نفاذ شریعت اور مسلم پرسنل لاء

محمد اصغر تنگیکر

ہم مسلمان کس لئے ہیں ؟

ہم نے قلب وجان سے اسلام کو اسی لئے قبول کیا ہے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی میں قانون الٰہی کے علاوہ اور کسی قانون کا دخل اﷲ کو منظور اور محبوب نہیں ہے،  اور یہ بات قرآن میں مختلف مقامات پر بہت واضح الفاظ میں بیان کردی گئی ہے :

ــ’’ اے ایمان لانے والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ‘‘۔ (سورۃ بقرۃ ۔۲۰۸)

’’ اے پیغمبر! تم اﷲ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر بعض ان احکام سے منحرف نہ کرنے پائیں جو اﷲ نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں‘‘ (سورۃ مائدۃ۔۴۹)

’’کسی مؤمن مرد اور کسی مؤمن عورت کو اﷲ اور اس کے رسول کے فیصلہ کردینے کے بعد اپنے معاملہ میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا‘‘۔ (سورہ احزاب۔ ۳۶)

’’اے پیغمبر! تمھارے رب کی قسم یہ مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ ایسا نہ ہو یہ اپنے باہمی اختلافات میں تمہیں حکم مان لیں، پھر تم جو فیصلہ کرو اس پر اپنے دل میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ تمہارا فیصلہ سربسر تسلیم کرلیں‘‘۔ (سورۃ نساء ۔ ۶۵)

مسلم پرسنل لاء کی مختصر تاریخ

مغلیہ دور:   اس دور میں مسلمانوں کے لئے سول اور فوجداری قانونCriminal Law  بھی اسلام ہی کا نافذ تھا۔ مگر سوائے اورنگ زیب کے دیگر حکمرانوں نے فوجداری قانون کے بعض قوانین پوری طرح لاگو نہیں کئے تھے۔ جس طرح مسلمانوں کو ان کے پرسنل لاء کے مطابق اپنے معاملات چلانے کا اختیا ر تھا، غیر مسلمین کے فیصلے بھی ان کے مروجہ پرسنل لاء کے تحت ہی کئے جاتے تھے۔

۱۷۶۵ ء میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ملک کے جن حصوں میں ان کا اقتدار تھا عدالتوں کی از سر نو تنظیم کی تو انگریز جج بھی اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرتے رہے، بعد میں آہستہ آہستہ انگریزی قانون رائج ہوتا چلا گیا۔

۱۸۶۲ ء میں اسلام کے فوجداری قانون Criminal Law   کو ختم کرکے انڈین پینل کوڈ Indian Penal Code  نافذ کیا گیا جو آج بھی اسی نام سے رائج ہے، البتہ نکاح ، طلاق اور وراثت ، ہبہ وغیرہ عائلی اور شخصی امور کی حد تک اسلامی قانون کو باقی رہنے دیا گیا۔

۱۹۳۷ ء    میں علمائے کرام اور عام مسلمانوں کے مطالبہ پر مسلم پرسنل لاء(یا شریعت ایکٹ ۱۹۳۷ ) کا نفاذ عمل میں آیا۔

آزادی کے بعد ہندوستان کی سیکولر حکومت نے دیگر مذاہب کے پرسنل لاء کی طرح مسلم پرنسل لاء کوبھی باقی رکھا اور اس بات کی ضمانت دی کہ جب تک مسلمان خود نہ چاہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔۱۹۵۶  میں جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ نے تحفظ شریعت کو اپنے باضابطہ میقاتی پروگرام میں جگہ دی  اور اس کے لئے جدوجہد شروع کی۔

۱۹۷۲  میں حکومت اور عدلیہ کی جانب سے اس میں مداخلت کی بعض کوششوں کے بعد پورے ہندوستان کے علماء اورباشعور مسلمانوں نے اس ضمن میں مسلم پرسنل لاء بورڈ قائم کیا جس میں ہر مکتب فکر کے نمائندوں کو شامل کیا گیا تاکہ ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے اس سلسلے میں جد وجہد کی جائے۔

۱۹۸۵ میں شاہ بانو کیس میں کورٹ نے پہلی بار مسلم پرسنل لاء کے خلاف فیصلہ کیا۔اور محمد احمد نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو سپریم کورٹ نے محمد احمد کو مجبور کیا کہ مطلقہ کو تا حیات یا تا نکاح ثانی نان و نفقہ دے۔  جس کا مسلمانوں کی طرف سے شدت سے نوٹس لیا گیا اور راجیو گاندھی حکومت نے جس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت حاصل تھی قانون پاس کرکے کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلمانوں کو راحت دلانے کی کوشش کی۔

نئے دستور کی دفعہ ۴۴  دوسرے رہنما اصول (Directive Principles)   میں بنیادی حقوقFundamental Rights میں جو ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ ریاست کوشش کرے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لئے یکساں سول کوڈ ہو‘‘۔ جبکہ رہنما اصول کی ایک اور دفعہ ۲۵ کہتی ہے کہ ’’ تمام لوگوں کو یکساں طور پر ضمیر کی آزادی حاصل ہوگی اور اپنے مذہب کو آزادانہ طور پر اختیا رکرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا‘‘۔ان رہنما اصولوں میں شراب بندی کے تعلق سے بھی یہ بتلایا گیا ہے کہ بتدریج پورے ملک میں شراب بندی نافذ کی جائے گی۔ جس کے سراسر خلاف کام ہوتا جارہا ہے اور جو ریاست اس کو لاگو کرنا چاہتی ہے اس کی راہ میں خود عدلیہ کی طرف سے اٹکلیں لگائی جاتی ہیں، کیونکہ آ ج وہ حکومتوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں، خواہ اس سے سماج میں کتنی ہی برائیاں کیوں نہ پنپتی ہوں۔ گوکہ جب دستور سازی کا کام جاری تھا۔دفعہ ۴۴ میں ترمیم کرنے کی مسلم دانشوروں نے حتی الامکان کوشش کی مگر وہ اس میں کام یاب نہ ہوسکے۔

مسلم ممالک میں مسلم پرسنل لاء میں کی جانے والی تبدیلیاں

حقیقت یہ ہے کہ مسلم ممالک کی ایک بڑی تعداد نے مسلم پرسنل لاء میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے جس میں سعودی عرب، یمن، بحرین، کویت، قطر ، ابوظہبی، دبئی، افغانستان، سینیگال، مالدیپ، صومالیہ اور نائجیریا ہیں۔یہاں ان ممالک میں اکثریت کے فقہ کے مطابق قوانین جاری ہیں۔حتی کہ اسرائیل میں بھی خلافت عثمانیہ کے دوران ۱۹۱۷ میں ترکوں کا بنایا ہوا Ottomon Law of Family Rights 1917 رائج اور اسی کے مطابق مسلمانوں کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔

صرف دو ممالک ترکی اور البانیہ ہیں جہاں پرملکی سطح پر شرعی قوانین میں تبدیل کی جسارت کی گئی ، مگر اب وہاں بھی خصوصیت کے ساتھ ترکی میں جسے کمال اتا ترک نے خلافت ختم کرکےسیکولر ملک قرار دیا تھا، حقیقی شریعت کی طرف لوٹنے کاماحول بن رہا ہے۔

پاکستان جہاں ۱۹۶۱ میں عائلی قانون میں انتظامی نوعیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں جیسے کہ شادی کا رجسٹریشن ضروری قرادیا گیا ہے، دوسری شادی کے لئے حکومت کی جانب سے جاری کردہArbitration Council   کی اجازت کو ضروری قرار دیا گیا ہے، اسی طرح طلاق کے لئے بھی یہ ضروری قراردیا گیا ہے کہ   Arbitration Council کو اس کی اطلاع دے اور وہ ان دونوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کرے۔ اسی طرح وراثت کے قانون میں پوتا پوتی کو وراثت میں حصہ دیا گیا ہے۔ اور یہ ساری تبدیلیاں وہاں کی آمرانہ حکومت نے کی ہیں جس کی وہاں کے علماء نے شدت سے مخالفت کی۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کی ہیں کہ وہاں اقلیت کے پرسنل لاء میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

یکساں سول کوڈ کیا ہوسکتا ہے؟

اب تک کے جس یکساں سول کوڈ کے بارے میں ہندوستان کی پارلیمنٹ نے ہندو میرج ایکٹ ۱۹۵۵، ہندو سکسیشن ایکٹ ۱۹۵۶ پاس کرکے ہندو ؤں کو جہاں اس کا پابند کردیا ہے وہیں The Special Marriage Act 1954  پاس کرکے عوام کو اس کی ایک جھلک دکھا دی ہے، جو حقیقتاً ہندوکوڈ کی ہی طرح ہے۔ اس کے مسلمانوں پر لاگو ہونے کی صورت میں اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گا توحکومت اسے سزا دے گی۔ جبکہ اس پر چلنے کے بناء پر وہ اسلامی قانون کے خلاف عمل کرے گا اور دنیا  اور آخرت میں نقصان اٹھائے گا۔

مخالفین کیا کہتے ہیں؟

مسلم پرسنل لاء کے مخالفین کہتے ہیںکہ اس سے پہلے انگریزوں نے اسلام کے تعزیراتی قانون Criminal Law   کو بھی شریعت کا جزء ہونے کے باوجود ختم کر دیا تھا اور اس وقت ملک میں غیر اسلامی قانون تعزیرات رائج ہے۔اس ضمن شمس پیرزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ استدلال بھی عجیب ہے ، اگر کسی شخص کو گندی ہوا میں سانس لینا پڑے تو اس کامطلب یہ ہوا کہ جو صاف  ہوا میسر آتی ہو اس کو بھی بند کردیا جائے اور صرف گندی ہوا کا انتظام کیا جائے۔

یہ حضرات  اس چیز کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں تعزیراتی قوانین Criminal Law  کا تعلق عدلیہ اور حکومت سے ہوتا ہے اور اس کے نفاذ اور سزا دینے کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ افراد اس کو انجام نہیں دے سکتے۔ کسی چور کو اگر حکومت یا عدلیہ کم سزا دیتی ہے تو اس دنیا میں تو وہ بچ جائے گا مگر آخرت میں اس کا کیا ہوگا وہ اﷲ ہی جانتا ہے۔لیکن اﷲ کے قانون یعنی شریعت الٰہی کے موجب اس کو سزا ملتی ہے تو اس دنیا میں اس کے سدھرنے اور آخرت میں نجات کے لئے کافی ہوگا۔

شاہ بانو کیس میں کیا ہوا تھا؟

شاہ بانو صاحبہ کے مقدمہ میں گوکہ شرعی طور پر ان کے شوہر محمد احمد ان کوطلاق دینے کے بعد مہر اور نان و نفقہ نہ صرف دوران عدت کے دوران بلکہ اس کے بعد دوسال گزر جانے کے بعد بھی عدالت کی ہدایت پر نان ونفقہ اداکرتے رہے، جبکہ شاہ بانو جس کے تعلق سے اتنا ہنگامہ مچایا جارہا تھا ان کی مالی حالت کافی بہتر تھی کیونکہ ان کا ایک بیٹا ایڈوکیٹ تھا اور اچھی خاصی کمائی کرلیتا تھا۔علاوہ ازیں اگر ہم مقدمہ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ مقدمہ دائر کرنے والے خود اپنے کئے پر پشیمان تھے۔ملاحظہ ہوں مندرجہ ٔ ذیل بیانات جو انھوں نے بعد میں دئے۔

شاہ بانو کے بیٹے حامد صاحب نے کہا  ’’شرعی حق سے زیادہ عدالت کے فیصلے سے ملنے والے نان ونفقہ کو وہ ناجائز اور سود لینے سے زیادہ قبیح سمجھتے ہیں‘‘۔   (سہ روزہ دعوت ۱۰؍ستمبر ۱۹۸۵ ؁ء)

جناب سراج اختر صاحب ایڈوکیٹ جنھوں نے شاہ بانو کے مقدمہ کی پیروی کی تھی اعتراف کیا کہ وہ اسلام اور قانون شریعت سے واقف نہیں ہیں اور عورت کے فطری مطالبات و مفادات پر ان کی نظر نہیں رہی ۔ بالآخر ان کا تاثر ان الفاظ میں ظاہر ہوا ’’میرا آخرت میں کیا ہوگا‘‘۔ (سہ روزہ دعوت ۱۰؍ستمبر ۱۹۸۵ ؁ء ) خود محترمہ شاہ بانو صاحبہ کو بھی عوامی ردعمل کے بعد جب ہوش آیا تو انھوں نے بھی ایک پریس کانفرنس میں بیان دیا ، جب کئی علماء اور مذہبی قائدین نے ان کے پاس آکر وضاحت کی کہ اس عدالتی فیصلہ کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میرے لئے اﷲ اور رسول  ﷺ کے مقرر کردہ اصول ہی سب کچھ ہیں‘‘۔ (روزنامہ سالار ۔ ۱۶ ؍نومبر ۱۹۸۵ ؁ ء)

کرنے کے کام

اولاً تو جیتے جی ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس ضمن میں علمائے حق اور وہ جماعتیں ، گروپس اور ادارے جوشرعی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کررہے ہیںان کا ساتھ دے، اپنی مثبت رائے سے ان کے ہاتھ مضبوط کرے اور خواتین کو اس سلسلہ میں جاری کئے جانے والے فتنوںسے ہوشیار کرے ۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں مکمل اسلام کو لاگو کرنے کی انتھک کوشش کرے۔آج کے حالات میں ہم اﷲ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے ہر ممکن کوشش کریں کہ اس ملک میں ہم پورے اسلام پر عمل کرتے ہوئے عزت وآبرو کے ساتھ جی سکیں اور اس ضمن میں دعا بھی کرتے رہیں کہ اﷲ سخت امتحان سے ہماری حفاظت فرمائے۔ بقول عامرؔعثمانی صاحب

مری نظر میں وہی سر ہے سر جسے عامرؔ                      زمانہ کاٹ تو ڈالے مگر جھکا نہ سکے

نوٹ:       اس مضمون کی تیاری میں جن کتابوں سے میں استفادہ کیا وہ حسب ذیل ہیں:

(۱)          مسلم پرسنل لاء اور یکساں سول کوڈ                از  شمس پیرزادہ

(۲)دفعہ ۱۲۵ شریعت ایکٹ اور سپریم کورٹ                                از  پروفیسر عمر حیات غوری

(۳)         مسلم پرسنل لاء                                          از  مولانا محمد یوسف

(۴)         یکساں سول کوڈ اور مسلمان                           از  مولانا صدرالدین اصلاحی

جنوری 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau