ملت کا تعلیمی ایجنڈا

چوتھی قسط

سید تنویر احمد

 ملی وسائل کا استعمال

 یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلم ملت اپنے وسائل کا ایک مخصوص حصہ تعلیم پر صرف کرتی ہے۔ تاہم اس میں مزید اضافے، نظم و ضبط اور سلیقہ مندی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ مسلمانوں میں عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ دینی تعلیم کو فروغ دینے کی راہ میں خرچ کرنا عظیم کار ثواب ہے جب کہ عصری تعلیم پر خرچ ہونے والے مال پر بہت کم اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس تصور کے پس پشت کئی عوامل ہیں جن کو سمجھنا اور عوام و خواص میں اس تصور کو راسخ کرنا ضروری ہے کہ تعلیم دینی ہو یا دنیوی، اس پر وسائل کا صرف کرنا ایک صالح عمل ہے اور ہر صالح عمل اللہ کو راضی کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ علمائے کرام بھی موجودہ حالات کی نزاکت اور زمانے کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے عصری تعلیمی اداروں اور عصری علوم حاصل کرنے والے طلبہ کی مالی اعانت کے کارِ ثواب ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ لہٰذا ملت کے وسائل کو ملی تعلیمی ترقی کے لیے بہتر طور پر استعمال میں لانے کے لیے مندرجہ ذیل پروگراموں کو رو بہ عمل لایا جاسکتا ہے۔

 الحمدللہ ملک بھر میں مدارس کا سلسلہ قائم ہے۔ ان میں چھوٹے، متوسط اور بڑے ہر طرح کے مدارس شامل ہیں۔ان مدارس پر کچھ اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی ذمے داری یہ ہے کہ جن مدارس کے پاس بڑی زمینیں اور وافر عمارتیں موجود ہیں، انھیں چاہیے کہ ان زمینوں اور عمارتوں کے ایک حصے میں عصری تعلیم کے لیے اسکول قائم کریں۔ عصری تعلیمی درسگاہوں کے قیام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مدارس کو بند کردیا جائے اور نہ ہی اس کا یہ مفہوم ہے کہ عصری علوم کی جو تعلیم گاہیں ان مدارس میں قائم کی جائیں گی، ان میں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہو۔ بلکہ جو عصری تعلیمی درسگاہیں مدارس کے احاطے میں قائم ہوں گی، ان میں دینی تعلیم کا انتظام زیادہ بہتر طریقے پر کیا جاسکے گا۔ اس کی اہمیت و ضرورت کو اب دینی مدارس کے ذمہ داران بھی محسوس کرنے لگے ہیں۔ چناں چہ گذشتہ دنوں راقم یو پی کے ایک معروف مدرسے میں قیام پذیر تھا۔ وہاں ایک اور مدرسے کے کچھ ذمہ داران مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ وہ اپنے مدرسے کے احاطے میں اسکول قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ وہ اپنے مدرسے کے طلبہ کے لیے عصری علوم کا بندوبست کریں۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ مدارس کی انتظامیہ اور ذمہ داران میں عصری علوم میں دل چسپی کا محرک کیاہے اور یہ تبدیلی کیسے آئی؟ انھوں نے کہا کہ سوچ میں اس تبدیلی کے پیچھے متعدد اسباب ہیں۔ان میں ایک سبب ہے سرکاری پالیسیوں کا دباؤ اور دوسری وجہ ہے مخیر حضرات کی خواہش۔ مدارس کو چندہ دینے والوں کی اکثریت اب یہ چاہتی ہے کہ مدارس میں عصری تعلیم کا بھی بندوبست ہو۔ اس رجحان کے پیچھے یہ حقیقت کار فرما ہے کہ ملک کے بعض مدارس میں اب اسلامی علوم کے ساتھ عصری علوم کی تعلیم کے کام یاب تجربات ہورہے ہیں۔

 ملت کی جانب سے چلائے جارہے عصری علوم کے اسکولوں میں تعلیمی اوقات کے بعد دینی تعلیم کے جز وقتی مکاتب قائم کیے جائیں۔ تاکہ ان میں وہ مسلم طلبہ دینی تعلیم حاصل کرسکیں جو ان اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ ان طلبہ کی دینی تعلیم کا انتظام بھی وہیں ہونا چاہیے، جو دیگر سرکاری اسکولوں اور غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور دینی تعلیم کے مواقع سے محروم ہیں۔

 ہم نے گذشتہ مضمون میں اس تجویز کو بھی پیش کیا تھا کہ اوقاف اور درگاہوں کی خالی اراضی پر تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آئے۔ یہ نہ صرف ان اراضی کا بہترین استعمال ہوگا بلکہ درگاہوں کے روحانی فیوض و برکات کے ساتھ ساتھ ان کی املاک سے مسلم ملت کی تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل کا راستہ بھی کھلے گا۔

 مساجد کا استعمال بھی تعلیمی فروغ کے لیے بہت ہی کارگر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ مسجد سے تعلیمی تحریک شروع کی جائے اور اس کے لیے مسجد کو مرکز بنا کر تعلیمی سروے کا اہتمام کیا جائے۔ اس سلسلے میں مسجد ون ( Masjid one) جو مساجد کو مراکز بنانے کے منصوبے پر کام کرنے والی ایک تنظیم ہے، اس نے ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔ چند برس پہلے بنگلور کے ‘ملت ایجوکیشن ٹرسٹ’ نے شہر بنگلور کی مساجد کو مراکز تصور کرکے ایک مربوط سروے کا اہتمام کیا تھا۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے۔ اس طرح کے سروے میں مساجد کے متعلقین، انتظامیہ اور نمازیوں کی شرکت سے ایک اچھا خاصا سروے کرکے اہم ترین ڈیٹا جمع کیا جاسکتا ہے اور اس ڈیٹا کو تعلیم کے فروغ اور طلبہ کی اعانت کے طور پر استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

 مساجد کے احاطے کو نماز کے علاوہ دیگر تدریسی سرگرمیوں اور علمی پروگراموں کے لیے استعمال کیاجانا چاہیے۔ آج کل چاہے شہر بڑے ہوں یا چھوٹے، گھروں کے دائرے سمٹتے جارہے ہیں اور پڑھنے لکھنے کا ماحول ختم ہورہا ہے جس کی وجہ سے طلبہ کو گھروں میں پڑھنے کا ماحول نہیں ملتا۔کبھی افراد خانہ کی باہمی گفتگو کا شور تو کبھی والدین کے درمیان کشیدہ رشتوں کے سبب بات چیت میں تلخیوں کا زہر گھر کے ماحول کو مکدر بنادیتا ہے جو بچوں کے ذہن و فکر پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ ان اثرات سے بچوں کو دور رکھنے کے لیے مساجد کے ذمہ داران کوشش کریں اور مساجد کی خالی جگہیں بالخصوص جامع مسجد کی وہ جگہیں جہاں صرف جمعہ کے دن ہی نماز ادا ہوتی ہے، باقی پورے ہفتے وہاں کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی، ان جگہوں کو تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں تو یہ اس جگہ کا بہت مفید استعمال ہوگا۔ تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں محلے کے تعلیم یافتہ نوجوان بھی اپنی بڑی حصہ داری کرسکتے ہیں۔وہ کسی متعین وقت میں مثلاً عصر تا عشاء مساجد میں طلبہ کے مختلف شبہات ( doubts) کی وضاحت کرنے کا سیشن چلائیں یا پھر کوچنگ سینٹر کا بھی اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ کچھ مساجد میں تعلیم کو منقطع کرنے والے طلبہ (Drop out ) کو دوبارہ تعلیم سے جوڑنے کا کام یاب تجربہ ہوا ہے۔ مساجد کی سطح پر مساجد کے انتظامات کے علاوہ ایک تعلیم کا فنڈ ہونا چاہیے۔ اس فنڈ سے مستحق طلبہ کی تعلیمی امداد کی اسکیم چلائی جاسکتی ہے۔

 ملت کی جانب سے چلائے جانے والے اسکولوں اور کالجوں کی عمارتوں اور کیمپس کو بھی تعلیم کے فروغ کے عظیم مقصد کے حصول کے لیے استعمال کیاجانا چاہیے۔کئی تعلیمی اداروں کی عمارتیں تدریسی اوقات کے بعد خالی رہتی ہیں۔ یہاں پر بھی طلبہ کے لیے ذاتی مطالعہ (self-study) کا انتظام کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ وہاں کوچنگ سینٹر بھی چلائے جاسکتے ہیں۔کیمپس کو کھیل کود اور ثقافتی پروگراموں کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر ہم اپنے کیمپس میں کھیل کود، ورزش وغیرہ کے سینٹر قائم کرکے آس پاس کی بستی کے نوجوانوں کے لیے کھول دیتے ہیں تو آج کے نفرتی ماحول میں انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔

 موجودہ دور میں زکوة کے استعمال کے اجتماعی نظم پر زور دیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ادارے کام کررہے ہیں۔اب زکوة دینے والوں کی ایک بڑی تعداد کے ذہن میں اس تصور نے اپنی جگہ بنالی ہے کہ زکوة کی رقم عصری تعلیمی اداروں کو یا عصری تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو دی جاسکتی ہے۔ علما نے بھی اپنی یہ رائے پیش کردی ہے کہ عصری علوم کے اداروں کو بھی زکوة کی رقم دی جاسکتی ہے اور عصری علوم حاصل کرنے والے غریب طلبہ بھی اس رقم کے مستحق ہیں۔اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ملک میں چند مال دار ایسے بھی ہیں جو اپنی زکوة کی خطیر رقم میں سے ایک بڑا حصہ غریب طلبہ کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔اس سلسلے میں عوام میں مزید شعور کی بیداری لانے کی ضرورت ہے۔

 اس سلسلے میں زکوة سینٹر انڈیا کا بھرپور تعاون دیا جاناچاہیے۔ اس لیے کہ اس کے مقاصد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے مسلم طلبہ کی مدد بھی شامل ہے۔ زکوة سینٹر انڈیا کی مزید تفصیلات اس کی ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

 کوچنگ سینٹر

 اب تقریبا تمام معیاری کورسوں، سینٹرل یونیورسٹیوں اور انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل امپورٹینس میں داخلے مسابقتی امتحانات کے ذریعے ہورہے ہیں۔ ان مسابقتی امتحانات کی کوچنگ اکثر بڑے شہروں ہی میں دستیاب ہے جس کی فیس عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہے۔ اس لیے ملت کو چاہیے کہ ملک کے چار پانچ اہم شہروں میں کوچنگ سینٹروں کا انتظام کرے۔ ویسے کوچنگ سینٹر اب بڑی سرمایہ کاری چاہتا ہے، اسے چلانے کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ ملت کے بعض تعلیمی ادارے ایسے کوچنگ سینٹر چلارہے ہیں۔ تاہم ملی رفاہی اداروں کے ذریعے یہ کام بڑے پیمانے پر ہونا چاہیے۔ اگر کوچنگ سینٹر قائم کرنا مشکل ہے تو کم سے کم بڑے شہروں میں غریب بچوں کے قیام و طعام کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم میں یکسو ہوکر لگ سکیں اور کسی اچھے انسٹی ٹیوٹ میں ان کے داخلے کی راہ ہم وار ہو۔ جہاں تک ضروری ہو اس انسٹی ٹیوٹ کی فیس بھی ملی ادارے ادا کریں۔ مثلاً راجستھان کے شہر کوٹہ میں کوچنگ سینٹروں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ ملک بھر سے وہاں طلبہ آتے ہیں۔کوچنگ سینٹروں میں اچھے اور باصلاحیت اساتذہ ہوتے ہیں۔اب تو مسلم لڑکیاں بھی کوٹہ کا رخ کررہی ہیں۔ ایسے مقام پر طلبہ کو سہولتیں فراہم کرنے والے ایک مرکز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملت’آئی اے ایس’ کوچنگ سینٹر پر اچھی خاصی رقم خرچ کررہی ہے۔ اسی طرح اب دوسرے مسابقتی امتحانات کے لیے بھی کچھ نظم ہونا چاہیے۔

 امسال (2023) زکوة سینٹر فاؤنڈیشن، لکھنؤ نے غریب طلبہ کے لیے نیٹ اور جے ای ای کوچنگ کا آغاز کیا ہے۔ یہ فاؤنڈیشن ملک کے معروف کوچنگ انسٹی ٹیوٹ gravity کے تعاون سے کررہا ہے۔اس میں غریب طلبہ کو 90 فیصد تک اسکالرشپ دی جائے گی۔اس طرح کے سینٹر دیگر بڑے شہروں میں قائم کیے جاسکتے ہیں۔

 کوچنگ سینٹروں کے علاوہ حضانت کے مراکز (incubation centers) کا قیام بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ان سینٹروں میں طلبہ کو جماعت نہم سے مسابقتی امتحانات کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سینٹر آف لائن اور آن لائن دونوں انداز میں چلائے جاسکتے ہیں۔

 حکومت کی پالیسیاں اور منصوبہ جات

 اکثر ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کا انتظام و انصرام حکومت سنبھالتی ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں سرکاری اسکولوں کے ساتھ پرائیویٹ اسکولوں کا بھی جال پھیلا ہوا ہے۔ حکومت رفتہ رفتہ تعلیمی اداروں کے قیام سے اپنے آپ کو دور کررہی ہے۔ اب حکومت کا کام محض تعلیمی پالیسی وضع کرنا اور تعلیم کے لیے چند اسکیموں کو متعارف کرانا رہ گیا ہے۔ جب کہ یہ دونوں ہی کسی بھی ملک کے باشندگان کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ دراصل ملک کا تعلیمی نظام ملک کے مستقبل کا اور وہاں کے عوام کے مستقبل کاضامن ہوتا ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی ہمارے ملک میں وقفے وقفے سے تعلیمی پالیسیاں وضع ہوتی رہی ہیں۔ پالیسیوں کے علاوہ تعلیم کا تذکرہ دستور ہند میں بھی موجود ہے۔ بالخصوص ملک میں آباد اقلیتوں کے تعلق سے۔ آرٹیکل 29 اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انھیں چلانے کی اجازت دیتا ہے۔

 ادھر چند برسوں سے مذکورہ آرٹیکل کی دفعہ 29 بتدریج اپنی اسپرٹ اور مقصدیت کو کھوتی جارہی ہے۔ اس آرٹیکل کی کئی وضاحتیں اور تشریحات سامنے آرہی ہیں۔ بعض حلقوں کی طرف سے اس آرٹیکل کو بدلنے کی بھی بات ہورہی ہے۔ اب ایک جانب یہ آرٹیکل ہے تو دوسری جانب حکومت کی پالیسیاں، جو اقلیتوں کے تعلیمی اداروں میں مداخلت کے لیے راستے ڈھونڈ رہی ہیں۔ ایسی صورت میں مسلم ملت کو چاہیے کہ وہ سمجھ داری اور مستعدی کے ساتھ حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے اور مرکزی و ریاستی حکومتوں سے ایسی اسکیموں کو جاری کرانے کا منصوبہ بنائے جو اقلیتوں کی تعلیمی صورت حال کو بہتر بنانے میں معاون و مددگار ہوں اورجن کے ذریعہ اقلیتوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کا تحفظ ہوسکے۔ یہ کام انفرادی سطح پر نہیں کیاجاسکتا، اس کے لیے ملت میں ایک تھنک ٹینک اور مضبوط ادارے کی ضرورت ہے جس سے ریسرچ اسکالر اور ماہرین تعلیم منسلک ہوں اور وہ وقتاً فوقتاً حکومت کی پالیسیوں پر نظررکھتے ہوئے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں۔

 پالیسی ہی کا ایک اہم حصہ نصاب اور نصابی کتابوں کی تیاری ہے۔ قومی سطح پر یہ کام قومی ادارہ این سی ای آر ٹی ( National Council of Educational Research and Training)کرتا ہے جب کہ ریاستوں کی سطح پر یہ کام ایس سی ای آر ٹی (State Council of Educational Research and Training) کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ مرکز کی سطح پر’ این سی ای آرٹی’ کی کتابوں میں جو مواد شامل کیے جارہے ہیں ان پر نظر رکھیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کتابوں میں ملک میں آباد تمام ثقافتوں کی نمائندگی ہورہی ہے یا نہیں۔ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ تعلیم کے میدان میں آزادی کے بعد ایک طویل عرصے تک بائیں بازو کے افراد غالب رہے اور اب دائیں بازو کے ماہرین تعلیم اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ دائیں بازو کے ماہرین، تعلیم کو سیکولر اور غیر دینی بنانے میں مصروف رہے تو اب دائیں بازو کے عناصر تعلیم کا بھگوا کرن کررہے ہیں۔ تعلیم کا بھگوا کرن کرنے کے سبب جو نتیجہ سماج میں نکلے گا وہ انتہائی خوف ناک ہوسکتا ہے۔ ملک کو منوسمرتی کے اصولوں پر چلانے کا عزم لیے ہوئے یہ نظریہ سماج میں طبقاتی کشمکش کو جنم دے سکتا ہے۔ ہندو مذہب کی تعلیم پر ہمیں اعتراض نہیں ہے۔تاہم محض سناتن دھرم ہی کو بھارت کا کلچر قرار دینا ملک کے تکثیری سماج کے ساتھ زیادتی اور ایک غیر دستوری عمل ہے۔ بھارت ( انڈیا )کا قیام 1947 میں ہوا۔ اب ملک کو دستور کے مطابق چلنا چاہیے نہ کہ کسی مخصوص گروہ کی قدیم روایات کے مطابق۔ لیکن موجودہ تعلیمی پالیسی اور نصابی کتب کی تدوین کرنے والے زعفرانی ذہنیت کے حامل ماہرین تعلیم ایسی ریشہ دوانیاں کررہے ہیں جس کے نتیجے میں مسلم تاریخ کے حقائق کو پیش نہیں کیا جارہا ہے یا پھر ان حقائق کو مسخ کرکے بتایا جارہاہے۔ ملک کی تاریخ میں مسلم ادوار کے بیش بہا کارناموں کو چھپایا جارہا ہے اور ایسی باتوں کو نصاب میں داخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن کے سبب مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان خلیج بڑھے اور ہم آہنگی کے بجائے نفرتوں کو بڑھاوا ملے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں کہا جاتا ہے کہ تعلیمی پالیسی تمام طبقات کی شمولیت اور سماجی انصاف کی بنیادوں پر تدوین کی گئی ہے لیکن پالیسی اور جاری شدہ پروگراموں میں تضاد و تفاوت واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ایسی صورت میں تعلیم کے میدان میں علمی اور سیاسی دونوں محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ محض تعلیمی اداروں کے قیام اور اسکالر شپ کی تقسیم کے ذریعے ہم اس ملک میں ملت کے تعلیمی مسائل کو حل نہیں کرسکتے۔ حکومت کی پالیسیوں پر نظر رکھنا اور ان میں ضروری تبدیلی کے لیے جمہوری انداز میں ہر ممکن کوشش کرنا اور رائے عامہ کو ہم وار کرنا بے حد ضروری ہے۔ حکومت کی تعلیمی پالیسی اور اقلیتوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مستقل ادارے کی ضرورت ہے جس کا تذکرہ ہم نے اوپر کیا ہے۔ ویسے یہ کام کسی حد تک ’ہولسٹک ایجوکیشن بورڈ’، نئی دہلی انجام دے رہا ہے۔

 بڑی اسکالرشپ کی ضرورت

 ملت کی ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے طلبہ سماجی علوم میں مہارت حاصل کریں اور ملک کی پالیسی وضع کرنے میں اپنی خدمات پیش کریں۔ مگر موجودہ وقت میں بعض سماجی علوم کو حاصل کرنا اتنا مہنگا ہوچکا ہے کہ اگر کوئی معمولی آمدنی والے گھر کا طالب علم بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے یہ محض ایک خواب ہوتا ہے جس کے پورا ہونے کی کوئی شکل نظر نہیں آتی ہے۔اس لیے مسلم ملت کو چاہیے کہ وہ قومی سطح پر ایک ایسا اسکالر شپ فنڈ قائم کرے جس سے بڑی رقومات کی فراہمی تعلیمی قرض کے طور پر کی جاسکے۔ ایسے قرض کو حاصل کرنے والے طلبہ پرلازم ہوگا کہ وہ اس قرض کی رقم کو تعلیم کی تکمیل اور روزگار کے حصول کے بعد ادا کردیں۔ جہاں یہ پروگرام زیادہ مشکل نہیں ہے، وہیں ایک بڑا خدشہ اس پروگرام کو مستقل چلانے کا ہے۔ اس لیے کہ ہمارے ملک میں ملت کے بعض اداروں کی جانب سے جاری کی گئی تعلیمی قرض کی اسکیموں کا انجام اچھا نہیں رہا۔کیوں کہ قرض کی ادائیگی کا فیصد ہمارے سماج میں افسوسناک حد تک بہت کم ہے۔ تعلیمی قرض کو حاصل کرنے والے بیشتر طلبہ اسے اعانت یا اسکالر شپ سمجھتے ہیں اور انھیں احساس نہیں ہوتا کہ اگر وہ قرض کو لوٹائیں گے تو اس سے دوسرے مستحق طلبہ کو فائدہ پہنچایا جاسکے گا۔

 دیکھا جائے تو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنا مہنگا نہیں ہے، اس کے برعکس اندرون ملک ہونے والے مختلف مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کوچنگ مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ لہٰذا ایسے اسکالرشپ فنڈ کو ہر بڑے شہر میں قائم کیا جانا چاہیے۔

 گریجویشن کی سیٹوں کا پول

 ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ ان اداروں میں کالج اور یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں جہاں پروفیشنل اور غیر پروفیشنل گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کورسوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی سطح پر پروفیشنل اور غیر پروفیشنل گریجویشن کورسوں اور پوسٹ گریجویشن کورسوں کی سیٹوں کا ایک پول (Pool) قائم کیا جائے۔ یعنی جن اداروں میں یہ کورس پڑھائے جارہے ہیں،ان کی انتظامیہ سے گفتگو کرکے یہ طے کیا جائے کہ وہ ذہین لیکن مالی اعتبار سے کم زور طلبہ کے لیے صرف فیس کی بنیاد پر کتنی سیٹیں مختص کرسکتے ہیں۔ اپنی وسعت کے مطابق وہ جتنی بھی سیٹیں مختص کرنے کے لیے تیار ہوں، انھیں پول میں شامل کرلیا جائے۔ فرض کریں کہ ملک بھر میں مسلم انتظامیہ کے تحت پچاس نرسنگ کالج چلائے جارہے ہیں جن میں بی ایس سی نرسنگ کورس شامل ہے۔ ان میں سے ہر ادارہ اگر ایک سیٹ اس پول کے لیے وقف کرتا ہے تو پول کے پاس پچاس نشستیں دستیاب ہوں گی۔ ان پچاس نشستوں کو وہ پول پچاس غریب و نادار طلبہ کو سونپ سکتا ہے۔ یہ سیٹیں صرف فیس کی بنیاد پر حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جن طلبہ کو یہ سیٹیں دی جائیں گی، اگر وہ فیس ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں تو ان کی فیس’نیشنل اسکالر شپ اسکیم’ جس کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے، سے ادا کی جائے۔ اس پول کے ذریعے بی ایس سی نرسنگ ہی نہیں بلکہ کئی پروفیشنل کورسوں میں طلبہ کے داخلے ممکن ہیں۔ غیر پروفیشنل کورسوں میں بھی اس اسکیم کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ یہ اسکیم گیارہویں اور بارہویں کلاس کے لیے بھی کی جاسکتی ہے۔ اس لیے کہ یوپی، بہار اور شمال مشرقی ریاستوں میں مسلم طلبہ کے لیے گیارہویں اور بارہویں کلاس میں معیاری تعلیم کا میسر آنا بڑا مسئلہ ہے۔ اس پورے سسٹم کو ٹکنالوجی کے ذریعے کارگر بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ممکن ہوسکے تو مسلم طلبہ کے لیے نیٹ (NEET) کے انداز میں اس نظام کو چلایاجائے۔ اس طرح کے نظام سے نہ صرف طلبہ کی مدد ہوگی بلکہ بعض تعلیمی اداروں کی بھی مدد ہوسکتی ہے۔

 تعلیمی اداروں کا وفاق

 ملک بھر میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اس میں عصری علوم کے اسکولوں سے لے کر یونیورسٹیاں تک شامل ہیں اور کثیر تعداد میں مدارس بھی۔ ان دونوں اقسام کے اداروں کا ایک وفاق یا تنظیم کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں کئی کام منصوبہ بند کوشش سے انجام پاتے ہیں۔ موجودہ جمہوری نظام میں جو بھارت میں رائج ہے، بالخصوص فرد یا گروہ کے حقوق کو طشتری میں سجا کر پیش نہیں کیا جاتا بلکہ منظم اجتماعی کوششوں سے یہ کام انجام پاتے اور حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ An organsie minority is majority in Democracy ایک منظم اقلیتی گروہ کسی بھی جمہوری ملک میں اکثریت کا وزن رکھتا ہے۔ آج ہم اپنے ملک میں ایسا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ جن کی آبادی محض تین فیصد کے آس پاس ہے، وہ منظم ہوکر آج ملک کے سیاہ و سپید کے مالک بنے ہوئے ہیں۔جب کہ مسلمانوں کی آبادی ان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے، انھیں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے مگر باہمی انتشار و افتراق اور اجتماعیت کے فقدان نے ان کی اہمیت کو خفیف اور دبدبے کو بے اثر کردیا ہے۔

 اقلیتی تعلیمی اداروں کے سامنے آج کئی چیلنج اور خدشات ہیں۔ اندیشہ ہے کہ مستقبل میں ان چیلنجوں کی کیفیات و کمیات میں مزید شدت آسکتی ہے۔ آج جن چیلنجوں کا اقلیتی ادارے مقابلہ کررہے ہیں، ان میں آرٹیکل 29 کی تشریح کے علاوہ اقلیتی اداروں کو آر ٹی ای( Right to education) کے دائرے میں شامل کرنا، اقلیتی اداروں کو دی جانے والی امداد و مراعات میں تخفیف کیا جانا، اقلیتی اداروں کے کردار کو متاثر کرنا اور ان اداروں میں بے جا مداخلت کرنا شامل ہیں۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ تین سطحوں پر کیا جاسکتا ہے۔ اول سیاسی، دوم عدالتی، سوم عوامی تحریک۔ ان تینوں ذرائع کو استعمال کرنے کے لیے اداروں کو ایک مضبوط اجتماعیت کی ضرورت ہے۔

 اقلیتی اداروں کے چند اور بھی مسائل ہیں۔مثلاً :

 شعبہ تعلیم سے اداروں کی منظوری(Registration and reorganization)

 اقلیتی اداروں کے لیے اقلیتی کردار کا حاصل کرنا بھی آج ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اقلیتی کردار کے بغیر حکومت کی متعدد اسکیموں سے ان اداروں کو مستفید ہونے کا موقع نہیں مل پاتا۔ اسی طرح اگر کسی ادارے کو اقلیتی کردار حاصل نہیں ہے تو اس ادارے کو’ آرٹی ای’ قانون کے تحت لایا جاتا ہے۔

 انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے اداروں کو12A اور AGT سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے مسائل۔

 اقلیتی اداروں کے اکاؤنٹ کی آڈٹ اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے اس کی تصدیق۔ یہ اور اس طرح کے متعدد چھوٹے مسائل ان اداروں کو پیش آتے رہتے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت کی اسکیموں کو حاصل کرنا اور اقلیتوں کے تعلیمی اداروں سے متعلق حکومت کی پالیسیوں اور اسکیموں پر اثر انداز ہونا بھی اہم کام ہیں۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے حکومت کی طرف سے مالی امداد کی جو اسکیمیں بنائی جاتی ہیں، ان کے حصول میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی شکایات درج کی جاتی رہی ہیں۔ان تمام کا مقابلہ ایک مضبوط اجتماعیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہ اجتماعیت جہاں اداروں کے چھوٹے بڑے مسائل حل کرسکتی ہے، وہیں ریاستی سطح پر اس اجتماعیت کی شاخیں، چارٹرڈ اکاؤٹنٹ، بہترین وکیل اور تعلیمی میدان کے ماہرین کا تقرر کرسکتی ہیں، تمام ممبر ادارے جن کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سے چھوٹے اداروں کو ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جوخطیر رقومات ادا کرنی پڑتی ہیں، ان میں کمی آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادارے آپس میں مختلف انداز سے تعاون کی راہیں تلاش کرسکتے ہیں۔ لہٰذا قومی سطح پر ایک فیڈریشن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اس ضرورت کو فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹس آف انڈیا  (FMEII) پورا کرسکتی ہے۔ فیمی تعلیمی اداروں کا ایک وفاق ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے کام کررہا ہے۔ اس کا صدر دفتر دہلی میں ہے۔اس کو مزید کارگر بناتے ہوئے اس کے تعارف کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ فیمی کی مزید تفصیلات اس کی ویب سائٹ https://fmeii.org سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔(جاری)n

جولائی 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau