تطہیرِ قلب

تیسری بیماری: غیبت

غیبت ایک قلبی مرض ہے۔ دل کے اندر اللہ تعالیٰ پر ایمان، آخرت کی فکر اور جوابدہی کا احساس کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کی بنا پر انسان اس بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ غیبت کرنے والا سب سے پہلے اپنی شخصیت کو مجروح کرتا ہے اور حد درجہ نیچے گر جاتا ہے۔ اس کا دل بے نور ہوجاتا ہے اور اس اوچھی حرکت سے اس کی ذات بے اعتبار ہوجاتی ہے۔ پھر جس کی غیبت کرتا ہے اس کی عزت سے کھلواڑ کرتا ہے اور اس کی آبرو کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جس کی غیبت کی جاتی ہے وہ وہاں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے موجود نہیں ہوتا۔ مردہ بھائی کا گوشت کھاتے کھاتے وہ روحانی اعتبار سے درندہ صفت ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر روحانیت ختم ہوجاتی ہے اور لوگ بھی اس سے گھن کرنے لگتے ہیں۔

اسلام کی تعلیمات عظیم الشان ہیں۔ دین کی رہنمائی یہ ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان کی زبان سے کوئی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

المُسلِمُ مَن سَلِمَ المُسلِمونَ مِن لسانِه ويَدِه(رواہ البخاری)

’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘

اسلام میں زبان کی حفاظت کی طرف بہت متوجہ کیا گیا ہے۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ وہ زبان سے صرف حلال چیزوں کا ذائقہ چکھے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے نامناسب چیزیں نہ نکالے۔ اپنی زبان سے بد کلامی نہ کرے، کسی کی دل آزاری نہ کرے، غلط بیانی سے پرہیز کرے، جھوٹی گواہی نہ دے اور کسی کی غیبت نہ کرے وغیرہ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

مَن كانَ يُؤمِنُ باللهِ واليَومِ الآخِرِ فليَقُلْ خَيرًا أو ليصمُتْ(رواہ البخاری و مسلم)

’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔‘‘

نبی اکرم ﷺ نے زبان کی اہمیت کے پیش نظر اسے آخرت کی کامیابی یا ناکامی کا ذریعہ بتایا ہے۔ ایک جگہ آپؐ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی زبان اور اپنی شرم گاہ کی ضمانت دے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں:

مَن يَضمَنْ لي ما بينَ لَحيَيه وما بينَ رِجلَيه أضمَنْ له الجَنَّةَ(رواہ البخاری)

’’جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں (زبان) اور اپنی دونوں رانوں (شرم گاہ) کی ضمانت دے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘

غیبت کرنے میں انسان اپنی زبان کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔ اسے اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ زبان سے نکلی ہر بات ریکارڈ ہو رہی ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ تقویٰ کا ایک بڑا امتحان زبان کا صحیح استعمال بھی ہے۔

فضیل بن عیاضؒ بہت بڑے عابد و زاہد گزرے ہیں۔ ’عابد الحرمین‘ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے سخت تقویٰ زبان کے استعمال میں ہے:

الْوَرَعُ فِي اللِّسَانِ (الورع لابن ابی الدنيا، ص 77)

’’سب سے سخت تقویٰ زبان میں ہے۔‘‘

بہت سے لوگوں کے نزدیک تقویٰ کا معیار صرف نماز، روزہ اور عبادات ہیں۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ عبادات اور فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ آدمی اپنی زبان کو بھی متقی بنا لے۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جو بظاہر بہت نیک اور متقی لگتے ہیں لیکن وہ بلا ناغہ دوسروں کی غیبت کرتے پھرتے ہیں اور انھیں بالکل بھی خبر نہیں ہوتی کہ وہ اپنے اعمال غیر شعوری طور پر ضائع کرتے رہتے ہیں۔

یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ ان چیزوں کا یہاں تذکرہ کردیا جائے جن کا شمار غیبت میں نہیں ہوتا۔ دینی مصالح کے پیش نظر ان کی اجازت دی گئی ہے:

(الف) ظالم کی برائی کرنا: آدمی مظلوم ہے تو ظالم کی برائی بیان کر سکتا ہے۔ ظالم حاکم جس کے ظلم سے لوگ پریشان ہیں اس کی کمیاں بیان کی جا سکتی ہیں تاکہ لوگ اس سے باخر ہوں اور اس کے ظلم سے محفوظ رہیں۔ کسی نے کسی کا مال ہڑپ کرلیا ہے تو اس کی کمی بیان کی جا سکتی ہے۔ سنن ابی داؤد میں ایک واقعہ یوں بیان ہوا ہے:

خَرَجْنَا مَعَ رَسُـولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فِي الأَسْوَاقِ فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِابْنَتَيْنِ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُـولَ اللَّهِ هَاتَانِ بِنْتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ وَقَدِ اسْـتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالاً إِلاَّ أَخَذَهُ (رواه ابو داؤد)

’’ جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے۔ بازار میں ایک انصاری عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس عورت نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ دونوں بچیاں ثابت بن قیسؓ کی بیٹیاں ہیں۔ آپؐ جانتے ہیں ثابت بن قیسؓ غزوۂ احد میں آپ کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں۔ ان بچیوں کے چچا نے ان دونوں کا مال اور میراث پورا ہڑپ کر لیا ہے اور ان کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے۔‘‘

اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ظالم کی غیر موجودگی میں اس کے ظلم کی شکایت کی جا سکتی ہے۔

(ب) فتویٰ پوچھنا: فتویٰ پوچھنا غیبت نہیں ہے۔ کسی مسئلے میں اگر رہنمائی حاصل کرنا ہو اور کسی شخص کی کمی کا تذکرہ کرنا ناگزیر ہو تو وہ کیا جا سکتا ہے۔

ہند بن عتبۃؓ کا واقعہ ہے کہ انھوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنے شوہر کی بخل پسندی کا تذکرہ کیا اور ان کے مال میں سے بچے پر خرچ کرنے کی اجازت چاہی:

جاءت هندٌ إلى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّم، فقالت: يا رسولَ اللَّهِ إنَّ أبا سفيانَ رجلٌ شحيحٌ، لا يعطيني ما يَكفيني وولَدي، إلَّا ما أخذتُ من مالِهِ، وَهوَ لا يعلَمُ، فقال: خُذي ما يَكفيكِ وولدَكِ بالمعروفِ (رواہ البخاری و مسلم)

’’ھندؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا : یا رسول اللہﷺ! ابو سفیان بخیل شخص ہیں۔ وہ مجھے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بچے کے لیے کافی ہو تو میں ان کی لاعلمی میں ان کے مال سے کچھ لے لیتی ہوں۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ معروف طریقے سے اتنا لے لو جس سے تمہاری اور تمہارے بچے کی ضرورت پوری ہوجائے۔‘‘

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بقدر ضرورت مسئلہ پوچھنے کے لیے کسی کی کمی بیان کی جا سکتی ہے، لیکن صرف اسی شخص سے جو دیندار ہو، قابلِ اعتماد ہو اور شریعت کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہو۔ اِدھر اُدھر بیان کرنا جائز نہیں۔

(ج) رشتے کے لیے معلومات حاصل کرنا: اگر کوئی مرد یا خاتون رشتہ کے لیے کسی کے بارے میں ضروری معلومات دریافت کرنا چاہتی ہے تو متعلق فرد کی غیر موجودگی میں اس کی کمی بیان کی جا سکتی ہے۔ اس بات کی اجازت اس لیے دی گئی ہے کہ کہیں وہ شخص لاعلمی کی وجہ سے بڑی پریشانی میں نہ پڑ جائے۔

فاطمہ بنت قیسؓ کے پوچھنے پر نبی اکرم ﷺ نے انھیں بتایا کہ:

أمَّا أبو جَهْمٍ ، فلا يَضعُ عصاهُ عن عاتقِهِ ، وأمَّا مُعاويةُ فصعلوكٌ لا مالَ لَهُ (رواہ مسلم)

’’ ابو جھم تو اپنا ڈنڈا ہر وقت اپنے کاندھے پر رکھتے ہیں۔ (یعنی بات بات پر مار بیٹھنے والے شخص ہیں) اور معاویہ غریب آدمی ہیں، ان کے پاس کچھ مال ہی نہیں ہے۔‘‘

اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی رشتے کی تلاش میں ہو تو اسے فرد مطلوب کے بارے میں صحیح بات بتا دینی چاہیے۔ یہ غیبت نہیں ہے۔ البتہ اِدھر اُدھر اس کا تذکرہ کرنا جائز نہیں ہے۔

(د) پہچان کے لیے: کسی شخص میں کوئی کمی یا عیب ہو اور وہ اس کی پہچان بن جائے اور وہ شخص بھی اس کے ذکر کو برا نہ مانے تو یہ غیبت میں شمار نہیں ہوتا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں:

كَانَ لِرَسُولِ اللَّه صلى الله عليه وسلم مُؤَذِّنَانِ بِلَال وَابْن أُمّ مَكْتُوم الْأَعْمَى(رواہ مسلم)

’’رسول اللہ ﷺ کے دو مؤذن تھے: ایک بلالؓ اور دوسرے ابن ام مکتوم نابینا۔‘‘

یہاں نابینا کہہ کر ان کے غیاب میں ان کی کمی بیان کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ تعارف اور پہچان کے لیے ہے۔ تاہم اگر یہ تذکرہ اسے برا لگے تو ایسا کہنا جائز نہیں ہے۔

حدیث شریف کی تدوین میں محدثین نے غیر معمولی محنت و مشقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ حدیث کی روایت میں انھوں نے دور دراز علاقے کا سفر کیا اور حدیث کے اخذ و رد کے سلسلے میں انھوں نے جرح و تعدیل کا فن قائم کیا۔ کبھی کبھی ایک نام کے کئی کئی افراد ہوتے تھے تو ان کے تعارف اور پہچان کے لیے نام کے ساتھ کوئی علامتی چیز لگا دیتے تھے۔ مثال کے طور پر الاعرج (لنگڑا)، الاصم (بہرہ)، الاحول (بھینگا) وغیرہ۔ لہٰذا یہ غیبت کی تعریف میں نہیں آتا۔ بلکہ یہ وقت کی ضرورت تھی۔ لیکن آج کے حالات میں اگر کوئی شخص تعارف کے لیے بھی اس کو پسند نہ کرتا ہو تو اس سے پرہیز کرنا ضروری ہوگا۔

غیبت سے بچنے کی تدبیریں

خوف خدا

غیبت جیسی سنگین بیماری سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العزت کا خوف اور تقویٰ اختیار کرے۔ اسے اس بات کا احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللہ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ(الحجرات: 12)

’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گِھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں غیبت سے منع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا غیبت سے بچنے کا اولین طریقہ یہ ہے کہ آدمی رب ذو الجلال کا تقویٰ اختیار کرے اور اس کی پکڑ سے ڈرے۔ یہ بات بندے کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس کا ایک ایک لفظ ریکارڈ ہورہا ہے اور قیامت کے دن اس کی جوابدہی اسے کرنی ہوگی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ(ق :18)

’’کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔‘‘

اللہ کا ذکر

غیبت سے بچنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور ہمہ آن رب ذوالجلال کا استحضار اپنے اوپر لازم کرے۔ یہ خیال اسے دامن گیر رہے کہ اللہ رب العزت ہمیشہ اسے دیکھ رہا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا(الاحزاب: 41۔42)

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرواور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘

اللہ کے ذکر کی کیفیت انسان کو غیبت سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔ وہ جب بھی غیبت کرنے کا ارادہ کرے گا اسے اللہ تعالیٰ یاد آجائے گا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرتے رہنا چاہیے اور کیفیت یہ ہو کہ زبان رب کریم کے ذکر سے ہر وقت تر رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک صحابیؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

لا يزالُ لسانُك رطبًا من ذكرِ اللهِ (رواہ الترمذی)

’’تمھاری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہے۔‘‘

اپنا احتساب

غیبت سے بچنے میں یہ چیز بھی مدد دے گی کہ آدمی اپنا محاسبہ کرے اور اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو یاد کرے۔ جب آدمی اپنی کوتاہیوں پر غور کرے گا تو اسے اندازہ ہوگا کہ اس کے اندر خود اتنی کوتاہیاں اور کمزوریاں موجود ہیں وہ خوامخواہ دوسروں کی کمزوریوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ بہادر شاہ ظفر کا بہت اچھا شعر ہے

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

احتسابِ ذات کی دین میں بڑی اہمیت ہے۔ اس سے آدمی کو اپنی اوقات یاد آتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ اسے اصلاح و تربیت کی شدید ضرورت ہے اور اگر وہ اسی حال میں رب ذوالجلال کے پاس پہنچ گیا تو اس کا کیا ہوگا۔ احتسابِ ذات انسان کے رونگٹے کھڑا کر دیتا ہے۔ اسے ندامت کا احساس ہوتا ہے، توبہ و استغفار کی توفیق ملتی ہے اور تلافیٔ مافات کی فکر کرتا ہے۔ احتسابِ ذات کے سلسلے میں مشہور حدیث ہے:

الكَيِّسُ مَن دان نفسَه وعمِل لما بعدَ الموتِ والعاجِزُ مَن أتبَع نفسَه هَواها وتمنَّى على اللهِ الأمانِيَّ(رواہ الترمذی)

’’ذہین شخص وہ ہے جو اپنے نفس پر کنٹرول حاصل کرے اور موت کے بعد زندگی کے لیے کام کرے اور درماندہ شخص وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ کے سلسلے میں جھوٹی امیدیں باندھے۔‘‘

اچھی صحبت

غیبت سے نجات حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی اچھی صحبت اختیار کرے۔ تزکیہ و تربیت میں صحبتِ صالحہ کی بڑی اہمیت ہے۔ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرے گا تو اسے اچھی چیزیں سیکھنے کو ملیں گی اور برے افراد کے ساتھ رہے گا تو بری چیزیں سیکھے گا اور مستقل غیبت جیسی سنگین بیماری میں مبتلا رہے گا۔ مشہور عالم مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں:

صُحْبَتِ صالِح تُرا صالِح کُنَد، صُحْبَتِ طالِح تُرا طالِح کُنَد۔

(اچھی صحبت تجھے نیک بنادے گی اور بری صحبت تجھے بُرا کردے گی۔)

نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لا تُصاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا ، ولا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيّ  ٌ(رواہ ابو داؤد)

’’تمھاری رفاقت اور صحبت صرف مومن کے ساتھ ہو اور تمھارا کھانا صرف متقی کھائے۔‘‘

قناعت

غیبت کی ایک بنیادی وجہ حسد ہے۔ آدمی جس سے حسد کرتا ہے اس کی غیبت زیادہ کرتا ہے۔ لہٰذا حسد سے نجات حاصل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہیے اور قناعت کا شیوہ اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں دیا ہے وہ بہت ہے۔ اس پر اطمینان کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ نے جس کو جو نعمت دی ہے وہ آزمائش ہے، اس کا حساب و کتاب ہوگا۔ اسے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔

نبی اکرم ﷺ کی ایک بہت مشہور حدیث کا ایک حصہ ہے:

وارضَ بما قَسَمَ اللهُ لكَ تكُنْ  من أغْنَى الناسِ  (رواہ الترمذی)

’’اور اللہ رب العزت نے جو تمھاری قسمت میں لکھ دیا ہے اس پر راضی ہوجاؤ تو تم سارے لوگوں میں سب سے بے نیاز ہوجاؤ گے۔‘‘

بہتر مصروفیت

خالی رہنا بھی ایک سبب ہے غیبت کا۔ آدمی بے کار رہتا ہے اس کے پاس کچھ کام نہیں ہوتا تو لوگوں کی غیبت کرتا ہے۔ اس لیے اس کو اچھی مصروفیت اختیار کرنی چاہیے۔ بہتر اور تعمیری کاموں میں وہ لگا رہے تو اسے لایعنی کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ملے گا۔

اللہ رب العزت سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ اس موذی مرض سے ہمیں نجات عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی نظر کرم کے بغیر یہ بھی ممکن نہیں۔

چوتھی بیماری: حسد

دل کی بڑی بیماریوں میں سے ایک حسد بھی ہے۔ اللہ رب العزت نے لوگوں کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے۔ حسد کرنے والا ان نعمتوں سے جلتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ نعمت بندے سے ختم ہوجائے۔ ابن قیمؒ ایک جگہ حسد کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:

أصلُ الحَسَدِ هو بُغضُ نعمةِ اللَّهِ على المحسودِ وتمنِّي زوالِها (بدائع الفوائد 2/233)

’’اصل حسد یہ ہے کہ محسود سے بغض رکھنا اس نعمت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اور اس نعمت کے ختم ہوجانے کی تمنا کرنا۔‘‘

حسد میں یہ بھی شامل ہےکہ محسود کی نعمت ختم ہوکر مجھے مل جائے یا اگر مجھے وہ نعمت نہیں ملتی تو کم از کم وہ محسود کے پاس سے ختم ہوجائے۔

اللہ رب العزت نے لوگوں کو الگ الگ نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل بھی ہے اور آزمائش بھی۔ جب آدمی حسد کرتا ہے تو گویا وہ نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر سوال اٹھاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ(النساء: 54)

’’کیا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟‘‘

اللہ رب العزت پوری کائنات کا خالق و مالک ہے۔ وہی بندوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے اور ان کے درمیان ان کی روزیاں عطا فرماتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا   (الزخرف: 32)

’’کیا تیرے ربّ کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں ۔‘‘

نبی اکرم ﷺ نے ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم فرمایا جو رہتی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسلام معاشرہ میں محبت، اخوت، اپنائیت اور دوسرے کے دکھ درد میں شرکت کا اعلیٰ معیار قائم کرتا ہے۔ معاشرہ کو جو چیزیں خراب کرتی ہیں ان میں ایک حسد بھی ہے۔ آپؐ نے صحابہؓ کو چوکنا کردیا تھا کہ وہ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والی چیزوں سے چوکنا رہیں۔ آپؐ نے فرمایا:

لا تَباغَضوا، ولا تَحاسَدوا، ولا تَدابَروا، وكونوا عِبادَ اللهِ إخوانًا، ولا يَحِلُّ لمُسلِمٍ أن يَهجُرَ أخاه فوقَ ثَلاثةِ أيَّامٍ (رواہ البخاری)

’’آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، باہم حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور تم اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔ اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔‘‘

حسد کی بیماری چوں کہ قلبی بیماری ہے۔ یہ ایمان کی کم زوری اور تعلق باللہ کی کمی کی بنا پر وجود میں آتی ہے، لہٰذا حاسد ہمیشہ آگ میں جلتا رہتا ہے۔ کبھی بھی اس کو سکون نہیں حاصل ہوتا۔ سکون تو اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کی یاد میں ہے۔ اسی لیے ایک جگہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کسی بندے کے دل کے اندر ایمان اور حسد اکٹھا نہیں ہوسکتے:

ولا يجتمعانِ في قلبِ عبدٍ الإيمانُ والحَسَدُ (رواہ النسائی)

’’کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد یکجا نہیں ہوسکتے۔‘‘

حسد کرنے والا ایک طرف تو خود حسد کی آگ میں جلتا ہے دوسری طرف حسد کی آگ اس کی نیکیوں کو جلاتی رہتی ہے۔ حاسد ایک قلبی بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دن رات آگ میں ہی نہیں جلتا بلکہ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

الحسدُ يأكلُ الحسناتِ كما تأكلُ النَّارُ الحطبَ والصَّدقةُ تُطفئُ الخطيئةَ كما يُطفئُ الماءُ النَّارَ والصَّلاةُ نورُ المؤمنِ والصِّيامُ جُنَّةٌ من النَّارِ  (رواہ ابن ماجہ)

’’حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے اور صدقہ گناہ کو ایسے ختم کردیتا ہے جیسے پانی آگ کو ختم کردیتا ہے۔ اور نماز مومن کا نور ہے۔ اور روزہ آگ سے بچنے کی ڈھال ہے۔‘‘

مومنین مخلصین کا شیوہ ہے کہ وہ حسد سے دور رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب کہ کم زور ایمان والے لوگ حسد کے مرض میں مبتلا ہوکر جلتے رہتے ہیں۔ حسد کی آگ ایسی ہے جسے بجھانا بہت مشکل ہے۔ محمد بن سیرینؒ فرماتے ہیں:

الحسد من أخلاق اللئام، وتركه من أفعال الكرام، ولكل حريق مطفئ، ونار الحسد لا تطفأ (روضۃ العقلاء، محمد بن حبان، ص 134)

’’حسد کرنا کمینوں کے عادات و اطوار میں سے ہے اور حسد نہ کرنا شریفوں کا کام ہے۔ ہر طرح کی آگ بجھائی جا سکتی ہے، لیکن حسد کی آگ کو بجھانے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔ ‘‘

حسد کی وجوہات

حسد کرنے کی ایک وجہ بغض و عناد اور عداوت ہے۔ جب آدمی کسی سے دشمنی کر لیتا ہے اور سینے میں بغض و عناد پالتا ہے تو وہ حسد کرنے لگتا ہے۔ ہمیشہ وہ اس کے خلاف سوچتا رہتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے بغض وعناد رکھنے سے منع کیا ہے۔ دشمنی کرنے سے روکا ہے۔ عفو و درگزر کرنے کی تعلیم دی ہے اور اس کو بلندیٔ درجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اپنے دل کو پاک و صاف رکھنا اور کسی کے بارے میں کسی طرح کی نامناسب چیز دل میں نہ رکھنا اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا شیوہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے مومن کی صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ دل کا صاف ہوتا ہے۔ اس کے دل میں کینہ اور حسد وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا:

قيل لرسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ أيُّ الناسِ أفضلُ قال كلُّ مخمومِ القلبِ صدوقِ اللسانِ قالوا صدوقُ اللسانِ نعرفُه فما مخمومُ القلبِ قال هو التقيُّ النقيُّ لا إثمَ فيه ولا بغيَ ولا غِلَّ ولا حسدَ (رواہ ابن ماجہ)

’’نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون سب سے بہتر ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا ہر وہ جو شخص مخموم القلب اور زبان کا سچا ہو۔ صحابہؓ نے کہا کہ زبان کا سچا تو ہم جانتے ہیں لیکن مخموم القلب کیا ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا جو متقی، پاک و صاف ہو اور جو گناہ، سرکشی، کینہ اور حسد سے دور ہو۔‘‘

حسد کی ایک بڑی وجہ کبر و غرور ہے۔ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے۔ اس لیے جب کسی کو کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ حیران ہوتا ہے کہ  بڑکپن کی وجہ سے تو اس نعمت کا حقدار وہ تھا پھر دوسرے حقیر شخص کو کیسے مل گئی۔ سب سے بڑا اور پہلا حسد ابلیس کا آدمؑ سے تھا اور اس کا سبب بھی کبر و غرور تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ. (البقرۃ: 34)

’’پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جُھک جاوٴ، تو سب جُھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔‘‘

حسد کی ایک وجہ جاہ و منصب کی خواہش ہے۔ جب منصب کسی اور کو مل جاتا ہے تو اسے حسد ہو جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال منافقوں کے سرغنہ عبداللہ ابن ابی ابن سلول کی ہے۔ وہ مدینے کا سردار بننا چاہتا تھا، لیکن اسے سرداری نہیں ملی۔ خلق خدا نبی رحمت ﷺکی دلدادہ ہو گئی۔ اسی بنا پر اس کو نبی کریم ﷺسے حسد ہو گیا اور پھر اس نے پوری زندگی آپؐ کی دشمنی میں گزار دی۔ آج بھی لوگ مختلف قسم کے جاہ و منصب کے پیچھے دیوانے رہتے ہیں اور جب انہیں وہ چیز حاصل نہیں ہوتی تو پوری زندگی حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات انہیں معلوم ہونی چاہیے کہ نوازنے والا اور عزت و ذلت دینے والا صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے۔

حسد کا ایک سبب نفس کی خباثت ہے۔ آدمی کا دل اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ وہ بلا وجہ حسد کے مرض میں مبتلا رہتا ہے۔ حسد کا سبب اگر زائل ہو جائے تو حسد کا مرض بھی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن خباثتِ نفس دل کی تنگی کی بنا پر وجود میں آتی ہے اور اس کا سنگین مظہر بلا سبب حسد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو ان ساری چیزوں سے محفوظ فرمائے، آمین۔

حسد کرنا حرام ہے اور رشک کرنا جائز ہے۔ رشک کو عربی میں حسد کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ جائز حسد یعنی رشک یہ ہے کہ آدمی کسی کی نعمت کو دیکھ کر یہ آرزو کرے کہ میرے رب! اس شخص کی نعمت باقی رکھتے ہوئے اس جیسی نعمت مجھے بھی عنایت فرما دیجیے کہ آپ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺکی مشہور حدیث ہے :

لا حسَدَ إلَّا في اثنتَيْنِ : رجُلٍ آتاه اللهُ مالًا فسلَّطه على هلَكتِه في الحقِّ ورجُلٍ آتاه اللهُ حِكمةً فهو يقضي بها ويُعلِّمُها  (رواہ البخاری)

’’دو چیزوں میں رشک کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عنایت فرمایا ہو اور وہ حق کے راستے میں اس کو بے دریغ خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا فرمائی ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اس کو دوسروں کو سکھاتا بھی ہو۔‘‘

حسد سے بچنے کے طریقے

جس شخص کو اپنے دل کی تطہیر کی فکر ہے اور وہ اپنا دل قلبِ سلیم بنانا چاہتا ہے اسے حسد جیسی بیماری سے جلد از جلد نجات حاصل کر لینا چاہیے۔ حسد سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر اللہ تعالیٰ کا تقوی پیدا کرے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر کرے۔ یہ احساس اسے دامن گیر رہنا چاہیے کہ رب ذوالجلال ہمہ آن اسے دیکھ رہا ہے اور اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اس سے تعلق کی مضبوطی ہی میں راہِ نجات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ. (الحج: 78)

’’پس نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو، اور اللہ سے وابستہ ہو جاوٴ۔ وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔‘‘

حسد سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العزت کی پناہ میں آجائے۔ پوری دنیا سے بے نیاز ہو کر رب دو جہاں کی رحمت میں آجائے۔ نفس کے وسوسوں اور شیطان کی چالوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے:

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ  إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (فصلت: 36)

اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسُوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو،وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔‘‘

حسد سے بچنے کا یہ طریقہ بھی ہے کہ آدمی دنیا کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ ہو جائے۔ آخرت کی فلاح کو اپنا مقصود بنالے۔ دنیا فانی ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ دنیا کی نعمتیں زائل ہو جانے والی ہیں۔ لہٰذا اسے آخرت میں بلندیٔ درجات کے لیے فکر کرنی چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ.  (الحديد: 21)

’’دوڑو اور ایک دُوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنّت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیےجو اللہ اوراُس کے رسُولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘

حسد سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی کا اس بات پر ایمان کامل ہو جائے کہ نعمتیں تقسیم کرنے والی ذات رب ذوالجلال کی ہے۔ جس کے لیے جو مناسب تھا اس نے عنایت فرمایا۔ اس عطا کی حکمت و مصلحت صرف اسی کو معلوم ہے۔ ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ہمیں دیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور راضی برضا رہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا  وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ  (الزخرف: 32)

’’کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں ، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دُوسرے لوگوں پر ہم نے درجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دُوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے ربّ کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس)سمیٹ رہے ہیں۔‘‘

حسد ایک سنگین بیماری ہے۔ اس سے بچنے کی تدابیر کرنا نہایت ضروری ہے۔ حسد کرنے والے کو سب سے زیادہ نقصان خود کا ہوتا ہے۔ محسود سے پہلے حاسد خود حسد کی آگ میں جل کر اپنا نقصان کر لیتا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ (فاطر: 43)

’’حالانکہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔‘‘

معاویۃ بن ابی سفیانؓ کا قول ہے:

ليس في خلال الشر أشر من الحسد، لأنه قد يقتل الحاسد قبل أن يصل إلى المحسود.(کتاب بہجۃ المجالس وأنس المجالس، ص 90)

’’برائیوں میں سب سے قبیح برائی حسد ہے، کیوں کہ حسد کی برائی محسودتک پہنچنے سے پہلے ہی حاسد کو قتل کر دیتی ہے ۔‘‘

ہماری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم حسد سے بچیں، اپنی زندگی تباہ نہ کریں،  اپنے اعمال ضائع ہونے سے بچائیں اور حاسد کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ. (الفلق: 5)

’’اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔‘‘

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم تمام کو حسد جیسی خطرناک بیماری سے بچائے اور حاسد کے شر سے ہمیں محفوظ رکھے، آمین

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تطہیرِ قلب

حالیہ شمارے

اپریل 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223