انسانی وجود کے اسرار میں سب سے زیادہ گہرا راز اس کا ارادہ ہے۔ یہی ارادہ انسان کو کائنات کی دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتا ہے۔ حیوان جبلّت کے تابع ہوتا ہے اور فرشتہ اطاعت کا پابند، مگر انسان وہ مخلوق ہے جس کے اندر خواہش بھی ہے اور اختیار بھی۔ یہی اختیار اسے اخلاقی ذمہ داری کے دائرے میں داخل کرتا ہے۔ قرآن مجید نے اسی حقیقت کو ’’امانت‘‘ کے عنوان سے بیان کیا ہے: إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَینَ أَنْ یحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ۔ بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ ‘‘ (الاحزاب: 72)
یہ امانت دراصل اختیار اور ذمہ داری کی وہ مشترکہ صورت ہے جس نے انسان کو کائنات کے اخلاقی نظام میں مرکزی مقام عطا کیا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’امانت سے مراد وہی خلافت ہے جو قرآن مجید کی رو سے انسان کو زمین میں عطا کی گئی ہے۔‘‘
انسان کو یہ صلاحیت دی گئی ہے کہ وہ مختلف راستوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرے اور اپنے انتخاب کے نتائج کا سامنا کرے۔
انسانی شخصیت کے باطنی نظام کو سمجھنے کے لیے نفس، ارادہ اور اختیار کے تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔ نفس انسان کے اندر موجود خواہشات، رجحانات اور جبلّی محرکات کا مرکز ہے۔ ارادہ وہ داخلی قوت ہے جو ان خواہشات کے درمیان فیصلہ کرتی ہے۔ اختیار وہ صلاحیت ہے جو اس فیصلے کو عمل میں تبدیل کرتی ہے۔ یہ تینوں عناصر مل کر انسانی آزادی کی بنیاد بناتے ہیں۔
قرآن نے اس حقیقت کو بہت مختصر مگر بامعنی انداز میں بیان کیا ہے: وَهَدَینَاهُ النَّجْدَینِ ’’اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دیے۔‘‘ (البلد: 10)
یہ آیت انسانی اختیار کے بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے۔ انسان کے سامنے خیر اور شر دونوں راستے موجود ہیں۔ اسے عقل، شعور اور ارادہ عطا کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے راستے کا انتخاب کرے۔ یہی انتخاب اس کی شخصیت اور اس کے انجام کا تعین کرتا ہے۔
جدید نفسیات کے مطابق انسان کے اندر مختلف محرکات (drives) مسلسل سرگرم رہتے ہیں۔ ان محرکات کا ایک حصہ لاشعوری سطح پر کام کرتا ہے اور انسان کے رویے کو متاثر کرتا ہے۔ مگر انسان صرف محرکات کا غلام نہیں۔ اس کے اندر شعوری فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی موجود ہے جو اسے حیوانی جبلتوں سے بلند کرتی ہے۔
قرآن نے اس نفسیاتی حقیقت کو ’’ہویٰ‘‘ یعنی خواہش کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ جب انسان اپنے شعور کے بجائے اپنی خواہشات کے تابع ہو جاتا ہے تو وہ اپنی آزادی کھو دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: أَفَرَأَیتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ’’ کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا؟ ‘‘ (الجاثیہ: 23)
اس آیت کی تشریح میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں: ’’خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا بندہ بن کر رہ جائے۔ جس کام کو اس کا دل چاہے اسے کر گزرے، خواہ خدا نے اسے حرام کیا ہو اور جس کام کو اس کا دل نہ چاہے اسے نہ کرے، خواہ خدا نے اسے فرض کردیا ہو۔ جب آدمی اس طرح کسی کی اطاعت کرنے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا معبود خدا نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کی وہ اس طرح اطاعت کر رہا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ زبان سے اس کو اپنا اِلٰہ اور معبود کہتا ہو یا نہ کہتا ہو اور اس کا بت بنا کر اس کی پوجا کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ اس لیے کہ ایسی بے چوں چرا اطاعت ہی اس کے معبود بن جانے کے لیے کافی ہے اور اس عملی شرک کے بعد ایک آدمی صرف اس بنا پر شرک کے جرم سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے اپنے اس مطاع کو زبان سے معبود نہیں کہا ہے اور سجدہ اس کو نہیں کیا ہے۔ اس آیت کی اسی طرح کی تشریح دوسرے اکابر مفسرین نے بھی کی ہے۔ ابن جریر اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’اس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ جس چیز کی نفس نے خواہش کی اس کا ارتکاب کر گزرا۔ نہ اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حرام کیا، نہ اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال کیا۔ ’’ ابوبکر جصاص اس کے معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ وہ خواہش نفس کی اس طرح اطاعت کرتا ہے جیسے کوئی خدا کی اطاعت کرے‘‘۔ زمخشری اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ’’وہ خواہش نفس کا نہایت فرماں بردار ہے۔ جدھر اس کا نفس اسے بلاتا ہے اسی طرف وہ چلا جاتا ہے، گویا وہ اس کی بندگی اس طرح کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے خدا کی بندگی کرے۔‘‘ جب خواہش ارادے پر غالب آجائے تو انسان اپنی آزادی کھو بیٹھتا ہے اور خواہشات کی غلامی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اسلامی نفسیات میں نفس کے مختلف درجات بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن نے ان درجات کی طرف مختلف مقامات پر اشارہ کیا ہے۔ ایک وہ نفس ہے جو انسان کو برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ جسے نفس امارہ کہا جاتا ہے۔ ارشاد ہے: إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ ’’بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔ ’’ (یوسف: 53) یہ نفس انسانی شخصیت کا ابتدائی مرحلہ ہے جہاں خواہشات غالب ہوتی ہیں اور انسان اپنی جبلّتوں کے تابع ہوتا ہے۔
دوسرا درجہ نفسِ لوّامہ کا ہے، جس میں انسان کے اندر اخلاقی بےداری پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنی غلطیوں پر خود کو ملامت کرتا ہے اور اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ ’’اور میں ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں۔‘‘ (القیامہ: 2) یہ مرحلہ انسانی شعور کے بیدار ہونے کا مرحلہ ہے جہاں انسان اپنے اعمال کا جائزہ لینا شروع کرتا ہے۔
تیسرا درجہ نفسِ مطمئنہ کا ہے، جو روحانی سکون اور اخلاقی توازن کی حالت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: یا أَیتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ. ارْجِعِی إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِیةً مَرْضِیةً. ’’اے اطمینان پانے والے نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔‘‘ (الفجر: ۲۷-۲۸) یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کا ارادہ اخلاقی اور روحانی توازن حاصل کر لیتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے انسانی جدوجہد کو نفس کے ساتھ جدوجہد قرار دیا۔ اس تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی داخلی قوتوں کو نظم میں لائے اور اپنی خواہشات کو شعور کے تابع کرے۔
نفسیات میں اسی عمل کو self-control یا self-regulation کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان فوری خواہشات کو قابو میں رکھ کر اپنے طویل المدتی مقاصد کو ترجیح دے۔
جدید نیورو سائنس کے مطابق انسانی دماغ کا پری فرنٹل کارٹیکس وہ حصہ ہے جو فیصلہ سازی، ضبط اور اخلاقی سوچ سے تعلق رکھتا ہے۔ جب انسان مسلسل شعوری فیصلے کرتا ہے تو یہ حصہ زیادہ فعال ہوجاتا ہے اور انسان کی قوتِ ارادہ مضبوط ہو جاتی ہے۔
قرآن اسی حقیقت کو ایک متوازن اصول کے طور پر بیان کرتا ہے: لَا یكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ’’اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا۔‘‘ (البقرہ: ۲۸۶)
یہ آیت انسانی اختیار اور ذمہ داری کے درمیان توازن کو ظاہر کرتی ہے۔ انسان کو اتنی ہی ذمہ داری دی گئی ہے جتنی اس کے اندر برداشت اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
قرآن کے نزدیک ایمان بھی ایک شعوری انتخاب ہے۔ ایمان کسی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسان کے آزادانہ فیصلے کا اظہار ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّینِ ’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ (البقرہ: ۲۵۶) یہ آیت انسانی آزادی کے بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے۔ ایمان اس وقت معنی رکھتا ہے جب وہ شعور اور ارادے کے ساتھ اختیار کیا جائے۔
انسان کی آزادی کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کے اعمال کا نتیجہ اسی کے سامنے آئے گا۔ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَیهَا. ’’جس نے نیکی کی وہ اپنے ہی لیے ہے اور جس نے برائی کی اس کا وبال اسی پر ہے۔‘‘ (فصلت: 46) یہ اصول انسانی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔ آزادی اسی وقت بامعنی ہوتی ہے جب اس کے ساتھ جواب دہی بھی موجود ہو۔
انسانی ارادے کی اصل قوت نیت میں پوشیدہ ہے۔ نیت وہ داخلی سمت ہے جو انسان کے اعمال کو معنی دیتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
یہ حدیث انسانی ارادے کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک ہی عمل مختلف نیتوں کے باعث مختلف معنویتیں اختیار کرسکتا ہے۔
انسانی آزادی کا کمال یہ نہیں کہ وہ ہر خواہش کے پیچھے چل پڑے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو منضبط کرسکے۔ قرآن نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَىٰ. فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِی الْمَأْوَىٰ۔ ’’اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا تو اس کا ٹھکانا جنت ہے۔‘‘ (النازعات: 40–41)
یہ آیت انسانی آزادی کے اعلیٰ ترین تصور کو بیان کرتی ہے۔ حقیقی آزادی ضبطِ نفس کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ انسان جب اپنے ارادے کو اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے تو اس کی شخصیت میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ یہی استقامت انسان کو زندگی کے مختلف امتحانات میں ثابت قدم رکھتی ہے۔
قرآن اسی استقامت کو ایمان کا نتیجہ قرار دیتا ہے یثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَفِی الْآخِرَةِ. ’’اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔‘‘ (ابراہیم: 27) یہی استقامت انسانی شخصیت کی تکمیل ہے۔ جب نفس پاکیزہ ہو، ارادہ مضبوط ہو اور اختیار ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہو تو انسان اپنی فکری اور روحانی بلندی تک پہنچ جاتا ہے






