مولانا محمد فاروق خاں کے گہر پارے

ادارہ

عہد حاضر کے عظیم مفکر، مترجم و مفسر قرآن، نوع بہ نوع موضوعات پر سو کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف اور کئی نسلوں کے مربی مولانا محمد فاروق خاں ۲۸ جون ۲۰۲۳ کو اپنے مالک حقیقی کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔ مولانا مرحوم نے اپنی نوّے سالہ زندگی کا لمحہ لمحہ دین کی خدمت کرتے ہوئے گزارا۔ ہندی ترجمہ قرآن ان کا سب سے نمایاں کارنامہ ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے۔ مولانا کی کتاب کلام نبوت (سات جلدیں) احادیث کاشان دار مجموعہ ہے۔ احادیث کا انتخاب، ان کی ترتیب، ان کا دلنشین ترجمہ اور حکمت افروز تشریح، ‘ ‘اسلام مکمل نظام حیات ” کا بہترین خاکہ ہے۔اس کتاب سے کچھ بصیرت افزااقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔ (مدیر)

صحیح عقائد ونظریات ہی انسان کی عظمت کے ضامن ہوتے ہیں

صحیح عقائد و نظریات آدمی کو ہر طرح کی گم راہی اور ضلالت سے بچاتے اور اس کی سیرت و کردار کو عظیم طاقت بہم پہنچاتے ہیں۔ عقائد و نظریات ہی درحقیقت کسی شخصیت یا قوم کی عظمت کے ضامن ہوتے ہیں۔ عقائد اور نظریات اگر صحیح اور بلند ہیں تو یقینًا وہ کسی شخص یا قوم کو عظمت اور برتری عطا کر سکتے ہیں۔ اس کے برخلاف نظریات اور افکار کے لحاظ سے اگر کوئی قوم پست اور گم راہ ہے تو کوئی دوسری چیز اسے وہ مقام عزت عطا نہیں کر سکتی جو دنیا میں صرف بلند فکر اور صحیح عقائد ونظریات کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات نہ بھولنی چاہیے کہ صحیح سے صحیح تر اور بلند سے بلند تر نظریات بھی عمل کی دنیا میں بے معنی ثابت ہوتے ہیں، اگر ان نظریات کا حامل کوئی ایسا گروہ روئے زمین پر موجود نہ ہو جو ان نظریات کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر سکے اور ان کی اشاعت میں کسی بھی امکانی کوشش سے دریغ نہ کرے۔ عقائد و نظریات ہی کے ذریعے سے آدمی کے جذبات و احساسات میں توازن اور انضباط پیدا ہوتا ہے۔ سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے فکر و خیال اور اس کے جذبات و خواہشات میں ہم آہنگی پائی جاتی ہو۔ انسان اگر اپنے فکر و خیال اور جذبات و خواہشات میں وحدت قائم نہ کر سکا تو وہ اپنے وقتی جذبات و تاثرات کے ہاتھ محض ایک کھلونا ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے شخص سے کسی مستحکم سیرت و کردار کی توقع نہیں کی جاسکتی اور نہ ایسے افراد سے اس کی امید کی جاسکتی ہے کہ ان کے ذریعے سے کسی مستحکم تہذیب کو نشو و نمامل سکے گی۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص۴۸-۴۹)

علم انسان کے اخلاق وکردار کی اصل بنیاد ہے

انسانی زندگی میں علم کی بڑی اہمیت ہے۔ علم ہی در حقیقت انسان کے اخلاق وکردار کی اصل بنیاد ہے۔ انسان کی کام یابی کا انحصار اصل میں اس بات پر ہے کہ اسے حقیقت کا علم حاصل ہو جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کو ڈھال سکے۔ اگر اسے اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ اسے یہ زندگی کس نے عطا کی ہے اور اس زندگی کی اصل غرض و غایت کیا ہے تو وہ کبھی بھی زندگی کی صحیح راہ پر نہیں چل سکتا اور نہ اپنے خالق کی مرضی پوری کر سکتا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہوگی جیسے کوئی گہری تاریکی میں بھٹک رہا ہو اور اسے اس کی بالکل خبر نہ ہو کہ وہ کہاں ہے اور اسے کس طرف جانا چاہیے۔ ایک مومن اور کافر میں اصل فرق علم و عمل ہی کا ہے۔ اس فرق کی بنا پر ان کی زندگیوں میں اور ان کے انجام میں ایک عظیم فرق پایا جاتا ہے۔ مومن کو دنیا میں بھی حیات طیبہ حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں وہ خدا کی رضا اور اس کی دائمی جنت کا مستحق قرار پائے گا اور کافر کے حصہ میں صرف خدا کی ناراضی آئے گی اور ہمیشہ کے لیے اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص۵۱)

خدا کی طلب ہی ہمارے دین وایمان کی انتہا ہے

اسلام کی رو سے انسانی ذات کی صحیح تربیت ممکن ہی نہیں جب تک کہ انسان اپنی ذات اور اپنی سعی و جہد کا مقصد خدا کی رضا کو نہ قرار دے۔ خدا کی طلب اور اس کی محبت ہی ہمارے دین وایمان کی انتہا ہے۔ خدا کی اطاعت اور بندگی ہی وہ حقیقی زندگی ہے جس کی انسان کی فطرت جو یا ہوتی ہے۔ خدا کے دیے ہوئے احکام کی پیروی کسی مستبد قانون کی محکومیت اختیار کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ ایسے قانون کی پیروی ہے جو خود ہماری فطرت کا قانون ہے۔خدا کی اطاعت در حقیقت ایک ایسے حکمراں کی اطاعت ہے جس کا تخت حکومت خود ہمارا عمقِ قلب ہے۔ خدا کے انکار کے بعد نہ صرف یہ کہ دنیا اپنی محبوبیتوں سے یکسر خالی ہو جاتی ہے بلکہ انسانی زندگی سے اطمینان وسکون ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جاتے ہیں۔ زندگی، زندگی کی اعلیٰ قدروں سے محروم ہو جاتی ہے۔ کھانے پینے اور عیش کرنے کے سوا زندگی کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہتا۔ خدا کی دکھائی ہوئی راہ اور اس کی اطاعت اور بندگی میں ہی انسان کے لیے حقیقی زندگی ہے۔ اس کی کام یابی کی راہ اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی میں وہ طرز عمل اختیار کرے جس کی تعلیم خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے دی ہے۔(کلام نبوت، جلد اول، ص۷۲-۷۳)

دین کے اسرار

نماز ایک طرف خدا کی یاد اور اس کی پرستش ہے۔ دوسری طرف وہ ہماری اپنی عبدیت کا اقرار و اظہار ہے۔ نماز ہر روز کئی بار خدا کی یاد اور اس کے حاضر وناظر ہونے کا یقین تازہ کرتی اور ہمارے دل میں اس کی محبت پیدا کرتی ہے۔ نماز ہمیں یاد دلاتی رہتی ہے کہ ایک دن ہمیں خدا کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ خدا کی عدالت میں کام یاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی پوری زندگی خدا کی اطاعت میں بسر کرے۔

روزہ کے ذریعے سے ہمیں خواہشات نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے۔ پھر ہم خدا کی خوش نودی کے مقابلہ میں کسی چیز کوترجیح نہیں دے سکتے ہیں۔ خدا کے لیے ہم ہر چیز سے رُخ پھیر سکتے ہیں۔ اس کی خوشی کے لیے ہر لذت اور ہر آرام کو قربان کر سکتے ہیں۔ ہم میں فرض کا وہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ خدا کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتے۔

زکوة ہمیں خدا کے بندوں کے حقوق یاد دلاتی ہے۔ زکوة کے ذریعے سے دل سے مال کی محبت نکل جاتی ہے۔ ہمارا اخلاق بلند ہوتا ہے۔ ہمیں نفس کی پاکیزگی، کشادہ دلی اور اعلی ظرفی کی دولت حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کی روح صندوق اور تجوریوں میں بند ہو کر رہ جائے، اس سے بڑھ کر قید کی زندگی کیا ہو سکتی ہے۔ جس طرح چراغ اپنے کو اور اپنے ماحول کو روشن رکھنے کے لیے فیاضی کے ساتھ اپنا تیل خرچ کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح زکوة و انفاق کے ذریعے سے ایک طرف آدمی بندگان خدا اور سماج کے کام آتا ہے دوسری طرف وہ اپنی روح کو بالیدگی بخشتا اور اسے حقیقی آزادی اور مسرت سے ہم کنار کرتا ہے۔

حج ہمارے دل میں خدا کی عظمت اور اس کی محبت کا نقش بٹھاتا ہے۔ وہ ہمارے دل میں اسلام کی ایسی محبت پیدا کرتا ہے جو دائمی طور پر دل میں قائم رہنے والی ہے۔ حج ہمیں اس کے لیے تیار کرتا ہے کہ ہم اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنی ساری دوڑ دھوپ صرف کر دیں۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص۸۳)

خدا جذ بہ شوق و محبت کی اصل جائے پناہ ہے

اللہ کے وجود کو ماننا اور اسے ساری دنیا کا خالق و مالک، حاکم مطاع، فرماں روا اور معبود تسلیم کرنا زندگی کی کسی تلخ حقیقت کا اعتراف نہیں ہے، بلکہ یہ اقرار صحیح معنوں میں ہماری زندگی کو با معنی بناتا اور اسے کیف ولذت اور زندگی کی حقیقی لطافتوں اور رعنائیوں سے آشنا کرتا ہے۔ اہل ایمان سے مطالبہ کہ وہ خدا کو سب سے زیادہ محبوب رکھیں کوئی قاہرانہ مطالبہ ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا عظیم محبوبیت کا مالک اور جذ بہ شوق و محبت کی اصل جائے پناہ ہے۔ اس لیے دنیا کی دوسری تمام محبتیں اس کی محبت کی تابع ہونی چاہئیں نہ کہ اس سے آزاد۔(کلام نبوت، جلد اول، ص۱۲۸)

نفس کی پاکیزگی پر دنیا کی ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے

ایمان بالقدر سے آدمی کے فکر و نظر میں بڑی وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور اسے بے پناہ طاقت حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ قانع اور مستغنی ہو جاتا ہے۔ اس کا بھروسا اپنے رب پر ہوتا ہے۔ خدا پر بھروسا اس میں عزم و حوصلہ کی وہ قوت پیدا کر دیتا ہے جس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ سعی و جہد کے میدان سے نہیں بھا گتا۔ سعی و عمل کے ذریعے سے اسے اپنے رب کی مدد اور اس کے فضل کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ مایوس اور شکستہ دلی کا شکار نہیں ہوتا۔ ایمان باللہ اور ایمان بالقدر سے خود داری اور استغناکے ساتھ ساتھ اسے نفس کی وہ پاکیزگی حاصل ہوتی ہے جس پر دنیا کی ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے۔ حرص و ہوس اور رشک و حسد کے رکیک جذبات سے اس کا دل پاک ہو جاتا ہے۔ اسے اگر سب کچھ مل جائے تو مغرور نہیں ہوتا۔ اور اگر تنگی و مصائب کا سامنا کرنا پڑے تو وہ بے صبری اختیار نہیں کرتا۔ وہ خدا کا شاکر وصابر بندہ ہوتا ہے۔ خدا کی تحمید و تقدیس کو وہ اصل سرمایہ حیات سمجھتا ہے۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص۱۵۸)

پردہ داری سے مقصود انسان کی آزمائش ہے

رہا یہ سوال یہ کہ رسولوں کو پیغام رسانی کا ذریعہ کیوں بنایا گیا؟ جو خدا رسولوں کے ذریعے سے لوگوں کو اپنی مرضی سے آگاہ کر سکتا ہے وہ اس سلسلے میں براہ راست ہر انسان کی رہ نمائی کیوں نہیں کرتا؟ اس اشکال کی حقیقت انسان کی کوتاہ نظری ہے۔ کائنات کے موجودہ نظام اور ہدایت و رہ نمائی کے اس طریقے میں کہ خدا براہ راست ہر شخص کو اپنا مخاطب بنائے، کوئی مناسبت نہیں ہے۔ پردہ داری اس کائنات کا عام قانون ہے۔ کائنات کی ہر شے اپنے وجود و بقا اور نشو و نما کے لیے خدائی فیضان کی ہر لمحہ محتاج ہے۔ لیکن اس کے باوجود درمیان میں اسباب و علل کے اتنے پر دے ڈالے گئے ہیں کہ حقیقت کا براہ راست مشاہدہ کسی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ پردہ داری کے قانون سے انسان کو مستثنی کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں پردہ داری کے قانون کی ساری کارفرمائی بے معنی ہو جائے۔ اس لیے وحی ور سالت ہی ہدایت ورہ نمائی کا وہ ذریعہ ہے جو موجودہ نظام کا ئنات کے عین مطابق ہے۔ رسالت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے واسطے سے انسان کو زندگی کے واضح احکام بھی مل سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ پردہ داری کی شان بھی باقی رہ سکتی ہے۔ پوشیدگی اور پردہ داری سے مقصود دراصل انسان کے ضمیر و وجدان اور اس کے ارادہ و اختیار کی آزمائش ہے۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص۱۶۸)

قرآن مجید سرچشمہ حیات ہے

یہ کتاب آسمانی ہدایات کا آخری اور جدید ایڈیشن ہے جس میں قیامت تک کے لیے اور دنیا کے سارے انسانوں کے لیے ہدایت کا سامان موجود ہے۔ اس کتاب کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہدایت پانے اور خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے جن باتوں کی ضرورت تھی وہ سبھی باتیں اس میں بیان کر دی گئی ہیں۔ اس کتاب میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں جو پچھلی کتابوں اور صحیفوں میں الگ الگ تھیں۔ قرآن کو فکر و اعتقاد کی صحیح رہ نمائی اور عملی زندگی کے لیے مکمل ضابطہ حیات اور واجب الاتباع قانون کی حیثیت حاصل ہے۔ جس نے اس کتاب کو نظر انداز کر دیا اس نے اپنا رشتہ سر چشمہ حیات سے منقطع کر لیا۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص۲۴۶)

آخرت انسان کی فطری خواہش ہے

یہ انسان کی فطری خواہش ہے کہ اسے ایسی زندگی حاصل ہو جو کبھی ختم ہونے والی نہ ہو، جس میں ہر طرح کی راحت اور سامان عیش موجود ہو اور اسے کسی قسم کی تکلیف اور مصیبت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انسان ایک بہار کا خواب دیکھتا ہے جو خزاں نا آشنا ہو۔ انسان کی یہ آرزو موجودہ زندگی میں نہیں پوری ہو سکتی۔ یہاں کسی شخص کو ہمیشہ کی زندگی میسر نہیں ہے اور نہ اس کا موجودہ نظام کا ئنات میں کوئی امکان پایا جاتا ہے کہ کوئی ہمیشہ زندہ رہ سکے، پھر اس زندگی میں جہاں آرام ہے وہیں تکلیف بھی ہے، صحت کے ساتھ بیماری اور جوانی کے ساتھ بڑھاپے کی مصیبت بھی لگی ہوئی ہے، کسی بھی چیز کو یہاں ثبات حاصل نہیں ہے۔ انسان کی خواہشات اگر پوری ہوسکتی ہیں اور اس کے خوابوں کی اگر تعبیر ممکن ہے تو وہ کسی ایسی زندگی میں ممکن ہے جو اس کے بعد آنے والی ہو۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص۲۶۶-۲۶۷)

قابل قدر شے آدمی کا حسن خاتمہ ہے

معلوم ہوا کہ اصل اعتبار کی چیز آدمی کا انجام اور اس کا خاتمہ ہے۔ اگر کسی کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے تو قیامت کے دن وہ ایک مومن کی حیثیت سے اٹھے گا۔ اور اگر وہ کفر پر مرتا ہے تو وہ قیامت میں ایک کا فرہی کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا۔ آدمی کا آخری انجام ہی اس کی زندگی کا ماحصل ہوتا ہے۔ انسان ایک اخلاقی وجود رکھتا ہے۔ اس کی ایک شخصیت ہوتی ہے۔ شخصیت ہی کی تعمیر زندگی کی ساری تگ و دو کا حاصل ہوتا ہے۔ آدمی کیا ہے؟ اس کی پہچان اس سے نہیں ہوتی کہ وہ کتنی دولت کا مالک ہے بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ وہ خود کیا ہے۔ خدا کے یہاں اصل سوال اس بات کا ہوگا کہ بندے کے لیے اس کی اپنی شخصیت کی تعمیر کا جو موقع دنیا کی زندگی میں فراہم کیا گیا تھا اس سے اس نے کتنا فائدہ اٹھایا۔ وہ دنیا سے کیا بن کر واپس ہوا ہے۔ انسان کے بننے بگڑنے کے امکانات زندگی کے آخری لمحات تک باقی رہتے ہیں اس لیے اصل اعتبار خاتمہ کا ہے۔ اصل قابل قدر شے آدمی کا حسن خاتمہ ہے، اس کی ہمیں خاص طور سے خدا سے دعا کرتے رہنا چاہیے۔(کلام نبوت، جلد اول، ص۲۸۲)

ایمان کی طاقت ہر چیز کو زیر کرلیتی ہے

شخصیت اور کردار کے مالک تو وہی لوگ ہوتے ہیں جو کسی بلند مقصد کے لیے جینے اور اس کے لیے مرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ قلعوں کو فتح کر لینا اور دشمنوں کو شکست دینا آسان ہے لیکن خواہشات نفس کو زیر کرنا اور مستقل طور پر اپنے آپ کو ایک راہ پر لگا دینا بے حد مشکل کام ہے۔ لیکن یہ مشکل ان کے لیے آسان ہو جاتی ہے جو فکر بلند کے حامل اور کسی منزل کے جو یا ہوتے ہیں۔ ایمان کی طاقت ابھرتی ہے تو وہ ہر چیز کو زیر کرلیتی ہے۔ آدمی اگر اس مقام کو اپنے پیش نظر رکھے جو انسانی سعادت کا سب سے اونچا مقام ہے تو اس سے اس کے کردار میں طاقت اور اس کی سیرت میں پختگی آسکتی ہے۔ جب ہماری نگاہ منزل کے سوا دوسری طرف بہکی ہو اور ہمارا دل اصل مقصد کے علاوہ کہیں اور اٹکا ہوا ہو تو حق کی طرف ہمارا ایک قدم بھی اٹھنا مشکل ہے۔ منزل مقصود نگاہ میں ہو اور آدمی کو ایمان کی اصل کیفیت حاصل ہو تو وہ اس چیز کا آرزومند ہو جائے جس کی آرزو وہ کل مرنے کے بعد کرے گا۔ مومن کی نگاہ تو سطحی چیزوں پر نہیں لگتی۔ وہ ان چیزوں کی جو یا ہوتی ہے جو مستقل قدر کی حامل ہوں۔ (کلام نبوت، جلد اول، ص344)

خدا کا بندہ ہونا زندگی کا سب سے وجد انگیز پہلو ہے

انسان خدا کا بندہ ہے، یہ ایک نا قابل انکار حقیقت ہی نہیں بلکہ زندگی کا سب سے وجد انگیز پہلو بھی یہی ہے۔ اسلامی تہذیب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خدا پرستی کے جذبات کی پوری رعایت پائی جاتی ہے۔ جذ بہ عبودیت انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ اس جذبہ میں معلوم نہیں زندگی کے کتنے دل کش نعمات پنہاں ہیں۔ بندے اور خدا کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے جس پر دنیا کی تمام لطافتیں اور رعنائیاں شمار کی جاسکتی ہیں۔ انسان کے لیے مجد وشرف اور حقیقی کیف و انبساط کی چیز وہ تعلق اور نسبت ہے جو اس کے اور خدا کے درمیان پایا جاتا ہے۔(کلام نبوت، جلد دوم، ص۶۵)

شخصیت کا نقصان سب سے بڑا نقصان ہے

اسلامی نقطہ نظر سے دنیا میں سب سے بڑا نقصان مال و دولت اور جائداد کا نقصان نہیں بلکہ شخصیت کا نقصان ہے۔ کوئی اگر بڑے سے بڑا مادی فائدہ اپنی شخصیت کو مجروح کر کے حاصل کرتا ہے تو وہ گھاٹے کا سوداگر ہے۔ سب سے قیمتی شے آدمی کے پاس اس کی اپنی شخصیت ہی ہے۔ اس کو نقصان پہنچانے کے بعد وہ ننگ وجود ہو کر رہ جاتا ہے۔ شخصیت کو جہاں غلط عقائد و نظریات تباہ کرتے ہیں و ہیں ظلم وستم، چیرہ دستی، حرص وطمع، بے حیائی، بے وفائی اور بدکاری وغیرہ برے اعمال بھی آدمی کی شخصیت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ بہترین زندگی کی تعریف یہ ہے کہ آدمی صراط مستقیم پر گامزن ہو اور اس راہ کا مسافر ہو جو اسے خدا سے ملانے والی ہو اور جس کو اختیار کیے بغیر تکمیل حیات کا ہم تصور نہ کر سکیں۔(کلام نبوت، جلد دوم، ص۲۳۷)

شخصیت کی تعمیر کی طرف سے غفلت سنگین جرم ہے

آدمی کا اصل سرمایہ اس کی شخصیت ہی ہے۔ شخصیت کی تعمیر کی طرف سے غفلت سنگین جرم ہے۔ ایمان اور نیک اعمال آدمی کی شخصیت کو نکھارتے اور اسے عظمت سے ہم کنار کرتے ہیں۔ کوئی آدمی با وزن ہے یا بے وزن اس کا فیصلہ اس کے ذریعے سے ہوتا ہے کہ وہ کس شخصیت کا حامل ہے۔ ظاہری ڈیل ڈول کے لحاظ سے کوئی کتنا ہی بھاری بھر کم کیوں نہ ہو اگر وہ فکر و کردار کے لحاظ سے کوئی عظمت اور بڑائی حاصل نہ کر سکا تو پھر حقیقت کی نگاہ میں اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ (کلام نبوت، جلد دوم، ص۲۴۰)

تواضع و انکسار شخصیت کے لیے زینت ہے

عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے کسی کے قصور کو معاف کردینا کسی کم زوری کی دلیل ہرگز نہیں ہے۔ اس سے معاف کرنے والے کی عزت گھٹتی نہیں بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ تواضع و انکسار شخصیت کے لیے زینت ہے۔ اس سے آدمی کے اندر ایک حسن پیدا ہو جاتا ہے جو اپنے اندر حسن ظاہر سے کہیں زیادہ کشش رکھتا ہے۔ تواضع اختیار کرنے سے رتبہ گھٹتا نہیں بڑھتا ہے۔ اس کے برعکس کبر اور غرور کے سبب سے آدمی کی محبوبیت ختم ہو جاتی ہے۔ پھر کسی کو اس سے دل چسپی نہیں ہو سکتی۔ ایسا شخص لوگوں کی نگاہوں میں حد درجہ مبغوض اور قابل نفرت ہوتا ہے۔ اللہ کوکبرا تنا نا پسند ہے کہ متکبر شخص ایک نہ ایک دن ذلیل ہوکر رہتا ہے۔ تاریخ کے صفحات میں اس سلسلہ کی کتنی ہی داستانیں محفوظ ہیں جو ہماری عبرت کے لیے کافی ہیں۔ (کلام نبوت، جلد دوم، ص۲۳۹)

اگست 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau