مصر کا فوجی انقلاب اور مستقبل کے امکانات

ولی اللہ سعیدی فلاحی

مصر کے فوجی انقلاب نے عالمی سطح پر بہت سے سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ جمہوریت کا اصل چہرہ کیا ہے ؟اسلامی تحریکات سے باطل اس قدر خائف کیوں ہے؟اسلامی تحریکات کا مستقبل کیا ہو گا؟وغیرہ ۔اخوان المسلمون کیساتھ باطل کے حالیہ رویہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی تحریکات کے سلسلے میں اس کے عزائم کیا ہیں؟وہ یہ گوارہ نہیں کر سکتے کہ اسلام پسند اقتدار میں آئیں اور اسلامی نظام کے قیام کا راستہ ہموار ہو سکے۔پوری دنیا میں اسلامی تحریکات کے سلسلے میں ان کا رویہ یکسا ں ہے ۔بظاہر اسلوب اور حکمت عملی کا فرق ہو سکتا ہے لیکن جوہری اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے

الاخوان المسلمون اور مصر

حسن البنا شہیدؒ (14؍اکتوبر 1906،12؍فروری 1949م)نے الاخوان المسلمون کو 2؍مارچ 1928؁ء کو اسماعیلیہ ،مصر میں قائم کیا۔ اصلاح ،تربیت ،دعوت اور جہاد پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے مکمل اسلام کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیا۔ راہ حق میںآنے والی آزمائشوں پر صبر اور قربانیوں کی ایک لمبی داستان اس سے وابستہ ہے۔ جمال عبدالناصر،انورالسادات اور حسنی مبارک کے ادوار میںاخوان شدید تعذیب کے مرحلے سے گزرے بسااوقات ایسا محسوس ہوا کہ شاید اب جماعت ختم ہو جائے گی لیکن انھوں نے ہر بار اپنے آپ کو منظم کیا۔ ان کو سزائیں دینے والے ختم ہوتے رہے لیکن الحمد للہ اخوان باقی ہیں۔ اخوان کے ناقدین نے ان کے بے اثر ہونے پر مضامین اور کتابیں لکھیں ۔مصر میں فوج کے حالیہ انقلاب کے بعد ناقدین کی ایک فوج یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے کہ یہ اخوان کا آخری وقت ہے۔

باطل کی سازشیں

مشہور اخبارات وال اسٹریٹ جرنل ،ہیرالڈٹریبون اور لیموندنے محمد مرسی حکومت کے خلاف سازشی منصوبے کے بارے میںلکھا ہے ۔ تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس دن مرسی کی حلف برداری ہوئی اسی دن سے ان کو ہٹانے کی سازش شروع ہو گئی تھی ۔ مصری فوج کے اعلی افسران کے ساتھ محمد البرادعی ، عمرو موسیٰ اور حمدین صباحی کو سازش میں استعمال کیا گیا۔یہ سب امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میںہوا۔امارات اور سعودی عرب نے چھ ارب ڈالرکی مالی مدد دی ۔آزاد ذرائع کا خیال ہے کہ انقلاب CIA ،موساداور السیسی کے باہم تعاون اور اشتراک سے لایا گیا۔ بجلی اور پٹرول کی مصنوعی قلت پیداکرکے مرسی کے خلاف مظاہروں کا آغاز کیا گیا ۔ جو باتیں سامنے آگئی ہیں وہ بہت کم ہیں جو پس پردہ ہیں وہ غیر معمولی ہیں ۔

فتنوں کو ہوا دینا ،افواہوں کو پھیلانا ،بھاری رقمیں دیکر افراد کو خریدنااور بڑے پیمانے پر پیشہ ور قاتلوں کے ذریعہ قتل وغارتگری مچانا سازشی عناصرکا شیوہ ہے ۔مصر کا حالیہ انقلاب اس طرح کی حرکتوں سے بھراپڑا ہے۔

الاسلام السیاسی کی اصطلاح

اخوان کے مخالفین نے ان پر ایک بڑاالزام یہ لگایا کہ اخوان ’’ الاسلام السیاسی‘‘ (سیاسی اسلام)کے علمبردار ہیں ۔ بڑے پیمانے پر پروپیگنڈاکیا گیا اور کتابیں لکھی گئیں اور یہ ثابت کرنے کی کوششیں کی گئی کہ اسلامی شریعت میں سیاسی اسلام کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ صرف اخوان کی اختراع ہے۔

پہلے’’ الاسلام السیاسی‘‘ کے بجائے’’ الاسلام الاصولی ‘‘Islamic Fundamentalism کی اصلاح استعمال کی گئی اور ستمبر 1994؁ء میں ایک کانفرنس بعنوان ’’شمالی افریقہ پر بنیاد پرست اسلام کا خطرہ‘‘واشنگٹن میں منعقد ہوئی۔نشانہ سوڈان تھا کہ اسلامی انقلاب کا سوڈان میں امکان ہے۔ پھر نوے کی دہائی میں الجزائر کے تناظر میں ’’Islamic Fundamentalists‘‘کی اصطلاح آئی اور اب 11؍ستمبر 2011؁ء کے بعد باقاعدہ ’’الاسلام السیاسی‘‘کی اصطلاح رائج ہوگئی۔باطل کے نزدیک الاخوان المسلمون، جماعت اسلامی اور اسلامی تحریکات ’’الاسلام السیاسی‘‘کے علمبردار ہیں۔

’’الاسلام السیاسی‘‘آج پوری دنیا میں موضوع بحث ہے۔ اس پر متعدد کتابیں انگریزی اور عربی میں منظر عام پر آچکی ہیں اور مزید لکھی جا رہی ہیں ۔پوری کوشش اس بات کی ہے کہ دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ اب ’’الاسلام السیاسی‘‘خواب وخیال کی بات ہے اور مصر کے فوجی انقلاب کے بعد اس کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔

اخوان کی حکمت عملی

اس سلسلے میں بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ اب اخوان کے سامنے کیا متبادل ہے ۔اس وقت جو تجزیات پیش کئے جا رہے ہیں ان میں کہا جارہا ہے کہ اخوان کے سامنے صرف دو راستے ہیں 1۔تشددیا2 ۔اپنے موقف سے دست برداری اور خاموشی ۔

بعض لوگ اخوان کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں وہ ماضی میںبھی تشدد اور خونریزی کے بے بنیاد الزام اخوان پر لگاتے رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اخوان اب پوری طرح سے تشدد کی راہ اپنائیں گے اور مصرکےحالات خراب ہوں گے اس کا اثر دیگر عرب ممالک پر پڑے گا جہاں اخوان کے اثرات قابل ذکر ہیں۔ مصر کے حالیہ فوجی انقلاب کے موقع پر گرچہ اخوان کا احتجاج مکمل طورپر پر امن رہااور فوج نے یکطرفہ کاروائی کی لیکن تشدد اور قتل کے سیکڑوں الزامات اخوان کے سرباندھے گئے۔مخالفین کی کوشش ہے کہ کسی طرح اخوان تشدد کے راستے پر چل نکلیں تو باطل کو اپنے عزائم پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ بہرحال اخوان نے اپنے آئندہ کے لائحہ عمل میں تشدد کومسترد کر دیا ہے۔

دوسرا راستہ بددلی ،مایوسی اور موقف سے دست برداری کا ہے۔ بعض تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ اب مصر میں اخوان یہ رویہ اپنائیںگے اور ’’الاسلام السیاسی‘‘کے قیام سے دست بردار ہوجائیںگے۔مصر کی فوجی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ اخوان اس دوسرے راستے کو اختیار کر لیں۔اخوان کی قیادت کی گرفتاری ،ان سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر تشدد،مظاہرین پر ادھادھند فائرنگ اور بڑے پیمانے پر خوف زدہ اور ہر اساں کرنا اس حکمت عملی کا حصہ ہے۔

خوشگوار پہلو

اس پورے منظر نامے میں تحریکات اسلامی کے لیے خوش آئندہ باتیں بھی ہیں۔اخوان نے جرأت واستقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انقلاب کے بعد جان ومال کی بے مثال قربانیاں پیش کیں ۔انھوں نے نازک سے نازک گھڑی میں بھی اپنے مظاہروں کو پر امن رکھا ان کے خلاف تشدد کے سلسلے میں پروپیگنڈا بھی ہوالیکن حقیقت دنیا کے سامنے واضح ہو کر آگئی اور مخالفین کے جھوٹ کی پول کھل گئی تجزیہ نگاروں کے مطابق اخوان اپنی85سالہ تاریخ میں جبروتشدد کے سب سے سنگین دور سے گزر رہے ہیں۔اخوان کے مثالی طرز عمل سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان کونیک نامی حاصل ہوئی ہے۔

منتخب صدر کو بلا سبب برطرف کرنے سے مخالفین اسلام کا اصل چہرہ کھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے وہ اخوان اور اسلام پسندوںسے خائف ہیں یہ بات واضح ہوگئی ہے ۔ پوری دنیا میں عوامی سطح پر اخوان کیلئے ہمدردی پیدا ہوئی ہے۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ پرامن مظاہرین پر فوج کی فائرنگ اور بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت سے فوج کی بڑی رسوائی ہوئی ہے اور اخوان کے صبر وثبات کے چرچے عام ہیں ۔

مخالفین دن رات اس پروپیگنڈے میں لگے ہوئے ہیں کہ اخوان ختم ہوگئے اور ’’الاسلام السیاسی‘‘کا نظریہ پوری طرح ناکام ہو گیا لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اخوان کے حق میں جو کچھ لکھا جا رہاہے وہ کم نہیں ہے ۔ متعدد آزاد تجزیہ نگار لکھتے ہیں کہ فوجی انقلاب کے اس پورے واقعے سے اخوان کا وقار بلند ہوا ہے ، اُن کی عوامی تائید میں اضافہ ہو اہے اور آئندہ ان کے حکومت میں آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔

ایک تجزیہ نگار محسن محمد صالح لکھتے ہیں کہ اخوان پھر حکومت میں آئیں گے اس کے چند اسباب ہیں۔

(۱)          اخوان کی دعوت اسلام کی دعوت ہے۔اسلام کی دعوت ہمہ گیر ہے ۔زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے ۔بے داری وانقلاب اسلام کی تاریخ ہے ۔

عالم اسلام میں استعمار کا مقابلہ کرنے والی طاقت تحریک اسلامی کی طاقت ہے جیسے جزیرۃ العرب میں وہابیۃ ،سوڈان میں مہدیہ،لیبیا میں سنوسیہ،ہندوستان میں سید احمد شہید کی تحریک، جزائر میں بن بادیس کی تحریک ،اخوان المسلمون ،برصغیر ہندو پاک میں جماعت اسلامی اور ترکی میں نورسیہ ، تیونس اور روس کی اسلامی ممالک میں النہضہ۔

(۲)         1967؁ء کی جنگ میںیہودیوں نے فلسطین اور سیناء وغیرہ کی باقی زمینیں بھی ہڑپ کرلیں ۔ایک اضمحلال پیدا ہوا اس میں روشنی کی کرن اخوان کی تحریک ہی تھی ۔

(۳)         استعمار اور صہیونیت کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے امت ابتلا اور آزمائش میں ہے ۔ اس کے جواب میں البعثیہ ،الناصریہ ،العلمانیہ ،الاشتراکیہ اور الراسمالیہ سب ناکام ہو گئے۔ صہیونیت کے مقابلے میں کسی کے پاس کچھ نہیں ہے اب صرف اسلام کی لہر ہے ۔

(۴)         اسلامی تحریکات نوجوانوں سے مالا مال ہیں جب کہ دوسری تحریکوں کے پاس ازکاررفتہ پرانے لوگ ہیں۔

(۵)         اسلام پسندوں نے نمونہ قائم کیا ۔جمہوریت کا احترام کیا،امن وامان باقی رکھااور انتخابات کو قبول کیا ۔مصر میں پانچ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔مرسی نے کسی میڈیا پر پابندی نہیں لگائی اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی جب کہ فوجی حکومت نے میڈیا پر پابندی لگا دی ،اِن اسباب کی بنا پر اسلام پسندوںکی تائید میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں ۔ اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت کو بچانے والے اور دستور کی حفاظت کرنے والے اصل میں اخوان ہی ہیں ۔

(۶)          انقلاب سے واضح ہو گیا ہے کہ اخوان کا مقابلہ عام شفاف انتخابات میں کرنا ناممکن ہے ۔

(۷)         اب اس خطہ میں خوف کی نفسیات ختم ہو گئی ہے ۔اب کوئی جبروجورنہیں کر سکتا۔ اسلامی تحریک عوام کی واحد امید ہے۔

دسمبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau