مسلمانوں کے نمائندوں کا انتخاب

اسلام کے سیاسی نظام کا سنگ اول

سید حامد عبد الرحمن الکاف

آج کل جب کبھی اسلام میں انتخاب کی گنجائش کے بارے میں بات چھڑ جاتی ہے تو بعض لوگ ناگواری کا اظہار کرتے  ہیں۔ کچھ  باآواز بلند اعلان کرتے ہیں کہ انتخابات مغرب کا ڈھونگ ہیں ۔ اسلام اس تصور سے نا آشنا ہے اور یہ ایک بھونڈی نقالی ہے وغیرہ ۔

مگر اِن احباب کا یہ تاثّر لاعلمی پر مبنی ہے۔ غالباً  سیرت نبوی ﷺ کے مختلف مراحل  پران کی نظریں نہیں پڑی ہیں ۔ مورخین نے بھی بعض اہم امور کو بیان نہیں کیا یا بیان بھی کیا تو بہت اختصار سے کام لیا۔ ان ہی امور میں سے ایک بیعت عقبہ کی آخری بیعت ہے جس میں نبی ﷺ نے حاضرین انصار ؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنے میں سے نقیب (نمائندہ /لیڈر) منتخب کریں ۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں۔

بیعت کے بعد رسول ﷺ نے ہم سے فرمایا اپنے اندر سے مجھ کو 12 نقیب منتخب کر کے دو جو اپنے اپنے قبیلے کے ذمہ دار ہوں ( ابن اسحاق کی روایت طبقات ابن سعد میں یہ ہے کہ آپﷺ نے فرمایا جو اپنی قوم پر اس طرح کفیل ہوں جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ ابن مریم کے حواری کفیل تھے‘‘ دوسری طرف روایت طبقات ابن سعد ہی میں واقدی سے مروی ہے کہ ’’موسیٰ  ؑ کو بنی اسرائیل سے 12نقیب ملے تھے‘‘ اس ارشاد کے مطابق سب نے 12 آدمی تجویز کئے، 9 خزرج میں سے اور 3 آدمی اوس میں سے ۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق ان کی فہرست حسب ذیل ہے۔

خزرج میں سے

.1   اسد بن زرارہ ؓ( ان کو حضور ﷺ نے نقیب الانصار مقرر کیا) لیڈروں کا لیڈر۔

.2    سعد بن الربیع ؓ( زمانہ جاہلیت میں اہل مدینہ کے چند پڑھے لکھے آدمیوں میں سے تھے )

.3  عبداللہ بن رواحہ ؓ( یہ بھی لکھنا پڑھنا جانتے تھے)

.4   رافع بن مالک ؓ( زمانۂ جاہلیت میں’ کامل ‘ کے نام سے یاد کیے جاتے تھے)

.5   براء بن معرورؓ ( ہجرت سے کچھ پہلے ان کا انتقال ہوگیا اور حضور ﷺ نے ان کی قبر پرنماز جنازہ پڑھی۔ )

.6  عبداللہ بن عمر ؓ و بن حرام ؓ( یہ اسی رات کو ایمان لائے تھے جس میں بیعت عقبہ ہوئی تھی ۔

.7   عُبادہ بن صامتؓ

.8   سعد بن عُبادہؓ( زمانہ جاہلیت میں ’کامل‘ کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے)

.9   منذر بن عمروؓ( یہ بھی لکھنا پڑھنا جانتے تھے)

اوس میں سے :

.1   اُسید بن خُضیرؓ ( یہ کامل کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے)

.2    سعد بن خشیمہ ؓ

.3   رِفاعد بن عبدالمنذرؓ( ابن ہشام نے لکھا ہے کہ اہل علم نے ان کی جگہ ابو الشیم بن التیہانؓ کا نام لکھا ہے)

بظاہر یہ ایک چھوٹا سا  واقعہ نظر آتا ہے لیکن اسلام کے سیاسی نظام کے سنگ اول کی بنیاد رکھنے کا واقعہ تھا اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان اپنے میں سے بہترین ‘آدمی چننے کی عادت ڈالیں جن سے مجلس شوریٰ کو تشکیل دیا جاسکے اور جو مسلمانوں کے امور کے بارے میں فیصلے کرسکے۔

عقبہ کے مقام پر آپﷺ نے بارہ نفوس کے انتخاب کا حکم دیا آپﷺ کو اور خود انصار ؓ کو بخوبی اندازہ تھا کہ قریش کے کفار کی مخالفت سے سابقہ پیش آئے گا۔ نبی ﷺ نے اِن آدمیوں سے ان حالات پر یقیناً گفتگو کی ہوگی، جن کے پیش آنے کا اندیشہ تھا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیش نظر اقدامات پر گفتگو کی گئی ہو اور اس سلسلے میں منصوبہ بندی کی گئی ہو۔

’بیعت حرب‘

جناب نعیم صدیقی  نے اس واقعہ کے چند پہلوئوں کی طرف اشارہ کیا ہے:

ہم ان کو یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔ ’’پھر یہ نئے جذبہ سے سرشار ہو کر آنے والے حجاج قریش سے بچ بچکر راتوںکو تاریکی میں اپنے قائد محبوب ﷺ سے ملے۔ اس بار پھر عہد و فا ازسر نو استوار کیا گیا۔ لیکن اب کا معاملہ بیعت النساء سے بہت آگے تک جا پہنچا۔ پہلی بیعت میں سیاسی پہلو صرف ایک نکتے سے نمایاں ہوتا تھا ۔ یعنی یہ اقرار کہ ہم ’’ محمد ﷺ کے معروف احکام سے سرتابی نہیں کریں گے لیکن اس مرتبہ سیاسی پہلو پوری خطرناکیوںکے ساتھ سامنے آگیا۔ اب محمد ﷺ کے ساتھ اپنے تعلق کے معنی قریش اور سارے عرب کے ساتھ برسرپیکار ہونے کے تھے۔ اوریہی معنی سامنے رکھ کر بیعت ثانیہ استوار کی گئی۔ گفتگو میں تحریک اسلامی کے ان یثربی سپاہیوں نے پیش آئند ممکنات کا پورا جائزہ لے کر کہا، کہ لوگوں( یعنی یہود) کیساتھ ہمارے معاہدانہ روابط ہیں اور ہمیں ان روابط کو توڑنا ہوگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہم یہ کرچکیں اور پھر اللہ تعالیٰ آپﷺ کو غلبہ عطا کرد ے تو آپﷺ اپنے خاندان والوں کیطرف لوٹ جائیں اور ہمیں چھوڑدیں، اس اندیشے کے جواب میں مسکراتے ہوئے حضور ﷺ نے فرمایا تمہارا خون میرا خون ہے ، تمہارے دشمن میرے دشمن ہیں، میں تمہارا اور تم میرے ہو۔ جس سے تمہاری جنگ اس سے میری جنگ ہے، جس سے تمہاری صلح اس سے میری صلح، عباسؓ بن عبادہ نے کہا’’ اے خزرج والو، جانتے ہو اس ہستی کے ساتھ پیمان باندھ رہے ہو۔ یہ لوگوں میں سرخ و سیاہ( ساری دنیا) سے جنگ کا پیمان ہے۔ اہل وفد نے پوری ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے جواب دیا، ہم اپنے مالوں کی تباہی، اپنے سرداروں کے قتل کے علی الرغم، آپﷺ کے ساتھ پیمان باندھ رہے ہیں، اس بیعت کی خاص نوعیت ہی کی وجہ سے اس کا نام ’’بیعت حرب‘‘ پڑگیا۔

اس بیعت کی مرکزی شرط یہ تھی کہ ہم تنگی میں اور آسانی میں، خوشی میں اور رنج میں، آنحضور ﷺ کا ہر اشارہ سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور حضور ﷺ کو اور حضور ﷺ کے فرمان کو اپنے آپ پر ترجیح دیںگے اور ہم اربابِ امر سے کش مکش نہیںکریں گے اور یہ کہ ہم اللہ کے دین کے معاملے میں ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔

یہ بیعت گویا اسلامی قصرِریاست کی پہلی اینٹ تھی اور ساتھ ساتھ کتابِ تحریک میں لکھے جانے والے بابِ ہجرت کا دیباچہ ! اس بیعت کے ذریعہ مستقبل کی اسلامی ریاست کے لیے گویا اس کے ہونے والے شہریوں نے برضا و رغبت محمد ﷺ کی قیادت کو قبول کرلیا، علاوہ بریں سمع و اطاعت کا نظم استوار ہو گیا۔

اس موقع پر صرف ایک پیمان ہی نہیں باندھا گیا بلکہ اجتماعی نظام کی بنیاد بھی رکھ دی گئی ، اسلامی تحریک کے قافلہ سالار نے شہری جماعت کی رائے سے بارہ نقیب مقرر کئے، نو خزرج میں سے، تین اوس میں سے ۔ ان نقیبوں کو مامور کیا گیا کہ تم اپنی قوم کے سارے معاملات کے ذمہ دارہو، بالکل اسی طرح جیسے عیسیٰ ؑبن مریم کے حواری ذمہ دار تھے اور جیسے خود میں اپنی پوری جماعت کا ذمہ دار ہوں۔ یہ گویا آنحضور ﷺ کے نائب تھے۔ ان کے تقرر سے منظم معاشرہ کی تعمیر کا کام باقاعدہ شروع ہوگیا۔

(ازجناب نعیم صدیقی، محسن انسانیت ، صفحہ نمبر : 238، 238 ) مکتبہ اسلامی دہلی، 2009 ء

اس عہد و پیمان کی عملی تصویر :

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس عہد و پیمان کی عملی تصویر دیکھیں تو ہمیں سورہ الاحزاب کی طرف رجوع کرنا ہو گا ۔ہم اختصار کی خاطر سورہ الاحزاب کی آیات  9 تا 11  اور آیات 22 تا 25  کےاردو پر ترجمہ اکتفاء کرتے ہیں۔

’’ائے لوگو! جو ایمان لائے ہو، یاد کرو اللہ کے اس احسان کو جو ( ابھی ابھی) اس نے تم پر کیا ہے، جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اسوقت کر رہے تھے۔ جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں۔ کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا مارے گئے( 9 تا 11 ) ‘‘

’’ اور مومنوں ( کا حال اس وقت یہ تھا کہ) جب انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکاراُٹھے کہ یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور رسول ﷺ کی بات بالکل سچی تھی ۔ اس واقعہ نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ ایمان لانے والے لوگوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انہون نے اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ( یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو انکی سچائی کی جزادے اور منافقوں کو چاہے تو سزادے اور چاہے تو انکی توبہ قبول کرے۔ بے شک اللہ غفور و رحیم ہے( 22 تا 25) ‘‘

اس عہد وپیمان کے نتائج:

سیرت نبوی ﷺ اور قرآن کریم کی آیات سے یہ بات ثابت  ہے کہ انصاری جان نثاروںنے اپنے وعدوں کو سچا کر دکھایا اور مدینہ میں ’’میثاق مدینہ ‘‘ کے زیر سایہ ایک اسلامی ریاست وجود پذیر ہوئی جس کے حاکم اعلیٰ خود رسول ﷺ تھے۔

نبی ﷺ اللہ کی طرف سے نبی بناکر بھیجے گئے تھے اور اسی حیثیت سے آپﷺ صدر ریاست، قاضی، حاکم، معلم، اورکمانڈر ان چیف تھے۔ نبی ﷺ وفات کے بعد مہاجرین اور انصار کو احساس ہوا کہ صدر ریاست کی جگہ خالی ہوگئی ہے اور ریاست بغیر صدر کے ایسے جسم کی طرح ہو جاتی ہے جس کا دھڑ تو موجود ہے‘ مگر سر غائب ہے اس لیے انہوں نے فوراً جمع ہو کر سیدنا ابو بکر ؓ کو صدر ریاست چُن لیا۔ اس طرح انتخاب کا عمل جو عقبہ میں شروع ہوا تھا وہ سیدنا ابو بکر ؓ کے انتخاب سے مکمل ہو کر خلافتِ راشدہ کے نام سے مشہور ہوا۔

روایات کے مطابق ، اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے سیدنا عمر ؓ نے چھ افراد کو نامزد کیا۔اس کمیٹی کے داعی سید نا عبدالرحمن بن عوف ؓ نے اہل مدینہ سے ان چھ حضرات کے بارے میں رائے معلوم کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ مدرسوں تک بھی پہنچے اور وہاں کے افراد سے رائے معلوم کی۔ آپ اس کو  رائے شماری(Opinion Poll) کہہ سکتے ہیں جس کے  بعد عبدالرحمن بن عوفؓ نے حضرت عثمان بن عفان کی خلافت کا اعلان کیا کیونکہ ان کے حق میں زیادہ رائیں آئی تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کے لحاظ سے انتخاب اور رائے دہندگی کے مراحل اسلام کے سیاسی نظام میں ظاہر ہوچکے تھے اور ان پر عمل کیا گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انتخاب اور رائے دہندگی اور رائے شماری کے طریقے اسلامی سیاسی نظام میں سامنے آچکے تھے۔ اس لیے یہ دعویٰ کہ اسلامی ریاست میں انتخابات کا کوئی وجود نہیں لاعلمی پر مبنی ہے۔

آج کا تقاضا

حالات امت مسلمہ سے یہ تقاضہ کر رہے ہیں کہ وہ انتخاب کے ذریعہ نمائندے اور حاکموں کو منتخب کرنے کی سنت پر عمل پیرا ہو اور جابر و ظالم حکمرانوں اور اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں  سے نجات حاصل کرے۔ ورنہ مسلمانوں کی قسمتوں کا فیصلہ ان کے اپنے ملکوں میں نہیں بلکہ، واشنگٹن ، لندن، ماسکو، اسرائیل وغیرہ میں ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ امت کو سنت نبوی ﷺ پرعمل کرنے کی توفیق  عطا فرمائے۔

استدراک

اس مضمون کو میں نے جناب محمد غوث الدین صاحب رکن جماعت اسلامی کو املا کرایا۔ اس  کے بعد ذہن میں یہ خیال آیا کہ مذکورہ آیات میں مومنین کا تذکرہ کیا گیا ہے۔  ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کو پورا کیا ، جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی جانیں نثار کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اوروقت کا انتظار کر رہے ہیں اور اہم ترین بات یہ ہے کہ ان کے موقف میں رتی برابر تبدیلی نہیں آئی۔

ایسا معلوم ہوتا  ہے کہ یہ آیات کریمہ ان انصار کے مبارک جذبات وا حساسات کی تصویر کشی کر رہی ہیں جو  اس وقت موجود تھے جب وہ عقبہ میں بیعت کر رہے تھے اور اس سلسلہ میں رسول ﷺ سے گفت و شنید کر رہے تھے۔

یقیناً ان آیات میں مذکور مبارک ہستیوں میں مہاجرین بھی شامل ہیں۔ جنہوںنے پوری پامردی سے آزمائش کے ہمت شکن دن گزارے اور اللہ کی خوشنودی کے لیے دوڑ دھوپ کی۔ واضح رہے کہ یہ آیات انہیں اصحاب تک محدود نہیں بلکہ ان  میں موجود بشارت کے دروازے قیامت تک تمام مومنین صادقین کے لیے کھلے ہیں۔

یہاں یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ سیرت اور قرآنی آیات میں بڑا گہرا ربط  پایا جاتاہے۔ اس پر تدبر و غور و فکر کی ضرورت ہے۔

نومبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau