حضرت لقمان علیہ السلام

(قرآن مجید کی روشنی میں)

امان اللہ خان

تین شخصیتیں ایسی ہیں جن کا اُن کے نام کے ساتھ قرآنِ مجید میں ذکرِ خیر ہوا ہے، اور جن کا شمار غیر انبیاء میں ہوتا ہے۔

(۱) حضرت لقمٰن ،(۲) حضرت طالوت، (۳) حضرت ذوالقرنین ، ان میں درجہ اول حضرت لقمٰن کو حاصل ہے۔  اس لئے  کہ مکمل سورہ ہی حضرت لقمٰن کے نام سے ہے، دوسرے یہ کہ سورہ کا دوسرا رکوع حضرت لقمٰن کی نصیحتوں پر مشتمل ہے۔  آپ کی نصیحتوںکی اللہ تعالیٰ نے اس طرح قدر افزائی کی کہ ایک مکمل سورۃ ہی آپ کے نام سے قرآنِ مجید میں تعریف و تحسین کے ساتھ جگہ پاگئی۔  آپ کی شخصیت کے متعلق قدیم و جدید تفاسیر میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔  ہم اگر حضرت لقمٰن کی نصیحتوں پرقرآنی آیات کی روشنی میں غور کریں تو سب سے بہتر تعارف صاحبِ تدبّر قرآن  مولانا امین احسن اصلاحیؒ  کا ہے۔ مولاناؒ فرماتے ہیں کہ حضرت لقمٰن  یمن میں ایک قبیلہ کے سردار تھے۔  اپنی ضعیف العمری میں آپ نے اپنی سرداری اپنے بیٹے کو منتقل فرماتے وقت وہ نصیحتیں فرمائیں ( جو ایک قبیلہ کے سردار کے شایانِ شان آتی ہیں)۔

(۱) بیٹا نماز قائم کر :  اولیاء اللہ کی پہلی پہچان یہ ہے کہ وہ نماز کے پابند ہوتے ہیں،  اور اپنی اولاد کو بھی اس کی تلقین و تاکید کرتے ہیں۔

(۲) اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر، یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے:  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لقمٰن کی نصیحتیں انبیائی تعلیمات پر مبنی تھیں۔    دعوتِ دین کی راہ میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں صبر ہی کی وجہ سے داعی ساری مشکلوں کو  برداشت کرپاتا ہے۔

(۳) اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر :  یعنی نظر پھیر کر بات نہ کر، حضرت لقمٰن نے اپنے بیٹے کو  یہ نصیحت اس تناظر میں فرمائی کہ  اقتدار پر فائز  شخص کا مزاج کچھ ایسا بن جاتا ہے کہ جب کوئی مجبور و بے سہارا آدمی اس سے بات کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص نظر ملائے بغیر دوسری طرف رخ پھیر لیتا ہے اور ایسا تاثر دیتا ہے جیسا کہ اس آدمی  سے نظر ملانا بھی اس کے منصب سے فروتر ہے۔   اس  مزاج  سے بچنے کے لیے حضرت لقمٰن نے فرمایاکہ لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر۔   اس نصیحت سے یہ سبق ملتا ہے کہ لوگوں سے نظر ملاکر بات کرنا چاہئے،  نظر ملاکر بات کرنے سے اپنائیت پیدا ہوتی ہے، خلوص اور محبت بڑھتی ہے۔    ملنے ملانے والے پھرملنے کی خواہش کرتے ہیں۔  البتہ خیال رہے کہ  اپنے  والدین اور اساتذہ سے بات کرتے وقت نظر نیچی رکھ کر بات کرنا ادب و احترام کا حصّہ ہے۔

(۴)اور زمین میں اکڑ کر نہ چل   اکڑ کر چلنا بھی کِبرو غرور کی  علامت ہے ، آدمی کی چال اس کی شخصیت کی عکّاسی کرتی ہے۔   دیکھنے والا سمجھ جاتا ہے کہ اکڑپن کی چال میں کس بات کا غرور و تکبّر چھپا ہوا ہے۔   (آدمی کی چال میں اکڑ اور اتراہٹ کی شان لازماً اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے دماغ میں تکبّر کی ہوا بھر جاتی ہے۔   تفہیم القرآن ، حاشیہ ۳۲ ) تو ایسی چال  جو کِبر و غرور سے بھری ہواس کو  نہ اپنانے کے لیے حضرت لقمٰن نے اپنے بیٹے کو تاکید فرمائی۔   سیاسی برتری کا پندار رکھنے  والے شخص کا  مزاج  بن جاتا ہے کہ وہ اپنی چال سے لوگوں کو مرعوب کرے۔

(۵) اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا: خود پسندی یعنی آدمی کا خود اپنے اوپر فریفتہ ہونا، اِس کو حضور ِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم  کے ارشاد کے مطابق تین بڑی مہلک چیزوں میں  سب سے زیادہ مہلک شمار کیا گیا ہے۔  حضورؐ کا  ارشاد ہے (رہیں تین مہلک چیزیں تو ان میں سے ایک خواہشوں کی پیروی ہے ، دوسرے بخل کی اطاعت اور تیسرے آدمی کا خود اپنے آپ پر فریفتہ ہونا اور یہ چیز ان تینوں میں سے سب سے زیادہ سخت ہے۔ بحوالہ  تزکیہء نفس صفحہ ۱۲۰  مولانا امین احسن اصلاحیؒ)

(۶) اپنی چال میں اعتدال اختیار کر۔  یعنی ایسی چال جو  اپنی فطرت کے مطابق ہو۔  جس کو دیکھنے سے آدمی سمجھ جائے کہ یہ شخص  سنجیدہ مزاج ہے اور باوقار شخصیت کا حامل ہے۔

(۷) اور اپنی آواز ذرا  پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔ : اونچی اور کرخت آواز میں بات کرنا ،  یہ بھی اپنی برتری جتانے کی علامت ہے۔  سب سے بڑی خرابی تو یہ ہےکہ وہ شخص کسی  اور کی بات سننا نہیں چاہتا اپنی ہی بات منوانے کے لیے اونچی آواز کے زور  پر دوسروں پر  دبائو ڈالنا چاہتا ہے، وہ یہ سمجھتا ہے کہ اپنی اونچی آواز سے لوگوں پر  حاوی ہو جائے گا۔  مخاطب ایک شریف آدمی خاموشی اختیار کرتا ہے یا نرم لہجے میں بات کرتا ہے تو یہ اس کی کمزوری و بزدلی سمجھی جاتی ہے۔  چیخ کر بات کرنے والا آدمی اپنی کرخت آواز سے کسی کو کوئی نقصان تو کیا پہنچا ئے گا خود اپنا ہی نقصان کر لے گا۔   ایک تو یہ کہ سننے والے بہت دیر تک اونچی آواز کا بوجھ برداشت نہیںکر سکتے ،  دوسرے یہ کہ آئندہ  وہ ایسے شخص سے دور رہنا ہی بہتر سمجھتے  ہیں، جو  ان کے کانوں پر آواز کی شکل میں ہتھوڑے برساتا ہو۔  واضح ہو کہ ایک مجمع کو خطاب کرنے والا ظاہر ہے بلند آواز سے ہی خطاب کر ے گا ، نمازِ با جماعت کے لیے بلند آواز سے ہی اذا ن دی جائے گی۔ ایسی بلند آوازیں سامعین کے فطری مزاج سے مطابقت رکھتی ہیں۔  چیخ کر  بات کرنے اور بلند آواز کو بوقتِ ضرورت استعمال کرنے میں بڑا فرق ہے، اس فرق کو ہر کوئی خوب سمجھتا ہے۔  تیسرے یہ کہ اونچی آواز میں بات کرنے والا خود اپنی صحت کا بھی نقصان کرلے گاکہ مسلسل چیخ کر بات کرتے رہنے  سے اس کا مزاج منفی سوچ کا عادی ہو جائے گا۔    حضرت لقمٰن کی یہ نصیحتیں  بہ یک وقت صحت اور اخلاق کی حفاظت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ ان ساری نصیحتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ  اللہ کے ایک نیک بندے تھے، جن پر انبیائی تعلیمات کا اثر  تھا جس کی تعلیم ،  انہوں نے سب سے پہلے اپنی اولاد کو دی۔  اولیاء اللہ کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ نماز کے پابند اور تہجّد گزار ہوتے ہیں (وہ راتوں میں کم ہی سوتے تھے اورصبح کے وقتوں میں مغفرت مانگتے تھے اور ان کے مالوں میں سائل و محروم کا حق تھا۔  آیۃ ۱۷ ،۱۸ و۱۹  الذّاریات) صاحبِ تدبّر قرآن  فرماتے ہیں  یہ ان خدا ترسوں کے صلہ کا بیان ہے  جو غفلت کی سرمستیوں میں کھوئے رہنے کے بجائے استغفار اور انفاق کے ذریعہ سے برابر اس دن کی تیاریوں میں مصروف رہے۔   ان کی عبادت و  ریاضت  بعض دوسرے مذاہب کی طرح کشف،  مشاہدہ،  تجلّی ذات  وغیرہ مقاصد کے بجائے اللہ کی مغفرت چاہنے کے لیے تھیـــ۔

اس سورہ کا مطالعہ گہرے غور و فکر کے ساتھ کیا جائے تواندازہ ہوگا کہ اولیاء اللہ کن اوصاف سے متصف ہوتے ہیں۔    وہ عبادتوں (جیسے  نمازِ با جماعت، حج و قربانی) سے بے پرواہ نہیں ہوتے انفاق فی سبیل اللہ کا اہتمام کرتے ہیں ،شریعت کی پابندی  کرتے ہیں،عائلی اور معاشرتی زندگی اختیار کرتے ہیں۔  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلّم نے فرمایا نکاح میری سنّت ہے سنت سے دور رہنے والا مجھ سے نہیں ہے ، اس حدیث کو ہم  نکاح کے خطبہ میں سنتے ہیں ۔  ہم میںسے ہر ایک کو غور و فکر کرناچاہئے اور  اپنا احتساب کرنا چاہئے۔

اس مضمون کے ساتھ مولانا سیّد احمد عروج قادری ؒ کی کتاب اولیاء اللہ پیشِ نظر رہے تو اولیاء اللہ کی تعریف بہتر طور پر واضح ہوجائے گی۔  سورۃ لقمٰن خصوصاً اس کے دوسرے رکوع کامطالعہ کیا جائے تو حضر ت لقمٰن کی سیرت کی روشنی میں اولیاء کرام کو پہچاننے میں آسانی ہوگی۔

مشمولہ: شمارہ جون 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau