حقوق انسانی اور اسلام

محمد اسعد فلاحی

اسلام میں انسانی حقوق کو ’حقوق العباد‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ’ حقوق اللہ‘ میں اگر انسان سے جو خامی رہ گئی وہ تو معاف ہو سکتی ہے، مگر حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہو سکتے ، جب تک خود صاحب حق اسے معاف نہ کردے ۔ اسلام میں انسانی حقوق کو جتنا واضح اور تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، دنیا کے کسی مذہب اور تہذیب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اسلام نے انسانوں کو جو حقوق ، سماجی حقوق، معاشی حقوق، معاشرتی حقوق، کم زور اور مظلوموں کے حقوق، بچوں اور خواتین کے حقوق ، عطا کیے ہیں وہ کوئی ہوائی نہیں ہیں بلکہ سچی، حقیقی اور پریکٹیکل شدہ ہیں۔ اسلامی تاریخ کی کتابوں میں حقوق انسانی کی زندۂ جاوید مثالیں بھری پڑی ہیں ، جنھیںچند صفحات میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔

اسلام میں انسانی حقوق کے متعلق غلط فہمیاں

مخالفینِ اسلام کی جانب سے اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان میں اسلام کا انسانی حقوق بھی ہے۔ مخالفین اسلام کا یہ اعتراض ہے کہ اسلام انسانی حقوق کا پاسدار نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ زنا کرنے پر حد کی سزا دیتا ہے، جو کہ بہت وحشیانہ ہے۔ اسلام کا حدّ قذف انسانی حقوق کے لیے خطرہ ہے، نشہ کرنے پر انسانی حقوق شخصی آزادی کے خلاف ہے اور اس طرح کے دیگر بے معنی اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ مخالفین اسلام اس بات سے غافل ہیں کہ اسلام ایک فطری نظامِ رحمت کا نام ہے ۔ اسلام کی تمام تعلیمات اعتدال پر مبنی ہیں اور اس نے انسانی حقوق کے تعیین میں بھی اعتدال اور توازن کو ملحوظ رکھا ہے۔ اس نے انسانی حقوق کی ’آزادی‘ کے نام پر نہ تو کسی انسان کو بے لگام چھوڑا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کے حقوق کو پامال کرتا پھرے اور زمین پر فتنہ و فساد برپا کرتا پھرے اور نہ اس نے افراط و تفریط پر مبنی حقوق کا تصور پیش کیا ہے کہ کسی خاص طبقے، قوم ، گروہ یا جماعت کو تو حقوق دینے میں فراوانی کا مظاہرہ کیا ہو اور کچھ لوگوں  کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے بعض انسانی حقوق سے محروم کر دیا ہو ،  اس کے مقابل اسلام نے اعتدال کی راہ کو اختیار دیا ہے اور تمام انسانوں کو یکساں بنیادی حقوق عطا کیے ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کی کوئی بے ایمانی نہیں کی ہے۔ اسلام کے اسی معتدل نظریے کو دشمان ِ اسلام  نشانہ بنا کر اس کی تعلیمات کو بنیادی انسانی حقوق سے متغایر و متصادم قرار دینے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ اسلام نے مختلف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے مختلف سزائیں متعین کی ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا ہے تو  اسلام کی نظر میں قاتل بھی مستحق قتل ہے، اسی طرح زنا کرنے کی صورت میں غیر شادی شدہ کو سو کوڑے اور شادی شدہ کو رجم (پتھر مار کر ہلاک کر دیا جائے) ،چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ئیں اسلام میں طے شدہ ہیں۔

لیکن یہ سزائیں انسانی حقوق کی پامالی کے لیے نہیں بلکہ ان کی حفاظت کے لیے ہیں۔ مگر نام و نہاد حقوق انسانی کے علم بردار اپنا حلق پھاڑ پھاڑ کر اسلام کی ان سزائوں کو وحشیانہ، غیر متمدن اور غیر انسانی قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے دوسرے اور اہم پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بلکہ وہ ان  کووحشیانہ گردان کر حقیقت میں ان مجرموں کے ہاتھوں دوسرے انسانوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اسلام نے اس معاملے میں عدل و انصاف پوری طرح ملحوظ رکھا ہے۔اس نے حدود اور تعزیرات کو اس لیے متعین کیا ہے تاکہ دوسرے انسانوں کی حقوق کی پامالی اور ان پر ظلم نہ ہو اور اسے آئندہ کے لیے عبرت بھی بنانا پیش نظر ہے تاکہ کوئی دوسرا شخص کسی بھی انسان کی بنیادی حقوق کی پامالی کا تصور بھی اپنے ذہن میں نہ لائے۔

اسلام حقوق انسانی کا حقیقی علم بردار ہے

حقوق انسانی کی کلید انسانی مساوات ہے۔ حقوق انسانی کی پامالی جب بھی اور جہاں بھی ہوئی ہے، ہوتی ہے یا ہو رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ عدم مساوات ہے۔ اور دنیا میں اگر کوئی مذہب، کوئی تہذیب حقیقت میں تمام انسانوں کو مساوی قرار دیتا ہے تو وہ اسلام ہی ہے۔اسلام نے انسانوں کے درمیان مساوات کی زندہ جاوید مثالیں قائم کی ہیں، اسے دنیا کا کوئی دوسرا مذہب ؍ تہذیب نہ تو پیش کر سکی اور نہ کبھی کر سکے گی۔ اسلام کا نظریہ مساوات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جوڑے ، آدم ؑ اور حواؑ سے پیدا کیا ۔گویا تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں، سب لوگ برابر ہیں، کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں ہے مگر تقویٰ اور پر ہیزی کی بنیاد پر ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے لوگو ! ڈرو اپنے رب سے ، جس نے تم کو صرف ایک جان سے پیدا کیا ، پھر اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں کی نسل سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کر کے پھیلا دیا‘‘ ۔(النساء:۱)

خطبۂ حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے انسانی حقوق کی پامالی کی تمام اسباب ، اونچ نیچ، طبقاتی تفاوت، خاندانی عصبیت، قبائلی تفاضل،عصبی ونسبی تفاخر کی جڑوں کو کاٹ دیا اور ان جیسی تمام برائیوں کو ناجائز قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر، ایک ملک کے باشندے کو دوسرے ملک کے باشندے پر ، امیر کو غریب پر، آقا کو غلام پر کسی بھی طرح کی کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے مگر تقوی اور پرہیزگاری کی بنیاد پر۔ (مسند احمد:۵؍۴۱۱)

خلاصہ یہ ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے تما م طرح کے جزء وقتی و ناقص قوانین نہ تو کبھی انسانی بنیادی حقوق کی علم بردار ہوئے ہیں اور نہ ہی کبھی ہو سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہو رہے انسانو ں پر ظلم و ستم اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، جہاں پر انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نافذ ہیں، لیکن وہ  ان کو روکنے میں کسی بھی طور کام یاب نہیں ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو انسانوں کے لیے قوانین بنائے ہیں، انھیں پر عمل پیرا ہو کر انسان حقیقی فلاح و کام رانی کو حاصل کر سکتا ہے۔

فروری 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau