اساتذہ کے لیے رہ نمائی سیریز

کم زور طلبہ کی سطح کیسے بلند کریں [1]

سید تنویر احمد

کم زور طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے دو تجربات کا یہاں تعارف کرایا جائے گا:

اول: اے آئی سی یو (انتہائی تعلیمی نگہداشت کا مرکز)

دوم: طلبہ کے گروپ

ان دونوں کا آپس میں تعلق بھی ہے، کیوں کہ دوسرے تجربے سے پہلے تجربے کو انجام دینے میں مدد ملتی ہے۔

پہلا تجربہ: اے آئی سی یو (academic intensive care unit)

کوویڈ کی وبا کے نتیجے میں سماج مختلف مسائل سے دوچار ہوا تھا۔ بعض مسائل وقتی تھے جوختم ہوگئے لیکن بعض مسائل کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سے ایک بچوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے۔ کوویڈ وبا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران طویل مدت تک اسکول بند رہے۔یہ میعاد کم و بیش دو سال تک رہی۔ کچھ اسکول درمیان میں کچھ مدت کے لیے کھولے بھی گئے۔ بہتوں نے آن لائن تعلیم کو جاری رکھنے کی کوشش کی تھی، لیکن ٹکنالوجی کے مسائل اور انٹرنیٹ کی دور دراز علاقوں میں عدم فراہمی کی وجہ سے آن لائن تعلیم سے طلبہ محروم رہے۔ تعلیم سے محرومی کے علاوہ دیگر سماجی و گھریلو مسائل بھی بچوں میں تناؤ بڑھانے کا محرک بنے۔ اس تناؤ کے سبب بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ کوویڈ میں بچوں پر پڑنے والے ان اثرات کو جاننے کے لیے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے چھوٹے بڑے سروے کیے۔ حکومت ہند کی وزارت تعلیم نے بھی ایک سروے کیا تھا جسے’ نیشنل اچیو منٹ سروے ‘(national achievement survey) کہا جاتا ہے۔ اس سروے نے چونکانے والے نتائج پیش کیے۔ سروے کے مطابق ہائی اسکول تک کے طلبہ کے درمیان کوویڈ کی وجہ سے دو مضامین میں، جن میں ریاضی (math)اور زبان (language) شامل ہیں سیکھنے کی صلاحیت میں تشویش ناک حد تک کم زوری دیکھی گئی۔ ان دونوں مضامین کے حوالے سے کیا گیا تجزیاتی مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ زبان کے معاملے میں طلبہ میں تقربیاً 40 فیصد کم زوری ریکارڈ کی گئی۔ جب کہ یہ کم زوری ریاضی کے مضمون میں 50 فیصد تک دیکھنے میں آئی۔ یہاں کم زوری سے مراد یہ ہے کہ طلبہ اپنی سابقہ جماعتوں میں پڑھائے گئے اسباق کو بھول گئے تھے۔ ریاضی اور زبان میں یہ کم زوری ان کے لیے اونچی جماعتوں میں مضامین کو سمجھنے میں مشکلات پیدا کررہی تھی۔یہ مسئلہ ریاضی کے ساتھ زیادہ تھا۔ اس لیے کہ ریاضی کے مضمون میں پچھلی جماعتوں کے اسباق کو سمجھنا اور ذہن نشین رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ زبان کے ساتھ بھی ہے۔

اس مسئلے کو ‘پڑھائی کا پچھڑا پن'(learning gap)کہا جاتا ہے۔ لرننگ گیپ کی جہاں ایک بڑی وجہ کوویڈ رہی ہے، وہیں عام حالات میں بھی کئی ایسے عناصر ہیں جو طلبہ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کی تعلیمی صلاحیت کو کم زور کردیتے ہیں۔ بعض طلبہ جو لرننگ گیپ کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے اکثر تعلیم کو منقطع کردیتے ہیں جنھیں ہم’ ڈراپ آؤٹ’بھی کہتے ہیں۔ اس مضمون میں کوویڈ کی وجہ سے پیدا شدہ لرننگ گیپ کے مسئلے کے علاوہ ‘ڈراپ آؤٹ ‘ کا حل بھی ساتھ ہی پیش کیا گیا ہے۔ اس بیان کردہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے کئی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا کہ یہ مسئلہ صرف کوویڈ کی ہی وجہ سے نہیں پیدا ہوا تھا، بلکہ اس کے علاوہ دیگر وجوہات بھی ہیں۔ اس لیے یہ تصور کرنا غلط ہوگا کہ لرننگ گیپ صرف کوویڈ کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کو حل کرنے کے بعد یہ مسئلہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ مستقل رہے گا اور اس کے حل کی تدابیر بھی مسلسل اختیار کی جانی چاہئیں۔اس لیے اس مضمون میں بیان کردہ’ اے آئی سی یو’کی مستقل اہمیت ہے۔ اس کے حل کے لیے عام طور پر’تعلیمی کم زور ی کے تدارک کی کلاسوں'(Special Classes/Remedial class کا اہتمام کیا جاتاہے۔ ایسی کلاسیں اکثر اسکولوں میں سالانہ امتحانات کے بعد منعقد کی جاتی ہیں۔ ان کلاسوں سے کچھ تو فائدہ ہوتاہوگا لیکن ہماری نظر میں اس سسٹم کی دو کم زوریاں ہیں۔

اول، طالب علم سال بھر تک بنا سمجھے اس خاص مضمون کو پڑھتا رہتا ہے۔ مثلاً ریاضی کے اہم اصولوں (concepts)سے ناواقف رہتا ہے۔ اس کی اس کم زوری کے باوجود اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ سال بھر تک ریاضی کی کلاس میں حاضر رہے۔ چوں کہ وہ بنیادوں سے ناواقف ہوتا ہے، اس لیے اسے ریاضی کے گھنٹے میں تناؤ محسوس ہوتا ہے۔ اسی تناؤ کی وجہ سے کم زور طلبہ ریاضی کے مضمون سے خوف کھانے لگتے ہیں اور ریاضی کے استاد سے بھی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ امتحان کے بعد خصوصی کلاسوں کا اہتمام کرنے کے بجائے سال کے آغاز ہی میں کم زور طلبہ کے معیار کو اتنا اونچا اٹھا دیا جائے کہ وہ متعلقہ جماعت کے مضامین کو سمجھ سکیں۔

اس سسٹم کی دوسری کم زوری یہ ہے کہ سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ کی نفسیات چھٹیاں منانے کی ہوتی ہیں۔ طلبہ کو چھٹیوں کے بجائے مزید کلاسوں کے لیے مجبور کیا جاتا ہے تو اس سے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ طلبہ میں یہ احساس تناؤ پیدا کرتا ہے کہ وہ تعلیمی اعتبار سے کم زور ہیں۔ اس کا ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ جو طلبہ اسپیشل کلاسوں میں شامل ہوتے ہیں وہ نفسیاتی طور پر خود اعتمادی میں کم زور ہوجاتے ہیں۔اس لیے کہ اساتذہ انھیں جس انداز سے مخاطب کرتے ہیں وہ منفی ہوتا ہے اور طلبہ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ طلبہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کم زوریوں کی وجہ سے چھٹیوں کا مزا لینے کے بجائے وہ کلاس روم میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ یہ تو رہا طلبہ کی نفسیات کا معاملہ۔ دوسری جانب اسپیشل کلاس لینے والے اساتذہ بھی منفی نفسیاتی تناؤ محسوس کرتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کم زور طلبہ کی وجہ سے وہ چھٹیوں کی خوشیاں حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔ چھٹیاں گزارنے کے لیے انھوں نے جو منصوبہ بنایا ہوا تھا، اس پر پانی پھر جاتا ہے۔ ان کے اوقات عام اسکولی دنوں کے اوقات جیسے گزرنے لگتے ہیں۔ یہ احساس اساتذہ میں چڑچڑاپن پیدا کردیتا ہے، نتیجتاً اسپیشل کلاسوں کے طلبہ کو اس طرح نہیں سکھایا جاتا جس طرح عام دنوں میں کلاسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بعض اسکولوں میں تو یہاں تک دیکھنے میں آیا کہ اساتذہ ان کم زور طلبہ سے جان چھڑانے کے لیے انھیں صرف اتنا ہی پڑھاتے ہیں جتنا کہ انھیں امتحان میں حل کرنا ہوتا ہے۔ ایسے اساتذہ کم زور طلبہ کے لیے منعقد کیے جانے والے خصوصی امتحان کے پرچوں کو فاش (out)کردیتے ہیں تاکہ وہ کم سے کم محنت کرپائیں۔

بعض اسکولوں کا رویہ اس انتہا تک غیر انسانی ہوتا ہے کہ وہ کم زور بچوں کا معیار بہتر بنانے کے بجائے اپنے اسکول سے ہی خارج کردیتے ہیں۔ انہیں یہ کہہ کر ٹرانسفر سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے کہ آپ ہمارے اسکول کے لائق نہیں ہیں۔ آپ کی وجہ سے ہمارے اسکول کا معیار گھٹ جائے گا جس کے نتیجے میں اسکول کی بدنامی ہوگی۔ یہ رویہ اسکولوں میں سماجی انصاف کے مغائر ہے۔

اگر اس تجزیے سے اتفاق ہو تو پھر کیوں نہ کسی اور سسٹم کو اختیار کیا جائے، جس میں یہ خامیاں نہ ہوں اور طلبہ اور اساتذہ دونوں ہی بغیر کسی بد دلی اور تناؤ کے اس مسئلے کو حل کرسکیں۔

چوں کہ یہ مسئلہ کوویڈ سے پہلے بھی موجود تھا، اس لیے اس کے حل کے لیے مختلف ماہرین نے اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔ حکومت دہلی کی جانب سے چلائے جارہے اسکولوں میں بھی لرننگ گیپ کو دور کرنے کے لیے ایک کارگر نظام موجود ہے۔ یہ اور اس طرح کے اور بھی نظام اور نمونوں (modules)کا مطالعہ کرکے ہم ذیل میں ایک ماڈیول پیش کررہے ہیں۔ اس کا نام اے آئی سی یو (academic intensive care unit) یعنی’ انتہائی نگہداشت کا تعلیمی مرکز’ہے۔ اے آئی سی یو کے اس ماڈیول کو گذشتہ کئی برسوں سے ‘شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز’ بیدر، کام یابی کے ساتھ نافذ کررہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے شاہین گروپ نے بڑے دل چسپ اور حیرت انگیز نتائج حاصل کیے ہیں۔ اسی نظام کے ذریعے شاہین گروپ حفاظ کرام کو جدید تعلیم سے قلیل مدت میں جوڑ کر میٹرک کا امتحان دلواتاہے۔ وہ طلبہ جو کبھی اسکول نہیں گئے تھے، وہ اس نظام کے ذریعے میٹرک اور بارھویں کے امتحانات میں اعلیٰ نمبرات حاصل کرکے نیٹ (NEET) کے ذریعے میڈیکل اور دیگر کورسوں میں داخلہ لے رہے ہیں۔

اے آئی سی یو سسٹم کے نفاذ کے لیے مندرجہ ذیل اصول (concept) اور مراحل (stages)کو سمجھنا ضروری ہے۔ پہلے ہم اس کی وضاحت کریں گے، پھر’ اے آئی سی یو ‘کے عملی پہلوؤں کو پیش کریں گے:

ہر طالب علم کی عمر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

حیاتیاتی عمر(biological age)۔ یہ طلبہ کی وہ عمر ہے جو ہم اس کی حقیقی عمر قرار دیتے ہیں۔

تعلیمی عمر(academic age)۔ یہ دراصل بچے کی تعلیمی لیاقت کو ظاہر کرنے کی عمر ہے۔ اس عمر کو ذہنی عمر (mental age) بھی کہا جاتا ہے۔ اسے ہم جماعت یا گریڈ کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی بچے کی بائیولوجیکل ایج 6 سال 4 ماہ ہے تو اس کی تعلیمی عمر گریڈ 1 یا پہلی جماعت کی ہونی چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے ‘یو کے جی ‘کے تمام مضامین سے اور اس کے نصاب سے واقفیت ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی طالب علم کی بائیولوجیکل ایج 7سال 5 ماہ ہے تو اس طالب علم کی تعلیمی عمر دوسری جماعت (گریڈ 2) کی ہوگی یعنی اس طالب علم کو گریڈ 1 کے نصاب سے پوری واقفیت ہونی چاہے۔

اگر بچے کی تعلیمی عمر اور اس کی حیاتیاتی عمر میں مطابقت پیدا نہیں ہورہی ہے تو ہم اسے لرننگ گیپ کہتے ہیں۔ مثلاً ایک طالب علم جس کی حیاتیاتی عمر 8 سال 6 ماہ ہے، اس کی تعلیمی عمر تیسری جماعت یا گریڈ 3 کی ہونی چاہیے۔ اب فرض کریں کہ اس طالب علم کو گریڈ 2 کی ریاضی کے تمام اصولوں سے واقفیت نہیں ہے یا پھر گریڈ 2 میں زبان دانی جس معیار کی ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ وہ طالب علم بس گریڈ 1 یا کلاس فرسٹ کی ریاضی کے اصولوں ہی کو جانتا ہے اور اس کی زبان دانی بھی گریڈ 1 کی سطح کی ہے تو ہم یہ کہیں گے کہ اس کی حیاتیاتی عمر 8 سال 6 ماہ ہے اور تعلیمی عمر گریڈ 1 کی ہے۔ اس طالب علم کا لرننگ گیپ ایک سال کا ہے۔ اس لیے کہ اسے دوسری جماعت کے نصاب سے مکمل واقفیت ضروری تھی، تاکہ وہ تیسری جماعت میں اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکے۔

ایک اور مثال ہم پیش کرتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک طالب علم کی حیاتیاتی عمر 13 سال اور 3 ماہ ہے تو اس طالب علم کی تعلیمی گریڈ 8 یا جماعت ہشتم کی ہونی چاہیے، لیکن اس کی صلاحیت و قابلیت جانچنے سے معلوم ہوا کہ وہ نہ تو ریاضی اور نہ ہی زبان کی معلومات جماعت ہشتم کے معیار کی رکھتا ہے، بلکہ اس میں جماعت پنجم ہی کی قابلیت ہے۔ اس طرح جانچ سے یہ پتہ چلا کہ طالب علم کی حیاتیاتی عمر 13 سال کی ہے اور تعلیمی عمر درجہ ششم کی۔ جب کہ اس کی تعلیمی عمر درجہ ہشتم ( گریڈ 8 ) کی ہونی چاہیے تھی۔ اس طالب علم کا لرننگ گیپ دو سال کا مانا جائے گا۔ ان مثالوں کے ذریعے ہم نے حیاتیاتی عمر، تعلیمی عمر اور لرننگ گیپ کو واضح کیا ہے۔

اب آئیے ہم طلبہ کی تعلیمی عمر معلوم کرنے کا ایک طریقہ تجویز کرتے ہیں۔ یہ طریقہ عام امتحانات جیسا ہی ہے۔ اگر ہم بچوں کی تعلیمی عمر جانچنا چاہتے ہیں تو پہلے ان کی حیاتیاتی عمر معلوم کی جائے اور اس عمر سے پانچ کو منہا کیا جائے۔ جو عدد باقی رہے گا وہ اس کی تعلیمی عمر ہوگی۔ لیکن ضروری نہیں کہ بچے کی تعلیمی عمر اسی اصول سے رہے۔ اس لیے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر بچوں کی تعلیمی عمر ان کی حیاتیاتی عمر کے مطابق نہیں ہوتی ہے۔ اسے جانچنے کے لیے ہمیں بچوں کے پچھلے درجے کا امتحان لینا ہوگا۔ امتحان کے پرچے میں ہر سبق سے دو سوالات لیں۔ مثلاً اگر ریاضی کی جماعت پنجم کی کتاب میں 15 اسباق ہیں تو ہر سبق سے دو سوالات کو ترتیب دیں، تو اس طرح جماعت پنجم کے لیے 30 سوالات ہوں گے۔ ان 30 سوالات کے کل نمبرات 100 ہونے چاہیے۔ یہ تو رہا ریاضی کے پرچے کو ترتیب دینے کا طریقہ۔ دیگر مضامین کے لیے بھی یہی اصول اختیار کیا جاسکتا ہے۔

اس طریقے کے علاوہ اساتذہ دیگر انداز بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ مثلاً زبانی ٹیسٹ، انٹرویو کے ذریعے صلاحیت کو معلوم کرنا یا کوئز کے ذریعے۔ اگر طالب علم اسی اسکول کا ہے جس میں وہ اب تعلیم حاصل کررہا ہے تو پچھلے درجات (classes) میں حاصل کیے گئے نمبرات کے ذریعے بھی صلاحیت کی جانچ اور تعلیمی عمر کو پرکھا جاسکتا ہے۔

اب آئیے وا ضح کرتے ہیں کہ کس طرح پرچوں کی مدد سے بچوں کی تعلیمی عمر جانچی جاسکتی ہے۔ فرض کیجیے کہ آپ آٹھویں جماعت کے طلبہ کی تعلیمی عمر یا سیکھنے کی صلاحیت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو ان میں درجہ ہفتم (ساتویں جماعت) کا ریاضی کا پرچہ تقسیم کردیں۔ واضح رہے کہ یہ پرچہ اوپر بیان کردہ اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔یعنی اگر آپ نے آٹھویں جماعت کے 40 بچوں کا ٹیسٹ لیا ہے اور ان پرچوں کی جانچ کے بعد مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوئے:

جملہ 40 طلبہ میں سے 10 طلبہ نے 80 سے زیادہ نمبرات حاصل کیے اور 10 بچوں نے35 سے کم نمبرات حاصل کیے ہیں۔ اس امتحان کے نتائج کا تجزیہ بتاتا ہے کہ 35 سے کم نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 10 اور 35 سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 30 ہے۔ اگر اس نتیجے کے بارے میں عام اساتذہ سے سوال کیا جائے کہ کتنے طلبہ درجہ ہشتم میں جانے کے لائق ہیں تو جواب ہوگا کہ 30 طلبہ۔ اس لیے کہ ہمارے اسکولوں میں کسی مضمون میں کام یابی حاصل کرنے کا معیار صرف 35 نمبرات ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 35 نمبرات میں کام یابی کا معیار صرف بر صغیر اور چند تیسری دنیا کے ممالک میں رائج ہے۔ سامراجی نو آبادیاتی حکومتوں نے 35 نمبرات کا معیار جاری کیا تھا، اس لیے کہ وہ مقامی باشندوں کو اعلیٰ تعلیم سے متصف کرنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مقامی باشندوں میں سے چند افراد کو اتنی بنیادی تعلیم دی جائے کہ وہ حکومت کے دفتروں میں کلرکی کا کام انجام دے سکیں۔بدقسمتی سے آج بھی ہم اسی تعلیمی نظام کے غلام ہیں اور 35 نمبرات حاصل کر نے والے طلبہ کو کام یاب قرار دیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں کام یابی کے لیے کم سے کم ہر مضمون میں 60 نمبرات حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ ‘اے آئی سی یو’کے لیے کم سے کم 80 نمبرات کا تعین ہم نے کیا ہے۔ 80 نمبرات کی شرط ریاضی کے مضمون میں لازم ہے جب کہ دوسرے مضامین میں مزید 10 نمبرات کی رعایت دی جاسکتی ہے۔

35 نمبرات میں کسی طالب علم کو کام یاب قرار دینے کا مطلب یہ ہوا کہ وہ نصاب کے 35 فیصد اصولوں اور معلومات کو جانتا ہے جب کہ 65 فیصد کو نہیں جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 35 نمبرات حاصل کرنے والا طالب علم 65 فیصد ناواقفیت کے ساتھ اونچے درجے میں جارہا ہے۔ اس کا طالب علم پر منفی اثر پڑتا ہے، اس لیے کہ بہت سارے اصولوں اور معلومات کا تعلق پچھلی جماعت کے نصاب سے ہوتا ہے۔ اس لیے ہم 80 نمبرات حاصل کرنے والے طالب علم کو اگلی کلاس میں بٹھاتے ہیں، ورنہ’ اے آئی سی یو’ کے ذریعے اس کی لیاقت میں اضافہ کرکے اس طالب علم کو 80 نمبرات حاصل کرنے والا بناتے ہیں۔ واضح رہے کہ جو طلبہ 80 یا اس سے زیادہ نمبرات حاصل کرتے ہیں تو ان کے پرچوں کی جانچ کے نتیجے میں طلبہ کی کسی غلطی یا غلط جواب کی نشان دہی ہوتی ہے تو اس غلطی کے حوالے سے اس مخصوص طالب علم کو آگاہ کیا جاتاہے اور جس ریاضی کے اصول کو سمجھنے میں اس سے غلطی یا کم زوری ہوئی ہے، اس کو وہ اصول سمجھایا جاتا ہے۔ تاکہ طالب علم کو پچھلی جماعت کے تمام اصولوں سے واقفیت ہوجائے۔

اب آئیے ہم یہ بتاتے ہیں کہ اوپر دی گئی مثال کے 40 طلبہ کے ساتھ’ اے آئی سی یو’کا اہتمام کیسے کیا جائے؟

مرحلہ اول:  جماعت ہشتم کے 40 طلبہ کا ٹیسٹ کیا جائے۔ فرض کیجیے کہ ان میں سے 10 طلبہ نے 80 سے زائد نمبرات حاصل کیے تھے۔ ان 10 طلبہ کے لیے دو، تین مخصوص کلاسوں کا اہتمام کیا جائے اور طلبہ نے جوابات لکھنے میں جو غلطیاں کی ہیں، ان کلاسوں میں انھیں واضح کیا جائے تاکہ طلبہ 100 فیصد گذشتہ کلاس کے ریاضی کے اصولوں کو سمجھ لیں۔ اس کے بعد انھیں آٹھویں جماعت کی مستقل کلاس( regular class) میں داخل کردیا جائے۔

مرحلہ دوم:  اب ہمارے پاس 30 طلبہ ہیں جنھوں نے 80 نمبرات سے کم حاصل کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام طلبہ جماعت ہشتم کے لائق نہیں ہیں۔ اگر انھیں 35 نمبرات سے زیادہ حاصل کرنے کی بنیاد پر جماعت ہشتم میں بٹھایا بھی جاتا ہے تو طلبہ کو تناؤ محسوس ہوگا۔ اس لیے کہ انھوں نے گذشتہ نصاب سے پوری طرح واقفیت حاصل نہیں کی ہے۔ لہٰذا ان 30 طلبہ کا ایک اور امتحان ان کی تعلیمی عمر یا بیس لائن (baseline) معلوم کرنے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ اب ہم ان 30 طلبہ کا جماعت ششم کا ٹیسٹ لیں گے۔

مرحلہ سوم:  فرض کیجیے کہ جماعت ششم کے ٹیسٹ کے نتیجے میں 30 طلبہ میں سے 20 طلبہ نے 80 نمبرات سے زیادہ حاصل کیے۔ اس امتحان کا نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ 20 طلبہ کی تعلیمی لیاقت جماعت ہفتم کی ہے۔ اس لیے کہ انھوں نے 80 سے زائد نمبرات حاصل کیے ہیں۔ ان 20 طلبہ کو 6 یا 10 کے گروپ میں تقسیم کردیا جائے گا۔ یعنی ان 20 طلبہ کے دو یا تین گروپ بنائے جائیں گے۔ طلبہ کے سیکھنے کی صلاحیت کے اعتبار سے استاد گروپوں کی تشکیل کرلے، یعنی ہر گروپ میں ذہین، اوسط اور کم زور تینوں طرح کے طلبہ ہونے چاہئیں۔ (گروپ سازی کا ایک طریقہ ہم آنے والے صفحات میں طلبہ کی گروپ سازی کے عنوان کے تحت بیان کریں گے۔ اگر اساتذہ اس تکنیک کا مطالعہ کرلیں گے تو مفید تر گروپ سازی میں مدد ملے گی)۔

ان دو یا تین گروپوں کو جماعت ہفتم کا نصاب پڑھایا جائے گا۔ ان کی یہ مخصوص کلاس کوچنگ کے انداز کی ہوگی نہ کہ عام روایتی کلاس۔ یہ’ اے آئی سی یو’کم سے کم ہر دن ڈیڑھ یا دو گھنٹے کی ہونی چاہیے۔ جب اس کلاس کا اہتمام کیا جائے گا تو ‘ اے آئی سی یو’کے طلبہ ریاضی کی ریگولر کلاس اٹینڈ (attend) نہیں کریں گے۔

ایک اور مضمون یا تو لنگویج یا پھر سوشل اسٹڈیز کی کلاس سے بھی ان طلبہ کو رخصت دی جاسکتی ہے۔ یہ’ اے آئی سی یو’ تقریباً 15 دن تا ایک ماہ جاری رکھا جائے۔ تاوقتیکہ طلبہ جماعت ہفتم کی ریاضی کا مکمل نصاب پورا کرلیں۔ نصاب کی تکمیل کے بعد ان طلبہ کو جماعت ہشتم (آٹھویں جماعت) کی ریگولر کلاس میں بٹھایا جائے۔

مرحلہ چہارم:  اب دس طلبہ وہ رہ گئے ہیں جنھوں نے اوپر بیان کردہ ( چھٹی جماعت کا ریاضی ٹیسٹ ) میں 80 سے کم نمبرات حاصل کیے ہیں۔ ان طلبہ کی تعلیمی عمر ( اکیڈمک ایج ) معلوم کرنے کے لیے ان کا درجہ پنجم کی ریاضی کا ٹیسٹ لیا جائے۔ فرض کیجیے کہ ٹیسٹ کا نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ دس میں سے پانچ طلبہ نے 80 سے زیادہ نمبرات حاصل کیے ہیں اور پانچ طلبہ نے 80 نمبرات سے کم، تو سمجھاجائے گا کہ پانچ طلبہ کی تعلیمی عمر درجہ ششم یا گریڈ 6 کی ہے۔ ان پانچ طلبہ کے لیے’ اے آئی سی یو’ کا اہتمام کیا جائے گا۔ پہلے انھیں جماعت ششم کا نصاب مکمل کرایا جائے گا پھر ہفتم کا اور ہفتم کے نصاب کی تکمیل کے بعد انھیں آٹھویں جماعت کی ریگولر کلاس میں بھیجا جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ ان طلبہ کی’ اے آئی سی یو’کلاس دوماہ تک چلے۔ اب رہ گئے مزید پانچ طلبہ، ان پانچ طلبہ کا ٹیسٹ چوتھی جماعت کے لیے لیا جائے گا۔ اگر یہ تمام پانچ طلبہ 80 نمبرات سے زیادہ حاصل کرتے ہیں تو ان کی’ اے آئی سی یو’کلاس جماعت پنجم کے نصاب سے شروع ہوگی۔ اگر ان پانچ طلبہ میں سے ایک طالب علم یا دو طلبہ 80 نمبرات سے کم حاصل کرتے ہیں تو پھر ان کا ٹیسٹ مزید پچھلی کلاسوں کے لیے ہوگا۔ ٹیسٹ کے بعد ان کے ذریعے حاصل کیے گئے نمبرات ان کی تعلیمی قابلیت یا اکیڈمک ایج کو بیان کریں گے۔ مندرجہ بالا اصولوں کے مطابق ان کے لیے’ اے آئی سی یو’کا اہتمام کیا جائے۔

ہم نے اوپر’ اے آئی سی یو’کے طریقہ کار کو واضح کیا ہے۔’ اے آئی سی یو ‘کے طریقہ کار میں بیس لائن یا طلبہ کی اکیڈمک ایج معلوم کرنے کے طریقے کو استاد اپنے طور پر بھی وضع کرسکتے ہیں۔ اسی طرح’ اے آئی سی یو’کلاس کا اہتمام بھی اوپر بیان کردہ طریقے کے ذریعے کیا جاسکتا ہے یا اس کے علاوہ بھی کوئی اور مؤثر طریقہ اختیار کیا جاسکتاہے۔ اس پورے پروجیکٹ میں مقصد اہم ہے، نہ کہ طریقہ کار۔ مقصد یہ ہے کہ طلبہ کی حیاتیاتی عمر (بایولوجیکل ایج) اور تعلیمی عمر (اکیڈمک ایج) میں مطابقت پیدا ہوجائے اور ان میں موجود لرننگ گیپ ختم ہوجائے یا کم سے کم ہوجائے۔

ہم نے مثال ریاضی کے مضمون کی دی ہے۔’ اے آئی سی یو’ریاضی (math)اور زبان (language)کے لیے لازماً چلانا چاہیے۔ اس کے علاوہ دیگر مضامین کے لیے بھی’ اے آئی سی یو’کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ ریاضی کا مضمون ایک ایسا مضمون ہے جس میں اگلی جماعت کے نصاب کا گہرا تعلق پچھلی جماعت کے نصاب سے ہوتا ہے۔ طلبہ پچھلی جماعت کے اصولوں سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے ہیں تو پھر انھیں اگلی جماعت کا نصاب مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر طلبہ ریاضی سے خوف کھاتے ہیں اور مضمون سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح ریاضی کے استاد اس لیے پسندیدہ نہیں ہوتے ہیں کہ وہ طلبہ کو پچھلی کلاس کے اصولوں سے پوری طرح واقفیت کرائے بغیر یا ان کی صلاحیت کو پرکھے بغیر نصاب کو پڑھانا شروع کردیتے ہیں۔ جب طالب علم کی معلومات کم زور ہوتی ہیں، تو وہ ریاضی سمجھ نہیں پاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ استاد سے خوف کھاتا ہے یا نفرت کرنے لگتا ہے۔

ریاضی کی طرح زبان کا بھی پوری طرح جاننا اور اس میں قابلیت پیدا کرنا ضروری ہے۔ اگر طلبہ میں زبان دانی کی کیفیت کو بڑھایا جائے، تو وہ دیگر مضامین بھی بڑی حد تک اپنے آپ پڑھ سکتے ہیں۔ اکثر طلبہ کونسپٹ تو سمجھ جاتے ہیں لیکن لنگویج (زبان) کم زور ہونے کی وجہ سے وہ امتحان میں لکھ نہیں پاتے ہیں۔ زبان کی کم زوری کا ایک اور اثر یہ ہوتا ہے کہ طلبہ سمجھ کر لکھنے کے بجائے رٹے ہوئے جملوں کو امتحان میں لکھ دیتے ہیں۔زبان کی کم زوری عملی اور پروفیشنل زندگی میں طلبہ کے لیے مسائل کھڑے کردیتی ہے اور بیشتر موقعوں پر ترقی کی راہ میں رکاوٹ بھی بنتی ہے۔ اس لیے زبان کی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لیے’ اے آئی سی یو ‘کا اہتمام کرنا کارگر ثابت ہوگا۔

اے آئی سی یو کو مزید سمجھنا چاہتے ہوں تو اس لنک پر مصنف کی ویڈیو کو دیکھا جاسکتا ہے: https://youtu.be/rnWxLtVM9pg

‘اے آئی سی یو ‘کے اہتمام کے ذریعے مختلف تعلیمی ادارے بہترین نتائج حاصل کررہے ہیں۔’ڈراپ آؤٹ’ طلبہ، وہ طلبہ جو مدارس سے فارغ التحصیل ہیں یا پھر وہ جنھوں نے کبھی اسکول کا رخ ہی نہیں کیا، ان تمام زمروں کے طلبہ کو جب اس سسٹم سے گزارا جاتا ہے تو وہ اپنی عمر کی مناسبت سے درجہ دہم یا دیگر درجات کے امتحانات بآسانی پاس کرلیتے ہیں۔

‘اے آئی سی یو ‘کے بہترین نتائج کی وجوہات درجہ ذیل ہیں:

ابتدا میں طلبہ کی تعلیمی عمر (academic age) معلوم کی جاتی ہے اور اس بنا پر انھیں اس نصاب کو پڑھایا جاتا ہے جس کو پڑھنے کی وہ لیاقت یا سمجھ رکھتے ہیں۔ پھر انھیں بتدریج تعلیمی اعتبار سے اونچا اٹھایا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف اسکولوں میں صرف طلبہ کی حقیقی عمر (biological age) کی مناسبت سے انھیں تعلیم دینے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے طلبہ میں تناؤ پیدا ہوتا ہے۔ اس کا اثر طلبہ کے سیکھنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے اور پھر طلبہ سیکھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔

‘اے آئی سی یو’ میں طلبہ کی قلیل تعداد بھی 6 تا 10 ہوتی ہے۔ مختصر تعداد کی وجہ سے استاد کا ہر طالب علم پر توجہ مرکوز کرنا ممکن ہوتاہے۔ اس عمل کو ‘بچے پر مرکوز تعلیمی نظام ‘(child centered education system)کہا جاتا ہے۔ ویسے تو اس نظام کی اہمیت کو بار بار واضح کیا جاتا ہے اور بعض اسکول اپنے اشتہارات میں اس اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر اسے عصری تعلیم کے اسکولوں میں بہت ہی کم اختیار کیا جاتا ہے۔ البتہ اس سسٹم کا مؤثر استعمال حفظ قرآن کی کلاسوں میں کیا جاتا ہے۔ حفظ قرآن کے مدارس میں یہ سسٹم برسوں سے جاری ہے۔ یہاں کی کلاس میں استاد ایک جگہ بیٹھتے ہیں اور ان کے سامنے طلبہ ہوتے ہیں۔ ہر طالب علم باری باری استاد کے قریب آتا ہے، اپنا سبق سناتا ہے اور نیا سبق لے کر اپنی جگہ واپس بیٹھ جاتا ہے۔ پھر عام طلبہ اپنے اپنے سبق کی مشق کرنے لگتے ہیں۔ یہ سسٹم ‘بچوں پر مرکوز تدریس ‘(child centered teaching)کی ایک مثال ہے۔

‘اے آئی سی یو’کے علاوہ عام مروجہ طریقہ تدریس میں اساتذہ عموماً بلیک بورڈ کی طرف دیکھتے ہوئے اسباق پڑھاتے ہیں۔ درمیان میں سوال پوچھتے بھی ہیں تو جواب چند ذہین طلبہ کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ اس پر استاد سمجھ لیتے ہیں کہ تمام طلبہ نے اس سبق کو سمجھ لیا ہے۔ اس طرز تدریس میں خاصے طلبہ تعلیمی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ‘اے آئی سی یو’ میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ استاد مجموعی کلاس کے بجائے ہر طالب علم کے سبق کو سمجھ لینے کے بعد ہی سبق آگے بڑھاتے ہیں۔

‘اے آئی سی یو’ میں چوں کہ وقت کم سے کم ڈیڑھ گھنٹے کا ہوتا ہے، اس لیے استاد پورے اطمینان کے ساتھ طلبہ کو سبق پڑھاتے ہیں۔ اس کے برخلاف عام مروجہ سسٹم میں ایک گھنٹی زیادہ سے زیادہ 45 منٹ کی ہوتی ہے۔ ان 45 منٹوں میں نصاب کے بڑے حصے کو پڑھانا ہوتا ہے، اس لیے چائلڈ سینٹرڈ ٹیچنگ چاہتے ہوئے بھی ممکن نہیں ہوتی۔

‘اے آئی سی یو’ میں ایک اور تعلیمی خصوصیت پر عمل کرنا ممکن ہے جسے ‘باہم تعاون سے سیکھنا’ (collaborating learning)کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم میں طلبہ سیکھنے کے عمل میں ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔ ‘اے آئی سی یو’کی کلاس میں چوں کہ طلبہ کی تعداد مختصر ہوتی ہے، اس لیے یہ عمل ممکن ہے۔ اس کے ذریعے سیکھنے کا عمل مؤثر ہوتا ہے۔ اس لیے کہ سبق کے بعض پہلوؤں کو استاد بچوں کو اتنا بہتر نہیں سمجھا سکتے جتنا کہ طلبہ اپنے ہم جماعت دوستوں کو سمجھا سکتے ہیں۔ اس عمل کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ سبق کے کسی ایک پہلو کو سمجھاتے وقت اگر استاد کا لب و لہجہ تلخ ہوجاتا ہے تو اس کا اثر طلبہ پر منفی پڑتا ہے۔ جب کہ اسی نکتے کو جب طالب علم کا کوئی ساتھی یا دوست سخت لہجے میں ہی سہی سمجھاتا ہے تو دوست پر اس کا منفی اثر نہیں پڑتا۔

‘اے آئی سی یو’کی انجام دہی میں درپیش مشکلات

جن اسکولوں میں’ اے آئی سی یو’کو برتا جارہا ہے، ان اسکولوں کے اساتذہ ابتدا میں درج ذیل مشکلات کو پیش کرتے ہیں:

کم زور طلبہ کو ان کی’تعلیمی لیاقت (academic age)کی بنیاد پر انھیں ان کی کلاس سے نچلی کلاس کا نصاب پڑھایا جاتاہے تو اکثر والدین شکایت کرتے ہیں۔ اس مشکل کاحل بڑا آسان ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ’ اے آئی سی یو’کے اہتمام سے پہلے تمام طلبہ کے سرپرستوں پر’ اے آئی سی یو’کے سسٹم کو واضح کریں اور انھیں یہ بھی بتادیں کہ طلبہ اگر کسی مضمون میں کم زور رہیں گے تو ان کی بہتری کے لیے پچھلے نصاب کو بھی پڑھایا جائے گا۔

‘اے آئی سی یو’کے دوران کبھی طلبہ کو نچلی کلاسوں میں نہ بٹھائیں بلکہ’ اے آئی سی یو’ کے لیے علاحدہ کلاس روم کا بندوبست کریں۔

بعض اساتذہ یہ سوال کرتے ہیں کہ’ اے آئی سی یو’کے دوران بچے اپنے ریگولر نصاب سے محروم ہوجائیں گے۔ ہمارا ان سے یہ کہنا ہے کہ’ اے آئی سی یو ‘کے طلبہ کی ٹریننگ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ وہ طلبہ ریگولر کلاس کے نصاب تک پہنچ نہ جائیں۔ جب وہ اپنی کلاس کے نصاب تک پہنچ جائیں تو دوسرے دن سے انھیں ان کی کلاس میں بٹھایا جائے۔ اب وہ طالب علم اپنی جماعت کے نصاب کو پوری طرح سمجھنے کے قابل ہوگا لہٰذا کلاس میں اس کی کارکردگی بہتر ہوگی۔

بعض اساتذہ ‘ اے آئی سی یو’کے اہتمام کے سلسلے میں معمولی معمولی سوالات یا مسائل پیش کرتے ہیں۔ مثلاً ‘اے آئی سی یو’کا انتظام کس کلاس میں کیا جائے؟ یا یہ کہتے ہیں کہ “ہمارے اسکول میں خالی کلاس موجود نہیں ہے۔” اس کا جواب یہ ہے کہ بچوں کی تعلیمی بہبود کے لیے اگر اسکول مخلص ہے تو پھر وہ جگہ بنالے گا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایک کلاس روم میں کئی جماعتوں کی’ اے آئی سی یو’کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ خالی کلاس نہیں ہو، تو آفس، اسٹاف روم، لیب یا کسی خالی جگہ پر بھی اس کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ “ہمارے پاس اسٹاف کی کمی ہے۔” اس کا جواب یہ ہے کہ ‘اے آئی سی یو ‘کے لیے مزید اسٹاف کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ ایک کلاس میں چار سے پانچ گروپ تک بیٹھ سکتے ہیں۔اس صورت میں استاد پہلے گروپ میں چند منٹ بیٹھیں، سبق کو سمجھائیں، کچھ مشقی کام دیں اور پھر دوسرے گروپ میں چلے جائیں، وہاں اس گروپ کی مناسبت سے سبق پڑھائیں، مشقی کام دیں اور پھر تیسرے گروپ میں چلے جائیں۔ تمام گروپوں میں بیٹھنے کے بعد پھر پہلے گروپ میں آجائیں، یہاں مشقی کام کی جانچ کریں پھر نیا سبق پڑھائیں اور مشقی کام دیں۔ اس طرح ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں جتنا ممکن ہوسکے اتنے اسباق پڑھائے جاسکتے ہیں۔

دوسرا تجربہ: طلبہ کے گروپ

اکثر اسکولوں میں طلبہ کے ہاؤس (House)تشکیل دیے جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ ہاؤس گیم اور اسپورٹ یا دیگر مقابلوں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ان ہاؤسوں کو تشکیل دینے کا طریقہ بھی ہر اسکول میں جدا ہے۔ یعنی اسکولوں میں یہ گروپ رول نمبر کے اعتبار سے بنائے جاتے ہیں تو بعض اسکولوں میں ہاؤسوں کی تشکیل ابتدائی حرف تہجی یا انگریزی کے الفباء (alphabetical word)کے مطابق کی جاتی ہے۔ ہم یہاں ہاؤسوں کا استعمال دو مقاصد کے حصول کے لیے کرنے کا منصوبہ پیش کررہے ہیں۔

اول، کم زور یا دیر سے سمجھنے والے (slow learner)طلبہ کی صلاحیتوں کو اونچا اٹھانے کے لیے، دوم، کلاس میں تعلیمی اور سماجی اعتبار سے ناہم واری کو دور کرنے کے لیے۔ سوم، طلبہ کے درمیان مختلف مسابقے مثلاً اسپورٹس، کوئز اور دیگر مقابلوں کے لیے۔ ان مقاصد کا حصول مندرجہ ذیل تین اہم ذرائع سے کیا جائے گا:

(1) ہم عمر گروپ کی تعلیم (peer group learning)۔

تعلیمی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ اپنے ہم عمر دوستوں سے بآسانی کئی باتیں اور اصول سیکھ سکتے ہیں۔ دونوں کے باہم ایک دوسرے سے سیکھنے کا عمل مؤثر ہوا کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بالخصوص زبان طلبہ اپنے دوستوں کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ زبان کے علاوہ اخلاق و عادات، پسند و ناپسند، رد عمل، احساسات و جذبات کا اظہار، ان تمام کو اکثر دوستوں سے سیکھا جاتا ہے اور اسی عمل کو peer group learning کہا جاتاہے۔ ماہرین نفسیات کی یہ رائے ہے کہ اسکول کی تعلیم (نصابی تعلیم ) کے لیے استاد کو، طلبہ کی اس خصوصیت کا استعمال کرنا چاہیے۔ اب تدریسی عمل میں انقلابی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ تدریسی عمل میں ‘چاک اینڈ ٹاک’ کا زمانہ ختم ہوچکا ہے۔ یعنی استاد یہ سمجھا کرتے تھے کہ پڑھانے کا مطلب لیکچر دینا اور بلیک بورڈ پر محض سوالات و جوابات لکھ دینا کافی ہوتا ہے لیکن اب تدریسی عمل میں peer group learning کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

(2) peer group learning کی طرح ایک اور عمل ہے جسے collaborative learning (باہمی تعاون کے ذریعے تعلیم) کہا جاتا ہے۔ اس لرننگ میں طلبہ ایک دوسرے کے تعاون سے نئے علم کو سیکھتے یا نئی معلومات کو دریافت کرتے ہیں۔ peer group learning میں ذہین طالب علم کم زور طالب علم کو سکھاتا ہے، جب کہ collaborative learning میں کم و بیش برابر کی ذہانت رکھنے والے طلبہ ایک دوسرے کے تعاون سے علم کو باہم سیکھتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ طلبہ بعض نکات کو استاد سے بآسانی سیکھ نہیں پاتے ہیں۔ اس لیے کہ استاد کی ذہنی استعداد طلبہ سے اونچی ہوتی ہے۔ لیکن ایک ہم عمر دوست ذہنی صلاحیتوں میں بھی کم و بیش برابر ہوتا ہے اور وہ دوست کو سکھانے کے اسلوب سے واقف ہوتا ہے۔ اس کی یہ واقفیت کسی ٹریننگ کے نتیجے میں نہیں بلکہ فطری ہوتی ہے۔

سیکھنے کے عمل کے دوران اگر استاد طلبہ کو ڈانٹتے ہیں یا غلط الفاظ کا استعمال جانے یا انجانے میں کردیتے ہیں تو کئی طلبہ میں ذہنی تناؤ پیدا ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ استاد کے بجائے اگر دوست کچھ سخت الفاظ بول دے تو طالب علم کی نفسیات پر اتنا گہرا اثر نہیں ہوتا جتنا کہ استاد کے کہنے پر ہوتا ہے۔ اس لیے  collaborative learningاور peer group learningکو آج کل اساتذہ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ذیل میں ہم اس کا عملی طریقہ پیش کررہے ہیں:

ہم جانتے ہیں کہ گروپوں کا استعمال کلاس روم مینجمنٹ کے لیے بھی کیا جاتا ہے، یعنی کلاس روم میں طلبہ کو بٹھانے کا نظم کیسے ہو؟ اس کے متعدد طریقے رائج ہیں۔ پہلا یہ کہ کلاس میں ذہین طلبہ آگے کی نشستوں پر بیٹھتے ہیں اور کم زور طلبہ پیچھے بیٹھا کرتے ہیں۔ جب کہ منطق یہ کہتی ہے کہ کم زور طلبہ کو آگے بٹھایا جائے اور ذہین طلبہ کو پیچھے۔ ویسے کئی اسکولوں میں اس طرح کا سسٹم بھی رائج ہے۔ اسے ہم دوسرا طریقہ کہہ سکتے ہیں اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ طلبہ کی صفوں کی ترتیب کو بدلا جائے۔ یعنی جو طلبہ آج پہلی صف میں بیٹھے ہیں، وہ کل دوسری صف میں اور پرسوں تیسری صف میں بیٹھیں۔ اس طرح یہ تین نظام قائم ہیں۔ ‘ گروپ سسٹم ‘ ایک چوتھا نظام بھی پیش کرتا ہے جسے ہم آگے بیان کررہے ہیں:

اس سے قبل ہم یہ بیان کردیں کہ گروپ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے مقابلہ جات اور مختلف مسابقات منعقد کیے جاتے ہیں۔اسکول یا کلاس روم کے مختلف انتظامی و انصرامی امور بھی ان گروپوں کو سونپے جاتے ہیں۔ اسکول میں منعقد ہونے والے مختلف پروگراموں کے انتظام میں بھی ان گروپوں کی مدد لی جاتی ہے۔ مختلف کاموں کو تفویض کرنے کے لیے یہ گروپ مددگار ثابت ہوتے ہیں۔نیز مندرجہ بالا مقاصد کے علاوہ بھی ہاؤس گروپوں (houses groups)کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اب آئیے اس پہلو پر غور کریں کہ ہاؤس کس طرح بنائے جانے چاہئیں؟ درج بالا مقاصد کے حصول کے لیے مندرجہ ذیل طریقے کو اختیار کیا جاسکتا ہے:

اس مرحلے کو واضح کرنے سے قبل ہم ایک مطالعہ (study) پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس مطالعے نے یہ واضح کیا ہے کہ ہر جماعت میں عموماً 10 تا 15 فیصد طلبہ ذہین ہوتے ہیں۔ 60 تا 70 فیصد طلبہ اوسط درجے کے اور 15 سے 20 فیصد کم زور ہوتے ہیں۔ گروپوں کو ترتیب دینے سے پہلے استاد اپنی کلاس کے طلبہ کو مندرجہ ذیل تین زمروں (categories) میں بانٹ دیں۔ (1) ہیگ (HAG) یعنی (high academic group) یا (high acceptance group) یعنی ایسے طلبہ جو تعلیمی اعتبار سے بہتر اور ذہین ہوتے ہیں۔(2) میگ (MAG) یعنی (medium academic group) یا (medium acceptence group۔ اس گروپ میں اوسط درجے کے طلبہ ہوتے ہیں۔ (3) لیگ (LAG) یعنی (low academic group)۔ یعنی ایسے طلبہ جو تعلیمی اور ذہانت کے اعتبار سے کم زور ہوتے ہیں۔اساتذہ مختلف انداز سے بچوں کی جانچ کرکے طلبہ کو ان تین حصوں میں تقسیم کریں۔ درجہ بندی کے لیے طلبہ کی کلاس میں کارکردگی، ان کے گذشتہ امتحانات کے ریکارڈ یا پھر طلبہ کی دل چسپیاں، وغیرہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے درجہ بندی کا عمل اختیار کیا جائے۔ اور ہاں!، اس درجہ بندی کا علم صرف اساتذہ کے پاس ہو۔ کون سا طالب علم کس زمرے میں ہے؟ یہ بات طلبہ کو نہیں بتانی چاہیے۔اس سے ان کی نفسیات پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس عمل کو کلاس ٹیچر خود انجام دے سکتے ہیں۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ دو تین اساتذہ باہمی مشاورت سے طلبہ کی درجہ بندی کریں۔ یاد رہے کہ اس درجہ بندی کا پورا ریکارڈ خفیہ ہو۔ درجہ بندی کے بعد اب آپ ہاؤس بنانے کا عمل شروع کریں۔ فرض کیجیے کہ آپ درجہ پنجم کے لیے ہاؤس کی تشکیل کررہے ہیں جس میں کل طلبہ کی تعداد 40 ہے۔ مناسب ہوگا کہ آپ پوری کلاس میں پانچ گروپ بنائیں، یعنی ہر گروپ میں 8 طلبہ ہوں گے۔ ان 8 طلبہ کا انتخاب اس طرح ہو کہ کم سے کم ایک ذہین طالب علم، ایک یا دو کم زور طلبہ اور پانچ اوسط درجے کے طلبہ ہوں تو اس طرح ہر گروپ میں با صلاحیت طلبہ موجود ہوں گے۔ ذہین طالب علم، اوسط کی اور وہ کم زور طلبہ کی مدد کرے گا۔

کم زور طلبہ اوسط طلبہ سے سیکھیں گے اور اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ اسی طرح اگر ہر ہاؤس میں تینوں زمروں کے طلبہ ہوتے ہیں توپھر ‘peer group learning’ اور’collaborative learning’ کے ذریعے طلبہ کا معیار بلند ہوگا۔ اس طرح کی گروپ سازی کے بعد کلاس روم مینجمنٹ میں بھی مدد ملے گی۔ اب ہدایت یہ دی جائے کہ ہر گروپ ایک ہی صف میں یا ایک ہی ساتھ بیٹھے گا۔ ہاؤسوں کا تعین آپ کلاس روم کی تعداد اور ہر صف میں بٹھائے جانے والے طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے طے کرسکتے ہیں۔ بعض انٹرنیشنل اسکولوں میں ہر مضمون کے اعتبار سے طلبہ کے علاحدہ علاحدہ گروپ ہوتے ہیں، اس لیے کہ ایک طالب علم ریاضی میں کم زور طلبہ کے زمرے میں آسکتا ہے تو وہی طالب علم لنگویج کے مضمون میں ذہین طلبہ کے زمرے میں شامل ہوسکتا ہے۔ بہر حال کلاس ٹیچر اپنی سہولت اور صوابدید کے اعتبار سے ہاؤسوں کی تشکیل کرسکتے ہیں۔

اے آئی سی یو میں جب ہم گروپ بناتے ہیں تو اس وقت بھی اوپر بیان کیے گئے طریقہ کار کو ملحوظ رکھا جائے تو’ اے آئی سی یو’کی اثر پذیری زیادہ بہتر ہوگی۔ ہاؤسوں کے اس عمل کو مزید وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لیے اس مضمون کے مصنف کے متعلقہ موضوع پر دیے گئے لیکچر کو اس یوٹیوب لنک پر دیکھا جاسکتا ہے:

نومبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau