اقامتِ دین کے لیے سب لوگ کوشش کریں

مولانا ابوللیث اصلاحی ندویؒ

جماعت اسلامی کے قیام وتاسیس کی اصل غرض، شہادتِ حق اور اقامتِ دین ہی ہے۔ اس لیے وہ تمام کام جو اس مقصد کے لیے مفید و ضروری ہوسکتے ہیں وہ پوری اہمیت وشدت کے ساتھ اس کے سامنے ہیں اور ان کو بروئے کار لانے کے لیے وہ امکان بھر کوشاں ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ کام بہت وسیع ہیں اور اس کے مقابلے میں جماعت کے موجودہ وسائل وذرائع بہت محدود ہیں، اس لیے عملًا ان کا نہایت معمولی حصہ ہی تکمیل پذیر ہورہا ہے۔ اس لیے ہماری خواہش یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان ضروریات و تدابیر کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ کچھ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں، البتہ اگر ان باتوں سے اختلاف نہیں ہے تو انھیں اپنے طور سے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی ضرور فکر کرنی چاہیے۔ جملہ ضروریات میں مقدم ضرورت اجتماعیت کی ہے اس لیے اس کو خاص طور سے اپنے پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس اجتماعیت کی ضرورت کے احساس کے تحت ہی ہم نے اقامتِ دین اور شہادتِ حق کے لیے ایک جماعت کا قیام ضروری سمجھا ہے اور ہمارا خیال یہ ہے کہ جو لوگ اس سلسلے میں کچھ کرنے پر آمادہ ہوں گے وہ خود بھی اس ضرورت کا احساس کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس لیے دو ہی صورتیں ممکن ہیں، اگر انھیں ہم پر اور ہمارے طریقہ کار پر اعتماد ہے تو دین کے اس کام میں ہمارا ساتھ دیں ہم اس کا خیر مقدم کریں گے، ورنہ وہ اپنے طور سے مجتمع ہوکر اس کا م کو انجام دینے کی کوشش کریں۔ اگر اس طرح کی کئی ایک جماعتیں بھی وجود میں آگئیں تو ہمیں اس پر کوئی ملال نہیں بلکہ خوشی ہوگی کہ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں اس پر چلنے والے اور قافلے بھی ہمارے ساتھ ہیں، کیا عجب منزل وراہ کا اتفاق ان سب کو کبھی یک جا بھی کردے اور اگر جماعت اسلامی کو کبھی یہ محسوس ہوا کہ ان قافلوں میں کوئی ایسا قافلہ بھی ہے جو اس سفر میں ہمارا پیش رو بن سکتا ہے تو ہمیں اس کے پیچھے چلنے میں بھی کوئی عار نہیں ہوگا۔ (مسلمانانِ ہند آزادی کے بعد ص: ۳۸۰)

نومبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau