مسلمانوں کے نظامِ تعلیم کا تاریخی ارتقاء

ڈاکٹر نجم السحر

علم انسانی زندگی کا اہم حصہ ہے ۔ تعلیم کے بغیر اس انسان کا تصور ممکن نہیں ۔ اللہ نےانسان کو اعلیٰ مخلوق کا درجہ دیا ہے ۔ اس درجے میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے پاس کم سے کم ضروری علم موجود ہو۔ اسے معلوم ہو کہ اس کا خالق کون ہے ،دنیا میں اسے کس مقصد کے لئے بھیجا گیا ہے ،بحیثیت انسان اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔اگر کوئی انسان ان بنیادی باتوں سے بے خبر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان کے مقام سے بہت پیچھے ہے ۔ اگر اسے اس صف میں شامل ہونا ہے تو علم حاصل کرنا ہو گا تبھی حیات ومقصدِ حیات سے روشناس ہوسکتا ہے۔ اس یاد دہانی کے بعد تعلیم کی ضرورت اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔تعلیم ، حصولِ معاش کاذریعہ بھی ہے اس سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم سماج کی صالح تعمیر کا سبب بنتی ہے۔

اسلام مکمل دین ہے اس کی بنیاد علم پر ہے ۔ اسلام میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے دنیا کے اور مذاہب میںیہ اہتمام نہیں ،ا سلام نے تعلیم کا جامع تصوّر پیش کیا اس نے ایک جاہل معاشرے کومہذب بنا دیا ،آپس میںبلا جواز تلوار سونتنے والوں کو بھائی چارہ سکھا دیا،پہلی وحی میں نازل ہونے والا پہلا لفظ’اقراء‘ ہے یعنی ’پڑھ ‘معلوم ہو کہ اسلام کی نظر میںعلم کتنا اہم ہے ۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً نازل ہونے والی آیات میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے ذریعہ علم کی مکمل توضیح پیش کی گئی۔ اس نے ایک نئے معاشرے کو وجود بخشا ہر شخص کوتعلیم کے میدان میں برابر مواقع ہے۔اسلام نے تلقین کی کہ ہر مسلمان علم حاصل کرے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔تبھی صالح معاشرے کا وجودہوسکتاہے۔علمی ترقی کی مثالیں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اور خلفائے راشدین کے دور میں اور اموی اور عباسی دور میں دیکھنے کو ملیں۔ مسلمانوں نے علم کےتمام گوشوں میں ترقی کی منزلیں طے کیں۔

تعلیم کی اہمیت قرآن میں:

ضروری علم، ایمان کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔علم کے ذریعے دنیا میں انسان سیدھا راستہ دیکھ سکتا ہے۔ تعلیم اُسے مہذب بناتی ہے، تعلیم پر ترقی کا دارومدار  ہے صحیح علم سے انسان کی مغفرت اور نجات ہوسکتی ہے۔ دین کی تعلیم دوزخ سے بچاتی اور جنت کا حقداربناتی ہے۔علم سے بے بہرہ انسان زندگی کے میدان میں فکری اور عملی ہر لحاظ سے پیچھے رہ جاتا ہے ،پہلی وحی میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۝۱ۚ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۝۲ۚ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ۝۳ۙ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۝۴ۙ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۝۵ۭ (العلق:۱۔۵)

’’(اے پیغمبر)پڑھ اپنے رب کے نام سے (آغازکرتے ہوئے)پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایاجمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا‘‘

آیاتِ اِلٰہی کے ذریعے  اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی توجہ تعلیم کی طرف مبذول کی۔ یہ بات صاف ہوگئی کہ زندگی کا اہم پہلو علم ہے ۔ایک مسلمان کی زندگی علم کو کی روشنی میں بسر ہوتی ہے جہالت سے نہیں، ایک مسلمان کو مسلمان ہونے کے لئے علم سے استفادہ کرنا ہوگا۔صرف پڑھنا ہی نہیں اس آیت میں قلم کے ذریعے ، لکھنے کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

قرآن میں جگہ جگہ جاہل اور عالم کے فرق کو بیان کیا گیا ہے انسانوں کو علم کی ترغیب دی گئی ہے۔

قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۰ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ(الزمر۔۹)

’’ان سے پوچھو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے کبھی برابر ہو سکتے ہیں ،نصیحت تو عقل رکھنے والے ہیں قبول کر سکتے ہیں ۔‘‘

وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ۝۲۰ۙ وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَــرُوْرُ(فاطر۔۱۹۔۲۱)

’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں نہ ٹھنڈی چھائوں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی ہے ‘‘

قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَۃُ الْخَبِيْثِ۝۰ۚ فَاتَّقُوا اللہَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(المائد:۱۰۰)

’’اے پیغمبر ان سے کہہ دو کے پاک اور ناپاک بہر حال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو پس اے لوگوجو عقل رکھتے ہو! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی‘‘

وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا۝۰ۭ قُلْ كَفٰى بِاللہِ شَہِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ۝۰ۙ وَمَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ (الرعد:۴۳)

’’یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہو ،کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے اور پھر ہر اس شخص کی گواہی جو کتاب آسمانی کا علم رکھتا ہے ‘‘۔

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اللہُ لَكُمْ۝۰ۚ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ۝۰ۙ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ(المجادلۃ:۱۱)

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا ۔اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جائو تو اٹھ جایا کرو ۔تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا ‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے عالم کےمقام کو بیان کیا ہے ۔ علم کی بنا پر اس کے درجات بلند ہوںگے۔قرآن کریم میں علم کا ذکر اسّی بار ہوا ہے۔علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے نبی کو یہ سکھائی :وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا(طہ:۱۱۴)’’اور دعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر‘‘۔

علم حاصل کرنے کا مقصد اسلام میں وسیع ہے۔ علم کے حصول میں اخلاص کا اہتمام کیا جائے۔ علم اس لئے نہیں حاصل کرنا ہے کہ بڑے عالم کہلائیں۔ بلکہ اللہ علم اس لیے ہے کہ حقیقت اور اس کی صفات کو جانیں۔علم رکھنے والے اللہ سے ڈریں۔ جب انسان اللہ کو جانے گا تبھی اس کے احکامات کو بھی مانے گا اور خوف خدا اس کے دل میں پیدا ہوگا اور اس طرح وہ برائیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے گا ۔ دل میں خوف خدا ہو تب ہی اچھا اور برائیوں سے پاک معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔جیسا کہ اس آیت میں بیان ہوا ہے کہ:

اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰۗؤُا(فاطر:۲۸)

’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں‘‘۔

اگر علم کے بغیر مسلمان کا تصور ممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ بار باراس کے متعلق آیات نازل نہ فرماتا ۔علم ، ایمان اور عمل صالح ہی میں بندے کے لئے نجات ہے۔

تعلیم کی اہمیت احادیث میں:

احادیث میں بھی علم اور تعلیم کی اہمیت کا ذکر متعدد بار ہوا ہے۔ احادیث کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی فضیلت بیان کی ہے ۔حدیث کی کتابوں میں علم کی اہمیت پر ابواب موجود ہیں ۔

طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم(ابن ماجۃ: ۲۲۴)

’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘۔

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

ارجعوا الیٰ اھلیکم فاقیموا فیھم وعلموھم و مروھم(بخاری:۶۳۱)

’’ اپنے بیوی بچوں کے پاس جائو اور انہی میں رہو اور ان کو دین کی باتیں سکھائو اور ان پر عمل کا حکم دو ‘‘۔

الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المومن فحیث وجدھا فھو احق بھا(ابن ماجۃ، باب الحکمۃ)

’’علم و عقل کی بات مومن کا گمشدہ مال ہے ،پس جہاں بھی اسے پائے حاصل کرنے کا وہ زیادہ حقدار ہے‘‘۔

من سلک طریقا یلتمس فیہ علما سھّل اللہ لہ طریقا الی الجنۃ (ترمذی:۵۴۱)

’’ جس نے علم سیکھنے کے لئے کوئی راستہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا ایک راستہ آسان کر دیتے ہیں ‘‘۔

خرج فی طلب العلم کان فی سبیل اللہ حتّی یرجع(ترمذی:۵۴۴)

’’ جو شخص علم کی تلاش میں نکلے وہ واپس لوٹنے تک اللہ کی راہ میں ہے‘‘۔

حدیث میں بھی نہ صرف پڑھنے پر زور دیا گیابلکہ لکھنے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ،جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے:

’’ایک انصاری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھا کرتے اور احادیث سنتے تھے،وہ انہیں بہت پسند کرتے لیکن یاد نہ رکھ سکتے تھے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی کہ یا رسول اللہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں سنتا ہوں مجھے وہ اچھی لگتی ہیں لیکن میں یاد نہیں رکھ سکتا ۔پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے لکھنے کا اشارہ فرمایا‘‘(ترمذی:۵۶۰)

من یرد اللہ بہ خیرا یفقّہ فی الدین (بخاری:۷۲)

ایک حدیث میں ہے کہ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتاہے اس کو دین کی سمجھ عنایت فرماتا ہے ‘‘۔

ایک دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا:’’ جو شخص علم کے حصول کی راہ میں چلا اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلاتا ہے اور بے شک ملائکہ اپنے پروں کو طالب علم کی خوشنودی کے لئے بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے زمین و آسمان کی تمام اشیاء مغفرت کی دعا کرتی ہیں اور مچھلیاں پانی کے پیٹ میں اور بے شک عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودہویں کے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر اور بے شک علماء انبیاء کے ورثاء ہیں اور انبیاء علم کو میراث بناتے ہیں پس جس نے اسے حاصل کر لیا اس نے پورا حصہ حاصل کر لیا۔(ابوداؤد:۲۴۴)

یہ تمام احادیث اپنے معنی کے اعتبا سے بہت وسیع ہیں اور علم کی اہمیت پر روشنی ڈال رہی ہیں۔ عالم کی کیا فضیلت ہے اس کو بھی اچھی طرح ظاہر کر دیا گیا ہے۔

تعلیم عہد نبوی میں:

مشہور بات ہے کہ جس وقت اسلام مکہ کی سر زمین پر نمودار ہوا صرف سترہ لوگ پڑھنا جانتے تھے۔یہ اسلام تھا جس نے لوگوں کوعلم اور تعلیم کی طرف مائل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود معلم تھے۔ آپ نے لوگوں کو علم سیکھایا ۔ اپنے صحابہ کرام ؓکو اس کام میں شامل کیا۔جنگوںاور مہمات جیسی مصروفیات کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفروغِ علم کی طرف ہمیشہ اپنی توجہ مبذول رکھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن عاص کو منتخب کیا ۔کہ وہ لوگوں کو پڑھائیں اُن کے علاوہ حضرت عبادہ بن صامت کو اصحاب صفّہ کوقرآن پڑھانے اور لکھنا سکھانے کے لئے مقرر کیا ۔(Mohd. Sharif khan.Education Religion and the. Modern Age)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلم خاتون رفیدہ کو اجازت دی کہ جنگ تبوک میںپہلا کیمپ لگاکہ زخمیوں کا علاج کر یں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو فوجی تربیت دی اور اللہ کی راہ میں جنگ کے طریقے سکھائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مساعی کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلامی فوجوںنے جس خطے کو فتح کیا وہاں پر صحابہ کرامؓ کو بھیجا گیا تاکہ وہ لوگوں کو تعلیم دے سکیں۔ اہلِ علم صحابہ کو دور داز علاقوں میں علم سیکھانے کے لیے مامور کیا گیا۔ جہاں لوگ علم سے بے بہرہ تھے ۔ مدینہ ہجرت کرنے سے پہلے وہاں بھی آپ نے ایک معلم کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو دین سکھا سکیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کی اشاعت کے سارے ذرائع  استعمال کئے۔ جب جنگ بدر میں کافر قیدیوں کے پاس فدیہ دینے کے لئے رقم نہ تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے دس بچوںکو لکھنا پڑھنا سکھا دو ۔(احمد)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز میں علم کو فروغ دیا اس کی مثال نہیں ملتی علم کے حصول کے لئے اصحاب صفّہ نے زریں مثال قائم کی ہے۔انہوں نے حصول علم کے لیے خود کو وقف کر دیا ۔ان میں ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے لکھنا بھی سیکھ لیا ۔مدینہ میں صرف صفہ ہی نہیں بلکہ اور مساجد میں بھی تعلیم دی جاتی ۔

نبی کے اسوہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں تعلیم کا کیا مقام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف قرآن کا علم حاصل کرنے کی ہی ترغیب نہیں دی بلکہ کچھ صحابہ کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم بھی دیا ۔

تعلیم عہد خلفائے راشدین میں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے شروع ہونے والا تعلیمی سفر خلفائے راشدین کے زمانے میں جاری رہا۔اسی طرح اہتمام ہوتا رہا جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں تھا۔ اسلام کے استحکام کے لئے ہی نظام سے فائدہ اُٹھایا گیا۔ قرآن مجید کی جمع و تدوین جیسے کام اس دور میں انجام پائے ۔ اس کے علاوہ اسلام کے بنیادی اصولوں کی تعلیم لوگوں کو دی جاتی رہی ، فتوحات کی وجہ سے عرب کے باہر کے نئے علاقے جیسے مصر،فلسطین،عراق اور شام فتح ہوئے مسلمانوں نے وہاں تعلیمی مراکز قائم کئے اور ان علاقوں تک علم کا نورپہنچایا ۔فلسطین میں معاذ بن جبل،مدینہ میں عبد اللہ بن مسعود،دمشق میں ابو درداء، شام میں عبد الرحمن بن قاسم اور مصر میں جبان بن جبلہ جیسی شخصیات کے ذریعہ تعلیم کو فروغ دیا گیا۔اس دور میں تعلیم کی بنیاد اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ اس کااثر بعد کے زمانے تک باقی رہا۔’’خلافت راشدہ میں سرکاری سرپرستی میں تعلیم کو فروغ دیا گیا ،اسلامی خلافت کی حدود میں ہر جگہ قرآن مجید کی تعلیم کے مکتب قائم کئے گئے جن میں پڑھنا اور لکھنادونوں سکھائے جاتے تھے۔ ان مکتبوں میں تنخواہ دار معلم مقرر تھے ۔صرف حضرت عمر ؓ کے زمانے میں مسجدوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہو چکی تھی۔یہ مسجدیں جن میں تنخواہ دار امام اور موذن مقرر تھے بعد میں بتدریج مدرسوں میں تبدیل ہو گئیں ۔تعلیم کے فروغ اور وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے عہد میں صرف شہر کوفہ میں تین سو حفاظ قرآن تھے جو مدینہ کے بعد تعلیم کا سب سے بڑا مرکز تھا،دوسرے بڑے تعلیمی مراکز مکہ،بصرہ،دمشق اور فسطاط تھے ۔مدینہ منوّرہ میں حضرت عمرؓ،حضرت علیؓ،حضرت عائشہؓ،حضرت زید بن ثابتؓ اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ،مکّہ میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور کوفہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اپنے وقت کے ممتاز ترین عالم اور معلم تھے ۔ ان اصحاب کے درس میں قرآن اور حدیث کے علاوہ فقہ،علم لغت،تاریخ اور شعر و شاعری پر بھی توجہ دی جاتی تھی‘‘۔(ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ، ثروت صولت، جلد اوّل، ص ۱۲۳)

تعلیم عہد بنو امیہ میں:

اموی دور میں بھی مسلمانوں نے علوم و فنون کو فروغ دیا۔ اس زمانے میں کئی صحابہ موجود تھے ۔ انہوں نے دینی تعلیمات کا درس دینا جاری رکھا ۔ دینی علوم کی اشاعت میں جن لوگوں نے حصہ لیا ان میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ،عبداللہ بن عمرؓ،عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عائشہؓابو ہریرہؓ،انس بن مالکؓ اور خواجہ حسن بصری،امام زہری اور قاضی شریح وغیرہ شامل ہیں ۔اس دور میں دینی علوم کی تصنیف و تدوین کا آغاز ہوا اور کچھ نئے علوم وجود  میںآئے ۔

اموی دور میں درس دینے کے لئے علماء کے حلقے ہوتے تھے،بہت سے صحابہ کے تعلیمی حلقے تھے جن میں ہر فن کی تعلیم دی جاتی تھی۔ان میں عبد اللہ بن عباس اور ربیعہ رائی کا حلقہ درس خاصا وسیع تھا۔اموی عہد میں مساجد تعلیم کا مرکز تھیں ،ان میں بڑے بڑے تابعین اور علماء شامل ہوا کرتے تھے۔علم کا بڑا مرکز حجاز اور عراق مانے جاتے تھے ۔کچھ مکانات کو ابتدائی مدارس کے طور پر استعمال کیا گیا جس کو مکتب کا نام دیا گیا ۔یہاں بچے قرآن ،دینی مسائل اور ریاضی کا علم حاصل کرتے تھے ۔تعلیمی اعتبار سے اموی عہد میں کافی ترقی ہوئی اور خاص طور پر عربی زبان کو فروغ ملا۔

تعلیم عہد عباسی میں:

عباسی دور میں مسلمانوں نے تعلیم کی جن بلندیوں پر قدم رکھا اس مقام تک مشرق کبھی نہیں پہنچا تھا۔مسلمان اس زمانے میں یونان،ایران اور ہندوستان کے فلسفے اور حکمت سے واقف ہوئے ۔ درسگاہیں اور دارالعلوم قائم ہوئے جن میں ہر طرح کے علوم پڑھا ئے جاتے تھے۔ان کے نصا ب میں نہ صرف قرآن،حدیث،فقہ اور ادب شامل تھےبلکہ منطق، فلسفہ، ریاضی،علم ہئیت ، طبعیات اورکیمیاء کے درس بھی شامل تھے۔بغداد میں علم کے فروغ کے لئے ’’ دار الحکمت‘‘نامی ادارہ مامون رشید نے قائم کیا۔دنیا کی کئی کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا گیا ۔چند مثالیں یہ ہیں فلکیات کے موضوع پر لکھی گئی برہم گپت کی مشہور کتاب ’سدھانت‘کا ترجمہ محمد ابن ابراہیم الفرازی نےکیا۔ طب میں لکھی گئی جالینوس اورسقراط کی کتابوں کا ترجمہ یحییٰ بن البطریق نے کیا ،اطلیموس کی کتاب المجسطی اور اقلیدس کی کتاب اولیات اور سنسکرت کی مشہور کتاب پنج تنتر کا ترجمہ بھی کلیلہ و دمنہ کے نام سے اس عہد میں ہوا ۔ جامعہ ازہر ،نظامیہ اور مستنصریہ نے بھی تعلیم کے فروغ میں اہم رول ادا کیا۔اس دور میں عالم اسلام میں ادارے اور مدارس قائم کئے گئے، نظام الملک نے کئی مدرسے قائم کئے بلخ ،نیشا پور،ہرات ، اصفہا ن ، بصرہ،مرو،موسل علمی مراکز بنے۔ مدارس کے ساتھ ہاسٹل بھی قائم کئے جاتے تھے۔اس زمانے کے مشہور عالموں میں امام ابو اسحٰق شیرازی،ابن کاتب،قطب الدین شافعی،اما م غزالی شامل ہیں ۔

عربوں میں جو علمی بیداری آئی وہ قرآن کی تعلیمات کا نتیجہ تھی،قرآن اور نبی کی تعلیمات نے دماغوں پر لگے تالوں کو کھول دیا ۔ جب یہ تالے ٹوٹے تو مسلمانوںنے دنیا کی تمام قوموں پر سبقت لے گئے اور مسلم دنیا علم کا گہوارہ بن گئی ۔ لوگ دور دراز سے وہاں علم حاصل کرنے کے لئے آنے لگے۔

قرآن اور نبی کی تعلیمات نے مسلمانوں کو توانائی عطا کی۔ مسلمانوں نے تیزی سے علم سیکھا۔علم کے چند نمایاں میدان یہ ہیں۔ علم کیمیاء ، فلکیات ، ریاضی ، جغرافیہ ہو، معدنیات ، طب ، فلسفہ ، طبیعیات ، نباتات و حیوانات ، تاریخ ۔مسلمانوں نے بڑی بڑی لائبریاں اور مدارس قائم کئے ۔ اب تک زمانہ اس تیز رفتار ترقی کی مثال دینے سے قاصر ہے ۔نبی کے دور سے شروع ہونے والا علمی انقلاب قرون وسطی تک قائم رہا ، ہر دور میں مسلمانوں نے ثابت کیا کہ تعلیم کے بغیر ایک مسلمان کا وجود مکمل نہیں۔ ترقی کے لئے علم نا گزیر ہے جب مسلمانوں نے علم وتحقیق کو چھوڑ دیا زوال نے ان کا دامن پکڑ لیا۔

آج بھی اسلام کا یہ تقاضا ہے کہ مسلمان علم کے ہر میدان میں ترقی کریں اور اپنی زندگی اور سماجی فضا کو علم کی شمع سے روشن کریں۔تاکہ اپنے ابائواجداد کی طرح وہ بھی زمانے میں سرفراز ہوسکیں  اور دنیا کی رہنمائی کرسکیں۔

جن کی نگا ہوں نے کی تربیتِ شرق وغرب

ظلمتِ یوروپ میں تھی، جن کی خرد راہ ہیں

ستمبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau