اسلام میں سماجی حقوق

محمد رضی الاسلام ندوی

ماہرینِ سماجیات نے خاندانی نظام میں رشتہ داروں کو بھی اہمیت دی ہے۔ خاندان کی ابتدا اگرچہ مرد اور عورت کے تعلق سے ہوتی ہے اور اولاد اس کے ارتقا کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اہل قرابت اس دائرہ کو وسعت دیتے ہیں۔ خاندان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ رشتہ داروں کے حقوق ادا کیے جائیں اور ان سے گہرا ربط رکھا جائے۔ رشتہ داروں کے حقوق کی پامالی سے خاندانی نظام تباہ ہوجاتا ہے اور بالآخر پورا سماج اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ سماج میں اجنبی اور عام افراد بھی رہتے ہیں۔ جس سماج میں لوگ اپنے خونی رشتوں کو نظر انداز کردیں ان سے کیوں کر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ وہاں رہنے بسنے والے عام افراد کا خیال رکھیں گے۔

رشتے داروں کے حقوق

اسلامی معاشرہ میں رشتہ داروں کو عزت اور عظمت کا مقام دیا گیا ہے۔ اور تفصیل سے ان کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ ان حقوق میں حسن سلوک، مالی تعاون، عزت و احترام اور عفو و درگزر خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ صلہ رحمی کو نیکی اور قطع رحمی کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک ان پراحسان نہیں ہے، بلکہ یہ فرض ہے، جس کی ادئیگی انسان پر لازم ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے اور ان سے حقوق ادا کرنے پر ابھارا گیا ہے۔

صلہ رحمی کی تلقین

اسلام نے خاندان کے استحکام کے لیے قوانین اور اخلاقی تعلیمات دونوں سے مدد لی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی بار بار تاکید کی ہے۔ ایک جگہ ا س  کا ارشاد ہے:

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ ( بنی اسرائیل:۲۶)

’’ رشتہ دار کو اس کا حق دو۔‘‘

قرآن میں رشتوں کا پاس و لحاظ رکھنے والوں کو ’اُولُوا الأ لبَاب‘( دانش مند) کہا گیا ہے۔ ان کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں ان میں یہ بھی ہے:

وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓئَ الْحِسَاب  (الرعد:۲۱)

’’ ان کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو بر قرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔‘‘

احا دیث نبوی میں بھی صلہ رحمی کی بہت تاکید کی گئی ہے اور قطع رحمی سے ڈرایا گیا ہے۔ام المومینن حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ   رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ رحم عرش کو پکڑے ہوئے ہے اور کہتا ہے: جو مجھے جوڑے اللہ اسے( اپنے سے) جوڑے اور جو مجھے کاٹ دے اللہ اسے (اپنے سے) کاٹ دے۔‘‘   ( بخاری:۵۹۸۹، مسلم:۲۵۵۵)

رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر والدین کے فوراً بعد رشتہ داروں کا تذکرہ آیا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۂ البقرہ میں ہے:

وَبِالْوَالِدَیْنِ         اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰی  (آیت: ۸۳)

’’اور والدین اور رشتے داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔‘‘

سورۂ نساء میں ہے:

وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلاَ  تُشْرِکُوْا بِہٖ شَئیاً وَّ بِالْوَالِدَینِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰی (آیت:۳۶)

’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو اور قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے اپنے متعدد ارشادات میں صلہ رحمی پر ابھارا ہے اور اس کی اہمیت واضح کی ہے۔

حضرت ابو ایوبؓ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجیے، جس سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ (بخاری: ۱۳۹۶، مسلم:۱۳)

حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ ‘‘   (بخاری:۵۹۸۶، مسلم:۲۵۵۷)

مالی تعاون کا حکم

رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک میں محض ان سے عقیدت و محبت کا اظہار، خوش خلقی سے پیش آنا اور زبانی ہم دردی کافی نہیں ہے، بلکہ وقت ِ ضرورت ان کا مالی تعاون کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں حقوق العباد کی ادائی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ سماج کے جو افراد غریب، مفلوک الحال اور پسماندہ ہوں ان کی خبر گیری کرنا، ان کی ضرورتیں پوری کرنا اور ان کا مالی تعاون کرنا مال دار مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے تعاون و خبر گیری کا آغاز رشتہ داروں سے کیا ہے۔ قرآن کریم میں بہ کثرت آیتیں ہیں، جن میں رشتہ داروں کی مالی امداد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ چند آیات درج ذیل ہیں:

وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی  (البقرۃ:۱۷۷)

’’[نیکی یہ ہے کہ آدمی] اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں ۔۔۔ پر خرچ کرے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَ اِیْتَـآیِٔ  ذِی الْقُرْبٰی (النحل:۹۰)

’’اللہ عدل اور احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے۔‘‘

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِط  (البقرۃ: ۲۱۵)

’’لوگ پوچھتے ہیں: ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔‘‘

اسلام میں صدقہ و خیرات کو تحسین کی نظر سے دیکھا گیا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے کسی غریب رشتے دار کو صدقہ دے تو اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ حضرت سلمان بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’کسی غریب کو صدقہ دینے کا ایک اجر ہے اور کسی رشتے دار کو صدقہ دینے کا دوہرا اجر ہے۔ ایک صدقہ دینے کا اور دوسرا رشتہ داری نبھانے کا۔‘‘   (ترمذی: ۶۵۸، نسائی: ۲۵۸۲، ابن ماجہ: ۱۸۴۴)

رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کے معاملے میں اسلام نے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا ہے۔ کسی شخص کے رشتے دار غیر مسلم ہوں تو وہ بھی اس کے حسن ِ سلوک کے مستحق ہیں۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیقؓ کی ماں مشرک تھیں۔ وہ ان سے ملنے کے لیے مدینہ آئیں۔ حضرت اسماء نے آں حضرت ﷺ سے دریافت کیا: کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں اور انھیں کچھ دے سکتی ہوں۔ آپؐ نے جواب دیا: ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔  (بخاری: ۵۹۷۸، مسلم:۱۰۰۳)

اسلام نے آدمی کو رشتہ داروں کے ساتھ ہر حال میں اچھا برتاؤ کرنے کی تلقین کی ہے، خواہ ان کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہ ہو اور وہ رشتہ کا پاس و لحاظ نہ رکھتے ہوں ۔ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو احسان کا بدلہ احسان سے دے، بلکہ دراصل صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے جس کے رشتے دار اس سے تعلق نہ رکھیں، لیکن وہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔  (بخاری:۵۹۹۱)

قطع رحمی کی مذمت

اسلام میں خونی رشتوں کو پامال کرنے سے سختی سے روکا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے:

وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَاء  لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا (النساء:۱)

’’اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو۔ اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔‘‘

اور جو لوگ رشتوں کی حرمت اور تقدس کو پامال کرتے ہیں انہیں یہ وعید سنائی گئی ہے:

وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ وَ لَھُمْ سُوْٓء   الدَّارِ              (الرعد:۲۵)

’’ رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جوان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت برا ٹھکانا ہے۔‘‘

احادیث میں بھی قطع رحمی کی مذمت کی گئی ہے اور اسے دنیا اور آخرت میں خسارہ کا موجب قرار دیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’رحم (رشتہ) رحمن سے مشتق ہے۔اللہ تعالیٰ نے رحم کو مخاطب کرکے فرمایا ہے: جو تجھ کو جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا میں اسے کاٹ دوں گا۔‘‘  (بخاری:۵۹۸۸، مسلم:۲۵۵۴)

حضرت ابوبکرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’کوئی گناہ ایسا نہیں کہ اللہ اس کا ارتکاب کرنے والے کو بہت جلد دنیا میں بھی سزا دے اور آخرت میں بھی اس کے عذاب کو جمع رکھے، مگر دوگناہ ہیں: ایک بغاوت اور دوسرے قطع رحمی۔‘‘  (ترمذی:۲۵۱۱، ابو داؤد:۴۹۰۲)

حضرت جبیر بن مطعمؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘  ( بخاری:۵۹۸۴، مسلم:۵۵۶ ۲)

ان احادیث سے بہ خوبی واضح ہوجاتا ہے کہ رشتہ داری کا لحاظ نہ کرنا اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنا اسلام کی نظر میں کتنا بڑا جرم ہے۔

پڑوسیوں کے حقوق

انسان اجتماعیت پسند واقع ہوا ہے۔ اسے زندگی بہتر طور پر گزارنے کے لیے قدم قدم پر دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ جہاں ماں باپ اور رشتہ داروں کے تعاون کا محتاج رہتا ہے وہیں پڑوسیوں کے ذریعے اس کی زندگی میں آسانی اور خوش گواری حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں پڑوسی کی اہمیت یوں بھی ہے کہ وہ انسان سے سب سے زیادہ قریب رہتا ہے۔ دکھ سکھ اور دوستی و دشمنی کے معاملات سب سے زیادہ اسی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ وقت پڑنے پر دوسروں سے پہلے وہی مدد کو آسکتا ہے۔ آدمی اسی کی محبت اور مدد پر بھروسہ کرکے بیوی بچوں کو تنہا چھوڑ کر گھر سے باہر جاسکتا ہے۔

ان اسباب سے رشتہ داروں کے بعد آدمی کا سب سے قریبی تعلق اس کے پڑوسیوں سے ہوتا ہے۔ اسلام نے پڑوسیوں کے حقوق پر زور دیا ہے اور ان کی ادائیگی کی  تاکید کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلاَ  تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ     (النساء:۳۶)

’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور پڑوسی رشتے دار سے، اجنبی ہم سایہ سے، پہلو کے ساتھی سے اور مسافر سے۔‘‘

اس آیت میں تین طرح کے پڑوسیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

(۱) الجار ذی القربیٰ: اس سے مراد وہ پڑوسی ہے جس سے رشتہ داری کا بھی تعلق ہو۔

(۲) الجار الجنب :اس سے مراد وہ پڑوسی ہے جس سے رشتہ داری کا تعلق نہ ہو۔

(۳) الصاحب بالجنب: اس سے مراد وہ شخص ہے جس سے وقتی اور عارضی طور پر کسی مجلس، کسی سواری یا کسی جگہ ساتھ ہوجائے۔ اسے بھی پڑوسی کی حیثیت دی گئی ہے۔

احادیث میں پڑوسیوں کے حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا درجہ رشتہ داروں کے قریب تک پہنچا دیا گیا ہے۔ ایک موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’مجھے جبرائیلؑ برابر پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت کا مستحق قرار دے دیں گے۔‘‘    (بخاری: ۶۰۱۴، مسلم: ۲۶۲۴)

خطبۂ حجۃ الوداع کے تاریخی موقع پر جہاں اللہ کے رسول ﷺ نے صحابۂ کرام کے سامنے دین کی اہم تعلیمات اور تقاضے بیان کیے وہیں پڑوسی کے حقوق ادا کرنے پر بھی زور دیا۔ آپؐ نے فرمایا:

’’میں تمھیں پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتا ہوں۔‘‘  (المعجم الکبیر للطبرانی:۷۵۲۳ )

اللہ کے رسول ﷺ نے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے اور اسے تکلیف نہ پہنچانے کو ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ فرمایا:

’’جو شخص اللہ اور روز ِ قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔‘‘   (بخاری:۶۰۱۸، مسلم:۴۷)

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کی مجلس میں ایک خاص انداز سے فرمایا: اللہ کی قسم، وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: کون، اے اللہ کے رسول؟ فرمایا :وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہو۔  (بخاری:۶۰۱۶)

ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کا پورا خیال رکھے۔ جو اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے پڑوسی کے لیے پسند کرے۔ اگر اس کا پڑوسی بھوکا ہو تو اسے کھانا کھلائے۔ اگروہ کسی چیز کا    ضرورت مند ہو تو اس کی ضرورت پوری کرے اور کسی بھی صورت میں اسے کوئی ذہنی یا جسمانی اذیت نہ پہنچائے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

’’وہ شخص مومن نہیں جو خود تو آسودہ ہو، مگر اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔‘‘  (الجامع الصغیر للسیوطی:۷۷۷۱)

ہم دردی اور آپسی محبت بڑھانے کا بہترین ذریعہ تحفوں کا لین دین ہے۔ اسلام کی تلقین یہ ہے کہ پڑوسیوں کو باہم تحفوں کا تبادلہ کرتے رہنا چاہیے، خواہ کوئی معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو اور جس کو تحفہ دیا جائے وہ اسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھے، بلکہ اپنے پڑوسی کے خلوص کی قدر کرے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے خاص طور پر عورتوں کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو کسی معمولی چیز کا تحفہ دینے میں حقارت محسوس نہ کرے، خواہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘   (بخاری:۶۰۱۷، مسلم:۱۰۳۰ )

حسن سلوک کی تخصیص صرف مسلم پڑوسی کے ساتھ ہی نہیں ہے، بلکہ غیر مسلم پڑوسی بھی اسی طرح اس کے مستحق ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے ایک دفعہ ایک بکری ذبح کی۔ ان کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا تھا۔ انھوں نے اسے بھی گوشت بھجوایا اور فرمایا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کرتے ہوئے پایا ہے۔  (ابو داؤد:۵۱۵۲)

ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے پڑوسی کے حقوق گناتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’اگر پڑوسی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، تم سے قرض مانگے تو اسے قرض دو، جب اسے کوئی چیز حاصل ہو تو اسے تہنیت پیش کرو۔ جب اس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو اس کی تعزیت کرو، بغیر اس کی اجازت کے اپنی عمارت اونچی نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے، اپنی ہانڈی کی خوشبو سے اسے تکلیف نہ پہنچاؤ، الاّ یہ کہ اس میں سے کچھ اسے دو، اگر کبھی پھل خریدو تو اسے بھی ہدیہ کرو اور اگر ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوتو گھر میں خاموشی سے لے جاؤ اور احتیاط کرو۔‘‘

(طبرانی)

عام انسانوں کے حقوق

اسلام کی نظر میں تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں، اس لیے وہ سب یکساں سلوک کے مستحق ہیں۔ ان کے درمیان کسی طرح کی تفریق اور بھید بھاؤ روا نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ تمام انسانوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آیا جائے اور عمدہ سلوک کیا جائے۔ قرآن مجید میں تورات کے بعض احکام نقل کیے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے:

وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا  (البقرۃ:۸۳)

’’اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔‘‘

اللہ کے رسول  ﷺ نے ایک دوسرے سے بغض و نفرت اور حسد کرنے سے منع فرمایا ہے اور باہم اخوت و محبت کے ساتھ رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ آپؐ  نے ارشاد فرمایا:

’’آپس میں ایک دوسرے سے بغض اور کینہ نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور نہ ایک دوسرے سے منہ پھیرو، بلکہ سب مل کر اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔‘‘   (بخاری: ۶۰۶۷، مسلم:۲۵۵۹)

اللہ کے رسول  ﷺ نے اپنے ارشادات میں لوگوں کے ساتھ رحم و کرم اور نرمی کا معاملہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ایک موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا:

’’تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘   (مستدرک حاکم)

حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

’’لوگوں کے ساتھ حسن ِ اخلاق سے پیش آؤ۔‘‘  (ترمذی:۱۹۸۷)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ  ﷺ نے پانچ باتوں کی تلقین فرمائی، جن میں سے ایک یہ تھی: ’’تم لوگوں کے لیے وہی چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو، جب ایسا کروگے تو مسلمان بن جاؤگے۔‘‘  (ترمذی:               ۲۳۰۵)

اس مضمون کی ایک حدیث مسند احمد میں مروی ہے کہ اللہ کے رسول  ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتاجب تک وہ دوسرے لوگوں کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتاہے۔  (مسند احمد،۳؍۲۷۲)

ان دونوں احادیث میں ’الناس‘ (لوگ) کا لفظ آیا ہے، جو عام ہے اور اس میں تمام انسان داخل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب تک تمام انسانوں کی بھلائی کا جذبہ دل میں پیدا نہیں ہوگا اس وقت تک آدمی حقیقی مسلمان نہیں ہوسکتا۔

مذکورہ بالا تعلیمات و ہدایات عام انسانوں سے متعلق تھیں، خواہ وہ مسلمان نہ ہوں، لیکن اگر وہ مسلمان ہوں تو قرآن و حدیث میں ان سے مزید مضبوط اور گہرا تعلق رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ  (الحجرات:۱۰)

’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘

اہل ایمان کو ایک دوسرے کے ساتھ رحم و کرم اور محبت و الفت کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ  (الفتح: ۲۹)

’’اہل ایمان آپس میں رحیم و شفیق ہیں۔‘‘

مسلمانوں کے باہمی تعلق کو رسول اللہ ﷺ نے ایک تمثیل کے ذریعے بہت عمدہ طریقے سے سمجھایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

’’مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے پر رحم کرنے، محبت کرنے اور شفقت کرنے میں تم ایک جسم کی طرح دیکھوگے کہ اگر اس کے ایک عضو میں بھی تکلیف ہو تو سارے اعضاء بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔‘‘            (بخاری:۶۰۱۱، مسلم:۲۵۸۶)

ایک دوسری تمثیل میں آپؐ  نے ارشاد فرمایا:

’’مسلمان باہم ایک دوسرے سے مل کر اس طرح مضبوط ہوتے ہیں جیسے دیوار کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘

یہ کہتے ہوئے آپؐ  نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا۔  (بخاری:۶۰۲۶، مسلم:۲۵۸۵)

ایک حدیث میں ہے کہ آپؐ  نے فرمایا:

’’جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی تکلیفوں میں سے کسی تکلیف کو دور کردے گا۔ اور جو شخص کسی تنگ دست پر آسانی کرے گااللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی کرے گا۔  اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ داری کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا پردہ رکھے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک وہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔‘‘     (ابو داؤد:۴۹۴۶)

مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

’’ہر مسلمان پر اس کے مسلمان بھائی کے پانچ حقوق ہیں: (۱) وہ سلام کرے تو اس کا جواب دے (۲) وہ چھینکے تو جواب میں کہے: اللہ تم پر رحم کرے (۳) وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے (۴) وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے (۵) اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہو۔‘‘  (بخاری:۱۴۲۰، مسلم:۲۱۶۲)

مسلمانوں کے باہمی حقوق کا تذکرہ احادیث ِ نبوی میں اتنی تفصیل سے کیا گیا ہے کہ یہاں ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ خلاصہ کے طور پر یہ حدیث پیش کرنی کافی ہوگی۔ آپؐ  نے فرمایا:

’’تم میں سے کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔‘‘  (بخاری:۱۳، مسلم:۴۵)

اس طرح اللہ کے رسول  ﷺ نے واضح فرمادیا کہ اہل ایمان کو آپس میں بہت گہرے تعلقات رکھنے چاہئیں۔

اکتوبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau