تنقید کی دنیا کیا کہیے تجدید کا عالم کیا کہیے
ہر قلب ہے سوزاں کیا کہیے ہر آنکھ ہے پر نم کیا کہیے
ہر چشمِ تماشا حیراں ہے، اللہ یہ کیسی مجلس ہے
ہر شخص مروّت کا پتلا، اخلاق مجسم کیا کہیے
ہنگامہ و غل کا نام نہیں، ہر سمت عمل کا چرچا ہے
احساس فرائض سے گردن ہر شخص کی ہے خم کیا کہیے
جو دین ہے رحمت سب کے لیے اس دین کو برپا کرنا ہے
ہر بات ہے پکی کیا کہیےہر عزم ہے محکم کیا کہیے
خود اپنے عمل پر تنقیدیں، ایمان کی اپنے تجدیدیں
تجدید پیاپے کیا کہیے تنقید دما دم کیا کہیے
دنیا میں کسی سے بیر نہیں بس بیر ہے باطل سے ان کو
ہر کفر کے بھوں پر بل ہے پڑا ہر شرک ہے برہم کیا کہیے
ہر فرد سپاہی ہے حق کا باطل کو مٹانے کا آلہ
یہ لشکرِ دین حقانی، یہ موج منظم کیا کہیے
یہ سیج نہیں ہے پھولوں کی، یہ راہ ہے کانٹوں سے مملو
کانٹوں کی جراحت کی لذت اور صبر کا مرہم کیا کہیے
اللہ سے صبر و ہمت کی کرتے ہیں دُعا مردانِ حق
باطل سے تصادم کا خطرہ ہر آن ہے ہر دم کیا کہیے
مشمولہ: شمارہ نومبر 2024