رسائل و مسائل

سر کی مہندی پر مسح

سوال:میں نے سر میں مہندی لگائی ہے، وہ سوکھ گئی ہے۔ اب نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ کیا اسی حالت میں سر پر مسح کرنے سے وضو ہو جائے گا، یا سر دھو کر مہندی ہٹانا اور اس کے بعد وضو کرنا ضروری ہے؟

جواب: سر پر مسح کرنا وضو کے فرائض میں سے ہے۔ حکمِ وضو کے سیاق میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ(المائدہ: 6)

’’اور اپنے سروں کا مسح کرو۔‘‘

مسح کا مطلب سر کے اوپر ہاتھ پھیرنا ہے۔ اس میں پانی کا بالوں کی جڑوں تک پہنچنا ضروری نہیں ہے، جیسا کہ غسل میں ہوتا ہے۔ اس بنا پر اگر سر میں مہندی لگائی گئی ہو اور وہ سوکھ گئی ہو تو اس پر مسح کرنے سے وضو ہو جائے گا، بشرطیکہ مہندی کی تہہ اتنی موٹی نہ ہو کہ وہ پانی کو بالوں تک پہنچنے سے بالکل روک دے۔

کیا لڑکے کے عقیقے میں دو بکرے ضروری ہیں؟

سوال:کہا جاتا ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کرنا ہو تو دو بکرے ذبح کیے جائیں۔ کیا یہ ضروری ہے؟ اگر ہاں، تو کیا یہ بھی جائز ہے کہ ایک بکرا لڑکے کے ددھیال میں اور دوسرا اس کے ننھیال میں ذبح کر دیا جائے؟

جواب: عقیقہ اصل میں لڑکے یا لڑکی کی ولادت پر خوشی کا اظہار ہے۔ حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کا عمل بھی ثابت ہے۔ آپؐ  نے اپنے نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی ولادت پر عقیقہ کیا تھا، اس لیے اسے مسنون قرار دیا گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ (ابو داؤد: 2834، ترمذی: 1516)

’’لڑکے کی طرف سے دو برابر بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا ذبح کیا جائے۔‘‘

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکے کے عقیقے میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقے میں ایک بکرا ذبح کیا جائے۔ اصل مقصود عقیقہ کرنا ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص لڑکے کے عقیقے میں ایک بکرا ہی ذبح کرے تو بھی سنت پر عمل ہو جائے گا۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ ایک ایک مینڈھے سے کیا تھا۔ (ابو داؤد: 2841)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے:

’’سنت یہ ہے کہ لڑکے کا عقیقہ دو بکروں سے اور لڑکی کا عقیقہ ایک بکرے سے کیا جائے۔ اگر کوئی شخص لڑکے کے عقیقے میں ایک بکرا ہی ذبح کرے تو بھی سنت پر عمل ہو جائے گا۔‘‘ (شرح المہذب: 8/409)

اگر کوئی شخص دو بکرے ذبح کر رہا ہے تو اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ انہیں الگ الگ مقامات یا الگ الگ دنوں میں ذبح کرے۔ دونوں کو ایک ہی وقت یا ایک ہی جگہ ذبح کرنا ضروری نہیں ہے۔

کیا طوافِ زیارت کی سعی پہلے کی جا سکتی ہے؟

سوال:کیا طوافِ زیارت والی سعی منیٰ جانے سے پہلے کی جا سکتی ہے؟ میرے سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا طوافِ زیارت والی سعی، طوافِ زیارت سے پہلے کی جا سکتی ہے؟

جواب:حج کے فرائض میں سے ایک طوافِ زیارت بھی ہے، اسے طوافِ افاضہ بھی کہا جاتا ہے۔ 9؍ذی الحجہ میں وقوفِ عرفہ کے بعد حجاج واپس آتے ہیں، رات میں مزدلفہ میں قیام کرتے ہیں، پھر 10 ؍ذی الحجہ کو منیٰ پہنچ کر رمی، قربانی اور حلق یا قصر کراتے ہیں۔ اب احرام کی پابندیاں ان سے ختم ہو جاتی ہیں، سوائے بیوی سے مباشرت کے۔ اس کے بعد طوافِ زیارت کے لیے مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔

اگر حاجی نے حجِ تمتع (یعنی الگ الگ احرام سے عمرہ اور حج دونوں) کی نیت کی ہو، تو طوافِ زیارت کے بعد سعی بھی کرنا ہوگی۔ اگر حجِ افراد یا حجِ قران ( یعنی ایک ہی احرام سے عمرہ اور حج دونوں) کی نیت کی تھی اور طوافِ قدوم کے بعد سعی کر چکا تھا، تو طوافِ زیارت کے بعد دوبارہ سعی کی ضرورت نہیں۔

عام حالات میں طوافِ زیارت کی سعی، طوافِ زیارت سے پہلے نہیں کی جا سکتی۔ حاجی پہلے طوافِ زیارت کرے، پھر سعی کرے، اس کے بعد منیٰ واپس جائے۔ البتہ اگر حاجی طوافِ زیارت تو کر لے لیکن سعی کیے بغیر منیٰ واپس چلا جائے، پھر بعد میں آکر سعی کرے، تو یہ جائز ہے، کیونکہ سعی کا وقت وسیع ہے۔ تاہم بلا ضرورت طواف اور سعی کے درمیان زیادہ وقفہ کرنا خلافِ اولیٰ ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

اپریل 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223