مشہور جرمن فلاسفرایمانوئیل کانٹ (1724-1804)نے اپنی کتاب Critique of Pure Reason کے دیباچے کے ابتدائی پیراگراف میں انسانی عقل کی جستجو اور اس کی درماندگی کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ عقل انسانی کا عجیب مقدر ہے کہ وہ علم کے بعض میدانوں میں ایسے سوالات کا بوجھ اٹھاتی ہے جسےنظر انداز کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ، کیوں کہ یہ سوالات خود اس کی فطرت سے ابھرتے ہیں، لیکن وہ ان کا مکمل جواب بھی نہیں دے پاتی، کیوں کہ وہ اس کی پہنچ سے ماوراء ہوتے ہیں۔ یہ الجھن عقل کی کسی غلطی کا نتیجہ نہیں ہے۔ دراصل وہ اپنی جستجو کا آغاز ایسے اصولوں سے کرتی ہے جو تجربے کی دنیا میں ضروری بھی ہیں اور کسی حد تک درست بھی ثابت ہوتے ہیں۔ یہی جستجو اسے آگے بڑھاتی چلی جاتی ہے اور اپنی فطرت کے عین مطابق مزید گہرے اور ماورائے عقل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ لیکن جلد ہی اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی جستجو کا سفر کبھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ سوالات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ چنانچہ وہ ایسے اصولوں کا سہارا لینے لگتی ہے جو تجربے کی حدود سے باہر ہوتے ہیں، مگر بظاہر اتنے معقول ہوتے ہیں کہ معمولی عقل عام (common sense)کے نزدیک بھی قابل قبول ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ عقل ابہام و تضاداتobscurity & contradictions) ( میں الجھ جاتی ہے۔ اسے اندازہ تو ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی خامی پائی جاتی ہے، مگر وہ اسے واضح طور پر پہچان نہیں پاتی، کیونکہ اب وہ ایسے اصولوں پر کھڑی ہوتی ہے جنہیں تجربے کی کسوٹی پر پرکھا ہی نہیں جا سکتا۔ اس طرح مباحث و اختلافات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جنم لیتا ہے۔ بحث و اختلاف کا یہی میدان مابعد الطبیعیات (Metaphysics) کہلاتا ہے۔ معروف مفکر سید قطب شہید (1906-1966)نے مابعدالطبیعاتی میدان میں عقل کی ان الجھنوں کی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ سورہ بقرہ کی آیت یومنون بالغیب کی تشریح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انسان کو جو فکری قوت عطا کی گئی ہے، اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ زمین پر خلافت کی ذمہ داری کو شعور اور حکمت کے ساتھ ادا کر سکے۔ یہی قوت اسے اس دنیا کی عملی زندگی سے وابستہ کرتی ہے، تاکہ وہ کائنات کا مشاہدہ کرے، اس میں غور و فکر کرے، تحقیق و جستجو سے کام لے، عمل اور پیداوار کے میدان میں سرگرم ہو، اور انسانی زندگی کو زیادہ بہتر، متوازن اور حسین بنا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کو ایک روحانی قوت بھی عطا کی گئی ہے، جو اسے محض مادی دنیا تک محدود نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے پوری کائنات اور اس کے خالق سے جوڑتی ہے۔ یہی روحانی شعور اسے اس غیبی یا مابعدالطبیعاتی حقائق کو تسلیم کرنے پر آمادہ کرتا ہے جس تک انسانی عقل اپنی تمام تر وسعت کے باوجود مکمل طور پر رسائی حاصل نہیں کر سکتی ۔
انسان نے اپنی عقل کو بروئے کار لا کر مادی ترقی کے حیرت انگیز مراحل طے کیے، فطرت کی قوتوں کو مسخر کیا اور اپنی دنیوی ضروریات کی تکمیل کے بے شمار ذرائع پیدا کیے۔ تاہم اپنی بے پناہ صلاحیت، تجزیاتی قوت اور مشاہداتی وسعت کے باوجود انسانی عقل کائنات کی کلی اور حتمی حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔ عقل کا دائرۂ کار محدود ہے: وہ محسوسات، تجربات اور قیاسات کے دائرے میں رہتے ہوئے علم و تحقیق کے سفر کو آگے بڑھاتی ہے۔ اسی فطری محدودیت کے سبب انسانی عقل تنہا اس قابل نہیں ہے کہ وہ انسان کی اخلاقی، روحانی اور مقصد حیات کے بارے میں ہمہ گیر اور یقینی رہنمائی فراہم کر سکے۔ اخلاقی اقدار کا تعین، خیر و شر کی قطعی پہچان، اور مقصد وجود کا صحیح ادراک ایسے امور ہیں جو محض تجربہ و مشاہدہ یا منطقی استدلال سے پوری طرح حل نہیں ہوتے۔ تاریخ انسانی اس بات کی گواہ ہے کہ انسانی عقل نے جب بھی خود کو مطلق رہنما سمجھ کر فیصلہ کن حیثیت اختیار کی، تو مختلف تہذیبوں اور فلسفیانہ نظاموں میں خیر و شر کے معیارات متضاد بلکہ متصادم صورت اختیار کر گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عقل علم و رہنمائی کا ایک اہم ذریعہ تو ہے، مگر حتمی اور قطعی معیار نہیں ۔ اس کے لیے انسان کو ایسے ہمہ گیر اور کامل سرچشمہ علم و رہنمائی کی ضرورت ہے جو کائنات کے کلی حقائق، انسان کے باطن و ظاہر، اور اس کے انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام تقاضوں کا احاطہ کرتا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وحی اور ہدایت الٰہی کی ناگزیر ضرورت سامنے آتی ہے۔
حقیقت کی تلاش محض ایک عقلی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت عمل ہے جس میں عقل کے ساتھ قلب بھی شامل ہے۔ عقل سوال اٹھاتی ہے، معلومات کو مربوط و منظم کرتی ہے، استدلال و تجزیہ کرتی ہے اور امکانات کا جائزہ لے کر کسی معقول اور قابل قبول نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے ۔قلب معنی کی تلاش میں رہتا ہے، وہ محض معلومات پر قانع نہیں ہوتا، بلکہ مقصد اوریقین چاہتا ہے۔ عقل حقیقت کو سمجھنا چاہتی ہے اور قلب اس حقیقت کی معنویت کو دریافت کرنا چاہتا ہے۔ یوں عقل اور قلب انسانی وجود کی دو الگ دنیائیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ جب ان میں ہم آہنگی ہوتی ہے تو انسان کا علم نافع رہتاہے اور اس کی زندگی بامقصد بنتی ہے۔ اس لیے صحیح علم وہی ہے جو عقل کو بھی مطمئن کرے اور قلب کو بھی سکون بخشے۔ اسی جامع اور متوازن علم کی روشنی وحی کے ذریعے انسان کو پیغمبروں کے ذریعے پہنچائی جاتی ہے، جو نہ صرف اس کے عقلی سوالات کا جواب دیتی ہے بلکہ اس کی اخلاقی زندگی کو بھی صحیح بنیاد پر استوار کرتی ہے۔
سوالوں کا مثلت
انسان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اس کے اندر چند بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں: میں کون ہوں، میری حقیقت کیا ہے؟ کیا اس زندگی کے بعد بھی کوئی زندگی ہوگی؟ میرا انجام کیا ہوگا ہے؟ گویا ماضی، حال اور مستقبل کی آگہی کا سوال عقل کو ہر شخص کی شعوری سطح اور حساسیت کے لحاظ سے مضطرب رکھتا ہے۔ انہیں سوالوں سے علم کی جستجو جنم لیتی ہے اور انسانی تہذیب نشوونما پاتی ہے۔ اس سفر میں انسان کو بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی عقل ہر چیز کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتی۔ اس کی عقل کو کچھ خصوصی وسائل تو دیے گیے ہیں لیکن وہ بہت محدود ہیں۔ ان وسائل کے ذریعے مطلق اور حتمی علم کا حصول ممکن نہیں ہے۔ انسان بہت کچھ جاننے کی قدرت رکھتا ہے۔ بلاشبہ وہ رفتہ رفتہ فطرت کے پیچیدہ قوانین کو سمجھ رہا ہے، کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھا رہا ہے اور وسائل حیات پر روز بروز اس کا ہاتھ دراز ہو رہا ہے، مگر اس کی محدود عقل غیب کا رازداں بننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کا علم ہمیشہ جزوی اور تدریجی طور پر آگے بڑھتا ہے، اور وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا یعنی انسان کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ اور علم میں اضافے کی فطری طلب کو قرآن نے ایک جامع دعا بناتے ہوئے کہا رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ۔ علم کے حوالے سے یہ دونوں باتیں، یعنی ایک علمی کم مائیگی اور دوسری طرف علمی جستجو، انسانی عقل کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جب انسان اپنی عقلی حد کو پہچان لیتا ہے تو اس کے اندر علم کی جستجو بھی باقی رہتی ہے اور علم میں اضافے کی طلب بھی۔ یہی توازن اس کے علمی رسوخ اور اخلاقی سلامت روی کا ضامن ہے۔
غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ انسان کی علمی جستجو بنیادی طور پرتین سوالوں کے گرد گھومتی رہتی ہے: کیا؟، کیوں؟ اور کیسا؟ ۔ یہ سوالات انسانی شعور کو بیدار رکھتے ہیں ۔ انہی سوالوں کے ذریعے انسان اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھتا، پرکھتا اور اس کے بارے میں رائے قائم کرتا ہے۔ اگر یہ سوالات نہ ہوں تو علم کا سفر شروع ہی نہیں ہو تا : نہ فلسفہ وجود میں آتا، نہ سائنس، نہ تاریخ اور نہ دیگر علوم۔ علمیات (Epistemology)دراصل انہی سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی منظم جستجو کا نام ہے ۔ یہ محض معلومات کے حصول کا عمل نہیں بلکہ اس بات کی کوشش ہے کہ انسان کیا جان سکتا ہے، کیسے جان سکتا ہے، اور جو کچھ وہ جانتا ہے وہ کس حد تک معتبر اور قابل اعتماد ہے۔ انسانی دماغ میں ابھرنے والے سوالات ہی دراصل علم و آگہی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں، اور یہی سوالات مختلف علمی شعبوں (Disciplines)کی تشکیل اور ارتقا کا ذریعہ بنتے ہیں۔ جب انسان کسی حقیقت کو سمجھنے کی جستجو میں آگے بڑھتا ہے تو اس کے سامنے سوالات کی ایک مسلسل کڑی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے، جو اسے تحقیق اور تلاش حقیقت کی راہ پر گامزن رکھتی ہے۔ فلسفہ سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے منطقی تحلیل و تجزیہ اور عقلی استدلال کا سہارا لیتا ہے۔ یہ وجود، علم اور اقدارجیسے بنیادی مسائل پر غور و فکر کرتے ہوئے ایک جامع فکری نظام تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔ سائنس حیات و کائنات کے قوانین کو سمجھنے اور ان کی توجیہ کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ اسی طرح تاریخ ماضی کے واقعات کو منظم ترتیب میں پیش کرتی ہے اور ان کے اسباب و نتائج کا تجزیہ کر کے حال اور مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جبکہ مذہب ان تمام علمی جہات کو ایک ہمہ گیر معنویت اور وجودی مقصد عطا کرتا ہے، اور انسان کو اس کے منصب اور اخلاقی ذمہ داری کا شعور دیتا ہے۔ گویا علم کے ہر دائرے میں سوال و جواب کی ایک مسلسل اور متحرک لہر جاری رہتی ہے، جو انسانی عقل اور قلب دونوں کو زندہ رکھتی ہے۔ یہی عمل انسان کے اندر فہم، بصیرت اور حکمت کو پروان چڑھاتا ہے، اور اسے مسلسل فکری ارتقا کی طرف گامزن رکھتا ہے۔‘‘
پہلا سوال : ’’ کیا؟ ‘‘
علم کا آغاز ایک سادہ سوال سے ہوتا ہے: ’’ کیا؟‘‘۔ یہ سوال نہایت عام فہم اور آسان ہے، جس میں نہ کوئی فلسفیانہ پیچیدگی ہے اور نہ سائنسی جستجو۔ لیکن یہی چھوٹا سا سوال علم و آگہی کی عمارت کی بنیاد رکھتا ہے۔ انسان جب کسی چیز کے بارے میں ’’ کیا؟‘‘پوچھتا ہے تو دراصل وہ اسے پہچاننے، سمجھنے اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کی پہلی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ سوال اشیاء کے تعارف، شناخت اور ابتدائی فہم کا دروازہ کھولتا ہے۔ یہی سوال اسے آگے بڑھنے، مزید سوالات کرنے اور علم کے نئے دروازے کھولنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یوں ایک سادہ سا سوال انسان کو لاعلمی سے علم کی طرف لے جانے کا آغاز بن جاتا ہے۔ انسان پہلے یہ جانتا ہے کہ کوئی چیز ہے کیا، پھر وہ اس کے اسباب و علل، اس کے پس پردہ حقیقت اور اس کے مقاصد پر غور کرتا ہے۔
اشیاء کو جاننے کی خواہش (curiosity) اور اس کے لیے درکار صلاحیت (cognitive capacity) دونوں خالق کائنات کی عطا کردہ ہیں۔ یہی وہ بنیادی وصف ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے ۔ قرآن مجید اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کرتے ہوئے اسے ایسے علم سے نوازا جو محض جبلت (instinct)کی سطح تک محدود نہیں بلکہ عقل (intellect)کی بلند تر صلاحیت سے متعلق ہے۔ جبلت اور عقل کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ جبلت ایک فطری اور غیر شعوری رہنمائی ہے جو ہر جاندار کو دی گئی ہے لیکن اس میں نہ تو توسیع کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ ہی تنقید و تجدید کی۔ اس کے برعکس عقل ایک متحرک اور ارتقائی قوت ہے جو معلوم سے نامعلوم کی طرف بڑھتی رہتی ہے، معلوم کی تہوں کو کھولتی، اس کا تجزیہ کرتی اور اس میں مسلسل اضافہ کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا علم جامد نہیں بلکہ تدریجی (gradual) اور توسیعی (progressive)ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، یعنی اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو تمام اسماء سکھا دیے۔ یہاں ’’اسماء ‘‘ سے مراد محض الفاظ یا نام نہیں بلکہ اشیاء کی ماہیت (essence)، ان کی شناخت (identification)، ان کے خواص (properties) اور ان کے باہمی تعلقات (relations) کا علم ہے۔ گویا انسان کو یہ بنیادی صلاحیت عطا کی گئی کہ وہ کائنات کی اشیاء کو نہ صرف پہچانے بلکہ انہیں مفہوم کے سانچے میں ڈھالے، ان کی درجہ بندی کرے اور ان کے درمیان ربط و تعلق کو سمجھے۔ یہی وہ علمی استعداد ہے جو انسان کے اندر سوال اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ یہی صلاحیت بعد ازاں پیچیدہ علوم، سائنسی نظریات اور فکری نظاموں کی بنیاد بنتی ہے، اور اسی کے ذریعے انسان خلافتِ ارضی کی ذمہ داری کو شعوری طور پر ادا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
’’کیا؟ ‘‘ کا جواب ہر انسان کی عقلی استعداد، تجربے اور مشاہدے پر منحصر ہے۔ اس کے جواب سے ایک ابتدائی اور نسبتی نوعیت (relative category)کا علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ سوال دراصل ظاہر و محسوس کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم کسی شے یا عمل کے بارے میں یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ فی الواقع ہے کیا؟۔ اس اعتبار سے انسانی عقل معمولا واضح اور قابل اعتماد جواب تک پہنچ جاتی ہے، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست مشاہدے، تجربے اور عام انسانی ادراک سے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم کہیں کہ ’’پانی رقیق مادہ ہے ‘‘، یا ’’ آگ جلانے والی ہے‘‘ یا ’’ پہاڑ پست یا بلند ہے ‘‘، تو یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں ہر شخص اپنے مشاہدے اور تجربے سے سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی عمل ہمارے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہو، جیسے ایک شخص چل رہا ہے یا کوئی کاریگر لکڑی کاٹ رہا ہے، تو اس عمل کی نوعیت کو سمجھنے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔ اسی طرح یہ بات کہ ’’ قرآن ویسا ہی ہے جیسا نازل ہوا تھا‘‘ یا ’’ فلاں شخص نے فلاں بات کہی ہے ‘‘، تو اس کی سچائی کو یقینی طور پر جاننا انسانی عقل کے لیے ممکن ہے۔ اس طرح کا علم مشاہدہ (observation)، متواتر خبر (reliable transmission)اور حسی ادراک (sense perception)کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، اور اسی بناء پر ایسے علم میں ایک طرح کی عمومی قطعیت پائی جاتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس نوعیت کا علم کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ عمومی ہوتا ہے۔ یعنی جو بات ایک شخص کے لیے واضح ہے، وہی دوسرے کے لیے بھی واضح ہوتی ہے، بشرطیکہ دونوں کے پاس ادراک کے یکساں بنیادی ذرائع موجود ہوں۔ اسی لیے اس درجے کے علم کو انسانی زندگی کے عملی معاملات میں قابل یقین بنیاد سمجھا جاتا ہے، اور اسی پر روزمرہ کے فیصلے اور سماجی تعاملات قائم ہوتے ہیں۔ اس طرح انسانی عقل کسی شے یا عمل کی ظاہری حقیقت کو بآسانی سمجھ تو لیتی ہے، لیکن وہ اس کے پس پردہ گہرے حقائق، اس کے وجود کے آخری اسباب، یا اس کے تغیر و ثبات کی نوعیت کو بھی سمجھ لے، ضروری نہیں ہے؛ بلکہ قطعیت کے ساتھ سمجھ لینا تو ممکن ہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آگ جلاتی ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود طبیعی قوانین کی آخری حقیقت یا اس کی کامل علت کو پوری طرح سمجھ لینا ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح ہم یہ تو جانتے ہیں کہ انسان سوچتا اور فیصلہ کرتا ہے، مگر شعور (consciousness) کی آخری حقیقت کیا ہے، اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ انسانی عقل کو ظاہری اور محسوس دنیا کے بارے میں ایک واضح اور عملی یقین تو حاصل ہو سکتا ہے، جو زندگی کے نظام کو چلانے کے لیے ضروری اور کافی ہے، لیکن وہ حقیقت کی آخری تہہ تک نہیں پہنچ سکتی۔
دوسرا سوال : ’’ کیوں؟ ‘‘
جب انسان علم کے ابتدائی مرحلے یعنی ’’ کیا؟‘‘سے آگے بڑھتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک زیادہ گہرا اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے’’ کیوں؟‘‘۔ یہی وہ سوال ہے جو انسان کو محض ظاہری شناخت سے اوپر اٹھ کر باطن میں جھانکنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اب وہ صرف یہ نہیں جاننا چاہتا کہ کوئی چیز کیا ہے، بلکہ یہ بھی سمجھنا چاہتا ہے کہ وہ کیوں ہے، کیسے وجود میں آئی ہے اور اس کے پیچھے کون سے اسباب اور حکمتیں کارفرما ہیں۔ اس طرح ’’ کیوں؟‘‘کا سوال دراصل اسباب و علل (causality)کی جستجو کا نام ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں علم معلومات سے آگے بڑھ کر فہم اور بصیرت میں تبدیل ہوتا ہے۔
فلسفہ، سائنس اور مذہب تینوں میں اس سوال کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ارسطونے اس بحث کو فلسفیانہ سطح پر منظم صورت دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی شے کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اس کے اسباب کا جاننا ضروری ہے ۔ ارسطو نے علت و معلول کے نظام کو سمجھنے کے لیے چار اسباب پر مشتمل نظریہ پیش کیا : یعنی مادی سبب، صوری سبب، فاعلی سبب اور غائی سبب۔ اس نظریےکے مطابق کسی چیز کا فہم اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم یہ نہ جان لیں کہ وہ کس مادے سے بنی ہے، اسے کس نے بنایا ہے، اس کی ساخت کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔مسلم فکری روایت میں بھی سببیت (causality)کے سوال پر نہایت گہری بحث ملتی ہے۔ اشاعرہ نے سببیت کے تصور کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کے نزدیک کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ دراصل براہ راست ارادۂ الٰہی کا نتیجہ ہے۔ جن چیزوں کو ہم سبب سمجھتے ہیں وہ حقیقی مؤثر نہیں بلکہ محض ظاہری ترتیب ہیں۔ یعنی کسی چیز کو آگ سے جلتا ہوا دیکھ کر آگ کو سبب اور اس چیز کے جلنے کو نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہے۔ یہ دو ظاہری واقعات یعنی آگ اور اس سے کسی چیز کے جلنے کا عمل دراصل دو واقعات کی بس ایک ظاہری ترتیب ہے۔ حقیقت اصلی یہ ہے کہ اللہ تعالی ہی ہر لمحہ جلانے کا عمل پیدا کر رہا ہے۔اگر اس کا حکم نہ ہو تو آگ کسی چیز کو نہیں جلا سکتی۔ لیکن دیگر مسلم فلاسفہ نے اس تصور کو عادت الٰہیہ (Divine habit) کے طور پر بیان کیا، جس کے ذریعے علت و معلول کے ظاہری نظام اور ارادۂ الٰہی کی بالادستی کے درمیان پایا جانے والا تضاد دور ہو جاتا ہے ۔ چنانچہ امام غزالی نے بحث کی کہ ہم علت و معلول (Cause & Effect)کے درمیان کسی لازمی اور قطعی تعلق کا مشاہدہ نہیں کرتے بلکہ صرف ان کا بار بار ایک ساتھ پیش آنا دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں سبب اور نتیجے کے درمیان تعلق لازمی نہیں ہے بلکہ یہ عادتاً ہے۔اس طرح انہوں نے واضح کیا کہ سببیت کوئی خود مختار اور لازمی حقیقت نہیں بلکہ اللہ کی قائم کردہ ایک عادت ہے، جسے وہ جب چاہے بدل سکتا ہے ۔یہ موقف معجزات الہی کے انکار سے متعلق منطقی دلائل کو رد کرتا ہے۔ اس کے برعکس ابن رشد نے اس موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سبب کے حقیقی موثر ہونے کا انکار کر دیا جائے تو علم اور عقل دونوں غیر معتبر ہو جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کائنات ایک منظم نظام کے تحت چلتی ہے جس میں اسباب اور نتائج کا واضح ربط موجود ہے۔ اگر اس تعلق کا انکار کر دیا جائے تو نہ صرف علم کا دروازہ بند ہو جاتا ہے بلکہ خود عقل کی بنیاد بھی متزلزل ہو جاتی ہے، کیونکہ عقل دراصل چیزوں کو ان کے اسباب کے ساتھ سمجھنے کا نام ہے۔ تاہم ابن رشد کے مطابق عقل اور وحی میں کوئی حقیقی تضاد نہیں ہے، بلکہ اسباب کی تلاش دراصل اللہ کی سنت کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ ابن رشد عقل کو مطلق اور بے لگام بھی نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک انسانی عقل کی ایک حد ہے، جس کے بعد اسے وحی کی رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ بعض امور، خاص طور پر غیبی حقائق، انسانی عقل کی گرفت سے باہر ہیں اور ان کا علم صرف وحی کے ذریعے ممکن ہے۔ اس طرح وہ عقل اور وحی کے درمیان ایک تطبیق (conformity)اور تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے مطابق وحی عقل کی تکمیل کرتی ہے، نہ کہ اس کی نفی۔ ۔ جدید مغربی فلسفے میں ڈیوڈ ہیوم (1711-1776)نے سببیت کے تصور کو ایک نئے زاویے سے دیکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہم واقعی علت اور معلول کے درمیان کسی لازمی تعلق کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہمارا علم تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہے، اور مشاہدے میں ہمیں صرف یہ نظر آتا ہے کہ ایک واقعہ دوسرے کے بعد پیش آتا ہے، مگر ان دونوں کے درمیان کوئی حقیقی اور ضروری ربط دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اس صورت حال کو مسلسل اقتران (constant conjunction) کہتے ہیں، یعنی بعض واقعات کا بار بار ایک ساتھ پیش آنا۔ اس تکرار کے نتیجے میں انسانی ذہن میں ایک عادت پیدا ہو جاتی ہے، جس کی بنا پر ہم ایک واقعے کے بعد دوسرے کے وقوع کی توقع کرنے لگتے ہیں۔ چنانچہ ہیوم کے نزدیک سببیت کوئی خارجی حقیقت نہیں بلکہ انسانی ذہن کی ایک نفسیاتی کیفیت ہے، جو تجربے کی تکرار سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سببیت محض ذہنی عادت ہے تو پھر سائنسی قوانین کی قطعیت اور کلیت (universality) کی بنیاد کیا ہوگی؟ اسی سوال کے پس منظر میں کانٹ نے وضاحت کی کہ انسانی ذہن فی نفسہ کچھ بنیادی تصورات کا حامل ہے، جو انسانی تجربے کو ایک خاص ترتیب کی صورت دیتا ہے۔ چنانچہ کانٹ نے علت و معلول (cause & effect) کے بارے میں یہ اصول پیش کیا کہ انسانی ذہن میں ایک پیشگی علم (a priori)ہوتا ہے۔ a priori ایسے علم کو کہتے ہیں جو کسی تجربے کے بغیر ہی، عقلی طور پر تسلیم شدہ ہوتا ہے۔مثال کے طور پر یہ علم کہ ’’ کل اپنے جز سے بڑا ہوتا ہے”‘‘(The whole is greater than its part)کسی تجربے کے بغیر ہی عقل میں پنہاں ہے۔
جدید دور میں اس بنیادی سوال ’’ کیوں؟ ‘‘نے ایک منظم اور باقاعدہ طریق کار کی صورت اختیار کر لی جسے ہم سائنسی منہج (scientific method)کہتے ہیں۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں اندلس اور سسلی کے ذریعے اسلامی علوم کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا۔ اس عمل میں Gerard of Cremona جیسے مترجمین نے اہم کردار ادا کیا۔ انہی تراجم کے ذریعے مسلم سائنسدانوں کے نظریات یورپ کی جامعات تک پہنچے، جس نے نشاۃ ثانیہ (Renaissance)اور بعد ازاں سائنسی انقلاب کی راہ ہموار کی۔ اسلامی تہذیب میں آٹھویں سے تیرھویں صدی تک جو سائنسی اور فکری تحریک برپا ہوئی، اس میں مشاہدہ (observation)، تجربہ (experiment)اور استقراء (induction) کو خاص اہمیت حاصل تھی ۔ اس روایت کے نمایاں سائنسدانوں میں ابن الہیثم(965-1039)، البیرونی(973-1048)، اور ابن سینا (980-1037)شامل ہیں۔مسلم سائنسی طریق کار کے اثرات مغربی دنیا میں سائنسی منہج کےتشکیلی دور میں واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ مغربی مفکرین میں فرانسس بیکن (1561–1626)کو سائنسی منہج کا بانی خیال کیا جاتا ہے جس نے علم کے روایتی ارسطوطالیسی (Aristotelian)طریق استدلال، جو زیادہ تر قیاس (deduction)اور مجرد منطق پر مبنی تھا، پر تنقید کی۔ اس کے مقابلے میں اس نے مغربی دنیا میں ایک نیا علمی منہج پیش کیا جو بعد میں تجربیت (Empiricism)کے نام سے معروف ہوا۔ اس کے نزدیک حقیقی علم وہی ہے جو حسی تجربے، مشاہدے اور منظم تجربات کے ذریعے حاصل ہو، نہ کہ محض ذہنی قیاسات اور مجرد فلسفیانہ بحثوں سے۔انہوں نے علم کے حصول کے لیے ایک نئے طریقۂ کار (methodology)کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ پرانے فلسفیانہ طریقے انسان کو حقیقت تک نہیں پہنچا سکتے، کیونکہ وہ فطرت کے بجائے ذہنی تصورات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بیکن نے استقرائی منہج(inductive method)کو فروغ دیا، جس میں جزئی مشاہدات سے کلی نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ قیاسی فلسفے پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بنیادی تصورات ہی غیر واضح ہوں، تو ان پر قائم قیاسی استدلال قابل اعتماد نہیں رہتا۔ بعد میں جان لاک، برکلے اور ڈیوڈ ہیوم جیسے مفکرین نے جدید طریق علم کو مزید ترقی یافتہ شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اسی بناء پر بیکن کو جدید سائنسی منہج اور تجربی فلسفے کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔
اس سائنسی منہج نے ’’ کیوں؟‘‘کے سوال کو ایک منظم، تدریجی اور خود اصلاحی عمل میں تبدیل کر دیا ۔ سائنسی طریق تحقیق میں انسان کی اس فطری جستجو کو اس طرح استوار کیا گیا کہ جو نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے وہ تجربی لحاظ سے قابل تصدیق اور قابل تکرار ہو۔ چنانچہ سائنسی تحقیق کا آغاز عموماً مشاہدہ (observation)سے ہوتا ہے۔ انسان اپنے گرد و پیش کے مظاہر کو باریک بینی سے دیکھتا ہے اور کسی خاص واقعے یا ترتیب پر غور کرتا ہے۔ اسی مشاہدے سے سوال جنم لیتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں پیش آ رہا ہے۔ اس کے بعد محقق ایک مفروضہ (hypothesis)قائم کرتا ہے، جو دراصل اس سوال کا ایک ممکنہ اور عارضی جواب ہوتا ہے۔ تاہم یہ مفروضہ محض قیاس نہیں ہوتا بلکہ سابقہ علم، تجربے اور منطقی استدلال پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس مفروضے کو تجربات کے ذریعے پرکھا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں کوشش یہ ہوتی ہے کہ یکساں حالات (controlled conditions)میں نتائج حاصل کیے جائیں، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا حاصل شدہ نتائج مفروضے کی تائید کرتے ہیں یا اس میں ترمیم کی ضرورت پائی جاتی ہے۔ اگر مختلف مواقع پر کیے گئے تجربات بار بار ایک ہی نوعیت کے نتائج پیش کریں تو مفروضہ مضبوط ہوتا جاتا ہے اور بالآخر ایک معقول توضیح (explanation)یا نظریے (theory) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔تاہم ان سب کے باوجود ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ سائنس کسی بھی نتیجے کو حتمی اور قطعی (absolute)نہیں مانتی۔ ہر سائنسی نظریہ دراصل ایک عارضی اور قابل نظرثانی (provisional) تعبیر ہے، جو نئے شواہد اور بہتر تجربات کی روشنی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سائنسی منہج میں یقین (certainty)کے بجائے احتمال (probability) اور قابل تردید ہونے (falsifiability) کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہی اصول سائنسی علم کو جامد ہونے کے بجائے مسلسل ترقی اور اصلاح پر گامزن رکھتا ہے۔ اس اصول کو سائنس کے ممتاز فلسفی کارل پوپر نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق کوئی نظریہ اسی وقت سائنسی کہلانے کا حق رکھتا ہے جب وہ اس امکان کو تسلیم کرے کہ اسے غلط بھی ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح تھامس کوہن نے واضح کیا کہ سائنسی علم یک خطی (linear)ترقی نہیں کرتا بلکہ مختلف ادوار میں بنیادی تبدیلیوں (paradigm shifts)سے گزرتا رہتا ہے۔ ایک نظریہ اس وقت تک غالب رہتا ہے جب تک نئے شواہد اسے چیلنج نہ کر دیں، اور اس طرح ایک نیا نظریہ اس کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھتا ہے ۔ سائنس کسی حتمی علت (ultimate cause)تک پہنچنے کا دعویٰ نہیں کرتی بلکہ مسلسل بہتر سے بہتر کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ ہر جواب ایک نئے سوال کو جنم دیتا ہے، اور یہی تسلسل علم کو جمود سے بچا کر ارتقاء (progress)کی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔ اس طرح سائنسی تعقل (scientific reasoning)نے دنیا کے مظاہر کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ فراہم کیا اور یہ واضح کیا کہ علم ایک زندہ اور متحرک عمل ہے، جو ہر لمحہ نئے سوالات، نئے تجربات اور نئی بصیرتوں کے ذریعے آگے بڑھتا رہتا ہے۔
ان مباحث سے واضح ہوتا ہے کہ ’’ کیوں؟‘‘کا سوال انسانی فکر میں ہمیشہ مرکزی طور پر موجود رہا ہے جو علت و معلول کے تصور سے مربوط ہے۔ یہ تصور فلسفہ، مذہب اور سائنس تینوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، مگر ہر میدان میں اسے اپنے اپنے مخصوص زاویے سے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر میں تنوع پایا جاتا ہے۔ کہیں اسے الٰہی ارادہ کی بنیاد پر واضح کیا گیا، کہیں عقلی استدلال کی بنیاد قرار دیا گیا، اور کہیں اسے انسانی ذہن کی عادت ٹھہرایا گیا۔ یہ تصور انسان کو مشاہداتی معلومات کی سطح سے نکال کر گہرے فہم اور حکمت کی طرف لے جاتا ہے اور علم کے سفر کو آگے بڑھاتا ہے۔ تاہم اس کی بنیاد پر انسانی عقل جو بھی جواب فراہم کرتی ہے وہ حتمی اور قطعی منزل تک نہیں پہنچاتا۔ حقیقت مطلق (ultimate truth) کے نہ جانے کتنے گوشے پردہ خفا میں رہ جاتے ہیں ۔
مثلث کا تیسرا سوال – ’’ کیسا ‘‘
’’ کیا؟‘‘اور ’’ کیوں؟‘‘کے بعد ایک تیسرا اور نہایت اہم سوال ابھرتا ہے، ’’ کیسا؟ ‘‘۔ یہ سوال انسان کے اخلاقی وجود سے وابستہ ہے جو اس کے باطن میں مچلتا رہتا ہے۔ انسان صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتا کہ اشیاء کیا ہیں اور کیوں ہیں، بلکہ وہ یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ ان کے ساتھ اپنے تعلق اور رویے کی صحیح بنیاد کیا ہونی چاہیے۔ درحقیقت انسانی علم کا ادھوراپن مادی اور محسوس حقائق کی نسبت زیادہ واضح طور پر انسان کے اخلاقی شعور کے میدان میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہی اخلاقی شعور انسان کے ذہن میں بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے: کیا اخلاقی اقدار کو مادی خواہشات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے؟ اور کیا محض عقل ہی اخلاقی رہنمائی کے لیے کافی ہے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب عقل خود کامل علم سے محروم ہو اور اس کے فیصلوں کے نتائج بھی یقینی نہ ہوں، تو کیا صرف اسی پر اعتماد کرتے ہوئے انسان اپنی اخلاقی زندگی کو درست سمت دے سکتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو انسان کو اخلاق، عقل اور ہدایت کے باہمی تعلق پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ادھورے علم کے ساتھ اگر انسانی عقل کو اخلاقی وجود کی باگ ڈور سونپ دی جائے تو اس کی حالت ایک ایسی کشتی کی سی ہو جاتی ہے جو خواہشات و جذبات کی متلاطم موجوں میں ڈگمگاتی رہتی ہے؛ کبھی ضمیر کی مدھم روشنی اسے سہارا دیتی ہے، کبھی عقل کی لغزش اسے منزل سے دور لے جاتی ہے، اور کبھی ماحول اور مفادات کا طوفان اسے ڈبونے کے درپے ہو جاتا ہے۔ اس لیے انسان کے اخلاقی وجود کو ایک ایسے کامل اور معتبر رہنما کی ضرورت ہے جو اسے وقتی رجحانات اور ذاتی مفادات کی آلودگی سے محفوظ رکھتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچا سکے۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں ہدایت الٰہی انسانی عقل اور اخلاقی شعور دونوں کی رہنمائی کے لیے ناگزیر اور فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
انسان کی اخلاقی حس یہ طے کرنا چاہتی ہے کہ کون سی قدریں اس کے لیے درست، ضروری اور قابل قبول ہیں۔ یہ سوال اس لیے اٹھتا ہے کہ انسان کے اندر خیر و شر کا شعور رکھا گیا ہے اور اسے ارادہ و اختیار کی آزادی بھی حاصل ہے، اسی لیے وہ اپنے اور دوسروں کے اعمال کو اخلاقی پیمانوں پر پرکھتا ہے۔ اخلاقی درستگی اور نادرستگی کا معیار کیا ہے اور اسے کیسے معلوم کیا جائے۔ کیا انسانی عقل خود اس معیار کا تعین کر سکتی ہے؟ اور کیا اس کے پاس اتنا کامل علم ہے کہ وہ ان سوالات کے یقینی جواب دے سکے؟
ایمانوئیل کانٹ نے اخلاقی سوال کو عقلی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نزدیک اخلاق کا سرچشمہ نہ محض جذبات ہیں، نہ سماجی روایت اور نہ ہی کسی بیرونی طاقت کا دباؤ۔ اخلاق انسانی عقل کی ساخت میں پیوست ایک لازمی اصول ہے۔ کانٹ نے اپنے اخلاقی فلسفے میں جس بنیادی تصور کو پیش کیا، اسے امر مطلق (categorical imperative)کا نام دیا۔ امانوئیل کانٹ نے اخلاقی عمل میں انسانی ارادےکی آزادی پر تو زور دیا لیکن اسی کے ساتھ اخلاقی اصول و قوانین کو وضع کرنے میں انسانی عقل کو اصل قرار دیا۔ چنانچہ اس کے خیال میں اخلاق کی اصل بنیاد انسانی ارادے (will)کی خود مختاری (autonomy) میں مضمر ہے، یعنی حقیقی اخلاق وہ ہے جس میں انسان اپنی عقل کے ذریعے خود اپنے لیے قانون وضع کرے، نہ کہ کسی بیرونی اثر، خواہش یا مفاد کے تحت عمل کرے۔ کانٹ کے مطابق اخلاقی اصول کا تقاضا یہ ہے کہ انسان صرف ایسے قواعد اختیار کرے جنہیں وہ آفاقی قانون کے طور پر قبول کر سکے۔ اس کے برعکس اگر ارادہ کسی خارجی شے، خواہ وہ ذاتی مفاد، جذبات یا کسی مطلوبہ نتیجے کی خواہش ہو، سے متعین ہو تو یہ غیر خود مختاری (heteronomy)ہے، جو حقیقی اخلاق کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ کانٹ واضح کرتا ہے کہ تجرباتی اصول، جیسے خوشی یا مفاد، اخلاق کے لیے ناکافی ہیں کیونکہ وہ آفاقی اور غیر مشروط نہیں ہوتے۔ اسی طرح وہ ان نظریات پر بھی تنقید کرتا ہے جو اخلاق کو یا تو احساسات، یا کمال (perfection)، یا خدا کی مرضی سے اخذ کرتے ہیں، کیونکہ ان سب میں ارادہ خود قانون ساز نہیں رہتا۔ اس کے نزدیک خالص اخلاقی ارادہ وہ ہے جو ہر قسم کے خارجی محرکات سے آزاد ہو کر صرف اس اصول کے مطابق عمل کرے جسے وہ خود بطور آفاقی قانون نافذ کر سکے۔ یوں اخلاق دراصل داخلی التزام، عقلی خود مختاری اور غیر مشروط فریضے (duty) کا نام ہے، نہ کہ کسی فائدے یا نتیجے کے حصول کا ذریعہ ۔ اسلامی روایت میں اخلاق کا حتمی معیار صرف انسانی عقل پر موقوف نہیں رکھا گیا ہے۔ چوں کہ انسانی عقل کسی بھی فکر و عمل کے تمام پہلووں اور ان کے اثرات سے باخبر نہیں ہو سکتی ، اس لیے انسان کے اخلاقی وجود کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ذمہ داری بھی تنہا اس پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
اسلام اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کی فطرت میں خیر وشر کی ایک ابتدائی پہچان موجود ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا، فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا۔ (الشمس: 7–8) یعنی اللہ نے نفس کو جس طرح بنایا ہے اور درست بنایا ہے تو مناسب و موزوں یہی ہے کہ اس میں فجور (برائی) اور تقویٰ (نیکی) دونوں کی استعداد اور شعور موجود رہے۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ انسان محض ایک حیوانی وجود نہیں بلکہ اس کے اندر ایک اخلاقی حس رکھی گئی ہے۔ وہ ظلم اور عدل، سچ اور جھوٹ، امانت اور خیانت کے درمیان فرق کا ایک فطری شعور رکھتا ہے۔ یہی شعور اسے ذمہ دار مخلوق بناتا ہے۔ اسلام یہ بھی واضح کرتا ہے کہ انسانی عقل اور اس کی فطرت دونوں اپنے آپ میں معصوم اور کامل نہیں ہیں۔ عقل محدود ہے؛ وہ جذبات و خواہشات سے متاثر ہو سکتی ہے، اور سماجی ماحول اس کی ترجیح کو بدل سکتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بارہا ایسے ادوار آئے جب معاشروں نے ظلم کو قانون اور باطل کو حق سمجھ لیا۔ ایسے حالات میں محض انسانی رائے یا سماجی رجحانات پر اعتماد کافی نہیں رہتا۔ اسی لیے اسلام میں خیر و شر کا قطعی اور آخری معیار وحی الٰہی کو قرار دیا گیا ہے۔
وحی انسان کی فطری اخلاقی حس کی اصلاح اور تکمیل کرتی ہے، اسے انحراف سے بچاتی ہے اور ایک مستقل و آفاقی معیار فراہم کرتی ہے۔ اس طرح اسلامی تصور اخلاق میں عقل کی نفی نہیں کی جاتی، بلکہ اسے وحی کی روشنی میں صحیح سمت دی جاتی ہے۔ عقل غور و فکر کرتی ہے، اصول اخذ کرتی ہے اور انہیں حالات پر منطبق کرتی ہے، لیکن اس کی رہنمائی کا آخری سرچشمہ وحی ہی ہوتی ہے۔ اسلام کے نزدیک انسان کے اخلاقی وجود کی نشوونما محض عقلی یا وجدانی رہنمائی سے ممکن نہیں، بلکہ وہ ہدایت الٰہی اور خیر و شر کے الہامی شعور پر استوار ہوتی ہے۔ قرآن نہ صرف اخلاقی اصول عطا کرتا ہے بلکہ انسان کے اندر جواب دہی کا گہرا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔چنانچہ انسان کے اعمال محض سماجی قبولیت (social acceptance) تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ ایک برتر اور دائمی ہستی کے سامنے جواب دہ ہونے کے یقین سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ یہی احساس جواب دہی اخلاق کو گہرائی، استحکام اور حقیقی معنویت عطا کرتا ہے۔
محدود اور جزوی علم کی افادیت اور دائرہ کار
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر انسانی عقل کو محدود اور جزوی علم تک ہی رسائی حاصل ہو سکتی ہے تو پھر انسانی تعقل کا فائدہ کیا ہے؟ انسان اپنی عقل سے جو غیر حتمی نتیجہ اخذ کرتا ہے اور سائنسی نظریات قائم کرتا ہے، اس کی کیا افادیت باقی رہ جاتی ہے؟ اس سلسلے میں قرآن مجید نے متوازن اور حقیقت پسندانہ انداز میں انسانی علم کی حقیقت و ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ قرآن ایک طرف انسان کو اس کے علم کی محدودیت کا احساس دلاتا ہے اور دوسری طرف یہ واضح کرتا ہے کہ یہی محدود اور جزوی علم دنیوی زندگی کے نظم کو چلانے کے لیے کافی ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (بنی اسرائیل: 85) یعنی تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا دیا گیا ہے۔ یہ آیت اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسانی علم، اپنی تمام تر وسعت کے باوجود، کائنات کی کامل حقیقت کے مقابلے میں نہایت محدود ہے۔ اسی طرح قرآن بتاتا ہے کہ انسان ابتدا میں کچھ نہیں جانتا تھا وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا (النحل: 78) یعنی اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا اس حال میں کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اس کے بعد اسے سمع، بصر اور عقل عطا کی گئی، جس کے ذریعے وہ بتدریج علم حاصل کرتا ہے۔ اس تدریجی اور تجرباتی عمل کی وجہ سے انسانی علم میں خطا اور عدم یقین کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ قرآن انسانی فکر کی ظنی نوعیت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (یونس: 36) یعنی ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں، اور گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی علم کی بڑی مقدار قیاس اور احتمال پر مبنی ہوتی ہے، اور یہی کیفیت سائنسی علم میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جو قطعی نہیں بلکہ مسلسل ارتقا پذیر ہے۔
قرآن اس علم کی افادیت کا انکار نہیں کرتا، بلکہ اس کی عملی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (الروم: 7) یعنی وہ دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو دنیا کے ظاہری اور عملی پہلوؤں کا ایسا علم حاصل ہے جو اس کے معاشی، سماجی اور تمدنی نظام کو چلانے کے لیے کافی ہے۔ یہی علم اسے کائنات کے قوانین سمجھنے، وسائل کو بروئے کار لانے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے۔ چنانچہ خلافت ارضی کی ذمہ داری عطا کرتے ہوئے انسان کو علم کے لحاظ سے اس قابل بنایا گیا کہ وہ وسائل حیات سے فائدہ اٹھا سکے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے کہ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقرہ: 31) یعنی اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیے۔اس علم سے مراد اشیاء کی پہچان اور ان کے استعمال کا وہ علم ہے جو انسانی تہذیب اور سائنسی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ قرآن مجید میں تسخیر کائنات اور انسانی علم کی اہمیت کو نہایت جامع اور بامقصد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ کائنات انسان کے لیے مسخر کی گئی ہے تاکہ وہ عقل و علم کے ذریعے اس سے فائدہ اٹھائے اور اپنے خالق کی معرفت حاصل کرے۔ چنانچہ سورہ جاثیہ میں فرمایا: (اور اسی نے تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کچھ اپنی طرف سے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں)۔اس آیت میں واضح کیا گیا ہے کہ پوری کائنات انسان کے لیے ایک قابل تسخیر نظام ہے، بشرطیکہ وہ غور و فکر کرے۔ سورۃ لقمان میں تسخیر کے ساتھ نعمت اور ذمہ داری دونوں کا تصور دیا گیا ہے۔ سورۃ ابراہیم میں فرمایا: (اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا… اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا… اور سورج اور چاند کو بھی تمہارے لیے تابع کر دیا)۔ ان آیات میں فطری قوتوں کو انسان کے لیے قابل استعمال بتایا گیا۔ سورۃ آل عمران میں ارشاد ہوا: (بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں )۔ یہ آیات سائنسی اور کائناتی غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ قرآن کے مطابق کائنات محض ایک جامد نظام نہیں بلکہ ایک کھلی کتاب ہے، جسے سمجھنے کے لیے انسان کو عقل، مشاہدہ اور علم کا استعمال کرنا چاہیے۔ نظام کائنات پر غور کرنے سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ انسان کی ضروریات کو بھی پورا کرتا ہے اور اس سے خالق کی معرفت، اخلاقی شعور اور ذمہ دارانہ طرز زندگی کے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔
مزید برآں ارشاد باری تعالی ہے کہ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (العلق: 5) یعنی اللہ نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن یہ بنیادی حقیقت بھی واضح کرتا ہے کہ کامل اور یقینی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ (الانعام: 59) یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں، جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقت مطلقہ اور کائنات کے حتمی اسرار انسانی دسترس سے باہر ہیں۔ اس طرح قرآن ایک جامع تصور علم پیش کرتا ہے جس میں انسانی علم کو نہ مطلق (absolute) قرار دیا گیا ہے اور نہ بے وقعت (insignificant)، بلکہ اسے ایک کام چلاو اور کارآمد (functionally useful) ذریعہ بتایا گیا ہے۔ یہی جزوی اور غیر یقینی علم انسان کو تحقیق، جستجو اور تجربے پر آمادہ رکھتا ہے اور ایک درجے کا عملی یقین (practical certainty) فراہم کرتا ہے جس پر دنیا کا نظام قائم ہے۔
لیکن جہاں تک انسان کے اخلاقی وجود کا تعلق ہے، معاملہ بالکل مختلف نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔ اخلاقی فیصلےمحض وقتی یا نسبتی علم (relative knowledge) پر قائم نہیں ہو سکتے، کیونکہ ان کے اثرات صرف دنیوی زندگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اخروی زندگی تک پھیلے ہوتے ہیں۔ اگر اس میدان میں اخلاقی معیار غیر یقینی اور تغیر پذیر ہو، تو انسان کی پوری اخلاقی بنیاد کمزور اور متزلزل ہو سکتی ہے۔ ایسے میں خیر و شرکا تعین ذاتی رجحانات ، سماجی دباؤ یا وقتی مفادات کے تابع ہو جاتا ہے، جس سے اخلاقی انتشار پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے اخلاق کے دائرے میں ایک ایسے یقینی علم کی ضرورت ہوتی ہے جو قطعی ، مستحکم اور انسانی محدودیت سے ماورا (transcendent)ہو۔ یہی معیار وحی الٰہی فراہم کرتی ہے، جو انسان کو خیر و شر کا واضح، مستقل اور قابل اعتماد پیمانہ عطا کرتی ہے۔ چنانچہ دنیوی معاملات میں انسانی عقل اور تجربہ کافی حد تک رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، لیکن اخلاقی رہنمائی کے لیے وحی کی ضرورت ناگزیرہو جاتی ہے، کیونکہ وہی انسان کو ایک ایسا آفاقی اور غیر متبدل معیار عطا کرتی ہے جو ہر زمان و مکاں میں قابل اطلاق رہتا ہے۔
خلاصہ بحث یہ ہے کہ انسانی عقل کے ذریعے جو کچھ اور جتنا کچھ بھی معلوم ہوتا ہے وہ محدود، جزوی اور اکثر ظنی ہوتا ہے۔ تاہم قرآن اسے بے وقعت نہیں ٹھہراتا بلکہ دنیوی زندگی کے نظم و نسق کے لیے کافی اور مفید قرار دیتا ہے۔ انسان حواس اور عقل کے ذریعے تدریجاً علم حاصل کرتا رہتا ہے، جو اسے کائنات کو سمجھنے، وسائل سے فائدہ اٹھانے اورتمدنی ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کے لائق بناتا ہے۔ چوں کہ انسانی عقل سے حاصل ہونے والا قیاسی علم اپنی فطرت کے اعتبار سے محدود اور غیر یقینی ہوتا ہے، اس لیے وہ اخلاقی رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ اخلاقی زندگی کو ایک ایسے قطعی، مستحکم اور آفاقی معیار کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر قسم کے ابہام اور شک سے پاک ہو۔ نسبتی اور تغیر پذیر علم اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔ اسی علمی خلا کو وحی الٰہی پورا کرتی ہے، جو انسان کو خیر و شر کا واضح، معتبر اور غیر متزلزل پیمانہ فراہم کرتی ہے، اور جس کی روشنی میں انسان عقلی اور قلبی یقین کے ساتھ اپنے اخلاقی وجود کو سنوار سکتا ہے۔







