مسلمانوں کی تکفیر بدعت اور گم راہی ہے

ادھر جب اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی/صلیبی جارحانہ مہم کا آغاز ہوا، تو اس کے معًا بعد ہی کچھ ’’مبلغین‘‘ کی طرف سے ایرانی حکام اور علما کے خلاف اور اس سے آگے بڑھ کر تمام شیعوں کے خلاف، خواہ وہ ایرانی ہوں، لبنانی ہوں، عراقی ہوں یا یمنی، تکفیری فتووں اور بیانات کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس طرح ایک غیر مہذب فرقہ وارانہ تکفیری زبان، جو اندھی نفرت اور تعصب کی زبان تھی، دوبارہ ابھر کر سامنے آگئی۔

تکفیر کی دو صورتیں ہیں: کھلی تکفیر، جس میں بعض مسلمانوں کو صریح لفظوں میں کافر قرار دے دیا جاتا ہے-اس کا معاملہ واضح ہے۔ دوسری صورت ضمنی تکفیر کی ہے۔ یہ ان کے یہاں پائی جاتی ہے جو مختلف مواقع پر اپنے بیانات میں کچھ مسلمانوں کو کافروں کے برابر کردیتے ہیں، یا کچھ مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ گہری دشمنی اور زیادہ سخت رویے کا مستحق قرار دے دیتے ہیں۔ اپنے اس رویے کے حق میں وہ یہ دعویٰ کرڈالتے ہیں کہ یہ لوگ صہیونیوں، صلیبیوں اور ملحدوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔

تکفیر کا رجحان امت کے لیے خطرناک ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ماضی اور حال کے بہت سے علما نے مسلمانوں کی تکفیر کے رجحان کو روکنے کی بھرپور کوشش کی اور متعدد شرعی ممانعتوں، پابندیوں اور فقہی و اصولی ضوابط و قیود کے ذریعے اس کا ارتکاب کرنے والوں کو روکنے اور گھیرنے کی کوشش کی۔

آج تکفیر کے موضوع پر بہت سی کتابیں اور تحریریں موجود ہیں جو تکفیر کے ضوابط و شرائط بیان کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض کتابوں اور مقالوں کا عنوان ہوتا ہے: ’’تکفیر کے باب میں اہل سنت کا منہج‘‘۔ حالاں کہ اہل سنت کے لیے جو بات مناسب ہے اور جو ان کے یہاں طے شدہ بھی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ صرف ان لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو اپنے صریح قول و فعل سے اپنے آپ کو خود کافر قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْر۔ [التوبة: 17]. (مشرکین کے لیے یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، جب کہ وہ اپنے خلاف کفر کی گواہی دیتے ہوں) [التوبہ: 17]۔

تکفیر کے ضوابط و شرائط کے حوالے سے ان معزز علما کی گفتگو نے ہمیشہ میرے ذہن میں سوالات اور تحفظات کو ابھارا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تکفیر کے ضوابط و شرائط اور حدود پر گفتگو کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تکفیر اپنے آپ میں تو جائز یا شرعًا مطلوب ہے، بس کچھ ضوابط و شرائط کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو تکفیر پیشہ ہوتے ہیں ہمیشہ خود کو تکفیر کے ضوابط و شرائط کا پابند قرار دیتے ہیں اور وہ زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارے لیے ہمارے اپنے ضابطے اور شرطیں ہیں ‘‘۔

سچ تو یہ ہے کہ تکفیر (کسی کو کافر قرار دینا) اور اس کا سگا بھائی تضلیل (کسی کو گمراہ قرار دینا) بنیادی طور پر تکلف اور انتہا پسندی ہے۔ یہ اندھی عصبیت اور غلو سے جنم لینے والی بدعتوں میں سے ایک بدعت ہے اور اپنے آخری نتیجے کے لحاظ سے یہ کسی سیاسی کشمکش کی خدمت کرتی ہے اور اس کا ایندھن بنتی ہے۔

اس لیے جس سوال کا جواب دینا اور اس پر ٹھہر کر غور کرنا ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ کیا تکفیر ایک مذہبی فریضہ اور ذمہ داری ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلم افراد یا مسلم گروہوں کی چھان بین کرنے، ان کی ٹوہ میں پڑنے اور پھر یہ فیصلہ دینے کا کام سونپا ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا کافر؟ کیا اللہ تعالیٰ نے مسلم علما یا عام مسلمانوں کو یہ کام سونپا ہے کہ جس کسی کی طرف سے مخالف رائے یا رویے کا صدور ہو یا اس کی طرف سے شاذ اور حیران کن بات سامنے آئے، اس کے کفر یا نفاق میں ملوث ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیں اور باقی لوگوں کو کفر و نفاق سے پاک ہونے کی سند دے دیں؟

کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ذمے داری تفویض کی ہے کہ ہم اپنے رہنماؤں، بزرگوں اور ان کے پیروکاروں کی باتوں کی جانچ پڑتال کریں، ان کے طرز عمل، افعال اور حالات کا جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ ان سے کیا اشارے ملتے ہیں اور ان سے کیا مطلب نکل سکتا ہے، تاکہ ہم ان کے اسلام یا کفر کا فیصلہ کریں؟

برا ہو ایسے تکلف، انتہا پسندی اور حماقت کا! لوگوں کو جس چیز کا حکم دیا گیا ہے اسے وہ ترک کر دیتے ہیں اور جس چیز سے انہیں منع کیا گیا ہے اس میں مشغول رہتے ہیں!

تکفیر و تضلیل کے مشغلے میں مبتلا بعض لوگوں سے کیسی کیسی حرکتیں صادر ہوسکتی ہیں اس کی ایک دلچسپ مثال وہ واقعہ ہے جو فقیہ و قاضی ابو ولید الباجی کے ساتھ پیش آیا۔ وہ اپنے زمانے کے مالکی امام تھے، ایک بار انھوں نے ضمنًا اپنے ایک درس میں یہ کہہ دیا کہ نبی ﷺ نے بعض کلمات اپنے دست مبارک سے رقم فرمائے تھے اور یہ کہ یہ چیز قرآن میں مذکور اس بات کے منافی نہیں ہے کہ آپؐ امی تھے۔

بات بس اتنی سی تھی، لیکن زندگی کے حقیقی معرکوں میں ناکام ہوجانے والے بعض شہ سواروں نے آسمان سر پر اٹھالیا۔ انھوں نے امام صاحب کو کافر و گم راہ کہا اور انھیں زندیق قرار دیا۔ بعض نے تو منبروں پر سے ان پر لعنت بھیجی۔ انھوں نے اندلس سے باہر کے علما سے خط و کتابت بھی کی جس کا مقصد یہ تھا کہ امام الباجی کے خلاف ماحول بنائیں اور ان کے خلاف مزید تکفیری فتوے جاری کروائیں۔

میں نے اس سے پہلے اپنی کتاب (الاختيارات الدينية الكبرى للأمة الإسلامية) میں ان ’’جدید انتہا پسندوں‘‘کا ذکر کیا ہے۔ میں نے ان کے بارے میں ایک بات یہ کہی: ’’ تم یہ دیکھو گے کہ جب بھی وہ کسی ممتاز شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں یا اس کی کسی کتاب کی تحقیق کرتے ہیں اور کبھی تو بے موقع بھی، وہ یہ عجیب و غریب اور شکوک انگیز سرخی لگاتے ہیں: (اس کا عقیدہ) یا (فلاں کا عقیدہ)۔ ‘‘ اس عنوان کے تعلق سے ان کا اہتمام اس وقت بڑھ جاتا ہے، جب انھیں لگتا ہے کہ وہ شخصیت عقیدے کے پہلو سے کسی الزام یا شک کا نشانہ بنائی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں یا تو اس کی مذمت کو دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کے علمی مقام پر سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اس سے متنفر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا پھر دلائل سے اسے صحیح العقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ نجات یافتہ فرقے میں شامل کرلی جائے۔

آج کل دیکھا جاتا ہے کہ ماسٹرس یا ڈاکٹریٹ کا طالب علم مسلمانوں کے کسی بڑے عالم یا امام کے بارے میں بلا جھجھک فیصلے صادر کرتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس کا عقیدہ صحیح ہے یا غلط ہے۔ کبھی وہ یہ انکشاف کرتا ہے کہ زیر بحث شخصیت اشعریت کی بدعت میں مبتلا یا اشعریت سے متاثر ہے۔ وہ یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ وہ شخصیت سلف کے منہج سے ہٹی ہوئی ہے اور اہل سنت والجماعت کے دائرے سے باہر نکل گئی ہے یا بیچ بیچ میں ہے۔

جب میں کسی مشہور عالم یا امام کے بارے میں لکھے گئے تحقیقی مقالے کی طرف رجوع کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہ محقق زیر بحث شخصیت کی سوانح عمری، اس کی جدوجہد، اس کی تصانیف، اس کے شاگرد، اس کے علمی مقام، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے بارے میں علماء کے تاثرات کا ذکر کرتا ہے… پھر اچانک مجھے ایک ذیلی عنوان ملتا ہے ’’ اس کا عقیدہ ‘‘!! میں حیران ہوجاتا ہوں اور سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا وہ شخصیت مسلمان نہیں ہے اور کیا اس کا عقیدہ اسلام کا عقیدہ نہیں ہے؟ کیا وہ مسلمانوں کے علما میں سے نہیں ہے؟ کیا وہ امت کے اماموں میں نہیں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ایک منافق تھا جو اپنی عیسائیت، مجوسیت یا الحاد کو چھپائے ہوئے تھا؟ میں پہلے بھی کبھی یہ سمجھ نہیں سکا تھا اور میری وہ حیرت آج بھی برقرار ہے کہ ایسے ایسے نامور اور قابل احترام علمائے کرام، جن کی صدیوں سے پیروی کی جا رہی ہے، ان کے خلاف ایسی ’’ عقائدی جانچ پڑتال ‘‘ کیسے درست ہوسکتی ہیں! یہ ایسی بات ہے کہ جس کے پیش آنے پر یقین کرنا آسان نہیں ہوتا اگر یہ سینکڑوں کتابیں اور یونیورسٹی کے تحقیقی مقالے ہمارے سامنے نہ ہوتے جو ایسے عمل سے آلودہ ہیں!

اور سب سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو اپنے آپ کو “طالب علم” کہتے ہیں، اس قدر جری اور گستاخ کیسے ہوجاتے ہیں!! یہ بلا کسی جھجھک اور تردد کے پوری حتمیت کے ساتھ اعتقاد رکھتے اور اس کا برملا اعلان کرتے ہیں کہ انہوں نے عقیدہ اور اس کی نصوص کے ان پہلوؤں کو سمجھ لیا ہے جنہیں بڑے بڑے علما جان نہ سکے یا انھوں نے غلط سمجھا یا یہ کہ یہ علما اور ائمہ دھوکے کا شکار ہو گئے، جس کے نتیجے میں وہ اشعری یا نیم اشعری ہوگئے اور انھیں اس کا شعور بھی نہ ہوسکا۔

معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کے لیے اس مثال کو بغور سنیں: ’’ بعض نامور علما اور ائمہ اشعریوں اور ماتریدیوں سے متاثر تھے۔ اشعریوں سے متاثر ہونے والوں میں امام نوویؒ اور حافظ ابن حجرؒ بھی تھے۔ یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ حافظ ابن حجر باقاعدہ اشعری تھے، ایسا ان کے بارے میں کیسے سوچا جاسکتا ہے، ہاں درست یہ ہے کہ وہ کچھ غلط تاویلات میں پڑ گئے جن سے اور بھی بہت سے علما متاثر ہوئے اور وہ ان کے درمیان مشہور ہوئیں۔ ان سے متاثر ہونے والے حنبلی علما میں سے ابن عقیل، ابن جوزی اور ابن زاغونی بھی شامل تھے۔ اسی طرح بعض حنبلی فقہا بھی صفات کی تاویل کے معاملے میں اشاعرہ سے متاثر تھے۔ بہرحال مخالف کوئی بھی ہو اس کا کوئی وزن اور اعتبار نہیں ہے، اگر وہ سلف کے منہج اور ان کے مثالی طریقے سے متصادم ہو۔ ‘‘

اس جانچ پڑتال اور درجہ بندی میں زندہ اور مردہ دونوں یکساں طور سے شامل ہیں۔ وہ ابھی سے لوگوں کو چھانٹ دینا چاہتے ہیں کہ نجات یافتہ فرقے میں سے کون ہوگا اور جہنمی فرقوں میں سے کون ہوگا؟ کون مدح و ستائش اور تعظیم کا مستحق ہے اور کون تضلیل و تکفیر یا رسوائی و بدنامی کا مستحق ہے۔

انسانوں کی اس درجہ بندی کے رحجان کو روکنے اور اس بیماری سے نمٹنے کی کوشش میں، علامہ شیخ بکر ابو زید نے اپنی کتاب (تصنيف الناس بين الظن واليقين) (لوگوں کی درجہ بندی، کتنا گمان اور کتنا یقین) تالیف کی جس میں اس بیمار رحجان سے متاثر افراد کو علیٰحدگی پسند اور جرح پیشہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا: ’’ ایسے لوگوں کے دلائل کا ماخذ غلطیوں کی ٹوہ میں پڑنا اور لغزشوں کو ٹٹولنا ہے۔ غلطی کی بنا پر کوئی بھی عالم مجروح کردیا جاتا ہے اور اس کی کوئی لغزش معاف نہیں کی جاتی ہے۔‘‘

وہ لکھتے ہیں: ’’ اس علیٰحدگی پسندی سے بچو۔ ایسے لوگوں کے چکر میں نہ پڑو، یہ بندوں کی درجہ بندی کے معاملے میں قیل و قال اورکثرت سوال میں وقت، توانائی اورچستی کو ضائع کردیتے ہیں۔ یہ علیٰحدگی پسندی کی ایک کیفیت ہے۔ یہ ایک گناہ ہے جس میں وہ لت پت ہیں۔ ایک آزمائش ہے جس میں وہ مبتلا ہیں۔ ان کے لیے عافیت کی دعا کرنی چاہیے۔ ‘‘

یہاں ہم واضح کردیں کہ اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کا تعلق افکار و آرا اور دینی اجتہادات پر تنقید، مباحثے اور تائید و تردید سے نہیں ہے۔ یہ کام تو ضروری اور جائز ہے۔ بلکہ اگر علم، شائستگی اور اخلاص کے ساتھ کیا جائے تو اس میں اجر بھی ہے۔

جو چیز حرام اور ممنوع ہے وہ مسلمانوں کے خلاف کفر اور گمراہی کے فیصلے جاری کرنا ہے خواہ وہ افراد ہوں یا گروہ۔ یہ تکلف اور زیادتی ہے جس کی خدا نے اجازت نہیں دی ہے۔

میں پھر یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ مسلمانوں کو کافر قرار دینے کے ضوابط و شرائط ہیں جن کی پابندی ضروری ہے۔ بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ یہ ایک باطل تکلف ہے جس سے منع کیا گیا ہے اور جو کہ دراصل جائز ہی نہیں ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے عقائد کی تفصیلات کی تحقیق و جستجو کا عمل حقیقت میں معتزلی بدعت ہے، اسلامی سنت نہیں ہے۔ عباسی خلیفہ مامون رشید کی قیادت میں جبر کا راستہ اختیار کرنے والے معتزلہ ہی وہ لوگ تھے جنہوں نے لوگوں کو جانچنے اور ان کے عقائد، تصورات اور افہام کی تفصیلات کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کا آئیڈیا ایجاد کیا۔ ان کا مقصد لوگوں کو خلق قرآن کے قول کو ماننے پر مجبور کرنا تھا۔ یہ سب جبر و زیادتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے: فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ} [الغاشية: 21 – 24] (آپ نصیحت کیا کریں، آپ بس نصیحت کرنے والے ہیں. آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں)

رہے وہ لوگ جو مسلمانوں کی تکفیر کو نام نہاد ’’ ضوابط ‘‘ کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں، وہ دراصل اس کی طرح ہیں جو شراب نوشی اور مال کی لوٹ کھسوٹ کو اپنی طرف سے ضوابط طے کرکے جائز قرار دے۔

یہاں ہم کچھ شرعی نصوص ذکر کریں گے جن سے تکفیر کا حرام ہونا معلوم ہوتا ہے، نہ کہ تکفیر کے ضوابط معلوم ہوتے ہیں:

پہلی نص: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا. [النساء: 94]

( اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے نزدیک بہت سی غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے۔)

دوسری نص: صحیح بخاری میں ابو قلابہ کی روایت ہے کہ حضرت ثابت بن ضحاکؓ نے جو درخت کے نیچے بیعت کرنے والے صحابہ میں سے تھے، ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

من حلف على ملة غير الإسلام فهو كما قال. وليس على ابن آدم نذر فيما لا يملك. ومن قتل نفسه بشيء في الدنيا عذب به يوم القيامة. ومن لعن مؤمنا فهو كقتله. ومن قذف مؤمنا بكفر فهو كقتله۔

(جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے (کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں نصرانی ہوں، یہودی ہوں) تو وہ ایسا ہو جائے گا جیسا کہ اس نے کہا اور کسی انسان پر اس چیز کی نذر واجب نہیں ہوتی جو اس کے اختیار میں نہ ہو اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خود کو قتل کیا اسے اسی چیز سے آخرت میں عذاب ہو گا اور جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی تو یہ اس کے خون کرنے کے برابر ہے اور جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو وہ ایسا ہے جیسے اس کا خون کیا۔)

تیسری نص: صحیح مسلم میں ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا كفر الرجلُ أخاه فقد باء بها أحدهما.

(اگر کوئی شخص اپنے بھائی پر کفر کا الزام لگاتا ہے تو ان میں سے ایک نے اسے کمایا ہے۔)

غرض جو کوئی کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے اور اسی طرح جو کوئی مسلمان پیدا ہوا، پروان چڑھا اور اس دین پر قائم رہا، وہ مسلمان ہے، چاہے اس کے بارے میں کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات اور اندیشے پیدا ہوں۔ اس کا معاملہ، اس کی اندرونی کیفیات اور اس کی اصلیت -اور ہم سب بھی- اللہ کے حوالے ہیں۔

صرف اللہ کی ذات ہی کو یہ روا ہے کہ وہ اس کے بارے میں کفر کا فیصلہ سنائے جس کا ظاہر اسلام اور ایمان ہو، اور اس کے بارے میں بھی جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کیونکہ باطن کی باتوں، سینے کے رازوں اور اندر کی حقیقتوں کو وہی جانتا ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہمیں نہ یہ کام سونپا گیا ہے اور نہ ہی ہم اس کے اہل ہیں۔

اس لیے کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار نہیں دیا جانا چاہیے، سوائے اس کے جس نے اپنے ارتداد کا اور اسلام سے علیحدگی کا اعلان کیا ہو یا جس کو اللہ تعالیٰ نے کفر سے متصف کردیا ہو۔

دجال سے متعلق احادیث میں ایک لطیف بات وہ ہے جس کا ذکر صحیح مسلم میں ہے: ’’اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ ’’کافر‘‘ لکھا ہوا ہے جسے ہر مومن وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو پڑھ سکے گا۔‘‘

خدا ہم سب پر رحم کرے- دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح دجال کے کفر کا معاملہ ہماری تحقیق، اجتہاد اور استنباط پر نہیں چھوڑا، بلکہ اس کے کفر کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا اور اسے اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ لکھوا دیا، تاکہ ہرکوئی اسے پڑھ اور سمجھ سکے، یہاں تک کہ ان پڑھ بھی۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

مسلمانوں کی تکفیر بدعت اور گم راہی ہے

حالیہ شمارے

اپریل 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223