ہمہ گیر عالمی بحران: بما کسبت ایدی الناس (بے یقینی، پریشاں حالی اور بدلتی دنیا کا مستقبل)

صلاح الدین شبیر

اقوام متحدہ کے ذریعے جاری کردہ انسانی ترقیاتی رپورٹ 2022 کے اہم نکات کا خلاصہ، جائزہ اور اس پر حسب موقع تبصرہ پر مشتمل یہ گذارشات اس لیے پیش کی جا رہی ہیں تاکہ جو لوگ ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں وہ نئے حالات و مسائل سے واقف ہو سکیں اور اس بدلتی دنیا میں ممکنہ حد تک تعمیری کردار ادا کر سکیں۔ یہ رپورٹ مختلف شعبوں کے ماہرین کے ذریعے اعداد و شمار اور عصری تحقیقات کی روشنی میں تیار کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کتنے بڑے پیمانے پر مشکل حالات و مسائل سے دوچار ہے۔ رپورٹ میں ایک حد تک اُس صورتِ حال کی عکاسی کی گئی ہے جسے قرآن نے بہت ہی جامع انداز میں بیان کر دیا ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ (خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا انسان کی اپنی کارستانیوں کی وجہ سے، تاکہ الله انھیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے شاید کہ وہ پلٹ آئیں: سورہ : الروم۔41)۔

اس رپورٹ میں ماحولیاتی اور ارضیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال اور آسائش زندگی کے لیے کی جانے والی انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں کرۂ ارضی کا توازن بڑے پیمانے پر متاثر ہو رہا ہے۔ بے یقینی کی صورتِ حال نے پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کووڈ-۱۹کی وبا نے عالمی سطح پر انسانی زندگی کو ہمہ گیر تبدیلیوں سے دوچار کر دیا ہے اور غیر متوقع طور پر یہ وبا نت نئی قسموں کے ساتھ انسانی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ اوسط معیار زندگی میں ریکارڈ کامیابیوں اور حیرت انگیز تکنیکی ترقی کی بنا پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کرنا زیادہ آسان ہوگا۔

انسانوں کے لیے غیر یقینی صورتِ حال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انسان طویل عرصے سے طاعون و دیگر وبائی امراض، تشدد، جنگ، سیلاب اور خشک سالی جیسی آفات ارضی و سماوی سے جھوجھتا رہاہے۔ کچھ معاشرے تو ان آفتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر بھی مجبور ہوتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود، آج مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار زیادہ شدت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ لوگ اتنے زیادہ پریشان و فکرمند کیوں ہیں؟ اگر آج کی دنیا ماضی کی طرح ہی غیر یقینیت سے دوچار ہو گئی ہے تو اس میں نیا کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آج کی غیر یقینیت (uncertainty)کچھ مختلف طرح کی ہے؟ اگر ایسا ہے، تو کن پہلوؤں سے؟ اور ان کا آج کی تیز رفتار انسانی ترقی سے کیا تعلق بنتا ہے؟

نیا بشریاتی دور (anthropocene)

موجودہ خطرات کی جداگانہ نوعیت کو سمجھنے کے لیے نئے بشریاتی عہد (anthropocene) کی سمجھ ضروری ہے۔ نئے بشریاتی عہد کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ماضی میں کرۂ ارضی پر ہونے والی تبدیلیوں میں دیگر قدرتی عوامل کی بہ نسبت انسانی مداخلت کا حصہ بہت کم ہوتا تھا۔ لیکن آج کا انسان قدرتی ماحول کی تبدیلی میں سب سے بڑا کردار ادا کرنے کی صلاحیتوں کا حامل ہو چکا ہے۔ یہ نیا عہد کیسی، کتنی اور کس طرح کی بے یقینی کی صورتِ حال کا باعث ہے؟ اس عہد میں جو خطرات رونما ہو رہے ہیں کیا ان کی حیثیت وجودی خطرات (existential threats) کی شکل اختیار کر چکی ہے؟ پرانے اور موجودہ دور میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں جو فرق پایا جاتا ہے اس کے درج ذیل پہلو نمایاں ہیں:

پہلا فرق تو اس اعتبار سے ہے کہ نئے بشریاتی دور میں انسانی مداخلت کی وجہ سے کرۂ ارضی بڑے پیمانے پر خطرناک تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ یہ خطرات ہمہ گیر بھی ہیں اور عالم گیر بھی۔ زندگی کا ہر شعبہ اور دنیا کا ہر خطہ ان تبدیلیوں کی مار سہہ رہا ہے۔

دوسرا پہلوصنعتی تنظیم نو کی ان بالارادہ کوششوں سے متعلق ہے جو وسیع پیمانے پر سماج کو بدل رہی ہیں، ٹھیک اسی طرح جیسے صنعتی انقلاب کے زمانے میں کاشتکاری سے صنعت کاری کی طرف منتقلی کے دوران تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔

تیسرا سبب بین الممالک اور الگ الگ ملکوں کے اندر جنم لینے والی وہ محاذ آرائی (polarization) ہے جو نئی ڈیجیٹل ٹکنالوجی کی وجہ سے اور بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور معاشرہ تقسیم در تقسیم اور نابرابری کی لپیٹ میں ہے۔

موجودہ دور سے پہلے کرۂ ارضی اور دیگر سیارے اتنے بڑے پیمانے پر انسانی تگ و تاز کی زد میں نہیں آئے تھے۔ سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی نے انسانی سرگرمیوں کو اس رخ پر ڈال دیا ہے جس سے زمین اور اس کے ماحولیاتی نظام کی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ ہمہ گیر تبدیلی انسانی زندگی اور دیگر انواع حیات (living species) کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے۔ حیات و کائنات سے متعلق غالب سوچ، رجحان اور ترجیحات نے ارتقائے حیات کے عمل کو اس راہ پر ڈال دیا ہے جس کے اثرات آنے والے ہزاروں لاکھوں برسوں تک پڑتے رہیں گے۔

تاریخ میں پہلی بار انسان ساختہ تبدیلیاں معمول کی قدرتی تبدیلیوں کی بہ نسبت زیادہ بڑی ہو گئی ہیں۔ اس کا آغاز جوہری ہتھیاروں کی آمد کے ساتھ ہوا، جس میں بڑھتی ہوئی تکنیکی طاقت اس حد تک پہنچ گئی کہ ہم اپنی مکمل تباہی کے قابل ہو گئے ہیں۔ جوہری جنگ کی صلاحیت نے ایک وجودی خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ بلاشبہ ماضی کے ارضیاتی (geological) ٹائم اسکیل میں قدرتی آفات کی وجہ سے بڑے سیارچوں کے اثرات یا مہیب آتش فشانی واقعات، وغیرہ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی کے واقعات رونما ہوئے تھے، لیکن کرۂ ارضی کی تبدیلیوں میں انسان کا عمل دخل کمترین سطح پر تھا۔ یوں تو انسان کے پاس ہمیشہ ایک دوسرے کو اور خود فطرت کو نقصان پہنچانے کی طاقت رہی ہے، لیکن آج کا انسان عالمگیر سطح پر تباہی پھیلانے کی طاقت رکھتا ہے اور کرۂ ارضی کے توازن کو تلپٹ کر سکتا ہے۔

تبدیلیوں اور خطرات کا پھیلتا اسپکٹرم

جوہری جنگ کے وجودی خطرات کا آسانی سے تصور کر لیا جاتا ہے۔ لیکن آہستہ روی کے ساتھ جاری آب و ہوا کی تبدیلی (atmospheric change) یا حیاتیاتی تنوع (species diversity) کے نقصان سے برآمد ہونے والے وجودی خطرات اتنی واضح شکل میں دکھائی نہیں دیتے۔ کرہ ارض پر مسلسل انسان آفریدہ دباؤ کی وجہ سے ماحولیاتی نظام اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، آب و ہوا کی تبدیلی آرکٹک سمندری برف کو پگھلا رہی ہے، جو بحر اوقیانوس کی گردش کو متاثر کر کے مغربی افریقی مان سون میں خلل ڈال سکتی ہے اور ساحل میں خشک سالی کا سبب بن سکتی ہے، دریائے ایمیزون سوکھ سکتا ہے اور جنوبی سمندر گرم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں انٹارکٹک برف کے پگھلنے میں مزید تیزی آسکتی ہے۔ اس طرح ایمیزون کے جنگلات کا خاتمہ زمین کے حیاتیاتی نظام کو تباہ و برباد کر دے گا۔ ان سب تبدیلیوں کے مضمرات وسیع الاطراف ہیں: مثلاً بڑے پیمانے پر حیاتیاتی تنوع کا نقصان، فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ، وغیرہ۔

اور بھی ایسے کئی عوامل ہیں جنھوں نے وجودی خطرات کا اسپیکٹرم کافی بڑا کر دیا ہے جوہر آنے والے دن پھیلتا جا رہا ہے۔ جوہری جنگ کے امکان کے علاوہ، دیگر خطرات میں مصنوعی ذہانت (artificial intelligence)، جینیاتی انجینئرنگ (genetic engineering) اور نینو ٹیکنالوجی (nano-technology) اور قدرتی ماحول پر بڑھتے دباؤسے جنم لینے والا ماحولیاتی عدم توازن اور ان سب سے مل کر پیدا ہونے والے ان دیکھے خطرات نے تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ سب خطرات بالارادہ بھی مسلط کیے جا سکتے ہیں جیسے جوہری طاقت کا استعمال یا حادثاتی طور پر بھی رونما ہو سکتے ہیں، جیسے لیبارٹری سے وائرس کا پھیلاؤ، یا وہ تکنیکی ترقی کے غیر مطلوب اثرات کی شکل میں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دور میں بڑھتا ہوا سیاسی پولرائزیشن اور تنازعات، جوہری حملے، حیاتیاتی جنگ، وغیرہ کے امکانات نے بھی وجودی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور بہت سے دیگر ماحولیاتی چیلنجوں – فضائی آلودگی سے لے کر پلاسٹک کے استعمال تک – نے کرہ ارضی پر فساد و بگاڑ کی رفتار، وسعت اور دائرہ کار کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ انسانیت بے حد تشویشناک صورتِ حال سے دوچار ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کی طرف انفرادی توجہ تو دی جا رہی ہے، لیکن فساد و بگاڑ کے اتنے بڑے بحران کو انفرادی تشویش اور توجہ سے ٹالنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے تو عالمی سطح پر باہمی تعاون اور حکومتی سطح پر پالیسی کی تبدیلی ضروری ہے۔ انفرادی کوششوں سے لوگ اپنی اخلاقی ذمہ داری کی بجا آوری تو کرسکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار رہے گا۔

ترقیاتی سرگرمیاں اور ماحولیاتی خطرات — فائدہ اور نقصان کی غیر منصفانہ تقسیم:

بلاشبہ مختلف میدانوں میں سائنس و ٹکنالوجی میں غیر معمولی پیش رفت اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل آوری کے مجموعی فوائد تو بڑے پیمانے پر ظاہر ہوئے ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ اور پسماندہ خطوں کے درمیان نفع و نقصان کی تقسیم میں نابرابری اور امتیاز کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً مصنوعی ذہانت کے استعمال سے عالمی جی ڈی پی فی کس 10 فیصد تک بڑھ سکتی ہے جس کے حصول میں دنیا کو تاریخی طور پر 1820 تا 2010 تک تقریباً 190 سال کا عرصہ لگا تھا۔ لیکن اتنے بڑے پیمانے پر حاصل ہونے والے متوقع مجموعی فوائد کی گردش چند لوگوں کے درمیان مرکوز ہوسکتی ہے اور عظیم ترین اکثریت ان فوائد سے محروم رہ سکتی ہے۔ تکنیکی اور معاشی طاقت کا چند لوگوں کے ہاتھوں میں ارتکاز اور اس کا سیاسی طاقت کے ارتکاز میں بدل جانے کا امکان ایسی صورتِ حال پیدا کرسکتا ہے جو ایک ‘‘بے اختیار اکثریت’’ کو نابرابری، محرومی اور عدم توازن سے دوچار کر دے گی۔ گلوبلائزیشن کے خلاف رد عمل کی کہانی میں یہی تشویش نمایاں رہی ہے۔ عام طور پر معاشی برتری حاصل کرنے والا طبقہ طاقت حاصل کر کے فوائد کی منصفانہ تقسیم سے جی چراتا رہا ہے۔

اس دور میں انسانی زندگیوں کو جو خطرات لاحق ہیں ان کا اثر مختلف خطوں پر غیر منصفانہ طور پر پڑ رہا ہے۔ جن ممالک کا حصہ ماحولیات کو نقصان پہنچانے میں کم ہے، وہ زیادہ گھاٹے میں ہیں کیوں کہ ماحولیاتی نقصان کا بوجھ ان پر زیادہ اور ترقیاتی فوائد میں ان کا حصہ بے حد کم ہے۔ دوسری طرف اس ماحولیاتی فساد کا باعث بننے والی ترقیاتی سرگرمیوں کا اصلی فائدہ ترقی یافتہ ممالک سمیٹ رہے ہیں۔ سن 2020 کی ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ نابرابری اور طاقت کا عدم توازن موجودہ دور کی ایک اہم خصوصیت ہے، جو عدم استحکام کی حرکیات کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے ترقیاتی پالیسی میں مطلوبہ تبدیلی کھٹائی میں پڑ جاتی ہے اور کرہ ارضی پر جاری دباؤ کو کم کرنے کے لیے ترقی یافتہ معیشتوں کو جو اقدامات کرنے چاہئیں، اس سے وہ گریز کی راہ اختیار کرتی ہیں۔

لیکن انسان ساختہ عالم گیر بحران سے پیدا ہونے والی خطرناک صورتِ حال نے انسانیت پر ذمہ داری عائد کر دی ہے کہ وہ مثبت اقدام کرے۔ جن کے پاس اس کی طاقت ہے کہ وہ کرۂ ارضی کو غیر متوازن حالات اور نقصان دہ تبدیلیوں سے دوچار کردیں تو انھیں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کو درست اور پیش آنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ عادلانہ طور پر ایک محفوظ و مامون دنیا میں لوگ جی سکیں۔ لہذا یہ ذمہ داری سب سے زیادہ ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جن کی وجہ سے بحران نے جنم لیا ہے اور شدت اختیار کی ہے۔ لوگ جان بوجھ کر دنیا تباہ کر دینے پر تلے ہوئے ہوں، ایسا سوچنا صحیح نہیں ہوگا۔ بلاشبہ ماحولیاتی نظام کو بہتر اور ایک دوسرے کے لیے مفید تر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم بہتری کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ نئے بشریاتی دور نے ہم پر صرف ذمہ داری ہی عائد نہیں کی ہے بلکہ اس کا موقع اور صلاحیت بھی فراہم کی ہے کہ انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ کرہ ارضی کو فساد اور عدم توازن سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے ۔ 2020 کی رپورٹ کا مرکزی پیغام یہی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا، مصنوعی ذہانت اور انسان

دنیا کے بہت سے حصوں میں لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کی سرگرمیاں سوشل میڈیا کے محور پر گردش کر رہی ہیں۔ انھیں حکومت و سیاست کے بارے میں جو معلومات اور تجزیے ملتے ہیں وہ اسی ذریعہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ بلاشبہ ڈیجیٹل طور پر محفوظ شدہ معلومات کافی زیادہ اور آسانی سے دستیاب ہیں۔ 1980 کی دہائی کے اواخر تک معلومات کا ایک فیصد سے بھی کم ذخیرہ ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ کیا جا سکا تھا۔ لیکن 2012 تک یہ مقدار 99 فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بہت سارے لوگوں کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن گئی ہے۔ روز مرہ کا کام کیسے انجام دیں، دوستوں اور اہل خاندان کے ساتھ کس طرح بات چیت کریں یا فارغ اوقات میں کیا کچھ کیا جائے، ان سب میں ڈیجیٹل ٹکنالوجی شامل ہو چکی ہے۔ کسی بھی سابقہ نسل کے برعکس، 2008 کے بعد پیدا ہونے والے بہت سارے بچوں کو ابتدائی زندگی میں ہی ڈیجیٹل آلات سے وسیع پیمانے پر واقفیت ہو چکی ہوتی ہے۔

نئی ٹکنالوجی کا اثر کام کاج کے طور طریقوں اور ملازمت کے مواقع میں تبدیلیوں کی صورت میں بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے اندازے کے مطابق نئی ٹکنالوجی کے استعمال سے 2025 تک 26 معیشتوں سے تعلق رکھنے والی 15 صنعتوں میں 97 ملین نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور 85 ملین ملازمتیں ختم ہوجائیں گی۔ آٹومیشن کے رجحان کے مطابق نہ چلنے والی صنعتیں مسابقتی برتری کھو دیں گی۔ ٹھیک اسی طرح جیسے وہ مزدور جو بدلتی ہوئی لیبر مارکیٹ کے لحاظ سے نئی مہارتیں حاصل نہیں کر پاتے اور بے قیمت بن جاتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ہماری زندگیاں مصنوعی ذہانت پر زیادہ منحصر ہوتی جا رہی ہیں— موسم کی پیش گوئی سے لے کر مالیاتی مارکیٹ کے لین دین اور ڈی این اے کا تجزیہ کرنے تک— انسانی ذہانت کی جگہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ لیکن اس کے منفی اثرات سے بچ پانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ خودکار ویڈیو اور خبروں سے متعلق غلط معلومات کی تخلیق اور اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا معاشرے میں پاپولسٹ، قوم پرست اور نسلی منافرت کی لہروں کو بھی ہوا دے سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت جعلی معلومات کی تخلیق اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو بڑھاوا دینے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو ایپس (Apps) کے ذریعے جھوٹ، فریب اور افواہ گھڑنے کے لیے آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جھوٹی معلومات صحیح معلومات سے زیادہ بڑے پیمانے پر پھیلتی ہیں. سوشل نیٹ ورک علمی تنقیدی جائزہ و تبصرے کو دبا دینے اور سازشی نظریات کو پھیلانے کا کام آسان بنا سکتا ہے۔

نئی ٹکنالوجی فوائد کے ساتھ نئے چیلنج بھی لے کر آتی ہے۔ ڈیجیٹلا ئزیشن سے سماجی اور معاشی خطرات پیدا ہورہے ہیں۔ مزدوروں کی طلب میں کمی، ڈیجیٹل عدم مساوات، سائبر کرائم، مالی وسائل اور ذاتی معلومات کی چوری، فیصلہ سازی کے عمل کی مشینوں کو منتقلی، ڈیجیٹل طاقت کا ارتکاز، ڈیجیٹل لت اور تشدد،نیز ذاتی زندگی کے تحفظ میں کمی جیسے بے شمار مسائل اس نئی ٹکنالوجی کی دین ہیں۔ اس کے سنگین ترین چیلنجوں میں سے ایک ڈیجیٹل عدم مساوات ہے۔ غریب لوگ اور ذہنی امراض میں مبتلا افراد اس عدم مساوات کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

نئی ٹکنالوجی کے بہتر استعمال سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں، انھیں نظر انداز کرکے منفی اور غیر مطلوبہ انحراف کی راہ اختیار کرنا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ اس انحراف کا نقصان ہمارے سامنے ہے۔ موبائل فون ہماری حرکات و سکنات کا پتہ دیتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، جو نفیس و نازک کاموں میں انسان کا وقت بچا سکتی ہے، وہ بھی دقیانوسی تصورات کی نقل و توسیع کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ سوشل میڈیا، جس کا اصل مقصد ہمیں جوڑنا تھا، آج تفریق و تقسیم کے عمل میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی ٹکنالوجی سے غیر مطلوبہ نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں، اور اس کی وجہ سے غیر یقینیت میں اضافہ ہو سکتا۔ ایک اور پہلو بھی نت نئی ٹکنالوجیوں کے حوالے سے قابل توجہ ہے۔ نئی ٹکنالوجی کے معاشرتی مضمرات (social implications) کو سمجھنے میں ہماری صلاحیت اس ٹکنالوجی کے نتیجے میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلی کا ساتھ نہیں دے پاتی۔ جب تک ہم ان مضمرات کو سمجھ کر کچھ اصلاح احوال کی راہ تلاش کر پائیں، پانی سر سے اوپر گزر چکا ہوتا ہے۔ چناں چہ اکثر و بیشتر نقصان دہ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور دیگر نئی ٹکنالوجیاں ہماری زندگیوں کو منفی طور پر بدل ڈالنے والی ثابت ہو رہی ہیں۔

ڈیجیٹلائزیشن نے انسان اور ٹیکنالوجی اور انسانوں کے مابین تعلق کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔ آن لائن ڈیٹنگ ڈیجیٹلائزیشن سے تبدیل شدہ انسانی تعامل اس کی ایک مثال ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا پسماندہ اور مظلوم گروہوں کی آواز بلند کرنے کا ذریعہ ہیں۔ لیکن تخریب پسند افراد کے لیے بھی یہ آلہ کار ہیں۔ ان پلیٹ فارموں کے ذریعے انتہا پسند اور متشدد نظریات کے حامل گروہ اپنے پیروکاروں کی تعداد بڑھا سکتے ہیں۔

عدم تحفظ اور ذہنی صحت کے مسائل

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا اور اس کے مستقبل کے بارے میں حد سے زیادہ منفی تصورات کی عکاسی کرنے والی زبان میں اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت، آج کے ذہنی تناؤ اور پریشاں حالی (Anxiety) کی سطح بے نظیر ہے، جو 1929 کی عالمی کساد بازاری (Great Depression) اور دونوں عالمی جنگوں کے دوران پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ سے کہیں زیادہ ہے۔ لوگ اپنی زندگی اور مستقبل کے بارے میں غیرمعمولی پریشانی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سب سے زیادہ آمدنی والے ممالک سمیت تمام جغرافیائی خطوں میں عدم تحفظ، عدم اطمینان اور مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ کچھ سروے رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ چند کم آمدنی والے ممالک میں نوجوان مستقبل کے بارے میں زیادہ مثبت نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

نئی صورتِ حال سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل نے کئی دوسرے مسائل کو جنم دیا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد اوسط شخص کے مقابلے میں تقریبا 34 فیصد کم کماتے ہیں۔ بائی پولر ڈس آرڈر (bipolar disorder) والے افراد تقریبا 38 فیصد کم کماتے ہیں اور شیزوفرینیا میں مبتلا افراد تقریبا 74 فیصد کم کماتے ہیں۔ ان حالات میں مبتلا افراد کو آمدنی نہ ہونے اور معذوری کے بڑھے ہوئے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آمدنی کی کمی مزید نفسیاتی دباؤ اور ذہنی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

بلاشبہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد گار ہے۔ یہ ٹکنالوجی بہت سے کاموں کو آسان بناتی ہے، کارکردگی میں اضافہ کرتی ہے اور دور دراز بسنے والوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہے۔ وہ پائیدار ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals) کے حصول میں بھی مددگار ہو سکتی ہے۔ 200 سے زائد ممالک کا احاطہ کرنے والی ایک حالیہ تحقیق میں پایا گیا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن لوگوں کو بااختیار بنانے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ با اختیاری کا یہ عمل لوگوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ لیکن اس نئی ٹکنالوجی کے غلط استعمال کی وجہ سے لوگوں کو ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، سائبر ہراسانی اور سائبر تعاقب کو اضطراب، خوفزدگی، خودکش رجحان اور افسردگی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ موبائل ڈیوائس، سوشل نیٹ ورک اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروس کو لوگوں کا پیچھا کرنے اور ان کی مستقل نگرانی کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح فیس بک، انسٹاگرام اور ٹویٹر جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو سماجی ہتک آمیزی، غیر اخلاقی تبصروں، شدت پسندانہ رجحان، امتیاز و تفریق کو بڑھاوا دینے والے مواد کی اشاعت کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان سب کا نتیجہ ذہنی پریشانی اور خودکشی کے رویے کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر نوجوان لڑکیوں پر پڑتا ہے۔ دوسری طرف نوجوان نسل جب سوشل میڈیا یا دیگر ٹکنالوجی کے ساتھ وقت گزاری کی عادی ہو جاتی ہے تو عمر رسیدہ افراد سماجی طور پر اجنبی بنتے چلے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا سے مسلسل ربط کے نقصان دہ ذہنی اور جذباتی اثرات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ نیورو سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال نے دماغ کے کام کرنے کے طریقے کو تبدیل کردیا ہے۔ چناں چہ سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نوجوانوں کو تعمیری غور و فکر کی فرصت کم مل پاتی ہے۔ اس کی وجہ سے مستقبل بینی یا ذاتی یادوں پر غور و خوض کرنے کا وقت بہت کم بچ پاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال نے توجہ اور یادداشت کو بھی متاثر کیا ہے اور ملنساری و ہمدردی میں کمی پیدا کی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی ٹویٹ میں اگر کوئی اخلاقی جذباتی لفظ شامل ہو تو اس کی ری ٹویٹ کی شرح صرف 19 فیصد ہوتی ہے۔ لیکن ایک ایسی پوسٹ جس میں تندی و ترشی کے ساتھ اختلاف شامل ہوتا ہے اسے دوگنا پسندیدگی اور تین گنا زیادہ تبصرے ملتے ہیں۔

پولرائزیشن: اقدام میں تاخیر، تنازعات میں اضافہ

عدم استحکام اور غیر یقینی ماحول لوگوں کے جمے جمائے تصورات کو متزلزل کرنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کی وجہ سے مسائل ہی پیدا ہوں. درحقیقت، جب غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہو تو معاشرہ اس صورتِ حال سے موافقت پیدا کرنے کے لیے اجتماعی دانش اور نئے بیانیوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی غیر یقینی صورتِ حال سیاسی ٹکراؤ کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر ان معاشروں میں جو غیر یقینی صورتِ حال سے نالاں و مایوس ہو چکے ہوں۔ مثال کے طور پر، تحقیق سے پتہ چلا ہے صدماتی واقعے کے بعد کی غیر یقینی صورتِ حال، مثلاً مالی بحران کا صدمہ سیاسی انتہاپسندی کی حمایت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ سیاسی پولرائزیشن (political polarisation) باہمی اعتماد میں کمی لاتا ہے اور معاشرے کو ’ہم‘ اور ’تم‘ میں تقسیم کرتا ہے۔ یہ اختلاف رائے کو محدود کرنے کا باعث بنتا ہے، عوامی بحث و مباحثہ پر قدغن لگاتا ہے اور ایسا رویہ انتہائی خطرناک سطح تک بھی پہنچ سکتا ہے، جس کے مضر اثرات جمہوری آزادی اور انسانی حقوق پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ گذشتہ دہائی میں بہت سے ملکوں میں جمہوری پسپائی اور سیاسی پولرائزیشن میں تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جمہوریت پر اعتماد اور یقین میں کمی آئی ہے جب کہ اس کے متوازی آمریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ سیاسی پولرائزیشن میں مبتلا ہونے والے ممالک مختلف النوع پس منظر رکھتے ہیں۔

عالمگیر مربوط اقدام کی ضرورت

اس رپورٹ میں پیش آمدہ خطرات اور چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں انسان کی صلاحیت سے بہتر توقعات وابستہ کی گئی ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، لیکن سب کچھ ختم بھی نہیں ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ وہ پالیسیاں جو سرمایہ کاری (Investment)، انشورنس (Insurance) اور جدت طرازی (Innovation) کے لیے وضع کی جا سکتی ہیں اس سے لوگوں کو اس نئی غیر یقینی صورتِ حال سے نمٹنے اور اس کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔ توانائی کے نئے طریقوں (Renewable Energy) سے لے کر وبائی امراض اور قدرتی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری کرہ ارضی کا توازن بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ 2004 کی سونامی کے بعد سیسمولوجی، سونامی سائنس اور آفات کے بارے میں پیشگی آگاہی پر کی جانے والی سرمایہ کاری کا مثبت نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اسی طرح انشورنس بھی لوگوں کو غیر یقینی صورتِ حال سے نمٹنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات میں سرمایہ کاری سماجی تحفظ کا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جدت طرازی اپنی کئی شکلوں میں – تکنیکی، معاشی، ثقافتی – انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا جواب دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگرچہ جدت طرازی کا تعلق پورے معاشرے سے ہے، لیکن اصلًا اس معاملہ میں حکومتی اقدام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ رپورٹ میں جن تین پہلوؤں پر توجہ مبذول کرائی گئی وہ موجودہ بحران سے پیدا ہونے والے مسائل کا ایک حد تک مداوا تو کر سکتے ہیں لیکن ان اسباب کا ازالہ نہیں کر سکتے جن کے بطن سے بحران پیدا ہوتا ہے۔

موجودہ بحران نے موجودہ نسل کے لیے جو خطرات پیدا کیے ہیں ان سے بھی زیادہ خطرات کا سامنا آنے والی نسلوں کو کرنا پڑ سکتا ہے اگر زیادہ سے زیادہ سمیٹ لینے کی حرص سے چھٹکارا پانے کی ادارہ جاتی اور عالمگیر کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ موجودہ صورتِ حال پوری انسانیت سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ حیات و کائنات کے بارے میں درست نقطہ نظر اور اخلاقی جواب دہی کے احساس کے ساتھ ترقی کی منصوبہ بندی کرے اور پالیسی سطح پر مطلوبہ تبدیلی لائے۔ کرہ ارضی کے توازن میں خلل ڈالے بغیر، مطلوبہ انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ انسانی سرگرمیوں کو عدل، تحفظ، کفایت شعاری اور باہمی تعاون کی قدروں پر استوار کیا جائے۔ انسانیت کی خیر پسندی سے توقع کی جانی چاہیے کہ جلد یا بدیر اصلاح احوال کے لیے نقطۂ نظر کی تبدیلی کے ساتھ بنیادی فیصلوں کی طرف متوجہ ہوگی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو قدرت کا انتقام زیادہ ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔

کائنات اور انسان —اصل حیثیت کا ادراک

اللہ تعالی نے اس کائنات کو عدل و توازن پر استوار کیا ہے۔ اس کائناتی نظام کے پیچھے جو قوانین فطرت کام کر رہے ہیں وہ انسان سے عادلانہ رویے کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ توازن قائم رہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو دوسری تمام مخلوقات سے منفرد و ممتاز پیدا کیا ہے۔ وہ اس کائنات میں خدا کا تخلیقی شاہ کار ہے۔ اسے عقل، ارادہ اور خیر و شر کی صلاحیت بخشی گئی ہے۔ انسان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ اور زمین پر خلیفہ ہے۔ اس کرۂ ارضی کو بے شمار ذی حیات مخلوقات کا مسکن اور انسانوں کا عارضی مستقر قرار دے کر ایک خاص وقت تک کے لیے زندگی گزارنے کے لائق بنایا گیا ہے۔ لہذا! انسان کو جن صلاحیتوں اور وسائل حیات کی ضرورت ہو سکتی ہے اللہ تعالی نے وہ سب کچھ ودیعت فرما دیا ہے۔ اسی کے ساتھ جن حقائق کو جانے بغیر انسان قیاس و گمان کی بنیاد پر ٹھوکریں کھا سکتا ہے انھیں پیغمبروں پر وحی کے ذریعے بتا دیا گیا ہے۔ چوں کہ انسان کو ایک خاص حد تک خود مختاری عطا کی گئی ہے اس لیے ہدایت الہی کے باوجود وہ اپنی صلاحیتوں کو صحیح یا غلط دونوں طرح استعمال کر سکتا ہے۔ اسی لیے وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ اخلاقی طور پر اپنی سرگرمیوں کے لیے جواب دہ ہے۔

انسان کا ہر وہ عمل جو اس دنیا کے توازن و توافق (balance and symmetry)کو بگاڑنے والا ہو وہ اخلاقی نوعیت رکھتا ہے جس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ حصول دنیا کی چاہت (بل تؤثرون الحیاةالدنیا) اور زیادہ سے زیادہ سمیٹ لینے کی خواہش (الھاکم التکاثر) انسان سے نہ صرف اپنے ہم عصر لوگوں اور دیگر مخلوقات کے حقوق پر دست درازی کرواتی رہتی ہے بلکہ اسے آنے والی نسلوں کے حقوق سے بھی غافل کر دیتی ہے۔ انسانی بےاعتدالیوں پر خود فطرت کا رد عمل سامنے آتا رہتا ہے جس پر متنبہ ہو کر وہ اصلاح احوال (course correction) کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔ ان بنیادی حقائق سے ایک تصور کائنات و انسان تشکیل پاتا ہے۔ اگر اس کی روشنی میں انسانی سرگرمیاں انجام دی جائیں تو ترقی کے ساتھ توازن قائم و برقرار رہ سکتا ہے۔ اسی نقطۂ نظر کی طرف بار بار متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بحران در بحران کی پشت پر کار فرما اسباب کا تدارک ہو سکے۔

نومبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau