زکوۃ کا شان دار نظام

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

اسلام صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ اجتماعی زندگی میں یہ معاشی دوڑ کھلی اور بے لاگ ہو، بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس میدان میں دوڑنے والے ایک دوسرے کے لیے بے رحم اور بے درد نہ ہوں۔ ہم درد اور مددگار ہوں۔ وہ ایک طرف اپنی اخلاقی تعلیم سے لوگوں میں یہ ذہنیت پیدا کرتا ہے کہ اپنے درماندہ اور پسماندہ بھائیوں کو سہارا دیں، دوسری طرف وہ تقاضا کرتا ہے کہ سوسائٹی میں ایک مستقل ادارہ ایسا موجود رہے جو معذور اور بے وسیلہ لوگوں کی مدد کا ضامن ہو، جو لوگ معاشی دوڑ میں حصہ لینے کے قابل نہ ہوں وہ اس ادارے سے اپنا حصہ پائیں، جو لوگ اتفاقاتِ زمانہ سے اس دوڑ میں گرپڑے ہوں انھیں یہ ادارہ اٹھاکر پھر چلنے کے قابل بنائے اور جن لوگوں کو جدوجہد میں اترنے کے لیے سہارے کی ضرورت ہو انھیں اس ادارے سے سہارا ملے۔ اس مقصد کے لیے اسلام نے ازروئے قانون یہ طے کیا ہے کہ ملک کی تمام جمع شدہ دولت پر ڈھائی فی صدی سالانہ اور اسی طرح پورے تجارتی سرمایہ پر بھی ڈھائی فی صدی سالانہ زکوۃ وصول کی جائے۔ تمام عشری زمینوں کی زرعی پیداوار کا دس فی صدی یا پانچ فی صدی حصہ لیا جائے۔ بعض معدنیات کی پیداوار کا بیس فی صدی حصہ لیا جائے۔ مویشیوں کی ایک خاص تعداد پر ایک خاص تناسب سے سالانہ زکوۃ نکالی جائے اور یہ تمام سرمایہ غریبوں، یتیموں اور محتاجوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک ایسا اجتماعی انشورنس ہے کہ جس کی موجودگی میں  اسلامی سوسائٹی کے اندر کوئی شخص زندگی کی ناگزیر ضرورت سے کبھی محروم نہیں رہ سکتا۔ کوئی محنت کش آدمی کبھی اتنا مجبور نہیں ہوسکتا کہ فاقے کے ڈر سے خدمت کی وہی شرائط منظور کرلے جو کارخانہ دار یا زمین دار پیش  کررہا ہو، کسی شخص کی طاقت اس کم سے کم معیار سے کبھی نیچے نہیں گرسکتی، جو معاشی جدوجہد میں حصہ لینے کے لیے ضروری ہے۔ (اسلامی نظام زندگی اور اس کے بنیادی تصورات۔ ص۳۲۵)

مئی 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau