فکر اسلامی کو درپیش جدیدیت کے چیلنج اور مطلوب اقدامات

محمد غطریف شہباز ندوی

موجودہ زمانہ کا غالب طرز فکر جدیدیت یا ماڈرنیٹی ہے۔ جس کا غلغلہ مغرب ومشرق ہر جگہ ہے اور جس کی یلغار سے مذہب، ثقافت اور تعلیم کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ جدیدیت نے جو چیلنج پیدا کیے ہیں وہ متعدد ہیں، ان کی جہتیں اور نوعیتیں مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر خدا، مذہب، شریعت، اخلاقی اقدار اور ان کے معیارات سب اس کے چیلنجوں کی زد میں ہیں۔

مدارس اسلامیہ جو اسلام کے قلعے سمجھے جاتے ہیں۔ مفروضہ یہ ہے کہ یہاں سے اسلام کے محققین پیدا ہوتے ہیں اور اسلام کی شر ح و ترجمانی کا حق ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ وہ قرآن وسنت سے براہ راست واقف ہوتے ہیں وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا مدارس اسلامیہ جدیدیت کے چیلنجوں سے کچھ واقفیت رکھتے ہیں؟ کیا وہاں کے اساتذہ اور طلبہ کو جدیدیت سے آشنا کیاجاتا ہے؟ اور کیا وہ اس کے چیلنجوں کا جواب دینے کی پوزیشن میں ہیں؟ اگر نہیں تو اس کے لیے کون سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس مقالہ میں ان سوالوں اور ان سے متعلق اور مباحث کا جائزہ لیاجائے گا۔

جدیدیت کیا ہے:

ویکیپیڈیاکے مطابق جدیدیت کی تعریف یہ ہے:

’’جدیدیت، ہیومینٹیز اور سوشل سائنسز کا ایک موضوع ہے، یہ ایک تاریخی دور بھی ہے اور خاص سماجی و ثقافتی اصولوں، رویوں اور طریقوں کا مجموعہ بھی جو 17 ویں صدی کی نئی سوچ اور عقلیت کے دور میں اور 18ویں صدی کی روشن خیالی کے زمانے میں یعنی نشاة ثانیہ کے بعد پیدا ہوا تھا۔‘‘

آپ کبھی جدیدیت کا لفظ بولیں تو جدید لباس، نئے آلات ووسائل، بڑی بڑی عمارتیں اور روایت سے ہٹ کر نئے تصورات ذہن میں آتے ہیں۔ جب کہ مسلمان معاشروں میں جدیدیت سے مراد ماڈرن لباس سے لے کر فلک بوس عمارتیں، سیکولر و مذہب بے زار خیالات بلکہ بے حیائی والحاد ‘‘تک سب کو لے لیا جاتا ہے۔ جدیدیت کے محسوس مظاہر، نئے نئے فیشن اور زیادہ سے زیادہ کی ہوس یعنی مادیت پرستی کو بجاطور پر اسلامی لٹریچر میں تنقید کا نشانہ بھی خوب بنایا جاتا ہے مگر اس سے متعلق اصولی بحث خال خال ہی ملتی ہے۔

سولہویں صدی کے اوائل میں یوروپ کے لوگوں نے ایک مختلف تہذیب کی بنیاد ڈالی تھی جس کے لیے ان کو سائنسی مطالعات اور ٹیکنالوجی کے لیے ترجمہ کے ذریعے یوروپی زبانوں میں منتقل ہونے والے اسلامی وعربی سرچشموں (کتب، علوم وایجادات) سے بہت مدد ملی تھی۔سولہویں اور سترہویں صدی میں وقوع پذیر ہونے والے اس سائنسی انقلاب نے ثابت کیا کہ کائنات میں ہونے والے تمام واقعات کی وضاحت چند سائنسی قوانین کے ذریعے ممکن ہے۔ اس حقیقت کے ادراک نے کائنات کے بارے میں انسان کے تصورات کو یک دم تبدیل کر دیا۔ اس سائنسی انقلاب کے نتیجے میں کائنات ایک مشین کی طرح محسوس ہونے لگی، جس میں ہونے والا ہر واقعہ ایک دوسرے سے مربوط ہے۔

اِس تہذیب کی بنیاد ماضی کی زرعی معیشت کے بجائے مشینوں،کلوں، نئے علوم اور نئی ٹیکنیکس اورسرمایہ وٹیکنالوجی پر تھی۔ اِس تہذیب نے جو ایک عمومی مغربی رویہ پیدا کیا سادہ لفظوں میں وہی ماڈرنیٹی اور جدیدیت ہے۔جو اب پوری دنیا کا غالب طرز فکر ہے۔ اور اب صرف یوروپ وامریکہ تک محدود نہیں ساری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ ہاں فی زمانہ اس طرز فکر کا سب سے بڑا علم بردار امریکہ ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے نہ صرف انسانوں کے سوچنے کے طریقے بدلے، ان کے ذہن ومزاج بدل دیے بلکہ سائنس کے غلط استعمال سے آلودگی پیدا کی اور نظام فطرت کوچیلنج کیا۔جدید انسان جینیٹک تبدیلیاں پہلے حیوانوں میں اور اب انسانوں میں پیدا کرنے کے لیے پرتول رہا ہے۔

جدیدیت کے چیلنج

جدیدیت ایک نظریہ بھی ہے ایک رویہ بھی۔ اِس کے پیدا کردہ چیلنجوں میں سرفہرست ڈاروینی ارتقا کے ذریعے خدا کے وجود کو چیلنج کرنا ہے۔ جس کے مطابق یہ کائنات آپ سے آپ کچھ نیچرل قوانین کے تحت نیچرل کیمیکلز کے تعامل سے پیدا ہوگئی اور اس میں زندگی کا وجود بھی خود بخود ہوا۔لہذادین وشریعت اور اخلاق اس کے نزدیک سب اضافی قرارپائے۔ جدیدیت کے علمبرداروں نے ڈاروینی ارتقا کو اصل مان کر پوری انسانی تاریخ کی اسی کے مطابق توجیہ کی ہے۔ موجودہ دور کے ایک مقبول عام مصنف یوآل نوح ہراری نے اپنی کتابوں میں خاص طور پر خدا، مذہب اور تہذیب سب کو نظر انداز کرکے انسانوں کی تاریخ لکھی ہے۔ہراری خاص طور پر مذاہب کی ابراہیمی روایت کے خلاف ہے۔ اُس کا استدلال ہے کہ ابراہیمی مذاہب دوسرے عقائد و مذاہب کے تئیں روادار نقطہ نظر نہیں رکھتے۔ بلکہ اپنے سچے ہونے پر اصرار کرتے ہیں، لہذا دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی اِن کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ اِسی نکتہ کو ہندوستان کے سیکولر و نان سیکولر ہر دو قسم کے ہندو دانش ور اپنی گفتگوؤں اور تحریروں میں شدومد سے دہراتے رہتے ہیں۔حراری نے اِس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ ابراہیمی مذاہب کے برخلاف مشرکانہ مذاہب دوسرے مذاہب و افکار کے تئیں زیادہ فراخ دل ہوتے ہیں۔ اِس خیال کو ہندو دانش وروں میں خوب پذیرائی ملی ہے۔[1]

جدید کاسمولوجی جو سائنس و ٹیکنالوجی نے تشکیل دی ہے اس نے مذہب کے روایتی موقف پر جو سوال کھڑے کردیے ہیں ان پر غور و فکر کرتے ہوئے پہلا اصولی مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ آج ارسطو کا وہ ورلڈ ویو جو سترہ صدیوں تک دنیا پر چھایا رہا مسترد ہوچکا ہے۔ اْس ورلڈویو میں زمین کائنات کا مرکز تھی۔ وہ ساکن تھی، سورج اس کے گرد چکر لگاتا تھا(پرانی ادبیات میں اسی لیے آسمان کو گردوں کہتے تھے)کائنات ارضی کا مرکزِ توجہ، مخدوم اور امین انسان تھا بعض لوگ اس کوخلافت ارضی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اس ورلڈ ویو میں اسلام کے حامی اور مخالف دونوں ایک ہی پیچ پر تھے۔ مگر اب وہ افسانہ پارینہ ہے۔

آج جو ورلڈ ویو دنیا کو رول کررہا ہے وہ گلیلیو، ڈیکارتے، نیوٹن، ہبل اور آئن اسٹائن وغیرہ کے سائنسی نظریات اور تحقیقات پر مبنی ہے۔ سائنسی انقلاب نے یہ سوچ پیدا کی کہ کائنات قوانین فطرت کے تحت چل رہی ہے، جن میں خدا بھی دخل نہیں دے سکتا۔ اس انقلاب نے خدا کے تصور کو ختم تو نہیں کیا لیکن اب کائنات کے ارتقا کو سمجھنے میں خدا کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ اب یہ تصور کیا جا سکتا تھا کہ اس کائنات کے نظام کو سمجھنے میں خدا کی ضرورت نہیں، ظاہر ہے کہ یہ راستہ الحاد کی طرف جاتا ہے۔

اس ورلڈ ویو کے مطابق زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، سورج اور دوسرے ستارے و سیارے اپنے اپنے محور پر گردش میں ہیں۔انسان کو کوئی خاص پوزیشن (مثلاً اسلامی ادبیات میں خلیفہ فی الارض اور اشرف المخلوقات ہونا) اس زمین پر حاصل نہیں۔ کروڑوں کہکشاؤں کو محیط اس کائنات میں خود زمین ایک نقطہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ ارتقا اور اب بگ ہسٹری کے تصورات نے مذہب کے نظریہ تخلیق اور انسان کی خصوصیت واشرفیت کو ختم کرکے رکھ دیاہے۔ اس میں انسان کوAn Animal of no significance کہاجاتاہے جوکہ ہراری کی کتاب Sapiens – A Brief History of Humankind کا پہلا باب ہے۔ بگ بینگ یا نیچرل ارتقا پر مبنی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ نہ اس کائنات کا کوئی مقصد ہے اور نہ انسان کی تخلیق کا کوئی مقصد ہے۔ یہ کائنات وما فیہا سب نیچر کے اندھے قوانین کے تحت وجود میں آئی اور ان ہی قوانین کے تحت اپنے آپ بے مقصد ختم بھی ہوجائے گی۔ ایسے میں خدا کا وجود، حشر نشر، آخرت وغیرہ کے تصورات سب غیر سائنسٹفک تصورات قرار پاتے ہیں۔

مذہب انسان کی جو تاریخ اور کہانی بتاتاہے وہ پانچ چھ ہزارسال سے پیچھے نہیں جاتی جب کہ بگ بینگ اور نیچرل ارتقا پر مبنی تاریخ عظیم بتاتی ہے کہ کائنات کی عمر قریباً ۱۳ارب سال ہے۔ اس کے مطابق ہماری زمین سات ارب سال پہلے بنی اور اس پر زندگی کا وجود پانی میں تقریباً چار ارب سال پہلے ہوا۔ زندگی نے مختلف ارتقائی منازل سے گزر کر کروڑوں سال پہلے حیوانی قالب اختیار کیا۔ ارلی انسان اور نیندر تھیل وجودمیں آئے، لاکھوں سال کے گزرنے اور نیچرل سیلیکشن سے گزرتے ہوئے وہ ہنٹنگ گیدرنگ کے مرحلہ میں پہنچا۔ ایک لاکھ نوے ہزارسال ہنٹنگ اور گیدرنگ کے مرحلہ میں رہنے کے بعد وہ آئس ایج اور اس کے بعد، حجری زمانہ سے گزر کر زراعت کے دور میں داخل ہوا اور ایک متمدن معاشرہ کی بنیاد پڑی۔ یہ مرحلہ بھی ختم ہوا اور زراعت کے بعد موجودہ صنعتی معاشرہ وجود میں آیا۔[2]

تاریخ عظیم کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ بایولوجی کے اعتبار سے مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ مختلف معاشروں میں ہم جو فرق ان دونوں میں دیکھتے آئے ہیں وہ اصل میں کلچرل مؤثرات کی وجہ سے ہے اس کی کوئی حقیقی وجہ نہیں۔ سیپین کے مصنف کا کہنا ہے کہ ’’انسانی سماج میں مرد کے وظائف، عورت کے وظائف اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انسانی جسم کے مختلف اعضا کے بامقصد وظائف کا تصور ان نیچرل ہے۔ وہ اصل میں مسیحی تھیولوجی سے آیا ہے ورنہ بایولوجیکلی کسی چیز کا کوئی مقصد اور ہدف نہیں ہوتا۔’’مرد قوام ہے اور عورت گھر کی ملکہ ہے، وغیرہ تصورات اصل میں انسانی خیال کے ساختہ ہیں۔‘‘[3]  وہ کہتے ہیں کہ انسان بنیادی طور پر چیزوں کو تصور کرتا ہے۔ چناں چہ یہ انسانی کلچر، ثقافت و تہذیب، مذہب و روحانیت، اخلاقی احساس وغیرہ یہ سب اس کی خیال آرائی کا نتیجہ ہیں اور ایک مفروضہ محض ہیں، ورنہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ [4]یہ کاسمولوجی کہتی ہے کہ تاریخ اندھا سفرکرتی ہے اور اس کائنات اور اس پر زندگی کا کوئی مقصد نہیں، ایک دن یہ یونہی اندھے پن کے ساتھ ہی ختم بھی ہوجائے گی۔ ناظرین دیکھ رہے ہیں کہ یہ جو بیانیہ ہے یہ اپنے اندر مذہب، وجود باری تعالی وغیرہ کے کتنے بڑے چیلنج رکھتا ہے اور ہماری اس فتنہ سے مقابلہ کی تیاری کیسی ہونی چاہیے یہ کسی پر مخفی نہیں۔

تیسرامسئلہ مغربی سائنس و ٹیکنالوجی کا پیداکردہ یہ ہے کہ آج جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے یعنی انسانی جینوم کو کنٹرول کرنے کے پروگرواموں کے ذریعے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ اپنے من پسند انسان پیدا کیے جاسکیں۔کلوننگ کا عمل جو شروع میں ڈولی نامی بھیڑ پر کیا گیا اور اس کا ہمزاد پیدا کیا گیا تھا، اب بات اس سے بہت آگے بڑھ چکی ہے اور پیڑ پودوں، سبزیوں اور اناجوں سے گزر کر اب حریم انسانی اس کی زد میں آیا چاہتا ہے۔

جاپان میں مردوں کی آخری رسومات ایک روبوٹ انجام دے رہا ہے، جرمنی میں چرچ کے اندر ایک روبوٹ پادری کلیسائی مذہبی فرائض انجام دے رہاہے۔ AIیعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس [5]کے ذریعے روبوٹ اب محض مشینی آلات نہ رہ کر انسانی ذہن وشعور کے حامل بھی ہوں گے اور وہ دن دور نہیں جب ہمارے امام ومؤذن روبوٹ ہواکریں گے۔ دنیا میں مصنوعی ذہانت کا چرچا ہے جس سے بڑے بڑے کام لیے جارہے ہیں اور یہ ہر یونیورسٹی میں پڑھائی جارہی ہے۔ ترجمہ کے میدان میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہورہا ہے۔کبھی فلموں میں اور فکشن میں روبوٹک بیویوں کی بات آیاکرتی تھی مگر اب تو وہ سچائی بن کر انسانوں کے سامنے آنے والی ہے۔ سفاک اسرائیل فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے AI کا استعمال دھڑلے سے کررہا ہے۔ تو سوال دینیات اور اہل مدارس کے سامنے یہ ہوگا کہ روایتی معاشرتی احکام اِن نئے قسم کے اور انوکھی نوعیت کے انسانوں پر کس طرح لاگو ہوں گے ؟ کیاوہ سِرے سے شریعت کے مخاطب بھی رہ جائیں گے یا نہیں؟ یا ان کے لیے کوئی اور ہی فقہ تیار کی جائے گی؟

جدیدیت نے ایک بڑا چیلنج سائنٹزم کا پیدا کیا۔ جس میں سائنس کو اٹھاکر مذہب کی جگہ دے دی گئی۔ انیسویں صدی میں اِس طرزکا بول بالا رہا۔ بیسویں صدی میں اِس پر خود مغرب میں بھی شدید تنقیدیں ہوئیں۔ تاہم ڈاکٹر محمد اجمل کہتے ہیں کہ:

’’بیسویں صدی میں فلسفہ ٔمادیت سے بے زاری تو پیدا ہوئی لیکن اس کا تدارک اس طرح نہیں کیا گیا کہ لوگ اصل دین کی طرف لوٹیں بلکہ اِس طرح کہ نت نئے خداؤں کی صنعت فروغ پاگئی۔ ایسے ایسے فلسفے تعمیر کیے گئے جو بظاہر مذہبی معلوم ہوتے تھے لیکن تحقیق کرنے پر ان کی بنیادبھی مادیت ہی نکلتی تھی۔ برگساں ہو یا ولیم جیمز، ونگسٹائن ہو یا آئن اسٹائن سب کے سب درحقیقت مادیت کے پرستار تھے لیکن انھوں نے نقاب روحانیت یا مذہب کے اوڑھ رکھے تھے۔ ‘‘ [6]

ٹیکنالوجی کی نئی نئی ترقیوں نے اِس طرز فکر کو دنیا بھر میں غالب کر رکھا ہے۔ سائنٹزم کا دعوی ہے کہ سائنس کے پاس انسان کے ہر مسئلہ کا حل ہے، یہاں تک کہ موت کا حل بھی ڈھونڈنے کی کوشش جاری ہے۔سائنس داں ایسے منصوبوں پر کام کررہے ہیں جن میں موت پر قابو پالیا جائے گا یا کم از کم انسان کی عمر کا دورانیہ مخصوص دواؤں کے ذریعے ناقابل یقین حد تک بڑھالیا جائے گا۔ اب کاریں، فریج وغیرہ آنکھوں کے اشاروں پر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ انسان کے جسم پر دواؤں کی حکم رانی ہوگی۔ جینوم پراجیکٹ کے ذریعے مخصوص جین لے کر خاص قسم کے مطلوبہ انسان پیدا کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ انسان فطری غذا پر زندگی نہیں گزارے گا بلکہ اب مصنوعی غذائیں اورSynthetic food کا عادی ہوگا۔

انسانی زندگی میں مختلف جذبات کی بڑی اہمیت ہے اور بہت سے دینی احکام بھی انھیں جذبات مثلاً محبت و الفت، رحم و مہربانی، نفرت و کراہیت، غصہ وحسد وغیرہ کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں۔ انسانی تہذیب ان کی بنیاد پر ترقی کرتی ہے، سماجی رشتے ان سے بنتے بگڑتے ہیں۔ اب دواؤں کے ذریعے ان جذبات کو ختم کرنے، ان کو کنٹرول کرنے یا ان کو بدل دینے کی بات کی جارہی ہے۔[7] حتی کہ ایک بڑا پروجیکٹ انسانی جین پر تحقیق کے ذریعے اس امکان کو ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہے کہ موت کا خاتمہ انسان کی زندگی سے کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ یا انسان کی زندگی کا دورانیہ بڑھادیاجائے وہ ہمیشہ جوان رہے اُسے کوئی مرض لاحق نہ ہو وغیرہ۔ [8] اگر ایسا کسی بھی درجہ میں ہوجاتا ہے تو اس سے روایتی فقہی احکام پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا ان چیزوں کو تغییرِ خلق اللہ کی قبیل سے سمجھا جائے گا یا نہیں؟

ہمارے علما گذشتہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے تصویر کے مسئلہ سے الجھے ہوئے ہیں کہ آیا فوٹو میں کسی شئے کی حقیقت خود آجاتی ہے یا اس کا عکس آتا ہے؟ تصویر اگر سر کٹی ہو تو جائز ہوگی یا نہیں؟ ڈیجیٹل کیمرے سے لیے گئے فوٹو پر حدیث میں آئی وعید کا اطلاق ہوگا یا نہیں وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ اب سائنس و ٹیکنالوجی جس دنیا کو سامنے لارہے ہیں اس میں ہمارے یہ فقہی قواعد و ضوابط کچھ کام دیں گے؟ فی الحال کیتھولک چرچ کی مخالفت کی وجہ سے اور کچھ اور اسباب سے بعض ملکوں میں سائنس کو کچھ پابند کیا گیا ہے اور اس کی تحقیقات پر کچھ قدغنیں عائد کی گئی ہیں مگر تابکے؟ جب یہ جن بوتل سے باہر آئے گا تو نطشے نے توGod is deadکہ دیاتھا مسقتبل قریب کا انسان فرعون کی زبان میں کہے گا کہ ’’میں پیدا کرتا ہوں اور مارتا ہوں اس لیے میں ہی خدا ہوں۔‘‘ یعنی سائنس داں ہی انا ربکم الاعلیکا نعرہ مارے گا۔ ہراری نے مستقبل قریب کے اِسی انسان کوHomo Deus (دیوتاانسان) سے تعبیر کیا ہے۔

یہ ہیں نئی کاسمولوجی کے وہ پہلو جو ارتقا اور نیچرل ہسٹری کی بنیاد پر مذہب کے بالمقابل کائنات کے آغاز و ارتقا اور زندگی کی تخلیق کا نیا بیانیہ ہمارے سامنے لارہا ہے۔ یہ اپنے اندر مذہب کے لیے کتنے خطرے لیے ہوئے ہے ہماری معروضات سے یہ بات کسی حد تک سامنے آجاتی ہے۔ اب اہل مذہب اور اہل مدارس کوسوچنا یہ ہے کہ اس خطرے سے مقابلہ کی کیا تیاری ان کے پاس ہے؟ وہ اپنے طلبہ کو اِن چیلنجوں کے بارے میں بتارہے ہیں یا نہیں؟ بظاہر تو جواب نفی میں ہی ہے۔

ٹیکنالوجی کی یہ حیرت انگیز ترقیاں ایسی ہیں کہ اِن کے سہارے اب سائنس پرست مذہب کا بطلان ثابت کررہے ہیں۔غرض جدیدیت یا ماڈرنیٹی نے جو چیلنج پیدا کیے ہیں وہ بڑھتے ہی جارہے ہیں اور ان کی حشر سامانیوں کا سامنا اہل مذہب نہیں کرپا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج الحاد دور جدید کا نیا مذہب بن چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ ساری دنیا میں مذہب و روحانیت کی طرف لوگوں کا دوبارہ رجحان بڑھا ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ آج دنیا میں جتنے بڑے پیمانہ پر لامذہبی، لاادری، اور ملحدین موجود ہیں پہلے کبھی نہ تھے۔ آج کے الحاد کے پاس سائنس وٹیکنالوجی اور نئی کاسمولوجی کے پیداکردہ سوالات و اشکالات ہیں۔ وہ Reasonاور استدلال سے لیس ہے۔[9] جس کا جواب دینے اور مقابلہ کرنے کے لیے مذہبی تنظیموں، علما اور اہل مدارس کو ماڈرنیٹی اور اس کے چیلنجوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ آج جگہ جگہ ایکس مسلم (مرتدین ) نظر آرہے ہیں جو اپنے یوٹیوب چینلوں اور ویب سائٹوں کے ذریعے دین ومذہب اور خصوصاً اسلام پر حملہ آور ہیں اور ان کے دلائل بھی زیادہ تر وہی ہیں جو دہریے اور لامذہبی استعمال کرتے ہیں۔جن میں ابن وراق اور ایان ہرسی علی کی تحریریں بہت زہر آلود ہوتی ہیں۔

مدارس اسلامیہ اور جدیدیت

موجودہ مدارس اسلامیہ کا نصاب کم وبیش دو صدیوں پرانا ہے۔ اس پورے عرصے میں دنیا میں فکر و عمل کی سطح پر بڑی تبدیلیاں آئیں، بڑے بڑے انقلابات انسانوں کے فکر، طرز زندگی اور عمل میں آئے مگر مدارس نے شروع سے ہی اپنی کھڑکیاں بندکرلی تھیں اس لیے ان کو اِن میں سے کسی چیز کی بھی ہوا نہیں لگ سکی۔ ایک آدھ استثنا کے ساتھ مدار س اسلامیہ آج بھی کم وبیش اسی رویہ پر قائم ہیں۔

علمائے کرام اور اہل مدارس میں جدیدیت کو سمجھنے اس کے چیلنج کو جاننے اور اس سے مکالمہ کرنے (engage )کرنے کی خواہش عمومًا نہیں پائی گئی۔ علما کی صفوں میں اس کے بعض مظاہر کو سمجھنے اور ان کا جواب دینے کو کافی سمجھ لیا گیا۔ اور ایسے علما کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے جنھوں نے سائنس اور ماڈرنیٹی کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ مثلًا سرسید احمدخان، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا شہاب الدین ندوی، مولانا عبدالباری ندوی اور مولانا وحیدالدین خاں وغیرہ۔ جدیدیت کے سیاسی مظاہر و عمرانی تصورات پر مولانا مودودیؒ نے زبردست تنقیدیں کی ہیں اور اس کے سائنسی کلامی پہلوؤں کا مطالعہ اور ان کا جواب مولانا وحیدالدین خان نے دیا ہے۔ [10]

ماڈرنیٹی، جدیدیت یا مغربی فکر کے رد و قبول کے سلسلے میں مسلمان اہل فکر میں تین طرح کے موقف سامنے آئے۔

مغربی فکر کو جوں کا توں قبول کرنا یہ سرسید اور ان کے رفقا کی رائے تھی اور بدقسمتی سے مغربی فکرکے بہت سطحی و سرسری مطالعہ و مشاہدہ پر مبنی تھی۔

اس فکر کو قطعی طور پر مسترد کرنا یہ روایتی علما کا نقطہ نظر تھا۔

تیسرا موقف خذ ما صفا ودع ما کدر کے اصول یعنی محتاط استفادے پر مبنی تھا اور یہ کم و بیش تمام اسلامی احیائی تحریکوں نے اپنایا اور بتدریج روایتی نقطۂ نظر بھی اسی کی طرف مائل ہوتاچلاگیا۔

تاہم عملی صورت حال یہ ہے کہ مدارس کے نصابوں کو عموماً اس سے دور ہی رکھا گیا ہے۔ اور آج بھی کم وبیش یہی فضا برقرار ہے۔ جو مدارس اپنے نصاب اور نصابِ تعلیم میں بہت ماڈرن، روشن خیال اور متحرک سمجھے جاتے ہیں ان کے نصاب بھی جدیدیت کے بعض سطحی مظاہر کو چھوکر گزر جاتے ہیں مثلًا ان میں معاشیات، نفسیات اور سیاسیات کا کچھ نہ کچھ تعارف کرادیا جاتا ہے اور تھوڑی سی انگریزی پڑھادی جاتی ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز پروگرام نے البتہ اِس سے خاصا اعتنا کیا تھا اور منتخب فضلائے مدارس کو اسلامی کلامی روایت کے پہلو بہ پہلو جدیدیت اور اس کے چیلنجوں سے متعارف کرانے کی کوشش کی تھی۔(۱۳)

اسلامی تحریکات سے وابستہ افراد خصوصًا طلبہ و طالبات کے مطالعات میں بھی جدیدیت کے تعارف کا خاطر خواہ اہتمام نظر نہیں آتا۔

جدیدیت پر اردو میں اسلامی نقطہ نظر سے کچھ خاص نہیں لکھا گیا البتہ اردو کے بڑے ادیب و ناقدحسن عسکری نے (جن کا مغربی ادب انگریزی اورفرنچ کا مطالعہ گہراتھا)ایک تعارفی کتاب طلبہ ٔمدارس کے لیے لکھی تھی۔جدیدیت یامغربی گم راہیوں کا ایک خاکہ [10] موجودہ امیرحماعت انجینئر سید سعادت اللہ حسینی نے بھی اس پر کئی مقالے اور کتابچے لکھے ہیں۔مثلاً: تحریکی لٹریچر اور درپیش علمی معرکہ، ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور مارچ 2016۔

حسن عسکری کی کتاب اصلاً ایک فرنچ مسلم کنورٹ رینے گینوں(عبدالواحد یحییٰ)کے مغرب پر ناقدانہ خیالات کی تلخیص تھی۔ اور دارالعلوم کراچی کو اسے اپنے نصاب میں شامل کرنا تھا، مگر وہ کی نہیں گئی۔ یہ کتاب راقم کے مطالعہ میں آئی ہے۔ اس میں دو کمیاں ہیں، ایک تو حوالوں سے عاری ہے، دوسرے اس میں مغرب کے بارے میں انتہا پسندانہ موقف اپنایا گیا ہے۔

مطلوب اقدامات

جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے کہ مدارس اپنے طلبہ اور اسلامی تحریکیں اور دعوتی ادارے اپنے وابستہ افراد خاص طور سے طلبہ و نوجوانوں کو اس مسئلہ سے کیسے واقف کروائیں، تو اس کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جاسکتے ہیں:

جدیدیت پر تعارفی لٹریچر کا مطالعہ کروایا جائے۔

جدیدیت پر تنقید اور اسلامی موقف کی وضاحت کرنے والے لٹریچر کا مطالعہ کروایا جائے۔

اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر ماہرین کے لیکچر سننے کا انتظام ہو۔

انگریزی میں یا اردو میں اس موضوع پر متعلقہ کتب کے مخصوص ابواب کا مطالعہ کروایا جائے، مثلًا چارلس ٹیلر کی کتاب The Secular Ageکی بعض فصلوں کا مطالعہ۔

اس موضوع پر جدید ترین مباحث کو سامنے رکھتے ہوئے مزید تعارفی وتنقیدی لٹریچر تیار کیا جائے۔

بڑے مدارس مثلًا دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوة العلماء، مدرسة الاصلاح، جامعة الفلاح اور جامعہ اشرفیہ و جامعہ سلفیہ وغیرہ میں الگ سے شعبے کھولے جاسکتے ہیں جن میں یک سالہ کورس کے ذریعے تخصص و فضیلت کرچکے منتخب فضلائے مدارس کو مغربی فکر اور انگریزی زبان، سائنس اور جدید فلسفہ سے متعارف کرایا جائے۔

بقول حسن عسکری 1930کے قریب مولانااشرف علی تھانویؒ نے فرمایا تھا کہ ’’میری آنکھیں تو یہ دیکھ رہی ہیں کہ اب اسلام کی حفاظت کرنے والے یوروپ سے اٹھیں گے [11] لیکن علما واہل مدارس نے ان کے قول پر کوئی توجہ نہیں کی۔ نہ یوروپ کے نئے انقلاب کو جاننے کی کوشش کی اور نہ اس سے مقابلے کی تیاری کی۔ اسی طرح ’’تجدید واحیاء دین‘‘ میں مولانا مودودیؒ نے بھی تحریکِ شہیدین کی ناکامی کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کا ماتم کیاتھاجس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’انھوں نے سب کچھ کیا مگر اتنا نہیں کیا کہ ایک وفد بھیج کر یہ پتہ لگانے کی کوشش کرتے کہ اِس نئی تہذیب کی طاقت کا راز کیا ہے۔‘‘[12] لیکن بعد میں تحریک اسلامی نے بھی اِس ضروری کام پر کماحقہ توجہ نہیں دی۔ البتہ پروفیسر نجات اللہ صدیقیؒ، مرحوم ڈاکٹر محمد رفعتؒ کو اس موضوع سے دل چسپی تھی، انھوں نے اس پر لکھا بھی ہے۔ اسی طرح موجودہ امیرحماعت اسلامی ہند محترم انجینئر سعادت اللہ حسینی بھی اس کی ضرورت کا ادراک رکھتے ہیں اور اس پر کئی وقیع مقالے لکھ چکے ہیں۔ ان حضرات کی تحریروں سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔

جس طرح مغرب میں اسلام اور اسلامی علو م کے مطالعہ و تحقیق کے لیے استشراق کو رواج دیاگیا اُسی پیٹرن پر عالم اسلام میں مغرب کو سمجھنے اور اس کی فکر پر مطالعہ وتحقیق کے لیے استغراب (مطالعۂ غرب)کا سلسلہ قائم ہوناچاہیے تھا، جو افسوس کہ نہیں ہوسکا اور اب بھی مسلم دنیا میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں اس موضوع پر کام کیاجاتا ہو۔ ایسا ادارہ یا ایسے افراد تیار کرنا جو اسلام کے عالم ہونے کے ساتھ ہی مغربی فکرکے بھی ماہر ہوں وقت کی اولین ضرورت ہے۔

حواشی وتعلیقات

  1. دیکھیں: یوآل نوح ہرار ی،: Sapiens ص 239 اس میں وہ کہتا ہے :

The insight of Polytheism is conducive to far-reaching religious tolerance

حالاں کہ یہ یوآل نوح ہرار ی اور اس کے مقلد دانش وروں کی بے بصیرتی ہے۔

وہ اپنے بیانات میں اِس بات کو بالکل نظر انداز کرجاتے ہیں کہ ہندو مذہب کے پرستاروں نے اپنے احیائی عہد میں دوسرے مذاہب خاص طور پر بودھ مت کے ساتھ کیساسلوک کیا تھا کہ اس کے نشانات تک مٹا کر رکھ دیے۔ ایک ہندو راجہ پشپامترا نے ۸۰ ہزار سے زائد بودھ استوپا (معابد)کو تباہ کردیا تھا۔

  1. ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی، کائنات کا آغاز و ارتقا، ماہنامہ اشراق المورد لاہور جنوری فروری 2021
  2. یوآل نوح ہراری، Sapiens،ملاحظہ ہو: An imagined order ص 114
  3. ایضا صفحہ 123

[5] مصنوعی ذہانت کی سادہ تفہیم کے لیے دیکھیے: مصنوعی ذہانت اور تعلیمی ترقی، ڈاکٹرمحمدی شیخ تہذیب الاخلاق اپریل 2024 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

[6] مجموعہ حسن عسکری ص 1177

[7] ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی، نئی کاسمولوجی کا چیلنج، ماہنامہ اشرا ق ہند اکتوبر 2019 المورد فاؤنڈیشن الہند

[8] ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی، جدید الحاد کا چیلنج، ماہنامہ رفیق منزل، اکتوبر 2018

[9] لاحظہ ہو: مولانا وحید الدین خاں علم جدیدکا چیلنج، مذہب اور سائنس، اسلام دور جدید کا خالق، عقلیات اسلام، کتاب معرفت اور کتاب حکمت وغیرہ

[10] مجموعۂ حسن عسکری،ص 1178

[11] مجموعۂ حسن عسکری،ص 1172

[12] دیکھیے مولانامودودی، تجدید و احیا دین: اسلامک پبلیکیشنز لاہور مئی 1999 ص 125-128

 

جولائی 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau