اس سلسلہ مضامین میں یہ مرکزی موضوع زیر ِغور ہے کہ ہندوستان کی ملتِ اسلامیہ کے لیے عروج و سربلندی اور کام یابی و کام رانی کے لیے کس طرح کا اجتماعی رویہ درکار ہے اور قرآن کی روشنی میں یہ رویہ کن صفات سے تشکیل پاتا ہے؟ گذشتہ ماہ ہم نے شکر کے موضوع پر کچھ گذارشات پیش کی تھیں۔ اس ماہ ہم ’توبہ‘ کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ قرآن مجید توبہ کو بھی اُن اساسی صفات میں شامل کرتا ہے جن پرقوموں کی دنیوی اور اخروی کام یابی کا دار ومدار ہے۔ اس مضمون میں واضح کیا جائے گا کہ توبہ انفرادی بھی ہوتی ہے اور اجتماعی بھی۔ توبہ ایک فرد کا روحانی عمل بھی ہے اور ایک معاشرے کا سماجی عمل بھی۔ زیر ِنظر موضوع کا اصل ارتکاز توبہ کے اسی دوسرے پہلو پر ہے۔ اجتماعی توبہ کا یہ سماجی عمل ہی در اصل قوموں کی نشاۃ ثانیہ کا اصل محرک ہوتا ہے اور اسی پر ان کی کام یابی اور عروج و سربلندی کا انحصار ہوتا ہے۔
توبہ اور قوموں کے لیے اس کی اہمیت
صبر، توکل، شکر وغیرہ کی طرح، توبہ و استغفار بھی اُن الفاظ میں شامل ہے جو قرآن میں کثرت سے آئے ہیں۔ قرآن میں تقریباً 87 مقامات پرتوبہ اور اس کے مشتقات مذکور ہیں۔ استغفار (جو کہ توبہ کی ہی ایک شکل ہے) اور اس کے مشتقات تو دو سو سے زیادہ مرتبہ آئے ہیں۔ اسے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اہم صفت اور اُن کا وصفِ امتیازی قرار دیا ہے۔ التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔ ’’توبہ کرتے رہنے والے، عبادت گزار، شکر گزار، ریاض کرنے والے، رکوع وسجدہ کرتے رہنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی نگہ داشت رکھنے والے اصلی مومن ہیں اور مومنوں کو خوش خبری سنا دو۔‘‘ (التوبۃ: 112) اس آیت میں توبہ کو اہل ایمان کی پہلی صفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف توبہ نہ کرنے والوں کو قرآن نے ظالم قرار دیا ہے۔ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ۔ ’’اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔‘‘(الحجرات:11 )
قرآن مجید میں توبہ کا ذکر افراد کے حوالے سے بھی آیا ہے اور قوموں کے حوالے سے بھی آیا ہے۔ جہاں افراد کو کفر سے اور گناہوں سے توبہ کرکے خدا کی طرف پلٹنے کا حکم دیا گیا ہے وہیں قوموں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اجتماعی طور پرتوبہ کریں، خدا کی طرف رجوع کریں اور اپنی اجتماعی روش کو بدلیں۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. ’’مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے۔‘‘ (النور:31)
قرآن مجید کے مطابق اخروی کام یابی و نجات کے لیے تو توبہ ناگزیر ہے ہی، اس مادّی دنیا میں قوموں کی ترقی اور فلاح و سربلندی کے لیے بھی توبہ ایک لازمی شرط ہے۔ ہود علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب نقل کیا گیا ہے۔ یٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا وَّیزِدۡکُمۡ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِیۡنَ۔ ’’اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے ربّ سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمھاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔‘‘ (هود:52) اس آیتِ کریمہ میں توبہ و استغفار کے دنیوی فائدوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک پوری قوم سے کہا جارہا ہے کہ وہ توبہ کرے اور اس کے نتیجے میں اُسے رزق کی کشادگی اور قوت و طاقت میں اضافے یعنی اجتماعی معاشی وسیاسی کام یابیوں کی بشارت دی جارہی ہے۔ یہی بات نوح علیہ السلام نے بھی کہی۔ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًايُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا. وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا۔ ’’میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہےوہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا تمھیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمھارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کر دے گا۔‘‘ (نوح:11 اور12) اس آیت میں بھی ذرائع معاش میں ترقی اور معاشی آسودگی کو توبہ کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے بھی یہی بشارت سنائی۔ وَاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیهِ یمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ یؤْتِ كُلَّ ذِی فَضْلٍ فَضْلَهُ ’’اور یہ کہ تم اپنے ربّ سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آوٴ تو وہ ایک مدّتِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔‘‘ (هود: 3)
مولانا مودودیؒ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’یعنی دنیا میں تمھارے ٹھہرنے کے لیے جو وقت مقرر ہے اس وقت تک وہ تم کو بری طرح نہیں بلکہ اچھی طرح رکھے گا۔ اس کی نعمتیں تم پر برسیں گی۔ اس کی برکتوں سے سرفراز ہوگے۔ خوش حال و فارغ البال رہو گے۔ زندگی میں امن اور چین نصیب ہوگا۔ ذلت و خواری کے ساتھ نہیں بلکہ عزت و شرف کے ساتھ جیو گے۔‘‘[1]
گویا قرآن کے مطابق، توبہ جہاں افراد اور قوموں کی اخروی نجات و فلاح کے لیے لازمی ہے وہیں قوموں کی اس دنیا میں فوز و فلاح اور کام یابی و سربلندی کا بھی توبہ پر انحصار ہے۔
توبہ کیا ہے؟
توبہ کے معنی رجوع کرنے یا پلٹنے کے ہیں۔ امام ابن قیمؒ لکھتے ہیں:
هي الرجوع عما يكرهه الله ظاهراً وباطناً إلى ما يحبه الله ظاهراً وباطناً[2]… لَا تَصِحُّ التَّوْبَةُ إِلَّا بَعْدَ مَعْرِفَةِ الذَّنْبِ، وَالِاعْتِرَافِ بِهِ، وَطَلَبِ التَّخَلُّصِ مِنْ سُوءِ عَوَاقِبِهِ أَوَّلًا وَآخِرًا۔[3] (جو کچھ اللہ کوناپسند ہے چاہے وہ ظاہری امور سے متعلق ہو یا باطنی امور سے متعلق، اس سے پلٹ کر جو کچھ اللہ کوظاہری و باطنی طور پرپسند ہے، اُس کی طرف آنا توبہ ہے۔ غلط کاریوں اور ان کی سنگینیوں کے صحیح شعور، اعتراف اور اُن کے برے عواقب سے چھٹکارے کی کوشش کے بغیرتوبہ ممکن نہیں ہے۔)
گویا توبہ اصلاً اللہ کی طرف پلٹنے کا نام ہے۔ اللہ کی طرف پلٹنے کا مطلب اللہ کی رضا کی طرف پلٹنا، اللہ کو ناپسند اعمال سے اس کے پسندیدہ اعمال کی طرف، غلط افکار سے درست افکار کی طرف، غلط رویوں سے اچھے رویوں کی طرف، غلط عادتوں سے اچھی عادتوں کی طرف، غلط جذبات سے اُن پاکیزہ جذبات کی طرف جو اللہ کو محبوب ہوں، زندگی کے غلط مقاصد اور اہداف سے اُن اعلیٰ مقاصد و اہداف کی طرف پلٹنا جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کیے ہیں۔ غرض یہ کہ اللہ کو خوش کرنے والی زندگی کی طرف پلٹ کر آنا ہی توبہ ہے۔ جب پوری قوم اس طرح پلٹتی ہے اور اپنے اجتماعی خیالات، رویوں، عادتوں، جذبوں اور اہداف میں ایسی ٹھوس تبدیلی لاتی ہے تو اسےاجتماعی توبہ کہا جاسکتا ہے۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں:
توبہ کے دو رکن ہیں۔ ایک منفی دوسرا مثبت۔ منفی تو یہ ہے کہ آدمی نے جوغلط عقائد و اعمال اختیار کر رکھے ہیں ان سے دست بردار ہو، مثبت یہ ہے کہ ان کی جگہ صحیح عقائد و اعمال اختیار کرے۔ پہلے کے لیے استغفار کا لفظ ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے ملتجی ہو کہ وہ اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور ان پر اپنے عفو و کرم کا پردہ ڈالے۔ دوسرے کے لیے توبہ کا لفظ ہے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ یعنی بندہ زندگی کی اس صراط مستقیم کی طرف رجوع کرے جو خدا نے اس کو بتائی ہے اور جو اس کو خدا تک پہنچانے والی ہے۔ ان میں سے پہلے کی بنیاد خشیت پر ہے اور دوسرے کی محبت پر، پھر شعور اور احساس ان کا لازمی جزو ہے۔ جب تک یہ تمام عناصر جمع نہ ہوں۔ مجرد، توبہ توبہ، یا استغفر اللہ، کے ورد سے وہ توبہ وجود میں نہیں آتی جو خدا کے ہاں قبولیت کا درجہ پائے۔[4]
توبہ کی تعریف میں اہل علم نے ’شعور‘ کو بڑی اہمیت دی ہے۔ حدیث رسول ﷺ ہے: الندم توبة[5] (ندامت ہی توبہ ہے) گویا توبہ کا عمل ایک شعوری عمل ہے اور اصلاً قلب و ذہن میں انجام پاتا ہے۔ توبہ کے عمل کا آغاز ہی شعور سے ہوتا ہے۔ غلطیوں، غلط افکار،غلط اعمال، غلط رویوں اور غلط عادتوں کی تشخیص اوران کے غلط، تباہ کن اور اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہونے کا گہرا شعور و ادراک توبہ کی پہلی شرط ہے۔
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ توبہ تین ترتیب وار امور اور ان کی تنظیم کا نام ہے۔ علم، حال اور فعل۔ علم کا مطلب غلطیوں کی معرفت اور اُن کا شعور ہے۔ حال کا مطلب اس شعور کے نتیجے میں قلب و ذہن کی خاص کیفیت ہے یعنی رنج و افسوس، ندامت اور اصلاح کے مضبوط عزم کی کیفیت کا دل میں پوری قوت کے ساتھ موجزن ہونا اور فعل کا مطلب غلطیوں کی اصلاح اور تلافی کے لیے عملی اقدام ہے۔ یہ تینوں مراحل اسی ترتیب سے مکمل ہوتے ہیں اور ہر اگلا مرحلہ پہلے مرحلے کے بغیر مکمل نہیں ہوپاتا۔[6]
توبہ کا تعلق صرف گناہوں سے نہیں ہے، غفلت سے بھی ہے۔ پانچویں صدی ہجری کے مشہور مفسر، محدث اور صوفی علامہ قشیریؒ، ذوالنون مصری ؒکے حوالے سے لکھتے ہیں :
توبة العوام من الذنوب، وتوبة الخواص من الغفلة.[7] (عام لوگوں کی توبہ گناہوں سے ہوتی ہے اور خاص لوگوں کی توبہ غفلت سے ہوتی ہے)‘‘
غفلت کی وجہ سے ضروری نہیں کہ گناہوں ہی کا صدور ہو۔ غفلت کا نتیجہ بے عملی، بے حسی، جمود اور تعطل کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ غفلت کے نتیجے میں کم زوریوں اور کوتاہیوں کے سلسلے میں چوکسی اور احتیاط کی کیفیت کم زور ہوجاتی ہے اور اعمال خیر کے سلسلے میں عزم ،امنگ اور تیزی و مستعدی باقی نہیں رہتی۔ آدمی لاپروا اور سست رو بن جاتا ہے۔ گویا اعمال خیر اور اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی میں سست روی، کوتاہی اور امکانات کے مقابلے میں ناقص کارکردگی بھی غفلت ہی کی شکلیں ہیں اور بے عملی کی یہ حالت بھی بری حالت ہے اور توبہ چاہتی ہے۔
علامہ قشیریؒ غفلت ہی کو اساس بناکر توبہ کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:
التوبة انتباه القلب عن رقدة الغفلة ورؤية العبد ما هو عليه من سوء الحالة ويصل إلى هذه الجملة بالتوفيق للإصغاء إلى ما يخطر بباله من زواجر الحق سبحانه بسمع قلبه۔[8] (توبہ غفلت کی نیند میں قلب کی تنبیہ کا نام ہے، جس کے نتیجے میں بندہ اپنے حالات کی خرابیوں کو پہچان لیتا ہے اور پھر اپنے دل کے کان سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی تنبیہوں کو سن کر سنبھل جاتا ہے۔)
اسی طرح توبہ کا عمل صرف فسق وفجور، صریح غلط کاریوں اور غفلت و بے عملی کی واضح کیفیت ہی کے ساتھ وابستہ نہیں ہے بلکہ توبہ مسلسل ارتقا کا نام ہے۔ بندہ یا قوم جس حالت میں بھی ہے اُس سے بہتر حالت کی طرف پیش رفت توبہ ہے۔ ایک اور صوفی لکھتے ہیں:
التوبة على ثلاثة أنواع: واحدة من الخطأ إلى الصواب، والثانية من الصواب إلى الأصوب والثالثة من النفس إلى الحق۔[9] (توبہ کے تین مدارج ہیں۔ پہلا خطا سے صواب کی طرف یعنی غلط اعمال و رویوں سے درست اعمال و رویوں کی طرف، دوسرا صواب سے اصوب کی طرف یعنی صحیح راستے سے زیادہ بہتر اور کامل تر راستے کی طرف یعنی بہتر سے بہتر کی طرف اور تیسرا اپنے نفس سے خالصتاً حق تعالیٰ کی طرف، یعنی انسان کا اپنی خودی، اپنی مرضی اور اپنی ہستی کے حجابوں سے نکل کر مکمل طور پر اللہ (الحق) کی رضا میں گم ہوجانا۔)
بعض لوگوں نے توبہ من الحسنات (’نیکیوں سے متعلق توبہ‘) کی اصطلاح بھی استعمال کی ہے۔[10]اس کے مطالب میں نیک کاموں کے بعد اس میں رہ جانے والی کوتاہیوں اور غفلتوں کے لیے توبہ، نیک کام کے صحیح فہم و شعور میں ہونے والی غلطیوں کے لیے توبہ (مثلاً غلط یا مضر کام کو نیک یا مفید کام سمجھ کر کرنا) اور نیک کاموں کے بعد دل میں پیدا ہونے والے غرور اور خودپسندی کے جذبات سے توبہ وغیرہ، بیان کیے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ یہ مفہوم بھی یقیناً شامل ہے کہ نیک کام کرنے کے بعد آدمی اُس نیکی کے معیار کو اور بلند کرنے اور بہتر سے بہتر کام کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرے۔
یہ باتیں بھی جس طرح افراد کے لیے درست ہیں اسی طرح جماعتوں اور ملتوں کے لیے بھی درست ہیں۔ جب کوئی قوم اجتماعی طور پر اپنی غلطیوں سے واقف ہوتی ہے، اُن غلطیوں کا گہرا شعور پیدا کرتی ہے، اُن کے سلسلے میں شرمساری، رنج اور انھیں بدلنے کے ارادے کی کیفیت پیدا کرتی ہے اور پھر تبدیلی کے لیے ٹھوس قدم اٹھاتی ہے تو گویا وہ اجتماعی توبہ کرتی ہے۔ اجتماعی توبہ بھی صرف غلط کاریوں سے متعلق امور تک محدود نہیں ہوتی بلکہ حالت کو بہتر بنانے اور ترقی کی اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے بھی توبہ کا مرحلہ درکار ہوتا ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں توبہ کا لفظ، بندوں کے لیے بھی آیا ہے اور اللہ کے لیے بھی آیا ہے۔ تواب کا مطلب ہے بہت زیادہ توبہ کرنے والا۔ یہ لفظ بندوں کے لیے بھی آیا ہے۔ اِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ۔’’بے شک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222) اور ٹھیک یہی لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی آیا ہے۔ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ ’’وہ رحم کرنے والا اور تواب ہے۔ (البقرة:37) اللہ تعالیٰ نے توبہ کے عمل کو بھی اپنے ساتھ منسوب کیا ہے۔ إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّـهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُولَـٰئِكَ يَتُوبُ اللَّـهُ عَلَيْهِمْا۔ ’’توبہ خدا کے ذمہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو جہالت کی بناء پر برائی کرتے ہیں اور پھر فوراً توبہ کرلیتے ہیں کہ خدا ان کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے وہ علیم و دانا بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی.‘‘(البقرة:37) خدا سے معافی طلب کرنے کے عمل کو بھی توبہ کہا گیا ہے اور اللہ کی جانب سے اس معافی کو قبول کرنے اور بخشش کرنے کے عمل کے لیے بھی توبہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب بندے پلٹتے ہیں، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، غلط راستوں سے اچھے راستوں کی طرف آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی طرف نظر کرم کرتا ہے۔ اس کی رحمت اُن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور دنیا و آخرت کے انعامات کی بارش ہونے لگتی ہے۔ بندوں اور اللہ کے درمیان یہ تعامل بھی دونوں سطحوں پر یعنی انفرادی و اجتماعی سطحوں پر ہوتا ہے۔ جب افراد خدا کی طرف پلٹتے ہیں تو اللہ تعالی کا فضل ان کو آ لیتا ہے، ان کی مغفرت ہوتی ہے اور وہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار پاتے ہیں اور جب قومیں اور ملتیں اجتماعی توبہ کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اُن کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور انھیں رزق کی کشادگی، عروج و ترقی، امن و امان، عزت و سربلندی اور غلبہ و قوت کی نعمتیں میسر ہوتی ہیں۔
اس گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اجتماعی توبہ کے لیے اصلاً دو خصوصیات درکار ہیں۔
پہلی خصوصیت اپنی غلطیوں، کم زوریوں اور غلط رویوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت ہے۔ خود کا احتساب کرنے اور اپنی غلطیوں کو سمجھنے کی صلاحیت۔ توبہ کی اس صلاحیت کا پہلا مرحلہ غلطیوں کا شعور و فہم ہے۔
دوسری خصوصیت، اپنے آپ کو بدلنے کا مضبوط عزم اور تبدیلی کی صلاحیت (changeability) ہے۔ جب تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو، محسوس ہو کہ ہمارا کوئی عمل، کوئی رویہ، کوئی عادت اللہ کی مرضی کے خلاف ہے تو ہم فوری خود کو بدل سکیں۔
اجتماعی توبہ کی پہلی ضرورت: غلطیوں کا شعور و ادراک
توبہ کا پہلا مرحلہ غلطیوں، کم زوریوں اور غلط رویوں کا اجتماعی احساس ہے۔ اس احساس کے بغیر توبہ کا عمل شروع ہی نہیں ہوسکتا۔ قوموں کے لیے زوال، کم زوری اور شکست جیسے بحران (crises) بالعموم اجتماعی کم زوریوں کے نتائج ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قوموں پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ اُن کی کم زوریوں کی وجہ سے آتی ہے۔ وَمَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیدِیكُمْ وَیعْفُوْا عَنْ كَثِیرٍ۔ ’’تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمھارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے۔‘‘(الشوریٰ: 30) طویل عرصے تک پنپنے والی اجتماعی کم زوریاں، اجتماعی عادت اور معمول(social norm) بن جاتی ہیں۔ ان کے نامناسب یا غلط ہونے کا احساس کم زور ہوجاتا ہے۔ غلط سوچ، نقصان دہ طرزِ فکر اور احوال و واقعات کو دیکھنے کا منفی اور ضرررساں زاویہ، اجتماعی طور پوری قوم کا اجتماعی رویہ (social attitude) بن جاتا ہے۔ جب اجتماعی شعور اپنی کم زوریوں سے غافل ہوجاتا ہے تو ہر ناکامی اور زوال کی ہر علامت کے اسباب کی تلاش میں نگاہیں بیرون پر مرکوز ہوجاتی ہیں۔ ہر مسئلے کے لیے بیرونی عوامل کو ذمے دار سمجھا جانے لگتا ہے۔ قدیم رویوں اور موروثی عادتوں کو، خواہ وہ کتنی ہی نقصان دہ ہوں، سینے سے چمٹاکر رکھا جاتا ہے۔ بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّهْتَدُونَ.‘‘نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔‘‘ (الزخرف:22) نقصان دہ روایات اور ضرر رساں رویے بھی اجتماعی شعور میں خوبیوں کے طور پر جگہ بنالیتے ہیں۔ أَفَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا۔ ’’بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کرکے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو[کیا وہ نیکوکار آدمی جیسا ہوسکتا ہے]۔‘‘ (فاطر:8) ناپسندیدیدہ حقائق کو نظر انداز کرنے اور شتر مرغ کی طرح طوفان کے دوران ریت میں سر چھپانے کا مزاج عام ہوجاتا ہے۔ خود احتسابی اور اپنی کم زوریوں پر توجہ کے لیے آمادگی نہیں ہوتی۔ غلط رویے، اجتماعی کلچر ہی نہیں بلکہ شناخت (identity) کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اُن کی اصلاح کے بجائے نہ صرف ان کی توجیہ وتاویل بلکہ ان پر فخر کا احساس عام ہونے لگتا ہے۔
جدید اجتماعی نفسیات میں مختلف تصورات کے حوالوں سے یہ کیفیت زیر بحث رہی ہے۔ مثلاً شعوری نا ہم واری کا نظریہ [11] (cognitive dissonance)اجتماعی سوچ کانظریہ[12] (group think)خود غرضانہ عصبیت [13] (self-serving bias)اور اشرافیہ کے نابینا پن کا نظریہ [14](elite blindness)۔ ان نظریات کی اکیڈمک تفصیل سے ہم اس بحث کو بوجھل کرنا نہیں چاہتے، مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اب سماجیات، سیاسیات اور اجتماعی نفسیات کے سائنسی مطالعات سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کم زوریوں کاعدم ادراک، ایک اجتماعی مرض بھی ہوتا ہے اور قوموں کے زوال و ضعف میں اس مرض کا بڑا دخل ہوتا ہے۔
توبہ کرنے والی قوم کی پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ مصیبت آنے پرسب سے زیادہ اپنی کم زوریوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ وہ بر وقت محسوس کرلیتی ہے کہ اس مصیبت کے لیے اس کی کون سی کم زوریاں ذمے دار ہیں۔ قرآن مجید مصیبتوں کا ایک اہم مقصد یہی بتاتا ہے کہ وہ وارننگ ہوتی ہیں۔ کم زوریوں اور کوتاہیوں کا شعور پیدا کرنے اور ان کی طرف متوجہ کرنے کے لیے خدا کی جانب سے تنبیہ ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی کم زوریوں کو محسوس کریں، ان پر توجہ دیں اور توبہ کریں۔ أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ۔ ’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں؟ مگر اِس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔‘‘(التوبۃ: 126)مصیبتیں اور مشکلات قوموں کے نقطہ کور (blindspot)کو دور کرنے اور ان کی ’بینائی‘ کا علاج کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جھنجوڑ کر جگانے کا عمل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں قومیں چونک کر بیدار ہوں اوراپنی کم زوریوں کا شدید اجتماعی احساس ان کے اندر پیدا ہو۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے توبہ کی تعریفوں میں استشعار قبح الحال الجماعي (اپنے اجتماعی احوال میں موجود قباحتوں کا شعور) کہا گیا ہے۔ اس کے لیے جہاں خرابیوں سے واقفیت درکار ہے وہیں اُن کے سلسلے میں بے چینی و اضطراب کی کیفیت بھی ضروری ہے، یعنی وہ کیفیت جس کے لیے امام غزالی نے ’حال‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے اور قرآن مجید نے اس کے لیے ایک بڑی معنی خیز اصطلاح ’ضیق نفس‘ استعمال کی ہے۔ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ ’’اور اُن تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انھوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں، یقیناً وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔‘‘ (التوبة: 118)
اجتماعی توبہ کی ایک اہم مثال قرآن مجید نے حضرت یونس علیہ السلام کی اشوری قوم کی دی ہے۔ جب یونس علیہ السلام نینوا کی بستی سے ناراض ہوکر چلے گئے اور نینوا پر عذاب کے آثار پیدا ہونے شروع ہوئے تو اشوریوں کو اپنی غلطی کا ادراک ہوا۔ انھیں احساس ہوگیا کہ انھوں نے اللہ کے نبی کی نافرمانی کی ہے اور بڑا جرم کیا ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ لوگ خدا کے خوف سے گھروں سے نکل آئے۔ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو لے کر، روتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے اور پہاڑوں کی طرف چل دیے۔ جو مظالم ایک دوسرے پر کیے تھے، اُن کی معافیاں تلافیاں کرنے لگے۔ شوہر، بیویوں سے اور مائیں بچوں سے الگ ہوگئیں، جسموں پر راکھ مل لی اور عجز و انکساری کی بھرپور کیفیت کے ساتھ گڑگڑا کرتوبہ کرنے لگے۔[15] اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا۔ ’’ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب دور کردیا۔‘‘(يونس: 98) [16]
اس طرح اجتماعی توبہ کا پہلا مرحلہ اجتماعی خرابیوں، کوتاہیوں، بے عملیوں، سستی و غفلت کا اجتماعی طور پر گہرا شعور وادراک ہے۔
دوسری ضرورت: اصلاح کے لیے خود کو بدلنے کی صلاحیت
شعور و ادراک کے بعد دوسری مطلوب خصوصیت تبدیل ہونے کی صلاحیت ہے۔ کام یابی کے لیے بیک وقت ثبات و استقامت اور تغیر و تبدیلی دونوں طرح کی خصوصیات درکار ہیں۔ حق پر اور اصولوں و اقدار پر تو جماؤ، ٹھہراؤ، استقامت (stability) درکار ہے۔ جب کہ کم زوریوں، غلطیوں، نقائص اور اذکار رفتہ اور فرسودہ طور طریقوں کے معاملے میں تبدیل ہونے، پورے کلچر میں تیزی سے بدلاؤ لانے اور تبدیلی قبول کرنے کی صلاحیت درکار ہے[17]۔
زوال اور کم زوری کا ایک بڑا سبب تبدیلی کی مزاحمت(change resistance) ہوتا ہے۔ قومیں اور اجتماعی گروہ کم زوریوں کو محسوس کرنے کے باوجود اور درکار تبدیلی کا شعور رکھنے کے باوجود خود کو بدل نہیں پاتے۔ عادات، روایات، طور طریقے، کلچراور سماجی ادارے اتنے مستحکم ہوجاتے ہیں کہ انھیں بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔
سماجیاتی تجزیوں میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تاریخ گرفتگی (path dependence)کی[18]۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اس لیے خود کو نہیں بدل پاتے کہ ہم تاریخ کی غلامی میں قید ہوجاتے ہیں۔ قدیم فیصلے، واقعات، حالات، بزرگوں کی روایات اوران سب کے نتیجے میں بننے والا اجتماعی کلچر ہم کو نئی راہوں پر آگے بڑھنے نہیں دیتا۔ پرانے اداروں اور معمول کے کاموں کا بوجھ ہمیں نئے اقدامات کرنے نہیں دیتا۔ پرانے فیصلوں اور ضوابط کی بندشیں ہماری چوائس کو محدود کردیتی ہیں۔ یہ سب چیزیں یعنی روایات، قدیم فیصلے، تاریخ، قدیم ادارے، کلچر وغیرہ مل کر باقاعدہ ایک ’نظام‘ تشکیل دے ڈالتے ہیں جو جمود (status quo)پر اصرار کرنے لگتا ہے۔ جامد نظام، جمود پسند قیادتوں کو ابھارتا ہے اور جمود پسند قیادتیں اداروں کو مزید کم زور کرتی ہیں، یہاں تک کہ فساد کی کیفیت ایک خودکار(automatic) اور خود کو برقرار رکھنے والے نظام (self sustained)میں ڈھل جاتی ہے۔ قرآن اس حقیقت کو بڑے بلیغ طریقے سے بیان کرتا ہے کہ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ۔ ’’وہ نافرمان جابروں کی اتباع میں لگے رہتے ہیں۔‘‘ (ھود 11:59) یعنی قوموں کے غلط فیصلے اور اقدامات صرف وقتی لغزشوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ جبر اور فساد پر مبنی قیادت اور طریقوں کی پیروی کرتے کرتے ایک مستقل رویے اور اجتماعی مزاج میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہی پیروی دراصل تاریخ گرفتگی ہے۔ قرآن کے تاریخی بیانیے اس کی بڑی چشم کشا تفصیل پیش کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے تاریخ کے حوالوں سے بتایا ہے کہ کیسے قوموں میں پہلے اخلاقی انحراف پیدا ہوتا ہے، پھر وہ سماجی معمول اور قابلِ قبول رویہ بن جاتا ہے، اس کے بعد پورا سماجی ڈھانچہ اسی انحراف پر تشکیل پانے لگتا ہے اور آخرکار قوم زوال یا ہلاکت کا شکار ہو جاتی ہے۔ قومِ نوحؑ میں انکار ایک اجتماعی ذہنیت بن گیا، قومِ شعیبؑ میں دھوکہ و فریب نے سماجی معمول کی حیثیت اختیار کرلی، عاد و ثمود میں تکبر اور طاقت کے غرور نے قومی شعار کی حیثیت اختیار کرلی، قوم لوطؑ نے بے حیائی اور جنسی بے راہ روی کو اپنی قومی شناخت کا قابل فخر حصہ بنالیا اور بنی اسرائیل میں مذہبی قیادت نے بے روح دین داری کے کلچر کو فروغ دے کر اُسے قومی مزاج کا حصہ بنا ڈالا۔ یہ سب دراصل اُسی تاریخی جمود کی مثالیں ہیں جس میں غلط کاری اور بے عملی ایک وقتی لغزش نہیں رہ جاتی بلکہ قومی مزاج کے مستقل جزء اور ایک ایسے جابرانہ نظام کی شکل اختیار کرلیتی ہے کہ کسی فرد کے لیے اس سے بچنا ایک مشکل اور چیلنجنگ کام بن جاتا ہے۔
اس ماحول میں اصلاح بے حد مشکل ہوجاتی ہے۔ غلط رویوں کے غلط ہونے کا احساس بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ غلطی قومی عادت بن جاتی ہے۔ لوگ اسی کے مطابق سوچتے ہیں، فائدے اسی میں دیکھتے ہیں اور تبدیلی کو خطرہ سمجھتے ہیں۔[19] ایسی صورت میں توبہ کا عمل صرف جزوی اصلاح سے مکمل نہیں ہوسکتا بلکہ ایک گہرا، شعوری اور ہمہ گیر تبدیلی کا عمل یا انقلابی عمل درکار ہوتا ہے۔
گویا اجتماعی توبہ ایک انقلابی قوت کا نام ہے۔ تاریخ کی زنجیر کو توڑنے کا عمل ہے۔ قوم اپنی غلط سمت کو پہچانے، اُس کے قبح کو محسوس کرے، اس سے شعوری طور پر رجوع کرے اور اس کے برعکس ایک نیا راستہ اختیار کرے، یہ محض انفرادی ندامت نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی ازسرِ نو تشکیل، اقدار کی تبدیلی اور اداروں کی اصلاح کا عمل ہے۔
تبدیلی کے اس عمل کے لیے اُس صفت کی ضرورت ہے جسے جدید اصطلاح میں ’ایجنسی‘ (agnecy)کہا جاتا ہے۔ ایجنسی کا مطلب ارادے اور عمل کی آزادی ہے۔ دوسروں کی دی ہوئی آزادی نہیں بلکہ اپنے معاملات میں خود آزادانہ سوچنے، ارادہ و فیصلہ کرنے، پیش قدمی کرنے اور عمل کرنے کی صلاحیت۔ یہ محسوس کرنا کہ ہمیں اپنے اصولوں کے مطابق اپنے فیصلے خود کرنے ہیں۔[20] مشکل اور چیلنجنگ حالات میں جب کہ بیرونی طاقتیں اور عوامل آپ کو کنٹرول کرنا چاہیں، یا تو آپ کو دبانا چاہیں یا اکسانا چاہیں، اُس موقع پربھی اپنی خود مختاری برقرار رکھنا، اپنے فیصلے خود کرنا، اپنے معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنا، اپنے اقدامات کو محض ماحول یا بیرونی عوامل کے تابع رکھنے کے بجائے اپنے اصولوں اور قدروں کے تابع رکھنا، اسے ایجنسی کہتے ہیں۔ ایجنسی کا متضاد اسٹرکچر ہے۔ بیرونی عوامل، قوانین، سماجی دباؤ، حکومتوں کا استبداد اور تاریخ گرفتگی یہ سب اسٹرکچر ہے۔ رد عمل کی نفسیات ہماری توجہات کو صرف انھی بیرونی امور پر مرکوز کراتی ہے۔ ہم یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ہماری زندگی اور ہمارے معاملات مکمل طور پر یا تو دوسروں کی دسترس میں ہیں یا خود اپنی تاریخ اور اپنے اجتماعی کلچر کی قوت کے آگے ہم بے بس ہیں۔ ہمارے رویوں، فیصلوں اور اقدامات پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ کسی بھی طرح کی مطلوبہ تبدیلی ناممکن اور ہمارے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ یہ بے اعتمادی ہمارے پیروں کی بڑی زنجیر بن جاتی ہے اور تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔
ہر طرح کے بیرونی جبر کے باوجود، اپنے ارادے اور عمل کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت کا نام ایجنسی ہے۔ حالات کو دیکھنے اور اس کے نفسیاتی اثرات کو قبول کرنے میں آپ بیرونی عوامل کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور اندرونی عوامل کو کتنی؟ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک زاویہ یہ ہے کہ آپ اپنے مسائل اور پریشانیوں کے لیے زیادہ تر بیرونی عوامل کو ذمے دار سمجھیں۔ اس صورت میں شکایت، ماتم، احتجاج اور ردّعمل کی نفسیات حاوی ہوتی ہے۔ دوسری اپروچ یہ ہے کہ آپ زیادہ یہ سوچیں کہ حالات کو بدلنے اور بہتر بنانے کے لیے آپ خود کیا کرسکتے ہیں؟ آپ کے پاس کیا متبادلات (choices)ہیں؟ آپ کا بہتر سے بہتر رسپانس کیا ہوسکتا ہے؟ یہ دوسری اپروچ اصلاً ایجنسی کہلاتی ہے۔[21]
صحابہ کرام نے تبدیلی کی اس صلاحیت کا غیر معمولی مظاہرہ کیا۔ کتنے واقعات ملتے ہیں کہ وہ ایک منٹ پہلے اسلام کے دشمن تھے اور جس لمحہ بات سمجھ میں آگئی، اچانک آناً فاناً وہ ایک نئے انسان بن گئے۔ نبی کریمﷺ کے سچے جان نثار بن گئے۔ ایک لمحے کے اندر اسلام کے دشمن سے اسلام کے شیدائی اورداعی و مبلغ بننے کا طویل سفر طے کرلیا۔ یہ معاملہ صرف انفرادی امور تک محدود نہیں تھا۔ رسول اللہﷺ کی قیادت میں عرب کے معاشرے میں جو تبدیلی آئی وہ بلاشبہ انسانی تاریخ کی تیز ترین، ہمہ گیر ترین حیرت انگیز سماجی تبدیلی تھی۔ اس تبدیلی نے صدیوں کے سماجی ڈھانچوں کو بدل ڈالا۔ گہری روایتوں کو تہہ و بالا کرڈالا۔ سماجی معمولات کا پورا منظر نامہ بدل ڈالا۔ جو اجتماعی عادتیں اور رویے قومی شناخت کا حصہ تھے، جن پر صدیوں سے فخر کیا جاتا تھا اور نسل در نسل، سینہ بہ سینہ جن کی دل و جان سے حفاظت کی جاتی رہی تھی، وہ سب اس ہمہ گیر انقلاب کی زد میں آکر ایسے بدلے کہ ایک بالکل نیا معاشرہ اور نئی قومی شناختوں نے جنم لیا۔
قرآن میں شراب کی ممانعت کا حکم آیا تو جو قوم صدیوں سے شراب کی عادی تھی اُسے اس عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ایک منٹ نہیں لگا۔ بعض گھروں میں قیمتی قدیم شرابیں کئی کئی نسلوں سے حفاظت کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ شراب کے یہ بڑ ے بڑے اور قیمتی گھڑے آن واحد میں توڑ ڈالے گئے۔ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت نقل کی گئی ہے کہ فَجَرَتْ في سِكَكِ المَدِينَةِ[22] (مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔) حجاب کا حکم آیا تو شَقَّقْنَ مُرُوطَهُنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِهَا[23] (خواتین نے بغیر انتظار کیے اپنی چادریں پھاڑکر اوڑھنیاں بنالیں اور اپنے اوپر ڈال لیا۔) زیب و زینت کے نسوانی پیمانوں اور سماجی معیارات (fashion trends)کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں اور خواتین ان سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ ان کو بدل ڈالنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا۔ خود کو اور اپنے رویوں کو فی الفور تبدیل کرنے کی ایسی صلاحیت توبہ کے لیے ضروری ہے۔
گویا اجتماعی توبہ دراصل ایک تہذیب کی اخلاقی، فکری اور ادارہ جاتی ازسرِ نو تشکیل (moral reprogramming) ہے، جو اسے زوال کے بند راستے سے نکال کر اصلاح، ترقی اور عروج کے نئے راستے پر ڈال دیتی ہے۔
ہندوستانی مسلمان اور توبہ
ہندوستانی مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں متعدد بار ’اجتماعی توبہ‘ کی اس روش کا عملی مظاہرہ کیا اور اس کی برکتوں سے فیض یاب بھی ہوئے۔ اس کی سب سے عمدہ مثال، بدعات و خرافات کے حوالے سے بڑے پیمانے پر آئی سماجی تبدیلی ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں طرح طرح کی بدعات اور توہمات نے پختہ سماجی روایت کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔ علما اور مصلحین کی کوششوں نے کئی علاقوں میں اس کیفیت کو بالکل ختم کرڈالا ہے۔ انگریزوں کے تسلط کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے دین و مذہب اور ان کے تشخص کے لیے جو بڑا چیلنج پیدا ہوگیا تھا، اُس نے انھیں اپنی کم زوریوں کی طرف متوجہ کیا۔ دینی تعلیم کی وسیع تحریک اور علی گڑھ تحریک کی شکل میں معاصر علوم سے استفادے کی تحریک نے ان کے احوال میں ٹھوس مثبت تبدیلی پیدا کی۔ تبلیغ کی تحریک نے گاؤں گاؤں میں دینی بیداری کی فضا پیدا کی۔ نو آبادیت کے ہمہ گیر ذہنی، فکری، تہذیبی اور سیاسی غلبے نے انھیں اپنی منصبی ذمے داریوں کی طرف متوجہ کیا اور احیائے اسلام کی عظیم تحریک ان کے درمیان برپا ہوئی اور ساری دنیا پر اثرات مرتب کیے۔ آزادی کے بعد کے احوال نے انھیں دعوت دین کی ذمے داری کی طرف متوجہ کیا اور ان کے درمیان طرح طرح کی دعوتی تحریکیں شروع ہوئیں۔ ہندوستان کی وسیع و عریض مسلم آبادی میں، جو تعلیمی معیار، شعور اور تہذیبی کیفیات کے اعتبار سے بڑی متنوع بھی ہے، کوئی بڑی اجتماعی تبدیلی آسان نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ میں ایسی تبدیلیوں کی متعدد روشن مثالیں موجود ہیں۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان سب تحریکوں اور منظم کوششوں کے باوجود، متعدد پہلو ایسے ہیں جن میں توبہ یا رجوع کی کیفیت بہت کم زور اور بہت سست رفتار ہے۔ جمود و تعطل اور تبدیلی کی مزاحمت (change resistance)کی کیفیت بہت شدید ہے اور یہی ہندوستانی مسلمانوں کے زوال و ضعف کا بڑا سبب ہے۔
ان میں سب سے اہم،ہمارے خیال میں،مسلمانوں کا ایک بامقصد امت بننے کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں پہلی سطح یعنی شعور کی سطح ہی پر کم زوری ہے۔ مولانامودودیؒ، علامہ اقبالؒ اور مولانا علی میاں ندویؒ وغیرہ جیسے قد آور اور مؤثر مفکرین کی بھرپور فکری کاوشوں اور متعدد اجتماعی تحریکوں کی برسہا برس کی جدوجہد کے باوجود، عام طور پر، ہندوستانی مسلمانوں نے یہ بات شعور کی سطح پر بھی قبول نہیں کی ہے کہ وہ کوئی ذات، قبیلہ، قوم یا نسل نہیں بلکہ ایک بامقصد نظریاتی گروہ ہیں۔ ہماری کم زوریوں اور ضعف کا بڑا سبب، شعور کا یہ بحران ہے۔ [24]
شعور کی سطح پر کم زوری کا ایک اور بڑا مظہر امت کے اتحاد کا فقدان ہے۔ مسلکی و فروعی اختلافات کو دین کی اصل سمجھ لینا، عقیدے کا دائرہ بڑھاکر ہر طرح کے فکری تنوعات کو عقیدے کا مسئلہ بنادینا، فقہی و کلامی جزئیات کی بنیاد پر امت کو تقسیم در تقسیم کرنا، یہ سب رویے پڑھے لکھے اور دین دار مسلمانوں میں بھی عام ہیں۔ مسلکی تعصبات کی خدمت، دین کی خدمت سمجھ کر کی جاتی ہے۔
کئی پہلو ایسے ہیں جن میں غلطیوں اورغلط روش کا شعور و ادراک تو ہے لیکن تبدیل ہونے اور خود کو بدلنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ ان میں سب سے اہم جذبات کا غلبہ اور منفی جذباتیت کا مسئلہ ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں اس نے ہندوستانی مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور بار بار وہ اسی بل سے ڈسے جاتے ہیں۔ وقتی، دفاعی مسائل تک خود کو محدود رکھنا اور تعمیر و ترقی کے طویل المیعاد اور صبر آزما کام پر توجہات کو مرکوز نہ کرپانا، با مقصد اور مستحکم اداروں کو قائم نہ کرپانا اور چلا نہ پانا، برادران وطن سے ایجابی، تعمیری اور با اعتماد تعلقات مستحکم نہ کرپانا، قیادت و مشاورت کے عمل کی ادارہ سازی، تحقیق اور ٹھوس علم کو فیصلہ سازی کی اساس بنانا اور اس کے لیے ادارہ سازی وغیرہ جیسے درجنوں امور ہیں[25] جن کے سلسلے میں ملت کی اجتماعی کم زوری بار بار زیر بحث آتی ہے، لیکن ان حوالوں سے ٹھوس اور جرأت مندانہ اقدامات کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
تبدیل ہونے کی صلاحیت کے فقدان کا ایک اور اہم مظہر اخلاقی اور معاشرتی امور و معاملات ہیں۔ سادہ نکاح کی تحریکیں کتنے عرصے سے چل رہی ہیں اور اس موضوع کا برسہا برس سے غلغلہ ہے لیکن اس کی اہمیت کو محسوس کرنے کے باوجود رسوم اور رواجوں کی بیڑیاں کاٹنے اور تاریخی جبر سے خود کو آزاد کرانے میں وہ ناکام ہیں۔ صفائی و نظافت کی اہمیت کو کون نہیں سمجھتا؟ سمجھا جاتا ہے کہ تعلیم اور معاشرت کی بہتری سے خود بخود نظافت کا ذوق پیدا ہوجاتا ہے لیکن مسلمان محلوں کی سڑکیں، بازار، اور ان کے اجتماعی مراکز حتی کہ مسجدوں تک میں آج بھی اس حوالے سے بڑی کم زوریاں پائی جاتی ہیں۔ پڑھے لکھے لوگوں کی بستیوں میں بھی یہ کم زوریاں عام ہیں۔[26]
انسانی تاریخ میں نشأۃ ثانیہ کا ہر تاریخی عمل مذکورہ بالا مرحلوں ہی سے گزر کر مکمل ہوا ہے۔ چاہے مسلمان معاشرے ہوں یا غیر مسلم معاشرے، نشأۃ ثانیہ کبھی وسائل، طاقت یا بیرونی احوال کی سازگاری پر منحصر نہیں رہی بلکہ اس کی ابتدا ہمیشہ ایک ایسے لمحے(moment of moral clarity) سے ہوئی ہے جس میں اخلاقی شعور کی چنگاری بھڑکتی ہے۔ (اسے تاریخ و سماجیات کے ماہرین تاریخی موڑ [27](critical juncture)یا اخلاقی جھٹکہ [28](moral shock)کہتے ہیں)۔ یعنی تاریخ کا وہ فیصلہ کن لمحہ، جب قومیں ٹھہرتی ہیں، اپنے آپ کے اندرجھانکتی ہیں، جو کچھ وہ بننا چاہتی ہیں اور جو کچھ وہ آج ہیں، اُن میں فرق کو محسوس کرتی ہیں۔ جب واہموں کے پرفریب چشمے اترتے ہیں اور حقائق روشن ہوجاتے ہیں۔ خود ادراکی کا ایسا لمحہ ہی اصل تبدیلی کا لمحہ (turning point)ہوتا ہے۔ اسی سے تبدیلی کا طاقت ور داعیہ جنم لیتا ہے۔ داعیے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ موروثی روایتوں پر سوالات کھڑے کرنے، ناکام راستوں کو ترک کرنے اور بہتر سمت کو شعوری طور پر تلاش کرنے اور اختیار کرنے کی اجتماعی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی قوم کا عروج، اندرونی تبدیلی کے اس عمل کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ قومیں زوال و نامرادی کی تنگنائیوں میں قید ہوجاتی ہیں تو اس کا اصل سبب بیرونی دباؤ نہیں ہوتا بلکہ اپنے آپ کو بدلنے کی صلاحیت سے محرومی ہوتا ہے۔ اور جب یہ صلاحیت حاصل ہوجاتی ہے توانقلاب کو برپا ہونے میں وقت نہیں لگتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآن مجید نے ایک اٹل اصول کے طور پر بیان کیا ہے: اِن اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ. ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنےانفس کو نہیں بدل دیتی. (الرعد: ۱۱)[29]
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے اُن کی تاریخ کا موجودہ مرحلہ اپنے تمام تر چیلنجوں کے باوجود، اجتماعی توبہ کا یہ تاریخی موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ایمان داری، گہرائی، خود احتسابی اور عزم کے ساتھ اپروچ کیا جائے تو یہ مرحلہ نشأۃ ثانیہ کی ایک تاریخ ساز لہر شروع کرسکتا ہے۔
حواشی و حوالہ جات
مولانا سید ابوالاعلی مودودی: تفہیم القرآن؛ جلد دوم، سورہ ہود، آیت3 حاشیہ 3
ابن قيم الجوزية؛ مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين ؛ دار الكتاب العربي – بيروت 3/313
ايضا” 1/197
مولانا امین احسن اصلاحیؒ؛ تدبرقرآن؛جلد چہارم؛ سورہ ہود؛ آیت 52
سنن ابن ماجه (2/ 1420) المستدرك للحاکم (4/ 243) وصححه الألباني في صحيح الجامع (2/ 1150
ابو حامد محمد بن محمد الغزالي؛ إحياء علوم الدين؛ دار المعرفة – بيروت ؛ ج4 ص3
القشيري، أبو القاسم ؛ الرسالة القشيرية؛ دار المعارف؛ القاهرة; ج 1 ص 212
ایضاً ص 208
الدکتور رفیق العجم؛ موسوعم مصطلحات التصوف الاسلامی؛ مکتبم لبنان ناشرون؛ البیروت ص 212-213
مثلاً ملاحظہ ہو:
شیخ الاسلام امام ابن تیمیة (2004): مجموع الفتاوى؛ مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف – المدينة المنورة ج11 ص 687
Festinger, Leon. A Theory of Cognitive Dissonance. Stanford University Press, 1957.
- 1–31 (core theory), esp. pp. 3–7 on dissonance reduction
Janis, Irving L. Groupthink: Psychological Studies of Policy Decisions and Fiascoes. 2nd ed., Houghton Mifflin, 1982.pp. 9–13 (definition), pp. 174–175 (symptoms summary)
Ross, Lee. “The Intuitive Psychologist and His Shortcomings.” In Advances in Experimental Social Psychology, Vol. 10, Academic Press, 1977, pp. 173–220
Ross, Lee. “The Intuitive Psychologist and His Shortcomings.” In Advances in Experimental Social Psychology, Vol. 10, Academic Press, 1977, pp. 173–220
تفسیر ابن کثیر؛دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان؛ ج 4 ص 258-259(سورہ یونس 98)
اجتماعی توبہ کی مزید عملی مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو: ابن قدامة الحنبلي؛ کتاب التوابین؛ دار ابن حزم ؛ 2003
Acemoglu, Daron, and James A. Robinson. Why Nations Fail. Crown, 2012.pp. 83–95; 429–436
اس موضوع کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو:
Pierson, Paul. “Increasing Returns, Path Dependence, and the Study of Politics.” American Political Science Review 94, no. 2 (2000): 251–267
Acemoglu, Daron, and James A. Robinson. Why Nations Fail: The Origins of Power, Prosperity, and Poverty. New York: Crown, 2012. pp. 95–104, 430–432
تفصیل کے لیے دیکھیں:
Archer, Margaret S. Culture and Agency: The Place of Culture in Social Theory. Rev. ed. Cambridge: Cambridge University Press, 1996.
قوموں کی ترقی میں ایجنسی اور اس کے کردار کو سمجھنے کے لیے امرتیہ سین کی دل چسپ کتاب
Sen, Amartya. Development as Freedom. Oxford: Oxford University Press, 1999.
صحيح البخاري (2464)، وصحيح مسلم (1980)
صحیح البخاری؛ کتاب تفسیر القرآن؛ حدیث 4758-4759
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
سید سعادت اللہ حسینی؛ ہندوستانی مسلمانوں کی تمکین و ترقی بحیثیت خیر امت (2024) مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز؛ نئی دہلی ص 15-50
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
سید سعادت اللہ حسینی؛ ہندوستانی مسلمان: چیلنج، امکانات، لائحہ عمل (2018)؛ ہدایت پبلشرز، نئی دہلی
اس موضوع کو ہم متعدد تحریروں میں زیر بحث لاچکے ہیں۔
سید سعادت اللہ حسینی؛ اصلاح معاشرہ: منصوبہ بند عصری طریقے (2022) مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز؛ نئی دہلی
سید سعادت اللہ حسینی؛ ہندوستانی مسلمانوں کی تمکین و ترقی بحیثیت خیر امت (2024) مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز؛ نئی دہلی ص 91-110
Collier, Ruth Berins, and David Collier. Shaping the Political Arena: Critical Junctures, the Labor Movement, and Regime Dynamics in Latin America. Princeton: Princeton University Press, 1991 pp. 27–39
Jasper, James M. The Art of Moral Protest. Chicago: University of Chicago Press, 1997.pp. 106–109
اس آیت کریمہ کی روشنی میں تبدیلی کی حرکیات dynamics پر ہم اس سے قبل تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
سید سعادت اللہ حسینی؛ ہندوستانی مسلمانوں کی تمکین و ترقی بحیثیت خیر امت (2024) مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز؛ نئی دہلی ص 71-90







