قرآن حکیم کے غیر محدود ادبی محاسن

(ایک جائزہ)

بشیر احمد کشمیری

قرآن کریم اللہ کا آخری پیغام ہے جواس نے اپنے آخری نبیﷺ پربذریعہ حضرت جبرئیل نازل کیا ہے یہ اللہ کی جانب سے ایک آفاقی اور بیش قیمت ہدایت نامہ ہے قرآن پاک کا اسلوب اگر چہ خطابی ہے لیکن اس میں ہر طرز کے تخاطب پائے جاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کلام اپنے اندر مکمل ضابطہ حیات کے ساتھ ساتھ تمام علوم وفنون کے منبع بھی تصور کیاجاتاہے محققین کی رائے کے مطابق پورے قرآن کریم میں الحمد سے لیکر والناس تک کوئی بھی غیر فصیح لفظ پایا نہیں جاتا، بلکہ ہر لفظ اپنے مقام پرفصاحت وبلاغت کی ایک عمدہ مثال ہے اور ہر لفظ اپنی ترتیب کے اعتبار سے اسطرح موزوں ہے کہ اسکی تغیر وتبدل سے نہ صرف یہ کہ فصاحت وبلاغت متاثر ہوجائے بلکہ یہ ایک غیر ممکن اورعبث عمل ہوگا ۔

قرآن کی اتنی حیرت انگیز خوبیاں جن کا انکشاف پہلے سے ہوتاآرہاہے اور آگے بھی جاری رہے گا ہی اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ یہ کلام الہی ضرور اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوا ہے اوراسکے برحق ہونے میں کوئی شک کاشائبہ ہوہی نہیں سکتا ، یہ کلام انسانوں کی فلاح ونجات کا ایک واحد ذریعہ ہے  اول سے آخر تک نوع انسانی کے لئے سر چشمہ ہدایت ہے  اور یہ کلام حقائق کائنات اور سچی پیشین گوئیوں سےپردہ ہٹا کر ایک معجزہ کی حیثیت سےا بھر کر سامنے آتاہے ، جن میںرومیوں کی فتح ، فتح مکہ کی خبر، یہودیوں کی بزدلی تمنائے موت ، قرآن کی حفاظت اور بہت سارے علمی اورتاریخی حقائق کا انکشاف خاص طور سے قابل ذکر ہے چنانچہ یہ ایک چیلنج کے طور پربھی پیش کیا گیا قرآن پاک کا چیلنج ان  کے لئے ہے جو آزادی انتخاب کا حق رکھتے ہیں اوراپنی ذہنی استطاعت وتوفیق کے مطابق اچھے برے کی تمیز کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں :’’ قل لئن اجتمعت الانس والجن علی أن یأتوا بمثل ہذا القرآن لا یأتون بمثلہ ولو کان بعضہم لبعض ظہیرا،، (اسراء :۸۸) ترجمہ : کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسانوں اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لاناچاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گووہ آپس میںایک دوسرے کے مدد گار بھی بن جائیں قرآن کریم کی یہ للکار جو صدیوں سے زیادہ عرصے سے ہنوز باقی ہے یہاں تک کہ قرآن کی ایک سورہ لانے کی مجال انسانیت کی نہیں اسطرح انسانیت کی اس عدم صلاحیت اور محدود و معقولیت کانتیجہ بھی واضح کردیا گیاہے کہ :فان لم تفعلوا ولن تفعلوا  (البقرۃ ۲۴ ) یعنی اگر تم ایسا نہ کرسکو تو یاد رکھو کہ تم ہر گز نہیں کرو گے ۔

اور یہ عمل تمہارے بس کی بات نہیںتاریخی شواہد سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے بعد بڑے بڑے ادباء وشعراء کی زبانوں پرمہر لگ گئی جس کی ایک عمدہ مثال جاہلی دور کے شاعر معلقات لبید بن ربیعہ ہے جس کے شعروں پر اسکے معاصرین نے کئی بار سجدہ تہنیت اورخراج تحسین سے نوازا ، اور وہی شاعر قرآن پاک سے مسحور ہو کر شاعری ہی ترک دیتے ہیں اور اسلام قبول کرتے ہیںاپنے دور میں ملک الشعراء کہلانے والے اس شاعر سے بعد از قبول اسلام کے بعض شعراء طبع آزمائی پر زور بھی دیا تو لبید نے تعجب سے پوچھا ’’  ابعد القرآن ،، یعنی قرآن پاک کی فصاحت وبلاغت کے بعد میرے نزدیک کسی اور شاعرانہ کلام کی گنجائش اور ضرورت نہیں، قرآن کی فصاحت وبلاغت کا ایک عملی مظاہرہ سیرت نبوی ﷺ میںہمیں اس وقت دیکھنے کوملتاہے جب آپ ﷺ نخلہ کی وادی سے گذررہے تھے اور جنوں کی ایک ٹولی نے اللہ کے کلام کو سنا اور انکے زبان سے برجستہ یہ نکلا: إنا سمعنا قرآنا عجبا،غرض اس جیسے کئی شعراء اور عمائدین ادب قرآنی فصاحت وبلاغت کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے ، اور پھر قرآں کی تسلسل وروانگی بلکہ سریع الاثر آیات کی حلاوت کے سامنے ان کے یہاں قلم آزمائی کاکوئی امکان باقی نہ رہا۔

بہر صورت یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ قرآن پاک کی ہر سورہ بجائے خود نہایت حسین نظم ونسق اورفنی وادبی اعتبار سے ایک دلآویز اورنادر مجموعہ ہے ، درحقیقت قرآنی علوم کااصل مخزن الفاظ کی تشکیل آیتوں کی ترتیب اورسورتوں کا نظم ہے ، قرآن پاک کی یہی توفیقی ترتیب وترکیب انسانی عقل و ذہن کوجمال وکمال سے نوازتی ہے اور یہ بات تومسلم ہے کہ جس قدر وعلوم و فنون کی وسعت ہوتی ہے اسی قدر فہم قرآن کے دوران خرد و دانش کی وسعت پر قبضہ حاصل ہوتا، اس پرمولانا فراہی کاقول صادق آتاہے کہ نظم قرآن کے کئی ظاہری و باطنی پہلو ہی تعمق نظر اور وسعت علم کے متقاضی ہیں ، اور نظم قرآن کاعلم درحقیقت قرآنی ترکیب وترتیب کاعلم ہے ( تدبر القرآن ) جلد ۱/ ص : ۱۸۰)

قرآن کریم کے ادبی محاسن

ا ور پھر دوسری جانت قرآن پاک کے جملوں کے دروبست میںوہ شوکت ، سلامت اور شیر ینی ہے کہ اسکی کوئی نظیر ہی نہیں اسکی ایک مثال یو ں ہے کہ قاتل سے قصاص لینا اہل عرب میںبڑے فخر اور تعریف کاباعث تھی اور اسی چیز کی افادیت کوپیش کرنے کے لئے عربی زبان میںکئی ضرب المثل مشہور تھے مثلا : القتل احیاء للجمیع ،، (قتل اجتماعی زندگی ہے ) القتل القی للقتل ( قتل سے قتل کی روک مقام ہوتی ہے ) اور اکثرواالقتل لیقل القتل ( قتل زیادہ کرو تاکہ قتل کم ہو جائے ) اوران محاورات کواتنی مقبولیت حاصل تھی کہ یہ ہر آدمی کی زبان پرجاری تھے ، اور فصیح سمجھے جاتے تھے قرآن پاک نے بھی اس مفہوم کو ادا کیاہے لیکن کس لا جواب انداز سے ملاحظہ ہو : ولکم فی القصاص حیاۃ ،، اور تمہارے لئے قصاص میںزندگی ہے اس جملہ کی جامعیت اختصار سلامت شوکت معنویت کوجس بھی پہلو سے دیکھا جائے بلاغت کاایک واضح شاہکار معلوم ہوتاہے ۔اور پہلے مذکورہ تمام جملے اسکے آگے ہیچ اورسجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں قرآن پاک کامنفرداسلوب تمام شاہکاروں سے افضل اور جداگانہ ہے اس ضمن میںیہ بات قابل ذکر ہے کہ علماء بلاغت نے اسلوب کی تین قسمیں متعین کی ہیں ۱۔ خطابی ۲۔ ادبی  ۳۔ علمی ، اور ان تینوں کے مجالات مختلف ہیں اور ہر ایک کی خصوصیات جدااور مواقع مختلف ہیں اور پھر ایک عبقری کے لئے بھی ان تینوں اسالیب کوایک ہی عبارت میںسمانا غیر ممکن ہے ۔

کیونکہ ہماری تقریر کا انداز ہماری ادبی نثر سے مختلف ہوتاہے اور ایک علمی مقالہ کااسلوب بالکل جداہوتاہے لیکن قرآن حکیم کا اعجاز یہ ہے کہ وہ ان تینوں اسالیب کو ساتھ لئے ہے، اس میں زور خطابت علمی متانت اورادبی شگفتگی ساتھ ساتھ رہتی ہے اور کسی ایک میںکوئی کمی محسوس نہیںہوتی ، بہر حال قرآن ادب پیغام رسالت کے ابلاغ وترسیل کامکمل اوصاف وشفاف آئینہ ہے جسکی تعبیر میں اخلاقی تعمیر ہے ، نسل انسان کے ہر طبقہ کے لئے  بھر پور ہدایت کے ساتھ آسائش وآرائش کاسامان فرحت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اوربے شک یہ آسمانی ادب کابہترین اورمکمل شاہکار ہے اور یہ یقینا نثری وشعری اصناف میںوجدانی تصاویر کا ایک عالمی مر قع ہے قرآن پاک کے محاسن بیکراں اور غیر محیط ہونے کے علاوہ ممکن عرفان اسی کامنبع اور حقیقت شناسی کے مراکز ہیں اس مقدس اورنادر ادب میںشناسی وعقبی آرائی کے لعل وجواہر جابجا پائے جاتے ہیں جن میں قرآنی ادب ہی بلالحاظ رنگ و نسل انسانی عروج و ترقی کامشعل راہ بناہوا ہے یہی وہ واحد مستند ، باوثوق جامع اورمحفوظ دستاویز ہے جو نزول سے لے کر ہر دور میں تازہ اور ہمہ گیر دستور حیات بناہوا ہے ،قرآن حکیم وہ ابدی کتاب ہے جس کا مخاطب اللہ تعالی نے قیامت تک آنے والے ہر انسان کوبنایا ہے پس یہ کتاب کسی زمانے ، جگہ ،قوم یا طبقے کے ساتھ مخصوص نہیںہے بلکہ تمام انس وجن کی رہنمائی اور بھلائی اس کامقصود ہے قرآن سب کو مخاطب کرکے یہ دعوت دیتاہے جن میںانکے لئے دین ودنیا کی سعادتیں مضمر ہیں ۔اس کے بیان کردہ صحیح عقائد ، عبادات ، پرحکمت نظام حیات، بلند مرتبت احکام اخلاق عالیہ ہی کے ذریعے سے انکی زندگیاں درست اور شاہراہ مستقیم پرگامزن ہوسکتی ہیں ۔قرآن حکیم کانزول سارے عالم کے لئے ہوا ہے یہ کتاب وسنت کے نصوص اور اجماع امت کی رو سے ایک حقیقت ہے اورضمن میں وہ تمام آیات جو قرآن کی آفاقیت کی مظہر ہیں انکا احاطہ تویہاں ممکن نہیں لیکن قرآن کی عالمگیریت پر دلالت کرنے والی بعض آیات کی طرف اشارہ کرنا موزوں موگا: البقرۃ : ۱۸۵ ، النساء : ۱ ، ۷۹، ۱۷۰ ، ۱۷۴ ، الاعراف : ۵۸ذ، یونس : ۵۷، ۹۹ ، ۱۰۴ ، ۱۰۸،یوسف : ۱۰۴، بنی اسرائیل : ۸۹، ۹۴، ۱۰۵، ۱۰۶، الانبیاء : ۱۰۷ ، الحج : ۱، ۵، ۲۷ ، ۴۹، ۷۳ ، ص : ۸۷، القلم : ۵: التکویر : ۲۷ ، اور ایک قاری کے لئے یہ آیت ہی اسکی آفاقیت کے لئے کافی ہوجاتی ہے کہ :ان ہوالاذکر للعلمین ( الکتکویر : ۲۷ ) اس سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ قرآن تمام عالموں ( یعنی مخلوق تامہ ) کے لئے رہنمائی کے لئے آیا ہے ۔

قرآن اِلٰہی کلام ہے اسلئے انسانی ادب سے بہت بلند ترآسمانی ادب کا  شاہکار ہے فصاحت و بلاغت اور قواعد و محاورات کا خزینہ بیش بہا ہے موزوں ومناسب الفاظ اوراثر انگیز  آیتوں کا مسحور کن معجزہ طویل سورتین ہویا مختصر تمام آیات رشدوہدایت کی علمبردار ہیں ، قرآن کاادبی اعجاز عربی ادب کا بے مثال اعجازی کارنامہ ہے جس پرفصاحت وبلاغت کامعیار منحصر ہے ، بقول جاحظ ’’’ یہ قرآن بلاغت کے اس مرتبہ پرفائز ہے جس پربلاغت کے تمام قسموں کا احاطہ ہوجاتاہے  بالآخر یہ کہ یقیناً کلام الٰہی میں بلاغت وفصاحت سلامت ومتانت کا ادبی کمال ہے ، جسکی تحقیق تاروز قیامت جاری وساری رہے گی ۔

المراجع

۱۔ قرآن حکیم            ۲۔ تفہیم القرآن ، (مولانا سیدابو الاعلی مودودی )

۳۔ الاتقان فی علوم القرآن ، (علامہ جلال الدین السیوطی )

۴۔ علوم القرآن ، (صبحی صالح )     ۴۔ الاعجاز البیانی للقرآن ، (عائشۃ عبد الرحمن )

۵۔ البدائع فی علوم القرآن ، (ابن القیم الجوزیۃ )

۶۔ مفردات القرآن ، (الإمام عبد الحمیدالفراہی )

۷۔ قرآن حکیم کے معجزات ، (ڈاکٹر فضل کریم )

اگست 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau