حضرت مریم علیہا السلام ۔ قرآن کے آئینے میں

سید لطف اللہ قادری فلاحی

حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اپنی لخت جگر حضرت بی بی فاطمہ زہرائ رضی اللہ عنہا کو اپنے پاس بلایا اور ان کے کان میں سرگوشی کی تو وہ روپڑیں۔ پھر کوئی بات فرمائی تو ہنس پڑیں۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے تو میں نے بی بی فاطمہ زھرائ رضی اللہ عنہا سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ دریافت کی تو انھوںنے مجھے بتایاکہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی کہ وہ انتقال فرماجائیںگے تو میں رو پڑی، پھر مجھے خبردی کہ میں اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہوںگی سوائے مریم بنت عمران کے تو میں ہنس پڑی۔ ﴿ترمذی، حدیث نمبر ۳۸۷۳﴾

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

خواتین ِ عالَم میں بلحاظ شمار چارہیں:

۱۔ حضرت مریم بنت عمران علیہاالسلام   ۲۔حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا

۳۔ حضرت فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم   ۴۔ حضرت آسیہ فرعون کی بیوی   ﴿ترمذی: حدیث نمبر۳۸۷۸﴾

والدہ حضرت مریم بنت عمران

حضرت مریم علیہاالسلام کی والدہ اس عظیم انسان کی بیوی تھیں، جس کا نام عمران تھا۔ اس دنیا میں کتنی ہی بیویاں گزریں اور کتنے ہی شوہر آئے، وہ کون سا عمل تھا جس نے اس خاتون کو وہ بلند مقام عطا کردیا جس پر ابدیت کی مہرلگ گئی۔ وہ کون سا کام تھا جس کی وجہ سے اللہ رب العالمین کے نزدیک انھیں ایک ایسا مقام و مرتبہ ملا جو قیامت تک کے لیے ایک مثال بن گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندوں میں ان کا ذکر اپنی کتاب میں قیامت تک کے لیے لکھ دیا۔

اِنَّ اللّٰہَ اِصْطَفٰیٓ اٰدَمَ وَ نُوْحاً وَّ اٰلَ اِبراھِیْمَ وَ اٰل عِمرَانَ عَلیَ الْعٰلَمِیْنَ o ذُرِّیَّۃً بَعْضُھاَ مِنْ م بَعْضٍط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo اِذْ قَالَتِ امْرأتُ عِمْرَانَ رَبِّ اِنّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَافِیْ بَطْنِیْ مَحُرَّراً فَتَقَبَّلْ مِنِّیٓ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیمُo﴿اٰل عمران: ۳۳ ۔۳۵﴾

‘‘اللہ نے آدم اور نوح اور آل ابراھیم اور آل عمران کو تمام دنیاوالوں پر ترجیح دے کر ﴿اپنی رسالت کے لیے﴾ منتخب کیاتھا۔ یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کی نسل سے پیداہوئے تھے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ ﴿وہ اس وقت سن رہاتھا﴾ جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ ‘‘میرے پروردگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے، تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔ میری اس پیش کش کو قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انسانوں ہی میں سے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ شروع کیا۔ حضرت آدم اور ان کی اولاد میں سے رسول منتخب کیے، جن میں حضرت شیث اور حضرت ادریس علیہماالسلام کاخاص ذکر آتا ہے۔ یہ سلسلۂ نبوت کا پہلا دور ہے۔ اس کے بعد دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے، جس کے سرخیل حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ انھوںنے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک ہر طرح سے سمجھایا اور ڈرایا مگر وہ قوم اپنی نافرمانیوں اور شرک و بت پرستی سے باز نہیں آئی۔ آخرکار اس پر ایک ایسا عذاب آیا، جس میں وہ دنیا سے نیست و نابود کردی گئی۔ طوفانِ نوح میں ساری انسانیت غرق کردی گئی صرف وہی چند لوگ اس طوفان سے بچ سکے جو حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لائے۔ اور ان کی کشتی پر سوار ہوئے۔ اللہ کے حکم سے حضرت نوح علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے۔ چند لوگوں نے دوبارہ دنیاآباد کی۔ اِسی لیے حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی بھی کہاجاتا ہے۔ دنیا میں دوبارہ نسل انسانی انھی کے ذریعے چلی۔

آیت کریمہ میں آل ابراھیم کے بعد خاص طور سے آل عمران کاذکر کیاگیا ہے گرچہ یہ خاندان بھی خاندانِ ابراھیم کا ہی ایک حصّہ تھا، لیکن یہاں پر ان کاخاص طورپر ذکر کرنے سے نصاریٰ کے بعض عقیدوں کو باطل ٹھہرانا مقصود تھا۔ اس سلسلۂ نبوت میں ان کا ذکر کرکے یہ بات واضح کی جارہی ہے کہ اس پورے سلسلۂ نبوت میں تو نصاریٰ کسی نبی یا رسول کو الوہیت کے درجہ پر فائز نہیں کرتے ہیں تو پھر حضرت مریم اور عیسیٰ ابن مریم کو انھوںنے اِلٰہ اور معبود کیوں بنالیا۔ حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی ویسے ہی رسول ہیں جیسے ابراھیم ، اسحاق اور یعقوب تھے اور یہ سب اللہ کے بندے تھے اسی طرح عیسیٰ ابن مریم بھی اللہ کے بندے ہیں۔

والدۂ مریم علیہاالسلام کی نذر

حضرت مریم کی والدہ کانام حنۃ بنت فاقوذ تھا۔ یہ عمران بن ماثان کی بیوی تھیں۔ شادی کو کافی عرصہ گزرچکاتھا لیکن اولاد سے محروم تھیں۔ ایک دن انھوں نے دیکھاکہ ایک چڑیا اپنے بچّے کو کھلارہی ہے اور اس سے اپنا دل بہلارہی ہے، تو ان کے دل میں اولاد کی آرزو جاگ اٹھی اور انھوں نے اللہ سے بیٹے کے لیے دعا کی۔ سوزو گداز سے مانگی گئی دعا کو شرفِ قبول ہوا اور وہ حاملہ ہوگئیں۔ جب انھیں حمل کایقین ہوگیا تو انھوں نے نذر مان لی کہ اس پیدا ہونے والے بچے کو وہ بیت المقدس کی خدمت کے لیے خاص کردیں گی اور دنیا کے دوسرے کام ان سے نہیں لیں گی اور پھر دُعا فرمائی کہ اے اللہ! میری اس نذر کو قبول فرمالے۔ یہی نذر وہ عظیم الشان عمل تھا جس کی وجہ سے والدۂ مریم کو وہ مقام اللہ نے عطا فرمایاکہ قیامت تک کے لیے ان کے ذکر کو قرآن کریم میں محفوظ فرمادیا۔

لڑکی پیدا ہوگئی

حضرت مریم علیہاالسلام کی ماں نے جو نذر مانی تھی، وہ بیت المقدس کی خدمت تھی اور بیت المقدس کی خدمت کے کام لڑکے ہی کرسکتے تھے۔ بیت المقدس کی خدمت کے لیے لڑکیوں اور عورتوں کے لینے کا رواج نہیں تھا۔ لیکن جب عمران کی بیوی کو لڑکی پیداہوگئی تو انھوں نے بڑی حسرت و یاس سے اپنے رب کو پکارا اور فرمایاخدایا! میں تو اسے تیرے نام وقف کرچکی تھی، لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے۔ نذر مانتے وقت ان کے خیال میں یہی تھا کہ لڑکاہوگا مگر لڑکی پیدا ہوگئی۔ معذرت پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ اب میری نذر کا کیا ہوگا؟ اللہ نے انھیں تسلی دی اور اطمینان دلایاکہ نذر مانتے ہوئے تمہیں اس کا علم نہیںتھا کہ کیا پیدا ہوگا مگر اللہ تعالیٰ تو جانتاتھا کہ تمہیں لڑکی پیدا ہوگی اور وہ لڑکی اور اس کے بطن سے پیدا ہونے والا لڑکا دونوں ہی اللہ کی نشانیوں میں سے ہوں گے۔ تمہیں اس لڑکی کی ابھی قدر معلوم نہیں ہے، اس لیے تم حسرت کررہی ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

فَلَمَّا وَضَعَتْھَا قَالَتْ رَبِّ اِنّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثیٰ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَاوَضَعَتْ وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثیٰ وَاِنّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ وَاِنِٓیّْ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتُھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم o فَتَقَبَّلَھَارَبُّھَا بِقُبُوْلٍ حَسَنٍ وَ اَنْبَتَھَا نَبَاتاً حَسَناً وَّکَفَّلَھَا زَکَرِیَّا کُلَّمَادَخَلَ عَلَیْھَازَکَرِیَّا الْمِحْرابَ وَّجَدَعِنْدَھَارِزْقاً رِزْقاً قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذاَ قَالَتْ ھُوْمِنْ عِنْدِاللّہِ اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍ ﴿اٰل عمران: ۳۶-۳۷﴾

‘‘پھر جب بچی اس کے یہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا: مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جناتھا اللہ کو اس کی خبر تھی۔ اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ خیر، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیاہے اور اسے اور اس کی آیندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہیں۔ آخرکار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرمالیا۔ اُسے بڑی اچھی لڑکی بناکر اُٹھایا اور زکریا کو اس کا سرپرست بنادیا۔ زکریا جب کبھی اس کے پاسمحراب میں جاتاتو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ اللہ جسے چاہتاہے بے حساب رزق دیتا ہے‘‘۔

لڑکا، لڑکی کی طرح نہیں ہوتا

جب والدۂ مریم کو لڑکی پیدا ہوئی تو انھوںنے فرمایاکہ لڑکا تو لڑکی کی طرح نہیں ہوتاہے۔ امام رازیؓ ﴿وفات ۶۰۴ھ﴾ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :کہ اس میں دو قول ہیں۔ پہلا قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد لڑکی پر لڑکے کی فضیلت بتانی مقصود ہے اور اس فضیلت کے کئی اسباب ہیں:

  • ان کی شریعت میں بیت المقدس کی خدمت لڑکیوں اور عورتوں کے لیے جائز نہیں تھی۔
  • لڑکا برابر عبادت گاہ کی خدمت میں لگارہے گا جب کہ لڑکی ایام حیض اور دوسری نسوانی کمزوریوں کی وجہ سے اس میں مداومت نہیں کرپائے گی۔
  • لڑکا اپنی قوت و طاقت کی وجہ سے اس خدمت کے لائق ہوتا ہے جب کہ لڑکی کمزور ہوتی ہے اور اس خدمت کے لائق نہیں ہے۔
  • لڑکے کے لیے اس میں کوئی عیب نہیں ہے کہ اس خدمت کو انجام دیتے وقت لوگوں کے ساتھ خلط ملط ہو۔ جب کہ لڑکی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ لوگوں کے ساتھ خلط ملط ہو۔
  • لڑکے کے لوگوں کے ساتھ خلط ملط ہونے میں اس پر کوئی تہمت نہیں لگے گی جب کہ لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔

ان اسباب سے لڑکے کی فضیلت لڑکی پر ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس قول سے مقصود لڑکی کو لڑکے پر ترجیح دیناہے۔ گویاکہ وہ کہہ رہی ہیں کہ بیٹا میرا مطلوب و مقصود تھا اور یہ لڑکی اللہ کی عطا کردہ ہے اور لڑکا جو میرا مطلوب تھا اس لڑکی کی طرح نہیں ہوتا جو اللہ کی طرف سے عطا کی گئی ہے۔ یہ بات اس بات پر دلالت کررہی ہے کہ یہ خاتون کس قدر اللہ کی جلالت و بزرگی میں غرق تھیں اور وہ اس چیز کو جانتی تھیں کہ پروردگار بندے کے ساتھ جو کرتا ہے وہ بہتر ہوتا ہے۔

حضرت مریم اللہ کی پناہ میں

والدۂ مریم نے ان کی پیدایش کے بعد ان کے لیے جو دعا فرمائی ہے۔ اس میں بھی ایک بلاغت ہے۔ ایک دینی جذبہ ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ اس نے بڑوں بڑوں کو راہِ حق سے ڈگمگادیا ہے۔ اس کی چالیں اور اس کے وسوسے انتہائی خطرناک ہوتے ہیں اور اس سے مقابلہ کوئی بھی انسان اللہ کی مدد کے بغیر نہیں کرسکتا ہے۔ اس لیے والدۂ مریم نے حضرت مریم کے لیے یہی دعا کی کہ میں اس لڑکی کو اے اللہ! شیطان مردود کے فتنوں سے تیری حفاظت اور تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اس کو بھی اور اس سے پیدا ہونے والی نسل کوبھی۔ ان کی اسی دعا کا نتیجہ تھا کہ شیطان حضرت مریم کو پیدایش کے وقت چھو نہ سکا اور نہ کچوکے لگاسکا اور بعد کو حضرت عیسیٰؑ   کی پیدایش کے وقت بھی اللہ نے ان کو شیطان کے کچوکے سے محفوظ رکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: ’’ہر انسان کو شیطان اس کے پہلو میں کچوکے لگاتاہے، سوائے عیسیٰ اور ان کی والدہ کے، وہ دونوں گناہوں سے دوچار نہیں ہوئے جس طرح ہر نبی آدم دوچار ہوتا ہے‘‘۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کی حمدو ثنا کرتے ہوئے فرمایاہے کہ ’’مجھ کو اور میری ماں کو اللہ نے شیطان سے اپنی پناہ میں رکھا۔ اس لیے اس کا کوئی دائو ہم پر نہیں چل سکا‘‘۔ ﴿تفسیرطبری﴾

امام رازیؓ نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھاہے کہ اس دعا میں ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ان کی خواہش کے مطابق بیت المقدس کی خدمت کے لیے لڑکا پیدا نہیں ہوا بلکہ لڑکی پیدا ہوگئی تو وہ اللہ کے سامنے گڑگڑائیں کہ اس لڑکی کو شیطان مردود کے فتنوں، وسوسوں اور چالوں سے اپنی پناہ میں رکھے اور اس کو صالح اور اطاعت شعار بنائے۔

والدۂ مریم کی دعا قبول ہوئی

والدۂ مریم نے لڑکے کے نہ ہونے پر لڑکی کو ہی نذر کے طورپر اللہ کے سامنے پیش کیا اور فرمایاکہ یہی میری نذر ہے۔ یہی بیت المقدس کی خدمت کرے گی۔ اس کو قبول فرمالیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس نذر کو بخوشی قبول فرمالیا۔ دعا میں خلوص ہو، دل سوزی سے کی گئی ہو اور اس کی قبولیت کا یقین ہو، اچھے اور نیک کام کے لیے کی گئی ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اس دعا کو قبول فرماتا ہے۔ یہاں پر حضرت مریم کی والدہ کی دعا میںجو خلوص تھا ، جو نیک جذبہ تھا اور دل میں جو نیک تمنا اور آرزو تھی کہ ان کی بیٹی بیت المقدس کی خدمت گار بنے۔ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے اللہ نے ان کی دعا کو شرفِ قبول بخشا۔ حضرت مریمؑ   کی بچپن سے ہی اچھی تربیت ہوئی۔ ان کی نشوونما بہترین طریقے سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو پروان چڑھایا۔ ان کی غذا کا انتظام کیا۔ ان کی روحانی و عقلی تربیت فرمائی۔

مریمؑ   حضرت زکریا ؑ  کی کفالت میں

اللہ کی طرف سے نذر قبول ہوگئی اور حضرت مریم بیت المقدس کی خدمت اور اس میں عبادت کے لیے خاص کردی گئیں تو اب سوال اٹھاکہ ان کی کفالت کون کرے۔ پہلے ذکر ہوچکاہے کہ ان کے والد عمران بن ماثان کا ان کی ولادت سے پہلے ہی انتقال ہوچکاتھا۔ اللہ کی طرف سے والدۂ مریم کی نذر اس لڑکی کی شکل میں قبول ہوجانے کے بعد اس کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہوگئی تھی۔ بیت المقدس کے خدمت گاروں اور کارندوں میں اس بات پر جھگڑا ہونے لگا اور ہر کوئی چاہیے لگاکہ یہ عظیم لڑکی اس کی کفالت میں دی جائے۔جب کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہوتو پھر ایک شرعی طریقہ یہ ہے کہ قرعہ اندازی کی جائے اور اس میں جو نکل جائے اسی کو فیصلہ مان لیاجائے۔ حضرت مریم کی کفالت کے سلسلہ میں بھی قرعہ اندازی ہوئی، لیکن یہ قرعہ اندازی دوسری شکل میں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَ آئِ الغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ ﴿اٰل عمران: ۴۴﴾

‘‘اے محمد! ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ یہ غیب کی خبریں ہیں، جو ہم تم کو وحی کے ذرریعے سے بتارہے ہیں۔ ورنہ تم اس وقت وہاں موجود نہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے مریم کا سرپرست کون ہو،سب اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب ان کے درمیان جھگڑا برپاتھا‘‘۔

وَکَفَّلَھَازَکَرِیَّا  ﴿اٰل عمران: ۳۷﴾        ’’اور زکریا کواس کا سرپرست بنادیا’’

حضرت زکریاؑ   حضرت مریمؑ  کے سگے خالو تھے اور اپنے اس رشتہ اور قرابت کی وجہ سے انھوںنے دعویٰ کیاکہ اس لڑکی کی سرپرستی مجھے ملنی چاہیے۔ لیکن ان کی اس دلیل کو لوگوں نے تسلیم نہیں کیا تو پھر فیصلے کے لیے قرعہ ڈالاگیا۔ قرعہ ڈالنے کی شکل یہ ہوئی کہ بیت المقدس کے خدمت گاروں نے اپنے وہ قلم جن سے وہ توریت لکھتے تھے، سب نہراردن میں ڈال دیے اور کہاکہ جس کا قلم پانی کے بہائو کے ساتھ نہیں بہے گا، وہی اس لڑکی کا کفیل اور سرپرست ہوگا۔ چنانچہ سب کے قلم پانی کے بہائو کے ساتھ بہہ گئے۔ حضرت زکریاؑ  کا قلم پانی کے بہائو کے ساتھ نہیں بہا اور ٹھہرا رہ گیا۔ اس طرح حضرت مریمؑ   حضرت زکریا کی کفالت و سرپرستی میں دے دی گئیں ۔ ‘‘یہ بھی اللہ کاخاص فضل ہواکہ ان کی کفالت و تربیت کی ذمہ داری حضرت زکریاؑ   نے اٹھائی جو حضرت مریم کے خالو تھے اور اس دور میں بیت المقدس کے اسرائیلی اصطلاح میں کاہنِ اعظم بھی‘‘۔ ﴿تدبر قرآن ، ج ۲، ص:۷۷﴾

‘‘یہ آیت اثنائے کلام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف التفات کی وعیت رکھتی ہے۔ آپ کو مخاطب کرکے فرمایاکہ یہ غیب کی باتیں ہیں یعنی تمہارے علم و اطلاع سے باہر کی ہیں۔ اس لیے کہ نہ تو یہ ساری باتیںتورات و انجیل میں موجود ہیں اور نہ تم شخصاً ہی ان واقعات کے پیش آنے کے وقت موجود تھے۔ پھر اس صحت و صداقت کے ساتھ تمہارا ان واقعات کا پیش کرنا کہ اہل کتاب کی بھی آنکھیں کھل جائیں، بغیر اس کے کس طرح ممکن ہواکہ اللہ نے تم کو منصبِ رسالت سے نوازا اور شرفِ وحی سے ممتاز کیا۔ یہ اہل کتاب پر تمہاری نبوت و رسالت کی ایک بڑی حجّت ہے۔‘‘

حضرت مریمؑ   بچپن سے جوانی تک ھیکل میں حضرت زکریاعلیہ السلام کی زیرنگرانی اور زیرتربیت پروان چڑھیں۔ عبادت و ریاضت میں ان کا وقت گزرتاتھا۔ بیت المقدس کے اندر خادموں اور عبادت گزاروں کے لیے کمرے خاص تھے۔ انھی کمروں میں ایک کمرہ حضرت مریم علیہاالسلام کے لیے حضرت زکریاعلیہ السلام نے خاص کردیاتھا۔ یہ کمرے زمین کی سطح سے تھوڑے بلند ہوتے تھے۔ حضرت مریم علیہاالسلام کاکمرہ بھی زمین سے بلندی پرتھا اور عبادت کے وقت اس کے دروازے بلند رہتے تھے۔ کوئی اس میں جا نہیں سکتاتھا۔ صرف زکریا علیہ السلام ان کاحال معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس جاتے تھے اس کاذکر قرآن کریم اس طرح کرتا ہے:

کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْہَازَکَرِیَّاالْمِحْرَابَ وَجَدَعِنْدَھَارِزْقًا قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذا قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِاللّٰہِ اِنّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ بِغَیْرِحِسَابٍo ﴿اٰل عمران: ۳۷﴾

‘‘زکریا جب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتاتو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم! یہ تیرے پاس کہاں سے آتا ہے؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیاہے۔ اللہ جسے چاہتاہے بے حساب دیتا ہے‘‘۔

یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت مریمؑ   بڑی ہوگئی ہیں۔ عقل و فہم رکھنے والی ایک بالغ لڑکی بن گئی ہیں اور بیت المقدس کی عبادت گاہ ﴿ھیکل﴾ میں نذر کے مطابق شب وروز عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنے لگی ہیں۔قرآن کے ذکر کے مطابق حضرت زکریا علیہ السلام برابر ان کے پاس جایاکرتے تھے۔ لفظ ’’کُلَّمَا‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب جب وہ ان کے پاس گئے ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں رکھی ہوئی دیکھیں اور ان کے بارے میں ان سے سوال کیا۔ سوال اس لیے کیاکہ حضرت مریم علیہا السلام جس کمرے میں معتکف تھیں وہ بلندی پر تھا۔ سامنے سے دروازہ بندرہتاتھا۔ حضرت زکریاؑ   کے علاوہ کسی اور کو ان کے پاس جانے کی اجازت نہ تھی۔ تو پھر کھانے کا سامان آتا کہاں سے تھا؟ یہ دیکھ کر انھیں تعجب اور حیرت ہوتی تھی۔ وہ حضرت مریم علہاالسلام سے اس کے بارے میں پوچھتے تو حضرت مریم علہاالسلام جواب میں عرض کرتیں کہ یہ سب کچھ اللہ کے پاس سے آتا ہے۔

فروری 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau