موجودہ حالات میں مسلمانانِ ہند کا لائحہ عمل

محمد علی شاہ شعیب

ہندوستان میں اقتدار پر ایک ایسی پارٹی فائزہو گئی ہےجس کے سابقہ رکارڈ کو سامنے رکھتے ہوئے بجا طور پر کچھ خطرات اور اندیشے لاحق ہیں۔پہلا خطرہ گورننس کے سلسلے میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ اندیشہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کے مواقع کم سے کم تر ہو جائیں گے، مسلم اداروں کو ملنے والی حکومتی امدادجیسی سہولیات متاثر ہو جائیں گی۔مسلم علاقوں کے انتخابی حلقوں کی تقسیم اس طرح ہوجائےگی کہ سیاسی طور پر وہ بے وزن ہوکر رہ جائیں۔ یہ سب کام سابق حکومتوں نے بھی کیے ہیں، لیکن اب یہ بڑے پیمانے پرہوسکتے ہیں۔

یہ اندیشہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے تشخص کو ختم کرنے اور قدیم تہذیب کی مین اسٹریم میں ضم کرنے کی کوشش ہوگی۔اس کے لیے ایک قدم تعلیمی پالیسی کو تبدیل کرنا ہوگا۔ تعلیم کے بھگوا کرن کی کوششیں پہلے سے کی جا رہی ہیں اب یہ موقع کھل کر ہاتھ لگ گیا ہے۔ نصاب کو اس طرح مرتب کرنے کی کوشش ہوگی کہ قدیم تہذیب کے اثرات پوری طرح بچوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جائیں۔ تاریخ کو مسخ کیا جائےگا کہ مسلمانوں اور مسلمان حکمرانوں سے نفرت ہونے لگے۔مسلمانوں کے کردار کو پراگندہ کر نے کی کوشش کی جائےگی کہ خود وہ اپنے کو مسلمان بتانے میں شرم محسوس کرنے لگیں۔ جدید کاری کے نام پر مدارس کے اندر نفوذ کی کوشش ہو گی۔ نصاب کو اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی کوشش کی جائےگی۔ ضمیر فروش افراد کو استعمال کیا جائےگا۔ ملت میں ایسے عناصرپہلے سے موجود ہیں۔ اس ماحول میں ان کی قدربڑھ جائےگی اوروہ اس خدمت کو انجام دینے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششیں کریںگے۔تعلیمی پسماندگی، مسلکی اختلافات و گروہی تعصبات، لیڈرشپ کا فقدان جیسی کمزوریاں جو مسلمانوں کے اندر در آئی ہیں ان کو نمایاں کرکے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائےگی۔

حالات کا مقابلہ

بلاشبہ جن خطرات اور اندیشوں کا ذکر کیا گیا ہے ابھی تک وہ اندیشے اور خدشات ہی کی حیثیت میںہیں۔ البتّہ یہ اندیشے بے جابھی نہیں ہیں۔یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ سب حقیقت میں بدل جائیں، ممکن ہے کہ بڑے منصب کی ذمہ داری کا احساس حکمرانوں کو اپنی پالیسی پر غور کرنے کے لیے آمادہ کرے اور واقعی ملک کی خوشحالی کے لیے کوشاں ہوں۔ لیکن یہ سخت غلطی ہوگی کہ مسلمان اپنی آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائیں کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔ آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے غورضروری ہے۔

ایک کام یہ کرنا چاہیے کہ بر سرِاِقتدار طبقے کو عوام سے کیے گئے وعدوں کا پاس ولحاظ رکھنے کے لیے متوجہ کیاجائے تاکہ وہ ملک کی خوشحالی اورترقی کے لیے کام کرے۔ملک کی ۲۰-۲۵کروڑ کی آبادی کو نظر انداز کرکے ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کبھی نہیں ہو سکتا۔ عوام کے سامنے یہ بات لانے کی ضرورت ہے۔اس کام کے لیے مختلف فورم بناکر گفتگو کی جائے، تاکہ حکومت پر اس بات کا مستقل دبائو بنا رہے اور مسلمانوں کو نظر انداز کرنا آسان نہ ہوسکے۔

البتّہ مسلمانوں کو ہنگامہ خیزی اور اشتعال انگیزی سے پرہیز کرنا چاہیے۔مسلمانوں کو مشتعل کرکے انہیں بدنام کرنا بھی شرپسندعناصرکے مقاصد میں سے ایک ہے۔مسائل کو صبر و استقامت کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔مسلم نو جوانوں کو بنا کسی قصور کے گرفتار کیا جاتا ہے تو بہترین وکلاء فراہم کرکے ان کی قانونی چارہ جوئی کی جائے ۔ ان کو رہا کرا دینے کی حد تک ہی معاملے کو ختم نہ کر دیا جائے بلکہ خاطی اہلکاروں کو سزا دلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔

ملتِ اسلامیہ کے علماء کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے مسلکی وگروہی دائروںسے باہر آنے کی ضرورت ہے، ورنہ وقت کا انقلاب ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں بخشے گا۔ علماءاپنے مسلکوں پر قائم رہتے ہوئے ملّت کے وسیع تر مفاد کی خاطر ایک پلیٹ فورم پر آئیں۔ماضی میں ملّت کو ایک پلیٹ فورم پر لانے کی جو کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اس کی اصل وجہ مناصب کی کش مکش ہی رہی ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔

علماء ایک دوسرے کی مخالفت کا رویہ چھوڑ دیں۔ جو جماعت مفیدکام کر رہی ہو اس میں اس کا تعاون کریں۔مسلمانانِ ہند میں دانشوروں کی ایک تعداد ہے۔ اکثر یہ پہلے حکومت کے چاکر ہوتے ہیں بعد میں مسلمان ، بعض تو ایسے ہیں جوصرف نام کے مسلمان ہیں۔ جو دانشور مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے آگے آئیں۔ پہلے خوداسلام کے سچے وفادار بنیں اور قرآن و سنت کے ساتھ اپنے رشتے کو مضبوط کریں۔ غوروفکر کے بعد حکومت کے سامنے اس طرح کی تجاویز رکھیں جس سے ملک کی ترقی ہواور محرومین کے بنیادی حقوق بھی پامال نہ ہو سکیں۔اس موقع پر مسلمانانِ ہند کو بحیثیت مجموعی سب سے زیادہ توقع اگر کسی جماعت سے ہو سکتی ہے تو وہ جماعتِ اسلامی ہند ہے۔ جماعتِ اسلامی ملّت کو ہر سطح پر متحدکرنےکی کوشش کرے۔ اور یہ کام بڑے پیمانے پر ہو ۔ملت کے علماء و دانشور اس میں شریک ہوں۔تمام کوششوں کو عوام کے سامنے بروقت لایا جاتا رہے۔

جماعتِ اسلامی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے تحقیقاتی ادارے قائم کرے۔ ملک کے اندر جو نقشہ کارپیش کیا جاتا ہے اسکے لیے درکاراعداد و شمار کے حصول کا ذریعہ وہی ادارے ہیں جنہیں ہم ناقابلِ اعتماد سمجھتے ہیںیا جن پر ہم تنقید کرتے ہیں۔ جماعت کےپاس ایسا ادارہ ہو نا چاہیےجو معروضی تحقیق کرکے عوام کے سامنے حقیقت کو واضح کرے۔ انتخابات سے پہلے اور بعد میں عوام اور مسلمان کیا سوچتے ہیں اس کا پتہ لگانے کے لیے ہمیں انہی ذرائع ابلاغ پر بھروسہ کرنا پڑتا ہےجن کی بڑے پیمانے پر خرید وفروخت ہوتی ہے اور وہ وہی بولتے ہیںجو پیسہ دینے والے چاہتے ہیں۔ جماعت مسلمانو ں کے ساتھ مل کر ادارہ بنائے حقیقی صورتحال لوگوں کے سامنے آ سکےاور عوام بطور خاص مسلمانوں کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

بلاشبہ میڈیا کے میدان میں کام انجام دینے کی ضرورت ہے۔ الحمدللہ جماعت کے پاس اخبارات و رسائل ہیںجو اردو، ہندی ،انگریزی اور دیگر زبانوں میںخدمات انجام دے رہے ہیں ۔ لیکن ان کے پاس نہ اچھے تجزیہ نگار ہیں نہ کالم نگار۔ یہ کہاجاسکتاہے کہ اِن جرائد کے پاس ایڈیٹرس اچھے ہیں لیکن صرف ایڈیٹرس کی بنیاد پر کام انجام نہیں دیاجا سکتا۔ اس کے لیے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچھے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں یا اچھے ماہرین تیار کیے جائیں۔ ضروری ہے کہ جماعت اچھے قسم کے ڈی بیٹرس (Debaters)تیار کرے، تاکہ وہ مین اسٹریم میڈیا میں جاکر بھر پور حصہ لے سکیں اور اپنا موقف واضح کر سکیں۔

تاریخ بتاتی ہےکہ محض انتخابی سیاست کے ذریعے کوئی انقلاب نہیں لایا جا سکتا، ہاں نظام کو چلانے والے ہاتھو ں کوبدلا جا سکتا ہے۔ اسلامی بنیادوں پر صالح انقلاب کے داعی گروہ کو اپنے آپ کو اسی صالح انقلاب کے لیے خاص کر لینا چاہیے۔اوراس انقلاب کو برپا کرنے کے لیے وہی طریقہ کاراختیار کرنا ہوگا جونبی آخر حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اختیارکیا تھا۔بانی تحریک سید ابولاعلٰی مودودی فرماتے ہیں:

’’وہ پاک انسان جس نے پہلی مرتبہ یہ انقلاب برپا کیا تھا وہی اس کی فطرت کو خوب جانتا تھا اور اسی کے اختیار کیے ہوئے طریقے کی پیروی کرکے آج بھی یہ انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ اس انسانِ اکبر نے جو نمونہ چھوڑا ہے اس کا طبعی خاصہ وہی انقلاب انگیزی ہے جس کی نظیر ساڑھے تیرہ سو برس پہلے دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔ اس نمونہ کی جتنی زیادہ پیروی کی جائےگی اور جس قدر زیادہ اس سے مماثلت پیدا کی جائےگی اسی قدر زیادہ انقلاب انگیز نتائج بھی ظاہر ہونگے اور وہ اس پہلے انقلاب سے اتنے ہی زیادہ اقرب ہوں گے جو اصل نمونہ کی طاقت سے برپا ہوا تھا۔اس لحاظ سے وہ اسوہ ہے اور قیامت تک کے لیے اسوہ ہے، بیسویں صدی ہو، یا چالیسویں صدی ہو، ہندوستان ہو یا امریکہ یا روس، جہاں اور جس وقت چاہیں آپ اسی نوعیت کا انقلاب برپا کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اسی اسوئہ حسنہ کو سامنے رکھ کر کام کریں۔‘‘)تنقیحات، مرض اور اس کا علاج)

یہ کام لوگوں کے قلوب و اذہان کو بدل کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسکے لیے سب سے بنیادی کام دعوت ہے۔ نبیؐ کےمنہج انقلاب کو بیان کرتے ہوئے سیدمودودی فرماتےہیں:

’’متفرق طور پر ایک ایک دودو چارچار آدمی مسلمان ہوتے چلے گئے۔ یہ لوگ پہاڑ سے زیادہ مضبوط ایمان رکھتے تھے اور ایسی فدویت ان کو اسلام کے ساتھ تھی کہ دنیا ان کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے، مگر چونکہ متفرق تھے، کفار کے درمیان گھرے ہوئے تھے بےبس اور کمزور تھے اس لیے اپنے ماحول سے لڑتے لڑتے ان کے بازو شل ہو جاتے تھے اور پھر بھی وہ ان حالات کو نہ بدل سکتے تھےجن کو بدلنے کے لیے وہ اور ان کے ہادی ومرشد [فداہ امی و ابی]کوشش فرما رہے تھے۔ 13سال تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح جدوجہد کرتے رہے اور اس مدت میں سرفروش اہلِ ایمان کی ایک مٹھی بھر جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فراہم کر لی۔اس کے بعد اللہ نے دوسری تدبیر کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت فرمائی اور وہ یہ تھی کہ ان سرفروشوں کو لے کر کفر کے ماحول سے نکل جائیں۔ ایک جگہ ان کو جمع کرکے اسلامی ماحول پیدا کریں، اسلام کا ایک گھر بنائیں، جہاں اسلامی زندگی کا پورا پروگرام نافذ ہو۔ ایک مرکز بنائیں جہاں مسلمانوں میں اجتماعی طاقت پیدا ہو، ایک پاور ہاوس بنا دیں جس میں تمام برقی طاقت ایک جگہ جمع ہو جائے اور پھر ایک منضبط طریقے سے وہ پھیلنی شروع ہو،یہاں تک کہ زمین کا گوشہ گوشہ اس سے منور ہو جائے۔ مدینہ طیبہ کی جانب آپ کی ہجرت اسی غرض کے لیے تھی، تمام مسلمان جو عرب کے مختلف قبیلوں میں منتشر تھے، ان سب کو حکم دیا گیا کہ سمٹ کر اس مرکز پر جمع ہو جائیں، یہاں اسلام کو عمل کی صورت میں نافذ کرکے بتایا گیا ۔ اس پاک ماحول میں پوری جماعت میں اسلامی زندگی کی ایسی تربیت دی گئی کہ اس جماعت کا ہر شخص ایک چلتا پھرتا اسلام بن گیا، جسے دیکھ لینا ہی یہ معلوم کرنے کے لیے کافی تھاکہ اسلام کیا ہے اور کس لیے آیا ہے۔ ان پر اللہ کا رنگ اتنا گہرا چڑھایا گیا کہ وہ جدھر جائیں دوسروں کا رنگ قبول کرنے کے بجائےاپنا رنگ دوسروں پر چڑھادیں۔ ان میں کیریکٹر کی اتنی طاقت پیدا کی گئی کہ وہ کسی سے مغلوب نہ ہوں اور جو ان کے مقابلے میں آئے ان سے مغلوب ہو کر رہ جائے۔ ان کی رگ رگ میں اسلامی زندگی کا نصب العین اس طرح پیوست کر دیا گیا کہ زندگی کے ہر عمل میں وہ مقدّم ہواور باقی تمام دنیاوی اغراض ثانوی درجہ میں ہوں اور ان کو تعلیم و تربیت دونوں کے ذریعہ سے اس قابل بنایا گیا کہ جہاں جائیں، زندگی کے اسی پروگرام کو نافذ کرکے چھوڑیں جو قرآن و سنت نے انھیں دیا ہے اور ہر قسم کے بگڑے ہوئے حالات کو منقلب کر کے اسی کے مطابق ڈھال لیں۔‘‘(ایضاً)

جماعتِ اسلامی ہند نے دعوت کو اپنی ترجیحات میں رکھا ہے لیکن عملاًداعی گروہ کی حیثیت سے خودکوپیش نہیں کر سکی ہے، حالانکہ اسلام کے تعلق سے لٹریچر کا ایک کثیر سرمایہ موجود ہے۔اگر داعی گروہ کی حیثیت سے پیغام پیش کیاجاتاتو اس ملک کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔اکثر سرگرمیوں کا مرکز و محور مسلمانوں کے مسائل اور ان کا تحفظ ہی رہتے ہیں۔رفاہی کام صرف مسلمانوں کے لیے محدود نہ ہوں۔ایک داعی گروہ کےلیے یہ شایان ِشان نہیں ہے کہ وہ محض اپنی قوم کے مفاد اور اس کے تحفظ و بقا کی فکر میں لگ جائے۔ اس کے سامنے تو پوری انسانیت ہوتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہےکہ سرگرمیوں کا محور دعوت ہو۔ادارے اپنی خدمات انجام دیں لیکن ان کا رشتہ دعوت سے استوار رہے۔ ہرسرگرمی کا مرکز و محور دعوت ِ دین بن جائےنہ کہ محض مسلمانوں کے مسائل کے حل کی سعی۔ ایک ایک فرد جذبہ دعوت سے سرشار ہوکر خدمتِ خلق کا کام انجام دے تو زیادہ نتیجہ خیز کام کر سکتا ہے۔ ملّت کے افراد کو احساس دلایا جائے کہ وہ ایک داعی ملّت سے تعلق رکھتے ہیں۔مسلمان ہیں اپنی زندگی سے منافقت اور تناقض کو دور کرکے سچے مومن بنیں اور اس کام کو کرنے کے لیے آمادہ ہوں جس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں اُمت بنایا ہے۔

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ (لبقرہ 110(

ملّت کے صالح افراد اس کام کے لیے آمادہ ہوںتو پھر مولانا مودودی کا خواب بہت جلد شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آئےگاکہ امامت کی باگ ڈور جو اس وقت فسّاق و فجّار کے ہاتھوں میں ہے وہ ان سے منتقل ہوکر مومنین وصالحین کے ہاتھوں میں سونپ دی جائےگی۔ باطل نظریات کی تردید دعوت ِ دین کا ایک اہم جزو ہے چاہے وہ نظریہ سیکولرزم ہو،چاہے سوشلزم ہویا فاشزم ہو ۔ ان میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینااور کسی کے مقابلے میں کسی کی بقا اور جدو جہد کے لیے کوششیں کرنانادانی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دعوت کا کام اس کے صحیح تناظر میں انجام پائے۔یعنی عوام النّاس کو اس امرکی دعوت دی جائےکہ وہ انسانوں کی بندگی سے نکل کر ایک اللہ کی بندگی میں آ جائیں۔ تمام انسانوں کی حقیقی فلاح و کامیابی صرف اور صرف محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے لائے ہوئے آخری دین اسلام میں ہے۔مسلمانوں کو یاد دلایاجائے کہ جب وہ مسلمان ہیں تو حقیقی اسلام کے پیروبنیں اور اپنی زندگی سےمنافقت اور تناقض کو دور کریںاور دنیا کو دکھائیں کہ ایک مسلمان حقیقت میں اسلام کا پیرو ہوتا ہے تو اخلاق کے کتنے بلند مرتبے پر ہوتا ہے ،اس کا وجود سراپا رحمت ہوتاہے اسکے معاملات امانت و دیانت کا بین ثبوت ہوتے ہیں۔اس دعوت کو تسلیم کر لیں ان سے کہاجائے کہ منظم ہوںاور اللہ کی حاکمیت پر مبنی نظام حق کو نافذ کریں۔ رہنمائی و اقتدار کی باگیں فسّاق و فجّا رسے منتقل ہوکرمومنین وصالحین کے ہاتھوں میں آئیںتاکہ اللہ کا دین نافذ اور جاری و ساری ہو سکے۔معاشرہ عدل و انصاف پر قائم ہو سکے اور زمین امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکے۔ قرآن کے مطابق یہی اہل ایمان زندگی کا مقصد ِاصلی ہے۔

یآاَیُّھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْاقَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَآءَلِللّٰہِ۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے َعلم بَرداراور خدا واسطےکے گواہ بنو۔‘‘ [۴:۱۳۵ ، ۵:۸]

اگست 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau