چہرے اور آواز کا پردہ

احسن مستقیمی

’’زندگی نو‘‘ اکتوبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں محترمہ نوشینہ خاتون کا ایک مراسلہ اور اُس کا جواب شائع ہوا ہے، مراسلہ نگار خاتون نے اپنی ذہنی الجھنوں اور عملی دشواریوں کا تذکرہ نہایت صاف اور درد بھرے انداز میں کیا ہے اور اپنی اس دلی آرزو کا اظہار کیا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی رہنمائی کرکے ان کی الجھنوں کو دور کیا جائے۔ اس مراسلے میں دو بنیادی باتیں ہیں جو قابلِ غور ہیں:

۱ – عورت کی آواز کا پردہ ہے یا نہیں؟

۲- غیر محرم مردوں سے عورت کے چہرے کا پردہ ہے یا نہیں؟

محترم ڈاکٹر رضی اللہ الاسلام ندوی صاحب نے جو جواب عنایت فرمایا ہے، اس میں بعض امورقابلِ غور ہیں۔ موصوف فرماتے ہیں کہ بعض فقہاء عورت کی آواز کے پردے کے قائل ہیں۔ علامہ حصکفیؒ حنفی کا یہ قول نقل فرمایا ہے:

’’راجح قول کے مطابق عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے۔‘‘

مالکی فقہائ علامہ قرطبیؒ اور قاضی ابن العربیؒ کا یہ قول نقل کیا ہے:

’’عورت سراپا قابلِ ستر ہے۔ اس کا بدن بھی اور اس کی آواز بھی۔‘‘

اِن اقوال کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں‘’لیکن بعض فقہائ کا خیال ہے کہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے۔ ’’ فقہ شافعی کی ایک مشہور کتاب سے یہ حوالہ پیش فرمایا ہے:

’’شوافع کے نزدیک عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے۔ فتنہ کا اندیشہ نہ ہوتو اسے سنا جاسکتا ہے۔‘‘

موصوف نے شوافع کی رائے کو درست قرار دیا ہے۔ آپ نے یہ روشنی سورہ احزاب کی جس آیت سے اخذ کی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے:’’نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑجائے۔ بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔‘‘

اس سے موصوف نے یہ روشنی اخذ کی ہے کہ ’’اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ عورتیں اجنبی مردوں سے بات ہی نہ کریں۔ بلکہ یہ حکم دیا گیا ہے کہ وقتِ ضرورت با ت کرتے وقت وہ اپنی آواز میں لوچ اور نرمی پیدا نہ کریں۔‘‘

گویا اس آیت میں ازواجِ مطہرات کو مخاطب کرتے ہوئے تمام مسلم خواتین کے لیے ایک قانون اور ضابطے کی نشان دہی کی گئی ہے کہ وہ وقتِ ضرورت بات کرسکتی ہیں۔

دورِ صحابہ کا تعامل

یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ ’’روشنی‘‘ صحابۂ کرام کو بھی نظر آئی تھی؟  تابعین اور تبعِ تابعین نے بھی یہ روشنی اخذ کی تھی اور ان حضرات کا اور ان کی خواتین کا اسی روشنی میں عمل جاری رہا۔ کیا وہ خواتین بوقتِ ضرورت غیر محرم مردوں سے مذکورہ احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے باتیں کرتی تھیں اور غیر محرم مرد بھی ان کے یہاں جاکر ان سے باتیں کرتے تھے؟ کیا ان کا یہ معمول رہا؟

یہ بات درست ہے کہ دورِ نبوی میں مرد اور خواتین رسول اکرم ﷺ کی مجلس میں شریک ہوا کرتے تھے۔ مردوں کی طرح خواتین بھی رسول کریم ﷺ سے کچھ باتیں دریافت کرتی تھیں اور ان کی آواز دیگر مرد شرکاء سنتے تھے۔ یہا ں بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دورِ نبوی، خلافتِ راشدہ اور بعد کے ادوار میں ایک مجلس میں مرد و خواتین دونوں بیٹھا کرتے تھے اور خواتین بھی میرِ مجلس سے کچھ باتیں دریافت کرتی تھیں اور نامحرم مرد انھیں سنا کرتے تھے؟ برادرمِ ندوی صاحب نے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔ یہ سوال فطری ہے کہ آخر اس آیت میں وہ کون سی روشنی ہے، جو دورِ نبوی میں اور بعد کے ادوار میں بھی صحابہ کرام، تابعین، تبعِ تابعین اور علماء حق کو نظر نہیں آئی۔ لیکن دورِ حاضر میں آج ہمیں نظر آرہی ہے۔ اگر رسول خدا ﷺ کی مجلس میں مرد وخواتین کی شرکت اور خواتین کی آواز سننے کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بعد کے ادوار میں بوقتِ ضرورت ہی سہی ایسی مجلسیں منعقد ہوسکتی ہیں تو دورِ صحابہ میںبھی بوقت ضرورت ایسی مجلسیں منعقد ہونی چاہئیں تھیں۔ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کیا اس دور میں بھی مسلمان خواتین اجنبی مردوں سے انھیں اپنے یہاں بلا کر یا ان کی خدمت میں حاضری دے کر بوقتِ ضرورت باتیں کیا کرتی تھیں۔ اس طرح کیا اس دور میں مسلمان مردوں کا بھی یہ معمول تھا کہ وہ وقتِ ضرورت غیر محرم ہوتے ہوئے خواتین کے یہاں جاکر یا انھیں اپنے یہاں حاضری کی اجازت دے کر باتیں کیا کرتے تھے؟ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ دین و شریعت اور قرآن و سنت کے فہم اور ان کی اتباع میں دورِ حاضر کے دانشوروں سے وہ کسی طرح کم نہ تھے۔ وہ بھی تو حقیقت آشنا تھے کہ ’’مرد اور عورتیں دونوں سماج کا حصہ ہیں، اس کی فلاح و بہبود کے لیے دونوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ دین کی تبلیغ و اشاعت، معروف کا قیام، منکرات کا ازالہ، دونوں عورت اور مرد کی مشترکہ جدوجہد اور باہمی تعاون کا تقاضہ کرتے ہیں۔‘‘ ﴿ص:۹﴾

اس کے جواب میں کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ دورِ اول میں لوگوں کے ’’دل کی خرابی میں مبتلا ہونے اور لالچ میں پڑجانے کے اندیشے‘‘ زیادہ تھے، مگر دورِ حاضر میں جن مردوں اور عورتوں نے رکن یا کارکن کے فارم پر کردیے ہیں، ان کے دل کی خرابی اور لالچ میں پڑنے کے امکانات نہیں ہیں یا ہیں تو بہت کم ہیں۔ اس لیے نہ چہرے کے پردے کی ضرورت ہے اور نہ عورت کی آواز پر کسی بندش کی ضرور ت ہے۔

بلاشبہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’اللہ نے تم عورتوں کو اجازت دی ہے کہ اپنی ضروریات کے لیے گھروں سے باہر جاسکتی ہو۔‘‘

چنانچہ اس حدیث کی روشنی میں اگر ہماری خواتین سودا سلف، گھریلو سامان، اور ملبوسات وغیرہ کی خریداری کے لیے بازاروں میں اور والدین اور اپنے اعزہ و اقارب سے ملاقات کے لیے ان کے گھروں میں جاسکتی ہیں تو وہ دینی اور تحریکی روابط بڑھانے کے لیے دوسری خواتین کے گھروں میں اور دینی معلومات میں اضافے کے لیے اجتماعات اور مذہبی پروگراموں میں بھی شریک ہوسکتی ہیں۔ اور اگر اس ‘گنجایش’ کی تکمیل کرنی ہو تو آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں اوربعض لوگ کہہ بھی رہے ہیں کہ ہماری یہ خواتین پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک کے الکشنوں میں بھی کھڑی ہوسکتی ہیں، قانون ساز اداروں میں بھی جاسکتی ہیں، نیچے سے اوپر تک کے مناصب پر بھی فائز ہوسکتی ہیں، نظام وقت کے تمام شعبوں میں ملازمت بھی کرسکتی ہیں۔ لیکن کیا ہمیں یہ تمام ‘روشنیاں’ قرآن و سنت سے مل رہی ہیں؟ یہ ارشاد بھی کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری ہماری خواتین گھروں میں مقید ہوکر کما حقہ انجام نہیں دے سکتیں۔ کیا یہی سوچ دورِ نبوی اور بعد کے ادوار میں اہلِ حل و عقد کی تھی؟

دورِ نبوی اور خلافتِ راشدہ اور بعد کے ادوار میں جب دین اسلام پوری طرح غالب ونافذ تھا۔ سماج بھی نسبتاً پاکیزہ تھا۔ مسلم خواتین کو اللہ کے رسول نے اور آپ کے جاںنثار صحابہ نے کب کن کن عہدوں پر فائز کیا؟ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ انجا م دینے کے لیے خواتین کے وفود کہاں کہاں بھیجے؟ دعوت و تبلیغ کے لیے کس خاتون کو ملک کے کس حصے میں بھیجا؟ ان کی الگ سے تنظیم کب تشکیل کی؟ کس اجتماع میں مردوں کے ساتھ انھیں شریک کیا اور ان سے تقریریں کروائیں؟ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس دور میں باصلاحیت خواتین نہیں تھیں۔ تجارت کے سلسلے میں بار بار حضرت خدیجہ الکبریٰؓ  کا نام لیا جاتا ہے مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ انھوں نے تجارت کے لیے کن کن مقامات کے سفر کیے کن کن لوگوں سے ملیں اور تجارتی امور پر غیروں سے بات کی؟۔

دائرء عمل

’’قرآن‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’آیت کا منشاء یہ ہے کہ عورت کا اصل دائرہ عمل اس کا گھر ہے۔ اس کو اس دائرے میں رہ کر اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں اور گھر سے باہر صرف بضرورت ہی نکلنا چاہیے۔‘‘

مولانا امین احسن اصلاحیؒ فرماتے ہیں ’’عورت کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے اس کو اپنی تمام سرگرمیاں اس کے اندر ہی محدود رکھنی چاہئیں اور اگر کبھی اس کو گھر کے حدود سے باہر قدم نکالنے کی ضرورت پیش آئے تو اسے ان حدود کی پابندی کرنی ہوگی، جس کی تفصیل اس سورہ آگے آرہی ہے۔‘‘

واقمن الصل وٰۃ وآتین الزکوٰۃ واطعن اللّٰہ ورسولہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’مطلب یہ ہے کہ اپنے دائرہ کار یعنی گھروں کے اندر اس نور کو تم پھیلاؤ جس نور کو باہر کر زندگی میں نبی ﷺاور آپ کے صحابہ پھیلا رہے ہیں۔‘‘ ﴿تدبر قرآن، ششم، ص ۲۲۲﴾ مزید فرماتے ہیں ’’اس وجہ سے ضروری ہوا کہ جس طرح آپ کی باہر کی زندگی کی ایک ایک ادا کو محفوظ کرنے کے لیے آپ کے جاں نثار سایہ کی طرح آپ کے ساتھ ساتھ رہیں، اسی طرح آپ کے گھر کے اندر کی زندگی کا بھی ایک ایک پہلو محفوظ رکھنے کا انتظام ہو۔ یہ کام ظاہر ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات کے ذریعہ ممکن تھا۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ نبی ﷺ کا علم و عمل جتنا آپ کی ازواجِ مطہرات کے ذریعے سے پھیلا ہے، اس کی مقدار صحابہ کے ذریعہ پھیلے ہوئے علم سے کسی طرح کم نہیں ہے۔‘‘ ﴿ص ۲۲۳﴾

مولانا اصلاحی علیہ الرحمہ کی یہ تشریح بھی آبِ زر سے لکھے جانے اور ذہن نشین کرلینے کے لائق ہے ’’غضِ بصر کی ہدایت بڑی اہم ہدایت ہے۔ نگاہ ہی درحقیقت مرد و عورت کے درمیان اولین قاصد کا کام دیتی ہے اگر اس کے اوپر ایمانداری کے ساتھ کوئی شخص پہرہ بٹھا دے تو وہ شیطان کے بہت سے فتنوں سے امان میں ہوجاتا ہے۔‘‘ ﴿تدبر قرآن پنجم، ص ۳۹۶﴾

مخلوط تعلیم

محترم مولانا ندوی صاحب نے ہماری رکن خاتون کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ’’وہ حدودِ شریعت میں رہتے ہوئے اور پردے کے اہتمام کے ساتھ مخلوط تعلیمی اداروں کو جوائن کرسکتی ہیں۔’’ اور یہ کہ ‘‘تعلیم حاصل کرنا مردوں اور عورتوں دونوں کا بنیادی حق ہے، اس میں دینی تعلیم بھی شامل ہے اور دنیوی تعلیم بھی۔ ہر طرح کی تعلیم لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی حاصل کرسکتی ہیں۔‘‘

محترم موصوف نے کالج اور یونیورسٹیوں کی اس مخلوط تعلیم کے سلسلے میں جسے وہ دنیوی تعلیم قرار دیتے ہیں قرآن و سنت سے کسی روشنی کا تذکرہ نہیں فرمایا۔ ان مخلوط تعلیم گاہوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے اختلاط سے جو فتنے پروان چڑھ رہے ہیں، مولانا بھی اس دنیا میں رہتے ہیں، وہ ناواقف نہیں ہیں، پھر بھی برا ہو مغربی تہذیب کی چکا چوند کا ایک رکن خاتون رضائے الٰہی کے حصول کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ کا حل چاہتی ہیں آپ انھیں یہ مشورہ دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان بیٹی خدا کے خوف اور آخرت کے احساس کے تحت اس مخلوط تعلیم کی طرف رخ نہیں کرتی تو کیا وہ کل خدائی عدالت میں جوابدہ ہوگی کہ اس نے کالج یا یونیورسٹی کی مخلوط فضائ میں رہ کر دنیوی تعلیم کیوں حاصل نہیں کی۔ اس دنیوی تعلیم کا منشائ یہی تو ہے کہ مادی مستقبل روشن ہو، رہی موصوف کی پیش کردہ یہ شرط کہ حدودِ شریعت میں رہتے ہوئے پردے کے اہتمام کے ساتھ جوائن کرسکتی ہے یہ ایسی ہی بات ہے کہ اگر کوئی مسلمان مجلس قانون ساز کا رکن ہو تو شرعی حدود کے دائرے میں اپنا کام انجام دے۔‘‘

چہرے کا پردہ

محترم ندوی صاحب نے ایک عالمِ دین کی حیثیت سے بتایاہے کہ اجنبی مردوں کے سامنے عورت کے چہرہ کھولنے نہ کھولنے کا مسئلہ اختلافی ہے۔ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف عہدِ صحابہ سے موجود ہے۔ دونوں گروہوں کے پاس مضبوط دلائل ہیں۔ مناسب ہے کہ عورت کو آزادی دی جائے کہ وہ اپنے لیے جو موقف بہتر سمجھتی ہو اختیار کرلے۔

جماعتِ اسلامی کے بنیادی لٹریچر میں غالباً کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں چہرے کے بے پردہ ہونے کے دلائل دیے گئے ہوں اور یہ ترغیب دی گئی ہو کہ جماعت سے منسلک خواتین خود انتخاب کرلیں کہ چہرہ کھول کر باہر نکلنے کا موقف انہیں پسند ہے یا چہرہ ڈھانپ کر۔ خود ندوی صاحب بھی فیصلہ نہیں کرپا رہے ہیں کہ دونوں میں سے کس کو ترجیح دیں موجودہ سماج میں کیا یہ بہتر ہوگا کہ ہماری خواتین چہرہ ڈھانپ کر باہر نکلا کریں یا چہرہ کھول کر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک دونوں قرآن و سنت کے مزاج کے عین مطابق ہیں۔

میں اپنی تمام تحریکی بہنوں اور بیٹیوں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس موضوع پر کم سے کم مولانا مودودی اور مولانا امین احسن اصلاحی کے مباحث پڑھ لیں۔ جو سورہ نور اور سورہ الاحزاب میں ان بزرگوں نے تفہیم القرآن اور تدبر قرآن میں تفصیل سے پیش فرمائے ہیں۔ یہاں میں ان کی محض ایک جھلک پیش کررہا ہوں۔ مولانا اصلاحی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ قرآن نے ’’اس جلباب سے متعلق یہ ہدایت فرمائی کہ مسلمان خواتین گھروں سے باہر نکلیں تو اس کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں تاکہ چہرہ بھی فی الجملہ ڈھک جائے۔ اس نے فیشن کی ترقی سے اب برقعے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس برقعے کو اس زمانے کے دلدادگان تہذیب اگر تہذیب کے خلاف قرار دیتے ہیں تو دیں، لیکن قرآنِ مجید میں اس کا حکم نہایت واضح الفاظ میں موجود ہے، جس کا انکار صرف وہی برخود غلط لوگ کرسکتے ہیں جو خدا اور رسول سے زیادہ مہذب ہونے کے مدعی ہوں۔‘‘ ﴿تدبر قرآن، ششم، ص ۲۶۹﴾

مولانا مودودیؒ کے بارے میں ندوی صاحب فرماتے ہیں ‘مولانا مودودیؒ عورت کے لیے اجنبی مردوں سے چہرہ چھپانے کے قائل ہیں۔’ میں عرض کروں گا کہ صرف ‘قائل’ نہیں، بلکہ مدلل بحث کرکے فرماتے ہیں:

’’عہدصحابہ اور تابعین کے بعد جتنے بڑے بڑے مفسرین تاریخ اسلام میں گزرے ہیں انھوں نے بالاتفاق اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔‘‘ مولانا نے تفصیل سے ان کی آرائ نقل کی ہیں۔ اور یہ عبارت تو انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ ’’کسی شخص کی ذاتی رائے خواہ قرآن کے موافق ہو یا اس کے خلاف اور وہ قرآن کی ہدایت کو اپنے لیے ضابطۂ عمل کی حیثیت سے قبول کرنا چاہے یا نہ چاہے بہرحال اگر وہ تعبیر کی بددیانتی کا ارتکاب نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ قرآن کا منشائ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔ وہ اگر منافق نہیں ہے تو صاف صاف یہ مانے گا کہ قرآن کا منشائ وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جو خلاف ورزی بھی وہ کرے گا یہ تسلیم کرکے کرے گا کہ وہ قرآن کے خلاف عمل کررہا ہے یا قرآن کی ہدایت کو غلط سمجھتا ہے۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن، چہارم، ۱۳۲﴾

محترم ندوی صاحب کا یہی مشورہ ہے کہ تحریکی خواتین خود انتخاب کرلیں کہ وہ گھر سے باہر نکلتے وقت چہرہ ڈھانپ کر نکلنا چاہتی ہیں یا چہرہ کھول کر۔ رضائے الٰہی کا حصول ہر ایک شکل میں طے شدہ ہے۔ محترم ندوی صاحب آج جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس سے بخوبی واقف ہیں او ریہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے سماج میں ’’روشن خیالی‘‘ اور‘’جدیدیت‘‘ کی جو لہر چل رہی ہے، وہ ہماری خواتین اور خود ارکان و کارکنان کے لیے کتنی کڑی آزمائش ہے۔ ہر سطح کے اجتماعات میں اظہارِ خیال، درس، تقریر وغیرہ کے لیے خواتین کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ’’غضِ بصر‘‘ کا کیا حشر ہورہا ہے، فوٹو گرافی اور ویڈیو فلمسازی تو پروگراموں کا لازمی جزو بن چکی ہے۔ کس میں جرأت ہے کہ وہ اِن سرگرمیوں پر زبان کھول سکے ، کیوںکہ یہ سب بھی تو ’’شرعی حدود‘‘ کے اندر رہ کرہی ہوتا ہے۔

تحریکی رفقاء آواز اور چہرے کے پردے پر تو تفہیم القرآن اور تدبر قرآن اور دیگر متعدد کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اور دلائل سے بھی واقف ہیں البتہ کوئی کتاب غالباً اس موضوع پر اردو میں دستیاب نہیں ہے، جس میں خواتین کی آواز اور چہرے کی بے پردگی پر قرآن و سنت سے دلائل دیے گئے ہوں اور دورِ نبوی اور اس کے بعد کے ادوار میں اس کے رواج پانے کے ثبوت پیش کیے گئے ہوں۔ میری ندوی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ خود بھی اس پر مقالہ لکھیں اور ایسی تصانیف کی نشاندہی بھی فرمائیں تاکہ محترمہ نوشین صاحبہ کو اور ہم سب کو درست رائے قائم کرنے میں سہولت ہو۔

ہماری جو بیٹیاں اور بہنیں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم ہیں اور جو فارغ ہوکر خوشحال زندگی اور تابناک مادی مستقبل کے حصول کے لیے ملک و بیرونِ ملک مخلوط ماحول میں ملازمت کررہی ہیں، دین و شریعت سے ان کے تعلق اور ان کے گھروں کی صورتِ حال کا جائزہ بھی ہم سب کے لیے باعثِ عبرت ہوگا اور رائے قائم کرنے میں معاون ہوگا۔

دسمبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau