قرآن و حدیث میں اتحاد و اتفاق کی بار بار تاکید کی گئی ہے اورتنازعہ و افتراق سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود امت فرقہ بندیوں کی شکاراور شدید قسم کی ٹوٹ پھوٹ میں گرفتارہے۔ اس کی وجوہات پر مسلسل غور کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث کی ان تعلیمات کو افراد کی سطح پر اگر نظر انداز کیا جاتا ہے تو گروہوں کی سطح پر ان کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر گروہ قرآن و حدیث کی ان تعلیمات کا حوالہ دے کر امت کے اندر اتحاد و اتفاق پر زور دینے کے بجائے گروہ کے اندر اتحاد و اتفاق پر زور دیتا ہے۔ گویا یہ آیات و احادیث امت کو متحد رکھنے کے لیے نہیں بلکہ اس گروہ کو متحد رکھنے کے لیے ہیں جو گروہ خود کو حق پر سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گروہوں کی چاردیواریاں مستحکم ہوتی جاتی ہیں اور امت کی فصیل میں پڑنے والی دراڑیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
قرآن وحدیث کی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ امت کے افراد اور گروہ سب مل کر امت کی عمارت کو مضبوط و مستحکم بنانے کی کوشش کریں۔ ہر گروہ کو یہ سچا احساس رہے کہ وہ کوئی مستقل وحدت نہیں ہے بلکہ ایک امت کا جز ہے، جس کا کام امت کو کم زور کرنا نہیں قوت پہنچانا ہے۔
ملی وحدت کا کم سے کم درجہ
ملی وحدت کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ ملت کے مختلف اجزا (افراد اور گروہ) شدید قسم کے نزاعات اور باہم کشمکش میں مبتلا نہ رہیں۔ ان کے درمیان دشمنی اور عداوت نہ رہے۔کلمہ طیبہ یعنی اللہ اور اس کے رسول پرایمان کی اتنی تاثیر تو ہونی ہی چاہیے کہ عظیم ہستی پر ایمان لانے والے اوردین کی عظیم امانت اٹھانے والے ایک دوسرے سے نفرت نہ کریں۔ جب بندہ اپنارشتہ اللہ سے جوڑتا ہے تو ساتھ ہی اللہ سے رشتہ جوڑنے والوں سے بھی رشتہ جوڑ لیتا ہے۔ یہ تو عجیب بات ہوگی کہ کلمہ طیبہ کے اشتراک کے باوجود ایمان والے آپس میں دشمنی اور نفرت رکھیں۔ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا اور وَأَطِیعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا اور وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِینَ تَفَرَّقُوا جیسی متعدد قرآنی تاکیدات باہمی نزاعات سے بچنے کو لازم قرار دیتی ہیں۔ اگر ملت کے اندر باہمی دشمنی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور آپس میں بغض و نفرت مسلسل چلی جارہی ہے تو یہ شدید فکرمندی اور تشویش کی بات ہے کیوں کہ یہ کیفیت اللہ کی طرف سے عذاب کا اشارہ دیتی ہے۔ پہلے کی مسلم ملتوں پر یہ عذاب نازل ہوچکا ہے۔قرآن مجید کا بیان ہے:
{فَأَغْرَینَا بَینَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى یوْمِ الْقِیامَة} [المائدة: 14]
(آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض کا بیج بو دیا۔)
{وَأَلْقَینَا بَینَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَى یوْمِ الْقِیامَةِ} [المائدة: 64]
(اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض ڈال دیا ہے۔)
ادھر شیطان کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ایمان والوں کے بیچ دشمنی ڈال دے۔
{إِنَّمَا یرِیدُ الشَّیطَانُ أَنْ یوقِعَ بَینَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ} [المائدة: 91]
(شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے۔ )
تدبر طلب بات یہ ہے کہ الْعَدَاوَة وَالْبَغْضَاءکو ڈالنے کی بات قرآن میں تین بار آئی ہے اور تینوں بار سورة المائدہ میں آئی ہے۔
اللہ تعالی نے سورۂ حجرات میں ایسی کئی باتوں کی ممانعت فرمائی ہے جو اہل ایمان کے درمیان دشمنی کے بیج بوئیں اور عداوت کے زہریلے پودے کو سیراب کریں۔
اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ نے ایسی بہت سی باتوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے جو دشمنی کو ہوا دیتی ہیں۔ درج ذیل دو حدیثوں میں بڑی جامعیت کے ساتھ نفرت و عداوت کے متعدد رخنوں کی نشان دہی کردی گئی ہے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم آپس میں حسد نہ کرو، نہ دھوکہ دینے کے لیے بولی چڑھاؤ، نہ آپس میں بغض رکھو، نہ ایک دوسرے سے منھ موڑو، اور نہ ایک دوسرے کی خریدوفروخت پر خریدوفروخت کرو۔ اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرے، نہ اسے رسوا کرے، اور نہ اسے حقیر سمجھے۔ تقویٰ یہاں ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا)۔ کسی شخص کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بدگمانی سے بچو، کیوں کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اور نہ کسی کی ٹوہ میں لگے رہو، نہ جاسوسی کرو، نہ دھوکہ دینے کے لیے بولی چڑھاؤ، نہ حسد کرو، نہ آپس میں بغض رکھو، اور نہ ایک دوسرے سے منھ موڑو۔ اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔‘‘
غرض ملی وحدت کا سب سے نیچا درجہ جس سے نیچے اترنے کا خیال بھی نہیں آنا چاہیے،یہ ہے کہ ملت کے افراد اور گروہ باہمی عداوتوں سے مکمل اجتناب کریں۔
افراد کی عداوتوں کا اثر پھر بھی محدود رہتا ہے لیکن جب کوئی ایک گروہ دوسرے گروہ سے عداوت رکھے اور یہ عداوت نسل در نسل منتقل ہوتی رہے تو اس سے ملت اسلامیہ کی عمارت کم زور ہوتی ہے۔
ملی وحدت کا اونچا درجہ
ملی وحدت کا اونچا درجہ یہ ہے کہ ملت کے افراد اور گروہوں کے درمیان الفت و محبت اور نصح و خیر خواہی کا تعلق ہو۔ اسی کو قرآن مجید میں إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ کہا گیا ہے۔ یعنی بغض و نفرت سے اجتناب کافی نہیں ہے، بلکہ آگے بڑھ کر آپس میں محبت کرنا مطلوب ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے اہل ایمان کی باہمی محبت کو بڑے بلیغ انداز سے تعبیر فرمایا ہے:
حضرت نعمان بن بشیر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مومنوں کی محبت، رحم اور ہمدردی کی مثال ایک جسم کی سی ہے۔ جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بیداری اور بخار میں اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور تم ایمان دار نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمھیں ایسی چیز نہ بتاؤں، جب تم اس پر عمل کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔‘‘ (صحیح مسلم)
ملی وحدت کا اعلی ترین درجہ
ملی وحدت کا معیار مطلوب اور اس کا حاصل ومقصودیہ ہے کہ مسلم ملت کو جو حق کی گواہی کی عظیم ذمہ داری دی گئی ہے، اس کی ادائیگی میں سب ایک دوسرے کے حامی و ناصر اور یار و مددگارہوں۔
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِیاءُ بَعْضٍ یأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَینْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [التوبة: 71]
مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔
قرآن مجید میں جن مقامات پر ایمان والوں کو ایک امت قرار دیا گیا، انھیں امت وسط اور خیر امت بتایا گیا، وہاں ان کی یہ ذمے داریاں بھی یاد دلائی گئیں اور بتایا گیا کہ ایک امت ہونےکا مقصد ہی یہی ہے۔
مسلم ملت کا مقصد و نصب العین دینِ اسلام کی گواہی ہے۔ اگر مسلم ملت اس فریضے کو انجام دیتی ہے تو وہ اپنے صحیح مقام و منصب پر ہے اور اگر وہ اسے چھوڑ دیتی ہے تو وہ بے مقام و منصب اور بے معنی و وزن ہے۔
دیگر قومیں جب متحد ہوتی ہیں تو عام طور سے اپنی شناخت کا اظہار، ماضی میں ہوئی حق تلفیوں کا تدارک، کچھ دنیوی مفادات کا حصول، بیرونی دشمنوں سے تحفظ اور دیگر اقوام پر برتری ان کے پیش نظر ہوتا ہے۔
مسلم ملت کی وحدت سے جائز دنیوی مقاصد کا حصول تو از خود ہوہی جاتا ہے مگر یہ اصل مقصود نہیں ہے۔ اصل مقصود تو یہی ہے کہ مسلم ملت متحد ہوکر حق کی شہادت اور دین کی اقامت کا فریضہ انجام دے۔
جب ہم ملی وحدت کی بات کرتے ہیں تو ہرگز یہ مقصود نہیں ہوتا ہے کہ قوموں کی کشمکش اور محاذ آرائی کے میدان کارزار میں دیگر اقوام کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمان اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔ قوم پرستی دیگر اقوام سے مقابلے، خوف اور نفرت پر مبنی ہوتی ہے۔ ملی وحدت کلمہ اور مشن سے محبت کی بنیادپر ہوتی ہے۔
ملی وحدت کا فائدہ ملت کے افراد اور اس کے مشن کو پہنچتا ہے اور اس سے دیگر اقوام کو نقصان نہیں پہنچتا ہے بلکہ فائدہ ہی پہنچتا ہے کیوں کہ یہ مشن تمام انسانوں کو فائدہ پہنچانے کا مشن ہے۔
ملی وحدت دوسری قوموں کے لیے خطرہ نہیں ہوتی ہے بلکہ دوسری اقوام کو خیر و فلاح اور نجات و سلامتی کی نوید سناتی ہے۔
یہ بیانیہ درست نہیں ہے کہ دوسری قومیں متحد ہیں اس لیے ملت کو بھی متحد ہونا چاہیے۔ درست بیانیہ یہ ہے کہ ایک عظیم کلمہ کی بنیاد پر اورایک عظیم مقصد کے لیے ملت کو ضرورمتحد ہونا چاہیے، چاہے دیگر اقوام کم زور ہوں یا طاقت ور، متحد ہوں یا منتشر۔
ملی وحدت کا اظہار ایک عظیم اسلامی قدر کے طور پر ہونا چاہیے۔عام طور سے قومی وحدتوں کی پشت پر غیر اخلاقی جذبات و محرکات کارفرما ہوتے ہیں جنھیں قومی مصالح کے نام پر جواز دیا جاتا ہے۔
ملی وحدت میں ایسا کوئی جذبہ ومحرک کارفرما نہیں ہوتا ہے۔ یہ وحدت اسلام کی اخلاقی تعلیمات کا مظہر ہوتی ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو محبت کی تعلیم دیتا ہے، یہ وحدت اسی تعلیم کا مظہر ہوتی ہے۔ اسلام محبت کا ماحول پیداکرتا ہے اور اس ماحول میں جو بھی داخل ہوتا ہے وہ محبت کرنے والا اور محبت پانے والا بن جاتا ہے۔
اس محبت کا فیض ملت کے باہر کے افراد کو بھی ملتا ہے۔ لیکن وہ محبت سے فیض یاب ہونے والے ہوتے ہیں محبت کے ماحول کا حصہ نہیں بنتے ہیں۔ محبت سے سیراب ہوتے ہیں محبت کا چشمہ نہیں بنتے۔
مقصد و نصب العین کی طرف لوٹیں
ملی وحدت کو درپیش سب سے بڑی آفت یہ ہے کہ ملت اپنے حقیقی مقصد و نصب العین سے غافل ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ جو کوششیں حقیقی مقصد پر لگنی چاہیے تھیں وہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگ رہی ہیں۔
یہ کتنے تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ علم دین کی دولت سے مالا مال جن لوگوں کو دنیا کے سامنے دین پیش کرنا تھا وہ اپنے مسلک کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ مناظرے کی زبردست قدرت رکھنے والے جن لوگوں کو کفر والحاد کا مقابلہ کرنا چاہیے تھا وہ دوسری دینی جماعتوں اور گروہوں پر تیر اندازی میں منہمک ہیں۔ جن اہل دانش کو نئی نسل کے ذہنوں میں پلنے والے شبہات کے ازالے کی فکر کرنی چاہیے تھی وہ دوسرے مسلکوں میں خامیاں ڈھونڈنے اور قابل اعتراض مقامات چننے میں لگے ہوئے ہیں۔ غرض اہل باطل کو حق کی طرف بلانے کے بجائے اہل حق کو الگ الگ خانوں میں بانٹنے اور دوسرے خانوں کے اہل حق کو اپنے خانے کی طرف کھینچنے کی مضحکہ خیز اور افسوس ناک مشق و مشقت جاری ہے۔
جب دین کی دعوت دی جائے گی تو امت عروج کے راستے پر گام زن ہوگی اور جب مسلک کی دعوت دی جائے گی تو امت ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی چلی جائے گی اور تقسیم در تقسیم کا انجام کبھی عروج نہیں ہوسکتا، زوال ہی ہوتا ہے۔
ملت میں جاری جماعتی، گروہی اور مسلکی کشمکش اس بات کی دلیل ہے کہ ملت اپنے اصل فریضے سے غافل ہے۔
مسلک و جماعت کو فرقے کی نظر سے نہ دیکھیں
ملت میں فرقہ بندی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جو فرقہ نہیں ہے اسے فرقہ سمجھ لیا جائے۔اجتہاد کے نتیجے میں مختلف رائیں وجود میں آتی ہیں، یہ رائیں فقہی اور کلامی مسلکوں کی شکل اختیار کرتی ہیں، لیکن یہ فرقہ نہیں ہیں۔
امت کی اصلاح کے لیے جماعتیں وجود میں آتی ہیں۔ ان جماعتوں سے جڑنے والوں کی تعداد بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ جماعتیں فرقہ نہیں ہیں۔
فرقہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کوئی گروہ دین کے مسلمات کا انکار کرتا ہے۔
فرقہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب کوئی گروہ فکر و نظر اور تعبیر و تشریح کے مسائل میں خود کو حق پر اور دوسروں کو باطل پر قرار دے۔
غرض فرقہ یا تو کفر سے بنتا ہے یا تکفیر سے۔ اس کے بغیر فرقہ نہیں بنتا ہے۔
مسئلہ اس وقت سنگین ہوتا ہے جب ہم ہر مسلک اور ہر جماعت کو فرقے کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں اور پھر ہمیں پوری امت فرقوں کا مجموعہ محسوس ہونے لگتی ہے۔
مسلکوں کو علم و فکر کے بہتے چشموں کی طرح دیکھنا چاہیے۔ امت کے اندر ایسے بہت سے چشمے رواں دواں ہیں۔ ہر دور کے اہل علم ان چشموں سے سیراب بھی ہورہے ہیں اور ان میں اپنی علمی و فکری کاوشوں کا اضافہ کررہے ہیں۔ ان چشموں سے مزید چشمے بھی نکل رہے ہیں۔
اصلاحی جماعتوں کو اطبا کی ٹیم کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ الگ الگ طریقوں سے اصلاح کا کام کرنے والے الگ الگ طریقوں سے علاج کرنے والے اطبا کی طرح ہیں۔ کچھ کو کسی سے فائدہ ہوتا ہے اور کچھ کو کسی سے۔ انھیں اپنا دشمن نہیں بلکہ ہم درد سمجھنا چاہیے۔
جب آپ دوسری جماعت اور مسلک والوں کو فرقے کی نظر سے دیکھتے ہیں تو پھر فرقہ وارانہ نفرت کے جذبات بھی ابھرتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ میں حق پر ہوں اور دوسری جماعت اور مسلک والے باطل پر ہیں۔ جماعتوں اور مسلکوں کو فرقہ سمجھنے سے امت میں فرقہ بندی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ہمارا یہ یقین ہے کہ اگر امت کی اصلاح کے لیے اٹھنے والی جماعتوں اور امت میں فقہ و کلام کی سطح پر اجتہادی عمل جاری رکھنے والے مسلکوں کو فرقہ نہیں سمجھا جائے تو امت فرقہ بندیوں کے عفریت سے بڑی حد تک باہر نکل سکتی ہے اور ملی وحدت کا مشاہدہ ممکن ہوسکتا ہے۔
گروہوں میں اور ان کے افراد میں فرق کریں
ملی وحدت کو سنگین طریقے سے مجروح کرنے والا ایک رویہ یہ ہے کہ کسی گروہ کے کچھ لوگوں کے آرا و نظریات کو پورے گروہ پر چسپاں کردیا جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہرگروہ میں انتہا پسندانہ رائیں رکھنے والے کچھ لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن ان انتہاپسندوں کی رائے پورے گروہ کی رائے نہیں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نے نعوذ باللہ یہ شعر کہہ دیا:
وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر
تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس گروہ سے متعلق فرد نے یہ شعر کہا، ہم یہ کہیں کہ وہ پورا گروہ اس خیال کا قائل اور مؤید ہے۔ یہ ایک فرد کی لغزش ہے، اسے پورے گروہ کا موقف نہیں قرار دینا چاہیے۔
ایسا بہت ہوتا ہے کہ کسی جماعت یا کسی گروہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے مبنی بر غلو خیالات کو، بے اعتدالی کی باتوں کو، لغزشوں اور تفردات کو پورے گروہ کا موقف سمجھ لیا جاتا ہے اور پورے گروہ کے بارے میں منفی رائے بنالی جاتی ہے۔
اگر ہم پوری جماعت یا پورے گروہ پر یکساں حکم عائد کرنے کے بجائے ، افراد کی رایوں پر انہی افراد سے مکالمہ کرنے کا راستہ اختیار کریں گے تو گروہی اختلافات کی شدتیں کم ہوں گی اور ملی وحدت کا راستہ ہم وار ہوگا۔
فرقہ ساز عقائد کے بجائے امت ساز عقیدہ
اللہ کے رسول ﷺ نے جو عقیدہ پیش کیا تھا اس نے ایک امت کی تشکیل کی تھی۔ پوری امت کا ایک عقیدہ تھا۔ بعد میں عقیدے کے نام پر ایسی چیزیں پیش کی جانے لگیں جن کا عہد رسالت میں وجود ہی نہیں تھا اور ان کی بنیاد پر فرقوں کی تشکیل شروع ہوگئی۔
جب ہم کہتے ہیں ہمارا رب ایک اللہ ہےوہی خالق و مالک اور رحمان و رحیم ہے، تو ہمارے ذہن میں کسی فرقے کا تصور نہیں آتا بلکہ مشرک قوموں کے مقابلے میں توحید کو ماننے والی امت کا تصور آتا ہے۔ لیکن جب ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ اللہ کی صفات قدیم ہیں یا حادث ہیں، تو ہمارے سامنے متعدد فرقوں کا تصور آتا ہے جن کے اس سوال کے الگ الگ جواب ہوتے ہیں۔
جس طرح فقہی مسائل میں اجتہاد کے نتیجے میں فقہی مسالک وجود میں آئے، اسی طرح کلامی مسائل میں اجتہاد کے نتیجے میں کلامی مسالک وجود میں آئے۔ لیکن کلامی مسالک کے بارے میں زیادہ شدت پسندی کا مظاہرہ ہوا اور وہ کلامی فرقوں کی شکل اختیار کرگئے۔ ایسا اس وجہ سے ہوا کہ کلامی رایوں کو عقائد کہہ کر ایمانیات کا درجہ دے دیا گیا۔حالاں کہ ان کی حیثیت ایمانیات کی نہیں بلکہ نظریات کی تھی۔
امت میں کلامی مسائل کو لے کر تشدد کے بہت زیادہ واقعات پیش آئے۔ ہر کلامی فرقہ دوسرے کلامی فرقے کو گم راہ اور بدعقیدہ کہتا ہے۔ حالاں کہ جس عقیدے کی بنیاد پر ہدایت اور گم راہی کا فیصلہ ہونا چاہیے اس عقیدے پر سارے فرقوں کا اتفاق ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہدایت پر رہتے ہوئے ایک دوسرے کو گم راہ قرار دیا جاتا ہے جو حیرت ناک بھی ہے اور افسوس ناک بھی۔
فرقوں والی حدیث
ایک افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے امت کو فرقہ بندی سے خبردار کرنے کے لیے جو تنبیہ ارشاد فرمائی تھی، اسے غلط سیاق و سباق میں بیان کرکے اور اس سےبے محل استدلال کرکے فرقہ بندیوں کو غذا پہنچانے کا کام لیا جانے لگا۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: یہودی اور عیسائی اکہتر اور بہتّر فرقوں میں بٹ گئے، میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب فرقے جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر قائم رہے گا۔ (سنن ترمذی)
اس حدیث میں دی گئی خبر سے خوف کھاکر لوگوں کو فرقہ بندی سے باز رہنا تھا، جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے ہوشیار رہنا تھا، اللہ کے رسول ﷺ کے راستے پر چلنے کی فکر کرنی تھی۔ لیکن اس کے بجائے لوگوں نے امت کے اندر ہی جہنمی فرقوں کی نشان دہی شروع کردی۔ اپنے سوا سب کو بہتّر جہنمی فرقوں میں شمار کیا جانے لگا۔ یہ انتظار بھی نہیں کیا گیا کہ قیامت تک جنم لینے والے تمام گم راہ فرقوں کا ظہور ہوجائے تب بہتّر کی تعداد پوری ہوگی، اس کے بجائے اپنے ہی دور میں بہتّر کی تعداد پوری کی جانے لگی اور کوشش یہ رہی کہ باقی پوری امت بہتّر فرقوں میں نپٹ جائے۔
اس حدیث سے یہ بات صاف ہے کہ اس میں ان فرقوں کا بیان ہے جو جہنم کی طرف جانے والا راستہ اختیار کریں۔ فکر و اجتہاد میں الگ الگ راہیں اختیار کرنے اور فقہ و کلام کی تحقیق میں اجتہادی غلطیاں کرنے والوں کا بیان نہیں ہے۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ان لوگوں کا خیال تو آسکتا ہے جو دین کے بنیادی عقائد سے منحرف ہوکر کفر کے راستے پر چلے گئے، لیکن اہل اسلام کے مختلف گروہوں کا خیال آئے،اس کی اس حدیث میں قطعًا گنجائش نہیں ہے۔
یہ حدیث اور ایسی بہت سی حدیثیں فرقوں والی ذہنیت سے بچاتی اور امت والی سوچ عطا کرتی ہیں۔ اس وقت امت کو فرقوں والی ذہنیت سے نکال کر امت والی سوچ عطا کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارے وعظ و نصیحت اور تقریر و تحریر میں اس پہلو پر خاص توجہ ہونی چاہیے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
مشمولہ: شمارہ اگست 2025