قرآن حکیم اور فکر اقبال

(2)

ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی

آں کتابِ زندہ، قرآنِ حکیم

حکمتِ او لایزال است و قدیم

نسخۂ اسرارِ تکوینِ حیات

بے ثبات از قوتش گیرد ثبات

حرفِ او را ریب نے، تبدیل نے

آیہ اش شرمندۂ تاویل نے ۱۵؎

(ترجمہ) وہ کتابِ زندہ جسے قرآن حکیم کہتے ہیں ۔اس میں حکمت کی درج باتیں ہمیشہ رہنے والی اور پرانی ہیں ۔ وہ ( قرآن پاک) زندگی کے ہونے یا نہ ہونے کے بھیدوں کا نسخہ ہے۔ بے ثباّت بھی اس کی وجہ سے ثابت قدم ہو جاتا ہے۔اس کے حروف میں نہ کوئی شک ہے اور نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔اس کی آیاتِ بینات کی کوئی غلط تاویل نہیں ہو سکتی ہے۔حضرت عمر فاروق ؓ کے ایمان لانے کے تاریخی واقعہ کو علامہ اقبال اسی قرآنی تاثیر اور تعلیمات کا اعجاز قرار دیتے ہوئے یوں نغمہ سنج ہوتے ہیں     ؎

ز شام ما بروں آور سحر را

بہ قرآں باز خواں اہل نظر را

تو میدانی کہ سوزِ قرأتِ تو

دگر گوں کرد تقدیر عمرؓ را ۱۶؎

ترجمہ:۔ آپ ہماری شام سے صبح پیدا کر اور قرآن کی پُر کشش قرآت سے پھر کسی اہل نظر کو اس طرف لایعنی اے مسلمان خاتون ( کیونکہ یہاں خواتین اسلام سے علامہ خطاب کر رہیں ہیں) تو اپنی بلند کرداری سے ہمارے حالات کو سنوار اور اہل نظر کو قرآن کی طرف لا۔ تجھے تو علم ہے کہ تیری قرأت کے سوزنے حضرت عمرؓ کی تقدیر ہی بدل ڈالی۔ اس شعر میں اُس مشہور و معروف واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب حضرت عمرؓ اپنی بہن کے گھر اُس کے ایمان لانے کی وجہ سے مارنے کے لئے گئے تھے اور وہاں اُن دونوں میاں بیوی کی زبان مبارک سے قرآن پاک کی آواز سُنی تھی۔

علامہ اقبال کی نظر میں قرآن کوئی ایسی نظریاتی کتاب نہیں ہے جو انسان کی زندگی یا اس کائنات کی وسیع اور تہہ در تہہ پہنائیوں سے لاتعلق ہو، بلکہ قرآن رشد و ہدایت کے پورے نظام کو زندگی اور کائنات کے حوالے اور اُن کے تقاضوں سے ترتیب دیتا ہے۔ قرآنی تعلیم و ترتیب کے مطابق انسان اور کائنات کی تخلیق بغیر کسی مقصد کے عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ اس کائنات کا ہر ایک مظہر کسی نہ کسی پوشیدہ حقیقت کے اظہار کا نام ہے اور ان پوشیدہ مظاہر کے ظاہر ہوتے ہی اہل علم تفکر و تدبر کے بعد قرآنی الفاظ ہی کے مطابق پکار اُٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب! آپ نے اس کائنات کو عبث پیدا نہیں کیا۔ مظاہر کائنات اور شخصیتِ انسانی کے متعلق یہی مثبت اور اجتہادی نظریہ قرآنی اسپرٹ کی ایک بہترین توضیح ہے جو علامہ اپنے ایک انگریزی مقالہ میں یوں پیش کرتے ہیں :۔

ترجمہ: جس کائنات ِ ہستی سے ہم دو چار ہیں ، وہ قرآن کے الفاظ میں ’’باطل‘‘ نہیں یا غلط نہیں ہے بلکہ اس کی تخلیق کے پیچھے مصالح اور حکمتیں کار فرما ہیں ۔ اس سب کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس پر غلبہ پانے کے لئے اور اسے رکاوٹ کی حیثیت سے سر کرنے کے لئے ہمیں جو جدوجہد کرنا پڑتی ہے وہ ہماری بصیرت اور درون بینی کو تیز تر کرتی ہے اور مظاہر کی تہہ میں موجُود حقیقت تک رسائی کے لئے ہمیں تیار کرتی ہے۔

علامہ اقبال ملتِ مسلمہ کو اسی لئے آپس میں اُلجھنے کے بجائے روحِ قرآن تک پہنچنے کی ترغیب دیتے ہیں اور عصری تقاضوں کے مطابق قرآن کی طرف مجتہدانہ توجہ کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہیں ۔ آپ فقر قرآن اختیار کرنے نیز سادگی اور ایثار و غیرت پر مبنی معاشرہ کی تعمیر و تشکیل نو کے لئے انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے ملّت کو یہی پیغام دیتے ہیں     ؎

فقر قرآن احتساب ہست و بود

نَے رباب و مستٔی و رقص و سرود

فقر مومن چیست؟ تسخیر جہات

بندہ از تاثیر او مولا صفات

فقر کافر خلوت و دشت و دراست

فقر مومن لرزۂ بحرو بر است ۱۸؎

ترجمہ:۔ قرآن کا فقر ہست و بود احتساب(Accountability)کا نام ہے۔ یعنی کائنات اور اس میں جو کچھ موجود ہے ، اس کا حساب رکھنا ہے، اس کے اچھے بُرے کو پرکھنا ہے نہ کہ راگ اور رنگ میں مست ہونا ہے جیسا کہ آجکل مشاہدے میں آتا رہتا ہے۔مؤمن کا فقر کیا ہے ۔مومن کا فقر کائنات کو تسخیر کرنے کانام ہے۔ اس کو اپنے تصرف میں لانے کا نام ہے ۔ کائنات پر مومن چھا جاتا ہے۔ اسی فقر سے اللہ کے ایک بندے میں اُس کی صفاتِ عالیہ پیدا ہو سکتی ہیں ۔

جب کہ کافر کافقر بیابان اور گھر میں تنہا رہنے کا نام ہے۔ اس کے برعکس مومن کا فقر بحر و بر یعنی خشکی اور تری پر لرزہ طاری کرتا ہے یا تمام بحرو بر کو متحرک بناتا ہے ۔ عصری مقتضیات کی روشنی میں قرآن حکیم کی متذکرہ بالا مدّلل تشریح و توضیح انجام دینے کے باعث ہی معروف مبلّغ اسلام اور داعیٔ قرآن مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد علامہ اقبالؒ کو عہدِ حاضر میں اعجاز قرآن کا مظہر قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہیں :۔

’’میرے نزدیک عہد حاضر میں قرآن کے اعجاز کا سب سے بڑا مظہر علامہ اقبال کی شخصیت ہے۔ بیسویں صدی میں علامہ اقبال جیسا ایک شخص جس نے وقت کی اعلیٰ ترین سطح پر علم حاصل کیا، جس نے مشرق و مغرب کے فلسفے پڑھ لئے، جو قدیم اور جدید دونوں کا جامع تھا، جو جرمنی اور انگلستان میں جا کر فلسفہ پڑھتا رہا، اُس کو اس قرآن نے اس طرح Possess کیا اور اس پر   اس طرح چھاپ قائم کی کہ اُس کے ذہن کو سکون ملا تو صرف قرآنِ حکیم سے اور اس کی تشنگٔی علم کو آسودگی حاصل ہو سکی تو صرف کتاب اللہ سے گویا بقول خود اُن کے     ؎

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی

مرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفوِ بندہ نواز میں! ۱۹؎

یہ ایک حقیقت ہے کہ انھیں ابتداء سے لے کر آخرتک قرآن حکیم سے انتہائی شغف رہا۔ آپ کی تمام تصانیف اور مکتوبات اسی حقیقت کی دلالت کرتی ہیں ۔ اسی لئے انھوں نے ’’مثنوی اسرار و رموز‘‘ میں نبی کریم ﷺ سے مناجات کرتے ہوئے واشگاف انداز میں عرض کیا ہے     ؎

گر دلم آئینہ بے جوہر است

ور بحرفم غیر قرآں مضمر است

پردۂ ناموسِ فکرم چاک کن

ایں خیاباں را زِ خارم پاک کن!

روزِ محشر خوار و رسوا کن مرا!

بے نصیب از بوسۂ پاکن مرا! ۲۰؎

ترجمہ:۔  اگر میرے دل کی مثال اس آئینے کی سی ہے جس میں کوئی جو ہر ہی نہ ہو اور اگر میرے کلام میں قرآن کے سوا کسی اور شے کی ترجمانی ہے، تو اے نبی ﷺ ، آپ میرے ناموسِ فکر کا پردہ چاک فرما دیں اور اس چمن کو مجھ جیسے خار سے پاک کر دیں ۔ ( مزید برآں) حشر کے دن مجھے خوار و رسوا کر دیں اور  (سب سے بڑھ کر یہ کہ) مجھے اپنی قدم بوسی کی سعادت سے محروم فرمادیں ) علامہ کے نزدیک ملتِ مسلمہ کے زوال و اضمحلال کی بنیادی وجہ قرآنِ حکیم سے دُوری اور اس کی تعلیمات سے چشم پوشی ہے۔ اسی لئے آپ پُر شکوہ الفاظ اور حد درجہ درد انگیز لہجے میں ملتِ مسلمہ سے یوں گویا ہوئے ہیں     ؎

خوار از مہجوری قرآں شدی

شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی

اے چو شبنم بر زمین افتندۂ

در بغل داری کتابِ زندہ! ۲۱؎

ترجمہ: ( اے مسلمان! تیری ذلت اور رسوائی کا اصل سبب تو یہ ہے کہ تو قرآن سے دُور اور بے تعلق ہو گیا ہے، لیکن اپنی اس زبوں حالی پر الزام گردشِ زمانہ کو دے رہا ہے! اے وہ قوم کہ جو شبنم کے مانند زمین پر بکھری ہوئی ہے ( اور پاؤں تلے روندی جا رہی ہے ) ! اُٹھ کہ تیری بغل میں ایک کتاب زندہ موجود ہے ( جس کے ذریعے تو دوبارہ بامِ عروج پر پہنچ سکتی ہے) ۔ برصغیر کے معروف عالم دین اور روائع اقبال کے مصّنف مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے علامہ اقبال کی قرآنی بصیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک جگہ رقم کیا ہے کہ :۔ ’’اقبالؒ کی زندگی پر یہ عظیم کتابِ مقدس جس قدر اثر انداز ہوئی ہے، اتنا وہ کسی شخصیت سے متاثر ہوئے اور نہ ہی کسی کتاب نے ان پر ایسا اثر  ڈالا ہے ‘‘ ۲۲؎ڈاکٹر اسرار احمد اسی لئے علامہ اقبال کو عظمت قرآن کا نشان، واقفِ مرتبہ و مقامِ قرآن اور داعی الی القرآن کے خطابات دیتے  ہوئے کہتے ہیں :۔ ’’میں علامہ اقبال کو اس دور کا سب سے بڑا ترجمان القُران سمجھتا ہوں ۔ قرآن مجید کے علوم و معارف کی جو تعبیر علامہ اقبال نے کی ہے، اس دور میں کوئی دوسری شخصیت اس کے آس پاس بھی نہیں پہنچی ۔ اُن سے لوگوں نے چیزیں مستعارلی ہیں اور پھر ان کو بڑے پیمانے پر پھیلایا ہے۔ ان حضرات کی یہ خدمت اپنی جگہ قابل قدر ہے، لیکن فکری اعتبار سے وہ تمام چیزیں علامہ اقبال کے ذہن کی پیدا وار ہیں ‘‘۔   ۲۳؎

حواشی و حوالے

۱؎ یعنی قرآن حکیم کی ایک آیت کریمہ ہے ولا تنس نصیبکَ من الدّنیا‘

دنیا میں جو آپ کا حصّہ ہے اُسے مت بھولئیے۔ یہاں قرآن صریح طور پر دین و دنیا دونوں جہانوں کے لئے مومن کو تسخیر کرنے کے لئے ابھارتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کو اگر معقول طریق پر سمجھا اور نافذ کیا جائے تو ہر شہری کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں ۔ ان بنیادی ضروریات کی تعداد چھ ہے۔ یعنی کھانے کو روٹی تن ڈھانپنے کو کپڑا، سر چھپانے کو مکان، تعلیم ، روزگار اور طبی سہولیت۔ اسی لئے علامہ اقبال ۲۴ جون ۱۹۲۳ء؁ کے ’’زمیندار‘‘ اخبار میں اپنا ایک اہم خط یو ں شائع کراتے ہیں :۔

’’میرا عقیدہ ہے، اور یہ عقیدہ دلائل وبراہین پر مبنی ہے کہ انسانی جماعتوں کے اقتصادی امراض کا بہترین علاج قرآن نے تجویز کیا ہے  … مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اور روسی اشتراکیت دونوں افراط و تفریط کا نتیجہ ہیں ۔ اعتدال کی راہ وہی ہے جو قرآن ہمیں بتاتا ہے ۔

ہندوستان اور دیگر ممالک کے مسلمان جو یورپ کی پولیٹیکل اکانومی پڑھ کر مغربی خیالات سے فوراً متاثر ہوتے ہیں ، اُن کے لئے لازم ہے کہ اس زمانے میں قرآن کریم کی اقتصادی تعلیم پہ نظر غائر ڈالیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی تمام مشکلات کاحل اس کتاب میں پائیں گے‘‘۔ اسی طرح سے علامہ اقبال نے ۲۸ مئی ۱۹۳۷ء؁ کو علی محمد جناح مرحوم کو ایک خط میں یہ مخلصانہ مشورہ دیا کہ ’’مسلمانوں کو اسلام کے اقتصادی نظام کے ہوتے ہوئے اشتراکیت (Socialism)کی ضرورت نہیں ہے چنانچہ ہمیں اشتراکیت سے خائف نہیں ہونا چاہتے بلکہ قرآن حکیم سے غریبوں کے اقتصادی مسائل کا حل پیش کر کے اشتراکیت کا جواب با صواب دینا چاہتے‘‘۔

اس سے ظاہر ہے کہ اقبال اشتراکیت کو مسلمانوں کے لئے غیر ضروری سمجھتے تھے کیونکہ اس کے اچھے نکات اسلامی نظام میں پہلے ہی سے موجود ہیں جبکہ اس میں لادینیت اور مادیت کے جو عناصر ہیں انھیں مسلمان اقتصادی خوش حالی کے نام پر کبھی قبول نہیں کر سکتے۔

  1. S.M. Iqbal, “The Reconstruction of Religious Thought in Islam” Kitab Bhawan Delhi 9th Edition Reprinted 2005 PP6.

۳؎ کلیاتِ اقبال ( اردو) فرہنگ ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید یزدانی ۔ الحمراء پبلشنگ ہاوس اسلام آباد، پاکستان ۲۰۰۴ء؁ ، ص ۔۵۸۵

۴؎ القُرآن ، ( المومنون) (۲۱-۴۱)۵۔ یعنی سنرھیم آیاتنا فی الاٰفاق و فی انفسھم حتٰی یتّبین لھم انّہ الحق من ربھّم(القُراٰن، ح۔م۔السجدہ ۳۵)

۶؎ قال الرسول اللہ ﷺ فی شان قرآن الحکیم ’’جمع اللہ فی ھٰذالکتاب علم الاولین والاٰخرین وعلم ما کان وعلم مایکون او کما قال وقال ایضاً رسول اللہ ﷺ ’’فیہ نباء ماقبلکم و خبر مابعد کم و حکم ما بینکم و ھو حبل اللہ المیتن و ھو الذکرا لحکیم۔ وھو الصراط المستقیم لا تنقضی عجائبۃ ولا یشع منہ العلماء ولا یخلق عن کثرۃ الردی‘‘

جامع الاصول فی احادیث الرسولﷺ ۱۸ -۴۶۴

۷؎ ’’فالیوم ننجیٔک ببدنک لتکون لمن خلفک اٰیۃوان کثیراً من الناس عن آیٰیٰتنا لغٰفِلون ‘‘  القُرآن، ۶۳۱ سورۃ الیونس ۲۹)

۸؎ ۔ معروف پاکستانی دانشور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد کے سابق صدر مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی قرآن کی اسی معجز نمائی کے حوالے سے فرانسیسی سائنسدان ڈاکٹر موریس بکائی کی اس شہکار تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر بکائی نے اپنے قرآن کی حقانیت پر ایمان لانے سے متعلق اپنے تاثرات بذات خود اُن سے بیان کئے۔ نامور ہارٹ اسپیشلسٹ  اور فرانس کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر فرائض سر انجام دینے والے ڈاکٹر بکائی سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم کے ذاتی معالج تھے۔ انھیں وقتاً فوقتاً ریاض جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ سرکاری مہمان کے طور پر ریاض میں ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے۔ اُن کے کمرے میں انگریزی ترجمہ کے ساتھ قرآن مجید کا یک نسخہ پڑا تھا۔ شاہ سے ملاقات کا انتظار تھا۔ انھوں نے وقت گذاری کے لئے اس نسخہ قرانی کی ورق گردانی شروع کر دی۔ اس سے پہلے عام عیسائیوں کی طرح انھیں بھی قرآن کو پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس ورق گردانی کے دوران انھیں  محسوس ہوا کہ قرآن میں بعض بیانات سائنسی نوعیت کے بھی ہیں۔ ایک سائنسدان اور میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے ناطے انھیں یہ بیانات دلچسپ لگے۔ انھوں نے قرآن کو بار بار پڑھا اور ایسے بیانات نوٹ کر لیے ۔ انھیں خیال آیا کہ اگر ایسے ہی بعض بیانات بائبل میں بھی ہُوں اور سائنس کی روشنی میں قرآن اور بائبل کے بیانات کا تقابل کیا جائے تو ایک دلچسپ اسٹڈی سامنے آسکتی ہے۔ پیرس واپس جا کر انھوں نے بائبل سے بھی اس نوعیت کے بیانات نوٹ کر لیے۔ اب دونوں کا تقابلی مطالعہ شروع کیا۔ عیسائی ہونے کی بناء پر قرآن سے انھیں کسی نوع کی عقیدت نہ تھی ۔ معروضی مطالعہ کی روشنی میں وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ قرآن کے سائنسی نوعیت کے تمام بیانات سو فیصد درست جبکہ بائبل کے بہت سے بیانات غلط تھے۔ اُن کی یہ تحقیقی کاوش “The Bible, The Quran and Science”کے نام سے سامنے آئی، جس کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ قرآن کی حقانیت کے اس تجربی ثبوت نے ان کو اسلام کی صداقت کو ماننے پر آمادہ کیا اور بالآخر انھوں نے اسلام قبول کر لیا( محاضرات حدیث ، ص ۴۴۹- ۴۵۰، محاضرات قرآنی، ص ۴۳-۴۴)

ابتداء میں یہ کتاب ’’لابائیبل ،لے کوران اے لاسیانس‘‘(La Bible, Le Coran etla science)کے نام سے فرنسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ پھر مصنّف کتاب ’’موریس بوکائیے‘‘ اور ’’الاستیردی پانیل‘‘ نے مل کر اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا جس کی وجہ سے اس کی خوب اشاعت ہوئی۔ بکثرت لوگوں نے اس کو پڑھا اور پسند کیا۔ اس مقبولیت کو دیکھ کر ضرورت محسوس ہوئی کہ اس کا اردو میں بھی ترجمہ کر دیا جائے تاکہ خالص اردو دان طبقہ بھی مستفید ہو سکے۔

مذکورہ اُردو ترجمہ مولانا نور احمد صاحب مدیر الدعوۃ والارشاد مؤتمر العالم الاسلامی پاکستان کی تحریک پر ثناء الحق صدیقی نے کیاہے اور نیو کریسنٹ پبلشنگ کمپنی، دہلی نے اسے ۲۰۰۸ء؁ میں منظر عام پر لایا ہے ( م۔ ا۔ گ)

۹؎ صحیح بخاری، کتاب الجہاد، فتح الباری ۶/۸۰۲ میں اس حدیث مبارک کا متن یوں ہے:۔

’’ان اللہ یٔویدّ ھٰذا لدین بالرجل الفاجر‘‘ او کما قال

۱۰؎۔ کلیات اقبال ( فارسی) غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۷۶ء ؁، ص ۶۲۷۔

۱۱؎۔ ایضاً………ص۔۵۳۸                                       ۱۲؎۔ کلیات اقبال ( اردو)…… ص ۔ ۵۳۰

۱۳؎۔ S. M. Iqbal, “The Reconstruction of Religious Thought in Islam” Kitab Bhawn, New Delhi, 9th Reprinted Edition 2006.pp 8-9.

۱۴؎ ۔کلیات اقبال ( فارسی) پس چہ باید کرد، ص ۷۹-۸۷۸

۱۵؎۔  ایضاً… رموزِ بے خودی، ص۔ ۱۲۱                                 ۱۶؎۔ ایضاً… ارمغان حجاز ص۔ ۹۷۶

۱۷۔ “AStudy in iqbal’s Philosophy” Reprinted Sheikh Mohammad Ashraf Lahore Reprinted 1980. pp 240

۱۸؎ ۔ کلیات اقبال ( فارسی) پس چہ باید کرد ، ص۔ ۸۱۸

۱۹؎ ۔ ڈاکٹر اسرار احمد ’’عہد حاضر میں اعجاز قرآن ( مشمولہ) بیان القُرآن ( حصّہ اول)

تاج کمپنی دہلی ۲۰۱۰ء؁ئص ۱۲۵۔

۲۰؎ ۔ کلیات اقبال ( فارسی) رموز بے خودی، ص ۲۱۸،

۲۱؎۔ ایضاً ۔ ص ۳۰۰

۲۲؎۔ سید الوالحسن علی ندویؒ ’’نقوش اقبال مجلس تحقیقات و نشریات اسلام (مترجم) شمس تبریز خان لکھنو ۱۹۹۴ء؁ ص ،۶۱۔

۲۳؎۔ ڈاکٹر اسرار احمد ’’عہد حاضر میں اعجاز قرآن کا مظہر علامہ اقبال( مشمولہ) بیان القُران (حصّہ اول) تاج کمپنی ۲۰۱۰ء؁ ، ص ۱۲۶۔

ستمبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau