رائے عامّہ کی تشکیل

سید سعادت اللہ حسینی

ملک عزیز میں اقامت دین کے نصب العین کی سمت پیش رفت کے لیے اولین ضرورت یہ ہے کہ یہاں کی رائے عامہPublic Opinion ، اسلام کے حق میں بدلے۔ جماعت اسلامی ہند کے دستور میں، جماعت کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔

جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے تعمیری اور پر امن طریقے اختیار کرے گی۔ یعنی وہ تبلیغ و تلقین اور اشاعتِ افکار کے ذریعے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کرے گی اور اس طرح ملک کی اجتماعی زندگی میں مطلوبہ صالح انقلاب لانے کے لیے رائے عامہ کی تربیت کرے گی۔۱؎

اقامت دین کی منزل کی سمت آگے بڑھنے کے لیے اس وقت فوری ضرورت اگر کسی کام کی ہے تو وہ یہی ہے۔ یہی اگلافوری ہدف اور سنگِ میل ہے۔ اس مرحلہ سے گذرکر ہی یہ سفر آگے بڑھ سکتا ہے۔ مسلمانوں کا حتمی نصب العین اقامتِ دین ہے،یعنی اللہ کا دین قائم ہوجائے۔ اس نصب العین کی سمت اگر اہم ترین قریب الحصول مقصدInterim Goal کی ایک جملہ میں ترجمانی ہوسکتی ہے تو وہ بس یہ ہے کہ یہاں کی رائے عامہ اسلام کے حق میں بدلے۔ اس ملک کی آبادی دین حق سے واقف ہو۔ اسلام کے عقائد، قدریں اور اصول، اس کا مطمح نظر اورورلڈ ویو، اسلامی طرز زندگی کی خصوصیات، ان سب سے لوگ متعارف ہوں، اُن سے متأثر ہوں اور ان کے تعلق سے مثبت سوچ اُن کے اندر پیدا ہو۔

مولانا صدر الدین اصلاحیؒ فرماتے ہیں۔

ملک میں غیر مسلم اکثریت کی موجودگی کے اہم اور بنیادی تقاضے دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسے دہرے احساس فرض کے ساتھ دعوت پہنچائی جائے دوسرا یہ کہ اس کے معقول قسم کے شکوک کا ازالہ کیا جائے اور اسے بدگمانیوں میں مبتلا ہونے نہ دیا جائے۔دہرے احساس فرض کے ساتھ دعوت دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کی انجام دہی کو ایک لازمی فریضہ بھی یقین کیا جائے اور تحریک کی ایک لازمی ضرورت بھی سمجھا جائے۔۔۔تحریک کی لازمی ضرورت اس کام کو اس لیے سمجھا جائے کہ اس تحریک کا واقعی معنوں میں تحریک بن جانا اور اس کی کامیابی کے آثار کا پیدا ہوجانا، بظاہر حالات، اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس غیر مسلم اکثریت میں سے بھی اسے اعوان و انصار ملیں اور ملتے جائیں۔ کیونکہ غیر مسلم اکثریت کوئی معمولی قسم کی اکثریت نہیں ہے، بلکہ ستاسی اٹھاسی فیصد کی تعداد رکھنے والی غیر معمولی اکثریت  ہے۔ پھر کئی پہلووں سے یہاں کی اصل کارفرما قوت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔۲؎

اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہماری کوششیں و جدوجہد اس ہدف پر مرکوز ہوجائیں۔ ہمارے ہر کام کا نتیجہ یہ نکلے کہ ملک کی رائے عامہ مثبت رخ پر بدلے۔

ملک کی آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی سرگرمیوں اور اجتماعی جدوجہد میں، اس کام کو وہ مقام نہیں مل سکا جس کا وہ متقاضی تھا۔ مسلمانوں نے اپنے دینی و تہذیبی تشخص اور شعائر کی حفاظت کی کوشش کی، دینی بیداری اور اصلاح معاشرہ کے لیے کوشاں رہے اور سیاسی، معاشی اور عام شہری حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔یہ سب کام یقینا اہم تھے اور آج بھی اہم اور ضروری ہیں۔ لیکن ہندوستان جیسے مخلوط سماج میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ہم اس ملک کی اکثریت سے بات کرتے،ملک کی رائے عامہ کو متأثر کرنے کی کوشش کرتے اوراِس کی اسلام کی تعلیمات کے متعلق تعمیر وتشکیل کی کوشش کرتے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ اہم ترین کام، بہت کم ہماری اجتماعی کوششوں کا ہدف بن پایا ہے۔

اس کا نتیجہ ہے کہ گذشتہ ستر برسوں میں اسلام کے حوالے سے ملک کی رائے عامہ میں اگر کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے تو وہ زیادہ تر منفی رخ پر ہے۔ ایک طرف صورت حال یہ ہے کہ آج مسلمان پہلے سے زیادہ اسلام اور اسلامی شعائر سے قریب ہیں۔ دین کا علم عام ہوا ہے۔ دین کے نام پر بدعات و خرافات اور جہالت کم ہوئی ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی آج دینی جدوجہد میں پیش پیش ہے۔لیکن دوسری طرف جہاں تک ملک کی رائے عامہ کا تعلق ہے، وہ پہلے سے زیادہ اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کی شکار ہے۔ اسلام کے تئیں نفرت و توحش میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ اسلام اور اہل اسلام کے سلسلہ میں مثبت جذبات پہلے سے کم اور منفی جذبات زیادہ ہیں۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس صور ت حال کے لیے ملکی اور عالمی سیاست ذمہ دار ہے یا اسلام مخالف طاقتوں کی کارستانیاں ذمہ دار ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ لیکن یہ بھی  واقعہ ہے کہ اس صورت حال کے لیے ہماری کمزوری اور حکمت عملی کا نقص بھی ذمہ دار ہے۔ اسلام مخالف طاقتیں تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے براگشتہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔مسلم معاشرہ بھی لبرل خیالات کی چوطرفہ یورش کی زد میں رہا ہے۔ نظام تعلیم نے مسلمان نوجوانوں کو بھی غیر اسلامی طرز فکر کا عادی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔لیکن ان سب کے باوجود اگرصورت حال بہتر ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے مصلحین کی کوششوں کا یہ  ایک اہم ہدف تھا کہ مسلمانوں میں دینی بیداری آئے اور مسلمان اسلام سے وابستہ ہوجائیں۔ اگر اسی طرح کی اجتماعی کوششیں ملک کی عام آبادی سے بات چیت، ڈائیلاگ اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے کی جاتیں تو اس محاذ پر بھی ضرور پیش رفت ہوتی۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ رائے عامہ کی تبدیلی، اہل اسلام کا اہم ترین اقدامی ایجنڈا بھی ہے اور دفاعی ایجنڈا بھی۔ اقدامی، اس لیے کہ مسلمان کی اصل حیثیت داعی الی اللہ کی ہے اوررائے عامہ کی اسلام کے رخ پر تبدیلی داعی الی اللہ کا ایک اہم ہدف ہوتا ہے۔ دفاعی اس لیے کہ ، اس وقت اسلام دشمن طاقتوں کا بنیادی ایجنڈا، اسلام کو بدنام کرنا  اور اس کے تعلق سے غلط فہمیاں اور توحش پیدا کرنا ہے۔ دنیا بھرمیں اور ہمارے ملک میں بھی، اہل اسلام کے ساتھ جو شرارتیں ہورہی ہیں، اُن کی جڑ اسلام کے تعلق سے غلط رائے کا عام ہوجانا ہی ہے۔ جب تک یہ رائے درست نہیں ہوگی، اس وقت تک صورت حال بہتر نہیں ہوسکتی۔

یہاں جو بحث کی جارہی ہے، اس کا تعلق ایشوز کے حوالے سے بننے والی رائے عامہ سے ہے۔ اس میں اورمکمل دعوت دین کے قبول عام میں یقینا فرق ہے۔ لیکن اسلام کے حوالے سے رائے عامہ کا درست ہونا یہ، دعوت دین کے قبول عام کے لیے ضروری ہے اور اس سمت ایک اہم مرحلہ ہے۔

یہ حالات کا نہایت شدید تقاضا ہے کہ مسلمان پوری قوت کے ساتھ اس اہم کام کی طرف متوجہ ہوں اور اس پر اپنی کوششوں و توجہات کا بڑا حصہ مرکوز کردیں۔ دعوت دین اور رائے عامہ کی تربیت کا کام چند گروہوں تک محدود نہ رہے بلکہ یہ پوری امت کا ایجنڈا بنے۔

ہم اگلی سطروں میں واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ رائے عامہ کی تربیت ایک ہمہ جہت کام ہے اور کئی محاذوں پر منصوبہ بند کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔

رائے عامہPublic Opinion کیا ہے؟

گزشتہ دو تین صدیوں میں رائے عامہ کا موضوع علمی حلقوں میں متعدد پہلووں سے زیر بحث رہا ہے۔ سیاسیات Political Science، سماجیاتSociology، سماجی نفسیاتSocial Psychology،تاریخ History،ابلاغیاتCommunication Studies وغیرہ متعدد شعبہ ہائے علم میں یہ موضوع زیر بحث رہا ہے کہ رائے عامہ کسے کہتے ہیں؟ وہ کیسے بنتی اور بدلتی ہے؟ کیا عناصر اس پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ اس کو بنانے اور بگاڑنے والی قوتیں کونسی ہوتی ہیں؟

رائے عامہ، افراد کی آراء کے مجموعے کو نہیں کہتے بلکہ اُس بااثر رائے کو کہتے ہیں جو سماج کے احوال پر اثر انداز ہوتی ہے۔کسی بھی سماج میںمختلف آراء رکھنے والے،چھوٹے چھوٹے اقلیتی گروپ ہوتے ہیں اور اُن کے ساتھ عظیم اکثریت ہوتی ہے جس کی کوئی رائے نہیں ہوتی۔مختلف عوامل کی وجہ سے کسی ایک  بااثر اقلیتی گروپ کی رائے سماج کو متأثر کرتی ہے اور یہی رائے عامہ کہلاتی ہے۔۳؎

رائے عامہ کسی مسئلہ یا موضوعIssue کو بنیاد بناکر تشکیل پاتی ہے۔ رائے عامہ بننے کے لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اُس مسئلہ کو اہمیت دے اور اس پر بات کرنے کے لیے تیار ہو۔ پھر ایک قابل لحاظ تعداد اس مسئلہ پر خاص رائے رکھے اور وہ رائے سماج کے احوال پر اثر انداز ہو۔ ۴؎

سماجی نفسیات کے  ماہرین یہ مانتے ہیں کہ رائے عامہ اکثر صورتوں میں اقلیتی رائے ہوتی ہے۔ ایک بااثر اقلیت elite minority جو بعض دفعہ بہت چھوٹی اقلیت ہوتی ہے، اپنے نقطہ نظر کو اس طرح عام کردیتی ہے کہ وہ پوری سماج کی رائے محسوس ہونے لگتی ہے۔۴؎بعض اوقات رائے عامہ کسی بڑے بحران کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ کوئی سنگین سماجی مسئلہ، حادثہ یا بڑا واقعہ، سماج میں شدید رد عمل پیدا کرتا ہے۔ ۵؎۔ اس رد عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے جذبات و احساسات کا بااثر اقلیت استحصال کرتی ہے۔ انہیں علمی زبان اور توجیہات فراہم کرتی ہے۔ اس طرح رائے عامہ تشکیل پاتی ہے۔عوام میں اس کی ترویج ، اُس مباحثہ Elite Discourseسے ہوتی ہے جو بااثر طبقات سماج میں چھیڑتے ہیں۔ ۶؎

را ئے عامہ کا انحصار کچھ اعتقادات  Beliefsپر ہوتا ہے۔ مثلاً یہ اعتقاد کہ ہماری قوم دنیا کی بہترین قوم ہے، یا یہ کہ ملک کی معاشی ترقی آزاد مارکیٹ کے ذریعہ ہی ممکن ہے یا یہ کہ دنیا میں دہشت گردی کا سبب کچھ خاص مذہبی عقائد ہیں۔ وغیرہ۔ چھوٹے اقلیتی گروپ ایسے معتقدات کو عام کردیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں احوال و واقعات کو دیکھنے کاایک خاص زاویہ عام ہوجاتا ہے۔ مثلاًآزاد مارکیٹ کے نظریہ میں یقین رکھنے والی رائے عامہ، کساد بازاری اور معاشی بدحالی کے اسباب ہمیشہ اُن حکومتی پالیسیوں میں تلاش کرتی ہے جو غریبوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنائی جاتی ہیں ۔ اس نقطہ نظر کی بنیاد پر مستقبل کو دیکھنے کا ایک خاص زاویہ وجود میں آتا ہے اور کچھ اجتماعی ارادے وجود میں آتے ہیں۔مثلاً انتہاپسندانہ قوم پرستی کا عقیدہ اس فاشسٹ اور استعماری ارادہ کو جنم دیتا ہے کہ ہمیں اپنی قوم کو ہر صورت میں دنیا بھر میں غلبہ دلانا ہے۔

رائے عامہ ہمیشہ  نازک اورغیر مستحکم ہوتی ہے۔اسے ریتShifting Sands سے تشبیہ دی جاتی ہے جو مستقل ایک شکل میں نہیں رہتی۔۶؎ایک واقعہ یا حادثہ برسوں کی محنت سے بنی رائے عامہ کو بدل کر رکھ سکتا ہے۔

ماہر معاشیات تیمور کرن نے اپنی کتاب Private Truths, Public Lies میں ایک مشہور نظریہ پیش کیا ہے جسے تغلیط ترجیح Prefernce Falsification کی تھیوری کہا جاتا ہے۷؎ ۔ اس نظریہ کے مطابق جدید جمہوری معاشروں میں زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی اکثریت جو رائے ظاہر کرتی ہے وہ اُن کی حقیقی رائے نہیں ہوتی۔لوگ وہ رائے ظاہر کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ زیادہ سماجی طور پر قابل قبول ہے۔

کسی رائے کو سماجی طور پر قابل قبول بنانا ایک چھوٹی سی بااثر اقلیت کا کام ہوتا ہے۔ اگر ایک چھوٹی اقلیت اپنی رائے میں ثابت قدم اور بے لچک ہو تو بالآخر وہ رائے سماجی طورپر قابل قبول ہوجاتی ہے۔چونکہ اکثریت کی اپنی کوئی پائیدار رائے نہیں ہوتی اس لیے وہ اس اقلیتی رائے کواپنی رائے کے طور پر بیان کرنے لگتی ہے اور جیسا کہ اوپر تغلیط ترجیح کے نظریہ کے حوالے سے کہا گیا، اکثر صورتوں میں اکثریت کا یہ اظہار رائے، اس کے دل کی حقیقی آواز کے خلاف ہوتا ہے۔بعض سماجی سائنسدانوں نے ریاضی کے ترقی یافتہ ماڈلز کے ذریعہ اُس فارمولے کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے جس کے مطابق ایک چھوٹی سی اقلیت کی رائے پورے سماج کی رائے بن جاتی ہے۔ اس ریاضیاتی ماڈل کے مطابق کسی رائے پر استقامت کے ساتھ قائم لوگوں کی تعداد جب تک دس فیصد سے کم ہوتی ہے، وہ رائے اقلیتی رائے رہتی ہے۔جیسے ہی دس فیصد کی حد پار ہوتی ہے (یعنی کسی رائے پر قوت و استقامت کے ساتھ جمے رہنے والوں کی تعدادسماج کی مجموعی آبادی کے دس فیصد سے متجاوز ہوتی ہے) وہ رائے جنگل کی آگ کی طرح تیزی سے پورے سماج میں عام ہوجاتی ہے۔ ۸؎۔

رائے عامہ کو بنانے میں بااثر اقلیت کا elite اہم رول ہوتا ہے۔ انہیں رائے عامہ کے واسطے Agencies of Public Opinionکہا جاتا ہے۔ یہ درج ذیل افراد اور اداروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔۹؎

۱)  عوامی بحث کے ذریعہ رائے عامہ کو متأثر کرنے والے: ان میں مصنفین،محققین، شاعر، ادیب، صحافی، فلم ساز، گیت کار وغیرہ ہوتے ہیں جو آئیڈیا کو زبان عطا کرتے ہیں اور عوام تک پہنچاتے ہیں۔

۲) عمل کے ذریعہ رائے عامہ کو متأثر کرنے والے: یہ وہ باخبر اور سرگرم لوگ ہوتے ہیں جو سماج کی سیاسی اور سماجی زندگی میں فعال حصہ لیتے ہیں۔ اپنے اقدامات اور سرگرمی کے ذریعہ رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

۳)  رائے عامہ کو بیدا ر کرنے والے: یہ وہ جہد کار ہوتے ہیں جو اپنی مہمات، احتجاج، پر جوش تقریروں اور نعروں اور تحریکوں کے ذریعہ  رائے عامہ کو بیدار کرتے ہیں۔

رائے عامہ کو بنانے میں ان تینوں واسطوں کا اہم رول ہوتا ہے۔

اس موضوع کے ان تکنیکی پہلوئوں کو یہاں چھیڑنے کا مقصد یہ ہے کہ ان سے ہمارے ملک کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور اس سے اس صورت حال کو بدلنے کے طریق کار کے سلسلہ میں بھی رہنمائی ملتی ہے۔ہمارے ملک کی اکثریت آج بھی فرقہ پرست نہیں ہے لیکن ایک چھوٹی سی فرقہ پرست اقلیت کی پامردی اور جہد ِمسلسل نے ایسی عارضی صورت حال پیدا کردی ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد، اس اقلیت کے نقطہ نظر کے ساتھ خود کو وابستہ کرنے پر سماجی لحاظ سے مجبور ہوچکی ہے۔ اس صورت حال کو بدلنے کا فارمولہ بھی یہی ہے کہ اسلام کی ہم نوا اقلیت ، اسی ثبات و پامردی کے ساتھ اکثریتی نقطہ نظر کو متأثر کرے۔اس کے لیے ہم کو کیا کرنا ہوگا اور اپنے رویہ اور حکمت عملی میں کیا تبدیلیاں لانی ہوں گی، اس سلسلہ میںکچھ باتیں ذیل کی سطروں میں بیان کی جارہی ہیں اور اس موضوع کے کچھ اور پہلوئوں  پر اگلے شماروں میں مزید گفتگو ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

اسلام کے حق میں رائے عامہ کی تشکیل

مذکورہ بالا باتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم اسلام کے حق میں رائے عامہ بنانا چاہتے ہیں تو ملّی سرگرمیوں اور ملّی مزاج کے پورے پیراڈائم کو بدلنا ضروری ہے۔اقلیتو ں نے ہمیشہ اور ہر دور میں رائے عامہ کو متأثر کیا ہے، لیکن گھیتووں(عام آبادی سے الگ تھلگ ، اپنے میں آپ رہنے والا گروہ) Ghettosنے کبھی رائے عامہ پر اثر نہیں ڈالا ہے۔ اگر کچھ اثر ڈالا بھی ہے تو منفی اثر ڈالا ہے۔ اگر ہم ملک کی رائے عامہ کو متأثر نہیں کرپارہے ہیں تو اس کی وجہ ہمارا اقلیت ہونا نہیں ہے بلکہ ہمارا گھیتو ہونا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم بااثر اقلیت نہیں بن پائے ہیں۔ ان دونوں اسباب کے ازالے اور ملک کی رائے عامہ کی ہمواری میں اہم اور موثر رول ادا کرنے کے لیے ہماری حکمت عملی، اجتماعی مزاج اور سرگرمیوں میں درج ذیل تبدیلیاں مطلوب ہیں۔

پہلی ضرورت: سماج سے اپنائیت کا تعلق

ملک کی رائے عامہ پر اپنے نقطہ نظر کا اثر ڈالنے کے لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہمارا گہرا تعلق ملک کے عام سماج سے ہو۔ اس ضمن میں تشکیل رائے عامہ کے درج ذیل اصول خصوصیت سے قابل توجہ ہیں۔

۱۔شناسائی اور اعتماد کا اصول Principle of Familiarity and Trust: رائے عامہ کسی ایسے شخص یا گروہ کی رائے قبول نہیں کرتی جس پر اس کا اعتماد نہ ہو۔ آئیڈیا پیش کرنے والے سے واقفیت و شناسائی اور اس پر اعتماد، کسی آئیڈیا کے رائے عامہ بننے کی اہم شرط ہے۔۱۰؎

۲۔دلچسپی کا اصولPrinciple of Interest: لوگ اسی مسئلہ میں دلچسپی لیتے ہیں جن کے تعلق سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کا تعلق ان کی کسی خواہش، خوف،امید یا آرزو سے ہے۔۱۱؎

شناسائی کے اصول کا تقاضا ہے کہ ملک کے معاشرے سے ہمارا وہی تعلق ہو جو انبیاء علیہم السلام کا اپنی قوموں سے تھا۔ انبیاء علیہم السلام اپنی قوموں کے جانے پہچانے افراد تھے۔ قرآن مجید نے مختلف جلیل القدر انبیاء کے بارے میں صراحت سے کہا ہے کہ وہ اپنی مدعو قوم کا حصہ تھے۔   وَلَقَدْ  اَرْسَلْنَا  مُوْسٰی  بِاٰیٰتِنَآ  اَنْ  اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ  الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِلا وَذَکِّرْھُمْ  بِاَیّٰمِ اللّٰہ(ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر)(سورہ انبیاء ؛ آیت ۵ ،ترجمہ مولانا مودودیؒ)وہ اپنی قوم کی زبان میں بات کرتے تھے۔(وَمَا  اَرْسَلْنَا  مِنْ  رَّسُوْلٍ  اِلَّا  بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ (اور ہم نے ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ وہ انہیں صاف بتائے)(سورئہ انبیاء ؛ آیت ۴،ترجمہ مولانا مودودیؒ) قرآن نے بعض پیغمبروں کے سلسلہ میں’’قوم کے بھائی ‘‘ یا ’’ان کی برادری کا فرد‘‘کے الفاظ بھی استعمال کیے ہیں۔وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا  قَالَ ٰیقَوْمِ  اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (۷:۶۵)(اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑکو بھیجا اس نے کہا “اے برادران قو م، اللہ کی بندگی کرو، اْس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے )(سورہ اعراف؛ آیت ۶۵؛ ترجمہ مولانا مودودیؒ)قرآن نے انبیاء علیم السلام کے بارے میں متعدد جگہ یہ بات کہی ہے کہ وہ اپنی قوم کے خیرخواہ تھے۔اور ان کی خیر خواہی پر ان کی قوم کو اعتماد تھا۔اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنَا لَکُمْ نَاصِح’‘ اَمِیْن’‘(تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے)۔(سورہ اعراف؛ آیت ۶۸؛ ترجمہ مولانا مودودیؒ)

یہ سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا آج مسلمان اس ملک کے سماج سے اپنائیت کا یہ تعلق رکھتے ہیں؟ واقعہ یہ ہے کہ مختلف تاریخی وجوہ سے عملاً مسلمان، عام غیر مسلم سماج سے الگ تھلگ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان کے مسائل میں دلچسپی لینا اور ان سے خیر خواہی کا تعلق استوار کرنا تو دور، ان کے مسائل کا شعور بھی عام مسلمانوں کو کم ہی ہے۔ آج بھی ہمارے اکثر اہل فکر مسائل کو ’’ہمارے مسائل‘‘  اور ’’ان کے مسائل‘‘ میں تقسیم کرکے دیکھنے کے عادی رہے ہیں۔غیر مسلموں سے روز کے تعامل کے باوجود متنازعہ فیہ مسائل پر ایک غیر مسلم ذہن کو جانبداری سے اوپر اٹھ کر،سمجھنے کی کوشش بہت کم ہوئی ہے۔ اس صورت حال میں ہم ملک کی رائے عامہ کو متأثر نہیں کرسکتے۔ اس لیے کہ جیسا کہ عرض کیا گیا، کسی آئیڈیا کے قابل قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے عوام آئیڈیا پیش کرنے والے سے اپنائیت کا تعلق محسوس کریں۔ اس کے لیے ہماری امیج میں بڑی تبدیلیاں درکار ہیں۔ پہلی ضرورت ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی تفریق ختم کرنا ضروری ہے۔یہاں کی عام آبادی سے متعلق ہونے (Relateہونے) کا داعیہ اور سلیقہ ہمارے افراد میں بھی اور ہماری جماعتوں اور تنظیموں میں بھی پیدا ہونا ضروری ہے۔ یہ یقین پیدا کرنا ضروری ہے کہ ہم اس ملک کے تمام انسانوں کے خیر خواہ اور ان کے مسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اور عام مسلمان نہ سہی، اسلامی فکر کے حاملین کی دلچسپی ملکی سماج کے تمام حصوں سے ہے۔

دلچسپی کے اصول کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارا ڈسکورس صرف دفاعی نہ ہو بلکہ عصر حاضر کے ملک کے مسائل کے حوالہ سے ہو۔قرآن مجید نے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات پر جو روشنی ڈالی ہے اُن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کے اُن مسائل کو اپنے ڈسکورس کا حصہ بنایا ہے جو اُس قوم کے نمایاں مسائل تھے۔۱۲؎

قولی دعوت کے آغاز سے پہلے  مدعو قوم کے درمیان نبی کریم ﷺ کی یہ امیج بن چکی تھی کہ آپ اپنی قوم کے مسائل سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اُس کے خیر خواہ ہیں اور اُس کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اس کا ثبوت ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کا وہ مشہور بیان ہے جو انہوں نے آنحضرت ؐ  پر نبوت کے نزول کے فوری بعد آپؐ  کو تسلی دیتے ہوئے دیا تھاکہ”أَبْشِرْ، فَوَ اللَّہِ لَا یُخْزِیکَ اللَّہُ أَبَدًا، وَاللَّہِ إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَصْدُقُ الْحَدِیثَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِینُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ.”(بشارت ہو، قسم ہے اللہ کی کہ وہ ہرگز آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ آپ تو لوگو ں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں،لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں،ناداروں کی کفالت کرتے ہیں، مہمانوں کی خاطر داری فرماتے ہیں اور حقیقی مشکلات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔)۱۳؎

نبی کریم ﷺ کے زمانے میں آپ کے اولین مخاطب قریش تھے۔ چنانچہ قریش جن تاریخی حقائق سے واقف تھے، جوقصص ان کے قومی اساطیر یا لوک کتھائوں کی حیثیت رکھتے تھے، اور جن تاریخی واقعات کے نظائر ان کی آنکھوں کے سامنے بکھرے ہوئے تھے ،وہی قرآن کے استدلال اور ڈسکورس کی بنیاد بنے۔

اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا  فِی الْاَرْضِ  فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِھِمْ  کَانُوْاھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًافِی الْاَرْضِ فَاَخَذَھُمُ  اللّٰہُ  بِذُنُوْبِھِمْ  وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ  وَّاق(کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اْن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن زیادہ طاقت ور تھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور اْن کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔)(سورہ  غافر؛ آیت ۲۱؛ ترجمہ مولانا مودودیؒ)

اس کے علاوہ قریش جن باتوں کے دعویدار تھے (مثلاًسیدنا ابراہیم علیہ السلام سے نسبت اور ان کی اتباع کا دعوی) اُن باتوں پر بھی دلیل کی عمارت کھڑی کی گئی۔ بعد میں مدینہ ہجرت کے بعد جب اہل کتاب کو مخاطب کیا گیا تو ان کے معتقدات اور ان کے دعووں ہی کی بنیاد پر قرآن نے اپنی دعوت کے لیے دلائل فراہم کئے۔قُلْ ٰٓیاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ م بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّانَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَانُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًاوَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا  بَعْضًا  اَرْبَابًا  مِّنْ  دُوْنِ اللّٰہِ فان تَوَلَّوْا  فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا  مُسْلِمُوْنَ ٰٓیاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تُحَاجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰئۃُ وَالْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ م بَعْدِہٖ  اَفَلاَ تَعْقِلُوْن

(کہو، “اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے” اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی و اطاعت کرنے والے) ہیں۔اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تورات اور انجیل تو ابراہیم کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔)(سورہ آل عمران؛ آیت ۶۴،ترجمہ مولانا مودودیؒ)

رائے عامہ کو متأثر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس ملک کے عام سماج سے ہماری قربت بڑھے، اس کے مسائل میں ہم سرگرمی سے حصہ لیں، اس سماج سے ہماری گہری واقفیت ہو اوراس کی تاریخ، فلسفہ، مزاج، روایات وغیرہ کا ہمیں گہرا شعور ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو اپنے دینی و تہذیبی تشخص کے تحفظ کے لیے اپنی علٰحدہ ملّی شناخت کی بھی ضرورت ہے، لیکن اس شناخت کے تحفظ کے تقاضوں اور مدعو قوم سے سماجی قربت کے تقاضوں کے درمیان مناسب اعتدال کا راستہ ہمیں تلاش کرنا ہوگا۔

دوسری ضرورت : رائے عامہ کے واسطوں کی تشکیل

رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے لیے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ اہل اسلام کی ایک بڑی تعداد اسلام کی تعلیمات پر پوری استقامت کے ساتھ جم جائے اور اسلام کی داعی اور علمبردار بن جائے۔ برادران وطن کے درمیان سے بھی اسلام کو اعوان و انصار ملیں اور اسلام کے مختلف اصولوں کے حق میں، کم سے کم آبادی کا دس فیصد حصہ پر زور انداز میں اور اعتماد و یقین کے ساتھ اپنی رائے پیش کرنے کی پوزیشن میں آئے۔ مثلاً مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن کی ایک بڑی تعداد ، اس یقین کا اظہار کرنے لگے کہ اسلام کا خاندانی نظام ، عورت، مرد، خاندان اور معاشرے کے لیے باعث رحمت ہے یا یہ کہ سود اور قمار سے پاک اسلام کا مالیاتی نظام، معاشی ترقی اور ازالہ غربت کے لیے ناگزیر ہے۔ وغیرہ۔

اوپر جن اداروں یا افراد کی، رائے عامہ کے واسطوں Agencies of Public Opinionکی حیثیت سے تعیین کی گئی ہے، ان کی اہل اسلام کی صفوں میں موجودگی بھی ناگزیر ہے۔ یہ ضروری ہے کہ اسلام کی نمائندگی کرنے والوں کے درمیان اعلیٰ درجہ کے مصنفین، محققین اور کالم نگار ہوں، ادب اور فنون لطیفہ کے تخلیق کار اور فن کا ر ہوں۔ ملک کے عام مسائل میں بھر پور دلچسپی لینے والے اور ان کا حل فراہم کرنے والے افراد، ادارے اور تنظیمیں ہوں۔ملکی سماج کے ایشوز پر سرگرمی سے کام کرنے والے جہد کار ہوں جو ان ایشوز کے حوالہ سے رائے عامہ کو بیدار کرسکیں۔

تیسری ضرورت: بااثر طبقات پر توجہ

اسلام کے حق میں رائے عامہ کی تربیت کے لیے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ سماج کے بااثر طبقات پر توجہ مرکوز کی جائے اور بااثر طبقات کے درمیان جاری مباحثوں Elite Discourseمیں سرگرمی سے حصہ لیا جائے۔ اس وقت حالات کی وجہ سے اسلام عوامی مباحثہ کا موضوع بن گیا ہے اس لیے کسی آئیڈیا کے عوام میں مقبول ہونے کی پہلی شرط کہ عوام کی ایک بڑی تعداد اُس کو اہمیت دے اور اُس پر بات کرنے کے لیے تیار ہو، اسلام کے سلسلہ میں پوری ہوچکی ہے۔ اب یہ چیلنج باقی نہیں رہا کہ لوگ اسلام کے ایشو میں دلچسپی ہی نہیں لیتے۔ اب ضرورت اگلے مرحلے کی ہے کہ بااثر طبقات کی رائے اسلام کے حق میں مثبت بنے۔ اس مرحلے کے کئی تقاضے ہیں۔

پہلا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کے حق میں سنجیدہ علمی بحث کھڑی کی جائے۔ ’’جدید علم کلام ‘‘ کی ضرورت پر حالیہ چند برسوں میں بہت سے اہل علم نے لکھا ہے۔ دور جدید کے معروف علمی طریقہ ہائے کار Methods کو بنیاد بناکراسلام کے حق میں سنجیدہ مضامین اور کتابوں کی انگریزی ، ہندی اور علاقائی زبانوںمیں تصنیف اور اعلی و معیاری علمی مجلوں میں مضامین کی اشاعت اور اس بات کو یقینی بنانا کہ یہ مضامین یونیورسٹیوں اور اعلی علمی اداروں میں زیر بحث آجائیں، یہ امت مسلمہ کا آئندہ چند سالوں میں اہم ہدف ہونا چاہیے۔ اس کام کا اولین تقاضا یہ ہے کہ ہماری صفوں میں ایسے ذہین اہل علم ہوں جو اسلام کے ساتھ جدید سماجی علوم میں گہری بصیرت رکھتے ہوں ۔معاصر ذہن کو اچھی طرح سمجھتے ہوں اور عہد حاضر کے علمی اسلوب میں زمانہ کو مخاطب کرسکتے ہوں۔اس بات پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ذہین ترین افراد کی ایک قابل لحاظ تعداد اس کام کے لیے یکسو ہو اور امت اس کام کے لیے ان کو ضروری وسائل فراہم کرے۔ دائمی شریعت کا اسلامی تصور، اسلام میں عورت کا مقام اور اسلام کے عائلی قوانین، اسلام کے واحد حق ہونے کا اعتقاد اور غیر مسلموں کے بارے میں اسلام کے نظریات، تصور جہادوغیرہ یہ چند اہم موضوعات ہیں جو منفی رائے عامہ کی اصل بنیاد ہیں۔ ان سب موضوعات پر اعلی معیار کی علمی بحث کھڑی کرنے میں جب تک ہم کامیاب نہیں ہوتے، ہم رائے عامہ کو مثبت طور پر متأثر نہیں کرسکتے۔اس دفاعی بحث کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے زیادہ یہ ضروری ہے کہ دور حاضر کے سنگین مسائل کے حوالہ سے اسلامی معتقدات اور اسلامی اقدار و طرز زندگی کی ضرورت و معقولیت پر اعتماد و یقین کے ساتھ لیکن سنجیدہ علمی اسلوب میںجدید کلامی لٹریچر تیار ہو۔ اس وقت ہمارا ملک بہت سے مسائل سے دو چار ہے۔ ان مسائل کے مختلف حل پیش ہورہے ہیں۔اس بحث میں ہمیں حوصلہ اور اعتماد کے ساتھ حصہ لینا چاہیے۔ آٗئیڈیا ز کی تخلیق کے عمل میں بھرپور Contribution تعاون پیش کرنا چاہیے۔اگر اسلام کی روح اور شریعت اسلامی کے مزاج اور مقاصد کو ملحوظ رکھ کر ہم تخلیقی انداز سےcreativelyغور کریں تو ترقیاتی پالیسی، مالیاتی نظم، ماحولیات، تعلیم خاندان اور طرز زندگی کے حوالہ سے  بہت سے آئیڈیاز اہل اسلام پیش کر سکتے ہیں۔ یہ آئیڈیاز اسلام کے نام اور حوالہ کے ساتھ بھی پیش کئے جاسکتے ہیں اور اگر ضرورت متقاضی ہو تو نام کے بغیر بھی۔اس کے لیے فعال تھنک ٹینکز کا قیام اور ان کی جانب سے مستقل بلند پایہ تحقیقات کی اشاعت نیز، علمی محفلوں، سیمیناروں، پالیسی مباحث، حکومت کے مشاورتی اجلاسوں، ٹی وی کے مباحث اور اخباروں اور رسالوں کے کالموں میں بھرپور شمولیت ضروری ہے ۔

دوسرا تقاضا یہ ہے کہ میڈیا میں ہماری آواز مستحکم ہو۔ امت کے حلقوں میں میڈیا کی بات ایک عرصہ سے چل رہی ہے لیکن عام طور پر میڈیا کی بات صرف مسلمانوں کے مسائل کے حوالے سے ہوتی ہے۔ میڈیا کو اسلام کے حق میں اوپینین ڈسکورس کا ذریعہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اچھے کالم نگاروں کی ایک بڑی تعداد اس مقصد کے لیے تیار ہو۔

تیسراتقاضا یہ ہے کہ ملک کے بااثر طبقات کے ساتھ مسلمان اہل علم کی گفت و شنید اور تبادلہ خیال کی سنجیدہ فضا بنے۔اس کام پر مختلف وجوہ سے ابھی تک بہت کم توجہ ہوپائی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ کام مسلمانوں کی تمام جماعتوں، علماء اور اہل علم کے ایجنڈے میں نمایاں مقام حاصل کرے کہ سماج کے سر کردہ لوگ، صحافی، دانشوران، مذہبی قائدین، جہد کار، سماجی و سیاسی قائدین ، افسران ، نامور پروفیشنلز وغیرہ سے مسلسل ملاقاتیں ہوں اور انہیں اسلام سے متعارف کرایا جائے۔ انبیاء علیہم السلام کے اسوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی دعوت کا آغاز، سماج کے بااثر طبقات کو مخاطب کرنے سے کیا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ لکھتے ہیں:

”…حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے خود اپنے اْس خاندان کو دعوت دی جو قوم کی مذہبی پیشوائی کی مسند پر متمکن تھا۔ پھر اْس بادشاہ کو دعوت دی جس کے ہاتھوں میں سیاسی اقتدار کی باگ تھی اور جو اپنے آپ کو لوگوں کی زندگی اور موت کا مالک سمجھے ہوئے بیٹھا تھا … حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ سب سے پہلے فرعون کو مخاطب کریں …حضرت مسیح علیہ السلام نے سب سے پہلے علمائے یہود کو دعوت دی۔اِسی طرح حضرات نوح علیہ السلام، ہود علیہ السلام، شعیب علیہ السلام، سب کی دعوتیں قرآن مجید میں مذکور ہیں۔ اِن میں سے ہر نبی نے سب سے پہلے اپنے وقت کے ارباب اقتدار اور متکبرین کوجھنجھوڑا اور اْن کے افکار و نظریات پر ضرب لگائی۔سب سے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی اور آپ کو حکم ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔یہ لوگ عرب کی مذہبی اور پدرسرانہ (patriarchical) حکومت کے ارباب حل و عقد تھے اور اِس کے واسطہ سے سارے عرب کی اخلاقی اور سیاسی رہنمائی کر رہے تھے۔” ۱۴؎

چوتھی ضرورت : عملی نمونوں کا ظہور

رائے عامہ کی تشکیل کا ایک اہم اصول وہ ہے جسے عمل کا اصولPrinciple of Action کہا جاتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگ ایسے کسی آئیڈیا میں دلچسپی نہیں لیتے جو عمل اور عملی امور کے ساتھ وابستہ نہ ہو۔ لوگ اسی آئیڈیا پر بھروسہ کرتے ہیں جو آئیڈیا پیش کرنے والا خود کرکے دکھائے، یا لوگوں کو یقین ہو کہ وہ عنقریب اسے روبعمل لاسکتا ہے یا لوگ خود اس پرعمل کرکے اس کی سچائی کی جانچ کرسکتے ہیں۔ عمل کے واضح خاکے کے بغیر کسی آئیڈیا کو رائے عامہ قبول نہیں کرتی۔

عمل کے اصول کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی طرز زندگی اور اسلامی قدروں کے عملی نمونے کثرت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آتے رہیں۔یعنی مسلمان اپنے انفرادی و اجتماعی رویوں سے  اسلام کی بھی وضاحت کریں اور اس کا حق اور نفع بخش ہونا ثابت بھی کریں۔ داعیوں کے عمل اور داعی گروہ کے اجتماعی رویوں سے اسلام سمجھ میں آنے لگے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان صرف مسلمانوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عام ملکی سماج میں ایک فعال زندگی گزاریں، سماج کے مسائل میں اقدامی انداز میں حصہ لیں، اور اس شمولیت Engagement کے دوران اپنے اثرات چھوڑتے جائیں۔

مسلمان خاندانوں کے روابط برادرا ن وطن کے خاندانوں سے استوار ہوں اور اسلام کی عائلی تعلیمات کی برکتوں کے عملی مشاہدے کا انہیں موقع ملے۔ مساجد ، مدارس وغیرہ میں عام آبادی کو مدعو کرنے کا رجحان گزشتہ چند سالوں سے پیدا ہوا ہے۔ اس کو بہت زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی اصولوں کے مطابق منعقد ہونے والی نکاح کی تقاریب میں ، عید، رمضان المبارک وغیرہ کی سرگرمیوں میں ، حج وعمرہ کے تربیتی پروگراموں میں ، زکوۃ و فطرہ کی تقسیم کے عمل میں اور اس طرح کی دیگر مذہبی سرگرمیوں میں ، ان کو قریب آنے اور مشاہدہ کرنے کا موقع ملے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی اداروں سے اسلامی نظام زندگی کے نفع بخش پہلو نمایاں ہوکر اہل ملک کے سامنے آئیں۔ہمارے اسکول، ہاسپٹل، رفاہی ادارے اور تحریکیں اور ان کا اندرونی ماحول غیر اسلامی صحرامیں اسلام کے ایسے نخلستان بن سکتے ہیں جہاں کی ٹھنڈی ہوا ، سائے اور میٹھے پانی کی طرف  ہر پیاسا مسافر کشش محسوس کرسکے۔ ملک میں جہاں بھی اسلامی مائکرو فائنانس وغیرہ کے تجربات ہوئے ہیں ، ان کے بہت اچھے تاثرات سامنے آرہے ہیں۔ آئندہ اسلامی تکافل وغیرہ کی اسکیمیں بھی عام ہوجائیں تو اسلامی نظام مالیات و معاشیات کی عملی برکتیں نمایاں ہوسکیں گی۔

موجودہ دور میں میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کا بھی رائے عامہ کی تربیت میں بہت اہم رول ہے۔ اسی طرح واقعات Eventsاور حوادث Crisesبھی رائے عامہ کو تیزی سے ایک رخ دینے کا کام کرتے ہیں۔ ان موضوعات کو آئندہ کسی وقت زیر بحث لایا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔

حواشی و حوالہ جات

۱؎ ۔ مرکز جماعت اسلامی ہند(2017)؛ دستور جماعت اسلامی ہند؛مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز؛ نئی دہلی؛ دفعہ۵ شق ۳؛ ص۸

۲؎۔شعبہ تنظیم جماعت اسلامی ہند (1978) ، مقالات و مختصر روداد اجتماع بھوپال، ص 94

۳؎ ۔Kimball Young (1935) Social Psychology, an Analysis of Social Behavior; Crofts; California

رائے عامّہ کی بحث کے لیے  مزیددیکھئے۔ Zaller John R; (2003); The Nature and Origins of the Mass Opinion; Cambridge University Press; Cambridge UK

۴؎: Davison, W. P. (1958). The public opinion process. Public Opinion Quarterly, 22, 91–106; Glynn, C. J.

(2005). Public opinion as a social process. In Dunwoody, S., Becker, L.B., McLeod, D.M., & Kosicki, G.M. (Eds.) The evolution of key

mass communication concepts,139–163. Cresskill, NJ: Hampton Press.

۵؎Hajo G. Boomgaarden,  Claes H. de Vreese

International Journal of Public Opinion Research, Volume 19, Issue 3, Autumn 2007, Pages 354–366

۶؎Epilogue “The Question of Elite Domination on Public Opinion” in Zaller John R; (2003); The Nature and Origins of the Mass Opinion; Cambridge University Press; Cambridge UK

۷؎ Timur Kuran; (1997); Private Truths, Public Lies: The Social Consequences of process Falsification; Harvard University Press; pp 3-84

۸؎ اس ریاضیاتی ماڈل کے تفصیلی مطالعہ کے لیے دیکھئے

  1. Xie, S. Sreenivasan, G. Korniss, W. Zhang, C. Lim, and B. K. Szymanski;Socialconsensus through the influence of committed minorities; in Phys. Rev. E 84, 011130 – Published 22 July 2011

۹؎James Bryce; as quoted in Francis G. Wilson “James Bryce on Public Opinion: Fifty Years Later” in The Public Opinion Quarterly; Oxford University Press;

۱۰؎Earl Newsom; as quoted in Scott M. Cutlip and  Allen H. Center(1971) Effective Public Relations; Prentice Hall; pp 152.

۱۱؎ ایضاً

۱۲؎ قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی تفصیل متعدد جگہ آئی ہے۔ سورہ شعراء میں خاص طور پر اختصار کے ساتھ مختلف انبیاء کے اٹھائے ہوئے ایشوز کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ہودؑ نے قوم عاد کی مادہ پرستی اور بجا عمارت سازی کو (سورہ شعراء آیات ۱۲۸ تا ۱۳۰) حضرت صالح  نے قوم ثمود کے اسراف اور نام و نمود کو (سورہ شعراء آیات ۱۴۶ تا ۱۵۲) حضرت لوط ؑ نے اپنی قوم کی جنسی بے راہ روی کو اور حضرت شعیب ؑ نے مالی و تجارتی بدعنوانیوں کو ( (سورہ شعراء آیات ۱۸۱ تا ۱۸۳) ایشو بنایا تھا۔

۱۳؎  صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ روایت ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ، حدیث نمبر ۴۰۳

۱۴؎  امین احسن اصلاحی؛ دعوت دین اور اس کا طریقہ کار؛ ص ۴۹ تا ۵۲

ستمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau