صنفی عدل (Gender Justice)

قاضی فرزانہ تبسم

واضح رہے کہ اللہ تعالی نے شوہرکو ایک درجہ فضیلت دے کرمعروف میں (اللہ کی نافرمانی میں نہیں) اس کی اطاعت واجب قرار دے دی حدیث میں تو کہا گیا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب عورت اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف گھر سے نکلتی ہے تو آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔ تاوقت کہ وہ واپس نہ ہو‘‘(کشف العمہ) مزید ارشاد فرمایا:’’اس عورت کی نماز اس کے سر سے اوپر نہیں اٹھتی جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرے۔ جب تک کہ نافرمانی سے باز نہ آجائے۔‘‘ (الترغیب و الترہیب)

باوجود ان احکام کے باطل تنظیموں کے نعرۂ مساوات مردوزن یا صنفی عدل  (Gender Justice)سے دھوکہ کھا کر یا متاثر ہوکر ہم بھی کہہ اٹھتے ہیں کہ مردوعورت ہر پہلو سے برابر ہیں۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تصور عورت کو شوہرکی اطاعت سے بھی آزاد کردیتاہے۔ جب سب ہر طرح  برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے پھر کیوں کوئی کسی کی اطاعت کرے۔ سب آزاد ہیں۔ اپنی مرضی کے مختار ہیں۔ پھر تو اس قاعدہ کلیہ کا اطلاق کہ ’’سب انسان برابر ہیں‘‘۔ ایک نبی اور عام آدمی پر بھی ہونا چاہیے۔ کیوں نبی کو عام آدمی پر فضیلت ہے؟ کیوں نبی کی اطاعت فرض ہے؟ کیوں ایک سربراہ کو عوام پراور والدین کواولاد پر فضیلت ہے؟کیوں ایک سربراہ کی عوام پر اور والدین کی اولاد پر (معروف میں) اطاعت فرض ہے۔ دراصل ’’سب انسان برابر ہیں‘‘ اس قاعدۂ کلیہ کامفہوم یہ ہے کہ اجروثواب اور عام انسانی حقوق کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔

مرد عورت پر قوام ہے اور اس کو ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔ اسی پر اسلام کے پورے عائلی قوانین کا ڈھانچہ بنایا گیا ہے ، جوخاندانی نظام قائم کرتے ہیں ۔ اگر اس قاعدہ کو مساوات مردوزن  (Gender Equaility)یا صنفی عدل (Gender Justice)وغیرہ ناموں سے بدل ڈالیں تو اسلام کے تمام عائلی قوانین و احکام کو بھی بدل ڈالنا ہوگا اور پھر ظاہر ہے خاندانی نظام بھی درہم برہم ہوجائے گا۔

عورت بیرون خانہ بھاری ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نیز اس کے حقوق و اختیارات

اسلام نے مردکو ایک درجہ فضیلت دی تو عورت کے بھی کافی حقوق مقرر کردیے اور عورتوں کو کئی بھاری ذمہ داریوں سے چھٹکارا دلایا۔ برعکس اس کے مردوں پر بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالدیا ۔ آخرت میں اس کی باز پرس بھی سخت ہوگی۔

یہ خداوندکریم کا احسان عظیم ہے کہ اس نے عورتوں کو کئی بھاری ذمہ داریوں سے سبکدوش رکھا۔ جماعت سے نماز کی ادائیگی ان پر لازم نہ رکھی۔ نہ جمعہ و عیدین کی نمازیں اس پر واجب کی۔ باہر کی تمام سیاسی ،سماجی عسکری خدمات سے اسے مستثنیٰ قرار دیا۔ حتی کہ معاشی تگ ودوسے بھی مکمل طور سے اسے سبکدوش رکھا۔ قرآن وسنت کی تعلیمات میں کہیں ایسا اشارہ تک نہیں ملتا کہ عورت کو کسی کا کفیل بنایا گیا۔ حتی کہ خود اس کا بھی نہیں۔ مالدار ہونے کی صورت میں بھی نہیں ۔ شادی سے پہلے باپ بھائی کو اس کا کفیل بنایا۔ شادی کے بعد شوہر پر اس کے نان ونفقہ کی ذمہ داری ڈالی اور بیوہ وطلاق یافتہ ہونے کی صورت میں بھی اس کے باپ بھائی ہی پر ان کی کفالت کی ذمہ داری ڈالی  اور ان کی کفالت کو بہترین صدقہ قرار دیا۔ نبی کریمﷺ کا ارشادہے:’’میں تمہیں بہترین صدقہ کیوں نہ بتادوں؟ تمہاری وہ بیٹی جو تمہارے پاس لوٹادی گئی اور تمہارے سوا کوئی اس کو کماکر کھلانے والا نہ ہو۔‘‘(ابن ماجہ ،جمع الفوائد)

اور اگر کسی عورت کے خاندان میں کوئی فرد بھی ایسا نہیں جو اس کی کفالت کرسکے تو حکومت پر اس کی ذمہ داری عائد کردی گئی کہ اس کی ضروریات پوری کی جائیں۔

باوجود اس کے اسے کئی بھاری ذمہ داریوں سے اسے مستثنیٰ رکھا۔ تاہم اس کے حقوق ومقام میں کسی قسم کی کمی نہ رکھی۔ ماں کی حیثیت سے اسے اعلیٰ مقا م عطا کیا اور ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی یعنی ماں کی اطاعت و خدمت کا صلہ جنت قرار دیا۔ بلکہ ان کی نافرمانی حرام کردی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہاً وَوَضَعَتْہُ کُرْہاً(الاحقاف:15)

’’ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے ، اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر ہی اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا۔‘‘

اسی طرح سورہ بنی اسرائیل اور سورہ لقمان میں بھی (والدین)خصوصاً ماں کے سلسلے میں ہدایات دی گئیں۔ ارشاد رسولؐ ہے:’’اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی اور حق تلفی حرام کردی‘‘(بخاری،کتاب الادب)

مزید ارشاد فرمایا:’’ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ مجھ پر حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ فرمایا:تیری ماں کا، تین بار پوچھنے پر بھی آپ ؐ نے ماں کا ہی نام لیا۔ اس کے چوتھی بار پوچھنے پر کہ پھر کون؟ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: تیرا باپ۔ (بخاری ،کتاب الادب)

بیوی کے روپ میں بھی عورت کو شوہر کے لیے سکون کا موجوب بنایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً(الروم:21)’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے لیے تمہارے درمیان محبت و رحمت پیداکردی۔‘‘اللہ کے رسول ﷺ کا ارشادہے:’’دنیا کی نعمتوں میں کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں ہے۔‘‘(ابن ماجہ،کتاب النکاح)

اسلام نے عورتوں کو اپنے شوہر وں کے گھر کی نگراں اور بچوں کی ذمہ دار قرار دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کی نگراں ہے۔ ان سے متعلق اس سے باز پرس ہوگی‘‘۔(ریاض الصالحین)بیوی کے سلسلے میں شوہروں کو ان کے ساتھ خوش خلقی ،پیار و محبت سے پیش آنے ،ان کی اچھی نگہبانی کرنے اور ان کی ضرورتوں کو فراخ دلی سے پورا کرنے کی بار بار تاکید کی ارشاد رسول ہے’’جب تو کھائے تو اسے کھلائے ،جب تو پہنے تو اسے پہنائے اور اس کے چہرے پر نہ مارے اور  اس کو بددعا کے الفاظ نہ کہے،اور اگر اس سے ترک تعلق کرے تو صرف گھر میں کرے۔‘‘(ابوداؤد، حکیم بن معاویہ)مزید ارشاد فرمایا:’’ایمان والوں میں سب سے کامل وہ ہے جو اپنے اخلاق میں سب سے اچھے ہیں اور تم میں سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے اچھے ہیں ۔ (ترمذی) آپؐنے یہ بھی فرمایا: کوئی مومن کسی مومنہ (بیوی) سے نفرت نہ کرے اگر اس کی ایک عادت تمہیں پسند نہ ہوتو دوسری پسند آجائے‘‘(مسلم ،کتاب الرضاع)

اس طرح شوہروں کو باربار تلقین کی جاتی رہی کہ بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ غلطیوں پر عفوودرگزر سے کام لیں۔ ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کریں اور ایک سے زائد بیویوں کی موجودگی میں ہر ایک کے ساتھ برابر کا سلوک کریں اور اگر ایسا نہ کرسکیں تو صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا کریں اور بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنے کی صورت میں عذاب آخرت سے دوچار ہونے کی وعید سنائی۔ فرمایا رسول اکرمﷺ نے ’’کسی شخص کی دوبیویاں ہوں اور اس نے ان کے ساتھ انصاف اور برابر ی کا سلوک نہ کیا تو قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گرگیا ہو۔‘‘(ترمذی)

اسلام نے عورت کو بہن اور بیٹی کے روپ میں بھی بہترین مقام عطا کیا۔ انھیں عفت وعصمت کی چادر قراردی اور ان سے محبت و شفقت اور ان کی اچھی پرورش و تربیت کو باعث اجروثواب قرار دیا۔ ارشاد رسولؐ ہے:’’لڑکیوں سے نفرت مت کرو، وہ تو غم خوار اور بڑی قیمتی ہیں۔‘‘(مسند احمد)

مزید فرمایا: جس شخص کی  لڑکی ہو وہ  اسے زندہ درگورکرے اور نہ اس کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے۔ اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کرے گا۔ (ابوداؤد) آپؐ نے یہ بھی فرمایا:جب کسی کے یہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ اس کے یہاں فرشتوں کو بھیجتا ہے ،جو آکر کہتے ہیں۔ اے گھر والوں السلام علیکم ، فرشتے پیدا ہونے والی لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سرپر اپنے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں۔ یہ ایک ناتواں کمزور جان ہے،جوایک ناتواں اور کم زور جان سے پیدا ہوئی ہے، جو شخص اس ناتواں کم زورجان کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا ،قیامت تک خدا کی مدد اس کے شامل حال رہے گی۔‘‘(المعجم الصغیرللطبرانی)مزید ارشاد ہے۔ ’’اور جس شخص نے دوبیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ دونوں بالغ اور جوان ہوگئیں (اور اپنے گھروں کی ہوگئیں) تو روزقیامت وہ اس حال میں آئے گا کہ وہ اور میں ان دوانگلیوں کی طرح ساتھ ساتھ ہوںگے۔ اور آپؐ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔‘‘(صحیح مسلم ،ریاض الصالحین)

اسی طرح آپ ؐ نے بہنوں کے سلسلے میں بھی ارشادفرمایا:حتی کہ لونڈیوں کے سلسلے میں بھی آپؐ نے فرمایا۔’’جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اس کو خوب تعلیم دے اور عمدہ تہذیب وشائستگی سکھائے پھر اس کو آزاد کرکے اس سے شادی کرے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔‘‘(بخاری، کتاب النکاح)

اسی طرح ماؤں، بیویوں، بیٹیوں اور بہنوں حتی کہ لونڈیوں کے حقوق ومقام کے سلسلے میں قرآن وسنت میں کئی مقامات پر تاکید و تلقین کی گئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے (یعنی اللہ تعالی نے ) عورتوں پر بے حد وحساب احسان کیا اور اس کے اختیارات کا دائرہ کافی وسیع رکھا۔ اسے پردہ کے حدود میں رہتے ہوئے اور اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے ۔ علم و ہنر سیکھنے ملک و ملت کی خدمت کرنے کا روبار کرنے ،اسکول ودواخانے چلانے کی ازادی بخشی ، اسے باپ، بھائی ، شوہر وبیٹے کی جائدادوں میں حصہ دار قرار دیا۔اس کی دولت وغیرہ کے سلسلے میں شوہر یا کسی کو بھی اختیار نہیں دیا کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کی دولت کو تصرف میں لائے۔ ارشاد خداوندی ہے:

لَلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوْا  ط  وَ لِلنِّسَائِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ ط  (النساء :32)

جو کچھ مردوں نے کمایا اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا اس کے مطابق ان کا حصہ ہے۔اسلام ہی وہ مذہب ہے کہ جس نے نکاح کو بہت آسان بنایا اور شادیوں میں جہیز ،تلک وغیرہ کا تصور تک نہ رکھا بلکہ شوہر ہی کو مہر کے نام سے ایک مقررہ رقم بیوی کو دیاجانا نکاح کی لازمی شرط قرار دی اور نکاح کے لیے لڑکی کی رضا مندی لازم کردی۔ اگر لڑکی راضی نہ ہوتو وہ نکاح کسی صورت میں منعقد نہ ہوگا۔ارشاد رسول ؐ ہے: ’’شوہر دیدہ (مطلقہ یا بیوہ عورت کی شادی نہ کی جائے جب تک کہ اس کی رضامندی اور اجازت نہ ہو اورکنواری کا نکاح بھی اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت حاصل نہ کرلی جائے۔ (بخاری(

طلاق کے سلسلے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ عورت پر ظلم ہے ۔تومعلوم ہو کہ زمانہ جاہلیت میں خصوصاً عرب میں طلاق کی کوئی اہمیت نہ تھی۔شوہر بیوی کو بار بار طلاق دیتا اور باربار رجوع کرتا تھا۔ زندگی بھرطلاق کا یہ کھیل شروع رہتا۔ نہ صحیح طریقے سے بیوی کے ساتھ زندگی گزارتا اور نہ طلاق دے کر اسے چھوڑہی دیتا کہ وہ کسی دوسرے بہترشخص سے نکاح کرلے عورت کے لیے شوہر سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہ تھی ۔ اسلام نے اس غلط طریقے کو ختم کرکے رجوع کرنیوالی طلاق کی حد صرف دوباررکھی اور اگر عدت کے اندر شوہر نے بیوی کو رجوع نہ کیا اور بعد عدت اس سے نکاح کرنا چاہا(وہ بھی نئے مہر کے ساتھ) توعورت کو پورا اختیار دے دیا۔ چاہے اس کی نکاح کرنے کی پیش کش کو قبول کرے یا نہ کرے اور کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور تین طلاق کے بعد تو دونوں کے آپس میں نکاح کرنے کی گنجائش ہی ختم کر دی ،سوائے ایک اتفاقیہ صورت کے کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے ہوجائے اور دوسرے شوہر کا یا تو انتقال ہوجائے یا اس نے کسی سبب سے (نہ کہ منصوبہ بند طریقہ سے) اسے طلاق دے دی ہو۔ گویا طلاق ایک سزاہے،جو عورت کی اہمیت کو اجاگر کرکے طلاق کا کھیل بنانے والے مردوں کو دی گئی۔ اگر تین طلاق کے بعد بھی بیوی سے رجوع یا دوبارہ نکاح کرنے کی آزادی برقرار رہتی تو طلاق کی اہمیت ہی لوگوں کے نزدیک ختم ہوجاتی ۔

اب یہ سوال کہ طلاق دینے کا اختیارمردوں کو کیوں دیا گیا۔ اس سلسلے میں کیا یہ بات محتاج بیان ہے کہ شوہر ہی اپنے خاندان کا نگراں و سربراہ ہوتا ہے وہی اپنی بیوی کی ضروریات کا کفیل ہے اور وہی اپنی ذمہ داری پرر یال خرچ کرکے اسے اپنے نکاح میں لیتا ہے۔ گویا نکاح ایک طرح سے اعلان ہے کہ میں نے فلاں عورت کی زندگی بھر کی ذمہ داری قبول کرلی۔اگر شوہر یہ محسوس کرے کہ بیوی کا رویہ اس کے لیے ناقابل برداشت ہے اور وہ اس کے ساتھ زندگی نہیں گزارسکتا ۔ تووہ ذمہ داری ختم کرکے اسے جدا کردیتا ہے۔ گویا طلاق اعلان ختم ذمہ داری ہے۔ تاہم خداوند کریم کے نزدیک طلاق تمام جائز کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ فعل ہے اور قرآن کریم میں طلاق دینے سے قبل آپس میں مصالحت کے کئی طریقہ بھی بتائے گئے ہیں اور ان احکام و ہدایات کے ذریعہ پوری کوشش کی گئی ہے کہ طلاقوں کے واقعات ہی کم سے کم یعنی نہایت ناگزیرحالات میں ہی واقع ہوں۔ پھر مردوں کو طلاق دینے کا اختیار دیا گیا تو عورت کو بھی شوہر کے اذیت دینے یا کسی سبب سے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے خلع کا حق عطا کیا۔ اسلام نے عورت کی عزت و آبروکی حفاظت کی خاطر بھی کئی قوانین بنائے۔ اس پر بری نظر ڈالنے ۔ بہتان لگانے اور بے آبروکرنے اور اس کے ساتھ زنا کرنے کوگناہ عظیم قرار دیا اورمجرموں کو کوڑے لگانے اور سنگسار کرنے کی سزائیں مقرر کیں۔ اس سلسلے میں مجرموں کو سزائیں دینا اسلامی ریاست پر لازم کردیا۔ ارشاد خداوندی ہے:

وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَاء  فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَداً وَأُوْلَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ oإِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ o (النور:۴۔۵)’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں،ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود ہی فاسق ہیں سوائے ان لوگوں کے جو اس حرکت سے تائب ہوجائیں اور اصلاح کرلیں۔‘‘

یہ صحیح ہے کہ اسلام نے عورت کو معاشی ،اجتماعی و سیاسی ذمہ داریوں سے بری رکھا ،لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ ان معاملات سے انھیں پوری طرح غیرمتعلق کردیا۔ اسلام نے عورت کو یہ بھی اختیار دیا کہ وہ ہر طرح کے عام ملکی و اجتماعی معاملات میں اپنے مفید مشورے دیں۔ اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔ حتی کہ ضرورت پڑنے پر تنقید و محاسبہ بھی کریں۔ امربالمعروف و نہی عن المنکر کی خدمت بھی انجام دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَر(التوبہ:۷۱)’’مومون مرداور مومون عورتیں ،یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔‘‘

زمانہ نبوی ہو یا خلفائے راشدین یا بعد کا اسلامی دور ہو۔ تاریخ میں کئی واقعات ہمیں ملتے ہیں کہ کئی مسئلوں اورمعاملات میں صاحب الرائے عورتوں سے نہ صرف مشورہ لیا گیا بلکہ مفید مشوروں پر عمل بھی کیا گیا اور عورتوں کی تنقید ومحاسبہ کو بھی قبول کیاگیا۔ تفصیل سے ہم سب واقف ہیں۔

اسلام میں نہ صرف عورت کی تعلیمی حیثیت مسلم ہے، بلکہ اسلام نے عورت کی علمی صلاحیت کا لوہا مانا ہے اور صحابہ کرامؓ فقہائے کرام اور علمائے کرام نے عورتوں سے بھرپور استفادہ بھی کیا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ ہی کو لواگر آپ ؐ سے استفادہ نہ کیا جاتا ان کی روایات نہ لی جاتی اور ان سے علم نہ سیکھا جاتاتو آج ملت آدھے دین سے محروم رہ جاتی ۔تاریخ گواہ ہے کہ سینکڑوں صحابیات اور بعد کے ادوار کی ہزاروں عورتیں جن کی مثالیں دینا یہاں ممکن نہیں ، نہ صرف خود عالمہ ،فقیہ ،محدثہ تھیں بلکہ کئی جید صحابہ ،فقہاء ، علماء اور محدثین کی معلمہ بھی رہی ہیں۔

تاریخ میں 3تا9ہجری 55عائشہ نام کی اور 65زینب نام کی محدثات کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے بعد بھی سینکڑوں ایسی محدثات گزری ہیں جنھوں نے صحابہ و صحابیات سے سن کر احادیث روایت کی ہیں۔ روایات کا یہ عالم تھا کہ عابدہ المدینہ نامی صرف ایک خاتون نے دس ہزار احادیث روایت کی ہے۔ حضرت زینب بنت علی کے فصیح و بلیغ اور درد انگیز خطابات اور تقاریر سے بھی ہم سب واقف ہیں ۔ اسلام میں عورت کا کوئی مقام نہ ہوتا تو صحابہ کرام اور دیگر علماء و فقہاء عورتوں سے کیوں کر سند لیتے ، کیوں کر ان کے شاگرد بنتے اور ان سے مستفید ہوتے ؟

غرض اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے عورت سے متعلق حقوق ومقام ، اختیارات اور عزت کا تصور دیا ۔ نظم خاندانی کی خاطر بلکہ عورت ہی کی مدد ومعاونت کے مقصد سے مرد کو ایک درجہ فضیلت دی۔ لیکن عورت کو مرد کے برابر ہی حرمت و تکریم دی۔ بلکہ کہیں کہیں تو مرد سے بڑھ کر دی۔ مثلاً بیٹیوں پر لازم کردیا کہ اپنی ماؤں کی اطاعت کریں ۔ شرعی واجبات کا مسئلہ ہو یا اعمال کے اچھے برے نتائج کا یا جان ، مال و آبروکے احترام کا یا اسلامی سزاؤں کے سلسلے میں قوانین کا ان سب میں مردعورت میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

لَلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوْا  ط  وَ لِلنِّسَائِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ ط  (النساء:۳۲ )

’’مرد جیسا عمل کریں ان کا پھل وہ پائیں گے اور عورتیں جیسے عمل کریں ان کا پھل وہ پائیں گی۔‘‘

مزید ارشاد ہے:فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ (آل عمران:195)

مزید فرمایا خداوند قدوس نے:وَمَنْ یَعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ہُوَ مُوْمِنْ فَاُوْلٰئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْراً(النسا:124)’’اور جوکوئی بھی نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت مگر ہو ایماندار تو ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوںگے اور ان پر رتی برابر ظلم نہ ہوگا‘‘۔

وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ  (البقرۃ:۲۲۸)’’عورت پر جیسے فرائض ہیں ویسے ہی اس کے حقوق بھی ہیں۔‘‘

غرض اسلام نے عورت پر جو پابندیاں عائد کی ہیں وہ بھی عورت ہی کے لیے مفید اور کار آمد ہیں۔ یہ پردہ بھی جس کا تمسخر اڑایا جاتاہے۔  در حقیقت عورت کا محافظ ہے یہ عورت کو مقید نہیں کرتا اور نہ اسے قدرت کے دیے ہوئے حقوق و اختیارات حاصل کرنے میں حائل ہوتا ہے بلکہ اسے انارکی،ہوسناک نگاہوں اور اخلاقی پستی سے بچانے کے لیے ہی توپردہ وحجاب وغیرہ کے احکام نازل فرمائے گئے۔ اسے اجنبی مردوں سے اپنے آپ کو مکمل طور سے چھپانے اور قریبی غیر محرم مردوں کے ساتھ تنہائی میں نہ رہنے ، اپنے جسم کو مس نہ کرانے اور ان سے اپنا ستروزینت چھپانے کی سختی سے تاکید کی گئی۔ حتی کہ محرم کے بغیر سفر کرنے سے بھی منع فرمادیا ۔ کیوں کہ (ایک دانشور کے قول سے مستعار) عورت ایک صنف نازک ہے۔ جذباتی مزاج رکھتی ہے۔ اس لیے اسے بے لگام آزادی نہیں دی جاسکتی ۔ جس طرح بیش قیمت اور بیش بہاچیز چھپا کر بہ حفاظت رکھی جاتی ہے اور جس طرح پتھر اور سنگریزے بہ کثرت گلی کوچوں، میدانوں و بیابانوں میں بکھرے پڑے ملتے ہیں ،لیکن ہیرے جواہرات سونا،چاندی،لعل و گوہر ، مونگے موتی ہرجگہ سڑکوں پر بکھرے نہیں ملتے، انھیں قیمتی ڈبوں اور تجوریوں میں ہر کس وناکس کی نگاہوں سے دور پوشیدہ رکھا جاتاہے۔ اسی طرح عورت کاوجود بھی خالق کائنات کی نظر میں سونے چاندی ، ہیرے جواہرات سے بڑھ کر ہے۔ وہ اسے کنکر پتھر اور سنگ ریزوں کی طرح گلی کوچوں، جنگلو ںاور بیابانوں میں کلبوں،ہوٹلوں اور بازاروں میں ،عام جگہوں و شاہراہوںپر ماراماراپھر نے اور حیوانوں کی طرح گھومنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہر بوالہوس کی ہوس کا شکار ہونے اور ہر کھیت کی مولی اور ہر کیاری کی گاجر بننے نہیںدیتا ۔ وہ ہر بھنور ے کو عورت جیسے گلاب اور چمیلی کا رس چوسنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عورت اپنی فطرت کے اعتبار سے نرم ونازک باحیا شرمیلی بلکہ لاجونتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے چراغ خانہ بناناچاہتاہے ، شمع انجمن بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ ہے وہ میزان اور یہی عدل وتوازن ہے، یعنی یہی حقیقی صنفی عدل(Jender Justice) ہے کہ مردوعورت کو جن کاموں کے لیے تخلیق کیاگیا ، ان سے وہی کام لیے جائیں اور جو دائرہ عمل ان کے لیے متعین کیا گیا۔ انھیں دائرہ عمل میں انھیں کام کرنے دیا جائے۔جوپابندیاں ان پر عائد کی گئیں اور جو حدود و قیود مقرر کیے گئے،ان کا پورا لحاظ کیا جائے اور جو ذمہ داریاں اور فرائض جن جن پر ڈالے گئے وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں اور فرائض انجام دیں اور جو حقوق و مقام اوراختیارات انھیں خالق کائنات نے عطا کیے ہیںوہ انھیں پوری دیانت داری سے دیے جائیں۔ اس طرح خداوندکریم کے تخلیق انسانی کے مقصد عظیم کو پورا کیا جائے۔ بس یہی اسلام کی روشن شاہ راہ زندگی ہے۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ مسلما ن جس کو اسلام کے پیغام رحمت اور حیات بخش اصولوں کا امین ہی نہیں بنایا گیا تھا بلکہ دوسروں کو بھی ان سے روشناس کرانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی وہ خود ہی اپنی خیر امت ہونے کی حیثیت کو فراموش کر بیٹھا اور اسلام کی صاف و شفاف نہروں پر جاہلیت کے گندے نالوں کو ترجیح دینے لگا۔ جدید تہذیب کی مصنوعی لیکن دلکش اور سحرانگیز چکاچوند سے ایسا متاثر اور مرعوب ہواکہ اسلام کی صاف اور روشن شاہ راہ ِ زندگی اب اسے نظر آہی نہیں رہی ہے۔

حتی کہ مسلم عورتیں بھی اس مصنوعی چکاچوند سے متاثر اورمرعوب ہوگئیں۔ ان عورتوں کی نقالی کرنے لگیں جنھوں نے خود اپنے خود اپنے خاندانی و سماجی بندھنوں کو توڑ کر اپنے خاندانی نظام کو دربرہم کردیا ہے ،جو تہذیب جدید کے آزادیٔ نسواں ،مساوات مردوزن اور صنفی عدل جیسے پرفریب و لنشیں نعروں واصطلاحات سے متاثر و مسحور ہوکر ان نعروں وغیرہ کے داعیوں کو ہی اپنا نجات دہندہ اور زندگی کے اصل لطف ولذت سے ہم کنار کرنے والا سمجھ بیٹھیں ، جو مردوں کی مسابقت میں مردتو بن نہ سکیں عورت بھی نہ رہیں۔ پھر گھر کی رہیں نہ باہر کی۔الغرض آزادی ٔ نسواں و مساوات مردوزن کے اس مغربی تصور نے عورت اور مرد کے دائرہ کار ہی بدل ڈالا۔ پھر وہاں کیا ہولناک تباہی آئی اور کسی طرح یہ سحرانگیز تصور انھیں لے ڈوبا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔

یہ مساوات مردوزن وغیرہ کے علمبردار اور تحریکی افراد  یہ حقیقت آخر کیوں نہیں سمجھ پارہی ہیں کہ عورت اور مرد توتمدن کی گاڑی کے دوپہیے ہیں جن کے سہارے گھر سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک انسانی زندگی کی گاڑی آگے چلتی ہے۔ اگر دونوں کو بالکل ایک ہی مقام پر فٹ کردیں تو زندگی کی یہ گاڑی چلے گی ہی آخر کیسے ؟ عورت اور مرد دونوں ہی اگر باہر کی ذمہ داریاں دیکھنے لگیں تو ملک و قوم کے معمار لائق و ہونہار سپوت آئیں گے آخر کیسے؟ نیپولین بوناپارٹ کا یہ قول کہ ’’تم مجھے ایک اچھی ماں دو میں تمہیں ایک اچھی قوم دوںگا۔‘‘ کیا اس بات کا اظہار نہیں کرتا کہ عورت کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے اور کیا ہم بھی نہیں جانتے کہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود سے تربیت حاصل کیے بغیر سید احمد شہید ؒ، علامہ اقبالؒ ، ابوالاعلیٰ مودودیؒ ،حسن البناء شہید ؒ ، محمد علی جوہرؒ ،ابوالکلام آزاد ؒ ملت حاصل کرسکتی تھی؟اوروہ ترقی یافتہ عورتوں کو مساوات مردوزن و صنفی عدل جیسے سحرانگیز اصطلاحوں سے فریب دے کر گھر سے باہر سڑکوں پر گھسیٹنے والی ، خود اپنے ہاتھوں خونی و قرابتی رشتوں کو پامال کرکے خاندانوں کے سکون و لذت کی چاشنی سے محروم، بحرہلاکت میں غوطہ زن قومیں ہمارے لیے کیا درس عبرت نہیں جو نہیں جانتیں کہ ماں کا بیٹوں کے لیے ، بیوی کا شوہر کے لیے ،بہن کا بھائیوں کے لیے اور بیٹی کا باپ کے لیے ایثار و قربانیوں میں زندگی کے لطف ولذت کا کون سا راز پنہا ں ہے۔

حیرت تو اس پر ہوتی ہے کہ عورت کو مساوات مردوزن و صنفی عدل وغیرہ ناموں سے آخر کس کے خلاف بہکایا جارہاہے۔ اسی کے اپنے باپ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے خلاف کیوں کہ ہر مرد کسی نہ کسی عورت کا یا تو باپ، بھائی،شوہر ہے یا بیٹا ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شیطان کے ایجنٹوں کی پر فریب تحریکوں سے دھوکہ نہ کھائیں اور اللہ تعالی کے متعین کردہ دائرہ کا ر ہی میں رہتے ہوئے ،جس کے لے ہی ہمیں تخلیق کیا گیا ہے، نہ صرف اپنے فرائض بحسن وخوبی انجام دیں بلکہ ملک و قوم کے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دیتے رہیں۔

جولائی 2017

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau