘‘ ہے ۔ وحی کے معنی اشارے کے ہیں۔ ڈاکٹرصاحب کا خیال ہے کہ ’’بالکل سپاٹ جو زبان ہوتی ہے اس میں گہرائی نہیں ہوتی ،اگرآپ چاہیںکہ اس کی گہرائی میں اتریں اور اس میں بہت سے پہلوتلاش کریں تو یہ آپ کی غلطی ہوگی،لیکن ایک زبان ہوتی ہے اشارے کی۔

ایک اشارہ ہوتا ہے ہاتھ سے پاؤں سے اور اعضاء(Gesture)سے ۔مثلاًہاتھ ہلاکر روک دیا اور ایک اشارہ ہوتا ہے الفاظ میں۔اشارے میں ایک بات یہ ہوتی ہے کہ جو آپ اشارہ کررہے ہیں وہ ایک سمجھے گا دوسرا نہیں سمجھے گا۔۔۔ قرآن کے نزول کی مختلف کیفیت آپ ﷺ نے بتائی  یہ کہ معلوم ہوتا ہے کہ گھنٹی بج رہی ہے یا سیٹی کی آواز ہے وغیرہ ۔ اسی طرح اس میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں یا جو اصطلاحیں ہیں ان میں روح (Spirit) کے لحاظ سے اور معنوی لحاظ سے بڑی گہرائی ہے اوریہی وجہ ہے کہ مختصر سے تیس پارہ میں ہمارے لیے بحیثیت خلیفہ کےجتنے ضروری علوم ہیں وہ سارے علوم اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے رکھ دئیے ہیں۔(۶)

تفسیر آیات بالتمثیل:

ڈاکٹر صاحب کے مہنج تفسیر میں’’تفسیر آیات بالتمثیل‘‘ بہت نمایاںہے۔یعنی آیات کے معانی کو مثالوں سے سمجھانا،تاکہ مخاطب قرآن کے مدعاء اورمنشاء کو کماحقہ سمجھ سکے ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اللہ تعالیٰ مچھر کی مثال دینے سے نہیں شرماتا’’ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا مابعوضۃ فما فوقہا:(۷) اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھریا اُس سے بھی حقیر ترکسی چیز کی تمثیلیں دے‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب قرآن کے باریک سے باریک نکتہ کو معمولی اور عام فہم مثالوں سے سمجھانے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں مثلاً یومئذ تحدث اخبارہا (۸)اس دن زمین اپنی خبریں کیسے بیان کرے گی؟ ڈاکٹر صاحب اس ٓایت کی تشریح میں بتاتے ہیںکہ ’’ ٹیپ ریکارڈ بجتا ہے،ریڈیو بجتا ہے، نہ اس کے پاس منھ ہے نہ زبان ہے، کچھ نہیں ہے لیکن آدمی کی بولی بولتا ہے تو اس لیے اب تو سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ زمین بھی بولے گی اور زمین ہی صرف نہیں بولے گی، آدمی کا ہاتھ بولے گا،پاؤں بولے گا، اس کی کھال بولے گی،سب بولیں گے۔‘‘(۹)

قرآ ن کی ایک معروف اصطلاح ’’صبر ‘‘ ہے، ’’مصبیت میں بھی صبر کرنا ہے اور خوشی میں بھی صبرکرنا ہے‘‘ مصیبت میں صبر تو سب کی سمجھ میںآنے والی بات ہے ، لیکن خوشی میں ’’صبر ’’کا مفہوم سمجھنا مشکل ہے چنانچہ ڈاکٹر صاحب تواصی بالصبرکے ضمن میں کہتے ہیں کہ ’’ خوشی میں صبر یہ ہے کہ انسان آپے سے باہر نہ جائے اور خرچ کا معاملہ ہوتو اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ نہ کردے۔ اکلوتا بیٹا ہے ،شادی ہے، پیسے بھی ہیں اور جی چاہتا ہے کہ گل چھرے خوب ہوں،جی چاہا تو لاؤڈاسپیکر لگا دیا ۔اب اتنا تیز بجارہے ہیں کہ کسی کا امتحان ہے تووہ پڑھ نہیںسکتاہے،کوئی مررہا ہے تو اس کوکلمے کی تلقین نہیں کی جاسکتی ہےشادی میںکھاناکھلارہے ہیں تواپنی حیثیت سے زیادہ کھلارہے ہیں، قرضہ لے کر کھلارہے ہیںتو یہ سب کیا ہے بے صبری ہے، خوشی کی حالت میں اپنے نفس کو روکنا پڑے گا۔۔ صبر کے معنی رکنے کے ہیں۔(۱۰)  الغرض اس طرح کی بہت سی مثالیں تفہیم آیات کے سلسلے میں موصوف بیان کرتے تھےجن کا مطالعہ مذکورہ کتاب میں کیا جاسکتا ہے۔

نظم قرآن:

ہمارے یہاں ’’نظم قرآن‘‘ کے بارے میںیہ تصور عام ہے کہ یہ اصول تفسیر کی ایک بھاری بھرکم اصطلاح ہے یا پھر علمی نوعیت کی ایک مشکل چیز ہے اس طرف تفسیر کو برتنا مشکل کام ہے لیکن ڈاکٹر صاحب نے ثابت کردیا کہ یہ ممکن ہے، مفسرین میں سے ایک طبقہ سرے سے نظم کا منکر ہے تو دوسرا طبقہ مطلق نظم کا قائل ہے لیکن دوران تفسیر اس کا لحاظ نہیں کرپاتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب کے یہاں ہم پاتے ہیں کہ آیات کی تفسیر میں نظم قرآن کا خاطرخواہ خیال رکھا گیا ہے،عوامی درس قرآن میں بھی اسے ملحوظ رکھا گیا ہے ،اور بہت ہی سادہ جملوں میں نظم کو کھول دیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ نباء کی تفسیرکرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ’’اس سورہ میں اور اس سے پہلے جو سورہ مرسلات ہے ان دونوں میں دنیا سے لے کر آخرت تک انسانی زندگی کا جو ارتقاء ہے اس کے مراحل بیان کئے گئے ہیں۔ سورہ مرسلات میں انسانی زندگی کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے جب وہ ماں کے پیٹ میں رہتا ہے اور پھر وہ وہاں سے نکل کرزمین کی گود میں آجاتا ہے اوراس سورہ میں اب یہاں سے آگے بات بڑھے گی۔ جس طرح پہلے تم ماں کے پیٹ اور اس کی گود میں تھے اب تمہارا قیام اور زندگی کا کام کاج زمین پرہونا ہے اور ایک دن زمین کی اس گود سے نکلنا ہے اور آخرت کے مرحلے میں داخل ہونا ہے۔یہی بات ان دو سورتوں میں بیان کی گئی ہے اور اس کے لیے ’’یوم الفصل‘‘ کالفظ آیا ہے۔(۱۱)چندجملوں میں جس طرح دونوں سورتوں کا ربط عام فہم پیرائے میں بیان کردیا گیا ہے یہ ڈاکٹر صاحب کا ہی حصہ ہے۔

اسی طرح ربط آیات دیکھنا ہوتو سورہ تین کی ابتدائی تین آیات کی تفسیر کا مطالعہ کیا جائے،تین،زیتون،طور سینین اور بلدامین کی قسمیں اللہ نے ایک ساتھ کھائی ہیں، ان چاروں مقامات کے درمیان زبردست مماثلت اور تعلق پایا جاتا ہے۔

انسان کو اس کائنات میں سب سے حسین بناوٹ دی گئی ہے،(فی احسن تقویم)اسی کے لیے چارچیزوں کی قسم کھائی گئی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ ایک پہاڑ ہے جو انجیر کی طرف منسوب ہے ،اس پر انجیر کے باغات بہت ہیں یاتھے،یہ پہاڑ حضرت آدم علیہ السلام کی طرف منسوب ہے اورایک پہاڑ ہے جس پر زیتون بہت ہے،یہ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی طرف منسوب ہے،طور سینین وہ پہاڑ ہے جو سینا میں ہے، اس کی نسبت حضرت موسی علیہ السلام کی طرف ہے،بلدامین سے مراد وہ شہرمکہ ہے،جس کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے بسایا،اور حضرت محمد ﷺ کی جائے پیدائش ہے ،اس شہر کی ایک پہاڑی’’حرا‘‘ ہے ،جس سے آپ ﷺ کا خاص تعلق تھا ،یہیں نبوت ملی،۔تین اور زیتون والی پہاڑیاں دو عظیم اور جلیل القدر ابنیاء کی عظمت کی گواہ ہیں۔ طورسینا کی پہاڑی پر ہی حضرت موسیٰ کو نبوت ملی،یہیں اللہ کی تجلی دکھائی دی،ان ساری چیزوں کا گواہ طور پہاڑ ہے۔

تین اور زیتون کا تذکرہ ایک ہی آیت میں ہے جب کہ طور سینین اور بلد امین کو دو الگ الگ آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت آدم کا مرتبہ ہم سب جانتے ہیںلیکن وہ دنیا میں آئے تو تمدن وجود میں نہیں لاسکے،دنیا میںآبادی ہی نہیں تھی،ان سے جب نسل چلی تب آبادی ہوئی اور شہر اور گاؤں بسے،اسی لیے شریعت بھی ان کو مختصرملی،اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوئی نئی شریعت لے کرنہیں آئے،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو شریعت تھی اسی کو اختیار کیا،اس کے برعکس حضرت موسیٰ اور حضرت محمدﷺ کے ذریعہ تمدن کا فروغ ہوا اور یہ دو طرح کا تھا۔ اس لیے دو الگ الگ آیات میں تذکرہ ہے۔رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ جو تمدن پھیلا وہ بہر حال سب سے زیادہ ترقی یافتہ تمدن ہے اس لیے بجائے پہاڑ کے شہر کا ذکر کیا گیا،تو بہر حال یہ چاروں چیزیں انسان کے اس اعلی ٰ مقام کی گواہ ہیں جو اس کو حاصل ہے ،اس کائنات میں۔(۱۲)

ڈاکٹر صاحب نے الفاظ کے درمیان نظم اور ربط کوبھی یان کیا ہے،مثلاً سورہ فاتحہ میں رحمن اور رحیم کی تفسیر دیکھی جاسکتی ہے، عام طور پر لوگ مبالغہ کہہ کر گزرجاتے ہیں،یا صفت رحمن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس میں جوش کے معنی ہیں اور رحیم میں استمرارکا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے ان دونوں الفاظ کے ربط کو نہایت ہی دلچسپ انداز میں کھولا ہے،ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں’’رحمن کا رحم ساری نوع انسانی کے لیے ہے اور رحیم کا رحم فرماں برداروں کے لیے یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ رحمن کا رحم ماں کے رحم کی طرح  ہوتا ہے جس میں جوش پایا جاتا ہے اور رحیم کا رحم باپ کے رحم کی طرح ہوتا ہے جس میں ہوش پایا جاتا ہے۔(۱۳)ڈاکٹر صاحب نے اس فرق کو سورہ فاتحہ کی تفسیر میں بہت ہی واضح انداز میں کئی صفحات میں سمجھایا ہے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی قرآن فہمی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

تفسیر بالرائے یا تفسیر بالماثور:

بہت سے مفسرین کے یہاں اصول تفسیر کے ضمن میں تفسیر بالرائے اور تفسیر بالماثور کے سلسلے میں افراط وتفریط ہے ،مفسرین کا ایک طبقہ تفسیر بالماثور کے علاوہ کسی اور طریقہ تفسیرکوجسے عرف عام میںتفسیر بالرائےکہا جاتا ہے، غلط قرارددیتا ہےجبکہ دوسرا طبقہ تفسیر بالرائے پر غیر معمولی اصرار کرتا ہے۔ سلف سے جو تفسیر مروی نہ ہو وہ تفسیر بالرائے ہے،جو سلف سے مروی ہو وہ تفسیربالماثور ہے۔ڈاکٹر صاحب کے یہاں تفسیر بالماثور کا اہتمام پایاجاتا ہے لیکن تفسیر بالرائے کو نہ صرف یہ کہ جائز سمجھتے ہیں بلکہ تدبر قرآن کی ضرورت کے طور پر عملاً اس کو برتتے بھی ہیں، وہ تقلید جامد کے قائل نہیںہیں اور نہ ہی صرف سلف یا معاصر مفسرین کی تفاسیر پر قانع رہتے ہیں بلکہ وہ تدبر وتفکر کے علمبردار ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے یہاں یہ بات مسلم تھی کہ یہ کتاب رہتی دنیا تک کے لیے سراپا سرچشمۂ ہدایت ہے چنانچہ وہ وقت کی ہر نئی سائنسی تحقیق ،تکنیکی ایجاد ور علمی انکشاف سے دلچسپی لیتے‘‘۔(۱۴)

سورہ فرقان کی آیات ہیں’’وہوالذی مرج البحرین ہذا عذب فرات وہذا ملح اجاج وجعل بینھمابرزحا وحجرامحجورا ،وہوالذی خلق من الماء بشراً فجعلہ نسا وصہرا۔(۱۵)اور وہ ایسا ہے جس نے دریاؤں کو ملایا جن میں ایک کا پانی توشیریں تسکین بخش ہے اور ایک کا پانی شور اور تلخ ہے اور ان کے درمیان میں اپنی قدرت سے حجاب اور مانع قوی رکھ دیا ہے اور وہ ایسا ہے جس نے پانی سے یعنی(نطفہ) سے آدمی کو پیدا کیا پھر اس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔

ڈاکٹر صاحب ان آیتوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’ان میں ایسے علم کی دریافت کی طرف اشارہ یایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں رشتۂ ازدواج کو بہت مفید بنیادوں پر قائم کرناممکن ہوجائے گا۔جس طرح ایسے سمندر ہوتے ہیں جن کا پانی ایک دوسرے میں نہیں ملتا اسی طرح بعض دو خاندان یا مرداور عورت پر مشتمل دو افراد کے خون میں بھی کچھ ایسا تضاد پایا جاتا ہے کہ ان دونوں کے خون کو ملادینا مفید نتائج نہیں پیدا کرتا۔ اس لیے خون کی کوئی ایسی جانچ ہونی چاہیے جس کے بعد یہ فیصلہ آسان ہوجائے کہ پیش نظر لڑکا اور لڑکی کے درمیان ،زن وشوہر کا رشتہ مفید ہوگا یا غیرمفید‘‘۔ (۱۶)

یقینا متقدمین ومتاخرین میں سے کسی مفسر کا رجحان اس جانب نہیں گیا ہوگا ،اب کوئی چاہے تو ایسی تفسیر کو تفسیر بالرائے سمجھ کر مستردکردے  یاپھر قرآن کا ایک اشارہ سمجھ کر اسے تدبروتفکر کا موضوع بنائے،کیوںکہ اب جو نئے مسائل ،نئی تحقیقات اور ایجادات سامنے آرہی ہیں کیا ہم سمجھیں کہ قرآن اس سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں کرتا؟ استاد گرامی مولانا نسیم ظہیر اصلاحی صاحب نے علامہ حمید الدین فراہیؒ کے نظریہ کی وضاحت کے ضمن میں بالکل مبنی بر اعتدال نکتہ بیان فرمایا کہ ’’تفسیر بالرائے کی ممانعت کا ایک خاص مفہوم اور خاص پس منظر ہے، اس کا مقصد تدبر فی القرآن کی ممانعت نہیں ہے، بلکہ ایک غور وفکر کرنے والے کو باشعور اور محتاط بنانا، خرافات واوہام اور ہوائے نفس میں مبتلا ہونے سے بچانا، مخالفت قرآن سے روکنا اور فتنے کا دوازہ بند کرنا اس کا اصل منشاء ہے‘‘۔(۱۷)

 شان نزول :

مفسرین کا ایک بڑا طبقہ یہ کہتا ہے کہ فلاں واقعہ فلاں سورہ یا آیات کے نزول کا سبب ہے۔ گویا سورتوں اور آیات کو محض ایک واقعہ پرچسپاں اور آویزاں کردیاجاتا ہے۔یہ قرآن کی وسعت کو مقید کرنا اور اس کے وسیع تر معانی کو محدود کرنا ہے۔ اس خیال کو علامہ سیوطیؒ،امام زرکشیؒاور بعد میں مولانا فراہیؒ اورمولانا مودودی ؒ وغیرہ  مستردکرچکے ہیں۔ امام زرکشیؒ نے برہان میں لکھا ہے کہ صحابہ وتابعین کا یہ معروف طریقہ ہے کہ جب وہ کہتے ہیں کہ فلاں آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ آیت اس حکم پر مشتمل ہے۔ یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ بعینہ وہ بات اس آیت کے نزول کا سبب ہے۔(۱۸)

ڈاکٹرصاحب مرحوم اس نظریہ کو ایک قدم اور آگے بڑھ کرپیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ فلاں واقعہ ہوا تو یہ آیت اتری۔ یہ شان نزول ہوا۔ ایسا نہیں تھا بلکہ اس آیت کے مطابق کوئی واقعہ اگر آج بھی پیش آجائے ، تیرہ سو سال کے بعد بھی تو ہم کہیں گے اس کا شان نزول یہی ہے۔ اصل شان نزول کا مفہوم یہی تھا‘‘۔ (۱۹)

قرآن میں قسم کا مفہوم :

قرآن میںمختلف چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے مثلاً چاند،سورج،آسمان ،زمین ،دن ،رات،انجیر ،زیتون وغیرہ ، ہمارے مفسرین کے درمیان قسم کے سلسلے میں ایک لمبی بحث موجود ہے ،بعض نے ان چیزوں کی وجہ تسمیہ پر توجہ مرکوز کرکے تاویل کرنے کی کوشش کی ہے ،تو بعض نے ان کی عظمت میں صفحات کے صفحات سیاہ کئے ہیں۔ڈاکٹرصاحب کا خیال ہے کہ قرآن میں قسم’’عقلی استدلال‘‘ کے لیے کھائی گئی ہے۔جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس میں تقدیس کا پہلو ضروی نہیں ہے جیسا کہ بعض نے سمجھا ہے۔یہ بات پہلی دفعہ ڈاکٹر صاحب نے نہیں کہی ہے بلکہ علامہ فراہیؒ اس پہلوکو اپنی تصنیفات بالخصوص ’’اقسام القرآن‘‘ میں زور دے کر بیا ن کرچکے ہیں،چنانچہ علامہ فراہی ؒ فرماتے ہیں’’کسی چیزکی قسم کھانے کے معنی یہ ہیں کہ وہ چیز شہادت اور گواہی میں پیش کی جاتی ہے۔۔۔۔ قسم میں مقسم بہ کی تعظیم وتکریم کا پہلو ضروری نہیں،مقسم بہ ( جس چیز کی قسم کھائی جائے) کے لیے عزت وتکریم فرض کرلی گئی ہے ،یعنی اگر کسی چیز کی قسم کھائی گئی تو محض اس کی قسم کھانا اس کی عظمت اور بڑائی کی دلیل ہے ۔حالانکہ یہ خیال صحیح نہیں ہے‘‘(۲۰)

اس بات کو سمجھانے کے لیے ڈاکٹر  صاحب نے اچھی مثالیں دی ہیں’’’فرض کیجئے کہیں قتل ہوا۔ جب کوئی حادثہ کی تصدیق کرنے لیے آتاہے تو دیکھتا ہے کہ دیوار پر خون کے چھینٹے ہیں ۔ تو یہ خون گواہی دے رہا ہے کہ یہاں قتل ہوا ہے۔خون کی قسم کھائی جائے گی،مگر یہ قسم خون کے تقدس کی وجہ سے نہیں کھائی جائے گی بلکہ بطور گواہی کھائی جائے گی۔‘‘

ریل لائن کے پاس ہم دیکھ رہے ہیں کہ دھواں اٹھ رہا ہے اوردھواں پورب کی طرف چلاجارہا ہے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہاں پر انجن ہے اور انجن پورب کی سمت جارہا ہے۔ان مثالوں کے بعد ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں’’اللہ تعالیٰ جو قسم کھاتا ہے وہ اسی مفہوم میں ہے کہ دیکھو تمہارے پاس عقل ہے تو سوچو کہ یہ چیزیں جن پرہم قسم کھارہے ہیں یہ اس امر پر گواہی دیتی ہیں یا نہیںکہ ہم جوکہہ رہے ہیںوہ صحیح ہے‘‘ (۲۱)

قرآنی الفاظ و ضمائر کی تفہیم:

’’قرآن کی تفسیر قرآن سے کی جائے‘‘ اس اصول تفسیرپرمقدمین میں سے علامہ ابن کثیرؒ،علامہ سیوطیؒ اور متاخرین میں علامہ حمید الدین فراہی ؒنے زوردیا ہے بلکہ مولانا فراہی نے اپنی تفسیر میں اس کو عملاً برت کردکھا بھی دیا ہے۔ ڈاکٹرضیاء الہدیٰ صاحب کے دروس اورقرآنی افکارونظریات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی فہم قرآن کا سب سے موثر ذریعہ خودقرآن کے داخلی امورہیں،مثلاً آیات کا سیاق وسباق،الفاظ، ضمائر،نظم قرآن وغیرہ،یہاں ڈاکٹر صاحب کی تحریروں اوردروس سے چندمثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

سورہ فاتحہ میں رحم کے لیے دو الفاظ رحمن اور رحیم آئے ہیں۔عام طورپر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ رحمن کے ساتھ رحیم مبالغہ کے لیے ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں’’کلام ربانی کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کا ہر جملہ،ہرہرلفظ اپنے اندرایک الگ معنی رکھتا ہے،رحمن اوررحیم میں یہ فرق ہے کہ رحمن ساری نوع انسانی کے لیے ہے اور رحیم کا رحم فرماں برداروں کے لیے ہے۔یا یوں کہاجاسکتا ہے کہ رحمن کا رحم ماں کے رحم کی طرح ہوتا ہے جس میںجوش پایا جاتا ہے رحیم کا رحم پاب کے رحم کی طرح ہوتا ہے جس میں ہوش پایا جاتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے ان دونوں الفاظ پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔

اسی طرح سورہ نباء کی ایک آیت’’ان یوم الفصل کا ن میقاتا‘‘(۲۲) میں لفظ فصل پر عمدہ بحث کی گئی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیںاس سورہ میں ’’یوم الفصل‘‘کلیدی لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ فصل کے معنی ہیں کٹنی کے، جس کو ہم لوگ کہتے ہیں کٹنی کا وقت آیا ہے ،دھان کی کٹنی یا گہیوںکی فصل کاٹنے یا پھل توڑنے کا وقت۔ ایک تو یہ مفہوم ہے۔ اسی طرح فصل کےایک معنی فیصلہ کے ہیں،اس پہلوسے بھی کئی صفحات میں تشریح کی ہے، جو پڑھنے کے لائق ہے۔بہرحال ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ قرآن کا ہر لفظ معنی خیز ہے،کوئی لفظ زائدیا محض تکرار کے لیے نہیں آیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کا ایک مضمون ’’تدبرقرآن‘‘کے نام سے معروف ہے،اس میں انسان کا خلیفہ ہونے کے ناطے تصرف کی آزادی کے دائرہ کار کے ضمن میں ایک اہم نکتہ کی نشاندہی کی ہے۔ لکھتے ہیںکہ’’اللہ جس مشیت کے تحت اس کائنات کو چلا رہا ہے اس کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جس کے فاعل کی حیثیت سے وہ اپنے لیے واحد متکلم کی ضمیر استعمال کرتاہے۔ یہ سارے کام بالکل اس کے لیے مخصوص ہیںکوئی دوسرا کرہی نہیں سکتا۔ دوسرے وہ کام جن کے فاعل کی حیثیت سے وہ اپنے لیے جمع متکلم کی ضمیر لاتا ہے۔ اس ضمیر کے استعمال کی موٹی موٹی دو غرض ہیں۔ ایک اپنی عظمت کا اظہار کرنا مقصود ہے۔ اور دوسری غرض یہ ہے کہ اللہ ان سارے کاموں کو اپنی بنائی ہوئی فطر ت کے متعین قوانیں کے تحت چلا رہا ہے۔ ان قوانین کا جس حد تک بھی انسان کو علم حاصل ہواہے وہ بھی ان کی پابندی کرتے ہوئے اس کائنات میں تصرف کرسکتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس کی مثالیں بھی دی ہیں یہاںایک مثال نقل کی جاتی ہے۔

وانزلنا من السماء ماء فانبتنا فیھا من کل زوج کریم(۲۳)لقمان:۱۰) اور ہم نے آسمان سے بارش برسا یا پھر اس زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگادیں۔اس میں آسمان سے بارش برسانے کے کے لیے جمع متکلم کی ضمیر استعمال ہوا ہے،جس کا مطلب یہ ہواکہ بارش کا برسنا اللہ کے متعین فطری قوانین کے تحت ہوتا ہے ،جن کا علم حاصل کرکے انسان بھی بارش برسانے کے لائق ہوسکتا ہے‘‘۔(۲۴)

اسی طرح تخلیق آدم اورحضرت عیسیٰ علیہما السلام کے سلسلے میںقرآنی ارشادات کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی تحقیق اپنی نوعیت کی ایک منفرد تحقیق ہے ،ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ’’حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے سلسلے میں  اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایاکہ میںنے اپنی روح اس میں پھونکی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ کی خصوصی قدرت کے تحت ہوئی جو کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔(۲۵)

 دیگرعلوم وفنون سے استفادہ:

ڈاکٹر صاحب تفسیر کے لیے قرآن کے لسانی اورخبری مآخذ کے ساتھ ساتھ علم فلکیات،ارضیات،کیمیا، طب ،معاشرت اورنفسیات سے نہ صرف استفادہ کے قائل تھے بلکہ اپنے دروس وتشریح آیات میں عملاً مظاہرہ بھی کرتے تھے۔تمام علوم وفنون کو قرآن کے تابع قراردے کر قرآن کی روشنی میں ان علوم وفنون کو پڑھنے کے قائل تھے ،اس کے برعکس قرآن کو دیگر علوم وفنون کے تابع کرکے پڑھنے اور سمجھنے کے سخت خلاف تھے،چنانچہ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں مولانا سیدشا ہ علیم الدین بلخی ندوی صاحب لکھتے ہیںکہ’’مرحوم کا علوم جدیدہ پر مطالعہ بہت وسیع تھا،وہ علم طیعات ،کیمیا، ریاضی اور طب پرگہری بصیرت رکھتے تھے،سائنسی مسائل سے انہیں بڑی دلچسپی تھی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کو قرآن پاک پر گہری بصیرت حاصل تھی اورآیتوں سے نئے نئے مفاہیم ومطالب نکالنے میں کمال حاصل تھا جو میں نے اپنی زندگی میں کسی بڑے سے بڑے عالم دین کے اندر یہ بات نہیں پائی اور خاص طور پر سائنسی علوم کو قرآن سے مستنبط کرنے میں ید طولیٰ حاصل تھا، مگر وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ جدید سائنس کو قرآن پاک پر تو منطبق کیا جاسکتا ہے مگرقرآن پاک کو سائنس پر منطبق کرنا بالکل غلط ہوگااس لیے کہ قرآن پاک کے قوانین واحکام تو اٹل ہیں مگر سائنس کے نظریات اور Theoriesتو روزانہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔وہ ڈھونڈڈھونڈ کر اور کھوج کھوج کر ایسی باتیں نکال لیتے جن کی تصدیق قرآن کرتا ہے‘‘۔(۲۶)

اس کی متعدد مثالیںڈاکٹر صاحب کی تفسیر اور تقریر سے دی جاسکتی ہیں،ایک مثال’’فلینظر الانسانُ ممَّ خلق ،خلق من ماء دافق،یخرج من بین الصلب والترائب(۲۷)پھر انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ،اچھلتے پانی سے پیداکیا گیا ہے، جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ابھی تک جو علم ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے اندر جو منی ہوتی ہے اس سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور نکلتی ہےScrutumکے اندر حصیے سے۔ لیکن یہاں معلوم ہوتاہے کہ وہ منی کے علاوہ کچھ اور قسم کا رقیق سیال ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہا ں فرما رہا ہے اور وہ ریڑھ اور پسلی کے بیچ سے نکلتا ہے،ریڑھ تو خیرایک ہے لیکن پسلی کئی ہے۔ تو گواس پسلی اور ریڑھ کے جنکشن یا اسکے بیچ کے خلا میں سے نکلتا ہے‘‘۔(۲۸)

۹۔تحریک وتربیت :

ڈاکٹر صاحب قرآن کے بحر ذخار میں جب غوطہ زن ہوتے تو اس سے نہ صرف لعل وموتی چن کرلاتے بلکہ تحریک وتربیت کے وہ اصول ومبادی مستبظ کرتے۔ مثلاً سورہ ہمزہ لمزہ کے ضمن میںلکھتے ہیں کہ ’’ اسلامی تحریک جب اس مرحلے میں ہوکہ اس کو نئے سرے سے برپا کرنا ہے تو اس میں جوترتیب ہوگی وہ وہی ہوگی جو رسول اللہ  ﷺکے زمانہ میں اختیار کی گئی کہ ان برائیوں کو جن کا رواج ہو، اول ان کو ایشونہ بنایا جائے اور وہ برائیاں جن کو معاشرے میں برا نہ سمجھا جاتا ہو فی الوقت ان سے تعرض نہ کیا جائے۔ جن کو معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہو صرف انہیں کی نشاندہی کرکے اپنی دعوت پیش کی جائے۔‘‘ (۲۹)

آج پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے منفی سوچ پائی جاتی ہے، ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ٹھیک اسی طرح صلح حدیبیہ سے پہلے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ ہورہا تھا جس سے باہر کے لوگ مدینے میں آنا نہیں چاہتے تھے،کہ جیسے ہی مدینہ جائیں گے مسلمان تنگ کریں گے، اللہ تعالی ٰ نے صلح حدیبیہ کرائی ،جب امن اور اطمینان ہو جائے گا تو پھر لوگ مدینہ آئیں گے اور آنے کے بعد اسلام کو چلتا پھرتا دیکھیں گے اور ان کے سرداروں نے اوران کی قوم کے لوگوں نے جو جھوٹے پروپگنڈے کی وجہ سے ان کو خوف زدہ کررکھا ہے ،وہ خوف ختم ہوجائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے اس بحث کے بعد سورہ نصر کی تفسیر میں بتایا ہے کہ ’’ در اصل کام کرنے کا وہی ہے جس کے لیے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں کو تیار کیا یعنی اسلامی معاشرہ بنانا۔یہی آج بھی کرنے کا کام ہے، یکسوئی کے ساتھ مسلمان اپنے معاشرے کو اسلامی بنانے میں لگ جائیںاللہ کی مدد اور فتح آجائے گی ۔ (۳۰)

ڈاکٹر صاحب تفسیر کے معاملے میں عام فہم زبان اورسادہ اسلوب استعمال کرتےہیںہرآیت کو پکر کراس کی تشریح کرتے ہیں۔ گفتگو اسی زیر درس آیت کے اردگردگھومتی رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بات کرتے کرتے کہیں سے کہیں نکل گئے جیسا کہ بعض کی عادت ہوتی ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس مجموعہ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب باقاعدہ قرآن کی تفسیر لکھتے تو ذخیرۂ تفاسیر میں ایک نیا اضافہ ہوتا اور جدید ذہن خصوصا سائنس اور ٹکنالوجی سے متاثر افراد کے لیے علمی ،فکری اور روحانی غذا کا سامان ہوتا۔قرآن اوراسلام پرایمان ویقین میں اضافہ ہوتا ۔میراذاتی خیال ہے کہ قرآن فہمی اور تفسیر قرآن کے لیے جتنے اوصاف درکار ہیں وہ سب ڈاکٹر صاحب میں تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے دروس،تقاریر اور مضامین کا مطالعہ کرکے ڈاکٹر صاحب کی قرآن فہمی کا جائزہ لیا جاسکتا ہے،یہاں چند نکات پیش کئے گئے ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی قرآن فہمی کس درجے کی تھی۔

حواشی و مراجع

(۱)                               ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ،بیک پیج۔النور پبلشرز اینڈ ڈسٹربیوٹرس،ذاکر نگر،

نئی دہلی2010

(۲)                            ایضاً  ص85،

(۳)                            حکیم مظفر بلخی کا مضمون ،ماخوذ ازتفہیم الہدیٰ  ص25

(۴)                            امام حمید الدین فراہی ؒ،  مقدمہ تفسیر نظام القرآن ص47 مطبعہ دائرہ حمیدہ سرائے میر

اعظم گڑھ،یوپی

(۵)                            ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،کا مضمون ’’قرآن کیا ہے؟ بحوالہ تفہیم الہدیٰ ص33

(۶)                             ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ ص33

(۷)                            قرآن مجیدسورہ بقرہ  آیت26

(۸)                            سورہ الزلزال۔ آیت4

(۹)                              ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ  ص 289

(۱۰)                       ایضاً  ص 315

(۱۱)                          ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ ص 62،سورہ مرسلات اور سورہ بنا کے ضمن میں

(۱۲)                       ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ سورہ التین  ص 250-253کا خلاصہ

(۱۳)                       ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ، تفسیر سورہ فاتحہ  ص : 42

(۱۴)                       ایضاً ص17

(۱۵)                       قرآن مجید ،سورہ فرقان آیت:53-54

(۱۶)                        ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ ص38

(۱۷)                      علامہ حمید الدین فراہی ۔۔ حیات وافکار، ص 340(مقالات سیمینار)مطبعہ دائرہ حمیدہ سرائے میر اعظم گڑھ،یوپی

(۱۸)                       امام حمید الدین فراہی ؒ تفسیر نظام القرآن:  ص41  مطبعہ دائرہ حمیدہ سرائے میر اعظم گڑھ،یوپی

(۱۹)                         ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ۔ ص 354

(۲۰)                    قرآنی مقامات،مضمون ’’اقسام القرآن ،حافظ عبدالاحد اصلاحی،دائرہ حمیدہ  سرائے میر،ص237

(۲۱)                       ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم  الہدیٰ۔ ص 311

(۲۲)                   قرآن مجید،سورہ بنا آیت17

(۲۳)                    قرآن مجید سورہ لقمان:10

(۲۴)                    ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ،مضمون ’’تدبر فی القرآن‘‘مجلہ نذر ضیاء الہدیٰص165مجلس رفقائے قدیم حلقہ طلبہ اسلامی بہار

(۲۵)                    ایضاً

(۲۶)                     مجلہ’’ نذرضیاء الہدیٰ  ص 122مضمون ’’شاہ علیم الدین بلخی ؒ،ندوی ص122مجلس رفقائے قدیم حلقہ طلبہ اسلامی بہار

(۲۷)                   قرآن مجید سورۃ  الطارق۔آیت ۷

(۲۸)                    ڈاکٹر سید ضیا الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ، تفسیر سورہ الطارق ص 174

(۲۹)                      ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ ،تفہیم الہدیٰ،تفسیرسورہ ہمزۃ ولمزۃ  ص: 319(۳۰)ڈاکٹر سید ضیاء الہدیٰ، تفہیم الہدیٰ، تفسیر سورہ نصر:ص 365

 

مئی 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau