ماہِ رمضان: توجہ طلب امور

ذکی الرحمن غازی فلاحی

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون ﴿البقرہ:۱۸۳﴾

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیائ کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوے کی صفت پیدا ہوگی۔‘’

یہاں تین چیزیں قابل غور ہیں:

۱-  آیت میں ایمان والوں کو مخاطب کیاگیاہے جو اعزاز و تکریم کی بات ہے، لیکن ساتھ ساتھ اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ ایمان کی صفت سے متصف ہونے کالازمی تقاضا ہے کہ دیے گئے حکم کو خوش دلی سے قبول کیاجائے اور حتی الامکان اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی جائے۔

۲- ’’روزہ سابقہ تمام امتوں پر بھی فرض تھا‘’ بتانے سے اہلِ ایمان کو ترغیب دینا مقصود ہے۔ مشہور مفسر حضرت عبدالرحمن سعدیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

اس جملے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بتانا چاہتا ہے کہ روزہ ان دینی اوامر میں سے ہے، جو ابتدائے آفرینش سے ہی خلقِ خدا کی اصلاح و تربیت کے لیے ناگزیر رہے ہیں۔ نیز اس کے ذریعے امت مسلمہ میں دیگرامتوں کے بالمقابل نیک کاموں میں جذبۂ مسابقت کو ابھارا گیا ہے اور مزید اس بات کااشارہ ہے کہ فریضۂ صیام کی مشقت مخصوص تم پر ہی نہیں ڈالی گئی ہے۔ ﴿تیسیرالکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان، ص:۲۲۰﴾

۳-  روزے کا مقصد تقوے کا حصول ہے۔ مختصر الفاظ میں اللہ کے اوامر ونواہی کا لحاظ کرتے ہوئے مطلق خیر کا حصول تقویٰ کی روح ہے۔

خصوصیات وامتیازات

۱- روزے دار کے منہ کی بو اللہ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔

۲-  فرشتے تاوقتِ افطار روزے داروں کے لیے محوِ استغفار رہتے ہیں۔

۳- اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کی آرایش کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: عن قریب میرے نیک بندے اپنی مشقت و تکالیف چھوڑکر تیرے پاس آنے والے ہیں۔

۴-  شیطانوں کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں وہ عام دنوں کی طرح اثرانداز نہیں ہوپاتے۔

۵- اللہ تعالیٰ ماہ کی آخری شب تمام روزے داروں کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔

مذکور بالاپانچوں خصوصیات کا تذکرہ ایک حدیث میں آیاہے۔ اللہ کے رسول(ص)نے فرمایا:

أعطیت أمتی خمس خصال لم تعطہا أمۃ من قبلہم: خلوف فم الصائم أطیب عنداللہ من ریح المسک، و تستغفرلہم الملائکۃ حتیٰ یفطروا، ویزین اللہ عزٰ جل کل یوم جنتہ ثم یقول: یوشک عبادی الصالحون أیلقوا عنہم المؤنۃ والأذی ویصیروا الیک، وتصفدفیہ مردۃ الشیاطین فلاح یخلصوا الیٰ ماکانو یخلصون الیہ فی غیرہ، ویغفرلہم فی آخر لیلۃ، قیل: یا رسول اللہ أھی لیلۃ القدر؟ قال لا، ولکن العامل انما یوفّیٰ أجرہ اذا قضیٰ عملہ   ﴿مسند امام احمدؒ  ، ج:۲،ص:۲۹۲﴾

’’ماہِ رمضان میں میری امت کو پانچ انعامات سے نوازا گیا ہے اور یہ شرف کسی دوسری امت کو نصیب نہیں ہوا۔ روزے دار کے منہ کی بو ﴿خلف﴾ اللہ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے، فرشتے افطار کے وقت تک روزے داروں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کی آرایش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:عن قریب میرے نیک بندے اپنی مشقت و تکالیف چھوڑکر تیرے پاس آنے والے ہیں، سرکش شیطانوں کو بیڑیاں ڈال دی جاتی ہیں وہ باقی ایام کی طرح اثرانداز نہیں ہوپاتے اور اللہ تعالیٰ ماہ کی آخری شب تمام روزے داروں کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔ سوال کیاگیا: ’’کیا وہ آخری رات شب قدر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں، بل کہ اس لیے کہ مزدور کو اس کی اجرت کام ختم کرلینے پر ملتی ہے۔

۶-  جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:

اذا دخل شہر رمضان فتحت أبواب الجنۃ وغلّقت أبواب جہنم وسلسلت الشیاطین ﴿صحیح بخاری،:۱۸۹۹، صحیح مسلم:۱۰۷۹﴾

جب رمضان کامہینا آتاہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابجولاں کردیاجاتاہے۔

۷- ایمان و اخلاص کے ساتھ بہ نیتِ اجرو ثواب روزے رکھنے پراللہ تعالیٰ سابقہ گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔ آپﷺ کاارشاد ہے:

من صام رمضان ایماناً و احتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ ﴿صحیح بخاری، ۱۰۹۱، صحیح مسلمؒ  :۵۷۱﴾

’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اور اجرو ثواب کی نیت سے رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے گئے۔ ’’

۸- ایمان و اخلاص کے ساتھ بہ نیت اجرو ثواب عبادت و قیام لیل کرنے پر اللہ تعالیٰ سابقہ گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔ آپﷺ کاارشاد ہے:

من قام رمضان ایماناً واحتساباً غفرلہ ما تقدم من ذنبہ ﴿صحیح بخاری:۷۳، صحیح مسلم:۴۷۱﴾

’’جس نے رمضان میں ایمان اور اجرو ثواب کی نیت سے عبادت و قیامِ لیل کیا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے گئے۔‘’

۹-  اس ماہ میں دو راتیں ہیں جو ہزار مہینوں سے بہتر ہیں۔ وہ شبِ قدر یا لیلۃ القدر کے نام سے موسوم کی گئی ہیں۔ شبِ قدر کی فضیلت کی تفصیل میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے:

اِنَّآ أَنزَلْنَاہُ فِیْ لَیْْلَۃِ الْقَدْرِ oوَمَآ أَدْرَاکَ مَا لَیْْلَۃُ الْقَدْر oلَیْْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ oتَنَزَّلُ الْمَلَآئِکَۃُ وَالرُّوحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِم مِّن کُلِّ أَمْرٍ oسَلَامٌ ہِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ o              ﴿القدر:۱-۵﴾

’’ہم نے اس ﴿قرآن﴾ کو شبِ قدر میں نازل کیاہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیاہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک۔‘’

چنانچہ اس رات کاحصول اور اس میں عملِ صالح کی توفیق کوپالینا بڑی سعادت کی بات ہے۔ آپﷺ کاارشاد ہے:

من قام لیلۃ القدر ایماناً و احتساباً غفرلہ ما تقدم من ذنبہ ﴿صحیح بخاری:۱۰۹۱، صحیح مسلم:۵۷۱﴾

’’جس نے لیلۃ القدر میں ایمان اور اجرو ثواب کی نیت سے عبادت و قیامِ لیل کیا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے گئے۔‘’

۰۱- رمضان میں صدقہ کرنا افضل ترین ہے۔ ابنِ عباس(رض) کہتے ہیں:

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أجودالناس، و کان اجودمایکون فی رمضان حین یلقاہ جبریل، وکان یلقاہ فی کل لیلۃ من رمضان فیدارسہ القرآن، فلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجودبالخیر من الریح المرسلۃ ﴿صحیح بخاری:۶، صحیح مسلم:۰۵﴾

’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ فیاض تھے۔ اور آپﷺ کی سخاوت اس وقت اپنے نقطۂ عروج پر ہوتی تھی جب آپ رمضان میں حضرت جبریل(ع) سے ملاقات فرماتے تھے۔ آپﷺ کا رمضان میں معمول ہوتاتھا کہ آپﷺ روزانہ جبریل(ع) کے ساتھ قرآن کا مذاکرہ فرماتے۔ ان ایام میں آپﷺ کی جودوسخا بارش لانے والی ہوائوں کو مات دیتی تھی۔ ’’

۱۱- اس ماہ میں ایک عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے، حدیث شریف میں آیاہے:

عمرۃ فی رمضان تعدل حجٰ ﴿صحیح بخاری:۲۸۷۱﴾

’’رمضان کا عمرہ، حج کے برابر ہے۔‘’

دوسری روایت میں اس حج کے مانند بتایاگیاہے، جو خودآنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں ادا کیاگیا۔ ’’تعدل حجۃ معی‘’ ﴿سن ابی دائود:۰۹۹۱﴾

کارہاے مطلوبہ

۱- تمام عبادات و اعمال میں اخلاصِ نیت کااستحضار اور اس بات کی کوشش کہ روزے سے متعلق تمام فرائض اور سنتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل اتباع میں انجام دی جائیں۔

۲-  رمضان کے روزے اور عبادتیں پورے ارکان، واجبات اور سنتوں کے ساتھ ادا کرنے کااہتمام کرنا۔ ساتھ ہی روزے کو باطل یا اس کے اجرو ثواب کو کم کردینے والے اعمال مثلاً کذب بیانی، جھوٹی گواہی، غیبت اور لایعنی تضیعِ اوقات وغیرہ سے مکمل پرہیزکرنا۔

۳- فقرائ، مساکین اور ضرورت مند رشتے داروںپر خوب خوب خیرات وصدقات کرنا، اس میں دن رات، کھلے چھپے اور بتاکردینے کی قید نہیں۔ رب کریم کہتاہے:

الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُم بِاللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ سِرّاً وَعَلاَنِیَۃً فَلَہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ  ﴿البقرہ:۲۷۴﴾

’’جو لوگ اپنے مال شب و روز کھلے اورچھپے خرچ کرتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کامقام نہیں۔‘’

۴- کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت اور تدبر و تفکر کااہتمام کرنا اسلاف کا معمول رہا ہے۔ وہ رمضان کی آمد پر درس و تدریس سے فارغ ہوکر قرآن مجید کی تلاوت و تدبر میں منہمک ہوجاتے تھے۔

۵- توبہ و استغفار اور مسنون اور دعا واذکار کا بکثرت اہتمام کرنا۔

۶-  روزے داروں کو افطار کرانا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

من فطر صائماً کان لہ مثل اجرہ غیرانہ لاینقص من أجر الصائم شیاً ﴿مسنداحمد:۴۱،۶۱۱، سن ترمذی:۴۰۸، سنن ابن ماجہ:۴۶۷۱﴾

’’جو کسی روزے دار کو افطار کرائے تو اس کے لیے روزے دار کے برابر اجر ہے، لیکن روزے دار کے اجر میںاس سے کوئی کمی نہ ہوگی۔‘’

۷-  قرآن کی تلاوت وتدبر اور اذکار وتسبیحات کی خاطر زیادہ وقت مسجدوں میں گزارنا،

کان اذا صلّی الغداۃ جلس فی مصلاہ حتی تطلع الشمس  ﴿صحیح مسلم:۲۸۶﴾

’’آپﷺ کا معمول تھا کہ نمازِفجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک اپنی جگہ بیٹھے رہاکرتے۔‘’

حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

من صلی الفجر فی جماعۃ ثم قعدیذکراللہ حتی تطلع الشمس، ثم صلی رکعتین کانت لہ کأجر حجۃ وعمرۃ تامۃ تامۃ تامۃ  ﴿سنن ترمذی:۳۸۵ مع تحسین البانیؒ  ﴾

’’جو فجرکی نماز باجماعت اداکرے اور طلوع آفتاب تک اللہ کاذکر کرتا رہے پھر دو رکعت ﴿چاشت﴾ پڑھے تو اس کے لیے مکمل حج و عمرہ جیسا ثواب ہے۔آپ نے تین بارمکمل مکمل مکمل کہا۔‘‘

۸-  دعا و مناجات کااہتمام کرنا۔ معلوم رہے کہ روزے دار کی دعا ردنہیں ہوتی۔ اس لیے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے، اپنے والدین و اہلِ خانہ کے لیے اور تمام امت مسلمہ کے لیے کثرت سے دعائیں کرے۔

۹- ممکن ہوتو ضرور عمرہ اداکی سعادت حاصل کرتے۔ کیونکہ اس ماہ میں ایک عمرہ کاثواب حج کے برابر ہے۔ حدیث شریف میںآیاہے:

عمرۃ فی رمضان تعدل حجۃ ﴿صحیح بخاری:۱۷۸۲﴾

’’رمضان کاعمرہ حج کے برابر ہے۔‘’

دوسری روایت میں اسے اُس حج کے مانند بتایاگیاہے :

تعدل حجۃ معنی ﴿سنن ابی داؤد:۱۹۹۰﴾

’’جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں ادا کیاجائے۔‘’

۰۱-  اعتکاف کااہتمام کرنا۔ اعتکاف کامطلب ہے اللہ کی عبادت واطاعت کے لیے فارغ ہوکر مسجد میں گوشہ نشیں ہوجانا۔ حضرت ابوہریرہ(رض) بتاتے ہیں :

کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعتکف فی کل رمضان عشرۃ ایّام، فلما کان العام الذی قبض فیہ اعتکف عشرین یوماً   ﴿صحیح بخاری:۴۴۰۲﴾

’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے، لیکن جس سال آپﷺ کی وفات ہوئی آپﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔ ’’

 دعوتِ فکر وعمل

اس ماہِ مبارک سے متعلق آج مسلمانوں میں چار طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں:

﴿الف﴾ پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جن کو رمضان کے آنے، رکنے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بل کہ بسااوقات ان کواس کی آمد و رفت کاپتا بھی نہیں چلتا۔ سارے سال کی طرح رمضان میں بھی ان کا بے دینی و ترکِ عبادات کا رویہ رہتاہے۔

﴿ب﴾ دوسری قسم ان برساتی مینڈکوں کی ہوتی ہے جو رمضانی برکتوں کی پہلی بارش پر بہت بڑی تعداد میں رونما ہوجاتے ہیں اور بڑی شدومد کے ساتھ آوازیں بلند کرتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ابرِ رحمت میں تیزی آتی جاتی ہے اور فیوض و برکات کا سیلاب بہ نکلتاہے یہ خس و خاشاک کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو رمضان کی آمد پر نمازوں میں حاضری، تلاوتِ قرآن اور نیکیوں کا بڑا اہتمام کرتے ہیں، لیکن ہفتہ دس دن گزرے نہیں کہ سب چیزوں کو خیرباد کہہ کر اپنی سابقہ روش پر لوٹ گئے۔ یہ بڑی بدبختی، محرومی اور توفیقِ خداوندی سے دوری کی بات ہے۔

﴿ج﴾ تیسری قسم میں وہ لوگ آتے ہیں جو رمضان مبارک کے پورے عرصے میں مساجد کو آباد کرتے ہیں،ذکروتلاوت اور اعمالِ صالحہ کااہتمام بھی کرتے ہیں، لیکن ماہِ رمضان کے گزرتے ہی وہ سبک دوش ہوجاتے ہیں۔ ان میں بہت سے افراد کے مسلک کی رو سے عید کا دن ان تمام محرمات کے ارتکاب کادن ہے، جن سے ماہِ مبارک نے ان کو دور کردیاتھا۔ یہ قسم بھی بڑی حد تک پچھلی قسم سے مشابہ ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعائوں میں ہدایت کے بعد گمراہی سے پناہ مانگی ہے اور قرآن نے بھی یہی تعلیم دی ہے:

رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّابُ  ﴿آل عمران:۸﴾

’’وہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ :پروردگار! جب تو ہمیں سیدھے راستے پر لگاچکاہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلا نہ کردیجیو۔ ہمیں اپنے خزانہ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاضِ حقیقی ہے۔‘’

ایمان والوں سے یہی مطلوب ہے کہ وہ زندگی کے آخری سانس تک اپنے رب کی عبادات و فرماںبرداری کا شیوہ اپنائے رہیں۔

﴿د﴾ چوتھی قسم ان خوش نصیبوں کی ہے جو کیا رمضان اور کیا غیررمضان ، ہمیشہ اور ہرآن اپنے ربِ کریم کی طاعت و عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن اس ماہ میں ان کی قوت کار بھی کئی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت نیکیوں کے حصول میں ان کاجذبہ، تلاوت و تسبیح میں ان کا استغراق اور بابرکت مہینے کی ہرگھڑی سے ان کاپورا استفادہ قابلِ رشک تقلید ہے۔ نماز، زکات، صدقات، حسنِ سلوک، صلہ رحمی، تقسیمِ طعام الغرض خیر کے ہر دروازے پر یہ لوگ دستک دیتے ہیں اور رمضان کے گزرنے کے بعد بھی ان کی اس کیفیت میں کوئی اصولی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ ان قدسی صفت انسانوں کو یہ بات مستحضر رہتی ہے کہ دنیا امتحان گاہ ہے اور اس سے فراغت کا مرحلہ مابعد الموت ہے:

وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقِیْنُ ﴿الحجر:۹۹﴾

’’اور اس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کاآنا یقینی ہے۔‘’

آج ہمارے مشاہدے میں کتنے افراد ایسے ہیں جو باوجود شدید تمنائوں کے امراض اور دوسری موانع کی وجہ سے روزے نہیں رکھ پاتے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک ماہ کی ہر ساعت کے صحیح ودرست استعمال کی توفیق عطا فرمائے۔

اگست 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau