ہندو مسلم تعلقات اور جارحانہ قوم پرستی

ڈاکٹر احسان اللہ فہد

اسلام اورمسلمانوں کی آمد سے قبل بھی ہندوستان مختلف مذاہب کا مرکز رہا ہے عموماً یہاں کے لوگوں نےایک دوسرے کا احترام کیااوررواداری وخوش دلی کو اپنی زندگیوں میں شامل رکھا ۔ اسلام اور مسلمانوں کی آمد نے اس جذبے کوفروغ دیا کلچر وثقافت میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔ رواداری کا  مظاہرہ ہو ا۔ مسلمان حکمراں اپنی انصاف  پسندی کے لیے معروف تھے۔ عام مسلمانوں کے مہذبانہ طرزعمل ، شائستہ طریقۂ عبادت اورانسانی مساوات کی  رعایت کی بنا پروہ برادرانِ وطن کے نزدیک مقبول قرار پائے ۔ دین حق کی تعلیمات سے متاثر ہوکر دبی کچلی آبادیوں نے اسلام قبول کیا  ۔

کشمکش کی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب نام نہاد اونچی ذات والوں کوخطرہ لاحق ہوا کہ ان کا خودساختہ اونچ نیچ کا نظام زمین بوس ہوجائے گا تو ان کی چودھراہٹ اوربرتری ختم ہو جائے گی ۔ انہوں نے زمانۂ قدیم سے اونچ نیچ کی بنیاد پر چار حصوں میں لوگوں کو تقسیم کر کے خود کو اونچے مقام پر فائز کر رکھا تھا اس نظام کی تقویت کے لیے بعض عقائد  ایجاد کر لیے تھے اور لوگوں کوکچھ رسوم و رواج کا پابند کیا  تھا۔ مسلمان توحید کے قائل اور انسانی مساوات کی تعلیم کے حامل تھے۔ مقامی آبادیاں اسلام کے نظام معاشرت میں کشش محسوس کرتی تھیں۔ مسلمانوں کے اس عقیدے اورنظام معاشرت سے بعض عناصر  نے خطرہ محسوس کیا تو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کی ۔ ان کی اس تحریک کی انگریز حکمرانوں نے تائید کی اور ہندو عوام کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانا شروع کردیا۔

’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی برطانیہ کی پالیسی

مسلم تجار، صوفیائے کرام ، مبلغین اسلام اور مسلمان حکمرانوں نے اپنے دور حکومت میں رواداری اورفراخ دلی کا جوتنا ور درخت تیار کیا تھا وہ مسلمانوں کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ زمین بوس ہونا شروع ہوگیا۔ مسلم حکمرانوں کے زوال کے بعد سلطنت برطانیہ کا سورج طلوع ہوا۔دیکھتے دیکھتے ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورے ہندوستان پراپنی حکومت کو مستحکم کرلیا۔ ٹیپو سلطان ؒ کی شہادت کے بعد  ہندوستان انگریزوں کے قبضے میں تھا۔ اب انگریزوں کی پالیسی طے پائی کہ ہندو اورمسلمان کو آپس میں لڑاؤ اور حکومت واقتدار پر قابض رہو۔ سومناتھ مندر کے دروازوں کی تجدید کے موقع پر انگریز گو رنر جنرل نے ہندو راجاؤں اور سرداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج بالآخر آٹھ سوسالہ پرانی بے عزتی کا بدلہ لے لیا گیا ۔ اسی طرح دوسرے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کا رویہ بھی ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ رہا۔  ۱۸۵۳ء میںاس نے ایک دوست کوجوذاتی خط لکھا تھا اس میں اس نے اپنی ذہنیت اور مسلم دشمنی کا کھل کر اظہار کیا تھا وہ لکھتا ہے کہ:

’’اودھ کا بادشاہ خرد ماغی کی جانب مائل نظر آتا ہے۔ میں چاہتا بھی یہی ہوںکہ ایسا ہی ہو۔ اپنی روانگی سے پہلے اسے ہضم کرپانا میرے لیے بڑی طمانیت کا باعث ہوگا۔ دلی کابوڑھا شخص اپنی موت آپ مررہا ہے ۔ اگرکورٹ آف ڈائرکٹرس کی فرسودہ حماقت نہ آڑے آتی تو میں کبھی کا اس کھوسٹ کے  ساتھ ہی خاندان تیموریہ کا خاتمہ کرچکا ہوتا‘‘۔(۱)

برطانوی حکومت کی یہ پالیسی تھی کہ ہندوؤں اورمسلمانوں کو آپس میں لڑا کر ہی ہم اپنی حکومت کو مستحکم رکھ سکتے ہیں ۔ چنانچہ انہوںنے ہندوؤں کے لیڈروں، پنڈتوں اورمذہبی رہنماؤں کے سامنے اس بات کو  دہرانا شروع کردیا کہ مسلمانوں نے اپنے دور حکومت میں ہندوؤں پر بڑے مظالم ڈھائے ہیں۔ ان کے مندروں کومنہدم اور مسمار کیا ہے  ۔ اس طرح کی باتوں کے ذریعے انہوںنے ہندوؤں کے جذبات ابھارنا شروع کیا اور انگریز وںکی یہ پالیسی کامیاب ہوگئی ۔چنانچہ  چھوٹی چھوٹی باتوں پر فرقہ وارانہ کشیدگی شروع ہوگئی اورفسادات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس دور میں جان بوجھ کرمتعدد  فساد کرائے گئے ۔ ان حالات سے نبرد آزما ہونے اور آپسی امن وامان کی فضا کوپروان چڑھانے میں دونوں فرقوں کے اچھے ذہن کےلوگوں نے انتھک کوشش کی لیکن ان کی کوشش حکومتی مشینری کے سامنے بے کارثابت ہوئی ا ور دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی اور دوری بڑھتی گئی۔ فرقہ وارانہ فسادات نے اس خلیج کووسیع کرنے میں نمایاں رول ادا کیا۔

ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان امن وآشتی کی کوشش کرنے والوں نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل دونوں فرقوں کورواداری پر آمادہ کر نے کی کوشش کرتے رہے ۔ ان کی کوششوں کے نمایاں اثرات اس وقت نظر آنے لگے جب ہندواورمسلمان دونوں قوموں نے تحریک آزادی کا آغاز کیا۔ برطانوی سا مراج کے خلاف ہندوستان کی آزادی کا نعرہ لگایا انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کی کوشش کی تو برطانوی سامراج کے پیر اکھڑ گئے اورآخر کار ۱۹۴۷ء میں ہمارا ملک ہندوستان آزاد ہوگیا ۔

تقسیم ملک اور رواداری کے واقعات

برطانوی سامراج کی جانب سے پیدا کردہ منفی فضا تحریک آزادی اورتحریک خلافت کے سائے میں ختم ہوتی گئی اورہندومسلمان قریب آ گئے۔ لیکن تقسیم ہندوپاک نے پھر سے نفرتوں کوکھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا اور لاکھوں انسانوں کوموت کی نیند سلادیا گیا ۔ لیکن اس تقسیم ہندوپاک کے دوران بھی ہندومسلمان دونوں کی جانب سے رواداری کےنمونے پیش کئے گئے ۔ غیر منقسم ہندوستان میں مشرقی پنجاب کی مسلم اکثریت والی ریاست بوڑیہ نے نہ جانے کتنے گرم وسرد موسم دیکھے اورکتنے نشیب وفراز آئے لیکن اس کی مٹی سے انسانیت ، اور رواداری کی خوشبو کبھی نہ گئی ۔ تقسیم کے وقت ہندوستان میں  جنون اپنے شباب پر تھا دونوں طرف سے انسانوں کے لٹے پٹے قافلے جائے امان کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے تھے لوگ اپنی جڑوں سے اکھڑگئے تھے ۔ نقل مکانی اورہجرت کا سلسلہ جاری تھا ۔ پورا ملک آگ اورخون کے دریا سے گزر رہا تھا ۔ مشرقی پنجاب کے مسلمان اپنا بوریہ بستر باندھ کر ایک اجنبی ملک اورایک انجانی منزل کی تلاش میںاپنا گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے اورجونہیں گئے تھے وہ اپنی جان ومال کی تباہی کےخوف سے لرزاں تھے۔

ایسی بے یقینی کی حالت میں بوڑیہ کے حضرت ملاجی الحاج عبدالکریم ؒ مسلمانوں کو استقلال اور استقامت کا درس دے رہے تھے  ان کا عزم اورحوصلہ بڑھا رہے تھے ۔ اللہ پر بھروسہ اورغیبی امداد کا یقین دلارہے تھے۔ اسی کے ساتھ بوڑیہ ریاست کے آخری تاجدار راجہ رتن امول سنگھ مسلمانوں کی مدد کررہے تھے ۔ وہ قتل وغارت گری پر آمادہ، جنونی اورشرپسند عناصر کے سامنے سینہ سپر ہوگئے تھے اور ان کے خوفناک عزائم کے آگے آہنی دیوار بن گئے تھے۔  بوڑیہ کے ہزاروں مسلمانوں کو انہوںنے اپنے قلعہ میںپناہ دی ۔ ان کو کیمپوں میں رکھا۔ ان کے کھانے پینے کا بندوبست کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ مسلمان پنا ہ گزیں خدا کے بعد اگرکسی پر بھروسہ کرتے تھے تووہ راجہ رتن امول سنگھ تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بوڑیہ کے مسلمانوں کوپاکستان لے جانے کے لیے جوخصوصی ٹرین بھیجی گئی تھی ، مسلمان اس میں سوار نہیں ہوئے اورایک روایت کے مطابق وہ ٹرین چار دن تک بوڑیہ کے مسلمانوں کولے جانے کا انتظار کرنے کے بعد واپس خالی لوٹ گئی تھی لیکن مسلمانوں کے پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی ۔(۲)

حصول اقتدار کے لئے شر انگیزی

راجہ رتن امول سنگھ جیسے بہت سے انسان تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر مظلوم ہندواور مسلمانوں کی  مدد کی  ان کومحفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں  او ر ان کی جانوں کی حفاظت کی لیکن سنگھ پریوار نے انگریزوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ہندتو ا اور ہندوراشٹر کا راگ الاپا۔ اس نے ہندوستان کی قدیم  روا یت کوفراموش کردیا جومسلم حکمرانوں نے اپنے دور حکومت میں رواداری کی پالیسی کے تحت قائم کی تھی ۔ موجودہ وقت میںسنگھ پریوار نے ترقی اورخوشحالی کا خواب دکھا کر ہندوستانی حکومت پر قبضہ کیا  ۔ بظاہر پوری حکومتی مشینری سنگھ پریوار کے سر میں سر ملا رہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے عملاً ترقی اور خوشحالی کا کوئی کام نہ ہوسکا بلکہ ملک کی معیشت حکومت کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے مضمحل ہوگئی۔ عوام کنگال ہونے لگے ۔ نوٹ بندی کا فیصلہ اورجی ایس ٹی کا نفاذ حکومت کے گلے کی ہڈی بن گئی کہ نہ نگلتے بنتا ہے اور نہ اگلتے  ۔

اب خود این ڈی اے کے اندر سے  بغاوت کی آوازیں آنے لگی ہیں ایک بار پھر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی خاطر ملک میں نفرت کا بیج بو یا جارہاہے۔ لا قانونیت عام ہے۔ بھائی کوبھائی سے لڑایا جارہا ہے ۔   بنیادی مسائل  سے عوام کی توجہ ہٹا کر  جذباتی مسائل میں عوام کو  الجھایا جارہا ہے ۔ ردّ عمل کی آڑ میں نسل کشی کوجائز ٹھہرایا جارہا ہے اور بے بسوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔

باورچی خانے میں جھانک کر دیکھا جارہا ہے کہ کوئی گائے کا گوشت تو نہیں کھارہا محض شک وشبہ کی بنیاد پر محمد اخلاق نامی شخص کوبے دردی کے ساتھ پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ۔نوعمر حافظ جنید کومحض اس لیے مار دیا گیا کہ وہ مسلمان ہے۔ ماحول ایسا بنادیا گیا کہ گایوں کا پالنا، خریدوفروخت کرنا بلکہ ان کے قریب سے گزرنا بھی مسلمان کے لیےنا ممکن ہوگیا ہے ۔ مسلمانوں کو  مسائل میں الجھا کر ان کی زندگی کو اجیرن بنانا منفی عناصر کا  مشغلہ ہے۔

دانشوران قوم کی تشویش

ملک کے ان مخدوش حالات میں بھی  فرقہ وارانہ امن وآشتی کوجلا بخشنے والی مثالیں موجود ہیں جو دونوں فرقوں کے اصحاب خیر اوردور اندیش لوگوں کے لیے خوشی واطمینان کا سبب ہیں ۔ منفی جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کے باوجود انسانی درد مندی ، ہمدردی ، غم گساری کے داعیات موجود ہیں۔ مسائل کوآپسی تعاون سےحل کرنے کا رجحان آج بھی ہندومسلمان  دونوں میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے اثرات صحافیوں اور قلمکاروں کی تحریروں میں نظر آتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں گوری لنکیش کو اس لیے قتل کیا گیا کہ وہ منفی رجحانات پر تنقیدی تحریریں لکھا کرتی تھیں ۔ کلدیپ نیر بے باک صحافی تھے اور منفی پروپیگنڈے کے مخالف تھے گزشتہ دنوں’’بیف کا مسئلہ سماج کو بانٹنے کی کوشش‘‘کے عنوان سے مضمون لکھ کر ان عناصر کوآئینہ دکھایا ۔نیر نے لکھا :

’’کسی وقت آر ایس ایس کے پرچارک رہنے والے مودی کودہلی کے قریب دادری میں ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد سے سبق لینا چاہیے ۔ ایک مسلمان کواس افواہ کی بنیاد پر بے دردی سے ہلاک کردیا گیا کہ وہ بیف اپنے استعمال میں لایا تھا۔ اگر ایسا ہوا بھی توبیف کے استعمال کی ممانعت کا کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ دویا تین ریاستوں کوچھوڑ کر ہر ایک نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی عائد کررکھی ہے لیکن بیف کے استعمال پر تواکثر جگہوں پر پابندی نہیں ہے ۔ اگر ابھی تک نہیں کیا ہے تومودی کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ تکثیریت معاشرے کی فطری روح اور جذبہ ہے ۔ اگر چہ آر ایس ایس کے بعض انتہا پسندوں کویہ ناپسند ہے لیکن ایک بڑی اکثریت ہندوستان کے تصوّر میں یقین رکھتی ہے اور یہ ہندو ستان ڈیموکریسی ، جمہوریت اورفعالیت سے عبارت ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ملک کے بعض گوشے ایسے ہیں جہاں اکثریت بے لگام ہوکر جوچاہے کہہ دیتی ہے اورتکثیریت کی مذمت کرتی ہے لیکن اس کا اطلا ق مجموعی طور سے ملک کے تمام تر عوام پر نہیں ہوجائے گا ۔ انہیں اقلیتوں کی آزادیٔ اظہار پر پورا یقین ہے اوروہ اس کا دفاع کریں گے‘‘۔(۳)

بزرگ صحافی کلدیپ نیّر نے اپنے اسی مضمون میں لکھا:

’’ملک کے معاملات میں مسلمانوں کی واقعی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ مرکزی کابینہ کی ہی مثال لیجئے جس میں صرف ایک نشست مسلمان کو دی گئی اوراس کی بھی حیثیت بڑی معمولی ہے ۔ اس سے بدتر بات یہ ہے کہ دونوںفرقوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہی گیا ہے ۔ ان کے درمیان شاید ہی سماجی میل جول ہو۔ دونوں ہی کولگتا ہے کہ وہ اپنی اپنی الگ دنیاؤں میں رہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ  وہ ارتکاز ہے جس کی جڑ یں گہری ہوتی جارہی ہیں اورجس کی آبیاری سنگھ پریوار دیدہ ودانستہ کررہا ہے ۔ اس نکتے کوچندادبی شخصیات نے اکادمی کے انعامات لوٹا کر اُٹھایا ہے ۔ ان میں جواہر لعل نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل بھی شامل ہیں۔ انہوںنے اس نقطۂ نظر کا اظہار کیا ہے کہ آزادیٔ اظہار کا دائرہ دن بدن تنگ ہوتا جارہا ہے ۔ ادبی شخصیات واقعی ملک کی جمہوری فضا کی نما ئندہ ہیں۔ بی جے پی کی طرف سے مسلط کی جانے والی بھگوا کاری اس معاشرے کے لئے قابل قبول نہیںہوسکتی جس کی پرداخت آزادانہ اظہار اور تکثیریت کے سائے میں ہوئی ہو۔ افسوس یہ کہ آر ایس ایس اوربی جے پی کے لیڈروں نے اس بنیادی حقیقت کوآج تک نہیں سمجھا ‘‘۔ (۴)

کلدیپ نیّر نے شیوسینا پربھی تنقید کی لکھتے ہیں  :

’’اصل حقیقت یہ ہے کہ ہندوانتہا پسندوں کے ایک حلقے نے انتخابی مقاصد سے معاشرے کومرتکز  کرنے کے لیے بیف کومسئلہ بنایا ہے ۔ اسی طرح ایک ہندوانتہا پسند تنظیم نے بھی جومہاراشٹر تک محدود ہے اس ریاست کوبدنام کیا ہے ۔وہ شیوسینا ہے ۔ جس نے نہ صرف ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کو داغدار کیا ہے بلکہ اس کے چہرے پر کالک پوت دی ہے ۔ شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے تشدد کی نامعقولیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی مذمت کرنے لگے تھے اس سے شیوسینا کوقبولیت کا درجہ پانے میں مدد ملی اوروزیر اعلیٰ کے منصب پر اس کے نامزد فرد کوبٹھایا گیا ۔ اس کے باوجود جمہوری طریقۂ کار شیوسینا کی نئی نسل کی پسند پر پورا نہیں اتررہا ہے ۔ بی جے پی نواز رجحان رکھنے والے مشہور صحافی سدھیندر کلکرنی کے چہرے پر سیاہی ملنے کاو اقعہ شیوسینا کے طریقۂ کار کی موجودہ مثال ہے ۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج اور تنقیدیں شیوسینا کے لیے یہ پیغام ہے کہ ہندوستان کی روح جمہوری ہے اورجمہوری رہے گی‘‘۔(۵)

ملک میں بڑھتی عدم رواداری اوربے اطمینانی کی وجہ سے ملک کے چوٹی کے دانشوروں اورارباب قلم کا اعلیٰ حکومتی اعزازات کا لوٹا نا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں رہنے والا دانشوروں کا بڑا طبقہ رواداری ، تحمل اورامن وامان کا قائل ہے وہ چاہتے ہیں کہ ہندو مسلمان  مل جل کر ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ بٹائیں۔ اسی مسئلے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ہفت روزہ عالمی سہارا نے لکھا کہ:

’’اگر عام آدمی کسی مسئلے پر اظہار خیال کرتا ہے تو اسے اہمیت نہیں دی جاتی  اوریہ ضروری بھی نہیں۔ اس لیےعموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ عام آدمی کا شعور اس حدتک حساس اورمعاملہ فہم نہیں ہوتا کہ ہر مسئلے اورمعاملے میں اس کی رائے پرتوجہ دی جائے یا اس کے مطابق عملی اقدام کیا جائے لیکن جب کسی معاشرے اورملک کے نابغہ افراد، جن کی دانش وبینش اورفکروشعور کوایک بہت بڑے انسانی طبقے کی تائید وتحسین حاصل ہو اورجن کی تحریروتقریر رجحان سازمانی جاتی ہووہ اگر کسی مسئلے پر اظہار خیال کریں یا کسی معاملے پر اپنی تشویش اوراندیشے کوظاہر کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ واقعتاً سنگین اورقابل توجہ ہے ۔ اب گزشتہ دومہینوں سے ہندوستان کے ادباء ودانشوران ملک میں بڑھتی بے چینی اوربے اطمینانی پر اپنی ناراضگی جتارہے ہیں اوراحتجاجاً اپنے اعزازات لوٹا رہے ہیں توا س کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہمارے ملک میں صحیح معنوں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول پہلے کے مقابلے میں بگڑا ہے اور  اس کی مثالیں بھی لگاتار ہمارے سامنے آرہی ہیں ۔ بقرعید کے موقع پر یوپی کے دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی محض افواہ پر ایک بھیڑ ایک بے قصور انسان کومار مار کر موت کے منھ میں ڈھکیل دیتی ہے ۔ ہریانہ میں دلت بچے کو جلادیا جاتا ہے ۔ اظہار خیال پر قدغن لگانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ادیبو ں پر جان لیوا حملے کئے جاتے ہیں۔ یہ سب کیا ہیں ۔ فرقہ وارانہ عدم رواداری کی مثالیں ہی تو ہیں‘‘۔(۶)

جارحانہ قوم پرستی کے عزائم

اسلام کی تعلیم مساوات کے زیر اثر اب سماج کے نچلے طبقے کے لوگوں کوبھی انسان سمجھا جاتا ہے اور  ان کے حقوق کی گفتگو کی جارہی ہے ۔  لوگوں کوہندوستان میں اسلامی تہذیب کی دین کا بھی قائل ہونا چاہئے ۔ دستور ہند اپنے مغربی قالب کے باوجود بہت سی مثبت قدروں کی تائید کرتا ہے۔ رواداری کی  بدولت  ہی کثیر المذاہب ، کثیر اللسان  ہندوستان امن وامان اورشرافت وانصاف کا گہوارہ رہا ہے۔ پروفیسر یوسف امین نے لکھا ہے :’’ہر مذہبی تہذیب ایک عنصر تحریف وتنسیخ کا بھی رکھتی ہے ۔ ملک کی فسطائی تحریکات کا رجحان ہندو مذہب کے مسخ شدہ پہلو، یعنی برہمنی اعلیٰ طبقے کی جباریت سے عبارت ہے ۔ ان کو ہندومت کی آسمانی حقیقت سے کم ہی تعلق ہے مزید برآں، ان تحریکات نے اپنے جبارانہ داعیہ کے لیےنظر یاتی قالب مغربی مادہ پرستانہ جدیدیت کے فسطائی مکتب سے حاصل کیا ہے ۔ یعنی غالب گروہ کی جباریت ۔ آر ایس ایس کے نظریاتی معمار، گولوالکر نے اس استفادہ کا صریح حوالہ بھی دیا ہے۔

آر ۔ایس۔ ایس کی جباریت کا دوسرا  پہلوتہذیبی ہے جو  قدیم ہندو علوم کی من گھڑت تعبیرا ت کا تسلط ہے ۔ سیاسی اورمعاشرتی پہلو کےاعتبار سے  یہ جباریت اسلامی تہذیب کے خاتمہ کا منصوبہ ہے جبکہ معاشی لحاظ سے مقامی اورعالمی سرمایہ داروں کی حمایت پیش نظر ہے جو  ہندوستانی عوام، کسان ، مزدور ، چھوٹے تاجر اورصنعت کار کا  استحصال کرنا چاہتے ہیں ۔

آر ۔ایس۔ ایس کاتیسرا دعویٰ ہندوؤں کوواحد ہندوستانی ثابت کرنے کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ  اسلامی تہذیب اورملت اسلامیہ کا ہندوستان سے نہ کوئی قدرتی تعلق ہے اور نہ اس پر مسلمانوں کا کوئی حق ہے ۔ مزید یہ کہ تمام باشندگانِ ملک، سکھ، بودھ ،جین، دلت،آدی باسی وغیرہ  ہندو ہیں۔

اس تحریک کا چوتھا عنصر اس کا تجدیدی نظریہ ہے ۔ ہندوسماج کی تجدید میں آر ۔ ایس ۔ ایس روحانیت، اخلاق، علم تمام چیزوں کونظر انداز کرکے صرف جنگی طاقت اورڈسپلن کواہمیت دیتی ہے۔

پانچواں عنصر یہ ہے کہ طریقۂ کار کے طور پر تشدد کوکلیدی مقام دیا گیا ہے یہ مقدس جنگ (دھرم یدھ ) کا پابندِ حدود تشدد نہیں ہے، بلکہ بدنام زمانہ فسطائی بنگالی ناول’’ آنند مٹھ‘‘ میں بیان شدہ شیطانی بھیڑ کا تشدد ہے، جو ، لوٹ پاٹ اورعورتوں پر مظالم  سے عبارت  ہے ۔ فسطائی تحریک حقیقی ہندومذہب کی روحا نیت اورانسان دوستی نیز موجودہ دستور ہند کی روشن خیالی کے خاتمے کے لیے بھی اسی قدر کوشاں ہے جتنا کہ مسلمانوں کے مذہب اورمعاشرتی ومعاشی  نظام کے خاتمے کے لیے ۔ مزید برآں ،عوام الناس کا بدترین معاشی استحصال اورہندوؤں کا اخلاقی اور عقلی انحطاط بھی اس کے ممکنہ عواقب میںشامل ہیں‘‘۔ (۷)

پروفیسر یوسف امین نے برادران وطن سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اصلی مذہب  اور عظیم وراثت کی حفاظت کی خاطر آگے آئیں ان کو فسطائی تحریکات کے آگے بند باندھنا چاہیے تا کہ ان طاقتوں کو ملک میں پھلنے پھولنے کا موقع میسّر نہ آسکے۔ پروفیسر صاحب رقمطراز ہیں:’’ ان ۷۰ فیصد ہندوستانیوں کواس عظیم اوراساسی بربادی کوروکنے کے لیے میدان میں اترنا چاہیے جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کے خلاف ووٹ دیا تھا ۔ بلکہ آر۔ ایس ۔ ایس کے بہکاوے میں آنے والے ۳۰ فیصد حامیوں کوبھی اپنے رویہ کے خوف ناک مضمرات کوسمجھ کر انسانیت، ایجابیت اورروحانیت کے تحفظ کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔ خور آر ۔ ایس ۔ ایس کواپنے نظریات کا جائزہ لے کر حقیقی ہندومذہب اوراس کی افتاد سے متضاد اور روحانی وتہذیبی لحاظ سے تباہ کن خیالات، پالیسیوں او ر رویہ کوترک کرنا چاہئے اورہندوستان کی قدیم اورروایتی انسان دوستانہ افتاد کی طرف واپس آنا چاہیے ‘‘۔ (۸)

جارحیت کے وسائل:

سنگھ پریوار اوراس کی شاخوں کا اپنے عزائم کی تکمیل کی خاطر کارگر وسیلہ بہیمانہ تشدد ہے ۔ اس تحریک نے تشدد کےاستعمال کوبنیادی  اہمیت دی ہے ۔ سنگھ پریوار نے اس وسیلے کو مغربی فسطائیت سے مستعار لیا ہے ۔ جس نے تشدد کوصراحت کے ساتھ قومی ترقی کا ذریعہ اوروسیلہ قرار دیا  ۔سنگھ پریوار کا  فلسفہ ملک کے لیے خطرناک ہے ، مغربی مادی جدیدیت نے خدا فراموشی پیدا کی ہے۔ سرمایہ داری کے نتیجے میں عوا م الناس دیہات سے  شہر کی انسانیت کش گندی بستیوں میں رہائش کے لیے آنے پر مجبور ہیں۔ ان کا ایک بڑا طبقہ حیوانی تشدد کی آگ میں سلگ رہا ہے ۔ منظم جرائم ، دلہن سوزی، آبروریزی ، شاہراہی  غیظ وغضب، یہ تمام بھیانک حالات  اسی اندرونی جذبۂ تشدد کی دین ہیں ۔ آر ایس ایس کا غریب طبقے میں اس تشدد کو مسلمانوں اور انسانیت نواز غیر مسلموں کے خلاف ہوا دینا نیز متوسط طبقے میں پھیلانا،   آگ سے کھیلنا ہے ۔ اس آگ کا شکار صرف مسلمان نہیں بنیں گے بلکہ دلہن سوزی اورآبروریزی وغیرہ کی اُٹھتی لہر ایک سونامی بن جائے گی۔(۹)

فسطائی تحریک کا ایک اوروسیلہ شدید معاشی استحصال کے ساتھ معاشی حقوق کی پاسداری کاڈھونگ ہے جس سے ملک ابھی دوچار ہے ملک کی معاشی حالت بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے ۔ چھوٹے کاروباری ا و ر کارخانے والے اپنا کاروبار بند کرچکے ہیں ۔پورا ملک بڑے کاروباریوں کے ہاتھ میں جاتا ہوا نظر آتا ہے ۔   مگر حکومت عوام کو محض بہلاوے دے رہی ہے کہ ابھی کچھ دنوں کی پریشانی ہےحالات اچھے ہوجائیں گےپروفیسر یوسف امین نے سنگھ پریوار کے اس طریقۂ کار پر تنقیدی گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’فسطائی تحریک کا ایک اورنہایت منفی پہلو اس کی معاشی پالیسی ہے ۔ عالمی اورہندوستانی سرمایہ داروں کے ذریعہ عوام الناس کا سفا کانہ استحصال کیا جارہا ہے۔  دوسری طرف بھارتیہ مزدور سنگھ ، سودیشی جاگرن منچ وغیرہ غریبوں سے ہمدردی کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔ یہ آر ۔ ایس ۔ ایس کی معاشی پالیسی کی دو بنیادیں ہیں ۔ فسطا ئی تحریک کے غیر دیانت دارانہ طرز گفتار، جھوٹ، توریہ ، وغیرہ کی وجہ سے اس کے کسی موقف کو قطعی طورپر بیان کرنا مشکل ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ عالمی اورمقامی سرمایہ داروں کے تحالف کواستحصال کا پورا موقع فراہم کرنا ہی فسطائی تحریک کی اصل معاشی پالیسی ہے ‘‘۔(۱۰)

ان حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو شعور بخشا ہے خیرامت کے مرتبے پر فائز کیا ہے وہ اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل کوسمجھ کرفسطائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کوروک سکتے ہیں ۔  ان کو اپنا تعلق مذہب سے مضبوط کرکے تعلق بااللہ اورتعلق بالرسول کا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا۔ اتحاد واتفاق کی مثال قائم کرکے بنیان مرصوص کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرنی ہوگی ۔انسانی خدمت کواپناکر عملاً ثابت کرنا ہوگا کہ ہم صرف ملک کے خیر خواہ ہی نہیں بلکہ یہاں کی آبادی کے لیے مفید اورکار آمد ہیں۔اعلیٰ  اخلاق وکردار سے دشمن بھی دوست بن جاتا ہے ۔(   قرآن پاک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوخطاب کرکے فرمایا ہے کہ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ (حم سجدہ: ۳۴)  (ترجمہ) ’’اور اے نبی ؐ ۔ نیکی اوربدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کواس نیکی سے دفع کروجو بہترین ہو۔ تم دیکھوگے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے‘‘۔)

برادران وطن تک دین حق کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری  مسلمانوں کی ہےوہ انسانیت کے خیر خواہ ہیں۔ ان کی آرزو ہے کہ  اس دنیا کے بعد آنے والی دنیا میں انسان کو خسران سے سابقہ پیش نہ آئے اوروہ اللہ کے عذاب کا مستحق نہ قرار پائے۔  برادران وطن کو یہ بات سمجھانی ہے کہ سنگھ پریوار ہندومذہب کی صحت مند روایات کی ترجمانی نہیں کرتا۔ وہ مغرب زدہ مادّہ پرستانہ تصّورات کا ترجمان ہے اس لیے ہندوسماج کوسنگھ پریوار سے صریح اور قطعی  برأت کا اظہار کرنا چاہیے عوام کو مطالبہ کرنا چاہئے کہ سنگھ پریوار  جباریت ، اسلامی تہذیب کی مخالفت اورعوام الناس کے معاشی استحصال سے باز آئے  ۔ ہندو سما ج کی دیرینہ رواداری اور عمومی انسانی شرا فت کاتقاضا یہی ہے ۔ اِلٰہی تعلیمات کوبنیاد بنا کر ہم مُلک میں ایک ایسی فضا کو جنم دے سکتے ہیں جہاں تمام اقوام ، رواداری اورامن وامان کے ساتھ زندگی گزار یں اورملک کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کریں ۔

حوالہ جات وحواشی

(۱)    رفیق زکریا ، ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا عروج وزوال ، اردوترجمہ ثابت انور، ۱۹۸۵، ص ۲۱

(۲)   ڈاکٹر محمد احمد فلاحی، ہندومسلم تعلقات کی خوشگواریادیں ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ، نئی دہلی ۲۰۰۴ء ، ص ۳۷۔ ۱۳۶

(۳)   کلدیپ نیّر ، مضمون ’’بیف کا مسئلہ سماج کوبانٹنے کی کوشش ، روزنامہ انقلاب نئی دہلی، ۲۱؍اکتوبر ۲۰۱۵ء جلد ۳، شمارہ ۲۸۱، ص ۷

(۴)   نفس مصدر، ص ۷

(۵) نفس مصدر، ص ۷

(۶) نایاب حسن،بھارت  میں بڑھتی عدم رواداری ، ہفت روزہ عالمی سہارا، جلد ۱۳،شمارہ ۳۱، ۲۰؍ نو مبر تا ۲۶ ؍ نومبر ۲۰۱۵ء ، ص ۲۰۔۱۹

(۷ ) پروفیسر یوسف امین ، مضمون ’’فسطائی تحریک ۔ کتنی یگانہ ومثبت، کتنی بے گانہ ومنفی ‘‘، سہ روزہ دعوت نئ دہلی ، ۱۳؍نومبر ۲۰۱۵ء (خصوصی شمارہ) مسلم وغیر مسلم تعلقات ۔ ماضی وحال کی روشنی میں مطلوبہ لائحہ عمل ، ص ۲۴۔ ۱۲۳

(۸)  نفس مصدرص ۱۲۴

(۹)  نفس مصدر ص ۱۳۴

(۱۰)   نفس مصدر  ص ۱۳۵

مارچ 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau