گھر، خاندان اور پڑوس

آپ کی سرگرمی کے پہلے میدان

محی الدین غازی

اللہ کے رسولﷺ نے عورت کو گھر کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے فرمایا:

وَالمَرْأَةُ رَاعِیةٌ فِی بَیتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤلَةٌ عَنْ رَعِیتِهَا (صحیح بخاری)

‘‘عورت اپنے شوہر کے گھر میں ذمے دار کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ اپنی رعایا کے سلسلے میں جواب دہ ہے۔’’

عورتوں کی سرگرمی کے اولین محاذ

اس سر زمین پر دین قائم کرنے کا کام بہت بڑا ہے۔ اس کے لیے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی بہت سے محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ البتہ کام شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے کن محاذوں پر خاص توجہ دینی ہے، انھیں مولانا مودودیؒ نے گن گن کر وضاحت کے ساتھ بتایا ہے، مولانا فرماتے ہیں:

‘‘اس وقت عورتوں کے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں کو اور اپنے خاندان اور اپنے ہمسایوں اور اپنے ملنے جلنے والوں کے گھروں کو شرک و جاہلیت اور فسق سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔ گھروں کی معاشرت کو اسلامی بنائیں۔ اَن پڑھ اور نیم خواندہ عورتوں میں علم دین کی روشنی پھیلائیں۔ تعلیم یافتہ خواتین کے خیالات کی اصلاح کریں۔ خوش حال گھروں میں خدا سے غفلت اور اصول اسلام سے انحراف کی جو بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں ان کو روکیں۔ اپنی اولاد کو اسلام پر اٹھائیں۔ اپنے گھروں کے مردوں کو، اگر وہ فسق اور بے دینی میں مبتلا ہوں، راہِ راست پر لانے کی کوشش کریں اور اگر وہ اسلام کی راہ میں کوئی خدمت کررہے ہوں تو اپنی رفاقت اور معاونت سے ان کا ہاتھ بٹائیں۔ آگے چل کر اس دین کے لیے آپ کو اور دوسری خدمات بھی انجام دینی ہوں گی اور ان کے لیے آپ کو تیار کرنے کا انتظام بھی ان شاء اللہ اپنے وقت پر ہوجائے گا۔ لیکن سردست آپ کے لیے اس تحریک میں یہی کام ہے اور یہ آپ ہی کے کرنے کا ہے۔’’ (روداد، پنجم)

یاد رہے کہ یہ بنیادی اور نہایت ضروری کاموں کا بیان ہے، ان کے آگے بھی کام کے بہت سے میدان منتظر ہیں۔ ان کاموں کی انجام دہی کے لیے کم عمری ہی سے اپنے اندر صلاحیت اور استعداد پیدا کرنی ہوگی۔

جہادِ زندگی میں عورت مرد کا سہارا بنے

عورت کا سہارا اور پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، تو مرد کی قوّتِ کار میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تذکرے میں ان کی اہلیہ کا ذکر خاص طور سے ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کا ہر ہر قدم پر ساتھ دیتی تھیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت میں آپ کی بیویوں خاص طور سے حضرت خدیجہ کا کردار بہت نمایاں نظر آتا ہے۔ انھوں نے ہر طرح سے آپ کا ساتھ دیا۔

شریکِ حیات ہی نہیں شریکِ کار بھی بنیں

عام حالات میں تو گھر کے کاموں کی تقسیم اسی طرح ہوتی ہے کہ گھر کے اندر کے کام عورت دیکھے اور گھر کے باہر کے کام مرد دیکھے۔ لیکن کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ شوہر کے اوپر باہر کے کاموں کا بوجھ زیادہ ہوجائے ایسے میں بیوی جہاں تک ہوسکے آگے بڑھ کر اس کا تعاون کرے۔ اسی طرح اگر کبھی گھر کا کام زیادہ بڑھ جائے تو شوہر بیوی کا ہاتھ بٹائے۔

خاص طور سے اگر شوہر کسی ایسے منصوبے یا کام کو اپنے ذمے لے جو دین اور سماج کے لیے خیر کا باعث ہو تو اس میں بیوی کو جہاں تک ہوسکے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ جس منصوبے میں شوہر اور بیوی دونوں کی محنت شامل ہوجائے، اس کی کام یابی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیٹی حضرت اسماءؓ کی شادی حضرت زبیرؓ سے ہوئی۔ یہ ہجرت کے بعد مدینے کا ابتدائی زمانہ تھا۔ حضرت زبیر ؓ اس وقت نادار تھے۔ ایک اونٹ اور ایک گھوڑے کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ دن بھر اللہ کے رسول ﷺ کے تفویض کیے ہوئے کاموں اور مہمات میں مصروف رہتے۔ ایسے میں حضرت اسماءؓ نے گھر اور باہر کے سارے کام اپنے ذمے لےلیے۔ انھیں شدید مشقت کے کام کرنے پڑتے۔ گھوڑے کو چارا کھلاتیں، ان کے شوہر کے نام کوئی چار میل دور ایک زمین تھی، وہاں پیدل جاتیں،وہاں سے کھجور کی گٹھلیاں جمع کرکے سر پر لاد کر گھر لاتیں اور انھیں کوٹ کر اپنے اونٹ کو کھلاتیں۔ چمڑے کے مشکیزے کی سلائی کرتیں اور دور سے پانی بھر کر لاتیں۔ (صحیح بخاری)

حضرت اسماءؓ کی سیرت کا خاص پہلو یہ بھی ہے کہ اتنی مصروفیات کے باوجود آپ وقت نکال کر مسجد نبوی بھی تشریف لاتیں اور وہاں اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمی وتربیتی مجلسوں سے فیض اٹھاتیں۔ اس کے ساتھ آپ نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور حضرت عروہ بن زبیرؓ اسلامی تاریخ کے دو درخشاں ستارے ہیں۔

شوہر کودین کی تعلیم دیں

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شوہر کے پاس دین کا زیادہ علم ہوتا ہے، ایسی صورت میں بیوی کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو غنیمت جانے اور اپنے شوہر سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرے۔ اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی کو زیادہ علم حاصل ہوجائے، ایسی صورت میں وہ اپنے شوہر کو اپنے علم میں شریک کرے۔

حضرت سعید بن مسیب ؒ کے شاگرد کی شادی ان کی بیٹی سے ہوئی، شادی کے کچھ روز بعد وہ تیار ہوکر گھر سے نکل رہے تھے کہ بیوی نے پکڑ کر پوچھا کدھر جارہے ہیں؟ شوہر نے کہا حضرت سعید کے پاس جارہا ہوں علم حاصل کرنے کے لیے، بیوی نے کہا: بیٹھیے حضرت سعید کا علم میں آپ کو سکھادوں گی۔ (المدخل لابن الحاج)

غرض شوہر اور بیوی کے درمیان سیکھنے اور سکھانے کا تعلق بھی ہونا چاہیے۔ اگر شوہر کے پاس علم ہو تو بیوی اسے سیکھنے میں جھجک محسوس نہ کرے۔ اور اگر بیوی کے پاس علم ہو تو وہ شوہر کو اس سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کرے۔علم رکھنے والا علم نہیں رکھنے والے پر اپنی برتری ہرگز نہ جتائے، بلکہ حکمت کے ساتھ اسے اپنے علم میں شریک کرلے۔

پرہیزگاری میں مَردوں کی مدد کریں

روزی کمانے کی بڑی ذمے داری اللہ نے مردوں پر عائد کی ہے۔ روزگار کے راستے میں حرام کمائی کے بہت سے مواقع آتے ہیں۔ جن لوگوں کے سامنے آخرت بنانے کا بڑا ہدف ہوتا ہے وہ حرام سے بچتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ عورتیں اس سلسلے میں بڑا اہم رول ادا کرتی ہیں۔اگر ان کے اندر پرہیزگاری اور قناعت ہوتو مردوں کے لیے حلال کمائی پر اکتفا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

عورتوں کی روز بروز بڑھتی فرمائشیں مرد وں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے اکساتی ہیں۔ مردوں پر زیادہ کمانے کی دُھن سوار ہوتی ہے، تو وہ ناجائز راستے بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ بہت سے مصنفین نے لکھا ہے کہ پہلے زمانے میں جب مرد کام پر نکلتے تو ان کی نیک بیویاں انھیں رخصت کرتے ہوئے نصیحت کرتیں: ‘‘ہمارے سلسلے میں اللہ کی ناراضی سے بچنا، دیکھو حرام کمائی سے دور رہنا، ہم دنیا کی بھوک اور پیاس پر تو صبر کرلیں گے، لیکن جہنم کی آگ نہیں جھیل پائیں گے۔’’

مردوں کا حوصلہ بڑھائیں

اللہ کے دین کی خدمت کا راستہ اکثر دشوارگزار گھاٹیوں سے گزرتا ہے۔ ایک شخص کو نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان کو قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر گھر کی عورتوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ہوتی رہے اور وہ سرد و گرم برداشت کرنے کا فیصلہ کرلیں تو راستہ آسان ہوجاتا ہے۔ورنہ اللہ کے لیے نکلنے والے انسان کو سب سے زیادہ دشواری گھر والوں کی طرف سے پیش آتی ہے۔

اگر گھر کے اندر سےعورتوں کا سہارا رہے،تومرد گھر کے باہر بہت سے بڑے کام انجام دے سکتے ہیں۔ اللہ پر بھروسا کرنے والی نیک عورتیں مردوں کے پاؤں کی زنجیر نہیں بنتی ہیں، نہ ان کے حوصلے کم زور کرتی ہیں۔ وہ تو ان کے حوصلے بڑھاتی اور انھیں مہمیز لگاتی ہیں۔

بہت ضروری ہے کہ عورتوں کے اندر یہ پختہ یقین واعتماد ہو کہ رازق اللہ ہے، وہی پالنہار ہے، جو اس کی راہ میں نکلے گااور اس کے دین کی نصرت کرے گا، اللہ اسے اور اس کے گھر والوں کو بے آسرا نہیں چھوڑے گااور اگر دنیا میں کچھ آزمائشیں آبھی گئیں تو آخرت کی کام یابی اور سرخ روئی کے سامنے دنیا کی تکلیفوں کی کیا حیثیت۔جنت کی ایک لمحے کی خوشی دنیا کی ساری تکلیفوں کو بھلادے گی۔

مولانا مودودیؒ کی زندگی شدید آزمائشوں میں گزری، کئی سال جیل میں گزرے، جیل کے باہر رہے تو شدید مخالفتوں کا سامنا رہا، تقسیم کے وقت نقل مکانی کی طویل اور صبر آزما صعوبتیں بھی زندگی کا حصہ بنیں۔ ایسے تمام مواقع پر مولانا مودودیؒ کو اپنی عظیم ماں اور عظیم بیوی کی طرف سے پورا سہارا ملا۔

مولانا مودودیؒ نے ایک بار اپنی بیگم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:

‘‘جب لوگ نعرے لگاتے ہیں مولانا مودودی زندہ باد! جماعت اسلامی زندہ باد! تو میں اپنے دل میں کہتا ہوں، محمودہ بیگم زندہ باد۔ جب کوئی فوج فتح مند ہوتی ہے اور اس کے سپہ سالار کو پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا جاتا ہے، تو اس وقت اس گم نام سپاہی کو کوئی یاد نہیں رکھتا، جس نے اپنی نقد جان کی بازی ہار کر فتح کو ممکن بنایا ہوتا ہے۔’’ (شجر ہائے سایہ دار)

شوہر اور بیوی، قدم سے قدم ملاکر چلیں

نبی ﷺ مکہ کی ایک پہاڑی پر ہیں، اتنے میں جبریل آتے ہیں، گھاٹی کے ایک طرف اپنی ایڑی سے اشارہ کرتے ہیں، وہاں چشمہ ابلنے لگتا ہے، جبریل وضو کرتے ہیں اور آپ دیکھتے رہتے ہیں، پھر اسی طرح آپ وضو کرتے ہیں۔ پھر آپ خدیجہؓ کے پاس آتے ہیں، ان کا ہاتھ پکڑ کر اس چشمے تک لاتے ہیں، وضو کرکے دکھاتے ہیں، بی بی خدیجہؓ اسی طرح وضو کرتی ہیں، پھر آپ اور خدیجہ دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں۔ پھر یہ معمول بن جاتا ہے کہ آپ اور بی بی خدیجہ لوگوں سے چھپ کر نماز پڑھتے۔ (سیرت ابن اسحاق)

بہترین جوڑا وہ ہے جو عبادت و بندگی کے سفر میں قدم سے قدم ملا کر چلے۔ مادّہ پرستی کی بے نتیجہ بلکہ تباہ کن دوڑ میں ایک دوسرے کو ڈھکیلنے کے بجائے اگر دونوں خدا پرستی کی دوڑ میں ایک دوسرے کو مہمیز لگاتے رہیں تو آخرت کی کام یابی کی امید بڑھتی ہےاور ساتھ ہی رشتے میں بے انتہا مضبوطی آجاتی ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ کی رحمت ہو اس مرد پر جو رات کے کسی حصے میں اٹھے، نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک دے۔ اللہ کی رحمت ہو اس عورت پر جو رات کے کسی حصے میں اٹھے، نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک دے۔(سنن ابی داود)

غور فرمائیں کہ یہاں جو ترغیب شوہر کو دی گئی ہے وہی ترغیب بیوی کو بھی دی گئی ہےاور جو طریقہ شوہر کو بتایا گیا ہے وہی طریقہ بیوی کوبھی بتایا گیا ہے۔ عبادت کے کاموں میں جب شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو مہمیز لگاتے ہیں تو وہ دونوں اللہ کی رحمتوں کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ ان کی دنیا قابلِ رشک ہوتی ہے اور آخرت کی کام یابیاں ان کی منتظر ہوتی ہیں۔

عظیم شوہروں کی عظیم بیویاں

ہندوستان کی جنگ آزادی کی تاریخ کا ایک روشن باب وہ عظیم مسلم خواتین ہیں، جنھوں نے نہ صرف اپنے شوہروں کے حوصلوں کو بلند کیا بلکہ ان کے مشن میں برابر کی شریک رہیں۔ ہم یہاں چار عظیم مجاہدین آزادی کی بیویوں کا ذکر کریں گے۔

مولانا محمد علی جوہر کی بیوی امجدی بیگم کے بارے میں گاندھی جی نے ’ایک بہادر خاتون’کے نام سے مضمون لکھا۔ اس میں وہ لکھتے ہیں: گذشتہ سال انھوں نے پبلک کاموں میں اپنے شوہر کی مدد کرنا شروع کیا۔ ابتدا سمرنا فنڈ کے لیے چندہ کرنے سے ہوئی۔ تب سے وہ ہمارے طویل اور دشوار ترین بہار، آسام، بنگال کے سفر میں بھی شریک رہیں۔ انھوں نے خواتین کے جلسوں سے بھی خطاب شروع کردیا ہے اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں تقریر کا ملکہ اپنے بہادر شوہر سے کسی بھی طرح کم نہیں۔ ان کی تقاریر مختصر ہونے کے باوجود انتہائی پر اثر ہوتی ہیں۔ میں کہہ نہیں سکتا وہ اپنے شوہر کو بھی کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ کہنے کا یہ آرٹ سکھا سکتی ہیں یا نہیں؟۔ ۔۔ ان کی سب سے بڑی آزمائش اور اس میں فتح کا وقت آیا جب ان کے شوہر کو اسٹیشن پر ان سے چھین لیا گیا۔ میں نے انھیں اس وقت دیکھا جب وہ اس کمرے سے نکلیں جہاں ان کے شوہر کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ وہ اسٹیشن کی طرف جمے ہوئے قدموں سے چل رہی تھیں اور جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے شوہر کی گرفتاری کے سبب خوش ہیں؟ ان کا فوری جواب تھا یقینًا وہ اپنے ملک و ملت کی خاطر جیل گئے ہیں۔

گرفتاری کے اس موقع پر امجدی بیگم نے اپنے شوہر کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا تھا: ہراساں نہ ہونا، میری اور میری بچیوں کی فکر نہ کرنا۔

مولانا حسرت موہانی کی اہلیہ نشاط النساء بیگم کے بارے میں سید سلیمان ندوی نے لکھا: شوہر کے قید و بند کے بعد جب ان کا کوئی مونس و مددگار نہیں ہوتا تھا، ہر قسم کی مشکلوں کو بہادری و استقلال کے ساتھ برداشت کرنے میں شاید ہی کوئی مسلمان عورت ان کے مقابلے کی نکل سکے۔

مولانا کی گرفتاری کے موقع پر انھوں نے خط لکھا: تم پر جو افتاد پڑی ہے اسے مردانہ وار برداشت کرو۔ میرا یا گھر کا مطلق خیال نہ کرنا، خبردار تم سے کسی قسم کی کم زوری کا اظہار نہ ہو۔

مولانا حسرت موہانی نے اپنی بیگم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا: راقم کو بیگم حسرت کی جدائی اس خیال سے شاق ہے کہ اب کوئی اس کی کوتاہیوں پر ملامت کرنے والا نہ رہا۔ ظاہری تعلیم کو چھوڑ کر باقی کل باتوں میں بیگم اس سے بدرجہا بہتر تھیں۔ اس لیے انھیں ہر قسم کی تنبیہ کا حق حاصل تھا۔ جس کا اثر بھی خاطر خواہ ہوتا تھا۔

مولانا نے اپنے چھوٹے سے مکان میں کاٹھ کا ایک پریس لگایا، جس کا نام اردو پریس رکھا، اس کا سارا کام شوہر اور بیوی مل کر انجام دیتے تھے۔

مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی کی بیوی شفاعت النساء بی بی کے عزم واستقلال کا حال یہ تھا کہ شوہر گرفتار کرلیے گئے، گھر کی قرقی ہوگئی، لیکن اس بے سرو سامانی میں بھی زبان پر حرف شکایت نہ آیا۔ مولانا اکثر مجلسوں میں کہا کرتے: اگر مجھے اس عالی ہمت خاتون کی رفاقت نصیب نہ ہوتی تو شاید میں اتنا سیاسی کام نہ کرسکتا۔

مولانا ابوالکلام آزاد اپنی بیوی زلیخا بیگم کے بارے میں لکھتے ہیں: زلیخا بیگم نے پوری کوشش کی کہ میری زندگی کے حالات کا ساتھ دے۔ اس نے نہ صرف ساتھ ہی نہیں دیا بلکہ پوری ہمت و استقامت سے ہر طرح کے ناخوش گوار حالات برداشت کیے۔ وہ دماغی حیثیت سے میرے افکار و عقائد میں شریک تھی اور عملی زندگی میں رفیق و مددگار۔

جب مولانا کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تو زلیخا بیگم نے لکھا: میرے شوہر مولانا ابوالکلام آزاد کے مقدمے کا فیصلہ آج سنوایا گیا۔ انھیں صرف ایک سال کی قید بامشقت کی سزا دی گئی۔ یہ نہایت تعجب انگیز طور پر اس سے بدرجہا کم ہے جس کے سننے کے لیے ہم تیار تھے۔ اگر سزا و قید قومی خدمات کا معاوضہ ہے تو آپ تسلیم کریں گے کہ اس معاملے میں بھی ان کے ساتھ سخت نا انصافی برتی گئی، یہ تو کم سے کم بھی نہیں ہے جس کے وہ مستحق تھے۔

زلیخا بیگم کی شوہر سے محبت کا عالم ان کے ان لفظوں سے عیاں ہے: آج کل مولانا قرآن پاک کی تفسیر لکھ رہے ہیں۔ رات کے دو بجے اٹھ بیٹھتے ہیں۔ جتنی دیر وہ لکھتے ہیں میں پنکھا جھلتی ہوں۔ موسم بہت گرم ہے۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جاگیں محنت کریں اور میں آرام سے سوتی رہوں۔

یہ وہ عظیم بیویاں تھیں، کہ ان کے شوہر جب میدان کار میں ہوتے تو ان کا سہارا بنتیں، اور جب وہ جیل میں قید ہوتے تو ان کی ہمت بڑھاتیں اور ان کے پیچھے ان کا مشن سنبھالتیں۔ (تفصیلات کے لیے: ہندستان کی جنگ آزادی میں مسلم خواتین کا حصہ، ڈاکٹر عابدہ سمیع الدین)

آسان زندگی بابرکت زندگی

زندگی کو اعلی مقام پر پہنچانے کے لیے آپ مشکل اہداف طے کرنے سے جی نہ چرائیں۔ جو مشکلوں سے بھاگتے ہیں وہ بلندیوں کے سفر نہیں کرپاتے ہیں۔ البتہ زندگی گزارنے کو مشکل نہیں بننے دیں، اسے آسان سے آسان تر بنائیں۔ جو لوگ زندگی گزارنے ہی کو مشکل بنالیتے ہیں وہ پھر بلندیوں کے سفر کے لیے الگ سے ہمت اور وسائل نہیں جٹا پاتے ہیں۔

گھر کی زندگی کو آسان بنانے میں عورت کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ وہ نفس کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو اپنے نفس کی روز روز کی فرمائشوں سے اپنی اور اپنے شوہر کی زندگی دشوار بنادے۔

حضرت عائشہؓ کی زندگی آسان تھی اور ہمت بلند تھی۔ وہ پیوند لگاکر کپڑے پہن لیتی تھیں اور ہزاروں درہم راہ خدا میں خرچ کردیتی تھیں۔ جب کہ کتنی ہی عورتیں ہیں وہ ہزاروں درہم اپنے قیمتی ملبوسات اور آرائش کے سامانوں پر خرچ کردیتی ہیں اور اپنی آخرت کے لیے کچھ نہیں کرپاتی ہیں۔

حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ‘‘سب سے زیادہ برکت والی عورت وہ ہوتی ہے جو مصارف واخراجات کے معاملے میں آسان رویہ رکھتی ہو۔’’ (مستدرک حاکم)ایک دوسری روایت میں فرمایا: ‘‘عورت خوش نصیبی کا باعث ہوتی ہے، جب اسے شادی کا پیغام دینا آسان ہو اور اس کا مہر آسان ہو۔’’( مستدرک حاکم)

ان حدیثوں کا پیغام یہ ہے کہ وہ عورت قابل تعریف ہے جو زندگی کے ہر مرحلے کو آسان بنانے میں مددگار بنے۔ اس سے شادی کرنا بھی ایک آسان عمل ہو اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا بھی سہل ہو۔

اسلامی جدوجہد کے راستے میں ایسی ہی عورتیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، جو دنیا کی آسائشوں کو آخرت کی کام یابی پر ترجیح نہ دیتی ہوں۔

عظیم ماں کا عالی شان مقام آپ کا منتظر ہے

آپ کی جدوجہد کا بہت اہم میدان آپ کے بچے ہیں۔ بچوں کی بہترین نشوو نما کے لیے اپنی توانائیوں کا بڑا حصہ لگادیں۔ ان کی شخصیت سازی میں بھرپور حصہ لیں۔ ان کی جسمانی نشو و نما عمدہ ہو اس کے لیے صحت و غذا کے تمام اصولوں کا ممکنہ حد تک خیال رکھیں۔ ان کی دماغی نشو و نما اچھی ہو اس کے لیے دماغی صحت اور ریاضت کے جتنے نسخے استعمال کرسکتی ہوں ضرور کریں۔ اس کے ساتھ ان کے دل کی بہترین نشو و نما پر بھی پوری توجہ دیں۔ ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت اور انسانوں کا درد کوٹ کوٹ کر بھر دیں۔

اسلامی تاریخ کے درخشاں ستاروں کو ان بلند مقامات پر پہنچانے میں ان کی عظیم ماؤں کا زبردست کردار رہا ہے۔

امام سفیان ثوری بڑے محدث اور فقہ میں امام تھے۔ اس دور کے اکابر ان کی امامت کے معترف تھے۔ ان کی علمی نشو و نما میں ان کی والدہ کا زبردست کردار تھا۔ وہ جب کم سن تھے تو ان کی والدہ ان سے کہتی تھیں کہ میرے بیٹے تم علم حاصل کرتے رہو میں سوت کات کر تمھاری ضرورتیں پوری کرتی رہوں گی۔ سفیان ثوری کی والدہ علم دین کا بہت عظیم اور مثالی تصور رکھتی تھیں اور اپنے بیٹے کو اس کے مطابق دیکھنا چاہتی تھیں۔ وہ کہتی تھیں: بیٹا جب تم دس حدیثیں لکھ لینا تو دیکھنا کہ تمھاری چال میں، تمھارے ظرف میں اور تمھارے وقار میں اضافہ ہوا ہے، اگر ایسا نہ ہوا ہو تو سمجھ لینا کہ یہ علم تمھارے لیے نفع بخش نہیں نقصا ن دہ ہے۔ (صفة الصفوة)

امام مالک کی عظمت سے کون واقف نہیں ہے، جب وہ بچے تھے تو ان کی والدہ انھیں کپڑے پہناتیں، سر پر عمامہ باندھتیں اور امام ربیعہ کی مجلس میں بھیجتیں، اس وقت یہ نصیحت بھی کرتیں : میرے بیٹے، ربیعہ کی مجلس میں جاؤ اور دیکھو ان سے حدیث اور فقہ کا علم سیکھنے سے پہلے ان کے سلیقے اور ادب کو سیکھنا۔(ترتیب المدارک)

امام شافعی ؒ یتیم تھے، ان کی والدہ بہت تنگ دست تھیں۔ مگر اپنے بیٹے کو دینی تعلیم دلانے کے لیے اپنا گھر گروی رکھ کر قرض حاصل کیا اور امام شافعی کو دور دراز علمی مراکز میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ (تاریخ دمشق)

امام احمد بن حنبلؒ کے والد ان کے بچپن میں انتقال کرگئے۔ والدہ نے بیٹے کی بہترین تربیت کرنے کی ٹھانی۔ وہ فجر سے پہلے انھیں اٹھاتیں، کم سن بچہ اور اس کی ماں دونوں مل کر دیر تک تہجد کی نماز پڑھتے، پھر جب فجر کی اذان ہوتی تو ان کا ہاتھ پکڑتیں اور مسجد لے جاتیں، نماز ختم ہونے تک انتظار کرتیں پھر انھیں لے کر گھر واپس لوٹتیں۔انھوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کرلیا۔ اس کے بعد جب بارہ سال کے ہوئے تو والدہ نے کہا: بیٹا اب علم کی جستجو میں نکلو۔

کتنے ہی جلیل القدر علمائے کرام ہیں، جن کے علم وبزرگی کے عظیم الشان محل ان کی ماؤں کی خواہش و کوشش کا مرہون منت تھے۔ بہت سی بلند و بالا شخصیتوں کی پہلی اینٹ ماں کے دل میں پلنے والی امنگ ہوتی ہے۔

خود کو اور بچوں کو سخت کوشی کا عادی بنائیں

دور حاضر کے ایک بزرگ نے خواتین کو مخاطب کرکے شان دار نصیحت کی ہے، اس کا لفظ لفظ دل میں نقش کرنے کے قابل ہے۔ وہ کہتے ہیں:

‘‘خواتینِ اسلام! عیش پسندی سے بہت دور رہو، کیوں کہ عیش پسندی جہاد کی دشمن ہے۔ عیش پسندی انسانی روح کو تباہ وبرباد کردیتی ہے۔ ضروری سامان زندگی پر اکتفا کرو اور تعیشات (لگژری) سے دور رہو۔ اپنے بچوں کو سخت کوشی، مردانگی، سخت جدوجہد اور کارنامے سر انجام دینے کی تربیت کرو۔ تمھارے گھر شیروں کی کچھار بنیں۔ مرغیوں کے ڈربے نہیں بنیں، جہاں چوزے پال پوس کرموٹے کیے جاتے ہیں تاکہ وہ تنومند مرغے بن کر ظالم سرکشوں کی خوراک بنیں۔ ’’

مولانا مودودیؒ کی والدہ اپنی بہو یعنی مولانا مودودیؒ کی اہلیہ کو نصیحت کیا کرتی تھیں:

بچوں کو ایسی عادت ڈالو کہ سرد اور گرم ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرسکیں۔ ایک وقت سونے کا نوالا کھلاؤ، موتی کوٹ کر کھلاؤ، لیکن دوسرے وقت دال سے روٹی کھلاؤ، چٹنی سے روٹی کھلاؤ۔ بچوں کو کبھی ایک طرح کی عادت نہ ڈالو اور نہ ہر وقت ان کی منہ مانگی مراد پوری کرو۔ ماں باپ تو آسانی سے اولاد کی عادتیں خراب کردیتے ہیں، لیکن دنیا کوئی لحاظ نہیں کرتی۔ یہ تو بڑے بڑوں کو سیدھا کردیتی ہے۔ (شجر ہائے سایہ دار)

آپ کے رشتے آپ کی بڑی قوت ہیں

رشتے داروں کا تعاون انسان کو بہت طاقت ور بنادیتا ہے۔ رشتے داروں کی پشت پناہی حاصل ہو تو آدمی بڑے اقدامات کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ اگر آپ کو دین کے میدان میں بڑی خدمت انجام دینی ہے تو اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے اور انھیں اپنا ہم خیال بنانے پر توجہ دیں۔ یاد رکھیں، دو کام کرنے ہیں، ایک رشتوں کو مضبوط کرنا اور دوسرا انھیں ہم خیال بنانا۔

تصور کریں،میکے میں آپ کے ماں باپ اور بھائی بہن وغیرہ آپ کو سپورٹ کریں اور سسرال میں آپ کے شوہر، ساس سسر، دیور اور نندیں وغیرہ آپ کا سہارا بنیں، تو آپ ان کی صلاحیتوں، وسائل اور اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کتنی آسانی سے اور کتنے بڑے پیمانے پر دین کا کام کرسکتی ہیں۔

مولانا مودودی کی صاحب زادی سیدہ حمیرا مودودی لکھتی ہیں: ‘‘ اماں جان یہ ذکر کیا کرتی تھیں: ’ میں نے جینے کا سلیقہ تمھاری دادی اماں سے سیکھا ہے۔’ حیرت کی بات یہ تھی کہ ساس بہو، دونوں میں ہمیشہ ایک ہی رائے رکھتی تھیں اور کبھی آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا تھا۔ (شجر ہائے سایہ دار)

رشتے داریاں اور تعلقات انسان کی قوت میں اضافہ کرتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر اس بڑی قوت سے محروم ہوجانا سمجھ داری کی بات نہیں ہے۔ دینی مشن سے وابستہ خواتین کو ایسی نادانیوں سے دور رہنا چاہیے۔

جو خواتین گھر کے جھگڑوں میں الجھ جاتی، یا اپنے رشتے داروں سے ناطہ توڑ لیتی ہیں، وہ اپنے آپ کو بہت کم زور کرلیتی ہیں۔ اس کے بعد دین کے میدان میں بڑی خدمت انجام دینا ان کے لیے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ تصور غلط ہے کہ رشتے ٹوٹنے کے بعد دوبارہ نہیں جُڑ پاتے ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اپنے حسن اخلاق سے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو دوبارہ جوڑ سکتا ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط کرسکتا ہے۔

کاموں کی تقسیم وقت میں برکت دیتی ہے

اگر آپ گھر کے کاموں کے ساتھ اپنے شخصی ارتقا اور دینی سرگرمیوں میں بھی شریک رہنا چاہتی ہیں، تو گھر میں کاموں کی تقسیم کا عمدہ ماحول بنائیں۔اگر آپ اپنی سرگرمیوں کا حوالہ دے کر گھر کے کاموں سے چھٹی لیں گی تو گھر کے لوگ ناراض ہوں گے اور آپ اطمینان کے ساتھ اپنا کام نہیں کرسکیں گی۔ اور اگر آپ نے گھر کے سارے کاموں کے ساتھ دیگر سرگرمیوں کو انجام دینے کی کوشش کی تو آپ پر کام کا بوجھ بہت بڑھ جائے گا اور اس سے آپ کی کارکردگی دونوں طرف متاثر ہوگی۔

بہترین شکل یہ ہے کہ گھر کے تمام افراد کے درمیان کاموں کی مناسب انداز میں تقسیم ہوجائے۔ حضرت فاطمہؓ کے گھر میں ہمیں اس کی خوب صورت مثال ملتی ہے۔ بی بی فاطمہؓ کے گھر میں ان کے علاوہ ان کو شوہر حضرت علیؓ اور ان کی ساس (چچا ابوطالب کی بیوی)حضرت فاطمہ بنت اسدؓ رہتی تھیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں کا نام فاطمہ تھا۔اور نمونے کی بات یہ ہے کہ ساس اور بہو کے درمیان کاموں کی تقسیم ہوگئی تھی۔ حضرت علیؓ کے بقول: بی بی فاطمہ گھر کے اندر کے کام انجام دیتی تھیں اور اماں فاطمہ گھر کے باہر کے کام دیکھ لیتی تھیں۔اندر کے کام جیسے آٹا پیسنا، گوندنا، روٹی اور کھانا پکانا وغیرہ اور باہر کے کام جیسے پانی لانا، بازار سے سامان لانا۔ (معجم کبیر، طبرانی)

اگر ساس اور بہو کے درمیان گھر کے کاموں کی تقسیم ہوسکتی ہے تو گھر میں رہنے والے دیگر افراد کے درمیان بھی ہوسکتی ہے۔ گھر کے کاموں میں شوہر اور بیوی دونوں شریک رہیں، یہ تو اللہ کے رسول ﷺ کی سنت ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ جب گھر میں ہوتے تو اپنی بیویوں کے کاموں میں شریک رہتے۔ (سنن ترمذی)

شیعہ روایت کے مطابق (غالبا فاطمہ بنت اسدؓ کی وفات کے بعد)حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے درمیان بھی کاموں کی اسی طرح تقسیم ہوگئی تھی۔ جس میں لکڑی جمع کرنا،پانی لانا اور گھر میں جھاڑو لگانا حضرت علیؓ کے ذمے اور آٹا پیسنا، گوندھنا اور روٹی بنانا بی بی فاطمہؓ کے ذمے تھا۔(بحار الانوار)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ گھر میں رہنے والے مردوں اور عورتوں کے درمیان بھی مناسب طریقے سے گھر کے کاموں کی تقسیم ہوسکتی ہے۔ اس طرح کی تقسیم کے بہت سے فائدے ہیں، جن میں بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ گھر کے ہر فرد کے وقت میں برکت ہوگی اور اسے اپنے شخصی ارتقا اور مفید سرگرمیوں کے لیے اچھا خاصا وقت ملے گا۔

کشادہ دلی ایک بڑی خوبی

اوپر ہم نے ذکر کیا کہ بی بی فاطمہؓ اور ان کی ساس اماں فاطمہؓ نے گھر کے کام آپس میں تقسیم کرلیے تھے۔ ایسا اسی وقت ہوگا جب ساس بڑے ظرف کی خاتون ہوگی۔ورنہ عام قماش کی عورتیں تو ساس بنتے ہی گھر کے کاموں سے پلا جھاڑ لیتی ہیں۔ اماں فاطمہؓ واقعی بہت اعلی معیار کی خاتون تھیں۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ کے رسولﷺ کی چچی یعنی اماں فاطمہؓ کا انتقال ہوا، تو اللہ کے رسولﷺ ان کے پاس گئے، ان کے سرہانے بیٹھے اور کہا: میری امی جان، اللہ کی آپ پر رحمت ہو، میری ماں کے جانے کے بعد آپ ہی میری ماں تھیں۔آپ خود بھوکی رہ کر مجھے شکم سیر کرتیں، خود بوسیدہ کپڑے پہن کر مجھے اچھے کپڑے پہناتیں، اچھی چیزیں خود نہ کھاکر مجھے کھلاتیں، اور یہ سب آپ اللہ کی رضا کے لیے اور آخرت کی خاطر کرتی تھیں۔( معجم کبیر، طبرانی)

جب عورت کادل کشادہ ہوتا ہے، تو وہ بھتیجے کواپنے بیٹے کی طرح پالتی ہے اور بہو کو اپنی بیٹی کی طرح رکھتی ہے۔

اپنے پڑوس کی قدر پہچانیں

حضرت اسماءؓ اپنے حالات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں: ‘‘ میں آٹا توگوندھ لیتی، لیکن روٹی بنانا نہیں آتا تھا۔ انصار سے تعلق رکھنی والی میری کچھ پڑوسنیں میرے لیے روٹی بنادیا کرتیں۔ وہ مخلص عورتیں تھیں۔’’ (صحیح بخاری)

پڑوسیوں کے بیچ سرگرمی (neighbourhood activism) انجام دینا عورت کے لیے مشکل کام نہیں ہے۔ محلے کی بہت سی ضرورتیں آپ پوری کرسکتی ہیں۔ آپ پڑوس کے چھوٹے بچوں بچیوں اور عورتوں کی دینی تعلیم کے کلاس شروع کرسکتی ہیں۔ آپ کے گھر میں جگہ نہیں ہو تو پڑوس کے کسی کشادہ گھر کو استعمال کرسکتی ہیں۔ محلے کی عورتوں کے ساتھ مل کر رفاہی فنڈ تشکیل دے سکتی ہیں، جس سے محلے کے غریب خاندانوں کی مدد کی جاسکے۔ محلے کی عورتوں کے ساتھ مل کر سماج میں موجود مختلف سماجی برائیوں کے خلاف تحریک چلا سکتی ہیں۔ محلے کی عورتوں کے درمیان مضبوط رابطہ ہو تو کوئی عورت خود کو پریشانی کے وقت تنہا محسوس نہیں کرے گی۔ ایسے مضبوط روابط ہوں تو پورا محلہ ایک مضبوط اکائی بن جاتا ہے۔لیکن اس کے لیے کسی خاتون کا آگے آنا اور زیادہ متحرک ہونا ضروری ہے۔ وہ متحرک اور فعّال خاتون بننے کا فیصلہ آپ کریں۔

پڑوسیوں میں دین کا کام کرنے کے لیے کشادہ دلی بہت ضروری ہے۔ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا ایک پڑوسی تھا، دن بھر محنت مزدوری کرتا اور رات میں کھانے کے بعد شراب پی کر اشعار گایا کرتا۔ امام صاحب تہجد کے لیے اٹھتے اور اس کے شور شرابے سے پریشان ہوتے۔ پھر ایسا ہوا کہ کچھ دن اس کے یہاں سے کوئی آواز نہیں آئی۔ امام صاحب کو تشویش ہوئی، معلوم کیا تو پتہ چلا کہ پولیس اسے پکڑ کر لے گئی اور نظر بند کردیا ہے۔ امام صاحب فجر کی نماز کے بعد ہی گورنر کے پاس پہنچ گئے اور اسے رہا کرنے کی گزارش کی۔امام صاحب کی سفارش پر وہ رہا ہوگیا۔ اورجب اسے معلوم ہوا تو اس نے امام صاحب کا شکریہ ادا کیا، ندامت کا اظہار کیا،اللہ کے حضور توبہ کی اور نیکی کی زندگی اختیار کرلی۔ (تاریخ بغداد)

مزاج کی خرابیوں پر قابو پائیں

مزاج کی خرابی تعلقات خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔ دوسروں کے جذبات کا لحاظ نہ کرنا، بات بات پر غصہ ہوجانا، چھوٹی بات پر بڑا ردّعمل ظاہر کرنا، دوسروں کے مذاق کو برداشت نہیں کرنا یا دوسروں کے ساتھ بھونڈا مذاق کرنا، جلدی ناراض ہونا اور دیر تک ناراض رہنا، بلند آواز میں بات کرنا، تلخ لہجے میں بات کرنا، اپنی پسند پر اصرار کرنا اور دوسرے کی پسند کو اہمیت نہ دینا، کم سننا اور زیادہ بولنا، غرض ایسی بہت سی خرابیاں ہیں جو انسان کو دوسروں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہونے دیتی ہیں۔آپ اگر اپنی ان خرابیوں کو خود دریافت کرسکیں اور ان سے چھٹکارا پالیں تو تعلقات کی دنیا میں یہ آپ کی بڑی کام یابی ہوگی۔

اس کے علاوہ اگر آپ کے اندر یہ ظرف پیدا ہوجائے کہ دوسروں کی مزاجی خرابیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے اچھے تعلقات رکھ سکیں، تو آپ تعلقات کی دنیا میں بڑی فتح حاصل کرسکتی ہیں۔

گویا کام یابی کی کلید یہ ہے کہ اپنی کم زوریوں پر قابو پالیں اور دوسروں کی کم زوریوں کو انگیز کرلیں۔

خوش مزاج بنیں اور ماحول خوش گوار بنائیں

خوش مزاجی کی بدولت آپ عورتوں کے سماج میں آسانی سے نفوذ کرسکتی ہیں۔ جب کہ بدمزاجی ایسی کم زوری ہے جو انسان کو بہت محدود کرکے رکھ دیتی ہے۔ آ پ کی عمدہ شخصیت کے لیے خوش مزاجی ضروری ہے۔ مسکرانا نیکی ہے اور دوسروں کو مسکرانے کا موقع دینا بھی نیکی ہے۔

انصار سے تعلق رکھنے والی ایک بچی سویداءؓتھی، وہ حضرت عائشہؓ کے یہاں آیا کرتی، ان کو اپنے تماشے دکھاتی اور ہنساتی تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ نبی کریم ﷺ حضرت عائشہؓ کے یہاں آتے اور وہ بچی وہاں ہوتی تو دونوں ساتھ ہنسا کرتے۔پھر ایسا ہوا کہ وہ کچھ عرصہ غائب رہی، نبی ﷺ نے اس کی کمی کو محسوس کیا اور کہا: عائشہ سویدا ءکا کیا حال ہے؟ انھوں نے کہا وہ بیمار ہے۔ آپ نے اس کی عیادت کی۔ اسی بیماری میں اس کی وفات ہوگئی تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور دعا کی: اے اللہ، وہ مجھے ہنسانے کی فکر کرتی تھی، اسے خوشیوں سے مالا مال کرکے ہمیشہ ہنسنے والا بنادے۔ (العقد الفرید)

لوگوں کو ہنسانے اور ماحول کو خوش گوار اور فرحت بخش بنانے والے خوش مزاج افراد انسانوں کے محسن ہوتے ہیں۔ ان کی بدولت بہت سے لوگوں کا غم ہلکا ہوتا ہے اور وہ زندگی کا لطف پاتے ہیں۔

آپ خوش مزاج بنیں۔ اور اپنی خوش مزاجی سے لوگوں کو خوش مزاج بننے کی ترغیب دیں۔

دل کی کشادگی سے گھر کی کشادگی ہے۔

جن خواتین کے دل تنگ ہوتے ہیں ان کے گھر چاہے کتنے بڑے ہوں، کشادہ نہیں لگتے، تنگ قبر یا قید خانہ لگتے ہیں۔ خاندان اور پڑوس کی خواتین ان کے گھر جانے سے کتراتی ہیں۔ ایسی عورتیں اپنے قریبی سماج سے بھی الگ تھلگ زندگی گزارتی ہیں اور اس وجہ سے خاندان اور پڑوس کی اصلاح میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے۔

بڑا گھر اللہ کی نعمت ہے، شرط یہ ہے کہ اس نعمت کی قدر کی جائے۔ اگر آپ کا دل اور گھر دونوں کشادہ ہیں، تو آپ کا گھر خاندان اور پڑوس کا مرکز بن جاتا ہے۔ آپ کے گھر میں دینی مجلسیں منعقد ہوسکتی ہیں، دینی تعلیم کا مدرسہ چل سکتا ہے اور سماجی بہبود کی بہت سی سرگرمیاں انجام دی جاسکتی ہیں۔

اور اگر آپ کا گھر چھوٹا ہو لیکن دل بڑا ہو تو بھی آپ کا گھر سماجی رابطے میں بہترین رول ادا کرسکتا ہے۔

اپنے گھر آنے والی خواتین کا بے تکلفی اور خندہ پیشانی سے استقبال کریں۔ مٹھائیوں سے ضیافت کے تکلف میں پڑنے کے بجائے میٹھی باتوں سے ضیافت کریں، تاکہ لوگوں کو بار بار آنے میں تکلف نہ ہو اور آپ پر بار بار کی ضیافت بھاری بوجھ نہ بن جائے۔ اس بات کا ضرور خیال کریں کہ آپ کا گھرطنزیہ باتوں، فتنہ انگیز تبصروں اور زہرناک غیبتوں کا اڈّا نہ بننے پائے، وہاں ایسی گفتگو ہو جس سے اللہ راضی ہو اور لوگوں کو نیکی اور بھلائی کی رغبت ملے۔

گھر والے دین کے کام سے روکیں تو؟؟

خواتین اکثر یہ سوال کرتی ہیں : ہمارے گھر والے ہمیں دینی سرگرمیوں سے روکتے ہیں، ایسے میں ہم کیا کریں؟

گھروں میں روک ٹوک کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔بہت سے گھر والے اپنے گھر کی خواتین کو بہت سی چیزوں سے روکتے ہیں،کچھ میکے جانے سے روکتے ہیں، کچھ اعلی تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں، کچھ ملازمت کرنے سے روکتے ہیں، کچھ مختلف تقریبات میں شریک ہونے اور مختلف سرگرمیاں انجام سے روکتے ہیں۔ روکنے والے باپ اور بھائی بھی ہوسکتے ہیں، شوہر بھی، اولاد بھی، اور گھر کی دوسری بزرگ خواتین بھی۔ کچھ عورتیں مان جاتی ہیں اور زیادہ تر لڑکیا ں اور عورتیں اپنی بات پر اڑ جاتی ہیں اور ضد کر کے منوالیتی ہیں۔ اس رد وکد میں کبھی خاندانی مسائل بھی جنم لیتے ہیں، جن میں سے کچھ گمبھیر ہوجاتے ہیں اور بہت سے وقت کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں۔

جو خواتین دین کی دعوت، معاشرے کی اصلاح و تربیت اور خاندان کو دینی ڈگر پر چلانے کی کوشش کرتی ہیں، یاکسی دینی تنظیم میں شامل ہوکر دین کے راستے میں سرگرم ہونا چاہتی ہیں، انھیں بھی کبھی کبھی اپنے گھر والوں کی طرف سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی یہ حوالہ دیا جاتا ہے کہ یہ خاندان کی ریت کے خلاف ہے اور کبھی یہ بہانا کیا جاتا ہے کہ اس سے گھر کے کام متاثر ہوتے ہیں۔

مولانا مودودیؒ نے اس مشکل کا ادراک کیا اور نہایت حوصلہ بخش رہ نمائی کی:

‘‘عورت کو سب سے بڑی مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب وہ خود راہِ حق کو پاکر اس پر چلنے کے لیے آمادہ ہوجاتی ہے مگر اس کے گھر کے مرد اس کی راہ میں مزاحم ہوتے ہیں۔ یہ فی الواقع ایک بڑی مشکل صورتِ حال ہے جو بہت کچھ پریشانی کی موجب ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اس معاملہ میں بھی آپ کے لیے انھی خواتین اسلام کا نمونہ قابلِ تقلید ہے جنھوں نے ابتدا میں اس راہِ حق کو اختیار کیا تھا۔ آپ کی پوزیشن خواہ کتنی ہی بے بسی و کم زوری کی ہو، مگر بہ ہر حال اس حد کو نہیں پہنچتی جس حد تک زمانہ جاہلیت کے عرب میں عورتوں کی پوزیشن گری ہوئی تھی۔ اسی طرح آپ میں سے جن کو بھی ایسے مرد عزیزوں سے سابقہ بہ ہر حال بگڑے ہوئے مسلمانوں سے ہے، مگر جن خواتین کا میں ذکر کررہا ہوں ان کا سابقہ تو کفار اور بدترین دشمنانِ اسلام سے تھا۔ اس فرق کے باوجود جو کچھ انھوں نے اپنے دین کے لیے کیا اور جس جرأت و ہمت اور استقلال کے ساتھ اپنے خاندان کی انتہائی مخالفت اور دشمنی کے مقابلے میں حق پرستی کا کمال دکھایا وہ ہمیشہ تمام دنیا کی عورتوں کے لیے ایک بہترین نمونہ رہے گا۔’’ (روداد، پنجم)

مولانا مودودیؒ نے مزید فرمایا:

‘‘خوب سمجھ لیجیے کہ والدین ہوں، یا بھائی بہن، یا شوہر، یا اولاد، کسی کا حق بھی آپ کے اوپر خدا اور رسول سے بڑھ کر یا ان کے برابر نہیں ہے۔ کوئی بھی اس کا مستحق نہیں ہے کہ اس کو خوش کرنے اور راضی رکھنے کے لیے آپ خدا اور رسول کی نافرمانی کریں۔ کوئی آپ کو خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین سے بڑھ کر یا برابر عزیز نہ ہونا چاہیے اور کسی کا خوف بھی آپ کے دل میں اس حد تک نہ ہونا چاہیے کہ آپ اس سے ڈر کر خدا سے نڈر ہوجائیں۔ یہ کیفیت اگر آپ کے اندر پیدا ہوجائے تو دین کا راستہ آپ کے لیے آسان ہوجائے گا اور کوئی طاقت آپ کو راہِ حق سے نہ روک سکے گی نہ ہٹا سکے گی۔’’ (روداد، پنجم)

اس سلسلے میں اسلام پسند خاتون کو درج ذیل نکات پر توجہ دینی چاہیے:

گھر والوں کو اپنا حریف بنانے کے بجائے اپنا ہم خیال اور مددگار بنانے کی مسلسل اور ان تھک کوشش کرتی رہیں۔ اگرحکمت کا خیال رکھا گیااور اللہ کی توفیق شامل حال رہی تو دیر سویر پورے گھر کا ذہن بدلے گا اور رکاوٹیں دور ہوں گی۔ کوئی ضروری نہیں کہ پورا گھر ہم خیال ہوجائے، اگر ایک دو افراد بھی بات سمجھ گئے تو آپ کی طاقت بہت بڑھ جائے گی اور ان کی حمایت سے آپ کافی کام کرسکیں گی۔

وقت کی بہتر تنظیم کریں، تاکہ گھر کے تمام کام بھی انجام دے سکیں اور دینی سرگرمیوں کے لیے وقت بھی نکل آئے۔ اچھی طرح یاد رکھیں کہ دین کا کام کرنا ہے تو جسم کو زیادہ محنت کا عادی بنانا ہوگا۔ کاموں میں زیادہ چستی دکھانی ہوگی۔ گھر کے کاموں سے چھٹی لے کر دینی کام کرنے کے بجائے گھر کے کام کرتے ہوئے دین کے کام کرنے ہوں گے۔یقینًا اس سے آپ کے اوپر کاموں کا بوجھ بڑھ جائے گا۔ صبح بہت جلدی اٹھنا پڑے گا، دن کے آرام میں بھی کٹوتی ہوگی اور رات کو بھی دیر سے سونے کی نوبت آئے گی۔ تھکن کے باوجود گھر والوں کے لیے چہرے پر مسکراہٹ سجانی ہوگی۔ جھنجھلاہٹ اور چڑچڑے پن سے اپنے آپ کو بالکل دور رکھنا ہوگا۔

گھر کے بڑےآپ کا ساتھ دیں یا نہ دیں، آپ دس پندرہ سال کو محیط منصوبہ بنائیں۔ جو بچے اور بچیاں آج پانچ سال سے پندرہ سال کے ہیں، ان کی مسلسل ذہن سازی کریں، خود ان کے پاس بیٹھ کر انھیں دینی تعلیم دیں، ان کا تحریکی ذہن بنائیں، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں، اس طرح آپ دیکھیں گی کہ پانچ، دس اور پندرہ سال کی محنت کے نتیجے میں آپ کے گھر کے اندر دینی فکر اور تحریکی جذبہ رکھنے والوں کی اچھی خاصی ٹیم تیار ہوگی۔  اس وقت پھر آپ کو کوئی نہیں روک سکے گا اور آپ اس جواں سال اور تازہ دم ٹیم کے ساتھ شان دار طریقے سے کام کرسکیں گی۔

آخری اور بہت اہم بات یہ ہے کہ دنیوی مقاصد کی خاطر لڑکیاں ضد کرکے اپنے مطالبے منوالیا کرتی ہیں۔ پھر دینی مقاصد کے لیے آپ ضد کرکے اپنے مطالبے کیوں نہیں منواسکتی ہیں۔ یاد رکھیے آپ منواسکتی ہیں، لیکن اس کے لیے آپ کو اپنے اندر موجود ضد کرنے کی طاقت کو دریافت کرنا ہوگا۔ لوگوں کی ضدیں دنیا کے لیے ہوتی ہیں، آپ کی ضد دین کے لیے ہونی چاہیے۔

ستمبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau