تعلیمی ادارے

(اساسی تصورات)

فلاحی اداروں کے مطلوبہ کردار موضوع پر مباحث کے اس سلسلے میں آج ہمارا موضوع تعلیمی اداروں سے متعلق ہے۔ تعلیمی ادارے اسلامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ خصوصی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں نے اول روز سے ان پر توجہ دی ہے۔ ہندوستان کی اسلامی تحریک بھی شروع سے اس محاذ پر سرگرم رہی ہے۔ تعلیم کی اسلام کاری (islamization of education) اب ساری دنیا میں ایک تحریک بن چکی ہیں۔ تحریک اسلامی، اس کے ہم خیال اداروں اور اس کے وابستگان کے زیر انتظام ہزاروں ادارے چل رہے ہیں۔ عام مسلمانوں میں بھی اب یہ رجحان خاصا عام ہوچکا ہے اور ہر شہر اور مسلمانوں کی ہر بستی میں اب ایسے ادارے موجود ہیں جو اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم و تدریس کے علم بردار اور دعوے دار ہیں۔ یہ ادارے تحریکوں کے لیے ایک عظیم اثاثہ ہیں اور اگر وہ کام یابی سے چلائے جائیں تو متعدد مثبت مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

اس وقت ان اداروں کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اباحیت پسند اور مادہ پرست تہذیب کے عفریت کو اب ٹکنالوجی کے طاقتور بازو حاصل ہوچکے ہیں اور وہ اپنی ہمہ گیر قوت و اثر پذیری کے ساتھ نئی نسلوں کے افکار و خیالات، رویوں اور رجحانات پر حملہ آور ہے۔ ہمارے ملک میں ایک اضافی چیلنج مشرکانہ تہذیب اور اس کی قدروں کا ہے جن کو نظام تعلیم میں گہرائی سے سرایت کرادینے اور بزور مسلط کرنے کی استبدادی کوششیں پوری ڈھٹائی سے جاری ہیں[1]۔ ان حالات میں اسلامی تعلیمی اداروں کی ضرورت اور ان پر عائد ذمے داریاں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔

اس ضرورت و اہمیت کو سامنے رکھ کر جب تعلیمی اداروں کی عملی کارکردگی پر نظر ڈالی جاتی ہے تو صورت حال کے بعض پہلو اطمینان بخش نہیں محسوس ہوتے۔ اداروں کی تعداد روز افزوں اور ان کی گراں قدر خدمات اور ان کے فیوض واثرات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال کو بہتر بنانے میں ان اداروں کا اہم کردار ہے۔ مسلمان بچوں کو پاکیزہ اسلامی ماحول فراہم کرنا اور انھیں بنیادی دینی تعلیم فراہم کرنا بھی ان کی بڑی خدمت ہے۔ لیکن نظام تعلیم، نصاب تعلیم، اور طریقہ تعلیم کی سطح پر، ان کی انفرادیت اور ان کا اسلامی امتیاز ابھی بھی نمایاں نہیں ہوسکا ہے۔ اسلام کی عملی شہادت، اسلام کے رخ پر رجحان سازی اور اسلامی اساس پر نسل سازی کا جو کام ان کے ذمے تھا، اس کی کارکردگی شاید ابھی بھی بہت زیادہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ کم زوریاں صرف عمل اور نفاذ کی سطح کی نہیں ہیں، وژن اور نظریے کی سطح پر بھی بہت زیادہ وضوح (clarity)نہیں ہے۔ اچھے مقاصد، اچھی نیتوں اور مخلصانہ جدوجہد کے باوجود جب تک اسلامی اساس پر تعلیم، طریقہ تدریس (pedagogy)اور کردار سازی کے ٹھوس اور سائنٹفک طریقے سامنے نہیں آتے، اسلامی تعلیم کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ ذیل میں ہم پہلے آئیڈیل یا مطلوب کیفیات سے متعلق اپنے خیالات پیش کریں گے اور پھر عملی صورت حال کو بھی زیر بحث لانے کی کوشش کریں گے۔

تعلیم اور نظام تعلیم: بنیادی اسلامی تصورات

تعلیم اور نظام تعلیم سے متعلق اسلام کے بنیادی تصورات کی بحث اس مضمون کے قارئین کے لیے کوئی نئی بحث نہیں ہے۔ لیکن چوں کہ ان بنیادی تصورات کی حیثیت اس مضمون کی بحث کےاصل مقدمے کی ہے، اس لیے ان کا سرسری تذکرہ ضروری ہے۔

تعلیم سے متعلق اسلام کے تصورات کی بحث اسلامی فکر کا ہمیشہ اہم جزو رہی ہے۔ تعلیم کتاب و حکمت کو اللہ تعالیٰ نے انبیا کی بعثت کا مقصد اور ان کا اہم مشن[2]قرار دیا ہے۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابوداود وغیرہ حدیث کی کتابوں میں علم و تعلیم پر مستقل ابواب (کتاب العلم ) موجود ہیں[3]۔ امام غزالیؒ،[4] امام ابن خلدون ؒ [5]، امام ابن تیمیہؒ[6]،  امام ماوردیؒ[7] اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ[8]  وغیرہم کے افکار تعلیمی فلسفوں کی بحث میں اساسی اہمیت رکھتے ہیں۔ دور جدید میں جب جدید مغربی نظریات اور مغربی نظام تعلیم ایک چیلنج کے طور پر سامنے آیا تو مسلمان اہل علم و دانش کے درمیان نظام تعلیم بڑے پیمانے پر بحث کا موضوع بنا۔ ہندوستان میں، انھی مباحث نے پہلے تحریک علی گڑھ[9] اور تحریک دیوبند کو جنم دیا اور پھر علامہ شبلی نعمانیؒ کے تعلیمی تصورات اور تحریک ندوہ[10] کے ظہور کا سبب بنے۔ علامہ اقبالؒ کے افکار نے بھی کافی اثرات مرتب کیے[11]۔ اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے مولانا مودودی ؒ نے اپنے بعض عہد ساز خطبات اور مضامین کے ذریعے دور حاضر میں تعلیم کے مطلوب نظام کی اساسیات بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کیں[12]۔ گذشتہ صدی کے اواخر میں اسماعیل راجی الفاروقیؒ کے تصور علم[13] اور پھر ملیشیائی مفکر و دانش ور سید محمد نقیب العطاس (پیدائش 1931)کےقیمتی مباحث[14]نے اسلامی تصور تعلیم کو ایک منظم شکل فراہم کی۔ نقیب العطاس ہی کی رہ نمائی میں مکہ مکرمہ میں منعقد پہلی انٹرنیشنل کانفرنس آن مسلم ایجوکیشن[15] اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ منعقد ہونے والی متعدد کانفرنسوں نے اس تصور تعلیم پر وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے اور اس پر عملی اقدامات کی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا[16]۔چناں چہ دنیا بھر میں اس تصور کے مطابق یونیورسٹیاں اور اسکول قائم ہونے شروع ہوگئے۔ ان سب مباحث اور اقدامات کے تفصیلی تجزیے کا یہ مضمون متحمل نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں اس ساری بحث میں اسلامی تصور تعلیم سے متعلق، درج ذیل نکات خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔

۱۔ ہر شعبہ حیات کی طرح تعلیم سے متعلق اسلامی تصور کی اساس بھی عقیدہ توحید ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ہی اصل حاکم و مالک ہے اسی طرح وہی حقیقی عالِم (علیم، خبیر، عالم، علام، ولا یحیطون بشیء من علمہ) ہے۔ علم کا حقیقی سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔ انسانوں کے لیے، باری تعالیٰ کے لامحدود علم سے ممکنہ استفادے کی پہلی اور مستند ترین شکل اس کی نازل کردہ وحی ہے اور دوسری شکل اس کے عطا کردہ حواس اور عقل کو استعمال کرکے غور و فکر اور تدبر ہے۔ یہ غور و فکر اور تدبر کلام الہی اور رسول خدا کی سنت میں بھی ہونا چاہیے (جس کا نتیجہ دینی امور میں اجتہاد ہے)، انفس و آفاق میں پھیلی ہوئی اللہ کی آیات میں بھی ہونا چاہیے۔ (جس کا نتیجہ سائنس و ٹکنالوجی کی دریافتوں و ایجادات کی صورت میں نکل سکتا ہے) اور اللہ کی سنت یعنی قوانین فطرت میں بھی ہونا چاہیے (اس کے نتیجے میں طبعی سائنس کی تحقیقات ممکن ہوتی ہیں اور سماجیاتی علوم میں بھی ترقیوں کے دروازے کھل سکتے ہیں) ان سب علمی کاوشوں کا مقصد اللہ کی عبادت، خلافت ارضی کے فریضے کی ادائیگی اور اللہ کے بندوں کی خدمت اور ان کی خیر خواہی ہونا چاہیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ علوم کی ترقی اس طرح ہو کہ ان کے ذریعے قرآنی اصولوں پر عمارة الارض یعنی ایک صالح تمدن کی تعمیر ہوسکے اورانسانی زندگی میں اس طرح آسانیاں پیدا ہوسکیں کہ دنیا و آخرت دونوں میں فوز وفلاح کی راہیں زیادہ سے زیادہ انسانوں کے لیے آسان ہوں۔ اس طرح توحید کا عقیدہ تعلیم و تعلم سمیت، تمام علمی کاوشوں کے لیے ایک پائیدار اساس، ایک واضح سمت اور ایک اعلیٰ و ارفع مقصد فراہم کرتا ہے[17]۔

۲۔ تصور توحید کی اساس پر جو تعلیم دی جاتی ہے، اس میں علوم دینی اور دنیوی خانوں میں منقسم نہیں رہتے بلکہ ہر نفع بخش علم (علم نافع) کو اللہ کی عطا سمجھا جاتا ہے، اس کا حصول ایک مقدس فریضہ اور اس کا مقصد عبادت وخلافت کے فریضے کی ادائیگی بن جاتا ہے۔ سائنس کی تعلیم کا مقصد اللہ کی آیات پر غور و تدبر ہوجاتا ہے۔ انسانی وسماجی علوم (humanities & social sciences)کا مقصد اللہ کی سنت کو معلوم کرنا ہوجاتا ہے۔ ٹکنالوجی تسخیر کائنات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ جیسے روایتی علوم اور سائنس، ریاضی، سماجیات، معاشیات وغیرہ جیسے ’عصری علوم‘ ایک دوسرے سے گہرائی کے ساتھ جڑ کر ایک ہوجاتے ہیں۔ ’دینی علوم‘ عصری علوم کی اساس کا کام کرتے ہیں اور عصری علوم دینی علوم کے لیے اُن عملی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں جو ان دینی علوم کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ نظام تعلیم اور اساتذہ کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ان ہی حیثیتوں میں ان مضامین کی تعلیم و تدریس کا انتظام کریں۔

۳۔ اسلامی تصور تعلیم میں جامع تعلیم (holistic education)کی بنیادی اہمیت ہے یعنی تعلیم کا عمل صرف معلومات کی منتقلی (knowledge transfer)کا عمل نہ رہے بلکہ طالب علم کی پوری شخصیت کی تعمیر اس کا مقصود ہو۔ عقل، فکر اور علم کے ساتھ ساتھ طالب علم کی روحانی، اخلاقی، جذباتی اور جسمانی نشوونما بھی ہو، اس کی صلاحیتیں پروان چڑھیں اور وہ ہر لحاظ سے ایک کام یاب شخصیت بن کر ابھرے۔ نقیب العطاس نے اسلامی تصور تعلیم کو تین معنی خیز خوب صورت اصطلاحات کے ذریعے واضح کیا ہے[18]۔

پہلی اصطلاح خود تعلیم ہے جس کا مطلب ان کے نزدیک علم کی منتقلی(transfer of knowledge)ہے۔ کتاب و سنت کا وہ علم بھی جو علم کی اصل اساس ہے اور انسانی تحقیق و جستجو سے حاصل ہونے والے وہ سائنسی و سماجی علوم بھی جنھیں ’عصری علوم‘ کہا جاتا ہے۔ تعلیم کی اہمیت کے باوجود نقیب العطاس کے تصور میں تعلیم یعنی علم کی منتقلی اسلامی نظام تعلیم و تربیت کا محض ایک جزو ہے۔

دوسری اصطلاح تربیت ہے۔ امام راغب اصفہانیؒ، امام بیضاویؒ وغیرہ نے تربیت کے جو معنی بیان کیے ہیں، (إنشاء الشیء حالاً فحالاً إلى حد التمام [19]کسی چیز کومرحلہ بہ مرحلہ تکمیل کے آخری مرحلے تک لے کر جانا۔ راغب الاصفہانی اور تبلیغ الشیء إلى كماله شیئاً فشیئاً [20]کسی چیز کو آہستہ آہستہ اس کے کمال تک پہنچانا۔ بیضاوی) ان سے معلوم ہوتا ہے کہ تربیت کا عمل اصلاً طالب علم کی ذات پرمرکوز ہوتا ہے۔ یہ باغبانی جیسا عمل ہے کہ جس طرح باغبان ایک درخت کے امکانات کو سامنے رکھ کر اُن امکانات کو کمال درجے میں حاصل کرنے کے لیے درخت کی نشوونما کرتا ہے اور اس درخت کی مخصوص ضرورتوں کو پیش نظر رکھ کر اس کی پرورش کا منصوبہ بناتا ہے، اسی طرح طالب علم کے مخصوص رجحانات اور اس کے مخصوص امکانات کو مدنظر رکھ کر اسے کمال تک پہنچانے کی طالب علم مرکوز کوشش کا نام تربیت ہے۔

تیسری اصطلاح تادیب ہے۔ جس کا مطلب ہر چیز کو اس کے درست مقام پر رکھنے کی اور ہر کام کو صحیح وقت پر صحیح طرح سے انجام دینے کی صلاحیت، ڈسپلن، متوازن رویہ اوراخلاق ہے۔ تادیب سے ایک فرد اس لائق ہوتا ہے کہ اپنے علم (تعلیم) اور صلاحیت و خوبیوں (تربیت) کو خدا، سماج اور ماحول کے تئیں اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے بخوبی استعمال کرسکے۔ تادیب کے لیے صرف ذہنی اور عقلی نشوونما کافی نہیں ہے، روحانی، اخلاقی اور جذباتی نشوونما بھی ضروری ہے۔ نقیب العطاس کے نزدیک اسلامی تعلیم کے لیے جامع ترین اصطلاح تادیب ہی ہے۔[21](نقیب العطاس کے تادیب ماڈل کی کم زوریوں کے بارے میں بھی ہماری کچھ آرا ہیں جنھیں پیش کرنے کا اس وقت موقع نہیں ہے)۔

یہ تصور اسلامی نظام تعلیم کو رائج نظام تعلیم سے کئی پہلوؤں سے ممیز کرتا ہے۔ رائج نظام تعلیم بازار کی ضرورت کے مطابق اجتماعی پیداوار (mass production)کے اصول پر کام کرتا ہے جب کہ اسلامی نظام تعلیم فرد کے امکانات (potentials)کو کمال تک پہنچانے اور اسے اپنی ہمہ جہت ذمے داریوں کی ادائیگی کے لائق بنانے کی خاطر تشکیل پاتا ہے۔ اسلامی نظام تعلیم زیادہ شخص رخی (individualized)اور طالب علم مرکوز(child centric) ہوتا ہے۔ زیادہ ہمہ گیر اور ہولسٹک ہوتا ہے اور اس میں تعلیم کے ساتھ تربیت و تادیب اور ذہنی نشوونما کے ساتھ اخلاقی، روحانی اور جذباتی نشوونما کے عناصر بھی یکساں اہمیت کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔

۴۔ اسلامی تصور تعلیم کی مذکورہ خصوصیات نظام تعلیم کو بہت بلند سطح پر لے کر جاتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں اکیسویں صدی کے تعلیمی نظام کا بڑا غلغلہ ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ نظام تعلیم کو آنے والے دور کے چیلنجوں کے لیے طلبہ کو تیار کرنا ہوگا۔ اس کے لیے طلبہ کے اندر اکیسویں صدی کی لیاقتوں (twenty first century skills)کا فروغ نظام تعلیم کا اصل ہدف ہونا چاہیے[22]۔ اسلامی نظام تعلیم کے تصورات اس مقصد کے اچھے پہلوؤں کو زیادہ کامل طریقے سے پورا کرتے ہیں۔

حکمت کا تصور اسلام کے بنیادی تصورات میں شامل ہے۔ علمائے اسلام کے بیان کردہ حکمت کے معنوں پر اس سلسلہ مضامین میں گفتگو ہوچکی ہے۔ مثلاً شاہ ولی اللہ ؒ حکمت کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں: ذکاوت جس سے دین و دنیا کی مصلحتوں کا فہم حاصل ہوتا ہے، وحی، عقل اور علوم کے ذریعے صحیح نتیجے اور فیصلے تک پہنچنے کی صلاحیت[23]۔ ان تعریفات سے حکمت کا جو مطلب نکلتا ہے اس کا تعلق عملی زندگی میں، وحی الہی کی روشنی میں، علوم کے ایسے نفع بخش استعمال سے ہے جن سے بالکل متوازن اور درست ترین فیصلے اور اقدامات ممکن ہو سکیں۔

حکمت کے اس تصور میں گہری آموزش[24](deep learning)کے معاصر تصور سے کہیں زیادہ گہرائی پائی جاتی ہے۔ اسلامی نظام تعلیم کا اصل مقصد حکمت کا فروغ ہی ہے۔ اوپر تعلیم، تربیت اور تدریس کے جو تین ابعاد زیر بحث لائے گئے ہیں، ہمارے خیال میں ان کا مجموعی نتیجہ حکمت کی صورت میں نکلتا ہے۔

حکمت=تعلیم+ تربیت+تادیب

اسی طرح آموزش کی معروف ‘بلوم درجہ بندی’ (Bloom‘s Taxonomy of Learning)میں تخلیقیت (creativity)کو اعلیٰ ترین درجہ قرار دیا گیا ہے[25] یعنی طالب علم کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو کہ وہ نئی چیزیں یا نئے آئیڈیا تخلیق کرسکے یا نئے سولوشن ڈھونڈ سکے۔ اسلام میں اجتہاد کا تصور بھی یہی ہے۔ اجتہاد کے لفظ ہی میں انتہا درجے کی کد و کاوش شامل ہے۔ گویا گہری آموزش (deep learning)اور اعلیٰ درجے کی تخلیقی صلاحیت (creative skills)کا فروغ اسلامی نظام تعلیم کا ایک اہم ہدف ہے۔

اسلامی نظام تعلیم کے تجربات اور عملی کم زوریاں

ان اعلیٰ اور واضح تصورات کی عمر نصف صدی سے ایک صدی کے درمیان ہونے لگی ہے لیکن اس کے باوجود خاص طور پر ہمارے ملک میں ان کے نفاذ کا ٹھوس عملی ماڈل ابھی خواب ہی ہے۔ بے شک اس میں بعض عملی دشواریاں بھی درپیش ہیں (جن کو ہم آئندہ زیر بحث لائیں گے) لیکن ہمارے ناقص خیال میں بڑا مسئلہ تعلیمی قیادت کا بھی ہے جس کی توجہ آج بھی اسلامی تصور تعلیم کے گہرے اور پیچیدہ مباحث پر بہت کم ہے اور صرف وقتی، سطحی اور عملی مسائل توجہات کا مرکز ہیں۔ ہمارے خیال میں، ہندوستانی مسلمانوں میں طرز تعلیم کے سلسلے میں درج ذیل بڑی کم زوریاں نظر آتی ہیں:

پہلی بڑی کم زوری علم کی ’دینی اور دنیوی‘ خانوں میں سخت گیر نوعیت کی تقسیم ہے۔ گذشتہ صدی میں متعدد مصلحین نے اس رجحان کے خلاف پرزور آواز بلند کی۔ ندوة العلماء کی تحریک کا ایک اہم ہدف اس تقسیم کو ختم کرنا اور ’قدیم صالح اور جدید نافع‘ کے امتزاج کو نظام تعلیم میں رائج کرنا تھا[26]۔ مولانا مودودیؒ[27] اور جماعت اسلامی نے اس تحریک کو نہ صرف تقویت فراہم کی بلکہ واضح سمت بھی فراہم کی اور اسے عوامی سطح پرمقبول بھی بنایا[28]۔

لیکن واقعہ یہ ہے کہ امتزاج کی یہ کوشش اتنے طویل عرصے کے بعد آج بھی بہت سطحی ہے۔ ابتدا میں صرف یہ ہوتا رہا کہ عصری مدارس میں مروج مغربی نصاب کے ساتھ ’دینیات‘ یا‘اسلامک اسٹڈیز‘ کے نام سے چند مضامین بڑھادیے گئے یا روایتی طرز تعلیم کے حامل دینی مدارس میں انگریزی یا سماجیات کے چند مضامین کا اضافہ کردیا گیا اور دو متضاد فکری سمتوں کے حامل مواد کو ایک ساتھ نصاب میں رکھ کر یہ سمجھا گیا کہ اس سے مطلوبہ امتزاج حاصل ہوجائے گا۔ کچھ لوگوں نے مزید اصلاح کی تو مروجہ نصاب کی تدریس کرتے ہوئے کچھ قرآنی آیات اور حدیثوں کی پیوند کاری کرلی۔ مولانامودودیؒ نے اس رجحان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا[29]۔ اسلامی ماہرتعلیم داود توحیدیؒ (Dawud Tauhidi, Michigan USA 1951-2010)نے اس رجحان کومنقسم امتزاج (Fragmented Integration)یا (Disciplinary Integration)کا نام دیا ہے[30]۔

کچھ لوگ اس سے تھوڑا بلند ہوئے تو اُس دوسری سطح پر پہنچے جسے داود توحیدی ؒنےسرایتی امتزاج (Embedded Integration)یا (Interdisciplinary Integration)کا نام دیا ہے[31]۔ یعنی جدید علوم پراسلامی نقطہ نظر سے تنقیدی نگاہ ڈالی جاتی ہے اور جہاں صریح تضاد محسوس ہو وہاں جدید تصورات کی جگہ اسلامی تصورات لائے جاتے ہیں۔ معاشیات پڑھاتے ہوئے سود کی مخالفت کی جائے گی۔ سائنس پڑھاتے ہوئے ڈارون کی تھیوری پر تنقید کی جائے گی۔ فلکیات کی تدریس کے وقت خدا کی قدرت کا ذکر ہوگا وغیرہ۔ اس طرح چند تصورات میں اسلامی فکر کے اشارے ہوں گے اور بقیہ سارے امور میں اصل مغربی ڈھانچہ باقی رہے گا۔

اس سطح پرایک اور بڑی کم زوری کئی جگہوں پر یہ پیدا ہوگئی کہ ’اسلامی تصورات‘ کا مطلب محض ’اسلامی علامات‘ سمجھ لیا گیا۔ بی فار بیٹB for Bat نہیں بلکہ بی فار بسم اللہ۔ ریاضی کی مشقوں میں صرف زکوٰة اوروراثت کے حسابات۔ جغرافیہ کا اصل مقصد قبلے کی سمت معلوم کرنا۔ یہ اپروچ دین کے روایت پسند محدود تصور سے غذا حاصل کرتا ہے اور اس سے طلبہ کا یہ ذہن بنتا ہے کہ ایپل(apple) اوربیٹ(bat) ہم مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں۔ دنیا کی تسخیر اور تمدن کی تعمیر کے اسلامی وژن کے بجائے محض چند روایات کی پاسداری کا مزاج پروان چڑھتا ہے۔

سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا نظام تعلیم بلکہ تحریکی افراد کے ادارے بھی ان کم زوریوں اور محدودیتوں (limitations)پر قابو پانے میں پوری طرح کام یاب نہیں ہوسکے ہیں۔ پہلی خرابی (دینی ودنیوی تعلیم کی تقسیم ) بھی بڑے پیمانے پر عملاً موجود ہے۔ لیکن جو لوگ اصلاح کے علم بردار ہیں وہ بھی عام طور پر پہلی سطح (Fragmented Integration)میں اور ایک چھوٹی سی تعداد دوسری سطح (Interdisciplinary Integration)میں اٹکی ہوئی ہے۔

اصل مطلوب تیسری سطح یا داود توحیدیؒ کی اصطلاح میں ماورائے تخصص امتزاج (Transdisciplinary Integrated Approach) ہے[32]۔ اس میں کائنات کے سارے حقائق کو توحید کے نقطہ نگاہ سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقائق ایک دوسرے سے وابستہ(integrated) اور بامقصد سمجھے جاتے ہیں۔ ہر حقیقت کا مطالعہ اللہ کی آیات اور اس کی سنت کو سمجھنے کے جذبے سے اور عمارة الارض اور خلافت ارضی کے فریضے کوانجام دینے کے مقصد سے کیا جاتا ہے۔ اس طرز تعلیم میں تجسس، تحقیق کا جذبہ اور دنیا اور کائنات سے بامقصد انگیجمنٹ خود بخود پیدا ہوجاتا ہے۔ طلبہ محض خاموش سامعین نہیں رہتے بلکہ ایک بہتر اور عدل وقسط اور صلاح و خیر پر مبنی دنیا کی تعمیر میں فعال اور باشعور شراکت دار کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔

اسلامی تعلیمی تحریک کی طویل جدوجہد اور اس کے وسیع قبول عام کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ اس گہری سطح پر امتزاج، ابھی بھی عمل کے سانچے میں کم ہی ڈھل سکا ہے۔ اس تحریک کی کام یابی کے لیے اس سطح تک رسائی ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے کچھ مشورے ہم آخر میں پیش کریں گے۔

ایک اور بڑی کم زوری یہ ہے کہ کردار سازی کی اہمیت کو سوچ کی سطح پر تسلیم کرنے کے باوجود، ہمارے تعلیمی ادارے بالعموم ’تعلیم‘ بمعنی انتقال معلومات (transfer of knowledge)کی جہت ہی تک محدود ہیں۔ کچھ تعلیمی اداروں نے ’تربیت‘ پر بھی توجہ دی ہے۔ کردار سازی کی کہیں کوشش ہوتی بھی ہے تو دینی معلومات کی منتقلی، اسمبلی میں کچھ احادیث وغیرہ کی تذکیر یا کچھ مذہبی اجتماعات کے انعقاد تک محدود ہوتی ہے۔ تادیب کا عمل یعنی روحانی، اخلاقی اور جذباتی نشوونما کا عمل، جس ٹھوس اور سائنٹفک پروگرام کا تقاضا کرتا ہے اس کی نہ صرف عملی مثالیں مفقود ہیں بلکہ ان کا واضح تصور بھی کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

ذیل میں کچھ عالمی تجربات کا ذکر کیا جارہا ہے جن سے ہمارا مدعا بھی واضح ہوگا اور اس حوالے سے مطلوب کوششوں کی بھی نشان دہی ہوگی۔

عملی تجربات

دنیا میں اسلامی اصولوں کے مطابق تعلیم کے سلسلے میں متعدد تجربات ہورہے ہیں۔ ہمارے مطالعے کے مطابق درج ذیل تجربات خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔

۱۔انڈونیشیا کے تجربات: ہمارے علم کے مطابق، اسلامی تصور تعلیم کو عملی سطح پر برتنے کے سلسلے میں سب سے زیادہ وسیع تجربات انڈونیشیا میں ہورہے ہیں۔ وہاں اس کام کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور اعلیٰ درجے کے ماہرین تعلیم کی خدمات میسر ہیں۔ چناں چہ سب سے زیادہ علمی کاموں کا سہرا انڈونیشیائی ماہرین کے سر جاتا ہے اور لٹریچر میں عملی نمونے بھی سب سے زیادہ وہیں کے ملتے ہیں[33]۔ مدرسہ عالیہ نگری انسان چیندیکیا (MAN Insan Cendekia)سیکولا اسلام الازہر[34] (Sekolah Islam Al-Azhar) وغیرہ متعدد ماڈل یہاں کام کررہے ہیں۔ ہم یہاں صرف ایک تجربے کے سلسلے میں کچھ اشارات کریں گے۔

مدرسہ عالیہ نگری انسان چیندیکیا ابتدا میں ایک دینی مدرسہ تھا جسے سرکاری سرپرستی کے ساتھ ایک امتزاجی (integrated)تعلیمی تجربے کا مرکز بنایا گیا۔[35] یعنی علم کی تقسیم کو ختم کرکے اور ریاضی، سائنس، سماجی علوم جیسے مضامین کو بھی شامل کرکے، اسلامی تصور کے مطابق ہمہ گیر نافع تعلیم کا مرکز بنانے کی طرف پیش قدمی کی گئی۔ یہ ماڈل بہت مقبول ہوا اور جلد ملک کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے 23 اسکول قائم ہوگئے۔ بہت جلد یہ تجربہ ایک کام یاب تجربہ بن گیا۔

اسکولوں کی ملک گیر رینکنگ کے مطابق سرپونگ کا مان انسان چیندیکیا تمام مہنگے سیکولر اسکولوں کوپیچھے چھوڑتے ہوئے ملک کا سب سے بہترین اسکول قرار پایا[36]۔23 مان اسکولوں کے منجملہ 10 اسکول انڈونیشیا کے سو بہترین اسکولوں میں شامل ہیں[37]۔ اس طرح اس ماڈل نے پہلے مرحلے ہی میں یہ ثابت کردیا کہ اسلامی انٹیگریشن کے ساتھ تعلیم کا معیار کم نہیں ہوتا بلکہ بہت بلند ہوجاتا ہے۔ ان اسکولوں میں قرآن، حدیث، فقہ، کلام جیسے روایتی مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں اور ریاضی، سائنس، سماجیات جیسے معاصر مضامین کی بھی تدریس ہوتی ہے۔ تمام مضامین کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں پڑھانے کی کوشش ہوتی ہے۔

مان انسان اسکولوں نے اسلامی انٹگریشن کے بہت ہی انوکھے اور موثرطریقے ایجاد کیے ہیں۔ مثلاً ان طریقوں کو ملاحظہ فرمائیں[38]۔

جداگانی امتزاج کا نظام  (separated integration system – SIS):  اسکول میں پڑھائے جانے والے تمام مضامین کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مثلًا صبح کی کلاس میں اگر فزکس اور نظام شمسی پڑھایا جارہا ہے تو تفسیر کی کلاس اُن آیات سے متعلق ہوگی جن میں کائنات کی نشانیاں اور اللہ کی قدرت کا بیان ہوا ہے۔

ii۔امتزاجی درخت نصاب (Integrated Tree Curriculum – ITC):  تمام مضامین کے اسباق کی منصوبہ بندی (lesson planning)ایک درخت کو بنیاد بناکر کی جاتی ہے۔ جڑیں متعلق اسلامی تصورات، درخت کا تنہ متعلق مضمون کے تصورات اور اس کے پھل اور پتے ان تصورات کے عملی اطلاقات applications۔ اس طرح ہر مضمون کو گہرائی سے اس طرح پڑھایا جاتا ہے کہ اسلامی اساسیات بھی ذہن نشین ہوجائیں، مضمون بھی اچھی طرح سمجھا دیا جائے اور اسلامی نقطہ نظر سے عملی زندگی میں اس کے نافع استعمال پر بھی ضروری رہ نمائی مل جائے۔

iii۔آلہ جاتی توجیہ پر مبنی امتزاج (instrumentalist justification integration):  ہر مضمون کو اس طرح پڑھایا جاتا ہے کہ طلبہ پر واضح ہو کہ اس علم کو مقاصد شریعت کے حصول کا سامان (instrument)کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ مثلاً ماحولیاتی کیمیا پڑھاتے ہوئے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ اس علم کو کیسے دفع ضرر، جلب منفعت اور مصالح مرسلہ کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ روڈ انجنیرنگ اور بریج وغیرہ کیسے راستے کے حقوق کی ادائیگی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ بزنس اینالیٹکس کا علم کیسے تجارت میں غرر، سود اور قمار سے حفاظت اور عدل و احسان کی اسلامی قدروں کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

نصاب تعلیم کی اسلام کاری کے ساتھ اصل مسئلہ اسلامی تصور تعلیم کے مطابق کردار سازی یا نقیب العطاس کی اصطلاح میں ’تادیب ’ کا مسئلہ ہے۔ اس انڈوینیشیائی ماڈل میں یہ کوشش بھی بہت سنجیدہ اور گہری ہے۔ طلبہ کا کم ازکم ایک سال بورڈنگ میں مقیم رہنا ضروری ہے۔ اس دوران ان کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے[39]۔

طلبہ کو ’حلقوں‘ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر حلقے کا ایک مربی (جسے مُشرِف یا لڑکیوں کے لیے مشرفہ کہا جاتا ہے) ہوتا ہے جو طلبہ کی اخلاقی تربیت کا کام کرتا ہے۔ مشرفوں کو رول ماڈل کے طور پر کردار ادا کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے ان کے تقرر میں ان کی علمی کیفیت سے زیادہ اخلاقی اور عملی کیفیت کو سختی سے پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ہر طالب علم کو اس کی اخلاقی صورت حال کو سامنے رکھ کر اصلاحی اہداف دیے جاتے ہیں۔ ان کا جائزہ لیا جاتا رہتا ہے اور مشرف ہر ایک کی مسلسل ذاتی کوچنگ، کونسلنگ، جائزہ و احتساب، اصلاحی اہداف (reform goals)اور فالواپ کے ذریعے رویوں اور عادتوں میں اصلاحات لانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر ہفتہ اجتماعی طور پر کسی مخصوص اخلاقی قدر کے لیے وقف ہوتا ہے(مثلاً ایمان داری کا ہفتہ، ماحولیاتی تحفظ کا ہفتہ، ماں باپ کی خدمت کا ہفتہ وغیرہ)۔ اس میں اس اخلاقی وصف کے حوالے سے خصوصی کوششیں ہوتی ہیں اور تمام مضامین کی تدریس کو بھی اُس قدر سے جوڑنے کی کوشش ہوتی ہے۔ طلبہ کو دیہی علاقوں اور پسماندہ بستیوں میں منصوبہ بند طریقے سے سماجی خدمت اور دینی و اخلاقی اصلاح کے کام (pengabdian masyarakatdiy)دیے جاتے ہیں۔ مشرف کی نگرانی میں احتساب (محاسبہ) ہوتا ہے۔ مختلف اخلاقی قدروں کے حوالے سے مثالی کردار کے حامل طلبہ کو بطور رول ماڈل سامنے لایا جاتا ہے۔ طلبہ کی مارک شیٹ میں ان کی اخلاقی، سماجی اور روحانی صورت حال (sikap spiritual and sikap sosial)كی گریڈنگ اور ان حوالوں سے مشورے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ اسکول کے ماحول کو تادیب کے عمل کے لیے زیادہ سے زیادہ مناسب حال بنانے پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور اس کے لیے وزارت تعلیم کی جانب سے مسلسل ریسرچ بھی کرائی جاتی ہے اور ماہرین کے مشوروں کی روشنی میں مسلسل ہدایات بھی جاری کی جاتی ہیں۔

۲۔ ملیشیائی ماڈل: ملیشیا میں دوماڈل قابل ذکر ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملییشا کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ تعلیم کی اسلام کاری کے عالمی منصوبے کا وہ اہم جزو ہے اور انٹرنیشنل کانفرنس آن مسلم ایجوکیشن مکہ مکرمہ 1979 کے فیصلے کے تحت اس کاقیام عمل میں آیا[40]۔ اسی پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر انٹرنیشنل اسلامک اسکول ملیشیا قائم کیا گیا۔ اس اسکول کی ابتدائی صورت گری میں علوم کی اسلام کاری کے منصوبے سے وابستہ ایک قدآور علمی شخصیت پروفیسر عبد الحمید ابو سلیمان (1938-2021) کا کلیدی کردار رہا ہے۔ یہاں کیمریج آئی جی سی ایس ای کا نصاب اسلامی رخ پر پڑھایا جاتا ہے۔ تحفیظ قرآن اورقرآن کے اصولوں کی اساس پر تمام مضامین کی تدریس کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلےمیں اسکول کا اپنا فریم ورک (Islamic Integration Framework)ہے۔ بچوں کی اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے بھی اسکول کا اپنا فریم ورک موجود ہے اور اخلاقی نشانات راہ (character milestone)وضاحت کے ساتھ متعین ہیں جن کی تکمیل کرانے کی کوشش ہوتی ہے[41]۔

ادنی اسکولوں(adni schools)کا ماڈل نقیب العطاس کے تصورات تعلیم پرمبنی ہے۔  یہاں کیمیریج اور آئی بی دونوں بین الاقوامی نصابوں کی تعلیم ہوتی ہے۔ ہر سبق میں، قرآنی ورلڈ ویو کی میپنگ کا مخصوص طریقہ کار موجود ہے۔ پڑھانے کا طریقہ اونچے درجات میں پروجیکٹ کی اساس (project based learning)پر ہے۔ پروجیکٹ ایسے منتخب کیے جاتے ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ زیر تدریس علوم کا استعمال و اطلاق ہو۔ طلبہ ان پروجیکٹوں کو عملاً مکمل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے تمام علوم کا آپسی تعلق بھی انھیں سمجھ میں آتا ہے، ہر علم کا رشتہ وحی سے بھی جوڑنے کی کوشش ہوتی ہے اور تمام علوم و فنون کا عملی مسائل سے نفع بخش رشتہ بھی اول روز سے طلبہ پر واضح ہوجاتا ہے۔ پروجیکٹ زیادہ تر اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals)کو بنیاد بناکر اور ان کی مقاصد شریعت کی اساس پر تنقیح کرکے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ اسلام کے مطابق زندگی (Living Islam program)اسکول میں تزکیہ اور تادیب کا ایک دل چسپ ماڈیول ہے جس کے ذریعے طلبہ کی اخلاقی و دینی تربیت کی کوشش کی جاتی ہے[42]۔

۳۔ ترکی کا ماڈل: ترکی میں امام خطیب اسکولوں(imam Hatip schools ) کا ماڈل بہت مشہور ہے۔ ترکی کے اکثراسلام پسند (بشمول موجودہ صدر ترکی) اسی اسکول کے تربیت یافتہ ہیں[43]۔ اب سرکاری سرپرستی میں ان اسکولوں میں بڑے مفید تجربات کیے جارہے ہین۔ ان اسکولوں کے نصاب کا تقریباً چالیس فیصد حصہ قرآن، حدیث، تفسیر فقہ، کلام وغیرہ جیسے روایتی علوم پر مشتمل ہے اور بقیہ سائنس، ٹکنالوجی، ریاضی وغیرہ پر۔ یہاں بھی عوامی خدمت کو تعلیم و تدریس سے جوڑا جاتا ہے اور ہر کلاس میں متعدد عملی پروجیکٹ ہوتے ہیں جو سیکھنے کے عمل میں بھی معاون ہوتے ہیں اور طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کا بھی ذریعہ ہوتے ہیں۔ ہاسٹلوں میں حلقوں اور اسرہ کا نظام، جونیر اور سینیر طلبہ کے گروپ جن میں طلبہ ایک دوسرے کی مدد سے اپنا تزکیہ کرتے ہیں وغیرہ، جیسے متعدد ذرائع سے طلبہ کی اخلاقی تربیت پر توجہ دی جاتی ہے۔ لیڈرشپ ورکشاپ اور اطلاقی اخلاقیات ماڈیول (Applied Ethics Modules)کے ذریعے بھی طلبہ کے اندر قائدانہ اوصاف اور ٹھوس اسلامی اخلاق کی افزائش کی جاتی ہے[44]۔

مسلمان ملکوں کے علاوہ یورپ[45]، امریکہ[46] اور جنوبی افریقہ [47]میں بھی ایسے اسلامی اسکول اب کام کررہے ہیں جن میں ان طریقوں کو اختیار کیا جارہا ہے۔

ان تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی اصولوں پر مبنی نظام تعلیم کس قدر گہرا اور محنت طلب تصور ہے۔ اس میں سی فار کلمہ اور ڈی فار دعا، کی محدود تنگ نظری ہے اور نہ مروج مغربی مواد کو      ہو بہ ہو لے کر اس میں چند آیتیں اور حدیثیں چسپاں کردینے کی سطحیت ہے۔ یہ جڑ سے لے کر پھل اور پتوں تک، ہر سطح پر اسلامی نقطہ نطر سے تنقیدی نگاہ ڈالنے اور ایک متبادل اسلامی تمدن کی صورت گری میں علوم و فنون کے مفید استعمال کی سنجیدہ، گہری، محنت طلب اور ذہانت طلب کوشش ہے۔ بد قسمتی سے اس سطح کے انٹیگریشن کی کوششیں ہمارے یہاں نہ کے برابر ہیں اور نہ ہی کردار سازی کا ویسا ٹھوس اور ہمہ جہت پروگرام موجود ہے جس کا عکس ان مذکورہ ماڈلوں میں نظر آتا ہے۔

سیکولر اسکولوں کے ماڈل

اسلامی اسکولوں کے ان نمونوں کے علاوہ دنیا میں سیکولر اسکولوں کے بھی بہت سے مفید تجربات ہیں جن سے اسلامی اسکول استفادہ کرسکتے ہیں۔ ذیل میں بطور نمونہ چند نمونے زیر بحث لائے جارہے ہیں۔

سنگاپور ان ملکوں میں شامل ہے جہاں کا نظام تعلیم دنیا میں سب سے زیادہ معیاری مانا جاتا ہے[48]۔ سنگاپور کے اسکولوں میں اینگلو چائنیز اسکول یہاں کا ایک قدیم اسکول ہے جو کرسچن مشنری کے زیر انتظام چلتا ہے۔ کردار سازی اور اقدار کی تعلیم اسکول کے طریقہ تعلیم میں مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔ عیسیؑ جیسا کردار (Christlikeness)اسکول کا اصل آئیڈیل ہے۔ شیلڈ ویلیوز (SHIELD values)کا ان کا ایک تصور ہے یعنی استقامت،عجز و انکساری، دیانت داری، ہم دردی، وفاداری اور محنت و لگن (Steadfastness, Humility, Integrity, Empathy, Loyalty and Diligence – SHIELD)یہ چھ صفات ان کے مطابق فرد کو بھی زندگی میں شیلڈ یعنی تحفظ فراہم کرتی ہیں اور سماج کو بھی بہت سی مصیبتوں سے بچاتی ہیں۔ ان چھ قدروں کو انھوں نے اسکول کے نصاب اور تمام ہم نصابی سرگرمیوں کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔ کوئی کلاس ان قدروں کی یاددہانی و تکرار کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ سینیر طلبہ کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ نئے طلبہ میں ان قدروں کو فروغ دیں۔ ویلیوز ان ایکشنVIA ان کا ایک اہم پروگرام ہے جس کے تحت طلبہ کو عوامی خدمت میں لگایا جاتا ہے اور خدمت کے عملی کاموں کے دوران ان کے رویوں کو مناسب رخ دے کر ان قدروں کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔[49]

اسی طرح فن لینڈ بھی ان ملکوں میں شامل ہے جہاں کے نظام تعلیم کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے[50]۔ یہاں کے ہمہ گیر (comprehensive) اور شخص رخی (personalized)تعلیم کے ماڈل[51] نے ساری دنیا میں ماہرین تعلیم کو متوجہ کیا ہے۔ تعلیم کو اسلامی رخ دینے کی کوششوں میں مصروف مسلمان ماہرین تعلیم بھی اس ماڈل میں خصوصی دل چسپی لے رہے ہیں[52]۔ شخصی تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ہر طالب علم کی ذات، اس کی خصوصیات، ذہانت اورمخصوص اوصاف کو سامنے رکھ کر اس کے لیے آموزش کے ذاتی اہداف (personal goals)متعین کیے جاتے ہیں۔ کلاس کی بنیاد پر نہ تو کوئی اجتماعی نصاب ہوتا ہے اور نہ گریڈنگ وغیرہ کا کوئی اجتماعی نظام۔ طالب علم اپنے اہداف بھی استاد کی نگرانی میں خود متعین کرتا ہے اور اپنی ذاتی لگن اور جستجو سے ان اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس وقت ہمارے پیش نظر وہاں کا ایک معیاری اسکول سونالاہٹی اسکول (Saunalahti school)ہے۔ اسکول کی راہداری (school without corridors)نہیں ہوتی اور اسکول ایک اوپن کمیونٹی اسپیس ہوتا ہے۔ طلبہ کے مختلف گروپ سماج کی مختلف خدمات انجام دیتے ہیں اور اس دوران اساتذہ ان کی مخصوص صلاحیتوں، مزاج، اوصاف، رویوں وغیرہ کا جائزہ لے کر ان کو مشورے دیتے ہیں اور ان کے حسب حال تعلیمی اہداف متعین کرنے میں اور ان کو حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ایک طالب علم الگ الگ موقعوں پر الگ الگ گروپوں کا حصہ بنتا ہے اور مختلف عمر کے طلبہ ٹیموں میں ایک ساتھ کام کرتے ہوئے متعدد اسباق بھی سیکھتے ہیں اور عملی اوصاف بھی اپنے اندر پروان چڑھاتے ہیں[53]۔

ہمارے ملک میں احمد آباد کے ریور سائڈ اسکول کو کئی بین الاقوامی انعامات مل چکے ہیں۔ اس اسکول کا اصل اپروچ بھی طالب علم کی شخصیت کا ہمہ جہت ارتقا اور تعلیم کو علم نافع کے حصول کا ذریعہ بنانا ہے۔ ’میں کرسکتا ہوں کا ذہن‘ (I can Mindset) اسکول کے طریقہ تعلیم کا مرکزی نکتہ ہے۔ طلبہ کو سماج میں کسی تبدیلی کے کام کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے۔ اسکول کے فلسفے کے مطابق تبدیلی کے لیے چار اوصاف درکار ہیں۔ احساس (feel)یعنی سماج کے حقیقی مسائل معلوم بھی ہونے چاہئیں اور ان کے حل کی ضرورت کا شدید احساس بھی پیدا ہونا چاہیے، تصور(imagine)یعنی اس مسئلے کا بہتر سے بہتر حل کیا ہوسکتا ہے؟ اس پر اختراعی انداز سے غور کرنے اور اچھے سے اچھے حل تک پہنچنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ عمل (act)یعنی اس تصور کے مطابق پہل کرنے، دوسروں کو ساتھ لے کر اس حل کو روبہ عمل لانے کی لیاقت ہونی چاہیے اور شیئر (share)یعنی اپنی کارکردگی کو پورے سماج کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ تحریک حاصل کریں۔ اس فریم ورک کے مطابق چھ سال کی عمر سے سولہ سترہ سال کی عمر تک کے بچوں کو ٹھوس سماجی تبدیلی کی لیڈرشپ کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور اس دوران طلبہ کی مزاج، رویوں، صلاحیتوں اور علم کی افزائش کے پہلو سے تربیت ہوتی ہے[54]۔

یہ چند نمونے ہم نے بطور مثال ذکر کیے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے بہت سے نمونے ملیں گے۔ اسلامی اداروں کا اصل ہدف یہی ہونا چاہیے کہ وہ اسلامی نظام تعلیم کے ایسے منفرد نمونوں کو سامنے لے کر آئیں اور ان کی کارکردگی سے اسلامی نظام تعلیم کا امتیاز دنیا پر واضح کریں۔ اس کے لیے یقیناً بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ کچھ وہ ادارے ہیں جو سرکاروں اور مختلف بورڈوں سے منظور شدہ ہیں اور متعین نصاب پڑھانے کے لیے پابند ہیں۔ کچھ تصوراتی اسکول (concept schools)ہیں جہاں نئے نصاب کے تجربات بھی ہوسکتے ہیں۔ دینی مدارس ہیں جنھیں کافی آزادی میسر ہے۔ جزوقتی مکاتب ہیں۔ ایسے ادارے بھی ہیں جن میں بڑی تعداد غیر مسلم طلبہ کی بھی ہے (اور ایسے ادارے بھی بہت ضروری ہیں)۔ ان سب کے سلسلے میں الگ الگ سوچنا ہوگا اور اسلامی قدروں کے نظام تعلیم میں امتزاج کے الگ الگ ماڈل تشکیل دینے ہوں گے۔ یقیناً اس راستے میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹیں ہیں۔ ان کے حل کے لیے بھی اختراعی حل درکار ہیں۔ ان شاء اللہ اگلے ماہ ہم ان موضوعات کو زیر بحث لائیں گے اور ہندوستان میں مطلوب امتزاج کی شکلیں اور عملی مشکلات کے حل تجویز کریں گے۔ ◼

حواشی و حوالہ جات

[1] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:

سید سعادت اللہ حسینی، ہندتو انتہا پسندی: نظریاتی کشمکش اور مسلمان، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، 2022، ص69-88

[2]هُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیینَ رَسُولًا مِّنْهُمْ یتْلُو عَلَیهِمْ آیاتِهِ وَیزَكِّیهِمْ وَیعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُّبِینٍ. (الجمعة 2) اس مفہوم کی آیت قرآن میں متعدد بار آئی ہے۔

[3]صحیح البخاری: کتاب العلم، صحیح مسلم: کتاب العلم، سنن الترمذی:كتاب العلم عن رسول الله صلی الله علیه و سلم، سنن ابو داود:كتاب العلم

[4]علم و تعلیم سے متعلق امام غزالیؒ کے افکار کے مطالعے کے لیے:

أبو حامد محمد بن محمد الغزالی، إحیاء علوم الدین، دار المعرفة – بیروت، صٓ 4-88

[5] مقدمہ ابن خلدون کا چھٹا باب تعلیم سے متعلق ابن خلدون کے نظریات کی وضاحت کرتا ہے۔ عبد الرحمن بن خلدون، تاریخ ابن خلدون، دار الفكر، بیروت، 1981 ج 1ص542

[6]Al-Bustani, T. “The Educational Thought of Ibn Taymiyyah: A Critical Analysis.” Journal of Islamic Studies and Culture, 6(1), 12-25 (2018).

[7] دیکھیں، امام ماوردیؒ کی کتاب ادب الدنیا والدین خاص طور پر اس کا دوسرا باب ادب العلم

ابوالحسن الماوردی، أدب الدنیا والدین، دار مكتبة الحیاة، بیروت، 1984 ص35-84

[8] Afzal, Mohammad. Shah Wali Allah’s Philosophy of Education. Pakistan:
National Institute of Historical and Cultural, Research, Centre of Excellence, Quaid-i-Azam University, 2003.

[9] تحریک علی گڈھ کو سمجھنے کے لیے ہمارے خیال میں درج ذیل مجموعہ مضامین بے حد مفید ہے۔
نسیم قریشی(مرتب) پروفیسر آل احمد سرور اورپروفیسر رشید احمد صدیقی(ہدایت) علی گڈھ تحریک: آغاز تا امروز، احباب پبلشرز، لکھنو، 1960

[10] علامہ شبلی کے تعلیمی نظریات کو جاننے کے لیے آسان ریفرنس مقالات شبلی کی جلد سوم ہے۔

علامہ شبلی نعمانی، مقالات شبلی، جلد سوم (تعلیمی)، دارالمصنفین اعظم گڈھ، 2009

[11]تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: محمد احمد خان،‫اقبال اور مسئلۂ تعلیم‎. ، اقبال اکیڈمی، لاہور، 1978.

[12] مولانا سید ابوالاعلی مودودی، تعلیمات، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، 2017

[13]
Islamil Raji Al Faruqi; Islamization of Knowledge: General Principles and Work Plan; International Institute of Islamic Thought; Herndon,USA; 1981

[14]
Syed Mohammad Naquib Al Attas;The Concept of Education in Islam. Kuala Lumpur;International Institute of Islamic Thought and Civilisation (ISTAC) 1980.

[15]
Syed Al-Naquib al-Attas et. al.; World Conference on Muslim Education 1977, Makkah : aims and objectives of islam education; King Abdulaziz University, Jeddah, 1979

[16] تفصیل کے لیے دیکھیے:

Ghulam Nabi Saqeb; Some Reflections on Islamization of Education Since 1977 Makkah Conference: Accomplishments, Failures and Tasks Ahead; Intellectual Discourse Vol 8 No 1 Pages 45-68; 2000; Kual Lumpur

[17] اسلامی نظام تعلیم اور توحید کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک فکر انگیز کتاب

Ismail al-Faruqi; Al-Tawhid: Its Implications for Thought and Life; International Institute of Islamic Thought; Herndon,USA; 1982

[18] Al-Attas, Syed Muhammad Naquib. The Concept of Education in Islam: A Framework for an Islamic Philosophy of Education. Kuala Lumpur: ISTAC, 1991. Pages 14-16

[19]راغب الاصفهانی، المفردات فی غریب القرآن – أبی القاسم الحسین الأصفهانی – تحقیق محمد سید كیلانی – دار المعرفة – لبنان – بدون تاریخ ص. 184

[20] ناصر الدین البیضاوی، أنوار التنزیل وأسرار التأویل،دار إحیاء التراث العربی – ;بیروت، 1997 ج1 ص28

[21] Al-Attas, Syed Muhammad Naquib. The Concept of Education in Islam: A Framework for an Islamic Philosophy of Education. Kuala Lumpur: ISTAC, 1991. Pages22

[22] اکیسویں صدی کی لیاقتوں 21st century skills کی بحث کے لیے ملاحظہ ہو:

Bellanca, James A.. 21st Century Skills: Rethinking How Students Learn. United States: Solution Tree Press, 2010.

[23] شاہ صاحب کے تفصیلی بیان کا خلاصہ ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے:

شاہ ولی اللہ دہلوی، البدورالبازغہ، (اردو ترجمہ: ڈاکٹر قاضی مجیب الرحمن، شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، ص 269-271

[24] گہری آموزش (deep learning) تعلیم و تدریس کا ایک اہم معاصر رجحان ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دیکھیں:

Darling-Hammond, Linda., Oakes, Jeannie. Preparing Teachers for Deeper Learning. United States: Harvard Education Press, 2021.

[25]Gershon, Mike. How to Use Bloom’s Taxonomy in the Classroom: The Complete Guide. United States: Learning Sciences International, 2018.

[26] تفصیل کے لیے :

اسحاق جلیس ندوی، تاریخ ندوة العلماء،دفتر نظامت ندوة العلماء، لکھنو، 1983

[27] مولانا سید ابوالاعلی مودودی، تعلیمات، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

[28]محمد اشفاق احمد، جماعت اسلامی ہند کی تعلیمی خدمات (1948 تا2017 )، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، 2018

[29] ملاحظہ ہو محولہ بالا کتاب تعلیمات (مولانا مودودیؒ) کے پہلے دو ابواب

[30]Dawud Tauhidi (2001). A holistic vision of Islamic Education. Tarbiyah Institute;Canton USA page 19-20

[31] ibid

[32] ibid

[33]Robert W. Hefner; How Indonesia Became a World Leader in Islamic Education: A Historical Sociology of a Great Transformation; Muslim Education Review; Vol. 1 No. 1 (2022) Indonesian International Islamic University, Indonesia

[34] https://www.alazharsragen.com

[35] https://ic.sch.id

[36]https://www.detik.com/edu/sekolah/d-6258573/man-insan-cendekia-serpong-peringkat-1-ltmpt-2022-menag-madrasah-itu-keren

[37] https://top-1000-sekolah.ltmpt.ac.id/site/index

[38]Muhlisin, Muhlisin and Syaifuddin, mohammad (2020) The Implementation of Integrated Islamic Education Model at MAN Insan Cendekia Pekalongan. Edukasia Islamika, 5 (1). pp. 68-87. ISSN 1829-5525

[39] Halimatussa’diyah et. al. Boarding School-Based Character Education Management (Case Study at MAN Insan Cendekia Tanah Laut). International Journal of Social Science and Human Research. 7. (07) July 2024

[40] https://iium-schools.edu.my/v3/iism

[41]Eissa, M., & Khalid, M. (2019). Development of Character and Life Skills through Islamic Methods of Teaching Acquired Science Subjects at Islamic International Schools in Malaysia. IIUM Journal of Educational Studies, 6(1), 3–17.

[42] https://adni.edu.my/the-curriculums

[43]https://www.reuters.com/investigates/special-report/turkey-erdogan-education/

[44] Junaedi, Mahfud. “Imam Hatip School (Imam Hatip Lisesi): Islamic School in Contemporary Secular Turkey.” Analisa Journal of Social Science and Religion, vol. 1, no. 1, 2016, pp. 121-138.

[45] مثلاً لندن میں یوسف اسلام کے قائم کردہ اسلامیہ اسکول

https://islamia.brent.sch.uk

[46] مثلاً ملاحظہ ہو:

  • https://tarbiyahacademy.com
  • https://newhorizonschool.org

[47] https://www.universalschool.org

[48] https://www.statista.com/chart/7104/pisa-top-rated-countries-regions-2016/

[49] https://www.acsindep.moe.edu.sg

[50] https://www.weforum.org/stories/2018/09/10-reasons-why-finlands-education-system-is-the-best-in-the-world/

[51] Sahlberg, Pasi. Finnish Lessons: What Can the World Learn from Educational Change in Finland. United States: Teachers College Press, 2014.

[52] مثلاً اسلام پسند ماہرین تعلیم کے مشاہداتی مطالعے کی اس رپورٹ پر نظر فرمائیں:

Imam, Seema A. Dr. and Jabeen, Mussarut. (2018). Finland Phenomenon: A Paradigm Shift in Educational Practices in an Islamic School. i.e.: inquiry in education: Vol. 10: Iss. 1, Article 6.

[53] https://brightside.me/articles/the-school-of-the-future-has-opened-in-finland-13755/

[54] https://schoolriverside.com

مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223